مقصد قرآن۔قرآن کی نگاہ میں

0 3

شب قدر نزول قرآن کی مناسبت سے

امام خمینی ؒ نے اپنی کتاب چہل حدیث میں تحریر فرمایا ہے کہ خداوند عالم نے انسانوں کی اصلاح کی غرض سے انبیاءمبعوث فرمائے تاکہ یہ انبیاءانسانوں کی ہدایت کریں اور تمام آسمانی کتابیں جو نازل ہوئیں ان کی غرض بھی انسانوں کی اصلاح ، درستگی اور ہدایت ہے ۔ لہٰذا قرآن مجید بھی اسی لیے نازل ہوا تاکہ لوگ اسے سمجھیں اور ہدایت حاصل کریں ۔لہٰذا خود قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے اس طرح قرآن کو آسان بنا کر پیش کیا تاکہ لوگ اس کی باتوں کو یاد کریں تو کوئی ہے ان باتوں کو یاد کرنے والا؟(سورہ قمر،17)

اس قرآن کا ایک اور مقصد یہ بھی ہے کہ قرآن لوگوں کو جہالت سے علم کی جانب لے جائے، پستی سے بلندی کی جانب اور مادیت کی تاریکیوں سے معرفت خدا کے نور کی جانب لے جائے۔

قرآن کا ایک اور مقصد لوگوں کی عقلوں اور دلوں سے دنیا داری کے زنگ کو ہٹانا ہے تاکہ لوگوں کو ہدایت ملے۔ ”یہ مبارک کتاب ہم نے آپ کی جانب نازل کی تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور و فکر (تدبر) کریں اور عقل والے اس کو سمجھیں۔“ (سورہ ص:29)

قرآن کا مقصد چونکہ لوگوں کی ہدایت ہے یہ صرف پڑھنے اور صرف فر فر پڑھنے کے لئے نازل نہیں ہوئی ہے بلکہ قرآن تو خود قرآن پڑھنے والوں سے سوال کرتاہے کہ:

”کیا حکم کرتے ہو لوگوں کو نیک کام کا اور اپنے نفسوں کو بھول جاتے ہو اور تم کتاب پڑھتے ہو مگراس کی آیات میں عقل استعمال نہیںکرتے ہو؟“(سورہ بقرہ:44)

چونکہ قرآن قیامت تک تمام انسانوں کی ہدایت کے لئے نازل ہوا ہے لہٰذا یہ دنیاوی زندگی میں بھی رہنما ہے اور قیامت تک سعادت و خوش بختی کا باعث بھی لہٰذا اس کی بتائی ہوئی راہ ہمیشہ ہمیشہ قائم رہنے والی ہے۔

مزید  مھدویت کے لئے ضرر رساں چیزوں کی پهچان

حضرت علی ؑ نہج البلاغہ کے ایک خطبے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ:” یاد رکھو قرآن ایسا نصیحت کرنے والا ہے جو فریب (دھوکا) نہیں دیتا ہے اور ایسا بیان کرنے والا ہے جو جھوٹ نہیں بولتا ہے ۔ جو بھی اس قرآن کا ساتھی ہوا۔ قرآن ہدایت کو بڑھا کر اور ضلالت و گمراہی کو گھٹا کر اس سے الگ ہوا جان لو کہ قرآن کی تعلیم کے بعد کسی اور لائحہ عمل کی ضرورت نہیں رہ جاتی اور نہ کوئی قرآن سے پہلے کچھ سیکھنے سے پہلے بے نیاز ہو سکتا ہے۔ اس قرآن سے اپنی (روحانی) بیماریوں کی شفاءچاہو اور اپنی مصیبتوں پر اس سے مدد مانگو۔ اس میں کفر و نفاق اور ضلالت گمراہی جیسی بڑی بڑی (نفس کی) بیماریوں کی شفاءپائی جاتی ہے۔ قرآن کے وسیلے سے اللہ سے مانگو اور اس کی دوستی کو لئے ہوئے اللہ کا رخ کرو اور اسے لوگوں سے مانگنے کا ذریعہ نہ بناﺅ۔ یقینا بندوں کے لئے اللہ کی طرف متوجہ ہونے کا اس جیسا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن ایسی شفاعت کرنے والا ہے جس کی شفاعت مقبول اور ایسا کام کرنے والا ہے جس کی ہر بات تصدیق شدہ ہے۔ روز قیامت قرآن جس کی شفاعت کرے گا تو شفاعت اس کے حق میں مانی جائے گی اور روز قیامت قرآن جس کے عیوب بتائے گا تو اس کے بارے میں بھی اس کے قول کی تصدیق کی جائے گی۔

قیامت کے دن ایک صدا دینے والا پکار کر یہ کہے گا کہ قرآن کی کھیتی بونے والے اپنی کھیتی اور اپنے اعمال کے نتیجے میں مبتلا ہے لہٰذا تم اس قرآن کی کھیتی بونے والا اور اس کے پیروکار بنو اپنے پروردگار تک پہنچنے کے لئے اسے دلیل بناﺅ اور اپنے نفسوں کے لئے اس سے پندونصیحت چاہو۔“

مزید  اخلاقِ حسینی کے چند پہلو

مولا علی ؑ فرماتے ہیں:” قرآن ایسی عزت و سربلندی ہے کہ اس کے حامیوں کو ناکامی نہیں ہوگی۔ ایسا حق ہے جس کے حق دار ذلیل نہیں ہوں گے۔“

اس سے مراد یہ ہے کہ قرآن دنیا و آخرت میں انسان کی کامیابی کے لئے نازل ہوا ہے تاکہ انسان اس دنیا میں بھی ہدایت یافتہ اور کامیاب ہوا ور آخرت میں بھی کامیاب و خوش و خرم ہو جو قرآن کی باتوں کو سمجھے گا، ان میں غور و فکر کرے گا اور عمل پیرا ہوگا ، سربلند ہوگا۔مکہ کے کافروں اور جاہلوں کے سامنے رسول اللہ قرآن کی تلاوت کرتے تھے۔قرآن کا ان کے دلوں پر اتنا اثر ہوا کہ ایک جنگ میں تین سو تیرہ(313) مجاہد تھے کہ جن میں 2یا3گھوڑے تھے اور چند تلواریں باقی سب پیدل اور خالی ہاتھ تھے مگر ان کے دل بدل گئے تھے۔ قرآن کی معرفت اور اس کے ترجمے کا اثر ان کے دلوں میں تھا کہ انہوں نے وہ جنگ جیتی بلکہ 10سال ، رسول اللہ کی رہبری و قیادت میں 80لڑائیاں لڑیں اور تمام عرب اور غیر عرب ممالک پر ان مسلمانوں کی ہیبت بیٹھ گئی تھی۔

اسلام کے پھیلنے کے بعد جو اسلامی ممالک بڑی طاقتوں کے ساتھ مل گئے یا ان پر دشمنانِ اسلام کا قبضہ ہوا۔ آج وہ تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں تو اس کا سبب یہی ہے کہ انہوں نے قرآن و اسلام کو چھوڑ دیا ہے ۔ قرآن کے ترجمے کو قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کی باتوں کو اپنے درمیان سے نکال دیا ہے۔ حکومت اسلامی جو قرآن کا ایک زبردست مقصد ہے اس کو قرآن سے دور کردیا۔ قرآن کو مردوں اور قبروں پر پڑھنے کے لئے ، رنگین جزدانوں اور گلاف دانوں میں رکھ دیا۔ قرآن کو صرف ثواب کا ذریعہ بتایا اور اس سے انسان کو ہدایت کا جملہ سرے ہی سے نکال دیا۔ مگر ہم کسی طرح شکریہ ادا کرے اپنے رحیم خدا کا کہ اس کی رحمت حضرت امام خمینی ؒ کی شکل میں نمودار ہوئی اور انہوں نے ایران اور تمام مسلمانوں کو گمراہی سے نکالنے اور ہدایت کی جانب لانے کے لئے قیام کیا۔ جدوجہد کی ، تکالیف برداشت کی ، قرآن کے ترجمے کو واپس معاشرے میں لائے قرآن کو قبرستانوں اور مردوں کی ایصال ثواب کی مجالس سے واپس لاکر انسانوں تک گھر گھر اور دل دل تک پہنچایا کہ اس قران کا مقصد سمجھنا ہے، ہدایت حاصل کرنا ہے، حکومت اسلامی قائم کرنا ہے اور ہم نے دیکھا کہ امام خمینی ؒ،ان کے شاگرد اور ان کے ساتھی قرآن کے حامی بنے، اللہ کے حامی بنے اور انہوں نے وہ زبردست کامیابی حاصل کی کہ پوری دنیا پر ایرانِ کی ایک ہیبت بیٹھ گئی اور وہ اسلامی حکومت جو قرآن ، تمام انبیاءؑ اور تمام ائمہ طاہرین ؑ کا مقصد رہا، قائم کی کہ دشمنانِ اسلام امریکہ، روس ، اسرائیل اور دیگر منافقین اسلام کے تمام منصوبے ، تمام پلان، تمام مقاصد اور ان کے مسلمانوں کے خلاف تمام ناپاک ارادے ٹوٹ گئے اور یہ سب پوری دنیا میں ذلیل ہوئے اور عزت و سربلندی اسے حاصل ہوئی جس نے قرآن کے قوانین پر عمل کیا۔ اس کے ذریعے سے اسلامی حکومت برپا کی، قرآن کو سمجھا، ہدایت پائی اور مردوں سے قرآن کو نکال کر انسانوں میں لابسایا۔ لہٰذا اگر ہم بھی قرآن کو سمجھ کر پڑھیں، ترجمہ پڑھیں، اس میں غوروفکر کریں اور اس کے ذریعے سے اپنے دل کا زنگ صاف کریں اور معاشرے کی اصلاح کریں تو مولا علی ؑ کے قول کے مطابق نہ ہم کبھی ذلیل ہوں گے اور نہ ناکام ۔

مزید  ماہ رجب کی اہم مناسبتیں

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.