نبوت عامہ

0 6

خالقِ حکيم کا وجود ثابت هونے کے بعد نبوت اور نبی کے وجود کی ضرورت خود بخود ثابت هے۔  

سب سے پهلے هم تعليم وتربيت الٰهی کی ضرورت کو بيان کرتے هيں :  

هدايت انبياء کی انسانی ضرورت کو سمجهنے کے لئے خلقت انسان،هدفِ خلقت اور اس هدف  ومقصد تک پهنچنے ميں رکاوٹوں کی شناخت ضروری هے اور جيسا کہ عنوان بحث سے معلوم هے، ان  مباحث کی عميق تحقيق کواس مختصر مقدمہ ميں بيان نهيں کيا جاسکتا، ليکن ضروری حد تک بعض نکات  پيش کئے جارهے هيں:  

اول:  

انسان ميں مختلف شہوتيں اورخواهشات موجود هيں اور انسانی زندگی، نباتاتی حيات سے  شروع هو کر، جو حيات کا ضعيف ترين مرتبہ هے، عقل و شعور کے مرتبے تک جا پهنچتی هے۔  انسان فطرت و عقل، محدود حوائج رکهنے والے جسم اور نا محدود خواهشات رکهنے والی روح  

سے مرکب هے۔ترقی اور بلندی ميں فرشتوں سے بڑه کر، جب کہ انحطاط وتنزل کے اعتبار سے جانوروں  سے پست تر هے۔  ((عن عبداللّٰہ بن سنان، قال سالت ا بٔا عبداللّٰہ جعفر بن محمد الصادق عليهما السلام، فقلت : الملائکة  

افضل ام بنو آدم ؟ فقال (ع) : قال امير المو مٔنين علی بن ابی طالب (ع) :ان اللّٰہ عزوجل رکب فی الملائکة  عقلاً بلا شهوة، ورکب فی البهائم شهوة بلا عقل،و رکب فی بنی آدم کليهما، فمن غلب عقلہ شهوتہ فهو خير من  الملائکة، ومن غلبت شهوتہ عقلہ فهو شر من البهائم)) ٥  

————–  

1 سورہ يونس، آيت ۵۴ ۔ “اور ان کے درميان انصاف کے ساته حکم کيا جائے گا اور ان پر ذرہ برابر بهی ظلم نهيں  کيا جائے گا”۔  

2 بحار الانوار ج ۴ ص ٢۶۴ ۔  

امام جعفر صاد ق عليہ السلام فرماتے هيں :بتحقيق دين کا اساس توحيد و عدل هے اور اس کا علم بهی بہت زيادہ هے  هر ذی عقل کے لئے لازم و ضروری هے کہ اس کو حاصل کرے پس ميں ان امور کو ذکر کرتا هوں جن پر ٹههر کر ان کی  حفاظت کی آمادگی کرنا آسان هے پهر فرمايا:بس توحيد يعنی وہ چيزيں جو تم پر جائز هيں خدا پر جائز نہ جاننا “۔  

اور عدل:يعنی اپنے خالق کی طرف ان امور کو نہ پلٹانا جن پر اس نے تيری ملامت کی هے۔  

3 بحار الانوارج ۵ ص ۵٨ ۔  

حضرت امام ششم عليہ السلام نے هشام سے فرمايا:کيا تم کو توحيد و عدل کا جملہ عطا کردوں هشام نے جواب ديا  ميری جان فدا هو آپ هاں۔حضرت نے فرمايا:عدل يہ هے کہ اس کوکسی امر ميںمتهم نہ کرو اور توحيد يہ هے کہ کسی بهی  طرح کا توهم اس کے بارے ميں نہ کرنا”۔  

4 بحار الانوارج ۵ ص ۵٩ ۔  

حضرت علی عليہ السلام نے فرمايا:هر وہ چيز جس پر خدا سے استغفار کرتے هو وہ تم سے هے اور هر وہ چيز  جس پر تم خدا کی حمد کرتے هو وہ خدا سے هے”۔  

5 علل الشرايع ،ج ١ ،ص ۵، باب ۶، حديث ١۔(عبد الله بن سنان نے کها ميں نے حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام  

سے پوچها ملائکہ افضل هيں يا بنی نوع آدم؟  

امام نے عليہ السلام نے فرمايا: حضرت امير المومنين علی بن ابی طالب عليہ السلام فرماتے هيں:خد اوند متعال نے  ملائکہ کو عقل بغير شہوت وهواء پرستی کے عطا کی هے اور جانوروں ميں شہوت بغير عقل کے اور انسان ميں ان دونوں کو  جمع کيا هے بس جو اپنی عقل کے ذريعہ شہوت کو قابو ميں رکهے وہ ملائکہ سے افضل هے اور وہ جس کی عقل پر اس کی  شہوت غلبہ کر لے وہ جانور وں سے بدتر هے۔    

مزید  بر صيصائے عابد

اور اس تخليق ميں اتنی تازگی هے کہ اس پيکر انسان کو هر طرح سے مکمل کرنے اور اس ميں  حق جل و علیٰ سے منسوب روح پهونکنے کے بعد ١، اس مخلوق کو تمام موجودات کے مقابلے ميں ممتاز  وجود سے سر فراز کيا، جس کی عظمت اس آيہ کريمہ ٢ سے روشن هے۔  

انسان جانتا هے کہ اسے محدود مادی زندگی کے لئے خلق نهيں کيا گيا، کيونکہ حکمت کا تقاضا  يہ هے کہ اوزار وآلات کو کام سے متناسب اور خلقت کی کيفيت کو هدف ومقصد کے مطابق هونا چاہئے۔  

اگر انسان کی زندگی اسی دنيا تک محدود هوتی تو شہوت،غضب اور ادراکِ حيوانی جو اس  زندگی کے لذائذ کو جذب اور منفورات کو دفع کرتے هيں، اس کے لئے کافی تهے۔عقل، جو لامحدود علم  اوراخلاقی وعملی کمالات سے آراستگی کی خواهاں وعاشق هے اور ايک مقام ومرتبے کو پانے کے بعد بالاتر مقام ومرتبے کی پياسی فطرت، کا انسان کو عطا کياجانا اس بات کی دليل هے کہ وہ لامحدود زندگی کے لئے خلق هوا هے، جيسا کہ حديث نبوی ميں هے:((ما خلقتم للفناء بل خلقتم للبقاء و إنما تنقلون من دار إلی دار)) ٣  

حکيم علی الاطلاق کی حکمت کا تقاضا يہ هے کہ جس استعداد کو مخلوقاتِ کائنات ميں قرار ديا  هے، اس قابليت کو فعليت تک پهنچانے کے عوامل بهی مهيا کرے،کيونکہ فعليت کا روپ نہ دهارنے والی  توانائی اور مطلوب کو حاصل نہ کرسکنے والی طلب بے کا ر ولغو هيں۔  

جس لا محدود علم وقدرت نے بيج کو پهلنے پهولنے کی استعداد وصلاحيت دی هے اس نے پانی، خاک اور هوا کو بهی خلق کيا هے، جو بيج کے پهلنے پهولنے ميں موثر عوامل هيں۔اگر انسانی نطفہ کو  مختلف اعضاء وجوارح ميں تبديل هونے کی استعداد وصلاحيت دی هے تو اس استعداد کو فعليت تک  

پهنچانے کے لئے رحمِ مادر کو خلق کيا هے، لہٰذ ا کيسے ممکن هے کہ عقل کا بيج، جس کا ثمر علم وعمل  هيں اور روح کی لطافت کو تو خلق کردے، جس ميں علمی،عملی و اخلاقی کمال اور خدا کی معرفت  حاصل کرنے کی استعداد وصلاحيت هو، ليکن عقل کے بيج کو ثمر تک پهنچنے اوراستعدادِ روح کے  فعليت تک پهنچنے کے نہ تو وسائل مهيا کرے اور نہ هی اس کی مقصدِ خلقت کی جانب هدايت کرے ؟!  

آيا ممکن هے کہ ٤ جيسے عمومی قانون سے انسان مستثنی هو ؟!

 يهيںسے يہ بات واضح هوجاتی هے کہ انسان کو مقصدِ خلقت تک پهنچانے کے لئے الٰهی هدايت  ضروری هے۔  

دوم:  

انسان فطری طور پر اپنے خالق کی تلاش وجستجو ميں هے اور يہ جاننا چاہتا هے کہ اسے  عدم سے وجود ميں کون لايا هے، يہ اعضاء و جوارح اسے کس نے عطا کئے هيں او ر نعمتوں کے  دسترخوان پر اسے کس نے بٹهايا هے، تاکہ بحکم عقل، منعمِ حقيقی کی شکر گذاری جيسی ذمہ داری کو  انجام دے۔  

ادهر اس کی ذات مقدس کو اس سے کهيں بلند وبالا سمجهتا هے کہ خود جو سراپا جهل و خطا اور هوی وہوس هے، اس حس ومحسوس، وهم وموہوم اور عقل ومعقول کے خالق کے ساته اپنی مشکلات کے  حل کے لئے سوال و جواب کا رابطہ برقرار کرے، جس کی عظمت جمال وکمال لامتناهی اور ذات تمام  نقائص وقبائح سے سبوح وقدوس هے ۔  اس مسئلے کے حل کے لئے اسے ايک ايسے واسطے کی ضرورت هے جو خلق کے ساته  رابطے کے لئے ضروری هونے کے اعتبار سے انسانی صورت ميں هو اور اور قانون تناسب فاعل اور  قابل کے اعتبار سے، جو خالق کے ساته رابطے کا لازمہ هے، خطا سے پاک ومنزہ عقل، هویٰ وہوس سے  دور نفس اور الٰهی سيرت سے مزين هو، تاکہ اس ميں يہ صلاحيت آجائے کہ نور وحی سے منور هو سکے  اور ابواب معارف الهيہ کو انسانوں کے سامنے پيش کر سکے،اور انهيں عقل کی معرفتِ حق سبحانہ سے  

مزید  عالم اسلام کی خاموشی اور سعودی زبان درازی

————–  

1 سورہ حجر کی آيت نمبر ٢٩ کی طرف اشارہ هے:  

“بس جس وقت ميں نے اس کا پتلا بنايا اور اس ميں روح پهونکی(اور کها )آدم کے لئے سجدہ ميں گر جاو “ٔ۔  

2 سورہ مومنون، آيت ١۴ ۔”اس کے بعد هم نے اس کو ايک دوسری صورت ميں پيدا کيا تو (سبحان الله )خدا با برکت  هے جو سب بنانے والوں سے بہتر هے”۔  

3 بحار الانوارج ۶ ص ٢۴٩ ۔”تم فنا کے لئے نهيں پيدا هوئے هو بلکہ باقی رهنے کے لئے خلق هوئے هو اور بے شک  اس کے علاوہ کچه بهی نهيں کہ ايک گهر سے دوسرے گهر کی طرف منتقل هو رهے هو”۔  

4 سورہ طہ، آيت ۵٠ ۔”هر چيز کو اس نے خلق کيا پهر هدايت کی”۔    

تعطيل کی تفريط اور خدا کو خلق سے تشبيہ جيسے افراط ١ سے نجات دلاتے هوئے دين قيم کی صراط  مستقيم کی جانب هدايت کرے :  

٢  

سوم:  

انسان اپنی قدرت فکر کے ذريعے قوانين واسرارِ خلقت کو کشف کرنے اور ان کو اپنی خدمت  پر مامور کرنے کی صلاحيت رکهتا هے،اس کے ساته ساته ايسی هوا و هوس اور شہوت وغضب کا مالک  هے جو انسانی طبيعت کے خاصہ کے مطابق حد شکنی اور افزون طلبی پر کمر بستہ رهنے کی وجہ سے  

قناعت پذير نهيں هے۔ان خصو صيات کی بنا پر زمين ميں نيکی و بُرائی، انسان کی نيکی وبُرائی سے  وابستہ هے ٣ بلکہ

اْلا رَْٔضِ جَمِيْعاً مِّنْہُ إِنَّ فِی ذٰلِکَ لآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَکَّرُوْنَ> ٤کے مطابق تو دوسرے سياروں ميں نيکی و بُرائی بهی  انسان کی نيکی و بُرائی سے وابستہ هے اور اس انسان کی اصلاح فقط هدايت پروردگار عالم سے ممکن  هے، جو اعتدال فکری کو عقائد حقہ اور اعتدال روحی کو اخلاق فاضلہ اوراعمال صالحہ کے ذريعے مهيا  کرتی هے۔  

چهارم:مختلف ضروريات کی وجہ سے انسان کی زندگی معاشرے سے وابستہ هے اور يہ  وابستگی مختلف اورمتقابل حقوق کا سبب بنتی هے۔ ايک دوسرے کے حقوق کو تسليم اور ادا کئے بغير  

اجتماعی زندگی بقا کے قابل نهيں هے اور يہ حقوق اس وقت تک حاصل نهيں هو سکتے جب تک قانون  ساز اور ان قوانين کا اجراء کرنے والا هر قسم کے نقص وخطا سے محفوظ اور ذاتی مصلحتوں اور حق  وانصاف کے سلسلے ميں ،هر قسم کے انحراف سے پاک ومنزہ نہ هو اور يہ کام خدائی اصول و قوانين  اورالٰهی نمائندوں کے بغير نا ممکن هے:  

مزید  سفیر حسینی

٥  

اب جب کہ ثابت هوگيا کہ مبدا ومعاد اورمقصدِ تخليق کی جانب انسان کی هدايت ضروری هے اور  يہ بات بهی واضح هوگئی کہ فکری وعملی اعتبار سے انسان کی کمال تک رسائی، خواهشات نفسانی  کاتعادل اورانفرادی واجتماعی حقوق کاحصول ايک لازمی امر هے، يہ جاننا نهايت ضروری هے کہ ان  

مقاصد کو وحی ونبوت کے علاوہ کسی دوسرے طريقے سے عملی جامہ پهنانا ممکن نهيں ۔ خطا سے آلودہ  ذهن اور هویٰ وہوس کی قيد ميں جکڑے هوئے هاتهوں کے ذريعے يہ اهم مقاصد حاصل نهيں هو سکتے  اورصرف تفکر وتدبر کے چراغوں سے انسانی فطرت ميں موجود، مبهم نقاط روشن وواضح نهيں هو  سکتے۔  

انسان جب اپنی مافوق العادہ استعداد، صلاحيت اور افکار کے ذريعے اسرارِ جهان کی تلاش و  جستجو ميں نکلا تو ناگهاں اس نے ديکها کہ بدن کی عناصرِ اربعہ سے ترکيب اور چار مخالف طبيعتوں کو  مختلف امراض و علل کی بنياد سمجهنے کے بارے ميں اس کا تصور غلط هے اور خلقت کے بارے ميں  

جو تانا بانا اس نے مٹی، پانی، هوا، آگ اور ناقابل رسوخ وغير پيوستہ آسمانی سياروں سے بن رکها تها سب  کهل کر رہ گيا اور يہ بات واضح و ثابت هوگئی کہ وہ ترکيب بدن جيسی خود سے نزديک ترين چيز اور  

اس کی صحت و امراض کے علل و اسباب سے ناواقف تها اور جو کچه نزديک ترين آسمانی سيارے يعنی  چاند کے بارے ميں سمجهتا تها سب غلط نکلا۔آيا اس انسان کا يہ چراغِ فکر، معرفت مبدا و معاد اور اسباب  سِعادت و شقاوت کی جانب اس کی هدايت و راهنمائی کر سکتا هے؟!  

————–  

1 افراط در تشبيہ:(يعنی خدا کو مخلوق کی طرح سمجهنا)  

2 سورہ انعام ، آيت ١۵٣ ۔”اور بے شک يهی ميرا سيدها راستہ هے بس اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو جو  تم کو الله کے راستہ سے بهٹکا کر تتر بتر کرديں گے يہ وہ باتيں هيں جن کا خدا نے تم کو توصيہ کيا هے تاکہ تم تقویٰ اختيار  کرو”۔  

3 سورہ روم ، آيت ۴١ ۔”خود لوگوں هی کے اپنے هاتهوں کی کارستانيوں کی بدولت خشک وتر ميں فساد پهيل گيا”۔  

4 سورہ جاثيہ ، آيت ١٣ ۔”خدانے تمهارے لئے تسخير کرديا ان سب کو جو زمين وآسمان ميں هے يہ سب خدا کی  طرف سے هے بے شک ان سب ميں لوگوں کے لئے نشانياں هيں جو تفکر کرتے هيں”۔  

5 سورہ حديد ، آيت ٢۵ ۔”بہ تحقيق هم نے اپنے پيغمبروں کو دلائل کے ساته بهيجا هے اور ان کے ساته کتاب ميزان  کو نازل کيا هے تاکہ لوگ عدل کو برپا کريں”۔    

انسانی علم و دانش جو ايک ذرّے کے دل ميں چهپے هوئے اسرار کے ادراک سے عاجز هے،  

انسان و جهان کے آغاز و انجام کے لئے هادی، معرفت مبدا و معاد کے لئے مشکل کشاء اور اس کی دنيوی  

و اخروی سعادت کے لئے رهنما کيسے ثابت هو سکتا هے ؟!  

((فبعث فيهم رسلہ و واتر إليهم ا نَٔبيائہ ليستا دٔوهم ميثاق فطرتہ و يذکروهم منسی نعمتہ و يحتجوا  

عليهم بالتبليغ و يثيروا لهم دفائن العقول و يروهم آيات المقدرة)) 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.