معادقرآن میں(درس دوم)

0 0

قبض روح کا مسؤل کون ؟خدا یا ملک الموت یا ملائکه

ہماری گفتگو اس میں ہے کہ قبض روح کا مسؤل کون ہے؟اس بارے میں قرآن کریم سے کیا استفادہ ہوتا ہے ؟

بیان ہوا کہ اس بارے میں موجود آیات کریمہ میں پانچ عناوین موجود ہیں بعض سے استفادہ ہوتا ہے کہ اس کا مسؤل خودخداوندمتعالی ہے کہ خودمستقیماًروح قبض کرلیتاہے کہ سورہ زمرمیں ہے:”اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حينَ مَوْتِها”[1]یہاں پرکچھ خاص افرادمدنظر نہیں ہے کیونکہ ‘الانفس’ جمع ہے اورالف ولام کے ساتھ ذکر ہوا ہے جس سے عموم استفادہ ہوتا ہے یعنی اس آیت کریمہ سے یہی استفادہ ہوتا ہے کہ تمام انسانوں کا قبض روح خودخدا کرتا ہے”اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حينَ مَوْتِها” لیکن سورہ سجدہ میں اسے ملک الموت سے نسبت دی ہے ‘قُلْ يَتَوَفَّاكُمْ مَلَكُ الْمَوْتِ الَّذي وُكِّلَ بِكُمْ”[2] یہاں پر بھی خاص افراد مد نظر نہیں ہے کیونکہ ‘توفاکم ‘ ذکر ہوا ہے جوعمومی خطاب کے لئے ہے ۔

اورسورہ نساء میں ملائکہ سے نسبت دی ہے ‘الَّذينَ تَتوَفَّاهُمُ الْمَلائِكَة ‘[3]

کچھ دوسری آیات ہیں جن میں بھی خود خداسے نسبت دی گئی ہے جیسے :’ وَهُوَالَّذي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ ما جَرَحْتُمْ بِالنَّهار'[4] اور’ْ أَعْبُدُ اللَّهَ الَّذي يَتَوَفَّاكُم ‘[5] ۔

عرض ہوا کہ یہاں پران آیات کو آپس میں جمع کرنے کے دوطریقے ہیں ،سب سے اعلی سبب خداوندمتعالی ہے ،اس کے بعد ملک الموت ہے ،اورملک الموت کے بعد اس کے اعوان وانصار ہیں اگر کسی کام کو ملک الموت کے اعوان وانصار نے انجام دیا تو ان کا یہ کام ملک الموت کا کام ہے اورملک الموت کا کام خدا کا کام ہے.

علامہ پر اشکال:

سب سے پہلا اشکال یہ ہے کہ:علامہ طباطبائی رضوان اللہ تعالی علیہ کا یہ بیان اگرچہ ثبوتی حوالہ سے ممکن ہے جس طرح یہ مثال کہ اگر کوئی باپ اپنے بیٹے سے کسی کام کوانجام دینے کاحکم کرے،اس وقت بیٹے کے کام کوباپ سے بھی نسبت دے سکتا ہے ! اسی طرح وکیل کا کام موکًل کا بھی ہے ،لیکن یہ بیان اس بارے میں موجود روایات سے نہیں بنتا، ان روایات میں سے ایک بیان ہوا ۔

دوسرا اشکال :علامہ پردوسرااشکال یہ ہے کہ قرآن کریم میں فرماتا ہے :«اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ» آیت کا ظہوریہ ہے کہ خدامباشرتاً خود ہی اس قبض روح کو انجام دے رہا ہے ،اگرہم علامہ کی اس بات کو قبول کریں تویہ بتانا پڑے گا کہ اس آیت میں اللہ سے جو نسبت دی ہے وہ مجازی ہے حقیقی نہیں ہے ! ٹھیک ہے کہ فرشتوں کے کام کو ملک الموت سے نسبت دی جاتی ہے لیکن آیات کریمہ کا ظہوریہ ہے کہ وہ مباشرتاً اس فعل کو انجام دے رہا ہے ۔

تیسرااشکال :اگرمطلب ویسا ہی ہوجس طرح علامہ بیان کررہاہے تواس طرح مختلف تعبیروں کے ساتھ بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی ،ان مختلف تعبیروں کے ساتھ بیان کرنے میں کیا حکمت ہے؟تعبیروں میں جواختلاف ہے تو اس میں ضرور کچھ نہ کچھ کوئی وجہ ہونی چاہئے،یعنی جہاں خدافرماتا ہے«الله يتوفي الانفس»ضروراس میں کوئی خاص نکتہ ہے جو«يتوفاكم ملك الموت»میں نہیں ہے،اگرہم یہ بتائیں کہ فرشتوں کا کام وہی ملک الموت کا کام ہے اوریہ خداکاہی ہے،تواس بات کا لازمہ یہ ہے کہ جہاں پر«قل يتوفاكم الله» فرمارہا ہے وہا ں ‘ملک الموت ‘کے بدلے ‘اللہ ‘ہوتواس میں کوئی اشکال نہیں ہونا چاہئے اوران دونوں میں کوئی فرق نہیں ہونی چاہئے ، درحالیکہ یقینی طورپرخداوند متعالی کا یہ مقصودنہیں ہے ،یعنی یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہرایک تعبیرمیں کوئی خاص نکتہ اوررازپوشیدہ ہے،یہ آیات ہرایک کے انجام دینے کے بارے میں ظہوررکھتا ہے ،خدا کی نسبت بھی ظہورہے یعنی خودخداقبض روح کرتا ہے،اورملک الموت کی نسبت بھی ظہورہے یعنی ملک الموت خود قبض روح کرتا ہے اسی طرح فرشتوں کی نسبت بھی ،اگرہم اس سے مراد کو معلوم نہ کر سکے تو ان سب کو ایک نکتہ میں جمع کرنا چاہئے وہ نکتہ اجتماع وہی ہے کہ بیان ہوا کہ ایک گروہ کاخودخداقبض روح کرتا ہے اس کے بعد کا درجہ ملک الموت کا ہے وہ قبض روح کرتا ہے ،اورایک اورگروہ کا فرشتے قبض روح کرتے ہیں اس بارے میں ایک روایت بھی موجود تھی کہ بیان ہوا کہ کسی شخص نےحضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خدمت میں آکر ان آیات کے درمیان اختلاف ہونے کے بارے میں بتایا،تو آپ علیہ السلام نے فرمایا :جس کی بھی چاہئے خداخود قبض روح کرتاہے ‘من یشا ء’ اورایک خاص گروہ کا ملک الموت قبض روح کرتا ہے اورباقی سب کی فرشتے قبض روح کرتے ہیں،لیکن یہ روایت آیت کریمہ کے ظاہر سے مناسب نہیں ہے کیونکہ آیت میں فرماتا ہے اللہ یتوفی الانفس’یعنی سب مرنے والوں کا خدا قبض روح کرتا ہے ، لہذا سب کے لیے مستقیم خدا کی طرف نسبت دی ہے ۔

مزید  مذہب یھود اور حجاب

چوتھااشکال:ہمارے ہاں انفس کے لحاظ سے پیغمبر اکرمصلی اللہ علیہ وآلہ سے کوئی اورخاص فردنہیں ہے،پیغمبراکرمصلی اللہ علیہ وآلہ کی قبض روح کو ملک الموت نے انجام دیا،اسی طرح حضرت ابراہیمعلیہ السلام کی قبض روح بھی جیسا کہ روایت کو آگے بیان کریں گے ملک الموت نے انجام دیا،یعنی انبیاء کے روح کوملک الموت نے قبض کیا ہے،اگرآیات کوآپس میں جمع کرنے کا یہ دوسراطریقہ صحیح ہوتو انبیاء کے بارے میں ہم کیا بتائیں گے ؟

آیات کے تعبیروں میں اختلاف کو جمع کرنے کا تیسرا طریقہ :

کتاب من لا یحضر الفقیہ میں ایک روایت ہے جوہمارے لیے تیسری طریقہ کو بتاتا ہے ہماری نظرمیں اگریہ طریقہ قابل قبول ہوتوپھردوسرے اورپہلے طریقے کی ضرورت نہیں ہے ،جس سوال کو کسی شخص نے امیر المؤمنین علیہ السلام سے کیا تھا ،اسی سوال کوامام صادق علیه السلام سے بھی کسی نے کیا ہے روایت یہ ہے :وَ سُئِلَ الصَّادِقُ علیہ السلام عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ اللّٰهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهٰا وَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ قُلْ يَتَوَفّٰاكُمْ مَلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ وَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ -الَّذِينَ تَتَوَفّٰاهُمُ الْمَلٰائِكَةُ طَيِّبِينَ وَ الَّذِينَ تَتَوَفّٰاهُمُ الْمَلٰائِكَةُ ظٰالِمِي أَنْفُسِهِمْ وَعَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ- تَوَفَّتْهُ رُسُلُنٰا وَعَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَ جَلَّ- وَ لَوْتَرىٰ إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا الْمَلٰائِكَةُ وَ قَدْيَمُوتُ فِي السَّاعَةِ الْوَاحِدَةِ فِي جَمِيعِ الْآفَاقِ مَا لَا يُحْصِيهِ إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ فَكَيْفَ هَذَا فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى جَعَلَ- لِمَلَكِ الْمَوْتِ أَعْوَاناً مِنَ الْمَلَائِكَةِ يَقْبِضُونَ الْأَرْوَاحَ بِمَنْزِلَةِ صَاحِبِ الشُّرْطَةِ لَهُ أَعْوَانٌ مِنَ الْإِنْسِ يَبْعَثُهُمْ فِي حَوَائِجِهِ فَتَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ وَيَتَوَفَّاهُمْ- مَلَكُ الْمَوْتِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مَعَ مَا يَقْبِضُ هُوَ وَ يَتَوَفَّاهَا‌اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ مِنْ مَلَكِ الْمَوْتِ‌[6]۔

اس سائل کے سوال میں ایک چیزاضافہ بھی ہے کہتاہے :وَ قَدْ يَمُوتُ فِي السَّاعَةِ الْوَاحِدَةِ فِي جَمِيعِ الْآفَاقِ مَا لَا يُحْصِيهِ إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ فَكَيْفَ هَذَا ایک ہی سیکنڈ میں دنیا میں بہت سارے مرجاتے ہیں جوہماری گنتی سے باہر ہے،خدا کے علاوہ کوئی ان کی تعداد کو نہیں جانتا،پس کچھ آیات میں ہیں کہ ملک الموت ان کی قبض روح کرتا ہے یہ کیسے ممکن ہے؟ چونکہ جس طرح خدا کے بارے میں فرماتا ہے:’یتوفی الانفس’ ملک الموت کے بارے میں بھی ‘یتوفاکم ‘ ہے ‘کم ‘سے مرادانفس ہے،اس میں پیغمبر اکرم ۖ کے مخاطب صرف مرادنہیں ہے بلکہ ‘کم ‘یعنی تمام انفس، ملک الموت ایک ہی سیکنڈ میں ان سب کے کیسے قبض روح کر سکتا ہے؟۔

امام علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا ‘إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى جَعَلَ لِمَلَكِ الْمَوْتِ أَعْوَاناً مِنَ الْمَلَائِكَةِ ‘خدانے ملک الموت کے لئے فرشتوں میں سے کچھ اعوان وانصارقراردیئے ہیں’يَقْبِضُونَ الْأَرْوَاحَ بِمَنْزِلَةِ صَاحِبِ الشُّرْطَةِ لَهُ أَعْوَانٌ مِنَ الْإِنْسِ’ جس طرح پولیس میں انسپکٹر ہوتاہے اوراس کے بہت سارے سپاہی ہوتے ہیں،اسی طرح ملک الموت کے بھی بہت سارے سپاہی ہیں ‘ يَبْعَثُهُمْ فِي حَوَائِجِهِ ‘ضرورت کے موقع پران سپاہیوں کوبھیجتا ہے’فَتَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ’اوریہ فرشتے قبض روح کرتا ہے’وَيَتَوَفَّاهُمْ مَلَكُ الْمَوْتِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ ‘ ملک الموت کے سپاہی آتے ہیں ایک میلیون افرادکے قبض روح کرتے ہیں ایک میلیون فرشتے ہیں کہ ان میں سے ہرایک کسی فرد کے قبض روح کرنے پر مأمور ہے،یہ سب قبض روح کرتے ہیں اوراس کے بعد ملک الموت ان سب ارواح کو ان سے قبضے میں لے لیتے ہیں’وَيَتَوَفَّاهُمْ مَلَكُ الْمَوْتِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مَعَ مَا يَقْبِضُ هُوَ ‘اورخود ملک الموت بھی بعض کا روح،قبض کرتا ہے اوراس کے بعد’وَ يَتَوَفَّاهَا‌اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ مِنْ مَلَكِ الْمَوْتِ ‘خداان سب کو ملک الموت سے لے لیتا ہے،خلاصہ یہ ہے کہ پہلے مرحلہ میں فرشتے قبض روح کرتا ہے،بیان ہوا کہ وفات اورموت میں فرق ہے،وفات یعنی ‘اخذ الشیء تماماً وحفظہ’ اس میں لے لینا اوراس کے بعد حفظ کرنا بھی ہے ،فرشتے انسان سے اس کے روح کو لے لیتا ہے اوراسے اپنے پاس رکھتا ہے اوربعد میں ملک الموت کو دے دیتا ہے،اورملک الموت بھی ان سب کوخداکے تحویل میں دے دیتا ہے ۔

مزید  راستے بند ہیں سب کوچۂ قاتل کے سِوا

آیات سے بطور مستقیم ہونااستفادہ ہوتا ہے ‘اللہ یتوفی الانفس حین موتہا ‘یہاں نسبت بطورمستقیم بھی ہے اورنسبت بھی تمام انفس سے ہے،نہ کہ کوئی خاص فرد، ملک الموت کے بارے میں بھی یہی دونوں چیزیں ہیں،اورملائکہ کے بارے میں بھی دونوں تعبیرہے،تواس کے لئے سب سے بہترین راہ جمع وہی ہے جسے امام صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :سب سے پہلے فرشتے آتے ہیں تمام ارواح کی قبض روح کرتے ہیں ،اس کے بعد ملک الموت ان ارواح کو فرشتوں سے لے لیتے ہیں ،اس کے بعد ملک الموت جن کی خود نے قبض روح کی ہے اس کے ساتھ فرشتوں کے قبض کیے ہوئے روحوں کوخدا اس سے لے لیتا ہے ،تویہاں پرتوفی کی تعبیرصحیح ہے کیونکہ فرشتے ارواح کو لے کر اپنے پاس رکھتے ہیں،اس کے بعد ملک الموت ان سے لے لیتا ہے،اس کے بعدخدا بھی ملک الموت سے لے لیتا ہے ۔

قابل توجہ بات:پہلی والی روایت میں امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا :ایک خاص گروہ کاروح خودخداقبض کرلیتا ہے،اورایک گروہ کی روح کوملک الموت قبض کرلیتا ہے اورباقی سب کا فرشتے قبض روح کر لیتے ہیں،یہ بات آیت میں موجود ‘انفس’ سے مناسب نہیں ہے چونکہ آیت میں فرماتا ہے :’اللہ یتوفی الانفس’ انفس یعنی چھوٹے اوربڑے ،مرداورعورت، مومن اورکافر، سب کے سب اس میں شامل ہے ۔

تیسرے طریقہ کی مؤیدات

١۔ ہم آتے ہیں انسان کی خلقت کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں،انسان کی خلقت کے بارے میں یہ آیت کریمہ ہے «وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي»اس آیت کا ظاہرکیا ہے ؟ کیا یہاں پربھی خداوند متعالی کسی فرشتہ کوبھیجتاہے اوروہ دوسرے فرشتوں کو بھیجتا ہے اوران میں سے ہرایک خدا کے حکم سے انسانوں میں روح پھونکتا ہے،یااس طرح نہیں ہے؟اس بارے میں موجود روایات سے ہٹ کراس آیت کا ظہوریہ ہے کہ خدا مستقیماً ہرنفس میں اپنی روح پھونک دیتا ہے ،تووفات میں بھی اسی طرح ہے کہ خدا خودروح انسان کو لے لیتا ہے ،یعنی خودخدا توفیہ کرتا ہے ،جس روح کو اس انسان کے اندرڈالا ہے اسی کو خود واپس لے لیتا ہے ،پس اس لحاظ سے سب کے روح کو خود خدا ہی قبض کرلیتا ہے ۔

٢۔ دوسرامؤید یہ ہے کہ ہم خدا سے دعا کرتے ہیں :’توفنا مصلحین’ اس کا ظہور یہ ہے کہ یہ توفی خدا سے مربوط ہے

٣۔ تیسرا مؤید: تفسیر علی بن ابراہیم[7] میں ابن ابی عمری سے وہ ہشام سے وہ ابا عبد اللہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کرتا ہے کہ امام علیہ السلام نے فرمایا:’قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی الله عليه و آله لَمَّا أُسْرِيَ بِي إِلَى السَّمَاءِ رَأَيْتُ مَلَكاً مِنَ الْمَلَائِكَةِ ‘فرماتا ہے کہ جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ معراج پر گئے ،فرشتوں میں سے ایک فرشتہ کو دیکھا ‘بِيَدِهِ لَوْحٌ مِنْ نُورٍ لَا يَلْتَفِتُ يَمِيناً وَ لَا شِمَالًا’یعنی صرف لوح کو دیکھ رہا تھا اورمسلسل اسی کی طرف دیکھ رہا تھا ‘مُقْبِلًا عَلَيْهِ ثَبُّهُ ‘ یعنی بہت زیادہ طاقتور ‘كَهَيْئَةِ الْحَزِينِ ‘غمناک شکل تھا ‘ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا يَا جَبْرَئِيلُ ‘ میں نے جبرئیل سے کہا:یہ کون ہے ؟چاہتا ہوں اس سے بات کروں اس نے کہا : اس کا کام ارواح کو قبض کرنا ہے ‘ فَقَالَ هَذَا مَلَكُ الْمَوْتِ مَشْغُولٌ فِي قَبْضِ الْأَرْوَاحِ’ مجھے اس کے پاس لے جاؤ میں اس سے بات کرنا چاہتا ہوں ‘ فَقُلْتُ أَدْنِنِي مِنْهُ يَا جَبْرَئِيلُ لِأُكَلِّمَهُ ‘ تو وہ مجھے اس کے پاس لے گیا ‘فَأَدْنَانِي مِنْهُ ‘ میں نے اس سے کہا :جو بھی مرا ہے اورجو بھی آئندہ مرے گا تم خود اس کی قبض روح کرتے ہو ؟ ‘فَقُلْتُ لَهُ يَا مَلَكَ الْمَوْتِ أَ كُلُّ مَنْ مَاتَ أَوْ هُوَ مَيِّتٌ فِيمَا بَعْدُ أَنْتَ تَقْبِضُ رُوحَهُ ‘ اس نے کہا جی ہاں میں خود قبض روح کرتا ہوں ‘ قَالَ نَعَمْ ‘میں نے کہا : ہر روح کو خود حاضر کرتے ہو،اس نے کہا :جی ہاں’ قُلْتُ وَ تَحْضُرُهُمْ بِنَفْسِكَ قَالَ نَعَمْ ‘ اس روایت سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ یہ فرشتہ خود مستقیماً اس فعل کوا نجام دیتا ہے تمام ارواح کو وہ خود ہی قبض کرتا ہے ‘قَالَ نَعَمْ مَا الدُّنْيَا كُلُّهَا عِنْدِي فِيمَا سَخَّرَهَا اللَّهُ لِي وَ مَكَّنَنِي مِنْهَا إِلَّا كَدِرْهَمٍ فِي كَفِّ الرَّجُلِ’اس نے کہا:پوری دنیامیرے ہاتھ میں ویسا ہی ہے جس طرح ایک درہم انسان کے ہاتھ میں ہوتا ہے وہ انسان جس طرح چاہتا ہے اس درہم کو اوپر نیچے کرلیتا ہے ‘ يُقَلِّبُهُ كَيْفَ يَشَاءُ وَ مَا مِنْ دَارٍ فِي الدُّنْيَا ‘ کہتا ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا گھر نہیں جس میں میں داخل نہ ہوتا ہو’فِي كُلِّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ ‘ ہرروز دن میں پانچ بار میں ان گھروں میں داخل ہوتا ہوں،دوسری روایات میں ہے کہ یہ پانچ بارنماز کے اوقات ہیں کہ اس روایت کو ہم بعد میں بیان کریں گے کہ جب ملک الموت دیکھتا ہے کہ یہ انسان پابندی سے نماز پڑھتا ہے تواس کے قبض روح کرنے کی کیفیت میں دوسروں کی نسبت فرق کرتا ہے ،’«إن ملك الموت يتصفّح الناس في كلّ يوم خمس مرّات» ‘ ہر روز پانچ بار ہر انسان سے ملاقات کرتا ہے ،یتصفح :یعنی الگ الگ ہوتا ہے (بعض روایات میں ہے کہ کبھی کسی گھر میں بہت سارے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ،اوراچانک سب خاموش ہو جاتے ہیں ،روایت میں ہے کہ یہ وہی وقت ہے کہ جس وقت ملک الموت ان کو دیکھ رہا ہے ‘«عند مواقيت الصلاة». «فإن كان ممن يواظب عليها عند مواقيتها لقّنه شهادة ان لا اله الا الله و أن محمداً رسول الله»’اگر دیکھتا ہے کہ یہ انسان پابندی سے نمازپڑھتا ہے توجس وقت قبض روح کرنا چاہتا ہے تووہ خوداسے شہادتین سیکھاتا ہے اوراس وقت شیطان انسان کے پاس آتا ہے تا کہ شہادتین کوپڑھ نہ سکے تو ملک الموت اسے اس انسان کے پاس آنے نہیں دیتا ،روایت کے آخر میں ہے ‘وَ أَقُولُ إِذَا بَكَى أَهْلُ الْبَيْتِ عَلَى مَيِّتِهِمْ لَا تَبْكُوا عَلَيْهِ ‘ملک الموت کہتا ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ اس انسان کے گھر والے اس جنازہ پر رو رہا ہے ،میں ان سے کہتا ہوں کہ گریہ مت کرو ‘فَإِنَّ لِي إِلَيْكُمْ عَوْدَةً وَ عَوْدَةً ‘ میں پھر بھی یہاں آؤں گا یہاں تک کہ تم میں سے کوئی بھی اس دنیا میں نہیں رہو گے ،ا س کے بعد پیغمبر اکرم ۖ نے فرمایا ‘ كَفَى بِالْمَوْتِ طَامَّةً ‘اے جبرائیل موت بہت ہی بزرگ اوربے مثال ہے ‘ فَقَالَ جَبْرَئِيلُ مَا بَعْدَ الْمَوْتِ أَطَمُّ وَ أَعْظَمُ مِنَ الْمَوْتِ ‘ جبرائیل نے کہا : خود موت بزرگ اور بہت بڑا امتحان ہے لیکن موت کے بعد کا وقت اس سے بھی زیادہ بزرگ وبرترہے ،یہ ہے آیات کے آپس میں جمع کرنے کا تین طریقہ ، کہ ان میں سے تیسرا طریقہ زیادہ بہتر ہے ۔

مزید  قرآن کریم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے القاب

وصلی اللہ علی محمد و آلہ الطاہرین

———————————————————————

[1] – زمر/٤٢

[2] – سجدہ/١١

[3] – نساء/٩٧

[4] -انعام/ ٦٠

[5] – یونس/١٠٤

[6] – من لا يحضره الفقيه؛ ج‌1، ص: 136

[7] – [تفسير القمي ] أَبِي عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عن هِشَامٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص لَمَّا أُسْرِيَ بِي إِلَى السَّمَاءِ رَأَيْتُ مَلَكاً مِنَ الْمَلَائِكَةِ بِيَدِهِ لَوْحٌ مِنْ نُورٍ لَا يَلْتَفِتُ يَمِيناً وَ لَا شِمَالًا مُقْبِلًا عَلَيْهِ ثَبُّهُ كَهَيْئَةِ الْحَزِينِ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا يَا جَبْرَئِيلُ فَقَالَ هَذَا مَلَكُ الْمَوْتِ مَشْغُولٌ فِي قَبْضِ الْأَرْوَاحِ فَقُلْتُ أَدْنِنِي مِنْهُ يَا جَبْرَئِيلُ لِأُكَلِّمَهُ فَأَدْنَانِي مِنْهُ فَقُلْتُ لَهُ يَا مَلَكَ الْمَوْتِ أَ كُلُّ مَنْ مَاتَ أَوْ هُوَ مَيِّتٌ فِيمَا بَعْدُ أَنْتَ تَقْبِضُ رُوحَهُ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ وَ تَحْضُرُهُمْ بِنَفْسِكَ قَالَ نَعَمْ مَا الدُّنْيَا كُلُّهَا عِنْدِي فِيمَا سَخَّرَهَا اللَّهُ لِي وَ مَكَّنَنِي مِنْهَا إِلَّا كَدِرْهَمٍ فِي كَفِّ الرَّجُلِ يُقَلِّبُهُ كَيْفَ يَشَاءُ وَ مَا مِنْ دَارٍ فِي الدُّنْيَا إِلَّا وَ أَدْخُلُهَا فِي كُلِّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ وَ أَقُولُ إِذَا بَكَى أَهْلُ الْبَيْتِ عَلَى مَيِّتِهِمْ لَا تَبْكُوا عَلَيْهِ فَإِنَّ لِي إِلَيْكُمْ عَوْدَةً وَ عَوْدَةً حَتَّى لَا يَبْقَى مِنْكُمْ أَحَدٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ كَفَى بِالْمَوْتِ طَامَّةً يَا جَبْرَئِيلُ فَقَالَ جَبْرَئِيلُ مَا بَعْدَ الْمَوْتِ أَطَمُّ وَ أَعْظَمُ مِنَ الْمَوْتِ(بحارالانوار، ج 6، ص 141،ح2 )

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.