منافقين كي سياسي خصائص اغيار پرستى

0 0

قرآن مجيد كے شديد منع كرنے كے باوجود منافقين كي سياسى رفتار كي اھم خصوصيت، اغيار سے دوستي ورابطہ كا ھونا ھے، اس بحث ميں وارد ھونے، اور ان آيات قرآني كي تحقيق كرنے سے قبل، جو منافقين كي اغيار پرستى ودوستي كو بر ملا كرتي ھيں ضروريھے كہ ھم بطور اجمال اغيار سے سياسى رابطہ و رفتار كے اصول جو اسلام نے پيش كي ھيں، بيان كرديں، تاكہاغيار سے رابطہ اور رفتار كے قوانين و نظريہ كي روشني ميں منافقين كے اعمال و رفتار كا تجزيہ كيا جاسكے۔

اغيارسے سياسى روابط اور اس كے ضوابط و اصول

قرآن مجيد كے شديد منع كرنے كے باوجود منافقين كي سياسى رفتار كي اھم خصوصيت، اغيار سے دوستي ورابطہ كا ھونا ھے، اس بحث ميں وارد ھونے، اور ان آيات قرآني كي تحقيق كرنے سے قبل، جو منافقين كي اغيار پرستى ودوستي كو بر ملا كرتي ھيں ضروريھے كہ ھم بطور اجمال اغيار سے سياسى رابطہ و رفتار كے اصول جو اسلام نے پيش كي ھيں، بيان كرديں، تاكہاغيار سے رابطہ اور رفتار كے قوانين و نظريہ كي روشني ميں منافقين كے اعمال و رفتار كا تجزيہ كيا جاسكے۔

اصل اوّل: شناخت اغيار

جيساكہ اس سے قبل عرض كيا جاچكا ھے نظام و حكومت اسلامي كے كاركنان كا اھم ترين وظيفہ دشمن كيشناخت و پھچان ھے، قرآن كي مكرر و دائمي نصيحت يہ ھے كہ اپنے دشمن كو پھچانو، ان كے مقاصد و اھداف كو سمجھو، تاكہان سے صحيح مقابلہ كرتے ھوئےان كي كاميابي كے لئے سد راہ بن جاؤ۔

قرآن كريم كي بھت زيادہ آيتيں اغيار كي صفات و خواھشات كو بيان كر رھي ھيں، تاكہ صاحبان ايماندشمن و اغيار كي شناخت كے لئے ايك معيار پيمانہ قائم كرسكيں، قرآن كريم اغيار كے سلسلہ ميں جو صفتيں اورعلامتيں بيان كر رھا ھے، ايك خاصعصر و زمان سے مرتبط و محدود نھيں ھے، بلكہ ھر زمان و مكان ميں ان كي سيرت و كردار كو پركھنے كي كسوٹي ھے، قرآن كي روشني ميں بطور اختصار اغيار كي سات خصوصيتيں ذكر كي جارھي ھيں۔

1۔ رجعت و عقب نشيني كي آرزو ركھنا

اغياركي خواھش مومنين كو رجعت يعني اسلام سے قبل كي ثقافت و كلچر كي طرف پلٹانے كي ھوتي ھے،دشمنان اسلام كي دلي تمنا ھوتي ھے كہ، مومنين شرك و كفر كے زمانہ كي طرف پلٹ جائيں، مومنين سے اسلامي تھذيب و اقداركو چھين ليں:

(ودّوا لو تكفرون كما كفروافتكونون سواء)۱

منافقينچاھتے ھيں كہ تم بھي ان كي طرح كافر ھوجاؤ اور سب برابر ھوجائيں۔

(ولا يزالون يقاتلونكم حتييردّوكم عن دينكم ان استطاعوا) ۲

يہ كفار برابر تم لوگوں سے جنگ كرتے رھيں گے، يہاں تك كہ ان كے بس ميں ھو تو تم كو تمھارے دين سےپلٹاديں۔

قرآن كي نظر ميں كفار اور بعض اھل كتاب مومنين سے عداوت و دشمني ركھتے ھوئے ان كو كفر و جاھليت كيطرف پلٹانا چاھتے ھيں:

(يا ايھا الذين آمنوا انتطيعوا الذين كفروا يردّوكم علي اعقابكم فتنقلبوا خاسرين) ۳

اےايمان والو! اگر تم كفر اختيار كرنے والوں كي اطاعت كرو گے تو يہ تمھيں گزشتہ زمانہ كي طرف پلٹا لے جائيں گے، اور سر انجام تم خود ھي خسارہ و نقصان اٹھانے والوں ميں ھوگے۔

(ودّ كثير من اھل الكتاب لويردّونكم من بعد ايمانكم كفار حسداً من عند انفسھم من بعد ما تبين لھم الحق) ۴

بھتسے اھل كتاب حسد كي بنا پر يہ چاھتے ھيں كہ تمھيں ايمان كے بعد كافر بناديں حالانكہ حق ان پربالكل واضح و آشكار ھوچكا ھے۔

2۔ اسلامي اصول و اقدار سے انحراف كي تمنا كرنا

دشمنكي ايك اھم خواھش يہ ھوتي ھے كہ اسلامي حكومت اور مومنين، اسلامي اصول و اقدار سے رو گرداں ومنحرف ھوجائيں، مومنين سے اسلامي اصول اور اس كے اقدار پر سودا كرنے كے خواھش مند ھوتے ھيں:

(ودّوا لو تدھن فيہ ھنون) ۵

يہچاھتے ھيں كہ آپ تھوڑا نرم (حق كي راہ سے منحرف) ھوجائيں تاكہ وہ بھي نرم ھوجائيں۔

اسلامي حكومت ميں الھي سياست گزار كو صرف اپني شرعي ذمہ داري و فرائض كا خيال ركھنا ھوتا ھے، ان كےپروگرام ميں سر فھرست الھي مقاصد اور اصولوں كي حفاظت مقصود ھوتي ھے، ان كے طريقۂ كار ميں اصولي و بنياديمسائل پر سودا گري اور ساز باز كاكوئي مفھوم نھيں ھوتا ھے۔

ليكن دنياوي اور مادہ پرست سياست گزار كا ھدف و مقصد صرف حكومت و استعماريت ھوتا ھے ان كي سياست كي بساط، اصول كي سودا گريو ساز و باز پر ھوتي ھے وھي سياست كہ جس كا معاويہ شيدائي تھا ليكن مولائے كائنات علي ابن ابي طالب عليہ السلام شدت سے مخالف تھے،آپ اس طريقۂ كار كو شيطنت و مكر و فريب سمجھتے تھے۔

حضرت علي عليہ السلام ايسي پست سياست و طرز عمل سے دور تھے، وہ لوگ جو معاويہ كي حركات كو زيركي ودانائي تصور كرتے تھے، امام علي عليہ السلام ان كے جواب ميں فرماتے ھيں:

((و اللہ ما معاويۃ بادھٰي مني و لكنہ يغدر و يفجر ولو لا كراھيۃ الغدر لكنت منّي ادھيٰالناس))۶

خداكي قسم! معاويہ مجھ سے زيادہ ھوشيار و صاحب ھنر نھيں ھے، ليكن وہ مكر و فريب اور فسق و فجوركا ارتكاب كرتا ھے، اگر مجھے مكر و فريب نا پسند نہ ھوتا تو مجھ سے زيادہ ھوشيار كوئي نھيں تھا۔

اميرالمومنين حضرت علي عليہ السلام اپني مختصر مدت حكومت و خلافت ميں بعض قريبي اصحاب كي نصيحت ومشورہ كے باوجود ھرگز اسلامي اصول سے انحراف و سودا گري كو قطعاً قبول نھيں كرتے تھے، بعض صاحبان تفسير ابن عباسسے نقل كرتے ھيں، يھودي مذھبكے بزرگان ايك نزاع كے سلسلہ ميں رسول اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كو اسلامي اصول سے منحرف كرنے كي غرضسے آپ كي خدمت ميں آئے، اور اپني آرزؤں كو اس انداز سے پيش كيا، ھم يھودي قوم و مذھب كے اشراف و عالم ھيں اگر ھم آپ پر ايمان لے آئيں گے، توتمام يھودي ھم لوگ كي پيروي كرتے ھوئے آپ پر ايمان لے آئيں گے، ليكن ھمارے ايمان لانے كي شرط يہ ھے كہ آپ اسنزاع ميں ھمارے فائدے و حق ميں فيصلہ ديں، ليكن مرسل اعظم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے ان كي شرط اور ايمان لانےكي لالچ كو ٹھكراديا، اسلامكے اصول و اركان يعني عدالت سے ھرگز منحرف نھيں ھوئے، ذيل كي آيت اسي واقعہ كي بنا پر نازل ھوئي ھے:

(و ان احكم بينھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھوائھم و احذرھم ان يفتنوك عن بعض ما انزل اللہ اليك) ۷

اورپيامبر آپ كے درميان تنزيل خدا كے مطابق فيصلہ كريں اور ان كي خواھشات كا اتباع نہ كريں،اور اس بات سے بچتے رھيں كہ يہ بعض احكام الھي سے جو تم پر نازل كيا جاچكا ھے منحرف كرديں۔

سورہ اسراء ميں پيامبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كو اصول سے منحرف كرنے كے لئے دشمنوں كے شديدوسوسہ كا ذكر كيا گيا ھے خدا كا ارشاد ھو رھا ھے، اگر آپ كو عصمت اور وحي كي مساعدت نہ ھوتى، اگر آپ عام بشر كے مثلھوتے تو ان كے دلدادہ ھوجاتے۔

(و ان كادوا ليفتنوك عن الذياوحينا اليك لتفتري علينا غيرہ و اذاً لاتّخذوكخليلا ولولا ان ثبتناك لقد كدت تركن اليھم شيئا قليلا) ۸

اوريہ ظالم اس بات كے كوشاں تھے كہ آپ كو ميري وحي سے ھٹا كر دوسري باتوں كي افترا پر آمادہكرديں، اور اسي طرح يہ آپ كو اپنا دوست بنا ليتے اور اگر ھماري توفيق خاص نے آپ كو ثابت قدم نہ ركھا ھوتا تو آپ(بشري طور سے) كچھ نہ كچھ ان كيطرف ضرور مائل ھوجاتے۔

3۔ خير خواہ نہ ھونا

قرآن كريم نے اغيار كي شناخت كے سلسلہ ميں دوسري جو صفت بيان كي ھے وہ اغيار كا مسلمانوں كے سلسلہ ميں خير خواہ نہ ھونا ھے، وہ اپني بد خصلت اور پست فطرت خمير كي بنا پر ھميشہ اسلام كے افكار و نظام كے خلاف سازشكرتے رھتے ھيں وہ مومنين كےسلسلہ ميں صرف عدم خير خواھي پر اكتفا نھيں كرتے بلكہ صاحبان ايمان كي آسائش و آرام، امن و سكون، فتح وكامراني كو ايك لمحے كے لئے تحمل بھي نھيں كرسكتے۔

(ما يودّ الذين كرو من اھلالكتاب ولا المشركين ان ينزل عليكم من خير من ربكم) ۹

كافراھل كتاب (يھود و نصاريٰ) اور عام مشركين يہ نھيں چاھتے كہ تمھارے اوپر پروردگار كي طرف سےكوئي خير و بركت نازل ھو۔

وہ مومنين كے سلسلہ ميں صرف خير و بركت كے عدم نزول كي خواھش ھي نھيں ركھتے بلكہ مومنين كي سختيو پريشاني كو ديكھ كر خوشحال اور ايمان والوں كي خوشي كو ديكھ كر غمگين ھوتے ھيں۔

(ان تمسسكم حسنۃ تسؤھم وان تصبكم سيئۃ يفرحوا بھا) ۱۰

اگرتمھيں ذرا بھي خير و نيكي ملے تو انھيں برا لگے گا اور اگر تمھيں تكليف پھونچےتو وہ خوش ھوں گے۔

4۔:بغض و كينہ كا ركھنا

اغياركي ايك اور اھم خصوصيت بغض اور كينہ پرستي ھے ان كا تمام وجود اسلام كے خلاف عداوت و نفرتسے بھرا ھوا ھے، يہ صفت رذائل فقط دل كي چھار ديواري تك محدود نھيں بلكہ عملي طور سے ان كے افعال و كردار ميں حسدو كينہ توزي كے آثار ھويداھيں، اپني اس كيفيت كو پوشيدہ و مخفي ركھے بغير اھل اسلام كے خلاف وسيع پيمانے پر معركہ و جنگ كيجد و جھد ميں مصروف رھتے ھيں۔

(لا يألونكم خبالاودّوا ما عنتّم قد بدت البغضاء من افواھم وما تخفي صدوركم اكبر…… اذا لقوكم قالوا آمنا واذا خلوا عضو عليكمالأنامل من الغيظ قل موتوابغيظكم)۱۱

يہ تمھيں نقصان پھونچانے ميں كوئي كوتاھي نھيں كريں گے، يہ صرف تمھاري مشقت و زحمت رنج و مصيبت كےخواھش مند ھيں ان كي عداوت و نفرت زبان سے بھي ظاھر ھے اور جو دل ميں پوشيدہ كر ركھا ھے وہ تو بھت زيادہ ھے اورجب تم سے ملتے ھيں تو كھتے ھيںكہ ھم ايمان لے آئے اور جب اكيلے ھوتے ھيں تو خشم و غصہ سے انگلياں كاٹتے ھيں، پيامبر آپ كہہ ديجئے كہ تماسي غصہ ميں مرجاؤ۔

5۔ غفلت پذيري ميں مبتلا كرنا

دشمنو اغيار كا اپني كاميابي و موفقيت كے لئے مسلمانوں كو غفلت و بے خبري كے جال ميں پھنسائےركھنا ھے، وہ چاھتے يہ ھيں كہ ايسي فضا و حالات وجود ميں لائے جائيں جس كي بنا پر صاحبان ايمان اپني قوت و طاقت كيصلاحيت و موقف سے غفلت ورزيكا شكار ھوجائيں تاكہ وہ ان پر قابض و كامران ھوسكيں، ان كي دائمي كوشش رھتي ھے كہ مسلمان كي نظر ميں انكي اقتصادي طاقت فوجي قدرت، ثمرۂ وحدت اور دين و دنيا كي شان و شوكت كو بے وقعت پيش كيا جائے، تاكہ زيادہ سےزيادہ غفلت و بے خبري كے دام ميںالجھے رھيں جس كے نتيجہ ميں اغيار كي فتح و ظفر كي زمين ھموار ھوسكے۔

مزید  فقر و تنگ دستی میں حکمت پوشیدہ ہے

(ودّا لذين كفروا لو تغفلونعن اسلحتكم و امتعتكم فيميلون عليكم ميلۃ واحدة) ۱۲

كفاركي خواھش يھي ھے كہ تم اپنے ساز و سامان اور اسلحہ سے غافل ھوجاؤ تو يہ يكبارگي تم پر حملہ كرديں۔

مذكورہآيت ميں اگر چہ اسلحہ و ساز و سامان كا ذكر ھے ليكن آيت كي دلالت صرف اقتصادي ساز و سامانوجنگي اسلحہ جات پر منحصر نھيں ھے بلكہ تمام وہ وسائل و عوامل جو مسلمانوں كے لئے عزت و شرف قوت و طاقت كا باعث ھوآيت كي غرض وغايت ھے، اس لئےكہ دشمن كا ھدف ان وسائل سے غفلت و لاپرواھي ميں مبتلا كرنا ھے تاكہ تسلط كے مواقع فراھم ھوسكيں۔

اميرالمومنين حضرت علي عليہ السلام مالك اشتر كو خطاب كرتے ھوئے عھد نامہ ميں فرماتے ھيں:

((الحذر كل الحذر من عدوك بعدصلحہ فان العدو ربما قارب ليتغفل فخذ با لحزم و اتھم في ذلك حسن الظن)) ۱۳

صلح كے بعد دشمن كي طرف سے قطعاً مكمل طور پر ھوشيار رھنا كہ كبھي كبھي وہ تمہيں غفلت ميں ڈالنے كےلئے تم سے قربت اختيار كرنا چاھيں گے لھذا اس سلسلہ ميں مكمل ھوشيار رھنا، اور كسي حسن ظن سے كام نہ لينا۔

6۔ مومنين سے سخت و تند برتاؤ كرنا

قرآنكريم كي روشني ميں اغيار كي ايك دوسري صفت، مومنين كي ساتھ سخت طرز عمل و سلوك كا انجام ديناھے، يہ عھد و پيمان كي پابندي اور دوستي كا اظھار كرتے ھوئے مومنين كو فريب دينا چاھتے ھيں، ان كے عھد و پيمان،قول و قرار پر اعتماد كرنا منطقيعمل نھيں، جب ناتواں اور كمزور ھوجاتے ھيں تو حقوق بشر اور اخلاق انساني كي بات كرتے ھيں، ليكن جب قويو مسلط ھوجاتے ھيں، تمام حقوقِ اور انساني اخلاق كو پامال كرتے ھيں، عھد و پيمان، قول و قرار، حقوق و اصولبشريت، عظمت انسانيت، سب ھتكنڈےھيں تاكہ اپنے منافع كو حاصل كرسكيں، منظور نظر منافع كے حصول كے بعد ان قوانين و عھد و پيمان كيكوئي وقعت نھيں رھتي ھے۔

(كيف وان يظھروا عليكم لايرقبوا فيكم الّا ولا ذمّۃ يرضونكم بأفواھھم و تأبي قلوبھم و اكثرھم فاسقون) ۱۴

انكے ساتھ كس طرح رعايت كي جائے، جب كہ يہ تم پر غالب آجائيں گے تو نہ كسي ھمسايگي و قرابتداري كيرعايت كريں گے اور نہ ھي كسي عھد و پيمان كا لحاظ كريں گے يہ تو صرف زباني تم كو خوش كر رھے ھيں، ورنہ ان كا دلقطعي منكر ھے اور ان كي اكثريت فاسق و بد عھد ھے۔

7۔ خيانت كاري اور دشمني كا مستمر ھونا

اغياركي ايك اور صفت، تجاوز گري و تخريب كاري ھے، جب تك ان كے اھداف پايہ تكميل كو نھيں پہنچتےفتنہ گرى و خراب كاري كا بازار گرم كئے رھتے ھيں۔

(لا يزالون يقاتلونكم حتييردّوكم عن دينكم)۱۵

اوريہ كفار برابر تم لوگوں سے جنگ كرتے رھيں گے، يہاں تك كہ ان كے امكان ميں ھو تو وہ تم كوتمھارے دين سے پلٹاديں۔

اسي بنا پر دشمن كي عارضى، خاموشي و سكوت يا دوستي و محبت كا اظھار، دشمني كے پايان و اتمام كيعلامت نھيں، يہ صرف دشمن كي بدلتي ھوئي طرز و روش ھے، برابر كچھ وقفہ كے بعد كوئي نہ كوئي خيانت كاري كا آشكارھونا اس بات كي دليل ھے كہ جبتك اغيار و دشمن اپنے اھداف و مقاصد كو عملي جامہ نہ پہناليں تب تك وہ فتنہ گرى و دشمني سے دست بردار نھيںھوں گے۔

(ولا تزال تطلع عليخائنۃ منھم)۱۶

آپان كي طرف سے خيانتوں پر مطلع ھوتے رھيں گے۔

اصلاوّل كا ماحصل، اسلام كے پيش نظر اغيار سے سياسى روابط و اصول اور اغيار كي شناخت ھے جس ميںان كي چند خصائص كو بيان كيا گيا ھے كسي فرد يا گروہ ميں ايك خصوصيت كا بھي پايا جانا قرآن كي رو سے اس كا شماراغيار ميں ھے، لھذا ان سے رابطہ كے سلسلہ ميں اسلام كے اغيار سے رابطہ و اصول كا لحاظ كيا جانا چاھئے۔

اصل دوّم: دشمن كے مقابلہ ميں ھوشياري اوراقتدار كا حصول

اسلام كے فردي و اجتماعي روابط ميں حسن ظن كي رعايت اسلام كے اصل دستورات ميں سے ھے ليكن اغيار سے روابط كے سلسلہ ميں اسلامكي تاكيد سوء ظن پر ھے، ھرزمان و مكان ميں ان سے بھترين اقتصادى، سياسى، ثقافتي روابط ھونے كے باوجود سوء ظن كي كيفيت باقي ركھتےھوئے ھوشيار رھنا چاھئے۔ ان كي چھوٹي حركتيں اور ھلكے مناظر دشمني كو نظر انداز نھيں كرنا چاھئے۔

اسلام كي تاكيد يہ ھے كہ اسلامي نظام و حكومت اغيار كے مقابلہ ميں زيادہ سے زيادہ قدرت و طاقت كاحصول كريں، اس قدر قوي اور طاقتور ھوں كہ دشمن تجاوز كا خيال بھي دل ميں نہ لاسكے۔

(و اعدّوا لھم ما استطعتم منقوة و من رباط الخيل ترھبون بہ عدو اللہ و عدوكم) ۱۷

اورتم سب ان كے مقابلہ كے لئے امكاني قوت اور گھوڑے كي صف بندي (سلاح) كا انتظام كرو جس سے اللہ كے دشمن اور اپنے دشمن سب كو خوفزدہ كردو۔

آيت قرآن سے استفادہ ھوتا ھے كہ دشمن كے مقابلہ ميں قوي و قدرت مند ھونا، جديد اسلحہ جات سےآراستہ ھونا ضروري ھے تاكہ اسلامي حكومت و نظام كا دفاع كيا جاسكے، (ما استطعتم) عبارت كا مفھوم وسيع ھے وسائل وسلاح، اطلاعاتي و نظامى، اقتصاديو سياسى، فرھنگي و ثقافتي آمادگى، سب پر منطبق ھوتا ھے، جيسا كہ ذيل كي آيت ميں كلمہ حذر كا مفھوم وسيعو عريض ھے۔

(يا ايھا الذين آمنوا خذواحذركم فانفرو اثبات او انفروا جميعا) ۱۸

اےصاحبان ايمان! اپنے تحفظ كا سامان سنبھال لو اور گروہ در گروہ يا اكٹھا جيسا موقع ھو سب نكل پڑو۔

يہآيت ايك جامع و كلي آئين و دستور ھر زمان و مكان كے مسلمانوں كو دے رھي ھے، اپني امنيت و سرحدكي حفاظت كے لئے ھر وقت آمادہ رھيں اجتماع و معاشرے ميں ايك قسم كي مادي و معنوي آمادگي كا ھميشہ وجود رھے۔

حذركے معني اس قدر وسيع ھيں كہ ھر قسم كے مادي و معنوي وسائل پر اطلاق ھوتے ھيں۔

مسلمانوں كو چاھئے كہ مدام دشمن كي حركات و سكنات، سلاح كي نوعيت، جنگ كے اطوار پر نگاہ ركھے رھيں، اس لئے كہ يہ تمام موارد دشمنكے خطرات كو روكنے ميں مؤثراور آيت حذر كے مفھوم كي نشان دھي ھے۔

آيت حذر كے دستور كے مطابق مسلمانوں كے چاھئے كہ اپنے تحفظ كے لئے زمان و مكان كے اعتبار سے انواعو اقسام كے وسائل كو فراھم كريں، نيز ان وسائل و سلاح سے بھترين استفادہ كے طور و طريقہ كو بھي حاصل كريں۔

اصل سوم: اغيار سے دوستي و صميميت كا ممنوع ھونا

اغيارسے سياسى رفتار و روابط كے سلسلہ ميں اسلام كي نظر كے مطابق ان سے دوستانہ روابط و صميم قلبيكو منع كيا گيا ھے، عداوت پسند افراد نيز وہ لوگ جو اسلامي مقدسات كي بے حرمتي كرتے ھيں ان سے سخت برتاؤ سےپيش آنا چاھئے۔

(يا ايھا الذين آمنوالاتتخذوا الذين اتخذوا دينكم ھزوا ولعبا من الذين اوتوا الكتاب من قبلكم و الكفار اولياء واتقوا اللہ انكنتم مؤمنين و اذا ناديتم اليالصلاة اتخذوھا ھزوا ولعبا ذلك بانھم قوم لا يعقلون) ۱۹

اےايمان والو! خبر دار اھل كتاب ميں جن لوگوں نے تمھارے دين كو مزاق و تماشا بنا ليا ھے اور ديگركفار كو بھي اپنا ولي (دوست) و سرپرست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرو، اگر تم واقعي صاحب ايمان ھو اور تم جب نماز كے لئےاذان ديتے ھو تو يہ اس كومذاق و كھيل بناليتے ھيں اس لئے كہ يہ بالكل بے عقل قوم ھيں۔

ھنرو تمسخر آميز گفتگو و حركات كو كھا جاتا ھے جو كسي چيز كي قدر و قيمت كو كم كرنے كے لئےاستعمال ھوتا ھے۔

لعب،وہ افعال جب كے اھداف غلط يا بے ھدف ھوں ان پر اطلاق ھوتا ھے آيت كا مفھوم يہ ھے كہ مومنينكي حيا وغيرت كا تقاضا يہ ھے كہ وہ اسلامي مقدسات و ديني اقدار كو پامال كرنے والوں سے سخت اور تند برتاؤ كريں، اوران كا يہ برتاؤ ديني تقوےكي ايك جھلك ھے، كيونكہ تقوا صرف فردي مسائل پر منحصر نھيں ھے۔

سورۂ ممتحنہ كي پہلي آيت ميں بھي صريحاً اغيار سے دوستانہ روابط برقرار كرنے كي ممانعت كي گئي ھے۔

(يا ايھا الذين آمنوا لاتتخذوا عدوي و عدوكم اولياء تلقون اليھم بالمودة وقد كفروا بما جاءكم من الحق)

اےايمان والو خبردار ميرے اور اپنے دشمنوں كو دوست مت بنانا، كہ تم ان كي طرف دوستي كي پيش كش كروجب كہ انھوں نے اس حق كا انكار كيا ھے، جو تمھارے پاس آچكا ھے۔

اس بنا پر تمام وہ افراد، جو دين اسلام اور اس كي شائستگي كے معتقد نھيں ھيں ان كا شمار اغيار وبيگانے ميں ھوتا ھے، لھذا ان سے دوستي و نشست و برخاست كو منع كيا گيا ھے، قرآن مجيد نے اغيار سے، خصوصاً جو اسلاميمقدسات كي بے حرمتي كرتے ھيں،فكري و ثقافتي قربت كو خسران و نقصان سے تعبير كيا ھے، كيونكہ رفت و آمد و دوستي كے اثرات انسان پرضرور مرتب ھوتے ھيں اور اسي كے مثل بنا ديتے ھيں۔

(وقد نزّل عليكم في الكتابان اذا سمعتم آيات اللہ يكفر بھا و يستھز ٔبھا فلا تقعدوا معھم حتي يخوضوا في حديث غيرہ انكم اذامثلھم)۲۰

اوراللہ نے كتاب ميں يہ بات نازل كردي ھے كہ جب آيات الھي كے بارے ميں يہ سنو كہ ان كا انكار اوراستھزا ھورھا ھے تو خبردار ان كے ساتھ نشست و برخاست نہ كرو جب تك وہ دوسري باتوں ميں مصروف نہ ھوجائيں ورنہ تمانھيں كے مثل ھوجاؤ گے۔

بيانشدہ اصل سوم كا مفھوم يہ نھيں كہ ديگر مذاھب كے پيروكاروں كے ساتھ مسالمت آميز زندگي كي نفيكي جائے يا ان كے انساني حقوق كو ضائع كيا جائے غير اسلامي حكومتوں سے رابطہ نہ ركھا جائے۲۱

مزید  عید سعید فطر کرونا کی وبا اور ہم

بلكہ اصل سوم كا مفھوم يہ ھے كہ مسلمان دشمن سے دوستانہ وصميمي روابط سے پرھيز كريں اغيار كي اطاعتو اثر پذيري سے دور رھيں، ان كو فكري و سياسى اعتبار سے غير ھي سمجھيں، قرآن اغيار پرستى سے مبارزہ اور برائت كےسلسلہ ميں حضرت ابراھيم عليہالسلام اور آپ كے مقلدين كي سيرت كو بطور نمونہ پيش كر رھا ھے آپ اور آپ كے اصحاب اپني ھي قوم كي بتپرستي كو مشاھدہ كرنے كے بعد، باوجوديكہ ان كے قرابتدار بھي اس ميں شريك تھے ان كے افعال سے برائت كرتے ھيں۔

(قد كانت لكم اسوةحسنۃ في ابراھيم و الذين معہ اذ قالوا لقومھم انّا برآؤا منكم و مما تعبدون من دون اللہ كفرنا بكم و بدابيننا وبينكم العداوة و البغضاءابدا حتّي تؤمنوا باللہ وحدہ؛) ۲۲

تمھارےلئے بھترين نمونہ عمل ابراھيم اور ان كے ساتھيوں ميں ھے، جب انھوں نے اپني قوم سے كہديا ھم تم سے اور تمھارے معبودوںسے بيزار ھيں ھم نے تمھارا انكاركرديا ھے اور ھمارے تمھارے درميان بغض اور عداوت بالكل واضح ھے يھاں تك كہ تم خدائے وحدہ لاشريك پر ايمانلے آؤ۔

اصل چھارم: غير حربي اغيار سے صلح آميز روابط ركھنا

اسلام كے سياسى نظريہ و اصول ميں اغيار و بيگانے كي دو قسم ھيں۔

1۔ حربى: وہ افراد اور حكومت جو اسلامي حكومت اور نظام سے برسر پيكار ھيں اور مدام سازشيں و خيانتيں كرتے رھتے ھيں۔

2۔ غير حربى: وہ كفار جو اپنے دين و مذھب پر عمل كرتے ھوئے اسلامي سر زمين پر اسلامي قانون كے تحت اسلامي حكومت كو جزيہ ديتے ھوئے زندگي گزارتے ھيں، يا وہ ممالك جو اسلامي حكومت سے پيمان صلح يا اس كے مثل عھد و پيمان ركھتے ھيں، اور اس عھد كے پابند بھي ھيں۔اگرچہ دونوں ھي دستہ كا فكري و ثقافتي اعتبار سے اغيار ميں شمار ھوتا ھے اور اصل سوم ميں شموليت ركھتے ھيں ليكن ان سے معاشرتي و سماجي رفتار و سلوك ميں فرق ھونا چاھئے۔

قرآن كريم ان سے رفتار و برتاؤ كي نوعيت كو بيان كر رھا ھے۔

(لا ينھا كم اللہ عن الذين لم يقاتلوكم في الدين ولم يخرجوكم من دياركم ان تبرّوھم و تقسطوا اليھم ان اللہ يحسب المقسطين انما ينھا كم اللہ عن الذين قاتلوكم في الدين و اخرجوكم من دياركم و ظاھرو اعلي اخراجكم ان تولّوھم و من يتولّھم فاولئك ھم الظالمون) ۲۳

خدا تمھيں ان لوگوں كے بارے ميں جنھوں نے تم سے دين كے معاملہ ميں جنگ نھيں كي ھے اور تمھيں وطن سے نھيں نكالا ھے اس بات سے نھيں روكتا ھے كہ تم ان كے ساتھ نيكي اور انصاف كرو كہ خدا انصاف كرنے والوں كو دوست ركھتا ھے وہ تمھيں صرف ان لوگوں سے روكتا ھے جنھوں نے تم سے دين ميں جنگ كي ھے، اور تمھيں وطن سے نكال باھر كيا ھے اور تمھارے نكالنے پر دشمن كي مدد كي ھے كہ ان سے دوستي كرو اور جو ان سے دوستي كرے گا وہ يقيناً ظالم ھوگا۔

آيت مذكورہ سے استفادہ ھوتا ھے كہ وہ افراد يا حكومتيں جو مومنين كے حق ميں ظالمانہ رويہ اپناتي ھيں نيز اسلام اور مسلمانوں كے خلاف نا شائستہ عمل انجام ديتي ھيں اور اسلام كے دشمنوں كي مساعدت كرتي ھيں، اھل اسلام كے وظائف كا تقاضا يہ ھے كہ ان سے سخت و تند رفتار كا مظاھرہ كريں، ان سے ھر قسم كے سماجي و معاشرتي رابطہ كو منقطع كرديں، ليكن وہ افراد جو بے طرف رھے ھيں مسلمانوں كے خلاف سازش ميں ملوث نھيں رھے ھيں ان كے حقوق كي رعايت اور اسلامي حوكمت كي حمايت حاصل ھونا چاھئے، ان پر ظلم و تعدي شديد ممنوع ھے۔

پيامبر عظيم الشان (ص) فرماتے ھيں:

((من ظلم معاھداً و تخلّف فوق طاقتہ فانا حجيجہ)) ۲۴

جو شخص بھي معاھدہ پر ظلم كرے گا ميں روز قيامت اس سے باز پرس كروں گا۔

معاہد سے مراد وہ يھودي و نصراني ھيں جو جزيہ ديتے ھوئے اسلامي حكومت كے زير سايہ زندگي بسر كرتے ھيں، اسلامي فقہ ميں اغيار سے روابط كے تمام حقوقي جوانب توجّہ كے قابل ھيں، اگر اغيار و بيگانے سياسى و فكري اعتبار سے مسالمت آميز زندگي كي رعايت كريں مسلمانوں كے حقوق كا احترام كريں تو وہ اپنے تمام بنيادي اور جمھوري حقوق سے فيضياب ھوسكتے ھيں كسي كو ان سے مزاحمت كا حق نھيں، ذيل كا واقعہ اسلامي نظام اور حكومت ميں اغيار غير حربي كے بنيادي حقوق كي رعايت كا آشكار نمونہ ھے۔

امير المؤمنين حضرت علي عليہ السلام نے ايك نابينا بوڑھے آدمي كو ديكھا جو گدائي كر رھا تھا جب مولا نے اس كے احوال دريافت كئے تو معلوم ھوا وہ نصراني ھے علي عليہ السلام رنجيدہ خاطر ھوے، فرمايا: وہ تمہارے درميان ميں تھا اس سے كام ليا گيا، ليكن جب وہ بوڑھا ھوگيا تو اس كے حال پر چھوڑ ديا گيا، آپ نے اس كے مخارج بيت المال سے اداء كرنے كا حكم ديا ۲۵

منافقين كا اغيار سے ارتباط اور ان كا طرز عمل

گزشتہ بحث ميں اغيار سے روابط اور اسلام كے كلي و جامع اصول پيش كئے جاچكے ھيں، اب اغيار كے سلسہ ميں منافقين كي روش اور طرز عمل كا مختصر تجزيہ پيش كيا جارھا ھے۔

قرآن كريم سے استفادہ ھوتا ھے كہ منافقين تمام دوستي و محبت اغيار اور بيگانوں پر نچھاور كرتے ھيں، يہ مسلمانوں كے ساتھ شرارت و خباثت سے پيش آتے ھيں، مومنين كو حقارت و ذلت كي نگاہ سے ديكھتے ھيں، تمسخر و نكتہ چيني ان كا مشغلہ ھے ان كي تمام سعي و كوشش اور جد و جھد يہ ھوتي ھے كہ اغيار سے قريب تر ھوجائيں اغيار سے صميميت و اخلاص اور دوستانہ رفتار و گفتار كے حامي ھيں۔

(الم تر الي الذين تولّوا قوما غضب اللہ عليھم ما ھم منكم ولا منھم و يحلفون علي الكذب وھم يعلمون) ۲۶

كيا تم نے ان لوگوں كو نھيں ديكھا ھے جنھوں نے اس قوم سے دوستي كرلي ھے جس پر خدا نے عذاب نازل كيا ھے كہ يہ نہ تم ميں سے ھيں اور نہ ان ميں سے ھيں اور يہ جھوٹي قسميں كھاتے ھيں اور خود بھي اپنے جھوٹ سے باخبر ھيں۔

منافقين كے بيگانوں سے ارتباط كے جلووں ميں سے، مشترك كانفرنس كا انجام دينا، ان سے ھم آواز وھم نشين ھونا ھے، قرآن صريح الفاظ ميں كفار اور الھي دستور و آئين كا استھزا كرنے والوں كے ساتھ ھم نشيني كو منع كرتا ھے۔

(واذا رأيت الذين يخوضون في آياتنا فاعرض عنھم حتي يخوضوا في حديث غيرہ) ۲۷

اور جب تم ديكھو كہ لوگ ھماري آيات كا استھزا و تمسخر كر رھے ھيں تو ان سے كنارہ كش ھوجاؤ يہاں تك كہ وہ دوسري باتوں ميں مصروف ھوجائيں۔

ليكن قرآن كے صريح دستور و حكم كے باوجود منافقين، مخفي طريقہ سے اغيار كے جلسات و نشست ميں شريك ھوا كرتے تھے لھذا سورہ نساء كي آيت نمبر 140 منافقين كو اس رفتار و طرز عمل پر سرزنش و توبيخ كر رھي ھے۔

منافقين كے اجنبي و غير پرستي كے مظاھر ميں سے ايك، ان كے لئے مطيع و فرمان بردار ھونا ھے سورۂ آل عمران كي آيت نمبر 149 منافقين كي اسي روش كو بيان كر رھي ھے اگر تم كفار كے مطيع و دوست ھوگے جيسا كہ بعض منافقين كا يہ طرز عمل ھے تو قديم و جاھلي اطوار كي طرف پلٹا ديئے جاؤ گے،

(يا ايھا الذين آمنوا ان تطيعوا الذين كفروا يردوكم علي اعقابكم) ۲۸

اے ايمان لانے والو اگر تم كفر اختيار كرنے والوں كي اطاعت كرو گے تو يہ تمھيں گزشتہ طرز زندگي و عمل كي طرف پلٹالے جائيں گے۔

دشمنوں كي جماعت ميں مدام مومنين سے عداوت و دشمني ركھنے والے بعض يھودي ھيں خدا نے قرآن مجيد ميں دشمنوں كے عمومي و كلي اوصاف كو بيان كيا ھے ليكن اس عموميت كے باوجود بعض دشمنوں كے اوصاف كے ساتھ ان كے نام كا بھي ذكر كيا ھے كہ جس ميں يھودي سر فھرست ھيں۔

ھم جب عصر پيامبر عظيم الشان كے منافقين كي تاريخ كي تحقيق كرتے ھيں تو منافقين كے روابط كے شواھد يھودي كے تينوں گروہ بني قينقاع، بني نظير، بني قريظہ ميں پائے جاتے ھيں۔

اغيار سے منافقين كے روابط كا فلسفہ

وہ اھم نكتہ جس كي اس فصل ميں تحقيق ھوني چاھئے يہ كہ اغيار سے منافقين كے ارتباط كي حكمت كا پس منظر كيا ھے، وہ كن مضمرات كي بنا پر اس سياست كے پجاري ھيں، قرآن مجيد منافقين كے اغيار سے روابط كي ريشہ يابي كرتے ھوئے دو وجہ كو بيان كر رھا ھے:

1۔ تحصيل عزت

منافقين اپنے اس رويہ و طرز عمل كے ذريعہ محبوبيت و شھرت، عزت و منصب كے طلب گار ھيں، منافقين اغيار كے زير سايہ خواھشات نفساني كي تكميل كے آرزو مند ھيں، شرك كا آشكار ترين جلوہ، وقار و عزت كو كسب كرنے كے لئے غير (خدا) سے تمسك كرنا ھے۔

(و اتّخذوا من دون اللہ الھۃً ليكونوا لھم عزّا) ۲۹

اور ان لوگوں نے خدا كو چھوڑ كر دوسرے خدا اختيار كر لئے ھيں تاكہ وہ ان كے لئے باعث عزت رھے (كيا خيام خيالي ھے!) ۔

اسي طريقہ سے منافقين جو باطن ميں مشرك ھيں، اغيار سے وابستگي و تعلقات كے ذريعہ عزت و آبرو كسب كرنا چاھتے ھيں۔

(الذين يتّخذون الكافرون اولياء من دون المؤمنين أيبتغون عندھم العزة فان العزّة للہ جميعا)۳۰

جو لوگ مومنين كو چھوڑ كر كفار كو ولي و سرپرست بناتے ھيں، كيا يہ ان كے پاس عزت تلاش كر رھے ھيں جب كہ ساري عزت صرف اللہ كے لئے ھے۔

خداوند تبارك و تعالي نے عزت كو اپنے لئے مخصوص كر ركھا ھے، پيامبر عظيم المرتبت (ص) اور صاحبان ايمان كي عزت كا سر چشمہ عزت الھي ھے، منافقين عدم ايمان كي بنا پر اس كو درك كرنے سے قاصر ھيں۔

(وللہ العزّة و لرسولہ و للمؤمنين ولكن المنافقين لا يعلمون) ۳۱

ساري عزت اللہ، رسول، اور صاحبان ايمان كے لئے ھي ھے اور منافقين يہ جانتے بھي نھيں ھيں۔

مزید  گروہ قاسطین (منکرین حق)

قرآن كريم فقط اللہ تعالي كے وجود اقدس اور جھان كے حقيقي صاحب عزت (محبوب) سے تمسك كو عزت و عظمت كا سر چشمہ جانتا ھے۔

(من كان يريد العزّۃ فللّٰہ العزّۃ جميعا) ۳۲

جو شخص بھي عزت كا طلب گار ھے وہ يہ سمجھ لے كہ عزت سب پروردگار كے لئے ھے۔

اسي ذيل كي آيت ميں پيامبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے نقل كيا گيا ھے كہ تحصيل عزت كا واحد راستہ خدا كي اطاعت و فرمان برداري ھے۔

((ان اللہ يقول كلّ يوم انا ربّكم العزيز فمن اراد عزّ الدارين فليطع العزيز)) ۳۳

خداوند عالم ھر روز اعلان كرتا ھے كہ ميں تمھارا عزت دار پروردگار ھوں جو شخص بھي آخرت و دنيا كي عزت كا خواھش مند ھے اسے چاھئے كہ حقيقي صاحب عزت كا مطيع و فرمانبردار ھو۔

شايد كوئي فرد خدا كي اطاعت كئے بغير كسي اور طريقہ سے عزت كا حصول كر لے، ليكن يہ عزت وقتي و كھوكھلي ھوتي ھے يھي عزت اس كے لئے ذلت كا سبب بن جاتي ھے۔

امير المومنين حضرت علي عليہ السلام فرماتے ھيں:

((من اعتز بغير اللہ اھلكہ العز)) ۳۴

جو شخص غير خدا سے عزت يافتہ ھے وہ عزت اس كو تباہ كردے گي۔

((العزيز بغير اللہ ذليل)) ۳۵

وہ عزت جو غير خدا كے ذريعہ حاصل ھوتي ھے ذلت ميں تبديل ھوجايا كرتي ھے۔

قرآن كي نظر ميں وہ عزت جو خدا كي طرف سے عطا نہ ھو وہ تار عنكبوت كے مانند ھے جس كا شمار غير مستحكم ترين گھروں ميں ھوتا ھے۔

(مثل الذين اتّخذوا من دون اللہ أولياء كمثل العنكبوت اتّخذت بيتاً و اِنّ اوھن البيوت لبيت العنكبوت لو كانوا يعلمون) ۳۶

اور جن لوگوں نے خدا كو چھوڑ كر دوسرے سرپرست بنالئے ھيں ان كي مثال مكڑي جيسي ھے كہ اس نے گھر تو بنا ليا ليكن سب سے كمزور گھر مكڑي كا ھوتا ھے اگر ان لوگوں كے پاس علم و ادراك ھو (تو سمجھيں) ۔

يہ آيت منافقين كي وضعيت كو سليس و دلربا مفھوم، خوش گفتار تشبيہ، دقيق مثال كے ذريعہ ترسيم كر رھي ھے۔

عنكبوت كے آشيانے بھت ھي نازك تار كے ذريعہ بنے ھوتے ھيں، نہ ديوار ھوتي ھے نہ چھت، دروازے اور صحن كي بات ھي الگ ھے اس كے ميٹيريل اتنے كمزور ھوتے ھيں كہ كسي حادثہ كا مقابلہ كر ھي نھيں سكتے، بارش كے چند قطرےاس كو تباہ و برباد، آگ كے ھلكے شعلے اسے خاكستر، گرد و غبار كے خفيف جھٹكے اس اس كو صفحہ ھستي سے محو كرنے كے لئے كافي ھے كسي بھي مسئلہ ميں غير كدا پر اعتماد و اعتبار خصوصاً عزت و آبرو كسب كرنے كے ليے، يقيناً اسي نوعيت كے ھيں، بي ثبات و ناتواں، ناقابل بھروسہ، حوادث كے مقابلہ ميں غير مستحكم، غير خدا جو بھي اور جيسا بھي ھو عزت وعظمت كا حامل ھے ھي نھيں كہ عزت بخشش و نچھاور كرسكے۔

اگر ھزاروں مكر و فريب كے بعد ظاھري طاقت و قوت حاصل كر بھي لى، اور كسي شخص كو عزت و مقام دے كر قابل عزت بنا بھي ديا تو بھي يہ (عزت) قابل اعتماد نھيں ھوسكتي اس لئے كہ جس وقت بھي ان كے منافع اقتضا كريں گے وہ بے درنگ اپنے صميمي اتحادي گروہ كو ترك كرديں گے اور توانائي و قدرت حاصل ھونے كي صورت ميں وہ تمھيں خاك ذلت پر بيٹھا ديں گے۔

2۔ رعب وحشت

منافقين كا اغيار سے پيوستہ دوستانہ روابط كا ھونا، ان سے وحشت زدہ ھونے كي علامت ھے، ان كے خيال خام ميں يہ آئندہ اوضاع و احوال پر مسلّط نہ ھوجائيں، اس لئے ان سے خائف رھتے ھيں، يہ اس بنا پر بيگانوں سے دوستانہ روابط برقرار ركھتے ھيں كہ اگر ايك روز حكومت و طاقت ان كے ھاتھوں ميں آجائے تو اپني عزيز دنيا كو بچا سكيں، زندگي و حيات كا تحفظ كرسكيں، اسلام كے نظريہ كے مطابق وہ فرد جس كي روح و جان گوھر ايمان سے آراستہ ھوچكي ھے وہ صرف اللہ سے خائف رھتا ھے، غير اللہ سے ذرہ برابر بھي وحشت زدہ نھيں ھوتا، اللہ كي سفارش يہ ھے كہ خوف و خشيت اس كے لئے ھو، اور كسي قدرت و طاقت سے خوفزدہ نہ ھوا جائے يہ فقط ايمان ھي كي بنا پر عملي ھوسكتا ھے۔

قرآن مجيد انبياء عليھم السلام كي تعريف ان صفات كے ذريعہ كر رھا ھے:

(الذين يبلّغون رسالات اللہ و يخشونہ ولا يخشون احدا الا اللہ) ۳۷

وہ لوگ جو اللہ كے پيغام كو پہنچاتے ھيں دل ميں اسي كا خوف ركھتے ھيں اور اللہ كے علاوہ كسي سے نھيں ڈرتے۔

پيغمبران الھي اور حقيقي صاحبان ايمان صرف يہي نھيں كہ غير اللہ كي قدرت و طاقت سے ھراساں نھيں ھوتے، بلكہ جس قدر ان كو خوفزدہ اور ھراساں كيا جاتا ھے اسي اعتبار سے ان كا ايمان و اعتماد خدا كي طاقت و قدرت پر زيادہ ھي ھوتا جاتا ھے۔

(الذين قال لھم الناس ان الناس قد جمعوا لكم فاخشوھم فزادھم ايمانا و قالوا حسبنا اللہ ونعم الوكيل) ۳۸

يہ وہ ايمان والے ھيں كہ جب ان سے بعض لوگوں نے كھا كہ لوگوں نے تمھارے لئے عظيم لشكر جمع كرليا ھے لھذا ان سے ڈرو تو ان كے ايمان ميں اور اضافہ ھوگيا۔ اور انھوں نے كھا كہ ھمارے لئے خدا كافي ھے اور وھي ھمارا ذمہ دار ھے۔

مذكورہ آيت ميں زيادي ايمان اور خدا پر توكل، نيز خوف الھي اور دلوں ميں اس كي عظمت ايك فطري امر ھے۔

افراد جس قدر خدا كي عظمت، قدرت، شوكت، كو زيادہ سے زيادہ درك كريں اور خالص وحدانيت سے نزديك تر ھوں، تمام قدرت و اقتدار ان كي نظروں ميں پست سے پست نظر آئيں گے۔

امير المومنين حضرت علي عليہ السلام متقين كے صفات كے سلسلہ ميں فرماتے ھيں:

((عظم الخائق في انفسھم فصغر ما دونہ في اعينھم)) ۳۹

خالق ان كي نگاہ ميں اس قدر عظيم ھے كہ ساري دنيا نگاھوں سے گر گئي ھے۔

اگر انسان خدا سے ويسے ھي خائف رھے جيسا كہ خائف ھونے كا حق ھے اور محبت خدا سے اس كا قلب لبريز ھو تو سب كے سب اس كي عظمت كے معترف اور محبت كے قائل ھوجائيں گے ليكن اگر حريم پروردگار كہ جس كے لئے شائستہ و سزاوار ھے، رعايت نہ كى، تو ھر شي سے وہ خوف زدہ و مقھور رھتا ھے، مجاھدين راہ حقيقت و ھدايت كي صلابت و استقامت نيز راہ حق و ھدايت سے منحرفين كي دائمي تشويش اور اضطراب كا راز يہي ھے۔

حضرت امام صادق عليہ السلام فرماتے ھيں:

((من خاف اللہ اخاف اللہ منہ كل شيء ومن لم يخف اللہ اخافہ اللہ من كل شيء))۴۰

جو خدا سے خائف ھوتا ھے خدا ھر شي سے اس كے خوف كو ختم كر ديتا ھے اور جو خدا سے خائف نھيں ھوتا خدا اس كو ھر شي سے مرعوب كر ديتا ھے۔

وہ منافقين جو ادنيٰ درجہ كے ايمان سے خالي ھيں اور توحيد كے معاني درك كرنے سے قاصر، مادہ پرست طاقتوں كي وحشت و ھيبت اس قدر ان كے افكار پر طاري ھے كہ ان سے ايجاد روابط كے لئے كوشاں ھيں كہ آئندہ كھيں يہ تسلط پيدا نہ كرليں۔

(فتري الذين في قلوبھم مرض يسارعون فيھم يقولون نخشي ان تصيبنا دائرة فعصي اللہ ان يأتي بالفتح أو أمر من عندہ فيصبحوا علي ما اسروا في انفسھم نادمين) ۴۱

پيامبر!آپ ديكھيں گے كہ جن كے دلوں ميں نفاق كي بيماري ھے وہ دوڑ دوڑ كر ان كي طرف (يھود و نصاريٰ) جا رھے ھيں اور يہ عذر بيان كرتے ھيں كہ ھميں گردش زمانہ كا خوف ھے پس عنقريب خدا اپني طرف سے فتح يا كوئي دوسرا امر لے آئے گا تو اپنے دل كے چھپائے ھوئے راز پر پشيمان ھوجائيں گے۔

بيگانوں و اغيار سے منافقين كے ايجاد روابط كا فلسفہ يہ ھے كہ اگر آئندہ اغيار مسلمانوں پر غالب ھوجائيں تو اپنے مخفي ارتباط كے صلہ ميں حيات اور اموال كا تحفظ كرسكيں، قرآن مجيد منافقين كے اس طرز فكر و منطق كا جواب مذكورہ آيت سے دے رھا ھے، قضيہ كے اس پھلو كي طرف بھي توجہ كرني چاھئے كہ اگر مسلمانوں كو فتح و كامراني ملي تو يہ صاحب قدرت و سطوت ھوں گے اس صورت ميں تمھارا كيا حال ھوگا؟ يقيناً اھل اسلام فاتح و كامياب ھوں گے اور تم (منافقين) اپني زشت حركات اور غلط افعال كي وجہ سے پشيمان و شرمندہ ھوگے۔

 

حواشی

۱ سورہ نساء/ 89۔

۲ سورہ بقرہ/ 217۔

۳ سورہ آل عمران/ 149۔

۴ سورہ بقرہ/ 109۔

۵ سورہ قلم/ 9۔

۶ نھج البلاغہ، خطبہ200۔

۷ سورہ مائدہ/ 49۔

۸ سورہ اسراء/ 73/ 74۔

۹ سورہ بقرہ/ 105۔

۱۰ سورہ آل عمران/ 120۔

۱۱ سورہ آل عمران/ 118 و /119۔

۱۲ سورہ نساء/ 102۔

۱۳ نھج البلاغہ، نامہ/ 53۔

۱۴ سورہ توبہ/ 8۔

۱۵ سورہ بقرہ/ 217۔

۱۶ سورہ مائدہ/ 13۔

۱۷ سورہ انفال/ 60۔

۱۸ سورہ نساء/ 71، بعض مفسرين نے كلمہ حذر كو اسلحہ سے تفسير كي ھے حالانكہ حذر كے معني وسيع ھيں وسائل جنگ سے مختص نھيں نساء كي آيت 102 حذر و اسلحہ كے تفاوت كو پيش كر رھي ھے اس آيت ميں دونوں لفظ كا استعمال ھوا ھے اور يہ تعدد معنا كي علامت ھے، (ان تصنعوا اسلحتكم و خذو احذركم) ۔

۱۹ سورہ مائدہ/ 57، 58۔

۲۰ سورہ نساء/140۔

۲۱ اس سلسلہ ميں بحث اصل چھارم ميں پيش كي جائے گي۔

۲۲ سورہ ممتحنہ/ 4۔

۲۳ سورہ ممتحنہ/ 8، 9۔

۲۴ فتوح البلدان، ص67۔

۲۵ وسائل الشيعہ، ج11، ص49۔

۲۶. سورہ مجادلہ/14۔

۲۷ سورہ انعام/ 68۔

۲۸ سورہ آل عمران/ 149۔

۲۹سورہ مريم/ 81۔

۳۰سورہ نساء/ 139۔

۳۱ سورہ منافقون/8۔

۳۲ سورہ فاطر/ 10۔

۳۳ الدرالمنصور، ص2، ص717۔

۳۴ ميزان الحكمہ، ج6، ص298۔

۳۵ بحار الانوار، ج78، ص10۔

۳۶ سورہ عنكبوت/ 41۔

۳۷ سورہ احزاب/ 39۔

۳۸ سورہ آل عمران/ 173۔

۳۹ نھج البلاغہ، خطبہ193۔

۴۰ اصول كافى، ج2، ص68۔

۴۱ سورہ مائدہ/ 52۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.