موجودات کو ایجاد کرنے سے قبل خداوند عالم کے علم کی کیفیت

0 0

فلسفی اور اعتقادی پیچیدہ مسائل میں سے ایک مسئلہ ”موجودات کو ایجاد کرنے سے قبل خداوند عالم کے علم کی کیفیت“ سے متعلق ہے ۔ ایک طرف تو ہم جانتے ہیں کہ خداوند عالم آئندہ حوادث سے آگاہ ہے اور قرآن کریم کی آیات میں بھی اس کی طرف بارہا اشارہ ہوا ہے اور مذکورہ عبارت میں بھی بیان ہوا ہے ۔

دوسری طرف خداوند عالم کا علم ”علم حصولی“ نہیں ہے ، یعنی اشیاء کی ذہنی صورت اورنقش و نگار اس کی ذات میں منعکس نہیں ہوتے ہیں کیونکہ اس کے پاس مخلوقات کی طرح ”ذہن“ نہیں ہے، اور اس کا علم موجودات کی صورت کو منعکس کرنے کی طرح نہیں ہے بلکہ اس کا علم ”علم حضوری“ ہے، یعنی مخلوقات کا وجود اس کے نزدیک حاضر ہے اور ہم جانتے ہیں کہ جو چیزیں ابھی وجود میں نہیں آئی ہیں ان کے متعلق علم حضوری معنی نہیں رکھتا، یہاں تک کہ یہ اشکال ان موجودات کے متعلق بھی پیش آتا ہے جو گذشتہ میں محو او رنابود ہوگئی ہیں، اگر ہم ان سے آگاہ ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی ذہنی صورتیں اور ان کی یادداشت ہمارے دل و جان میں سما گئی ہیں ،لیکن جس کے پاس ذہن ، یادداشت اور داخلی نقش و نگار نہیں ہیں اور جس کی ذات محل حوادث نہیں ہے وہ کس طرح ان چیزوں سے باخبر اور آگاہ ہوسکتا ہے؟!

مثال کے طور پر فرعون اور اس کے اصحاب کی صورتیں نابود ہوگئی ہیں اوران کی تاریخ بھی بہت پرانی ہوگئی ہے ہم فقط ان کی تصویروں کو اپنے ذہن میں حاضر کرسکتے ہیں ، لیکن خداوند عالم کا علم اس طرح نہیں ہے تو وہ کس طرح ان کے متعلق آگاہی رکھتا ہے؟

مزید  جنگ تبوك

کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ گذشتہ سے آگاہ نہیں ہے؟ یا اس کو آئندہ کی خبر نہیں ہے؟ ہرگز! پس اگر وہ عالم ہے تواس کا علم کیسا ہے؟

اس پیچیدہ مسئلہ نے فلاسفہ اور علمائے کلام کو سخت مشکل میں ڈال رکھا ہے اور انہوں نے اس کے متعدد جواب دئیے ہیں ، ہم اس حصہ میں اس مسئلہ کی طرف سرسری بحث کریں گے:

۱۔ خداوند عالم ہمیشہ اپنی ذات جو کہ تمام اشیاء کی علت ہے ،سے آگاہ تھا اور آگاہ ہے، دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ اس کی ذات اس کے پاس حاضر ہے اور اپنی ذات کا یہ علم تمام موجودات عالم چاہے وہ ایجاد سے پہلے ہو یا ایجاد سے بعد میں ہو ان سب کا ایک علم اجمالی اس کے پاس موجود ہے ۔

اگر ہمیں اشیاء کی علت کے بارے میں بالکل صحیح علم ہو تو یہ علم اس کے نتیجہ اور معلول تک پہنچنے کا سبب بنے گا۔ کیونکہ ہر علت میں اس کے معلول کے تمام کمالات پائے جاتے ہیں اور چونکہ خداوند عالم تمام اشیاء کی علت ہے اور اپنی ذات سے آگاہ ہے اور تمام اشیاء سے بھی آگاہ ہے اور حقیقت میں یہ ایک طرح کا کشف تفصیلی ہے ۔

اس بات کی ایک دوسری طرح بھی توضیح دی جاسکتی ہے: گذشتہ حوادث بطور کامل نابود نہیں ہوئے ہیں اور ان کے آثار آج کے حوادث میں پوشیدہ ہیں ۔ اسی طرح آئندہ حوادث ، آج کے حوادث سے جدا نہیں ہیں اور وہ ان سے مربوط ہیں اور انہی سے ان کو وجود ملتا ہے ۔ اس طرح کہ گذشتہ، حال اور آئند ہ اس سلسلہ کا ایک مجموعہ ہے جوعلت و معلول سے و جود میں آیا ہے جس کی وجہ سے ایک حلقہ اور سلسلہ کا علم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس سے پہلے اور بعد والے حلقہ سے واقف ہے ۔

مزید  قرآنِ کریم اور نورِ الہی

مثال کے طور پر اگر ہم بطور دقیق پوری زمین کی ہوای کی کیفیت اور ان عوامل کو جو موجودہ ہوا کی پیدائش کا سبب بنے ہیں ،جان لیں اور تمام جزئیات اور علت و معلولات کے رابطہ سے آگاہ ہوجائیں تو بطور دقیق ہزاروں سال پہلے کی ہوا کی کیفیت کو معلوم کرسکتے ہیں۔

کیونکہ گذشتہ اور آئندہ تمام چیزیں حال حاضر میں موجود ہیں۔ بطور دقیق آج کی تمام چیزیں کل پر منحصر ہیں اور آئندہ کی آج پر۔ اور آج کی تمام جزئیات پر کامل طور سے آگاہ ہونے کا مطلب ہے کہ گذشتہ اور آئندہ کے حوادث سے بطور کامل آگاہ ہیں۔

اب اگر اس حقیقت کی طرف توجہ کریں کہ خداوند عالم کل،آج اور آئندہ کے تمام حوادث کا اصلی سرچشمہ ہے اور اس کو اپنی ذات کا علم ہے تو ہمیں یہ قبول کرلینا چاہئے کہ اس کو گذشتہ، آئندہ اور آج کے تمام حوادث کا علم ہے ۔ البتہ جس موجود میں جو بھی اثر ہے وہ اس کے حکم اور اجازت سے ہے ، لیکن اس کی سنت اس بات پر جاری ہے کہ وہ موجودات کو آثار اور خواص عطا کردے اور جب چاہے ان آثار کو ان سے واپس لے لے (۱) ۔

۲۔ دوسرا راستہ جو اس سوال کے جواب میں اختیار کیا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ گذشتہ،حال اور آئندہ کا ہمارے علم میں تصور ہوتا ہے کیونکہ ہمارا وجود محدود ہے لیکن خداوند عالم کی ذات نامحدود ہے ، گذشتہ، حال اور آئندہ کا وہاں پر کوئی مفہوم نہیں پایا جاتا ،بلکہ تمام اشیاء اور حوادث اپنی تمام خصوصیات اور جزئیات کے ساتھ اس کے پاس حاضر ہیں۔

مزید  حضرت امام مھدی علیہ السلام کی سوانح حیات

اس دقیق اور نازک مطلب کو مثال کے ذریعہ واضح کیا جاسکتا ہے:

فرض کرلیں کہ کوئی شخص کسی کمرہ میں قید ہے اور اس کمرہ میں فقط ایک چھوٹا سا سوراخ ہے اور اس سوراخ کے سامنے سے اونٹوں کی ایک قطار کو گزارا جائے تو یہ قیدی انسان اس سوراخ میں سے پہلے اونٹ کا سر اور گردن کو دیکھے گا پھر اس کے کوہان کو اور پھر اس کی پیروں اور اس کی دم کو دیکھے گا اور پھر دوسرے اونٹوں کو اسی طرح دیکھے گا۔

سوراخ کے چھوٹا ہونے کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنے لئے گذشتہ ، حال اورآئندہ بنا لیتا ہے لیکن جو شخص اس کمرہ کے باہر ہو اور اس کی چھت پر یا کھلی ہوئی فضا میں اس بیابان کو دیکھ رہا ہو تو پھر اس کو اونٹوں کی پوری قطار ایک دفعہ میں نظر آجائے گی (غور و فکر کریں) ۔

۱۔ جن لوگوں نے مذکورہ اشکال کا جواب دینے کی کوشش ہے ان کے سامنے یہ سوال پیش آتا ہے کہ اس بات کا لازمہ یہ ہے کہ خداوند عالم ، موجودات کی کثرت کو کثرت کی صفت کے ساتھ ان کے وجود سے پہلے نہیں جانتا تھا، کیونکہ کثرت اس کی ذات میں نہیں ہے یا دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ موجوددات کے وجود سے پہلے اور ان کے وجود کے بعد خداوند عالم کے علم میں فرق ہے: وجود سے پہلے اس کا علم اجمالی ہے اور وجود کے بعد علم تفصیلی ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض نے اس فرق کا اعتراف بھی کیا ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.