معصومین كی نظر میں نامطلوب دوست

0 0

ہم نے كتابِ خدا اور سنتِ نبوی كے ذریعے نامطلوب اور نامناسب دوستوں كے بارے میں معلومات حاصل كیں آیۓ اب اسی طرح اس بارے میں اہلِ بیت كے كلام سے رجوع كرتے ہیں۔وہ كون لوگ ہیں جنہیں دوست نہیں بنانا چاہۓ؟اس بارے میں حضرت امام علی فرماتے ہیں:صُحبَةُ الاَشرَارِ تَكسِبُ الشَّرّ برے لوگوں كی دوستی سے برائ ہی حاصل ہوتی ہے جی ہاں حقیقت بھی یہی ہے كہ اگر آپ كے دوست برے اور بدكار لوگ ہوں گے تو آپ ان سے برائ اور بدی ہی حاصل كریں گے ۔ حضرت ں نے مزید فرمایا: كَالرِّیحِ اِذَا مَرَّت بِالنَّتَن حَمَلَت نَتناً باكل اسی طرح جیسے ہوا جب بدبودار چیز پر سے گزرتی ہے تو اس كی بدبو اپنے ہمراہ لے آتی ہے۔ قدرتی طور پر دو دوستوں كے درمیان ایك دوسرے كی طرف باہمی الفت و محبت كی ہوائں چلتی رہتی ہیں اور وہ ان ہوائوں سے متاثر ہوتے ہیں۔حضرت علی ں نے ایك دوسرے مقام پر فرمایا ہے: مُصٰاحِبُ الاَشرَارِكَرَاكِبِ البَحرِ اِن سَلِمَ مِنَ الغَرقِ لَم یَسلِم مِنَ الفَرقِ برے لوگوں كے ساتھ دوستی ایسی ہے جیسے انسان سمندری سفر میں ہو كہ ڈوبنے سے محفوظ رہنے كے باوجود خوف و اضطراب سے محفوظ نہیں رہتا ۔ جی ہاں ممكن ہے سمندری سفر كے دوران اسكی تند و تیز موجیں كشتی كو اپنی لپیٹ میں لے لیں یہاں تك كہ وہ الٹ جاۓ اور اس پر بیٹھنے والے سمندر میں غرق ہو جائں۔ یہ لوگ اگر غرق ہونے سے محفوظ رہیں تب بھی وہ انتہائ خوف و ہراس میں مبتلا ہو جائں گے اور كبھی یہ حالت اس قدر شدت سے ان پر طاری ہو گی كہ مستقبل میں ہمیشہ ہمیشہ كے لۓ ان كی شخضیت اور روح پر اثر انداز رہے گی۔ حضرت امام جواد ں (ہم میں سے بہت كم لوگ ہیں جو حضرت كی فكر اور آپ كی علمی میراث سے آشنا ہوںگے) فرماتے ہیں: اِیّٰاكَ وَمُصٰاحِبَةَ الشَّرِیرِ فَاِنَّہُ كَالسَّیفِ المَسلُولِ یَحسُنُ مَنظَرُہُ وَیَقبَحُ اَثَرُہُ برے انسان كے ساتھ میل جول سے ہمیشہ پرہیز كرو كیونكہ وہ ننگی تلوار كی مانند ہوتا ہے جو دیكھنے میں تو خوبصورت نظر آتی ہے لیكن اسكااثر بہت برا ہوتا ہے۔

تلوار جب برہنہ ہوتی ہے تو چمكتی ہے اورنگاہوں كوخیرہ كرتی ہے لیكن جب گرتی ہے تو قتل وغارت اور خونریزی بپا كرتی ہے۔حضرت امام علیں كی ایك حدیث میں ہے: مَن لاٰیَصحَبُكَ مُعِیناً عَلٰی نَفسِكَ فَصُحبَتُہُ وَبَالٌ عَلَیكَ تمہارے دوستوں میں سے جو بھی تمہارے نفس كے خلاف جد و جہد میں تمہارا مددگار نہ ہو اس كی دوستی تمہارے لۓ وبال اور باعثِ زحمت ہے۔ لہٰذا وہ دوست جو تمہارے اندر كوئ عیب دیكھے او رتمہیں اس سے منع نہ كرے تمہارے اندر انحراف وكج روی كا مشاہدہ كرے اورتمہیں راہِ راست كی طرف لانے كے لۓ كوشش نہ كرے ، تمہیں خطا میں مبتلا پاۓ اور درستگی كے لۓ اقدام نہ كرے تو ایسے دوست كی دوستی سے پرہیز كرو اس لۓ كہ اس كی دوستی بالكل بے سودہے بلكہ ممكن ہے كہ نصیحت كے سلسلے میں اس كا خاموش رہنا كوئ قدم نہ اٹھانا تمہیں انحراف گمراہی اور خطا كے راستے پر باقی ركھے اور یہ چیز تمہارے لۓ باعثِ وبال بن جاۓ گی۔حضرت امام محمد باقرں سے وارد ہوا ہے: مَن لَم تَنتَفِع بِدِینِہِ وَدُنیٰاہُ فَلاٰ خَیرَلَكَ فی مَجٰالِسَتِہِ وَمَن لَم یُوجِب لَكَ فَلاٰ تُوجِب لَہُ وَلاٰكَرَامَةَ جس شخص كے بھی دین یادنیا سے تمہیں كوئ فائدہ حاصل نہ ہو اس كے ساتھ ہم نشینی میں تمہارے لۓ كوئ خیر نہیں ہے اور جوشخص بھی تمہاری (دوستی كے حق كی) رعایت نہیں كرتا تم بھی اسكی رعایت نہ كرو اور نہ ہی (ایسے شخص كی دوستی میں) كوئ عزت ہے۔ در حقیقت یہاں امام یہ كہنا چاہتے ہیں كہ انسانی روابط و تعلقات كا نتیجہ لازماً كسی غیر حرام (حلال) فائدے كی صورت میں نكلنا چاہۓ۔ انسانی زندگی ہے ہی لوگوں كے باہمی مفادات كے تبادلے پر قائم اور یہ كوئ ناپسندہ اور قبیح بات نہیں ہے ۔ كیونكہ انسان كو حق حاصل ہے كہ جس طرح وہ آخرت كے فائدے كے حصول كی جدوجہد مےں مشغول رہتا ہے اسی طرح كسی حرام میں مبتلا ہوۓ بغیر دنےاوی مفاد كے حصول كے لۓ بھی كوشش كرے۔ اور یہی وجہ ہے كہ پروردگارِ عالم نے حبِ ذات كی بالكل ہی نفی نہیں فرمائ ہے بلكہ اس كے لۓ گنجائش ركھی ہے اوراس كی ایك حدمعین اورمخصوص فرمائ ہے كیونكہ حب ذات كی دواقسام ہیں:

كبھی حبِ ذات خود پرستی اور انانیت كو كہاجاتا ہے اس صورت میں انسان پوری دنیا صرف اپنے لۓ چاہتا ہے اپنی ذات كے حصار میں اسیر ہوتا ہے اپنے اردگرد رہنے والے انسانوں سے بے خبر ہوتا ہے دوسروں كی ذمے داری نہیں اٹھاتا او رزندگی كے فلسفے اور اسكی ضروریات سے نا بلد ہوتا ہے۔ اس طرح كی حبِ ذات خود پرستی اورخودخواہی مردود ومنفور ہے اور اسلام مردِ مسلمان سے اس طرح كی كوئ چیز نہیں چاہتا۔ كیونكہ پروردگارِعالم انسان سے چاہتا ہے كہ وہ زندگی كے میدان میں آگے بڑھے زندگی بسر كرے زندگی بخشے بلكہ زندگی كو معنی عطاكرے۔

1۔ قابلِ مذمت حبِ ذات

حضرت امام علی ا بن موسیٰ الرضا ںسے سوال كیا گیا :مَن اَسوَأُ النّٰاسِ مَعَاشاً؟ قٰالَ مَن لَم یَعِش غَیرُہُ فی مَعٰاشِہِ (زندگی او رمعاشرت كے لۓ سب سے بدترشخص كون ہے؟) فرمایا: وہ شخص جس سے دوسرے لوگ اپنی زندگی میں فائدہ نہ اٹھاسكیں ۔ یعنی ایسا شخص جوصرف اپنے لۓ زندہ رہے اور دوسروں كو كوئی فائدہ نہ پہنچاۓ۔ اس كے علم تجربے قدرت مال اسكے مقام و منصب اور اسی طرح كی دوسری چیزوں سے كسی دوسرے كو كوئی فائدہ نہ پہنچے۔ اسلام كی نظر میں ایسی حبِ ذات منفور ومردود ہے ۔ اسی ناپسندیدہ حبِ ذات میں لذت طلبی اور حرام كی گئ شہوتوں كا طلبگار ہونا بھی ہے ۔ پروردگار عالم انسان سے چاہتا ہے كہ وہ اس طرح كی خودپرستی اور حب ذات سے مقابلہ كرے اور اپنے آپ كو ہر طرح كی حرام شہوت اورہر اس لذت سے محفوظ ركھے جس سے پروردگارعالم راضی نہ ہو۔ اس طرح كی لذتیں انسان كو ذلیل رسوا اورزوال سے دوچار كر دیتی ہیں۔اسی مذموم حبِ ذات میں ظالم كی مدد اسے تقویت پہنچانا كفار كے مقابل تواضع و انكساری دكھانا اور مستكبروں كی اعانت كرنا بھی شامل ہے۔ یہی وہ مقام ہے كہ اگر نفسانی خواہش تم سے چاہے كہ مستكبرین كفار اور ستمگروں كے ساتھ مل بیٹھو تو لازماًاپنی اس خواہش كا مقابلہ كرو اور پروردگارعالم كے ساتھ ہوجاؤ: یٰااَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا اتَّقُو اللّٰہَ وَكُونُوا مَعَ الصّٰادِقِینَاے اہل ایمان ! تقوا اختیار كرو اور سچوں كے ساتھ ہوجائو۔ (سورئہ توبہ ۹ آیت ۱۱۹)

مزید  حضرت فاطمہ زہراء(س) کی مظلومانہ شہادت کی مناسبت پر پانچ(5) پیغام

2۔ قابلِ تعریف حبِ ذات

البتہ اگر حبِ ذات سے مراد یہ ہو كہ انسان شرعاً جائز اور حلال چیزوں كے ساتھ زندگی بسر كرنا چاہتا ہو تو پروردگارِ عالم نے اس خواہش كو حرام قرار نہیں دیا ہے ۔نہ ہی االله نے لباس كو حرام كیا ہے نہ ہی كھانے اورپینے كی چیزوںكو، او رنہ ہی سكونت وتجارت كو بلكہ فرمایا ہے: اَلكٰادُّ عَلیٰ عَیٰالِہِ كَالمُجٰاہِدِ فی سَبِیلِ اللّٰہِ (اپنے اہل وعیال كے رزق كے لۓ تلاش وكوشش كرنے والا شخص راہِ خدا میں جہاد كرنے والے كی مانند ہے) نیز فرمایا ہے: وَالعِبٰادَةُ سَبعُونَ جُزئً اَفضَلُہٰا طَلَبُ الحَلاٰلِ (عبادت كے سترّ حصے ہیں اوران میں سب سے بہتر حصہ رزقِ حلال كے سلسلے میں كوشش ہے) پس اگر حبِ ذات اس مفہوم میں ہواور اس رنگ كی حامل ہو تو اس كے معنی آخرت میں بلند درجات كی طلب اور جستجو ہے۔ اور اس قسم كی حبِ ذات كی بنیاد پر خداوندِ عالم نے ہمیں خطاب كرتے ہوۓ كہا ہے كہ اگر تم اپنی ذات كو دوست ركھتے ہو اسكے خیر خواہ اور محب ہو تو رضاۓ الٰہی كے لۓ عمل انجام دو: فَمَن یَعمَل مِثقٰالَ ذَرَّةٍ خَیراً یَرَہُ پھر جس نے ذرّہ برابر نیكی كی ہے وہ اسے دیكھے گا۔ (سورئہ زلزلہ ۹۹ آیت۷)

لہٰذا حبِ ذات نہ ہی یكسر مثبت ہے اور نہ ہی یكسر منفی۔حبِ ذات اگران حدود میں ہو جنہیں پروردگارِعالم نے دنیا میںانسان كے لۓ حلال قرار دیا ہے یا جن كا پروردگار عالم نے آخرت میں انسان سے وعدہ كیا ہے تو ایسی حبِ ذات میں كوئی مضائقہ نہیں۔ وَابتَغِ فِیمٰااٰتٰاكَ اللّٰہُ الدّٰارَ الاٰخِرَةَ وَلاٰ تَنسِ نَصِیبَكَ مِنَ الدُّنیٰا وَاَحسِن كَمٰا اَحسَنَ اللّٰہُ اِلَیكَ وَلاٰتَبغِ الفِسٰادِ فِی الاَرضِ اِنَّ اللّٰہَ لاٰیُحِبُّ المُفسِدِینَ اور جو كچھ خدا نے دے ركھا ہے اس سے آخرت كے گھر كا انتظام كرو اور دنیا میں اپنا حصہ بھول نہ جائو۔ اور جس طرح خدا نے تمہارے ساتھ نیك برتائو كیا ہے تو تم بھی دوسروں كے ساتھ نیك سلوك كرو اور روۓ زمین پر فساد كی كوشش نہ كرو كہ پروردگارِعالم فساد كرنے والوں كو پسند نہیںكرتا ہے۔ (سورئہ قصص ۲۸ آیت ۷۷)

بہرصورت جس كسی كے ساتھ بھی دوستی اور رفاقت كا رشتہ قائم كرنا چاہتے ہو تو پہلے اسكے بارے میں تحقیق كر لو اور دیكھ لو كہ كیا وہ تمہارے دین و ایمان كے لۓ مفید واقع ہو سكتا ہے؟ كیا دنیا میں تمہارے كسی كام آ سكتا ہے؟ تمہارے لۓ كوئی زحمت و مشقت جھیل سكتا ہے؟اگر ان سوالوں كا جواب مثبت ہے تو پھر اسكی طرف دوستی كا ہاتھ بڑھائو البتہ شرائط كے ساتھ لیكن اگر مدِمقابل ایسا ہے كہ جس سے تم كو نہ كوئی دینی فائدہ ہوگا نہ دنیاوی تو پھر ایسے شخص كی ہم نشینی اوردوستی میں تمہارے لۓ كوئی خوبی نہیں۔ جو تمہارے لۓ زحمت و مشقت نہ اٹھا سكے تم بھی اسكے لۓ مشكل میں نہ پڑو اور نہ ہی اسے اہمیت دو۔ حضرت امام صادق ںفرماتے ہیں: اُنظُر كُلَّ مَن لاٰیُفَیدُكَ مَنفَعَۃً فی دِینِكَ فَلاٰ تَعتَدَنَّ بِہِ وَلاٰ تَرغَبَنَّ فی صُحبَتِہِ فَاِنَّ كُلَّ مٰا سِویٰ اللّٰہِ تَبٰارَكَ وَتَعٰالَی مُضمَحِلٌّ وَخِیمٌ عَاقِبَتُہُ دیكھو اور غور كرو جو كوئی بھی تمہارے دین كے لۓ مفید نہ ہو اس كی پرواہ نہ كرو اور نہ ہی اس كی ہم نشینی كی خواہش كرو۔ اس لۓ كہ پروردگارِعالم كے علاوہ ہر چیز فنا ہونے والی ہے اور اسكا انجام بہت برا ہے۔یعنی دوستی كے لۓ ایسے شخص كے چنائو كی كوشش كروجو اطاعتِ خدا میں تمہارا مدد گار بنے تمہارے دین كو قوی كرے اورتمہیں آخرت كی جانب متوجہ كرے۔

ایسے لوگوں سے دور رہو

حضرت علی ںسے نقل ہوا ہے :اِحذِر مَن اِذَا حَدَّثتَہُ مَلَّكَ (ایسے شخص سے بچو كہ جب تم اس سے بات كرو تو وہ تمہیں پریشان كرے) یعنی تمہاری باتوںپر توجہ نہ دے اگرچہ اس كی بھلائ میں ہوں بلكہ ابتدا سے ہی شكوہ او رملامت آمیز كلام شروع كرے اور: وَاِذٰا حَدَّثَكَ غَمَّكَ (جب تم سے بات كرے تو تمہیں غمگین كرے) وَاِن سَرَرتَہ اَو ضَرَرتَہُ سَلَكَ فِیہِ مَعَكَ سَبِیلَكَ (اور اگر اسے خوش كرو یا ضرر پہنچاؤ تو وہ بھی تمہارے ساتھ ویسا ہی سلوك كرے۔) یعنی درگزر نہ كرے بلكہ اگر اسے تم سے نقصان پہنچ جاۓ تو وہ بھی تمہیں نقصان پہنچا كے دم لے۔ وَاِن فَارَقتَہُ سَائَ كَ مَغِیبَہُ بِذَكرِ سَوأتِكَ (اگر اس سے جدا ہوجائو تو وہ تمہارے پسِ پشت تمہاری برائ كرے اوراس طرح تمہیں نقصان پہنچاۓ) یعنی جب تك تمہارے ساتھ ہو تمہاری اچھائاں بیان كرے اور تمہاری غیر موجودگی میں تمہاری برائاں كرے۔ وَاِن وَافَقتَہُ حَسَدَكَ وَاعتَدیٰ (اور اگراس كے ساتھ موافقت كرو تو تم سے حسد كرے اورتم پر ظلم كرے) ۔ اس لۓ كہ تمہیں برتر نہیں دیكھ سكتا۔ اورجب بھی تم سے خوش خلقی اوراچھے برتاؤ كا مشاہدہ كرتا ہے تو تم سے حسد كرتا ہے اور تمہاری تعریف نہیں كرتا بلكہ تم سے زیادتی كرتا ہے۔ وَاِن خٰالَفتَہُ مَقَتَكَ وَمٰاریٰ (اوراگر اس كی مخالفت كرو تو تم سے نفرت كرے اور جھگڑنے لگے) ۔

جب تم اس كی مخالفت كرو تو غصے كا اظہار كرے اور یہ قبول كرنے پر تیار نہ ہو كہ ممكن ہے تمہارا یہ اختلافِ نظر موضوع كی تشخیص كی بناپر ہو ۔یَعجُزُ عَن مَكٰافَاةِ مَن اَحسَنَ اَلَیہِ (اپنے ساتھ نیكی كرنے والے كو نیك بدلہ دینے سے عاجز ہو) ۔ لہٰذااگر كوئی اس كے ساتھ نیك سلوك كرتا ہے تو یہ اسے اس كا بدلہ نہیں دیتا۔ وَیَفَرِّطُ عَلٰی مَن بَغٰی عَلَیہِ (اور اگر كوئی اس كے ساتھ زیادتی كرے تو اس سے قصاص اوربدلہ لینے میں حد سے بڑھ جاتاہے) ۔اگر كوئی اس پر ظلم كرے توجتنااس پر ظلم ہوا ہے اسی كے برابر قصاص پر اكتفا نہیں كرتا بلكہ افراط سے كام لےتا ہے اور ایك تھپڑكا جواب دو تھپڑ سے دیتا ہے !۔ یُصبَحُ صَاحِبُہُ فی اَجرٍ وَیُصبِحُ ہُوَ وِزرٌ (ایسے شخص كا دوست او رہم نشین تو اجر كا مستحق بن جاتا ہے جبكہ خود وہ گناہوں كے بوجھ تلے دب جاتا ہے) ۔ پس ایسے شخص كے ساتھ میل جول ركھنے والا شخص مومن ہے اجر وثواب كا حقدار اور نجات یافتہ ہے جبكہ خود وہ شخص اپنے عملِ بد كی وجہ سے گناہ میںعمر گزاررہا ہے۔ لسانہ علیہ لالہ (اپنی زبان كواپنے دوست كے خلاف استعمال كرتا ہے اس كے دفاع كے لۓ نہیں) ۔ وَلاٰ یَضبُطُ قَلبُہُ قَولَہُ (اس كے دل كا اس كی زبان پر قابو نہیں ہوتا) اسكے قلب اور اسكی گفتار كے درمیان ہم آہنگی نہیں ہوتی۔ یَتَعَلَّمَ لِلمَرأء (دوسروں سے جدال كرنے كے لۓ علم حاصل كرتا ہے) تہذیب نفس اور علم میں اضافے كے لۓ نہیں بلكہ مناظرہ كرنے اور جھگڑنے كے لۓ علم حاصل كرتا ہے۔وَیَتَثقَفُ لِلرِّیٰائِ (اور دكھاوے كے لۓ مہذب بنتا ہے) تاكہ لوگ اسے ہوشیار اورعقل مند سمجھیں۔یُبٰادِرُ لِلدُّنیٰا (دنیا كے لۓ تیز قدم اٹھاتا ہے) اسكا كوئی اقدام آخرت كے لۓ نہیں ہوتا صرف دنیا كے لۓ ہوتا ہے ۔ وََیُوَاكِلُ التَّقویٰ (تقویٰ كے كاموں میں سست رو ہوتا ہے) اگر تقویٰ اور پرہیزگاری كسی عمل كا تقاضا كرے تو اس عمل كی انجامدہی میں تاخیر كرتا ہے۔ اسكی جانب تیزی سے نہیں لپكتا۔نیز آنحضرتں فرماتے ہیں: اِحذَر مُصٰاحِبَةَ الفُسّٰاقِ وَالفُجّٰارِ وَالمُجٰاہِرِینَ بِمَعٰاصِی اللّٰہ فاسقوں فاجروں او ركھلم كھلا خدا كی نافرمانی كرنے والوں كی دوستی سے پرہیز كرو۔پھر دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: عَدُوُّعٰاقِلٍ خَیرٌمِن صَدِیقٍ اَحمَقٍ عقلمند دشمن احمق دوست سے بہتر ہے۔ كیونكہ عقل مند دشمن كی دشمنی و عداوت ظاہر وآشكارا ہے او روہ اپنی دشمنی میںكچھ اصولوں كا پابند ہوتا ہے لہٰذا اس سے محفوظ رہا اور بچا جا سكتا ہے۔ لیكن احمق دوست تمہیں فائدہ پہنچانا چاہے گا لیكن حماقت كی بناپر نقصان پہنچابیٹھے گا كیونكہ اس میں فكری توازن نہیںپایا جاتا۔ جن لوگوں سے دوستی كا رشتہ قائم كرنے اور ان سے میل جول سے منع كیا گیا ہے احادیثِ معصومین میں ان كی كچھ اور خصوصیات بھی بیان كی گئ ہیں۔

مزید  دیباچہ کربلا مسلم بن عقیل علیہ السلام

ایك حدیث میں حضرت امام علی سے مروی ہے: اِیّٰاكَ وَمُصٰاحِبَۃَ اَہلِ الفُسُوقُ فاسقوں كی دوستی سے پرہیز كرو۔ یعنی جن لوگوں كی زندگی كے طور طریقے فسق وفجور خدا كی متعین كردہ حدود سے تجاوز اوراسكی نافرمانی پر استوار ہیں۔فَاِنَّ الرّٰاضِی بِفِعلِ قَومٍ كَالدَّاخِلِ فِیہِ مَعَہُم كسی گروہ كے فعل پر راضی ہونے والا اسی طرح ہے جیسے اس گروہ میں شامل ہو ۔بلاشبہ پروردگارِ عالم جس طرح كسی عمل كی انجامدہی پر انسان سے جواب طلب كرے گا اسی طرح عملِ بد انجام دینے والے سے راضی اور خوشنود رہنے والے اور اسكی تائد كرنے والے سے بھی جواب طلب كرے گا۔پھر آپ ں كے ایك دوسرے كلام میں اس طرح نظر آتا ہے: اَلرّٰاضِی بِفِعلِ قَومٍ كَالدّٰاخِلِ ِفیہِ مَعَہُم وَعَلَی الدَّاخِلِ اِثمٰانِ: اِثمُ الرَّضٰا وَاِثمُ العَمَلِكسی گروہ كے عمل سے راضی ہوجانے والا بھی اسی گروہ میں شامل سمجھا جاۓ گا ۔اس پر دہرا گناہ ہو گا ایك گناہ اس عمل سے رضایت كی بناپر اور دوسرااس عمل كو انجام دینے كی وجہ سے ۔ حضرت ںمزید فرماتے ہیں:اِنَّ مَا یَجمَعُ النَّاسُ الرِّضَا وَالسَّخَطُ وَاِنَّمَا عَقَرَ نَاقۃََ ثَمُودٍ رَجُلٌ وَاحِدٌ فَعَمَہُمُ اللّٰہُ بِالعَذٰابِ لَمّٰا عَمُّوہُ بِالرَّضٰا فَقَالَ: فَعَقَرُوہٰا فَاصبَحُوا نَادِمِینَ لوگوں كا (ایك عمل سے) رضامند اور ناراض ہونا انھیں ایك گروہ اور قوم كی صورت عطا كردیتا ہے۔ قومِ ثمود كے ناقے كے پیر ایك شخص نے كاٹے تھے لیكن كیونكہ دوسرے اس عمل سے راضی اورخوش تھے لہٰذا پروردگارِ عالم نے پوری قوم پر عذاب نازل كیا اور فرمایا: فَعَقَرُوہٰا فَاصبَحُوا نَادِمِین (پھر ان لوگوں نے اس كے پیر كاٹ دیۓ اور بعد میں بہت شرمندہ ہوۓ۔) اس عمل كو انجام دینے والا ایك فرد تھا لیكن پورے قبیلے نے اس عمل پر رضامندی كا اظہار كیا یا اس عمل كی حوصلہ افزائ كی ۔

لہٰذا اس ایك آدمی كے اس عمل میں سبھی شریكِ جرم ہوۓ ۔كیونكہ ایك عمل میں كبھی قلبی اور قولی طورپر شریك ہوا جاتا ہے اور كبھی عملی طور پر۔یہی وجہ ہے كہ مردِ مسلمان كو ایسے افراد كے بارے میں اپنے دل كی دھڑكنوں اور زبان سے نكل جانے والے بے ساختہ الفاظ تك كے بارے میں محتاط اور باریك بین ہونا چاہۓ جو كسی عملِ بد كے مرتكب ہوتے ہیں یا ظالموں كی تقویت كا باعث بنتے ہیں۔آپ ہی كی ایك دوسری حدیث ہے:اَلظّٰالِمُ وَالرّٰاضِی بِالظُّلمِ وَالمُعِینُ لَہُ شُرَكَاءُ ثَلاٰثَتَہُمظالم ظلم پر رضامندی كا اظہار كرنے والا اور ظلم میں معاونت كرنے والا تینوں شریكِ ظلم ہیں ۔ كیونكہ پروردگارِ عالم چاہتا ہے كہ انسان كی فكر روح قلب اور زندگی سے برائ و شرارت كا خاتمہ ہوجاۓ۔جبكہ ظلم پر رضامندی كے اظہار اور ظالم كے ظلم پر خوش ہونے كے معنی یہ ہیں كہ ایسے فرد كے ذہن میں بدی دوسروں پر ظلم و ستم اور ہر دوسری برائ كے بیج موجود ہیں اور جب بھی حالات سازگار ہوں گے یہ بیج برگ و بار لائں گے۔ لہٰذا جو كوئی ظلم و ستم دیكھ كر اس سے رضامندی كا اظہار كرتا ہے وہ درحقیقت ظالم كی تائد كرتا ہے اسكے عمل كو سندِ جواز دیتا ہے كیونكہ اگر بعض افراد ظلم نہیں كرتے تواس كی وجہ یہ نہیں ہوتی كہ انھیں دوسروں پر ظلم كرنا اچھا نہیں لگتا بلكہ وہ ظلم كرنے كی قدرت نہیں ركھتے اور جب بھی ان كے اندر ظلم و ستم ڈھانے كی طاقت پیدا ہوگی وہ ظلم كی طرف ضرور جائں گے۔حضرت امام علی ںفرماتے ہیں: اِیّٰاكَ وَمُصَاحِبۃََ الفُسّٰاقَ فَاِنَّ الشَّرَّباِلشَّرِّ مُلحَقٌ فاسقوں كی دوستی سے بچو كیونكہ برائی برائی سے آ ملتی ہے ۔ حضرت اما م صادق ںنے فرمایا: ایّٰاكَ وَ مُخَالَطَۃَ السَّقَلَۃِ فَاِنَّ مُخٰالَطَۃُ السَّفَلَۃِ لاٰ لُؤَدّی اِلیٰ خَیرٍ۔ پست اور كمینے لوگوں كے ساتھ میل جول سے بچو كیونكہ ان سے میل جول اچھائ كی طرف نہیں لے جاتا۔پست اور كمینے لوگوں سے مراد وہ پست فطرت افراد ہیں جو ایسے كام كرتے ہیں جو لوگوں كے لۓ ضرر رساں اور ان كی شخصیت كو نقصان پہنچانے والے ہوں۔ حضرت علی كا ارشاد ہے :اِیّٰاكَ وَ مُصَاحِبۃََ مَن اَلھٰاكَ عَن ذِكرِ اȎِ وَاَغرَاكَ بِالمَعصِیۃِِ فَاِنَّہُ یَخذُلُكَ عِندَ حَاجَتَكَ اِلَیہِ وَیُوبِقَكَ۔ (ایسے شخص كی دوستی سے پرہیز كرو جوتمہیں خدا سے غافل كردے اور گناہ كرنے میں تمہیں جری كردے ۔ ایسا شخص ضرورت كے وقت تہیں تنہا چھوڑدے گا او رتمیں ہلاك كردے گا۔) نیز فرمایا:اِیّٰاكَ وَمُصٰاحِبۃََ الكَذّٰابَ۔ (جھوٹے كی دوستی سے پرہیز كرو) ۔

مزید  امامت قرآن کی روشنی میں

اور معاشرتی اورمادی حالات یا رشتے داری كے سبب: فَاِذَا اضطَرَرتَ اِلَیہِ فَلاٰ تُصِدِّقہُ (اگر مجبوراً اس سے ربط و تعلق كی ضرورت ہو تو اس كی تصدیق نہ كرو۔) كیونكہ ایسا شخص جو جھوٹ بولنے كا عادی ہو تو یہ خصلت اس میں رچ بس جاتی ہے اور اسكی باتیں جھوٹ ہوتی ہیں (لیكن اس كے باوجود) :وَلاٰتُعلِمہُ اَنَّكَ تُكذِّبُہُ (اور اسے یہ باور نہ ہونے دو كہ تم اسے جھوٹا سمجھتے ہو) ۔ یعنی اس كے ساتھ ہوشیاری اور زیركی سے پیش آئو اور اسے اس بات كا علم نہ ہونے دو كہ تم اس پر اعتماد نہیں كرتے ۔فَاِنَّہُ یَنتَقِلُ عَن وُدِّكَ وَلاٰینَتَقِلُ عَن طَبعِہِ (اس لۓ كہ ایسا فرد تمہاری دوستی سے تو ہاتھ كھینچ سكتا ہے لیكن اپنی طبیعت اورخصلت سے ہرگز باز نہیں آ سكتا) ۔ حضرت امام محمد باقر ںنے فرمایا: قَالَ لِی عَلیُّ بنُ الحُسَینِ عَلَیہُمَا السَّلاٰم یٰا بُنِیَّ اِیّٰاكَ وَمُصٰاحِبۃََ القٰاطِعِ الرَّحمَہِ فَاِنِّی وَجَدتُہُ مَلعُوناً فِی كِتٰابَ اللّٰہِ فِی ثَلاٰثَ مَوَاضِعَ میرے والد علی بن الحسین (ع) نے فرمایا: بیٹا ! جس نے اپنے والدین سے قطع تعلق كرلیا ہو (یعنی جس كے والدین نے اسے عاق كر دیا ہو) اس كی دوستی سے پرہیز كرنا۔ كیونكہ میں نے قرآنِ مجید میں اسے تین جگہ ملعون اور خدا كی لعنت كا مستحق پایا ہے ۔حضرت امام صادق ںفرماتے ہیں: اِیّٰاكَ وَصُحبَۃَ الاَحمَقِاحمق كی دوستی سے پرہیزكرو۔ احمق وہ ہے جو عقلی توازن اور فكری گہرائی سے محروم ہو۔ جو اچھائیوں كو برا اور برائیوں كو اچھا سمجھے كیونكہ: فَاِنَّہُ اَقرَبُ مٰاتَكُونُ مِنہُ اَقرَبُ مٰایَكُونِ مَسٰاءَ تَكَ تم جتنا بھی اس كے نزدیك ہوگے برائی سے نزدیك ہوگے۔نیز آپ ہی فرماتے ہیں:اِیّٰاكَ وَصُحبۃََ الاَ حمَق الكَذّٰابِ فَاِنَّہُ یُرِیدُ اَن یَنفَعَكَ فَیَضُرُّكَ وَیُقَرِّبُ مِنكَ البَعِیدَ وَیُبَعِّدُ مِنكَ القَرِیبَ اِن اِئتَمَنتَہُ خَانَكَ وَاِن اِئتَمَنكَ ہٰانَكَ جھوٹے احمق كی ہم نشینی سے پرہیز كرو۔ اس لۓ كہ وہ تم كو فائدہ پہنچانا چاہے گا لیكن نقصان پہنچابیٹھے گا۔ دور كونزدیك اور نزدیك كو دوربناكرپیش كرے گا اور اگر تم اس كو امین بنائو گے تو خیانت كرے گا او راگر وہ تمہارے پاس امانت ركھے گا تو تمہاری توہین كرے گا۔اِن حَدَّثَكَ كَذَّبَكَ وَاِن حَدَّثَتہُ كَذَّبَكَ وَاَنتَ مِنہُ بِمَنزِلۃَِ السَّرَابِ الَّذِی یَحسَبُہُ الظَّمَاٰنُ مَاءً حَتّیٰ اِذٰا جَائَہُ لَم َیجِدہُ شَیئاًاگر وہ تم سے بات كرے گا تو جھوٹ بولے گا او راگر تم كچھ كہوگے تو تمہیں جھٹلاۓ گا۔ وہ تمہارے لۓ ایسے سراب كی مانند ہو گا جسے پیاسا دور سے پانی سمجھتا ہے لیكن جب نزدیك آتا ہے تو كچھ نظر نہیں آتا۔

تمہارے دوست اورتمہارے دشمن

كون لوگ ہمارے دوست ہیں اوركون لوگ ہمارے دشمن ؟ اس بارے میں حضرت علی ں نے فرمایا ہے: اَصدَقَائُ كَ ثَلاٰثۃٌَ: صَدِیقُكَ وَصَدِیقُ صَدِیقِكَ وَعَدُوِّكَ وَاَعدَائُكَ ثَلاٰثۃٌَ عَدُوّكَ وَعَدُوُّصَدِیقِكَ وَصَدِیقُ عَدُوِّكَ تمہارے دوستوں كی تین قسمیں ہیں:

1) تمہارا دوست

2) تمہارے دوست كا دوست

3) تمہارے دشمن كا دشمن ۔

اسی طرح تمہارے دشمن كی بھی تین قسمیں ہیں:

1) تمہارا دشمن

2) تمہارے دوست كا دشمن

3) تمہارے دشمن كا دوست۔

ہ واضح طریقہ جسے حضرت علی ںنے ہمارے لۓ معین كیا ہے اسے ہمیں صرف فردی مسائل میں منحصر نہیں كرنا چاہۓ بلكہ ہمیں چاہۓ كہ اسے تمام اجتماعی اقتصادی اور سیاسی میدانوں میں اور عالمی اور بین الاقوامی تنظیموں او رحكومتوں كی سطح تك وسعت دیں۔ مثال كے طور پر صہیونیوں كو لیتے ہیں جو فلسطین میں گھس بیٹھے ہیں اور وہاں كے اصل باشندوں كو دربدر كر دیا ہے اور ایك طویل مدتی منصوبہ بندی كے ذریعے دنیا بھر میں پھیلے ہوۓ یہودیوں كو فلسطین میں اكھٹا كر كے وہاں بسانے كی كوششوں میں مصروف ہیں۔ اہل اسلام سے ان كی دشمنی اور عداوت كے بارے میں ارشاد ربانی ہے: لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوةً لِلَّذِینَ اٰمَنُوا الیَہُودَ وَالَّذِینَ اَشرَكُوا آپ دیكھیں گے كہ صاحبانِ ایمان سے سب سے زیادہ عداوت ركھنے والے یہودی اور مشرك ہیں۔ (سورئہ مائدہ ٥ آیت ٢٨) یہ وہ دشمن ہیں جنہوں نے پچاس برس سے زیادہ عرصے سے خطے كو سیاسی اقتصادی فوجی سیكیوریٹی اور حتیٰ ثقافتی اعتبار سے فتنہ و فساد كی آگ میں دھكیل ركھا ہے۔ اب دیكھنا یہ ہے كہ كیا صرف اسرائل ہمارا دشمن ہے؟ یا اسرائل كے دوست بھی ہمارے دشمن ہیں؟ ہمیں اسرائل كے حوالے سے جائزہ لیتے ہوۓ یہ نكتہ مدِ نظر ركھنا چاہۓ كہ یہ صرف امریكہ ہی ہے جو اسرائل كا سو فیصدی حمایتی اور مسلمانوں كا مخالف ہے۔ پس امریكہ جو ہمارے دشمن نمبر ایك اسرائل كا دوست ہے درحقیقت ہمارا دشمن ہے۔ہمیں امریكی عوام سے كوئی شكایت نہیں ہے۔ وہاں كے عوام طبیعتاً صلح پسند ہیں اور بہت سے امریكی دائرۂ اسلام میں داخل ہوۓ ہیں اور اگر انہیں اچھے انداز سے اسلام كی دعوت دی جاۓ تو ممكن ہے ان كی ایك كثیر تعداد اسلام قبول كر لے ۔ مسلمان ملت كو بھی امریكی شہریوں سے كوئی مسئلہ نہیں ہے نیز پروردگارعالم نے ہمیں حكم دیا ہے كہ ہم اچھے طرزِ عمل كے ذریعے اپنے دشمنوں كو اپنا دوست بنائں: وَلاٰتَستَوِی الحَسَنۃََ وَلاٰالسَّیِّئَۃَ اِدفَع بِاللَّتِی ہِیَ اَحسَنُ فَاِذَا الَّذِی بَینَكَ وَبَینَہُ عَدَاوَةً كَاَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ نیكی اور برائی ہرگز مساوی نہیں ہوسكتی ۔لہذا تم برائ كا جواب بہترین طریقے سے دو كہ اس طرح جس كے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے وہ بھی ایسا ہو جاۓ گا جیسے گہرا دوست ہوتا ہے۔ (سورئہ فصلت ۱۴ آیت۳۴)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.