مسئلہ تکفیر

0 0

گزشتہ ماہ ایک دیوبندی ماہنامہ میں مولوی عبدالجبار سلفی حنفی نے “شیعت پر کفرکا الزام” لگانے کی جسارت کی، جس کے جواب میں ایک مضمون آپکی خدمت میں حاضر ہے۔

اسلام ضابطہ حیات اور بہترین انقلابی دین ہے، جس نے عربی بدوؤں کو مہذہب دنیا میں لا کھڑا کیا، طاغوت اس انقلابی دین سے نالاں رہا ہے، ہمیشہ سے استبدادی قوتوں نے اسے حریف جانا، اس کی روح کو ختم کرنے کی سازشیں ہوتی رہیں، انہی شازشوں میں سے ایک سازش اسے دو مکاتب فکر میں باٹنا تھا، بعد از وفات پیغمبر گرامی (ص) یہ دو گروہ شیعہ و اہل سنت کے نام سے معروف ہوئے، حیات نبی (ص) میں اسکی زعامت آںجناب کے ہاتھوں تھی، آپ (ص) نے اپنے بعد قرآن و اہل بیت (ع) کو محافظ دین قرار دیا، قرآن و اہل بیت (ع) کی اتباع کو ہی ضلالت و گمراہی سے بچنے کا سبب قرار دیا گیا۔۔شیطان اور منافقین جو حیات بنی( ص) میں اس دین کو نقصان پہنچانے سے عاجز تھے، آپ (ص) کی وفات کے بعد بالآخر انہوں نے سادہ مسلمانوں کو ورغلا کر، منافقین کی مدد سے دین کی زعامت اہل بیت (ع) سے لیکر ملوکیت کے حوالے کردی، اہل بیت (ع) ایک گروہ کی رہنمائی فرماتے رہے۔بس وہ دن اور آج تک اسلام استبدادی اور طاغوتی قوتوں کے ہاتھوں یرغمال رہا، انسانیت سوز ہر جنگ اسکے نام پے لڑی گئی، بت فروش اسکی کی بدولت بت شکن قرار پائے، رہزنوں کو ظل الہی کے القاب سے نوازا جاتا رہا، سادہ مسلمانوں کو مسئلہ تقدیر و خلق قرآن جیسی بے فائدہ مباحث میں الجھایا گیا۔ پروردہ ملوکیت اسلامی مکتبہ فکر کو بنی امیہ، بنی عباس اور مغل شہنشاہوں نے اپنی حکومتوں کو بچانے کے لیے خوب استعمال کیا۔ واقعہ کربلا و تاراجئ مدینہ جیسے مکروہ اعمال انجام دینے کے باوجود یزید پلید کی بیعت پر حضرت عبداللہ ابن عمر جیسے صحابہ کرام اسلامی رو سے قائم رہے، انکا موقف تھا کہ خلیفہ کی بیعت توڑنا اللہ تعالی کی جانب سے غداری شمار ہوتا ہے۔۔۔۔جس نے صداے احتجاج بلند کی اسے “کافر و مرتد” قرار دیکر تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ اسی خودساختہ دین اور اسکے زیر سایہ کھیلے جانے والی شیطانی سازش کےبرخلاف اٹھنے پر، نواسہ رسول (ع) کو شرعی لحاظ سے باغی قرار دیکر شہید اور اہل خانہ کو پابند سلاسل کیا گیا!ماضی قریب میں اسی مکتبہ فکر کے نام پر بننے والی “طالبان حکومت” نے کابل پر قبضہ کے وقت اسرائیلی، امریکی و برطانوی سفارتی عملہ کو اقوام متحدہ کے حوالے کر دیا مگر اسلامی مملکت ایران کے سفارتکار شہید کر دیئے، سفارتی تاریخ کا یہ منفرد واقعہ ہے۔ قریب ہی میں امریکہ ایسے استعماری طاغوت نے سابقہ سوویت یونین کو نام نہاد “اسلامی مجاہدین” کے ذریعے ختم کیا، انہی کے ذریعے ایران پر جنگ مسلط کی، آج امریکہ اپنے ہر دشمن کو “سنی اسلام” کی مدد سے کچلتا آرہا ہے۔بس پہلے اسے استعماری سگ “کافر و مرتد” قرار دیتے ہیں، پھر کرائے کے قاتل(طالبان) چڑھ دوڑتے ہیں، شام کو ہی دیکھ لیں، اسکا جرم کیمیائی ہتھیاروں سے ایک ہزار کے لگ بھگ افراد کو قتل کرنا ہے،اگر روایتی ہتھیاروں سے وہاں ایک لاکھ کے بجائے دو لاکھ افراد بھی مر جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ آخر پینسٹھ برس سے ہزاروں فلسطینی روایتی امریکی ہتھیاروں سے ہی مرے ہیں اور مر رہے ہیں۔حال ہی میں مصر میں ایک ہزار سے زائد افراد بھی انہی ہتھیاروں سے قتل ہوئے۔اسلامی ٹھیکہ داروں نے کوئی اعتراض کیا؟؟؟آخر کیا وجہ ہے کہ جیسے امریکہ و اسرائیل اسلام کو ختم کرنے کے لیے بڑھتے ہیں ویسے ہی سگ ہائے آوارہ استعمار دشمنوں پر “کافر، کافر” کی رٹ لگا دیتے ہیں!اب جبکہ وحدت و اتحاد میں ہی بقا ہے، جسے پوری دنیا محسوس کر چکی ہے، یورپی ممالک ایک ہو چکے ہیں، ایسے میں بھائی کو بھائی سے جدا کرنے کا فریٖضہ مولوی عبدالجبار سلفی حنفی اور اسکے ہم نوا جھال و ضلال انجام دے رہے ہیں۔ انکے مجلات و رسائل ملاحظہ فرمائیں،ویسے کوئی ان کافر گر ملاؤں سے پوچھے کہ مسلمان ہے کون؟؟؟اہل تشیع کو کافر کہا، پھر آپس میں “تکفیر” کا کھیل یوں کھیلا کہ غیر مقلدین اور مقلدین اہل سنت نے ایک دوسرے کو کافر قرار دیا، پھر مقلدین نے آپس میں ایک دوسرے کو مرتد تک کہا، اب یہ مرض اس حد تک سرایت کر چکا ہے کہ ایک گروہ آپس میں کافر کافر کی صدائیں بلند کر رہا ہے ( احناف کے دو گروہ بریلوی و دیوبندیوں نے ایک دوسرے کو کافر کہا، اب دیوبندی دو گروہوں میں بٹ چکے ہیں حیاتی و مماتی، اب یہ ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں سلفی تکفیری نے اپنے رسالے میں مماتی حضرات کو کافر جبکہ انہوں نے اپنی کتابوں میں انہیں کافر لکھا ہے(دیوبندی تکفیری مولانا سلفی صاحب اپنے مسلمان ہونے کا سرٹیفیکیٹ مکتبہ دیوبند کے ہی تمام علماء سے لا کر دکھا دیں۔۔بھونڈے الزامات سے اتھام تکفیر کی جسارت طاغوتی سازش ہے۔۔۔ملاں نے کسے کافر نہیں کہا؟؟؟حضرت علی (ع) کو کافر کہا گیا (العیاذ باللہ(امام حسین (ع)، علامہ اقبال ، قائد اعظم، امام خمینی، غرضیکہ ہرطاغوت مخالف، حق گو پر اتہام کفر و ارتداد لگتا آیا ہے، ہم اہل تشیع کو فخر ہے کہ ملوکیت کے ہاتھوں یرغمال نہیں ہوئے اور آج بھی امریکی و اسرائیلی طاغوتوں کے مقابل میں ڈٹے ہیں، ہاں ہم طاغوت کے کافر(منکر) ہیں، ہم طاغوت کو اولیاء نہیں بناتے، ہمارا ملوکیت سے کوئی رشتہ ہیں۔استبدادی قتل و غارت سے ہمارے ہاتھ ہرگز نہیں رنگے، ما سوائے قادیانیوں کے، کسی کو کافر نہیں کہا۔۔۔آج “کافر، کافر” کی بڑھتی آوازیں استعماری سازشوں کا حصہ ہیں، لائق صد تحسین ہیں ہر فرقہ کے معتدل علماء جو سازشی عناصر کے ہتھے چڑھنے سے محفوظ رہے۔۔۔نام نہاد سازشی و استعماری ملاؤں نے کس کس کافرکو کہا ان کتب کا مطالعہ مفید رہے گا:1: فتووں کا سونامی2: فتووں کا تلاطؐم 3: الصوارم الھندیہ4: زلزلہ5: السیف البارق ، آخری باب6: المہند علی المفند7:حسام الحرمین8: حقیقۃ الفقہ و غیرہتکفیری گروہوں کی قتل و غارت گری کے لیے تاریخ اسلام کا مطالعہ مفید رہے گا۔۔۔والسلام علی من اتبع الھدی۔۔۔امجد عباس مفتی، فاضل جامعہ الکوثر اسلام آبادamjadabbask@gmail.com۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲

مزید  شیر خدا اور شیر رسول جناب حمزہ علیہ السلام

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.