مسلمانوں کو متعصب اور باطل طاقتوں کا سامنا

0 4

مغرب کی تہذیبی، فکری، ثقافتی، باطل تحریکیں مسلم نوجونوں کو گمراہ کر رہی ہیں ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ علماء اور داعیان ملت ان تحریکوں سے واقف نہیں ہے ۔ نوجوان نسل کا جو اضطرابی ذہن ہے وہ مذہب کے حوالہ سے سینکڑوں سوال رکھتا ہے جس کا معقول اور مثبت حیدر آباد :ورلڈ اسلامک مشن کے جنرل سیکریٹری علامہ محمد قمر الزماں خاں اعظمی نے کہا ہے کہ ایک ایسے وقت جب کہ دنیا بھر میں آج جو مغربی سامراجیت کے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف لاکھوں افراد بیزارگی کا اظہار کرتے ہوئے سڑکوں پر اتر آئیں ہیں ۔ داعیانِ اسلام ، علمائے ملت، مبلغین اور دانشورانِ امت کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کے صحیح معاشی نظام کو دنیا کے سامنے وضع کریں ۔

لندن سے ہندوستانی ریاست آندھرا پردیش کے شہر حیدر آباد کے آمد کے فوری بعد روزنامہ اعتماد سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے علامہ محمد قمر الزماں خاں اعظمی نے کہا کہ مغربی دنیا نے پہلے اشتراکیت، اشتمالیت، بادشاہت اور سرمایہ دارانہ تجربہ کر لئے ہیں اور اب وقت کا تقاضہ ہے کہ وہ اسلام کے آغوش میں آئیں کیونکہ اسلام ہی واحد مذہب ہے جو انہیں موجودہ مسائل سے نجات دلا سکتا ہے ۔

نوجوان نسل کی مذہب بے زاری اور بے راہ روی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر علامہ محمد قمر الزماں خاں اعظمی نے کہا کہ مغرب کی تہذیبی، فکری، ثقافتی، باطل تحریکیں مسلم نوجونوں کو گمراہ کر رہی ہیں ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ علماء اور داعیان ملت ان تحریکوں سے واقف نہیں ہے ۔ نوجوان نسل کا جو اضطرابی ذہن ہے وہ مذہب کے حوالہ سے سینکڑوں سوال رکھتا ہے جس کا معقول اور مثبت ، مؤثر جواب دینے کی ضرورت ہے ۔ عصر حاضر کے چیالخیس کو سامنے رکھتے ہوئے داعیان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کے نفسیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کے سامنے دین حقیقی کے صحیح پیام کو رکھیں ۔ مغربی تہذیب نے اپنی مختلف تحریکوں سے نوجوانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ ان کا مذہب فرسودہ ہے اس تہذیب سے متاثر آج ہمارے غیر مطمئن نوجوان کے سوالات سنتے ہی ہم انہیں باغی قرار دے رہے ہیں جب کہ یہ غلط ہے ۔ نوجوانوں کے ساتھ ہمارا رویہ دوستانہ اور ہمدردانہ ہونا چاہئے ۔

مزید  قرآن مجيد کي رو سے اسلامي اتحاد

مغرب بالخصوص یورپ میں خواتین کے حقوق اور حجاب کے خلاف جاری مہم سے متعلق سیکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن نے بتایا کہ مغرب نے شروع ہی سے مسلم خواتین کو بغاوت میں آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے وہ شروع سے مسلم خواتین کو یہ کہتے ہوئے گمراہ کر رہے ہیں کہ اسلام میں ان کی حیثیت گھر کے غلام کی طرح ہے ۔ اسلام ایک ایسے معاشرے کی وکالت کرتا ہے جس میں مردوں کا غلبہ ہے ۔ طرح طرح کے افکار کے ذریعہ خواتین کو بغاوت پر اُبھارا گیا ۔ جب علمائے ملت اسلامیہ نے مغرب کے ان ہتھکنڈوں کا جواب دیتے ہوئے طبقۂ نسواں کو مطمئن کردیا تو شکست کی صورت میں اب مغرب کی باطل طاقتیں ظلم و جبر کے ذریعہ خواتین کو حجاب سے دور کرنے کی کوشش کرر ہے ہیں ۔ ایسے قوانین کو نافذ العمل لایا جارہا ہے جس کے ذریعہ حجاب کرنے والی خواتین کو ذہنی اذیتیں دی جارہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہالینڈ میں ان سے ایک عیسائی صحافی نے یہ سوال کیا تھا کہ مسلمان اپنی لڑکیوں اور خواتین پر اتنی پابندیاں کیوں عائد کرتے ہیں حتیٰ کہ انہیں مکانات کے باہر بھی نکلنے نہیں دیتے ۔ اس کے جواب میں انہوں نے اُس صحافی سے سوال کیا تھا کہ ہالینڈ کی ملکہ کی جو لڑکیاں ہیں وہ عوام کے درمیان کیوں نہیں آتیں ۔ کیوں وہ اپنے محل کے اندر ہی رہتی ہیں؟ صحافی نے فوری اس کا جواب دیا تھا کہ ان کا اسٹیٹس الگ ہے وہ شاہی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں ۔

مزید  خواتين کے مسائل اور حقوق کے بارے ميں اسلام کي عادلانہ نظر

علامہ محمد قمر الزماں خاں اعظمی نے اس صحافی کو بتایا کہ اسلام اپنی ہر بیٹی کو ایسا ہی اسٹیٹس دیتا ہے جیسا کہ ملکہ کی بیٹیوں کو دیا گیا ہے ۔ اسلام میں عورت کا وجود معزز ہے اور اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو عورت کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے ۔ مغرب میں عورت صرف جنس بازار بن کر رہ گئی۔ امریکہ اور یورپ میں کئی ایسی عیسائی عورتیں ہیں جو اسلام میں عورتوں کے حقوق سے متاثر ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئیں ۔ خلیجی ممالک جیسے لیبیاء، یمن، شام، مصر، تیونس، اور دیگر میں اُٹھے عوامی انقلاب سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے علامہ محمد قمر الزماں خاں اعظمی نے کہا کہ عوام میں ایک شعور بیدار ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ انقلاب صرف خلیجی ممالک میں ہی اُٹھا ہے گذشتہ دنوں دنیا کے 800 سے زائد شہروں میں ایک ساتھ کروڑ ہا افراد نے وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو تحریک کے تحت مظاہرے کئے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مغرب کا مکرو فریب پر مبنی جو سرمایہ دارانہ نظام ہے اس کی حقیقی تصویر سامنے آگئی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ مشرق کا خوش حال اور دانشور طبقہ جو مغرب کے انسانیت کے معیار، عدل و انصاف کے تقاضوں اور سرمایہ دارانہ نظام کو اپنا آئیڈل تصور کرتا تھا اب اسے بے زارگی کا اظہار کر رہا ہے ۔ ہندوستان میں اشاعت دین سے متعلق سوال پر سیکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن نے کہا کہ دین کی اشاعت کا کام ہندوستان میں حوصلہ افزاء ہے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ یہاں مسلمان متحد نہیں ہے ۔ عام مسلمانوں سے لے کر خواص میں اختلافات ہیں ۔ ہندوستان میں مسلمان بادشاہ گر کا موقف رکھتے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ وہ سیاسی طور پر بھی منقسم ہیں ۔ یورپ کی طرح ہندوستان میں بھی مسلمانوں کو متعصب اور باطل طاقتوں کا سامنا ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ عقل و شعور کے ذریعہ ان طاقتوں سے مقابلہ کرنا چاہئے ۔

مزید  شعيت کي حقيقت اور اس کي نشو و نما(پہلي فصل )

حیدرآبادی مسلمانوں سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں حیدر آباد ہی وہ واحد شہر ہے جہاں پر مسلمان اپنی پرانی تہذیب اور روایت کے ساتھ زندہ ہے ۔ حیدر آباد صوفیوں، اولیاء اور علماء کی سرزمین ہے ۔ علامہ قمر الزماں خاں اعظمی نے مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ مساجد اور درسگاہوں کی نہ صرف حفاظت کریں بلکہ انہیں آباد بھی کریں کیونکہ آج اسکولس میں اخلاق اور کردار سازی نہیں ہورہی ہے ۔ اسکولس اب تہذیب و ثقافت کے مراکز نہیں رہے ۔ مساجد اور دینی درسگاہیں ایسے قلعے ہیں جو ہمارے ایمان و عقیدے کی حفاظت کریں گے ۔ اشاعت دین میں مساجد کا بڑا اہم رول رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مساجد میں بچوں کی درس و تدریس کا بڑے پیمانے پر انتظام ہونا چاہئے ۔ انبیاء کی سنت رہی ہے کہ وہ پہلے اللہ کا گھر تعمیر کرتے تھے اور بعد میں اپنا اور اصحابہؓ کے رہنے کا انتظام کیا کرتے تھے ۔ لیکن آج ہم نے یہ ترتیب بدل دی ہے اور ہم پہلے اپنے گھر کا انتظام کر رہے ہیں اور بعد میں اللہ کے گھر کا۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.