مياں بيوي کے نازک تعلقات

0 0

يہ دونوں باتيں بہت غلط ہيں – يہ بہت ضروري ہوتا ہے کہ مياں بيوي ايک دوسرے کا احترام کريں – شادي کے بعد مياں بيوي ايک دوسرے کے ليۓ عادي ہو جاتے ہيں اس ليۓ ضروري ہوتا ہے کہ دونوں اپني زندگي ميں ترو تازہ رہيں – دونوں کو زندگي ميں مشترک اہداف تعين کرنے چاہيۓ اور پھر ان اہداف کے حصول کے ليۓ مل کر کوشش کرني چاہيۓ – دونوں کو مل کر سفر پر جانا چاہيۓ –

مياں و بيوي ميں خيانت کي سات وجوہات

گذشتہ ادوار ميں جب خيانت کي بات آتي تو فوري طور پر ذہن مرد کي طرف جاتا تھا کہ مرد نے خيانت کي ہے مگر موجودہ دور ميں عورتيں بھي اپنے شوہروں کے ساتھ خيانت کي مرتکب ہو رہي ہيں – اس خيانت کو تين حصوں ميں تقسيم کيا جا سکتا ہے – احساسات ميں خيانت ، جنسي اور جنسي احساسات –

پہلي قسم ميں يہ ہوتا ہے کہ مرد احساساتي طور پر کسي دوسري عورت کو پسند کرنے لگتا ہے اور جب اس کي بيوي کو اس بات کا احساس ہوتا ہے تو وہ بھي اس سے بدلہ لينے کے ليۓ اسي جيسا فعل انجام ديتي ہے – دوسري قسم ميں جنسي روابط ہوتے ہيں اور يہ ہمارے معاشرے کا ايک الميہ ہے کہ بعض افراد اپنے جيون ساتھي تک محدود نہيں رہتے ہيں اور بہت بڑے گناہ کے مرتکب ہوتے چلے جاتے ہيں – اس بے راہ روي کا شکار لوگ اپني ازدواجي زندگي کو تباہ کر بيٹھتے ہيں – تيسري شکل ميں وہ لوگ آتے ہيں جو اپنے وعدوں پر قائم نہيں رہتے ہيں اور خيانت کرتے ہيں – چوتھي شکل زبردستي ميں کي جانے والي شاديوں کے نتيجے کے طور پر سامنے آتي ہے – پانچويں شکل ميں ذہني ہم آہنگي کے فقدان کي وجہ سے ايک دوسرے سے دوري ہوتي ہے – مثال کے طور پر کوئي فرد شادي کے سے پہلے کسي کو پسند کرتا تھا اور شادي کے بعد اس جيسا کوئي اس کي زندگي ميں آ جاتا ہے – چھٹي شکل ايسے زخموں کي ہوتي ہے جو انسان کو احساساتي طور پر لگتے ہيں اور ان زخموں کي وجہ سے انسان پاگل پن کا مظاہرہ کرتا ہے – ساتويں شکل جنسي طور پر ضعف کي صورت ميں سامنے آتي ہے جب مياں بيوي ايک دوسرے سے خيانت کے مرتکب ہوتے ہيں –

مزید  ایمان اور عمل صالح کے بارے میں امام خمینی (رح) کا نظریہ

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.