ناامیدی کفر ہے

0 0

بعض علماء کا قول ہے کہ نا امیدی کی حالت میں دعا ترک کرنا یاس ہے۔ مایوس انسان کو امید نہیں ہوتی کہ دعا سے منزل مقصود تک پہنچ جائے گا۔

اور قنوط کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اپنے پروردگار سے بدگمانی کرے کہ خدا اس پر رحم نہیں کرتا اور نہ ہی توبہ قبول کرتا ہے۔ جن مصیبتوں میں وہ مبتلا ہے وہ گمان کرتا ہے کہ اپنے بُرے اعمال کی سزا پا رہا ہے۔چنانچہ صحیفہٴ سجادیہ کی انتالیسویں (۳۹) دعا کے جملوں سے اس بات کی تائید ہوتی ہے ۔ جیسا کہ امام (علیہ السلام) فرماتے ہیں:لَا اَنْ یَکُوْنَ یَاْسُہُ قُنُوْطاً”میں تیری نجات سے مایوس نہیں ہوں نہ تجھ سے بدگمان ہوں بلکہ نا امیدی اس لیے چھائی ہوئی ہے کہ میرے نیک اعمال کم اور بُرے اعمال زیادہ ہیں۔ ورنہ تیری ذات اقدس اس سے بلند و برتر ہے کہ کوئی گناہ گار تیری بارگاہ سے مایوس و محروم لوٹے۔

دعا سے نا امیدی برتنا یاس ہے

بعض علماء کا قول ہے کہ نا امیدی کی حالت میں دعا ترک کرنا یاس ہے۔ مایوس انسان کو امید نہیں ہوتی کہ دعا سے منزل مقصود تک پہنچ جائے گا۔

اور قنوط کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اپنے پروردگار سے بدگمانی کرے کہ خدا اس پر رحم نہیں کرتا اور نہ ہی توبہ قبول کرتا ہے۔ جن مصیبتوں میں وہ مبتلا ہے وہ گمان کرتا ہے کہ اپنے بُرے اعمال کی سزا پا رہا ہے۔چنانچہ صحیفہٴ سجادیہ کی انتالیسویں (۳۹) دعا کے جملوں سے اس بات کی تائید ہوتی ہے ۔ جیسا کہ امام (علیہ السلام) فرماتے ہیں:لَا اَنْ یَکُوْنَ یَاْسُہُ قُنُوْطاً

“میں تیری نجات سے مایوس نہیں ہوں نہ تجھ سے بدگمان ہوں بلکہ نا امیدی اس لیے چھائی ہوئی ہے کہ میرے نیک اعمال کم اور بُرے اعمال زیادہ ہیں۔ ورنہ تیری ذات اقدس اس سے بلند و برتر ہے کہ کوئی گناہ گار تیری بارگاہ سے مایوس و محروم لوٹے۔

مزید  بمناسبت 17ربیع الاول ولادت رسول اکرم

کوئی شک نہیں کہ پروردگار عالم سے سوء ظن گناہانِ کبیرہ میں شمار ہوگا۔ یہ مشرکین و منافقین کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ جیسا کہ سورہٴ فتح میں ارشاد رب العزت ہے:

وَیُعَذِّبُ الْمُنَافِقِیْنَ وَالْمُنافِقَاتِ وَالْمُشْرِکِیْنَ وَالْمُشْرِکَاتِ الظَّانِّیْنَ بِاللّٰہِ ظَنَّ السَّوْءِ

“اور منافق مرد اور عورتیں اورمشرک مرد اور مشرک عورتیں جو خدا کے حق میں بُرے خیال رکھتے ہیں، ان پر عذاب نازل کرتا ہے۔”(سورہ۴۸ آیت۶)

بد گمانی سزا کا باعث ہے

حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے بالائے منبر سے فرمایا:

وَاللّٰہُ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلاَّ ھُوَ مَا اُعطِیَ مُوٴمِنٌْ قَطُّ خَیْرَالدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ اِلاَّ بِحُسْنِ ظَنّہِ بِاللّٰہِ وَرَجَائِہِ لَہُ وَحُسْنِ خُلْقِہِ وَالْکَفَ عَنْ اِغْتِیابِ المُوٴْمِنِیْنَ وَالَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلاَّ ھُوَ لَایُعَذِّبُ اللّٰہُ مُوٴمِناً بَعْدَ التَوْبَةِ وَالْاِسْتِغْفَارِ اِلاَّ بِسُوْءِ ظَنِّہِ بِاللّٰہِ وَتَقْصِیرِ مِنْ رَّجَائِہِ وَسُوْءِ خُلْقِہِ وَ اغْتیَابِہِ لِلْمُوٴْمِنِیْنَ وَالَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلاَّ ھُوَ لَایحْسِنُ ظَنَّ عَبْدٍ مُوٴمِن بِاللّٰہِ اِلاَّ کَانَ اللّٰہُ عِنْدَظَنِّہِ لِاَنَّ اللّٰہَ کَرِیْمٌ یَسْتَحْی اَنْ یَکُوْنَ عَبْدٌ مُوٴمِنٌ قَدْ اَحْسَنَ بِہِ الظَّنُ ثُمَّ یَخْلِفُ ظَنَّہ وَرَجائَہ فَاحْسِنُوْا بِاللّٰہ، الظَّنَّ وَارْغَبُوْا اِلَیْہِ (اصولِ کافی)

“اس خدا کی قسم جس کا کوئی شریک نہیں ۔ ہر گز کسی مومن کو دنیا و آخرت کے خیر سے مشرف نہیں فرمایا مگر اپنے پروردگار کے ساتھ اچھا گمان رکھتا ہو۔ اس کی ذات سے امید وابستہ رکھتا ہو اور وہ اچھے اخلاق کا مالک ہو اور اپنے آپ کو غیبت ِ مومنین سے باز رکھے۔ قسم ہے اس خدا کی جو وحدہ‘ لا شریک ہے ، کسی مومن کو توبہ و استغفار کے بعد عذاب نہیں دیتا مگر جو اللہ سے بدگمان ہو اور اس سے امید باندھنے میں کوتاہی کرے، بد اخلاقی کرے اور مومنین کی غیبت کرے۔

مزید  انتظار احادیث کی روشنی میں

قسم ہے اس اللہ کی جس کے سوا کوئی اورمعبود نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی مومن کا حسن ظن خدا کو بھی اس کے نیک خیالات کے ساتھ کر دیتا ہے کیونکہ خدا وند ِعالم کریم ہے۔ اسے حیا مانع ہوتی ہے کہ کوئی بندہ مومن اس سے حسن ِظن اور اس کے گمان و امید کے خلاف سلوک کرے۔

پس تم اللہ کے ساتھ اچھے خیالات رکھا کرو اور اس کی طرف راغب ہو جاؤ۔

امید مغفرت اور دعا کی قبولیت

پروردگار سے حسن ظن رکھنے کا معنی یہ ہے کہ بندہ پوری امید رکھے کہ اگر گناہ سے توبہ کر لے تو اللہ اُسے بخش دے گا اور دعا کرے تو حاجت روائی کرے گا۔ اگر کوئی نیک عمل بجا لائے تو امید رکھنی چاہیئے کہ اللہ قبول کرنے گا اور ثواب عنایت فرمائے گا۔

لیکن مغفرت کا گمان کرنا بہرحال مفید بلکہ لازم ہے مگر اچھے اعمال کی طرف اقدام کیے بغیر ثواب کی امید کرنا سراسر جہالت اور گھمنڈ ہے۔

دنیوی اور اخروی امور میں نا امیدی

بعض علماء اخلاق یاس اور قنوط کے درمیان فرق یوں بیان فرماتے ہیں کہ قنوط دنیوی رحمتوں سے نا امیدی سے تعلق رکھتا ہے ۔ چنانچہ قرآن پاک اس بارے میں ناطق ہے:

ھُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوْ وَیَنْشُرُ رَّحْمَتَہُ وَھُوَ الوَلِیُّ الْحَمِیْدُ

(سورہ۴۲۔ آیت۲۷)

“وہ وہی تو ہے جو بندوں کے نا امید ہو جانے کے بعد مینہ برساتا ہے اور اپنی رحمت ’بارش‘ کو پھیلاتا ہے اور وہی کارساز (اور) حمد و ثنا ء کے لائق ہے۔”

مزید  عالم اسلام کے مصائب کا ایک ہی حل

یاس کے بارے میں علماء فرماتے ہیں کہ یہ اخروی رحمتوں سے تعلق رکھتی ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے:

قَدْیَئِسُوْا مِنَ الآخِرَةِ

“در حقیقت آخرت سے مایوس ہو گئے ہیں۔”

یا س کی نسبت قنوط بہتر ہے

رحمت الٰہیہ سے قنوط (بدگمانی) اس بات کی علامت ہے کہ بندہ سعادت ابدی سے محروم ہو جائے جبکہ قنوط کی بنا پر عبد و معبود کا رشتہ منقطع ہو جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس کے دل میں آغاز پیدائش کا نور جو اس کے بدن خاکی میں چمک رہا تھا وہ بجھ گیا ہے۔ اگر وہ موجود ہوتا تو اس کے دل میں امید بھی باقی رہ جاتی۔

اگر چہ وہ افراط و تفریط کا مرتکب کیوں نہ ہوا ہو، جب حالت ایسی ہے تو وہ رحمت خدا سے دور جہالت کے اندھیرے میں مبتلا ہے۔ لیکن یاس اس بات کی دلیل ہے کہ عبد و معبود کے درمیان گناہ کا پردہ حائل ہے اور فطرت اولیہ کا نور ابھی باقی ہے۔ اپنے پروردگار سے رشتہ ٴ امید باندھے ہوئے ہے۔ اس صورت میں حجاب دور ہو سکتا ہے۔

لہٰذا یاس قابل مغفرت ہے اور قنوط عفو و درگزر کے سزاوار نہیں۔ اس لیے قنوط شرک کے عنوان میں داخل ہو تا ہے۔ لہٰذا قنوط انسان کے لیے سب سے بڑی مصیبت ہے۔

(منقول از تفسیر روح البیان)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.