معاشرت اور هم نشینی کی طرف اسلام کی توجہ

0 0

تمام انسان اپنی زندگی کو رفاقت اور دوستی کی بنیاد پر قائم کریں اور سب مل جل کر مادی، معنوی، اخلاقی اور انسانی کردار میں ایک دوسرے کے مددگار ثابت ہوں اور ایک دوسرے کے خوشی اورغم میں شریک ہوں اور ایک دوسرے کی زندگی کی خالی جگہ کو بہترین طریقہ سے پر کریں

دین اسلام میں عبادی، فردی، اجتماعی، اقتصادی، سیاسی ، عرفانی،عقلی اور علمی جیسے تمام مسائل موجود ہیں ،اسی وجہ سے قرآن کریم نے اس کو دین کامل کے عنوان سے پہچانا ہے اور اسی کمال اورجامعیت کی وجہ سے مسالہ معاشرت کی طرف توجہ دلائی ہے جو انسان کے لئے بہت ضروری ہے اور معاشرت کی صحیح کیفیت کو بیان کرنے کیلئے بہترین راہنمائی اور ہدایت ہے چاہے وہ انبیاء ، ائمہ اور اولیاء حق کے ساتھ باطنی اور معنوی معاشرت ہو چاہے ان کے حضور میں ہو اور چاہے ان کی غیبت میں اسی طرح معاشرت چاہے شریک حیات ، بیٹے، ماں ، باپ اور رشتہ داروں کے ساتھ ہویا دوسرے عام لوگوں کے ساتھ، اسلام نے ایسے قوانین وضع کردئیے ہیں کہ اگر لوگ معاشرت کے تمام مسائل میں ان قوانین کی پابندی کرلیں تو سعادت اور خوشبختی کے تمام مراحل ان کے قدموں میں آجائیں گے اور معاشرت کی نعمت کے دسترخوان پر ایک دوسرے کے دوست ہوجائیں گے اور اس طرح اپنے بعض مادی اور معنوی امور میں یا سامنے والے کے امور میں کامیاب ہوسکیں گے ۔

معاشرت ، نظام خلقت کے ساتھ سازگار ہے

بہر حال دنیا کے تمام موجودات ایک دوسرے کے ساتھ متفق اور ہم خیال ہیں اوران کی یہ ہم خیالی اس طرح ہے کہ اہل معرفت اس تمام نظام ہستی کو ایک تصور کرتے ہیں گویا دنیا کے تمام موجودات اپنی زبان حال کے ذریعہ تمام انسانوں کو اس بات کی دعوت دے رہے ہیں کہ :

تمام انسان اپنی زندگی کو رفاقت و دوستی کی بنیاد پر قائم کریں اور سب مل جل کر مادی، معنوی، اخلای اور انسانی کردار میں ایک دوسرے کے مددگار ثابت ہوں اور ایک دوسرے کے خوشی اورغم میں شریک ہوں اور ایک دوسرے کی زندگی کی خالی جگہ کو بہترین طریقہ سے پر کریں اور خداو قیامت پرایمان اوراسلام کے حیات بخش قوانین سے آگاہی رکھتے ہوئے معاشرت اور رفاقت کے مرحلہ میں ایک ساتھ زندگی بسر کریں تاکہ سب کی دنیا و آخرت شاد و آباد ہوجائے اور تمام سعادت و خوشبختی کو ہمیشہ کیلئے اپنی آغوش میں لے لیں اوراس طرح کی معاشرت اور ہم نشینی کے سایہ میں امن و امنیت ، عشق و محبت اور کرامت و شرافت کی زندگی بسر کریں ۔

یہ رفاقت اور وابستگی موجودات کے درمیان خصوصا انسان کے لئے ایک عظیم ثمرات کو جنم دیتی ہے ۔ اے کاش کہ انسان بھی ایک دوسرے کے لئے صحیح رابطہ اور صحیح رفاقت و ہمنشینی کے ساتھ ایک دوسرے کی زندگی میں بہترین تبادل خیال کرتے تاکہ زندگی کی فضا ، بہشت کی فضا میں تبدیل ہوجاتی اور ہمیشہ ایک دوسرے سے انسانی اور اخلاقی فائدے اٹھاتے ، البتہ اس طرح کی رفاقت اور ہمبستگی صرف خدا وند عالم ،قیامت، دین اسلام کے قوانین پر عمل پیرا ، انبیاء ، قرآن اور معصومین پر ایمان لانے کے بعد ہی محقق ہوسکتی ہے ۔

ابر و باد و مہ خورشید و فلک در کارند

تا تو نانی بہ کف آری و بہ غفلت نخوری

ہمہ از بہر تو سرگشتہ و فرمان بردار

شرط انصاف نباشد کہ تو فرمان نبری [1] ۔

موجودات کی رفاقت اور ہمبستگی

اس حقیقت کی تفسیر و توضیح کہ تمام موجودات کی نسبت ایک دوسرے سے بہت زیادہ ہے، بیان کرنے کیلئے ایک بہت بڑی کتاب لکھنے کی ضرورت ہے ، لہذا اس کے متعلق کچھ خاص موارد کی طرف اشارہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے ۔

اگر موجودات عالم کے درمیان عقلمند اور قادر پیدا کرنے والا، مہربان و حکیم خالق اس طرح کی رفاقت و دوستی ایجاد نہ کرتا تو یقینا زندگی کا یہ خیمہ اس طرح بپا نہ ہوتا اور نظام ہستی اس خوبصورت و منظم شکل میں ظاہر نہ ہوتی۔

تمام موجودات ایک دوسرے کے ساتھ مرتبط ہیں،یعنی ہر ایک کا وجود دوسرے کے وجود سے مربوط ہے ، دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ ہر ایک کا وجود دوسرے کے وجود کو کامل کرتا ہے ۔

گویا اس دنیا کے تمام موجودات کے اجزاء اور سلول ایک جسم سے بنے ہیں، اور ان کے درمیان زندگی کا ایک ارتباط قائم ہے ، اس طرح کہ اگر اس دنیا میں کوئی چھوٹا سا نقص بھی وجود میں آئے اور ایک موجودان کے درمیان سے ختم ہوجائے تو دوسرے موجودات کو نابودی کا خطرہ لاحق ہوجائے گا ۔

اب ہم یہاں پر موجودات کے درمیان چھوٹا سا نمونہ پیش کرتے ہیں:

پرندوں کے پر اور انسان کی زندگی

اگر پرندوں کے پر نہ ہوتے تو انسان و حیوان زندہ نہ رہتے ، اگر یقین نہیں آتا تو اس بات کی طرف توجہ کریں :

پر ، پرندوں کے جسم کو سردی اور گرمی سے محفوظ رکھنے کے لئے ان کا لباس ہیں، اور پرواز کرنے میں بہت موثر ہیں، اگر پرندوں کے پر نہ ہوں تو سردی اورگرمی میں وہ زندہ نہیں رہ سکتے اور بہت جلد سب ختم ہوجائیں گے پھر کیا ہوگا؟

حشرات (جو کہ اکثر پرندوں کی غذا ہیں)زیادہ ہوجائیں گے اور جب حشرات زیادہ ہوجائیںگے تو وہ ہمیشہ بڑھتے بھی رہیں گے اور منتشر ہوتے رہیںگے ، کھیتی کو کھاجائیں گے ، سبزہ زار اور چراگاہیں نابود ہوجائیں گی ، سبزی اور درخت ختم ہوجائیںگے ، چرنے اور گھانس کھانے والے جانور غذا نہ ہونے کی وجہ سے مر جائیں گے اور پھر سبزی خوروں کے نابود ہونے کے بعد گوشت کھانے والوں کا نمبر آجائے گا وہ بھی مرجائیں گے اور زمین خالی ہوجائے گی اور کوئی بھی چلنے پھرنے والا موجود دکھائی نہیں دے گا ، نیز حشرات کے زیادہ ہونے سے جراثیم زیادہ ہوجائیںگے اور جب جراثیم زیادہ ہوں گے تو انسان ، حیوان اور گھانس پھونس سب نابود ہوجائیں گے [2] ۔

پانی اور حرارت

زمین کا پانی سورج کی گرمی کے اثر سے بخار بنتا ہے ، بخار اوپر ٹھنڈے طبقات میں پہنچ کر بادل بنتا ہے ، بادل بارش بنتے ہیں اور سب جانتے ہیں کہ اگر زمین پر بارش نہ ہو تو کیا ہوگا!

مزید  امت میں اختلاف رحمة للعالمین(ص) کو ناپسند

کیا آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ اگرسورج کی گرمی کافی مقدار میں زمین کے پانی تک نہ پہنچے تو بارش نہیں ہوگی؟ اگر پانی کو بخار بننے کے لئے بہت زیادہ حرارت کی ضرورت ہوتی تو کبھی بارش نہ ہوتی ، جو بخار اوپرجاتا ہے اگر وہ ٹھنڈے طبقات میں نہ پہنچے تو بھی بارش نہیں ہوسکتی ، جو بخار ٹھنڈے طبقوں میں پہنچتا ہے اگر اس میں ایک جگہ جمع ہونے کی صلاحیت نہ ہوتی تونہ بادل بنتے اورنہ بارش ہوتی ، اگر بادل ناقص رہ جاتے تو بارش نہ ہوتی ، اگر زمین کی جاذبیت بارش کے قطروں کو اپنی طرف جذب نہ کرتی اور اپنی طرف نہ کھینچتی تو بارش نہ ہوتی اور اگر ہزاروں علتیں جو بارش ہونے میں موثر ہیں نہ ہوتیں تو بارش نہ ہوتی[3] (٢) ۔

ہوا اور بارش

کیا آپ جانتے ہیں کہ جاندار اور گھانس کی زندگی میں ہوا کس قدر موثر ہے؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں ہوا چلنے میں کیا نظم و ضبط پوشیدہ ہے؟

ہوا ، بارش بناتی ہے ، اگر ہوا نہ ہو تو بارش نہیں ہوسکتی، فطرت کے جاننے والے کہتے ہیں: بادل ایک بجلی کی طرح ہے یہ بجلی اگر ایک قسم کی ہو تو ایک دوسرے کو دور کرتی ہے اور اگر دو طرح کی ہو تو ایک دوسرے کو جذب کرتی ہے ۔

ہوا کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ دو طرح کی بجلیوں کو جمع کرتی ہے جس کے نتیجہ میں ایک بجلی دوسری بجلی کو جذب کرتی ہے اور بجلی کا متحد ہونا محقق ہوجاتا ہے اور بارش اسی اتحاد کا نتیجہ ہوتاہے لہذا ان دو بجلیوں کے اتحاد و اتفاق سے جو موثر عامل پیدا ہوتا ہے اور اس کو بارش کا نام دیاجاتا ہے وہ ہوا ہے ۔

فصلی ہوائیں جو سمندروں کی طرف سے آتی ہیں اور گرم علاقوں میں چلتی ہیں اگر یہ ہوائیں نہ چلتیں تو وہاں پر گرمی کی شدت سے زندگی بسر کرنا مشکل ہوجاتا ، ہوا ،گرمی کی شدت کو کم کرتی ہے اور ان علاقوں کو انسانی زندگی کے لئے آمادہ کرتی ہے ، انہیںعلاقوں میں سے ایک ہندوستان ہے جو بہت گرم علاقہ ہے لیکن ہوا نے اس علاقہ کو زندگی بسر کرنے کے قابل بنادیا ہے ۔

دریائی اورزمینی ہوائیں جو شب و روز گرم علاقوں میں چلتی رہتی ہیں ان ہوائوں نے بندر گاہوں پر رہنے والوں کی زندگی کو آسان بنادیا ہے ۔

گرم علاقوں سے گرم ہوائیں سرد علاقوں کی طرف روانہ ہوتی ہیں اور وہاں کی سردی کو کم کرتی ہیں ،جیسے انگلینڈ کے لئے”گلف اسٹریم”اور جاپان کے لئے ”گلف ورلڈ”۔

خط استوا سے نیچے کی گرمی کے متعلق اہل علم کو معلوم ہے نیز وہ جانتے ہیں کہ استوا کی گرمی طبیعت کے اعتبار سے بڑھتی رہتی ہے ، قطب شمالی اور جنوبی کے مقابلہ میںاستوائی علاقوں میں ہوا بہت ہی روان ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہاں کے لوگ بہت آسانی کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں ۔

علاقوں کی بارش کے حالات کو ہوائیں بدل دیتی ہیں، انڈونیشیاجیسے ملکوں میں بارش کی فصل کو گرمی کی فصل قرار دیا گیاہے ، لبنان میں بارش ،سردیوں میں ہوتی ہے ۔

بعض علاقوں میں شاید ہندوستان کاایک شہر بھی اسی میں سے ہے، پورے سال بارش ہوتی ہے، ہندوستان کے اس علاقہ میں ایک سال میں بارش گیارہ مٹر تک پہنچ جاتی ہے! زمین پر بارش کے موسم کا اختلاف ، سبب بنتا ہے کہ انسان ہر طرح کی نباتات سے فائدہ اٹھاسکے ۔

اکثر نباتات میں دونوں پہلو پائے جاتے ہیں: نر اور مادہ ، جیسے مخنث انسان میں دونوں خصوصیتیں پائی جاتی ہیں ۔ اگر نباتات میں پیوندکاری کردی جائے تو وہ بہت زیادہ پھل دیتے ہیں اور اگریہ پیوندکاری نہ ہو تو اچھے پھل نہیں دیتے ۔

کچھ درختوں کی پیوند کاری انسان کے ذریعہ ہوتی ہے خصوصا کھجور کے درخت کی پیوند کاری اور یہ پیوند کاری انسان کی مرضی کے تحت ہوتی ہے لیکن بعض درختوں کی پیوند کاری کو نر اور مادہ کے ذریعہ ہواانجام دیتی ہے ، پس یہاں پر روشن ہوجاتا ہے کہ اگر ہوا کے ذریعہ پیوند کاری نہ ہوتی تو اس دنیا میں سالم پھل نہ مل پاتے ۔

کھجور کے درخت میں ہوا کی پیوندکاری کا بھی اثر ہوتا ہے ، ہوا کے ذریعہ پیوندکاری کے معنی یہ ہیں کہ ہوا نر درخت کے ذرات کو حاصل کرکے مادہ درخت تک پہنچا دیتی ہے، اس کے علاوہ حشرات کے ذریعہ بھی پیوندکاری انجام پاتی ہے ۔

اب تک جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ سب ہواکی خدمات سے متعلق تھا اگر چہ ہوا کی خدمتیں اس سے کہیں زیادہ ہیں[4] ۔

معاشرت کی ضرورت

انسان کی زندگی میں معاشرت اور رفاقت کا شمار اہم مسائل میں ہوتا ہے ، یہاںتک کہ اس کی مثبت صورت دنیا و آخرت میں خوشبختی اور اس کا منفی چہرہ دنیا و آخرت میں بدبختی کا سبب بن جاتا ہے ۔

دوستی اور دوست تلاش کرنا ایسی حقیقت ہے جس کی طرف تمام انسانوں کی فطرت اور طبعیت کھنچی چلی جاتی ہے اور انسان کے اندر اس کا وجود اس قدر پایا جاتا ہے کہ بعض علماء نے اس کو انسان کے فطری میل و غرائز کے اجزاء میں شمار کیا ہے ۔

یہ فطری غریزہ اور فطری کشش اس وجہ سے ہے کہ خداوند عالم نے انسان کو اجتماعی اور معاشرتی مزاد سے لپیدا کیا ہے اوراس کی مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کرنا دوسروں کی ذمہ داری قرار دیا ہے ۔

انسان کی پیدائش کا راز اس طرح ہے کہ وہ دوسروں کے بغیر یک و تنہا زندگی بسر نہیں کرسکتا اور معاشرہ سے دوری اختیار کرتے ہوئے تنہائی کے ایک گوشہ میں بیٹھ کر دوسروں کے بغیر اپنی زندگی کو کامل نہیں کرسکتا ۔

ظاہری طور پر انسان تنہائی کا انتخاب کرتا ہے لیکن پھر بھی اپنی زندگی کوقائم کرنے کیلئے وہ دوسروں کی زحمات اور کوشش کا مرہون منت رہتا ہے اور آخر کار تنہائی میں بھی وہ اجتماعی زندگی بسر کرتا ہے ۔

اسلام میں معاشرت

دوسروں کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی رغبت اور دوست بنانے کے انگیزہ کوحضرت آدم سے لے کر اسلام کے ظاہر ہونے تک اسلام (کیونکہ خدا کا فرہنگ انسان کی پیدائش کے آغاز سے قیامت تک ہے)نے ہمیشہ اس کی طرف توجہ دی ہے اوراس متعلق بہت سے ثمر بخش قوانین کو بیان کرکے انسان کو ہدایت کا راستہ دکھایا ہے ۔

مزید  مہدویت

ہرزمانہ میں قرآن مجید کی آیات اور روایات میں معاشرت کے مسئلہ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور اس کے متعلق انسان کی بہت زیادہ راہنمائی کی گئی ہے ۔

قرآن کریم نے بدرفتار اور اخلاقی رذایل سے آلودہ افراد کی صحبت میں بیٹھنے اور زندگی بسرکرنے کو (کیونکہ اس کے ساتھ ہمنشینی ، گمراہی، تباہی اور انسانیت کی تباہی کا سبب ہے)شیطان سے تعبیر کیا ہے ، پوری تاریخ میں ایسے انسان کو خدا کی راہ سے منحرف اور دنیا و آخرت میں خوشبختی اور سعادت کا دشمن شمار کیا گیا ہے اور اس کو آلودگی اور پلیدی کا سبب قرار دیتے ہوئے اپنے ہمنشین کیلئے خیال ساز موجود بیان کیا ہے اور اس طرح کی معاشرت اور رفاقت کا نتیجہ ندامت اور حسرت شمار کیا ہے ۔

” وَ ِنَّہُمْ لَیَصُدُّونَہُمْ عَنِ السَّبیلِ وَ یَحْسَبُونَ أَنَّہُمْ مُہْتَدُونَ ،حَتَّی ِذا جاء َنا قالَ یا لَیْتَ بَیْنی وَ بَیْنَکَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرین”اور یہ شیاطین ایسے لوگوں کو راستہ سے روکتے رہتے ہیں اور یہ یہی خیال کرتے ہیں کہ یہ ہدایت یافتہ ہیں ، یہاں تک کہ جب ہمارے پاس آئیں گے تو کہیں گے کہ اے کاش ہمارے اور ان کے درمیان مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا یہ تو بڑا بدترین ساتھی نکلا ۔

معاشرت کے دو نمایاں پہلو

معاشرت، ہم نشینی، دوستی اور رفاقت اسلام کی نظر میں اپنے تمام معنی کے ساتھ انسان کے لئے خیر کا راستہ ہموار کرتی ہے، یا اپنے تمام معنی کے ساتھ انسان کے لئے شرکا راستہ ہموار کرتی ہے ۔

صحیح معاشرت کا ماحصل نیک بختی اور سعادت ہوتا ہے اور غلط معاشرت کا ماحصل بدبختی اورشقاوت ہوتا ہے ۔

بعض امور کی اچھائی، جزئی ہوتی ہے اور اس کی طرف رغبت بھی کم ہوتی ہے ، بعض امور کی برائی کم ہوتی ہے، لیکن بعض حقیقتوں کی اچھائی بہت زیادہ اور بعض مسائل کی برائی حد سے سوا ہوتی ہے جس سے انسان ہلاک ہوجاتا ہے ۔

دوسروں کے ساتھ معاشرت، دوستی اور رفاقت کا شمار ان امور میں ہوتا ہے کہ اگر یہ مثبت ہوں اور ان کو صحیح طریقہ سے انتخاب کیا جائے تو یہ انسان کے لئے دنیا و آخرت میں خیر کا سبب ہے اور اگر باطل اورمنفی ہو ں اور ان کا صحیح انتخاب نہ کیا جائے تو ان کا شر دنیا و آخرت میں انسان کے دامن سے لگا رہتا ہے ۔

کبھی انسان باطن کی برائی ،ناپسند رفتار اور شیطانی کردار کے لحاظ سے دوزخ کی طرف بڑھ جاتا ہے لیکن صحیح و سالم دوستی ،دل سوزاورخیروخواہ مومن کی وجہ سے اس کا راستہ بدل جاتا ہے اور دوست سے پاک طینت اور ادب حاصل کرنے کے ذریعہ بہشت اور صراط مستقیم کا راستہ اختیار کرتاہے ۔

کبھی انسان باطن کی خوبصورتی، پسندیدہ رفتار اور الہی کردار کے لحاظ سے بہشتی ہوجاتا ہے اور اپنی دنیا و آخرت کی سلامتی کو محفوظ کرلیتا ہے لیکن کبھی کبھی اچھے ظاہر اور بے ادب و بے دین باطن کی وجہ سے اپنے راستہ کو بدل دیتا ہے اور منبع شر کے اثرات لینے کی وجہ سے دوزخ اور باطل کی طرف قدم بڑھادیتا ہے ۔

پوری تاریخ میں یہ دونوں معنی بہت زیادہ پائے جاتے ہیں اور قرآن کریم نے بہت سی آیات میں ان دونوں کی طرف اشارہ کیا ہے اور دونوں کواچھی معاشرت کرن کے لئے عبرت کا سبب قرار دیا ہے ۔

حضرت نوح (علیہ السلام)کے بیٹا نے اپنے والد سے جدا ہونے کے بعد منکران حق و حقیقت ، شہوت پرست، گمراہ اور گمراہ کرنے والے بے ادبوں کی رفاقت اور معاشرت کا انتخاب کیا اور ان کے طور طریقہ کو اس طرح قبول کرلیا کہ اس کے اندر سے الہی اور انسانی شخصیت ویران ہوگئی اور پانی کی موجوں کے درمیان غرق ہوجانے والے عذاب میں گرفتار ہوگیا اور پروردگار کی بارگاہ میںبیٹے کی نجات کے لئے حضرت نوح کی درخواست قبول نہیں ہوئی !!

” وَ نادی نُوح ابْنَہُ وَ کانَ فی مَعْزِلٍ یا بُنَیَّ ارْکَبْ مَعَنا وَ لا تَکُنْ مَعَ الْکافِرینَ ، قالَ سَآوی ِلی جَبَلٍ یَعْصِمُنی مِنَ الْماء ِ قالَ لا عاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّہِ ِلاَّ مَنْ رَحِمَ وَ حالَ بَیْنَہُمَا الْمَوْجُ فَکانَ مِنَ الْمُغْرَقینَ ، وَ قیلَ یا أَرْضُ ابْلَعی ماء َکِ وَ یا سَماء ُ أَقْلِعی وَ غیضَ الْماء ُ وَ قُضِیَ الْأَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَی الْجُودِیِّ وَ قیلَ بُعْداً لِلْقَوْمِ الظَّالِمینَ ،وَ نادی نُوح رَبَّہُ فَقالَ رَبِّ ِنَّ ابْنی مِنْ أَہْلی وَ ِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ وَ أَنْتَ أَحْکَمُ الْحاکِمینَ ،قالَ یا نُوحُ ِنَّہُ لَیْسَ مِنْ أَہْلِکَ ِنَّہُ عَمَل غَیْرُ صالِحٍ فَلا تَسْئَلْنِ ما لَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْم اِنِّی أَعِظُکَ أَنْ تَکُونَ مِنَ الْجاہِلینَ”[5]

نوح نے اپنے فرزند کو آواز دی جو الگ جگہ پر تھا کہ فرزند ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہوجا اور کافروں میں نہ ہوجا ،اس نے کہا کہ میں عنقریب پہاڑ پر پناہ لے لوں گا وہ مجھے پانی سے بچالے گا -نوح نے کہا کہ آج حکم خدا سے کوئی بچانے والا نہیں ہے سوائے اس کے جس پر خود خدا رحم کرے اور پھر دونوں کے درمیان موج حائل ہوگئی اور وہ ڈوبنے والوں میں شامل ہوگیا ،اور قدرت کا حکم ہوا کہ اے زمین اپنے پانی کو نگل لے اور اے آسمان اپنے پانی کو روک لے .اور پھر پانی گھٹ گیا اور کام تمام کردیا گیا اور کشتی کوئہ جودی پر ٹھہر گئی اور آواز آئی کہ ہلاکت قوم ظالمین کے لئے ہے ، اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ پروردگار میرا فرزند میرے اہل میں سے ہے اور تیرا وعدہ اہل کو بچانے کا برحق ہے اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ، ارشاد ہوا کہ نوح یہ تمہارے اہل سے نہیں ہے یہ عمل غیر صالح ہے لہذا مجھ سے اس چیز کے بارے میں سوال نہ کرو جس کا تمہیں علم نہیں ہے -میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تمہارا شمار جاہلوں میں نہ ہوجائے ۔

پسر نوح با بدان بنشست

خاندان نبوتش گم شد

سگ اصحاب کہف روزی چند

پی نیکان گرفت و آدم شد [6] ۔

معاشرت کا تعجب خیز اثرچاہے مثبت سمت میں ہو یا منفی سمت میں کبھی بھی قابل انکار نہیں ہے ۔

جس وقت انسان خصوصا جوانی کے ایام میں جب اس کے احساسات وعواطف اور غرائز و میل اوج پر ہوتے ہیں ،کسی مثبت انسان سے ٹکراجائے اوراس کی پاک طینت اور عادت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کا دوست اور ہم نشین ہوجائے ،اس کے ساتھ نشست و برخاست کرے تو یقینا اس کا مثبت اور پاک ہونا اس انسان میں اثر انداز ہوگا اور جس وقت انسان گمراہ ، بے تربیت اور بے ادب شخص کے پاس بیٹھے گا اور وہ اس کو بدلنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا ہوگا تو اس کی نامطلوب راہ و روش اور عادت اس کے اندر اثر انداز ہوگی اور وہ اس کو بدبختی اور اس کی استعداد کوآشکار ہونے سے محروم کردے گی ۔

مزید  آپ معصومہ ہیں

متاثر ہونا اور متاثر کرنا

جب انسان کسی معاشر سے دل لگالے اور طرفین ایک دوسرے سے محبت کرنے لگیں تومعاشرت کی اثر گذاری کا مسئلہ ایسی حقیقت ہے کہ اگر اسلام مقام بیان میں نہ ہوتا تو اس کی حقیقت سب پر روشن اور واضح ہوجاتی اور چونکہ اسلام نے اس واقعیت کے تمام جوانب کی توضیح بیان کی ہے اور اس متعلق کسی ایک چیز کو بغیر بیان کئے ہوئے نہیں چھوڑا جو انسان کی زندگی میں اس مسئلہ کی عظمت اوراہمیت پردلیل ہے ۔

انسان معاشرت کے ذریعہ (چاہے اس کی مرضی ہو یا مرضی نہ ہو)اثر قبول کرتا ہے اوراس میں کبھی بھی یہ طاقت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے اثر قبول کرنے اورمعاشر کے اثرچھوڑنے کو ختم کرسکے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو انسان کی زندگی میں یہ سب مثبت اور منفی آثار پیدا نہ ہوتے ۔

اور چونکہ انسان کی طبیعت (جیسا کہ ہم نے کہا ہے)شدت کے ساتھ اثر کو قبول کرتی ہے ، قرآن کریم نے ظالمین اوران لوگوں سے جو الہی آداب کو قبول نہیں کرتے ، ان کے ساتھ نشست و برخاست کرنے سے منع کیا ہے اور فرمایا ہے : جب حقایق سے آگاہی اور آیات خدا سے آشنائی ہوجائے اور ہدایت حق کا سورج تمہارے وجود کے افق سے طلوع کرجائے اور تمہیں صراط مستقیم کی ہدایت کردے تو حقوق کی حدوں سے تجاوز کرنے والوں کے ساتھ معاشرت نہ

کرو۔ ”فَلا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْری مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمین”[7] اور یاد آنے کے بعد پھر ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھنا ۔

طبیعت کا اثر قبول کرنا اس درجہ سریع اور شدید ہے کہ قرآن کریم نے اس متعلق فرمایا ہے :

” وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْکُمْ فِی الْکِتابِ أَنْ ِذا سَمِعْتُمْ آیاتِ اللَّہِ یُکْفَرُ بِہا وَ یُسْتَہْزَأُ بِہا فَلا تَقْعُدُوا مَعَہُمْ حَتَّی یَخُوضُوا فی حَدیثٍ غَیْرِہِ ِنَّکُمْ ِذاً مِثْلُہُمْ ِنَّ اللَّہَ جامِعُ الْمُنافِقینَ وَ الْکافِرینَ فی جَہَنَّمَ جَمیعاً” [8] ۔

اور اس نے کتاب میں یہ بات نازل کردی ہے کہ جب آیات الٰہی کے بارے میں یہ سنو کہ ان کا انکار اور استہزاء ہورہا ہے تو خبردار ان کے ساتھ ہرگز نہ بیٹھنا جب تک وہ دوسری باتوں میں مصروف نہ ہوجائیں ورنہ تم ان ہی کے مثل ہوجاؤ گے خدا کفار اور منافقین سب کو جہّنم میں ایک ساتھ اکٹھا کرنے والا ہے ۔

جن عناصر نے ہمارے وجود کو تشکیل دیا ہے وہ اسی دنیا کے عناصر ہیں ، عناصرآزاد ، اثر گذار اور اثر پذیر ہیں اور ہم بھی اسی جہان کے عناصر سے تشکیل پائے ہیں لہذا ہم میں اثر گذار اور اثر پذیر عناصر موجود ہیں اور اسی وجہ سے ہمیشہ اس قانون سے محکوم رہیں گے ۔

ہم جن امور سے بھی مرتبط ہیں ہم ان سے اثر قبول کرتے ہیں اور بہت سے امور پر اپنا اثر چھوڑتے ہیں ۔

جب ہم جسم کے حصہ میں اثر چھوڑتے یا اثر قبول کرتے ہیں تو یقینا روح اور نفس وجان میں بھی اثر چھوڑتے اور اثر قبول کرتے ہوں گے کیونکہ یہ لطافت اور رقت سے برخوردار ہے ۔

آپ کسی ایک انسان کی مختلف نگاہوں کو اپنی طرف دقت سے دیکھو تو ہر طرح کی نظر روح و قلب پر ایک خاص اثر چھوڑتی ہے ۔

خشم آلود نظر ایک اثر چھوڑتی اور عام نظر ایک دوسرا اثر چھوڑتی ہے ، محبت کی نظر خوشحالی کا اثر اور تعجب و سوال کی نظر ایک خاص اثر چھوڑتی ہے ۔

مختلف آوازیں، مختلف طور طریقہ بھی انسان پر مختلف اثر چھوڑتے ہیں ۔

معاشرت کی داستان ، دو دلوں کی ایک دوسرے سے ملاقات کی داستان کی طرح ہے اور دو روحوں کا محبت آمیز رابطہ کے ذریعہ متصل ہونا ہے اور اثر گذاری کی لحاظ سے دونوں کی نظریں بہت شدید ہیں ۔

جب کوئی کسی کو دوست رکھتا ہے اور اس کی رفاقت و ہم نشینی کو بھی دوست رکھتا ہو چاہے سامنے والا مثبت ہو یا منفی ، وہ چاہتا ہے کہ تمام طور طریقہ میں اسی کی طرح اپنے آپ کو بنائے اور سجائے رکھے تاکہ اپنی دوستی کو مستحکم کرنے کے لئے اس کی رضایت کو حاصل کرسکے ۔

دوسری عبارت میں یہ کہا جائے کہ جب کوئی انسان کسی کے ساتھ قلبی اور دوستی رابطہ برقرار کرتا ہے اور سامنے والے کی جاذبیت اور کشش کی وجہ سے وہ اس کے تسلط میں چلا جاتا ہے تو کچھ دنوں کے بعد سامنے والے کا وجود اس کے برابر ہوجاتا ہے ،یہاں تک کہ اس کی روش اور طور طریقہ کو دیکھنے والے (چاہے وہ ظاہری امور میں ہو اور چاہے اخلاقی و عملی امور میں) اس کے دوست و رفیق کو یاد کرنے لگ لگتے ہیں اور کہتے ہیں : گویا یہ شخص وہی شخص ہے!

اس ارتباط اورشکل وصورت میں ضروری نہیں ہے کہ انسان کے محبوب کا مادی وجود درمیان میں آئے ، کبھی کبھی کوئی انسان کسی انسان کے مثبت اوصاف اور پاک طور طریقہ کو دوسروں سے سننے یا مطالعہ کرنے سے آگاہ ہوجاتا ہے اور اس کے دل میں اس کی محبت گھر کرلیتی ہے اوراس محبت کے اثر میں وہ اپنے محبوب کی شکل اور طور طریقہ کو اپنا لیتا ہے اور وہ اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ اپنے آپ کو اپنے محبوب کا وجود بنا دیتا ہے ۔

[1] . سعدی شیرازی ۔

[2] . نشانہ ھای از او ، ص ٤١۔

[3] . نشانہ ھای از او ، ص ٤٩۔

[4] . نشانہ ہای از او ، ص ١٦٤۔

[5] . سورہ ہود، آیت ٤٢ ۔ ٤٦۔

[6] . سعدی شیرازی ۔

[7] . سورہ انعام، آیت ٦٨۔

[8] . سورہ نساء ، آیت ١٤٠۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.