معجزئہ ختمی مرتبت

0 0

قرآن کریم حضرت ختمی مرتبت کا ہمیشہ زندہ رہنے والا معجزہ ہے۔ حضرت ابراہیم حضرت موسیٰ حضرت یحییٰ جیسے گذشتہ انبیاء کی اعجاز نمائی کا موضوع‘ جن کے پاس آسمانی کتاب بھی تھی اور معجزہ بھی‘ ان کتابوں سے مختلف تھا مثلاً شعلہ ور آگ کا ٹھنڈک اور سلامتی میں بدل جانا یا خشک لکڑی کا اژدھا بن جانا یا مردوں کو زندہ کرنا۔ ظاہر سی بات ہے کہ ان معجزات میں سے ہر ایک وقتی و عارضی اور جلد ختم ہو جانے والا تھا‘ مگر حضرت خاتم الانبیاء کے معجزہ کا موضوع خود حضرت کی لائی ہوئی کتاب ”قرآن مجید“ ہے۔ حضرت کی کتاب ایک ہی وقت میں کتاب بھی ہے اور آپ کی رسالت کی دلیل بھی اور اسی دلیل کی بنیاد پر دیگر معجزات کے برخلاف خاتمیت زندہ جاوید ہے نہ کہ عارضی اور جلد ختم ہو جانے والا۔

حضرت خاتم الانبیاء کے معجزے کا نوع کتاب سے ہونا ایک ایسی چیز ہے‘ جو آنحضرت کے عصر و زمانے سے جو علم و دانش‘ تہذیب و تمدن اور علم و معارف کی ترقی اور پیش رفت کا زمانہ ہے‘ مناسب رکھتی ہے اور یہ ترقی اس بات کا امکان فراہم کرتی ہے کہ اس کتاب کے بہت سے اعجازی پہلو تدریجاً روشن ہوں‘ جو پہلے ظاہر نہیں ہوئے تھے‘ جیسا کہ اس کا جاویدانی ہونا‘ آپ کے ہمیشگی پیغام اور رسالت سے مناسبت رکھتا ہے کہ جو ہمیشہ باقی اور ناقابل نسخ ہے۔

قرآن کریم نے اپنے معجزانہ اور فوق بشریت پہلو کی خبر اپنی چند آیتوں میں صریحاً دی ہے۔(مثلاً قرآن کی یہ آیت: ان کنتم فی ریب ممانزلنا علی عبدنما فاتو ابسورة من مثلہ(بقرہ/۲۳) اگر تم لوگ اس چیز کے بارے میں جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کی ہے شک و تردد میں مبتلا ہو‘ تو تم اس جیسی ایک سورہ ہی بنا لاؤ۔) جیسا کہ قرآن نے اپنے علاوہ خاتم الانبیاء کے دوسرے معجزات کے واقع ہونے کی تصریح کی ہے۔

قرآن کریم میں معجزات سے متعلق بہت سے مسائل بیان ہوتے ہیں‘ جیسے پیغمبران الٰہی کی رسالت کا معجزے کے ساتھ ہونے کی ضرورت اور یہ کہ معجزہ ”بینہ“ اور دلیل قاطع ہے اور یہ کہ انبیاء و رسل معجزے کو خدا کے اذن و اجازت سے پیش کرتے ہیں اور یہ کہ پیغمبران خدا اسی حد تک معجزہ پیش کرتے ہیں جو ان کے قول کی صداقت و سچائی کی دلیل و نشانی ہو۔ وہ حضرات اس کے پابند نہیں ہیں کہ لوگوں کی بے سوچی سمجھی خواہشات کی متابعت کریں اور لوگوں کی منشا کے مطابق معجزات دکھاتے رہیں اور جو شخص جس وقت اور جس روز معجزے کا مطالبہ کرے‘ اسے فوراً قبول کر لیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں سمجھئے کہ پیغمبروں نے معجزے کی نمائش گاہ قائم نہیں کی ہے اور معجزہ سازی کا کارخانہ نہیں کھول رکھا ہے اور بھی اسی طرح کے مسائل ہیں‘ جو قرآن میں موجود ہیں۔

قرآن کریم نے جس طرح ان مسائل کو پیش کیا ہے‘ اسی طرح بہت سے پیغمبران ماسبق جیسے حضرت نوح حضرت ابراہیم حضرت لوط حضرت صالح حضرت ہود حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کے معجزات کو بھی پوری صداقت کے ساتھ نقل کیا ہے اور ان کی صحت کی گواہی دی ہے‘ جس کی کسی بھی صورت میں تاویل نہیں ہو سکتی۔

بہت سے مستشرقین اور عیسائی علماء نے ایسی چند آیتوں کو جن کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن نے مشرکین کے ان کی خواہش کے مطابق معجزہ کے مطالبے پر منفی جواب دیا ہے‘ انہی آیتوں کو بطور سند پیش کرتے ہوئے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ پیغمبر اسلام لوگوں سے کہا کرتے تھے کہ میں قرآن کے سوا کوئی دوسرا معجزہ نہیں رکھتا۔ اگر تم قرآن کو بطور معجزہ قبول کرتے ہو‘ تو بہتر ہے ورنہ میرے پاس کوئی دوسرا معجزہ نہیں ہے‘ بعض ”روشن فکر“ اور اہل قلم مسلمان مورخین نے بھی حال ہی میں اسی نظریے کو قبول کر لیا ہے اور اس کی توجیہ اس شکل سے کی ہے کہ معجزہ قانع کنندہ دلیل ہے لیکن ان لوگوں کے لئے جو فکری اور عقلی لحاظ سے بالغ و رشید نہ ہوں اور جو اس قسم کے حیرت انگیز امور کی تلاش میں رہتے ہیں‘ لیکن بالغ و رشید اور پختہ عقل والا انسان اس طرح کے امور کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا اور اسے تو منطق سے سروکار ہوتا ہے‘ پیغمبر اسلام۱ کا منطق و عقل کا دور ہے نہ کہ توہمات اور ذہنی تخیلات کا (اسی لئے) پیغمبر اسلام نے بہ اذن خدا قرآن مجید کے علاوہ ہر قسم کے معجزے کی درخواست قبول کرنے سے انکار فرمایا۔ وہ لوگ کہتے ہیں:

مزید  عالمی پیمانے پر اسلامی تبلیغ

”گذشتہ انبیاء کا معجزات اور غیر معمولی امور سے مدد لینا لازم و ضروری اور ناگزیر تھا‘ کیوں کہ اس دور میں ان حضرات کا عقلی دلیلوں کے ذریعے رہنمائی کرنا بے حد دشوار بلکہ محال تھا___ پیغمبر اسلام کے ظہور کے زمانے میں انسانی معاشرہ طفلی دور کو بہت پیچھے چھوڑ کر فکری بلوغ کے دور میں قدم رکھ رہا تھا۔ کل تک جو بچہ اپنی ماں کا محتاج تھا تاکہ اس کا ہاتھ پکڑ کر چلنا سیکھ سکے‘ اب اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اپنی عقل استعمال کر سکتا ہے___

پیغمبر اسلام کا یہ عمل بغیر دلیل و حکمت نہیں تھا کہ مفکرین و معاندین آپ سے معجزات پیش کرنے پر اصرار کرتے‘ لیکن آپ ان کی دعوت کا مثبت جواب نہیں دیتے بلکہ اپنی دعوت کی حقانیت کو ثابت کرنے کے لئے عقلی و تجرباتی اور تاریخی شواہد کے ذریعے استدلال کرنے پر زور دیتے ہیں‘ مفکرین کے اس تمام اصرار و ہٹ دھرمی کے باوجود پیغمبر اسلام ایسے معجزات (جیسے انبیائے ماسلف پیش کیا کرتے تھے) پیش کرنے سے بہ اذن خدا اجتناب کرتے تھے اور انکار فرما دیتے تھے اور صرف قرآن پر (ایسے معجزے کی حیثیت سے جس کی نظیر نہیں مل سکتی) اکتفا فرماتے تھے۔ حضرت خاتم الانبیاء کا معجزہ قرآن مجید رسالت کی خاتمیت کی بھی دلیل ہے۔ یہ وہ کتاب ہے‘ جو عالم خلقت کے حقائق اور تمام جہات میں مکمل ہم آہنگی کے ساتھ زندگی کی تعلیمات اور رہنمائیوں پر مشتمل ہے۔ ایک ایسا معجزہ ہے‘ جو بالغ و رشید انسان کے لئے مفید ہے نہ کہ اس بچے کے لئے جو اوہام اور ذہنی تخیلات کا پابند ہو۔“(ڈاکٹر حبیب اللہ پائدار: فلسفہ تاریخ از نظر قرآن‘ ص ۱۵‘ ۱۶) 

اور بعض کہتے ہیں:

”وہ فضا جس میں گذشتہ انسان سانس لیتا رہا ہے‘ ہمیشہ خرافات اور موہومات اور خوارق عادات سے بھری رہی ہے اور سوائے اس چیز کے جو عقل و ادراک کے خلاف ہو‘ اس کے ذہن میں اثر ہی نہیں کرتی‘ یہی وجہ ہے کہ ہم تاریخ میں بشریت کو دیکھتے ہیں کہ وہ ہمیشہ ”اعجاز“ کی تلاش و جستجو میں مصروف اور ”غیب“ کی شیفتہ اور دلک دادہ رہی ہے۔ یہ حساسیت ہر چیز کے بارے میں جو عقل و شعور میں نہ آنے والی ہو‘ ان انسانوں میں بہت زیادہ پائی جاتی ہے‘ جو تمدن سے زیادہ دور ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ”طبیعت“ سے جتنے زیادہ نزدیک ہیں‘ اتنے ہی زیادہ ”ماورائے طبیعت“ کے مشتاق رہتے ہیں اور بے ہودگی اسی حقیقت کی معیوب اولاد ہے‘ صحرائی انسان ہمیشہ ”معجزہ“ کی تلاش میں رہتا ہے۔ اس کی دنیا حیرت انگیز ارواح و اسرار سے بھری ہوئی ہے___ گذشتہ انسان کی روح فقط اس وقت متاثر ہوتی تھی‘ جب اس کی نگاہوں کے سامنے کوئی تعجب خیز امر واقع ہو رہا ہو‘ جس کو وہ رمز و راز سے پر‘ سحر انگیز اور مبہم چیز سمجھتا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ نہ صرف تمام پیغمبر بلکہ تمام بادشاہ‘ تمام طاقت ور اور ہر قوم کے حکماء اپنے افکار و اعمال کی توجیہ عجیب و غریب اور غیر معمولی امور سے کرتے رہے ہیں اور اس میں پیغمبروں کا گروہ جن کی رسالت کی بنیاد ہی ”غیب“ پر رکھی گئی ہے‘ انہیں دوسروں سے زیادہ ضرورت تھی کہ معجزے سے کام لیں کیوں کہ ان کے زمانے کے لوگوں کے ایمان میں ”اعجاز“، منطق و علم اور محسوس و مسلم اور عینی حقیقت سے زیادہ کارآمد تھا‘ لیکن حضرت محمد کی بات اس قاعدہ سے مستثنیٰ ہے‘ وہ معاشرہ جس کے ترقی یافتہ اور سب سے بڑے تجارتی شہر میں صرف سات آدمی لکھنا پڑھنا جانتے تھے اور ”خاندانی فخر‘ شمشیرزنی‘ سرمایہ‘ دولت‘ اونٹ اور اولاد (وہ بھی لڑکے)“ کے سوا کچھ سوچتے ہی نہیں تھے‘ ایسے معاشرہ میں آپ کتاب کو اپنے معجزے کے طور پیش کرتے ہیں۔ یہ بات خود ایک معجزہ ہے کہ ایک ایسے ملک میں ایسی کتاب جہاں تاریخ کتاب کے کسی ایک نسخہ کا بھی سراغ نہیں دیتی‘ اس کا خدا ”روشنائی‘ قلم“ اور ”تحریر“ کی قسم کھاتا ہے‘ ایسی قوم جو قلم کو چند بدحال‘ عاجز اور بے افتخار افراد کا وسیلہ سمجھتی ہے۔ یہ خود ایک معجزہ ہے‘ جس کو ہمیشہ دیکھا جا سکتا ہے اور ہر روز اس اعجاز آمیز پہلو کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور یہ وہ تنہا معجزہ ہے‘ جس کو دوسرے معجزات کے برخلاف عقلمند اور دانشمند انسان اور ہر وہ معاشرہ جو زیادہ ترقی یافتہ اور زیادہ متمدن ہو‘ وہ سب اس کے اعجاز کو زیادہ درست‘ زیادہ صحیح اور زیادہ عمیق پائیں گے۔“ یہ کتاب وہ اکیلا معجزہ ہے‘ جس پر اعتقاد رکھنا صرف امور غیبی ہی کے معتقدین پر منحصر نہیں ہے بلکہ ہر مفکر اس کے اعجاز کا معترف ہے۔ یہ وہ تنہا معجزہ ہے‘ جو نہ صرف عوام کے لئے بلکہ روشن فکروں کے لئے بھی ہے___ وہ تنہا معجزہ ہے‘ جو دوسرے معجزات کے برخلاف اپنے دیکھنے والوں میں پائی جانے والی تعجب اور اعجاز کی حس کو بیدار نہیں کرتی‘ ایک رسالت کو قبول کرنے کے واسطے صرف ایک مقدمہ اور وسیلہ نہیں ہے بلکہ اس پر یقین کرنے اور ایمان لانے والوں کی تعلیم و تربیت کے لئے ہے۔ یہ خود قبول کرنے کا مقصد ہے‘ خود رسالت ہے اور بالآخر حضرت محمد کا یہ معجزہ غیر بشری امور سے نہیں ہے اگرچہ ایک غیر بشری عمل ہے اور اس لحاظ سے گذشتہ انبیاء کے معجزات کے برخلاف جو لوگوں کے یقین کرنے کے واسطے صرف ایک عامل و سبب کے طور پر کام میں لائے جاتے رہے (وہ بھی چند گنے چنے افراد کے لئے جو انہیں دیکھتے تھے) اور اس کے علاوہ ان معجزات کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔

مزید  عرب کی بد قسمتی کے اسباب

محمد کا معجزہ بلند ترین انسانی استعداد و صلاحیت کی نوع سے ہے اور انسان کے لئے بلند ترین نمونہ کار اور دستورالعمل کے طور پر کام کر سکتا ہے۔ ایسا دستورالعمل جو ہمیشہ اس کے قبضہ اختیار میں ہے۔ محمد ۱کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں کی تلاش و جستجو کا رخ غیر عادی امور‘ کرامات اور خوارق عادات سے موڑ کر عقلی و منطقی علمی و طبیعی اور اجتماعی و اخلاقی مسائل کی طرف موڑ دیں اور ”عجائب و غرائب“ کے سلسلے میں ان کی حساسیت کو ہٹا کر ”واقعات و حقائق“ کی طرف موڑ دیں اور یہ کوشش کوئی معمولی چیز نہیں ہے‘ وہ بھی ایسے لوگوں کے ساتھ جو غیر طبیعی چیزوں کے سوا کسی چیز کے سامنے جھکنا اور کسی کو ماننا جانتے ہی نہیں‘ پھر مزید برآں ایسے شخص کے ذریعے جو اپنے آپ کو ان کے درمیان پیغمبر کہتا ہے۔ اپنے کو پیغمبر بتانا اور لوگوں کو اپنی خدائی رسالت کی طرف دعوت دینا اور عین اسی حالت میں باقاعدہ طور پر یہ اعتراف کرنا کہ میں ”غیب کی خبر نہیں رکھتا“ تعجب میں ڈال دینے والا کام ہے اور آپ کی انسانی قدر و منزلت کے علاوہ جو چیز بہت زیادہ جذبات کو ابھارتی ہے‘ وہ آپ کی غیر معمولی سچائی ہے‘ جس کا احساس آپ کے کام میں ہوتا ہے اور جو ہر دل کو تقدیس کے لئے اور ہر فکر کو تعظیم اور تحسین و تعریف پر آمادہ کرتا ہے۔

آپ سے پوچھتے ہیں‘ اگر آپ پیغمبر ہیں تو مال تجارت کا نرخ (بازار کے بھاؤ) ہمیں بتا دیں تاکہ ہم اپنی تجارت میں نفع حاصل کر سکیں‘ قرآن آپ کو حکم دیتا ہے کہ تم کہہ دوِ کہ میں اپنی ذات کے لئے نہ نفع کا مالک ہوں اور نہ نقصان کا‘ سوائے اس کے کہ جو اللہ کو منظور ہو۔ اگر میں غیب کی خبر رکھتا‘ تو بہت زیادہ نیکیاں کرتا اور کوئی شر مجھے چھو بھی نہ سکتا‘ میں تو ان لوگوں کے لئے جو اایمان رکھتے ہیں‘ فقط ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں۔

مزید  حدیث رد الشمس کی سند کی تحقیق

( سورہ اعراف‘ ۱۸۸)

لیکن جو پیغمبر غیب دان و غیب گو نہ ہو اور جو روحوں‘ پریوں اور جنات سے گفتگو نہ کرے اور روزانہ جس سے کوئی کرامت ظاہر نہ ہو‘ وہ صحرائی لوگوں کی نظر میں کیا حقیقت و اہمیت رکھ سکتا ہے۔ محمد انہیں کائنات کے بارے میں غور و فکر‘ طہارت‘ دوستی‘ علم‘ وفا اور آدمی کے وجود اور زندگی اور قسمت و انجام کے معنی سمجھنے کی طرف بلاتے ہیں اور وہ لوگ آپ سے پے در پے معجزہ طلب کرتے ہیں اور غیب گوئی اور کرامت کی خواہش کرتے ہیں اور خدا آپ ہی کی زبان سے ایسے لہجہ میں کہ گویا ایسے کام کی آپ سے ہرگز ہرگز توقع اور امید نہیں رکھی جا سکتی‘ فرماتا ہے:

سبحان ربی ھل کنت الابشرا رسولا(ڈاکٹر علی شریعتی‘ اسلام شناسی‘ ص ۵۰۲۔۵۰۶)

سبحان اللہِ کیا میں ایک بھیجے ہوئے بشر کے سوا (کچھ اور) ہوں۔ اس گروہ نے جن زیادہ تر آیات کو بطور سند اختیار ہے۔ وہ سورہ اسرا ء کی آیات ۹۰۔۹۳ ہیں‘ جن میں ارشاد خداوندی ہے:

وقالو الن نومن لک حتی تفجرلنا من الارض ینبوعا او تکون لک جنة من نخیل و عنب فتفجر الانھار خلا لھا تفجیرا او تسقط السماء کما زعمت علینا کسفا او تآتی باللّٰہ و الملائکة قبیلا اویکون لک بیت من زخرف اوتآتی فی السماء ولن نومن لرقیک حتی تنزل علینا کتابا نقرؤہ قل سبحان ربی ھل کنت الابشرا رسولا

”وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو آپ کی تصدیق نہیں کریں گے‘ جب تک کہ آپ ہمارے لئے زمین سے چشمہ جاری نہ کر دیں یا آپ کے پاس خرما اور انگور کا کوئی باغ نہ ہو‘ جس میں آپ نہریں جاری کر دیں یا جیسا کہ آپ گمان کرتے ہیں‘ ہمارے اوپر آسمان کا کوئی ٹکڑا نہ گرا دیں یا خدا اور ملائکہ کو ہمارے روبرو حاضر نہ کر دیں یا آپ کے پاس سونے کا گھر نہ ہو یا آپ آسمان پر نہ چڑھ جائیں اور آپ کے آسمان پر پہنچ جانے پر ہم ایمان نہیں لائیں گے۔ جب تک کہ آپ ہم پر آسمان سے کوئی خط نہ نازل کر دیں‘ جس کو ہم پڑھیں۔ اے رسول آپ ان کو کہہ دیجئے کہ پاک و منزل ہے میرا پروردگار‘ کیا میں ایک بھیجے ہوئے بشر کے علاوہ (کچھ اور) ہوں۔“

یہ لوگ (بعض روشن فکر مسلمان مورخین) کہتے ہیں کہ یہ آیتیں ظاہر کرتی ہیں کہ مشرکین پیغمبر سے قرآن کے علاوہ کوئی اور معجزہ چاہتے تھے اور پیغمبر ایسا معجزہ پیش کرنے سے اجتناب اور انکار کرتے تھے۔ اوپر جن مطالب کا ہم نے تذکرہ کیا ہے ان میں سے بعض کی خاص کر جو مطالب دوسرے معجزات کی بہ نسبت قرآن کے معجزہ ہونے کی خصوصیت کو اجاگر کرتے ہیں‘ تائید کرتے ہوئے افسوس کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان تمام نظریات کی تائید نہیں کر سکتے۔ ہماری نظر میں جو مسائل قابل بحث ہیں‘ وہ حسب ذیل ہیں:

۱۔ پیغمبر اسلام کے پاس قرآن مجید کے علاوہ کوئی دوسرا معجزہ نہیں تھا اور قرآن کے علاوہ کوئی دوسرا معجزہ طلب کرنے والوں کے اصرار کے باوجود ان کی بات کو قبول نہیں کرتے تھے۔ اسراء کی آیات اس امر کی دلیل ہیں۔

۲۔ معجزہ ہونے کی قدر و قیمت اور افادیت کتنی ہے؟ آیا معجزہ اور خارق عادت کا تعلق ایسی چیز سے تھا‘ جو انسان کے عہد طفلی کے دور سے جب کہ عقل و منطق کارآمد نہیں تھی‘ مناسبت رکھتی تھی اور ہر شخص یہاں تک کہ کئی بادشاہ ان امور کے ذریعے اپنے اعمال و کردار کی توجیہ کرتے رہے ہیں۔ پیغمبران خدا بھی مجبور تھے کہ انہیں امور کے ذریعے اپنی تعلیمات حقہ کی توجیہ کریں اور لوگوں کو مطمئن کریں۔ پیغمبر اسلام جن کا معجزہ کتاب ہے‘ اس قاعدہ سے مستثنیٰ ہیں۔ آنحضرت نے کتاب اور درحقیقت عمل و منطق کے ذریعے اپنے کو پہچنوایا۔ 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.