مسز فاطمہ گراہام نے جعفري مذہب ميں اپني موجودگي کے دلائل قبول کرليے ہيں

0 0

لہذا ميں نے پانچوں اسلامي مذاہب کا گہرا مطالعہ کرنے کا فيصلہ کيا تا کہ يہ فيصلہ کر سکوں کہ کونسا مذہب زيادہ سے زيادہ منطقي اور معقول ہے- البتہ جو چيز سب سے زيادہ اہم ہے وہ يہ ہے کہ انسان صحيح راستے اور صحيح سمت گامزن ہوجائے اور ميرے اللہ سے التجا يہي تھي کہ مجھے صحيح راستے پر ہدايت عطا فرمائے- ميں نے جعفري مذہب ميں اپني موجودگي کے دلائل قبول کرليے ہيں اور ذاتي طور پر اس موضوع پر دوسروں کے ساتھ بحث کر سکتي ہوں کہ ميں مذہب جعفري سے کيوں وابستہ ہوں اور کيوں شيعيان اہل بيت (ع) کے درميان ہوں- مگر کي

لہذا ميں نے پانچوں اسلامي مذاہب کا گہرا مطالعہ کرنے کا فيصلہ کيا تا کہ يہ فيصلہ کر سکوں کہ کونسا مذہب زيادہ سے زيادہ منطقي اور معقول ہے- البتہ جو چيز سب سے زيادہ اہم ہے وہ يہ ہے کہ انسان صحيح راستے اور صحيح سمت گامزن ہوجائے اور ميرے اللہ سے التجا يہي تھي کہ مجھے صحيح راستے پر ہدايت عطا فرمائے-

ميں نے جعفري مذہب ميں اپني موجودگي کے دلائل قبول کرليے ہيں اور ذاتي طور پر اس موضوع پر دوسروں کے ساتھ بحث کر سکتي ہوں کہ ميں مذہب جعفري سے کيوں وابستہ ہوں اور کيوں شيعيان اہل بيت (ع) کے درميان ہوں- مگر کيا دوسرے بھي ايسا کر سکتے ہيں؟ وہ لوگ کيا کريں جو مطالعہ و تحقيق کے ليے زيادہ فرصت نہيں پاتے؟ بعض مسلمان حتي ديگر اسلامي مذاہب سے بالکل بے اطلاع ہيں- ان کے پاس خاص قسم کي معلومات ہيں جو دوسرے مسلمانوں کے بالکل برعکس ہيں-

مزید  الٰهی محبت

ايک ايسے وقت جبکہ ہمارے مسلمانوں نے اپنے قوانين کے تحت اسلام کي سادگي گو پيچيدگي ميں تبديل کرديا ہے، نتيجہ يہي ہوگا کہ اسلام کا سادہ اور آسان اور مکمل دين دنيا والوں کے سامنے ايک پيچيدہ اور نہايت سخت دين کي صورت ميں جلوہ گر ہوگا- ہم سب کو رسول اللہ صلي اللہ عليہ آلہ و سلم کي يہ حديث شريف مد نظر رکھ ليني چاہيئے کہ “لوگوں کو اسلام کي طرف دعوت دو جبکہ انہيں خوشنود کر رہے ہو اس طرح سے نہيں کہ انہيں بيزار اور بے رغبت کردو اور کوشش کرو اسلام کے احکام انہيں آسان اور سادہ نظر آئيں نہ يہ کہ يہ احکام انہيں سخت اور متشددانہ مشکل ميں ظاہر ہوں”- اب دوسرے موضوع پر بات کرتي ہوں اور دوسرا موضوع “اسلام اور قلب و روح انسان”: کہا جاتا ہے کہ ہر انسان دو قلبوں اور دو روحوں کا مالک ہے- ايک قلب وہ ہے جو انسان کي کے سينے ميں تڑپتا ہے اور ايک دل معنوي اور روحاني دل ہے جس کا کوئي اندازہ اور کوئي حد نہيں ہے اور حتي بعض لوگ تو اس کو پورے عالم وجود سے بڑا سمجھتے ہيں چونکہ انسان کے قلب و روح ميں نيکي اور بدي دونوں کي گنجائش ہے لہذا قلب و روح کي حفاظت بہت ضروري ہے-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.