نفس كى تكميل اور تربيت

 

نفس كو پاك صاف كرنے كے بعد اس كى تكميل اور تربيت كا مرحلہ آتا ہے كہ جسے اصطلاح اخلاقى ميں تحليہ_ كہا جاتا ہے_ علوم عقليہ ميں ثابت ہو چكا ہے كہ انسان كا نفس ہميشہ حركت اور ہونے كى حالت ميں ہوتا ہے_ اس كى فعليت اس كى استعداد اور قوت سے ملى ہوئي ہے_ آہستہ آہستہ اندر كى قوت اور استعداد كو مقام فعليت اور بروز و ظہور ميں لاتا ہے اور اپنى ذات كى پرورش كرتا ہے اگر نفس نے صراط مستقيم پر حركت كى اور چلا تو وہ آہستہ كامل كامل تر ہوتا جاتا ہے يہاں تك كہ وہ آخر كمال تك پہنچ جاتا ہے اور اگر صراط مستقيم سے ہٹ گيا اور گمراہى كے راستے پر گامزن ہوا تو پھر بھى آہستہ آہستہ كمال انسانى سے دور ہوتا جاتا ہے اور حيوانيت كى ہولناك وادى ميں جا گرتا ہے_

خدا سے قرب

يہ معلوم ہونا چاہئے كہ انسان كى حركت ايك حقيقى اور واقعى حركت ہے نہ كہ اعتبارى محض اور يہ حركت انسان كى روح اور نفس كى ہے نہ جسم اور تن كى اور روح كا حركت كرنا اس كا ذاتى فعل ہے نہ كہ عارضي_ اس حركت ميں انسان كا جوہر اور گوہر حركت كرتا ہے اور متغير ہوتا رہتا ہے_ لہذا انسان كى حركت كا سير اور راستہ ايك واقعي

راستہ ہے نہ اعتبارى اور مجازي_ ليكن اس كا مسير اس كى متحرك ذات سے جدا نہيں ہے بلكہ متحرك اور حركت كرنے والا نفس اپنى ذات كے باطن ميں حركت كرتا ہے اور مسير كو بھى اپنے ساتھ لے كر چلتا ہے_ اب يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ ہر حركت كے لئے كوئي غايت غرض ہوتى ہے_ انسان كى ذات كى حركت كى غرض اور غايت كيا ہے؟ انسان اس جہان ميں كس غرض اور غايت كى طرف حركت كرتا ہے اور اس حركت ميں اس كا انجام كيا ہوگا؟

روايات اور احاديث سے معلوم ہوتا ہے كہ انسان كى حركت كى جو غرض معين كى گئي ہے وہ قرب الہى ہے ليكن تمام انسان صراط مستقيم پر نہيں چلتے اور قرب الہى تك نہيں پہنچتے _ قرآن انسانوں كو تين گروہ ميں تقسيم كرتا ہے_ 1_ اصحاب ميمنہ_ 2_ اصحاب مشئمہ_ 3_ سابقو كے جنہيں مقربين كے نام سے موسوم كيا گيا ہے_ قرآن مجيد ميں آيا ہے كہ ” تم انسان تين گروہ ہو_ اصحاب ميمنہ آپ كيا جانتے ہيں كہ اصحاب ميمنہ كون اشخاص ہيں؟ اصحاب مشئمہ اور آپ كيا جانتے ہيں كہ وہ كون اشخاص ہيں ؟ بہشت كى طرف سبقت كرنے والے اور اللہ تعالى كى رحمت كو حاصل كرنے كے لئے بھى سبقت كرتے ہيں يہ وہ اشخاص ہيں جو خدا كے مقرب بندے ہيں ور بہشت نعيم ميں سكونت ركھيں گے_”(331)

اصحاب ميمنہ يعنى سعادت مند حضرات اور اصحاب مشئمہ يعنى اہل شقاوت اور بدبخت_ اور سابقين وہ حضرات ہيں كہ جو صراط مستقيم كو طے كرنے ميں دوسروں پر سبقت كرتے ہيں اور قرب الہى كے مقام تك پہنچتے ہيں_ اس آيت سے معلوم ہوتا ہے كہ حركت نفس كى غرض اللہ تعالى كا قرب حاصل كرنا ہے_ خدا ايك اور آيت ميں فرماتا ہے _ ” اگر خدا كے مقربين سے ہوا تو قيامت كے دن آرام والى بہشت اور نعمت الہى سے جو خدا كا عطيہ ہے استفادہ كرے گا_ اور اگر اصحاب يمين سے ہوا تو ان كى طرف سے تم پر سلام ہے اور اگر منكر اور گمراہوں سے ہوا تو اس پر دوزخ كا گرم پانى ڈالا جائيگا اور اس كا ٹھكانہ جہنم ہوگا_ (332)

نيز ايك اور آيت ميں ہے كہ ” اس طرح نہيں ہے كہ كافرون نے گمان كيا ہوا ہے يقينا ابرار اور نيك لوگوں كا دفتر اور كتاب (اور جو كچھ اس ميں موجود ہے) علين يعنى اعلى درجات ميں ہے آپ كيا جانتے ہيں كہ علين كيا چيز ہے وہ ايك كتاب ہے جو خدا كى طرف سے ہوا كرتى ہے اور اللہ كے مقرب اس مقام كا مشاہدہ كريںگے_(333)ان آيات سے معلوم ہوتا ہے كہ انسان كا انتہائي كمال اور اسكے سير اور حركت كى غرض اور غايت اللہ تعالى كا قرب حاصل كرنا ہے تا كہ انسان حركت كر كے اس مقام تك جا پہنچيں لہذا مقربين كا گروہ سعادتمندوں ميں سے ايك ممتاز گروہ ہے قرآن مجيد ميں آيا ہے كہ ” جب ملائكہ نے كہا اے مريم خداوند عالم نے تجھے ايك كلمہ كى جو خداوند عالم كى طرف سے ہے يعنى عيسى بن مريم كى بشارت دى ہے كہ جو دنيا اور آخرت ميں خدا كے نزديك عزت والا اور اس كے مقرب بندوں ميں سے ہے_(334)

ان آيات اور روايات سے استفادہ ہوتا ہے كہ اللہ تعالى كے لائق اور ممتاز بندے كہ جنہوں نے ايمان اور نيك اعمال ميں دوسروں پر سبقت حاصل كرلى ہے بہت ہى اعلى جگہ پر سكونت كريں گے كہ جسے قرب الہى كا مقام بتلايا گيا ہے اور شہداء بھى اسى مقام ميں رہيں گے_ قرآن مجيد ميں آيا ہے كہ ” جو راہ خدا ميں مارے گئے ہيں ان كے بارے ميں يہ گمان نہ كر كہ وہ مرگئے ہيں بلكہ وہ زندہ ہيں اور اپنے پروردگار كے ہاں روزى پاتے ہيں_(335)

لہذا انسان كا انتہائي اور آخرى كمال خداوند عالم كا قرب حاصل كرنا ہوتاہے_

قرب خدا كا معني

يہ معلوم كيا جائے كہ خدا كے قرب كا مطلب اور معنى كيا ہے؟ اور كس طرح تصور كيا جائے كہ انسان خدا كے نزديك ہوجائے_ قرب كے معنى نزديك ہونے كے ہيں اور كسى كے نزديك ہونے كو تين معنى ميں استعمال كيا جاتا ہے_

قرب مكان

دو موجود جب ايك دوسرے كے نزديك ہوں تو انہيں كہا جاتا ہے كہ وہ ايك

دوسرے كے قريب ہيں_

قرب زماني

جب دو چيزيں ايك زمانے ميں ايك دوسرے كے نزديك ہوں تو كہا جاتا ہے كہ يہ دونوں ايك دوسرے كے قريب اور ہمعصر ہيں_ اور يہ واضح ہے كہ بندوں كا خدا كے نزديك اور قريب ہونا ان دونوں معنى ميں نہيں ہو سكتا كيونكہ خدا كسى مكان اور زمانے ميں موجود نہيں ہوا تھا تا كہ كوئي چيز اس مكان اور زمان كے لحاظ سے خدا كے قريب اور نزديك كہى جائے بلكہ خدا تو زمانے اور مكان كا خالق ہے اور ان پر محيط ہے

قرب مجازي

كبھى كہا جاتا ہے كہ فلان شخص فلان شخص كے قريب اور نزديك ہے تو اس كا مطلب يہ ہوتا ہے كہ فلان كا احترام او ربط اس شخص كے ساتھ ہوتا ہے اور اس كى خواہش كو وہ بجالاتا ہے اور وہ جو چاہتا ہے وہ اسے انجام دے ديتا ہے اس طرح كى نزديكى اور قرب كو مجازى اور اعتبارى اور تشريفاتى قرب اور نزديكى كہا جاتا ہے يہ قرب حقيقى نہيں ہوا كرتا بلكہ مورد احترام قرا ردينے والے شخص كو اس كا نزديك اور قريبى مجازى لحاظ سے كہا جاتا ہے_ كيا اللہ كے بندوں كو خدا سے اس معنى كے لحاظ سے قريبى اور نزديكى قرار دديا جا سكتا ہے؟ آيا خدا سے قرب اس معنى ميں ہو سكتا ہے يا نہ؟

يہ مطلب ٹھيك ہے كہ خدا اپنے لائق بندوں سے محبت كرتا ہے اور ان سے علاقمند ہے اور ان كى خواہشات كو پورا بھى كرتا ہے ليكن پھر بھى بندے كا قرب خدا سے اس معنى ميں مراد نہيں ليا جا سكتا_ كيونكہ پہلے اشارہ كيا گيا ہے كہ علوم عقليہ اور آيات اور روايات اس پر دلالت كرتى ہيں كہ انسان كى حركت ذاتى اور اس كا صراط مستقيم پر چلنا اور مسير ايك امر واقعى ہے نہ كہ امر اعتبارى اور تشريفاتى خدا كى طرف رجوع كرنا كہ جس كے لئے اتنى آيات اور روايات وارد ہوئي ہيں ايك حقيقت فرماتا ہے_ ”اے نفس مطمئن تو اللہ تعالى كى طرف رجوع كر اس حالت ميں كہ جب اللہ تعالي

تجھ سے راضى ہے اور تو اللہ تعالى سے راضى ہے_(336)

نيز فرماتا ہے ”جس نے نيك عمل انجام ديا اس كا فائدہ اسے پہنچے گا اور جس نے برا عمل انجام ديا اس كا نقصان اسے پہنچے گا اس وقت سب اللہ كى طرف پلٹ آؤ گے_(337)

خدا فرماتا ہے ” جو مصيبت كے وقت كہتے ہيں كہ ہم اللہ تعالى كا ملك ہيں اور اسى كى طرف لوٹ جائيں گے_(338)

بہرحال اللہ تعالى كى طرف رجوع اور صراط مستقيم اور سبيل اللہ اور نفس كا كامل ہونا يہ ايسے امور ہيں جو واقعى ہيں نہ اعتبارى اور تشريفاتي_ انسان كا خدا كى طرف حركت كرنا ايك اختيارى اور جانى ہوئي حركت ہے كہ جس كا نتيجہ مرنے كے بعد جا معلوم ہوگا_ وجود ميں آنے كے بعد يہ حركت شروع ہوجاتى ہے اور موت تك چلى جاتى ہے لہذا خدا سے قرب ايك حقيقى چيز ہے_ اللہ تعالى كے لائق بندے واقعا اللہ تعالى كے نزديك ہوجاتے ہيں اور گناہنگار اور نالائق اللہ تعالى سے دور ہوجاتے ہيں لہذا غور كرنا چاہئے كہ خدا سے قرب كے كيا معنى ہيں؟

خدا سے قرب وہ قرب نہيں كہ جو متعارف اور جانا پہچانا ہوا ہوتا ہے بلكہ ايك عليحدہ قسم ہے كہ جسے قرب كمالى اور وجودى درجے كا نام ديا جاتا ہے _ اس مطلب كے واضح ہونے كے لئے ايك تمہيد كى طرف اشارہ كيا جاتا ہے _ فلسفہ اسلام اور كتب فلسفہ ميں يہ مطلب پايہ ثبوت كو پہنچ چكا ہے كہ وجود اور ہستى ايك حقيقت مشكك ہے كہ جس كے كئي درجات اور مراتب ہيں_ وجود بجلى كى روشنى اور نور كى طرح ہے جيسے نور كے كئي درجے زيادہ اور كم ہوتے ہيں ايك درجہ مثلا كمتر ايك ولٹ بجلى كا ہے كہ جس ميں روشنى تھوڑى ہوتى ہے اور اس كے اوپر چلے جايئےہ زيادہ سے زيادہ درجے پائے جاتے ہيں يہ تمام كے تمام نور اور روشنى كے وجود ہيں اور درجات ہيں كمتر اور اعلى درجے كے درمياں كے درجات ہيں جو سب كے سب نور ہيں ان ميں فرق صرف شدت اور ضعف كا ہوتا ہے بعينہ اس طرح وجود اور ہستى كے مختلف مراتب اور

درجات ہيں كہ جن ميں فرق صرف شدت اور ضعف كا ہوتا ہے _ وجود كا سب سے نيچا اور پشت درجہ اسى دنيا كے وجود كا درجہ ہے كہ جسے مادہ اور طبيعت سے تعبير كيا جاتا ہے اور وجود كا اعلى ترين درجہ اور رتبہ ذات مقدس خدا كا وجود ہے كہ جو ذات مقدس كمال وجود كے لحاظ سے غير متناہى ہے ان دو مرتبوں اور درجوں كے درميان وجود كے درجات اور مراتب موجود ہيں كہ جن كا آپس ميں فرق شدت اور ضعف كا ہے_ يہيں سے واضح اور روشن ہوجائيگا كہ جتنا وجود قوى تر اور اس كا درجہ بالاتر اور كاملتر ہوگا وہ اسى نسبت سے ذات مقدس غير متناہى خدائے متعال سے نزديك تر ہوتا جائيگا اس كے برعكس وجود جتنا ضعيف تر ہوتا جائيگا اتنا ہى ذات مقدس كے وجود سے دور تر ہو جائيگا اس تمہيد كے بعد بندہ كا اللہ تعالى سے قرب اور دور ہونے كا معنى واضح ہوجاتا ہے_ انسان روح كے لحاظ سے ايك مجرد حقيقت ہے جو كام كرنے كے اعتبار سے اس كا تعلق مادہ اور طبيعت سے ہے كہ جس كے ذريعے حركت كرتا ہے اور كامل سے كاملتر ہوتا جاتا ہے يہاں تك كہ وہ اپنے انتہائي درجے تك جا پہنچتا ہے_ حركت كى ابتداء سے لے كر مقصد تك پہنچنے كے لئے وہ ايك شخص اور حقيقت ہى ہوا كرتا ہے_ ليكن جتنا زيادہ كمال حاصل كرتا جائيگا اور وجود كے مراتب پر سير كرے گا وہ اسى نسبت سے ذات الہى كے وجود غير متناہى كے نزديك ہوتا جائيگا_ انسان ايمان اور نيك اعمال كے ذريعے اپنے وجود كو كامل كاملتر بنا سكتا ہے يہاں تك كہ وہ قرب الہى كے مقام تك پہنچ جائے اور منبع ہستى اور چشمہ كمال اور جمال كے فيوضات كو زيادہ سے زيادہ حاصل كر لے اور خود بھى بہت سے آثار كا منبع اور سرچشمہ بن جائے _ اس توضيح كے بعد واضح ہوگيا كہ انسان كى حركت اور بلند پروازى ايك غير متناہى مقصد كى طرف ہوتى ہے ہر آدمى اپنى كوشش اور تلاش كے ذريعے كسى نہ كسى قرب الہى كے مرتبے تك پہنچ جاتا ہے يعنى اللہ تعالى كے قرب كے مقام كى كوئي خاص حد اور انتہا نہيں ہے بلكہ اللہ تعالى كے مقام قرب كى حقيقت كے كئي مراتب اور درجات ہيں_ قرب ايك اضافى امر ہے كہ انسان جتنى زيادہ محنت اور عمل كرے گا ايك اعلى مقام اور اس سے اعلى مقام تك پہنچتا جائيگا اور ذات اللہ كے فيوضات اور بركات سے زيادہ سے زيادہ بہرمند ہوتا جائيگا_

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

یک + هفده =

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More