مردوں كے فرائض

0 0

خاندان كا سرپرست

مياں بيوي، خاندان كے دوبڑے ركن ہوتے ہيں _ ليكن مرد كو ، اس سبب سے كہ اس كو قدرت كى جانب سے كچھ خصوصيات علا كى گئي ہيں اور عقل و سمجھ كے لحاظ سے قوى تر بناگيا ہے ، بڑا اور خاندان كا سرپرست سمجھا جاتا ہے _

خداوند بزرگ و برتر نے بھى اس كو خاندان كا سرپرست اور ذمہ دار ٹھہرايا ہے ، قرآن مجيد ميں فرماتاہے: مرد عورتوں كے سرپرست ہيں كيونكہ خدا نے بعض لوگوں كوبعض دوسروں پر برترى عطا كى ہے _ 

چونكہ مرد كا مرتبہ برتر ہے لہذا فطرى طور پر اس كے فرائض بھى سنگين تر اور دشوار تر ہوں گے ، وہى اپنى عاقلانہ تدبر سے خاندان كا بہترين طريقے سے انتظام چلا سكتا ہے اور ان كى خوش بختى و سعادت كے اسباب مہيا كرسكتا ہے اور گھر كے ماحول كو بہشت بريں كى مانند منظم و مرتب اور خوشگوار بنا سكتا ہے _ اور اپنى بيوى كو ايك فرشتہ كا روپ عطا كرسكتاہے _

حضرت رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں : مرد خاندان كے سرپرست ہيں اور ہر سرپرست پر اپنے تحت تكفل افراد كى ذمہ دارياں عائدہوتى ہيں _ 

مرد ، جو كہ گھر كا منيجر ہے ، اس كو اس نكتہ كو مد نظر ركھنا چاہئے كہ عورت بھي، مرد ہى كى مانند ايك انسان ہوتى ہے _ خواہشات اور آرزوئيں ركھنے اور زندگى و آزادى كا حق ركھتى ، انہيں سمجھنا چاہئے كہ شادى كركے كسى لڑكى كو اپنے گھر لانے كا مطلب لونڈى يا كنيز لانا نہيں ہے _ بلكہ اپنى زندگى كى ساتھى ، اور اپنے لئے مونس و غمخوار لانا ہے _ اس كى اندرونى خواہشات اور آرزوؤںو تمنّاؤں پر بھى توجہ دينا چاہئے _ ايسا نہيں ہے كہ مرد، بيوى كے مالك مطلق ہيں اور ان كى حيثيت ايك مطلق العنان حكمران كى سى ہے _ بيوى كے بھى شوہر پر كچھ حقوق ہوتے ہيں _

خداوند عالم قرآن مجيد ميں فرماتا ہے : جس طرح بيوى پر اپنے شوہروں كى نسبت فرائض ہيں، اسى طرح ان كے كچھ حقوق بھى ہيں _ اور مردوں كو ان پر برترى ہے _ 

بيوى كى ديكھ بھال

اسلامى شريعت ميں ، جس طرح شوہر كى ديكھ بھال كو ، ايك عورت كے لئے جہاد سے تعبير كيا گيا ہے ، اسى طرح بيوى كى ديكھ بھال كو بھى ايك شادى شدہ مرد كا سب سے اہم اور گرانقدر عمل سمجھا گيا ہے اور اس ميں خاندان كى سعادتمندى مضمر ہے _ لكن ”زن داري” يا بيوى كى ديكھ بھال كوئي آسان كام نہيں ہے بلكہ يہ ايك ايسا راز ہے جس سے ہر شخص كو پور ى طرح آگاہ و با خبر ہونا چاہئے تا كہ اپنى بيوى كو اپنى مرضى كے مطابق ايك آئيڈيل خاتون ، بلكہ فرشتہ رحمت كى صورت دے سكے _

جو مرد واقعى ايك شوہر كے فرائض بنھانا چاہتے ہيں ان كو چاہئے كہ اپنى بيوى كے دل كو موہ ليں _ اس كى دلى خواہشات و رجحانات و ميلانات سے آگاہى حاصل كريں اور اس كے مطابق زندگى كا پروگرام مرتب كريں _ اپنے اچھے اخلاق و كردار و گفتار اور حسن سلوك كے ذريعہ اس پر ايسا اچھا اثر ڈاليں كہ خود بخود اس كا دل ان كے بس ميں آجائے _ اس كے دل ميں زندگى اور گھر سے رغبت و انسيت پيدا ہو اور دل و جان سے امور خانہ دارى كو انجام دے _

”زن داري” يا بيوى كى ديكھ بھال كے الفاظ ، جامع اور مكمل مفہوم كے حامل ہيں كہ جس كى وضاحت كى ضرورت ہے اور آئندہ ابواب ميں اس موضوع پر تفصيلى بحث كى جائے گى _

اپنى محبت نچھا وركيجئے

عورت محبت كا مركز اور شفقت و مہربانى سے بھر پور ايك مخلوق ہے اس كے وجود سے مہرو محبت كى بارش ہوتى ہے _

اس كى زندگى عشق و محبت سے عبادت ہے _ اس كا دل چاہتا ہے دوسروں كى محبوب ہوا ور جو عورت جتنى زيادہ محبوب ہوتى ہے اتنى ہى تر و تازہ اور شاداب رہتى ہے _محبوبيت حاصل كرنے كيلئے وہ فداكارى كى حد تك كوشش كرتى ہے _ اس نكتہ كو جان ليجئے كہ اگر عورت كسى كى محبوب نہ ہو تو خود كو شكست خودرہ اور بے اثر سمجھ كر ہميشہ پمردہ اور افسردہ رہتى ہے _ اس سبب سے قطعى طور پر اس بات كا دعوى كيا جا سكتاہے كہ بيوى كى ديكھ بھال يا ”زن داري” كا سب سے بڑا راز اس سے اپنى محبت اور پسنديدگى كا اظہار كرنا ہے _

برادر محترم آپ كى بيوى پہلے اپنے ماں باپ كى بيكراں محبت سے پورى طرح بہرہ ور تھى ليكن آپ سے رشتہ ازدواج قائم كرنے كے بعد اس نے سب سے ناطہ توڑكر آپ سے پيمان وفا باندھا ہے اور اس اميد كے ساتھ آپ كے گھر ميں قدم ركھا ہے كہ تنہا آپ ان سب كى محبتوں كے برابر، بلكہ ان سے سب زيادہ اس كو محبت وچاہت ديں گے _ وہ اس بات كى توقع ركھتى ہے كہ آپ كا عشق و محبت اس كے ماں باپ سے زيادہ گہراور پائيدار ہوگا چونكہ آپ كے عشق و محبت پر اعتماد كركے اس نے اپنى تمام ہستى اور وجود كو آپ كے حوالے كرديا ہے _ ”زن داري” كا سب سے بڑا رمز اور شادى شدہ زندگى كى مشكلات كو حل كرنے كى بہترين كنجى بيوى سے اپنى محبت اور پسنديدگى كا اظہار كرنا ہے اگر آپ چاہتى ہيں كہ اپنى بيوى كے دل كو اس طرح سے مسخّر كرليں كہ وہ آپ كى مطيع رہے ، اگر آپ چاہتے ہيں آپ كى ازدواجى زندگى قائم و دائم رہے ، اگر آپ چاہتے ہيں آپ كى بيوى زندہ دل ، خوش و خرم اور شاداب رہے گھر اور زندگى ميں پورى دل جمعى كے ساتھ دلچسپى لے ، اگر آپ چاہتے ہيں كہ وہ آپ سے سچے دل سے محبت كرے ، اگر آپ چاہتے ہيں كہ آخر عمر تك آپ كى وفادار رہے ، تو اس كا بہترين طريقہ يہ ہے ك جس قدر ممكن ہو سكے اپنى بيوى سے محبت وچاہت كا اظہار كيجئے _ اگر اسے معلوم ہو كہ آپ كو اس محبت نہيں ہے تو گھر اور زندگى سےبيزار ہوجائے گى ہميشہ پمردہ اور اداس رہے گى _ خانہ دارى اور بچوں كے كاموں ميں اس كا دل نہيں لگے گا _ آپ كے گھر كى حالت ہميشہ ابتر رہے گى _ اپنے دل ميں سوچے گى كہ ايسے شوہر كے لئے كيوں جاں كھپاؤں جو مجھے عزيز نہيں ركھتا _

اگر آپ كا گھر محبت و خلوص كى دولت سے خالى ہوگيا تو ايك سلگتے ہوئے جہنم ميں تبديل ہوجائے گا اس صورت ميں خواہ آپ كے گھر ميں آرام و آسائشے كا كتنا ہى اعلى ساز وسامان موجود ہو ، ليكن چونكہ عشق و محبت كى مہك نہ ہوگى اس لئے بے رونق ہوگا _

ممكن ہے آپ كى بيوى نفسياتى بيماريوں اور اعصابى كمزوريوں ميں مبتلا ہوجائے _ ممكن ہے آپ كى جانب سے كمى كى تلافى كرنے كے لئے دوسروں كے دلوں پر نفوذ كرنے كى كوشش كرے_ ممكن ہے شوہر اور گھر سے اس قدر بيزار ہوجائے كہ اس سرد اور بے رونق زندگى پر عليحدگى كو ترجيح دے اور طلاق كا مطالبہ كرے _ ان تما م حادثات كے ذمہ دا ر مرد ہوتا ہے جو بيوى بچوں كى جانب سے بے اعتنائي برتتا ہے _ يقين جا نئے زيادہ تر طلاقيں ، ان ہى سرد مہريوں كى وجہ سے ہوتى ہيں _ ذيل كے اعداد و شمار پر توجہ كيجئے _

شوہر كى بے اعتنائيوں اور بے مہريوں يا زيادہ كاموں ميں مشغول رہنے كے نتيجہ ميں بيوى اور گھر كى طرف سے غفلت ، زيادہ تر عليحدگى كے اسباب رہے ہيں _ سنہ 1969 ء ميں 72 103 مياں بيوى ايك دوسرے سے عليحدہ ہوئے _ جن ميں سے 1203 عورتوں نے عليحدگى كا سبب ، شوہر كى بے توجہى اور سرد مہري، احساس حقارت ، اور زندگى سے اكتا ہٹ و بيزارى بتايا_ 

ايك عورت نے عدالت ميں كہا كہ وہ اس بات پر تيار ہے كہ اپنا مہر معاف كرنے كے علاوہ مزيد دس ہزارتومان اپنے شوہر كو ديدے تا كہ وہ اس كو طلاق دے دے _ ان كى شادى كومحض چار مہينے ہوئے تھے _ عورت نے كہا چونكہ ميرے شوہر كو مجھ سے زيادہ اپنے طوطول سے پيار ہے اس لئے ميں اب اس كے ساتھ زندگى گزارسكتى _

خاندان ميں مہر و محبت سب سے اہم اور گران قدر چيز ہے اسى سبب سے خداوند عالم نے قرآن مجيد ميں اس كو قدرت كے آثار اور بڑى نعمتوں ميں شماركيا ہے _ فرماتا ہے : خدا كى نشانيوں ميں سے ايك يہ بھى ہے كہ اس نے تمہارے لئے تمہارى ہى جنس سے شريك حيات بنائے تا كہ ان كے ساتھ چين سے رہو اور تمہارے درميان محبت و الفت پيدا كى _ اس ميں غو ركرنے والوں كے لئے بہت سى نشانياں ہيں ” _ 

امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں :عورت مرد كے لئے پيدا كى گئي ہے اور اس كى تمام توجہ مردوں كى طرف مبذول رہتى ہے پس اپنى بيوى كو دوست ركھو _

ايك اور موقعہ پر آپ فرماتے ہيں : جو شخص اپنى بيوى سے محبت كا زيادہ اظہار كرتا ہے وہ ہمارے دوستوں ميں ہے _ 

حضرت رسول خدا (ص) فرماتے ہيں : انسان كاايمان جتنا زيادہ كامل ہوتا ہے اتنا ہى وہ اپنى بيوى سے زيادہ محبت كا اظہار كرتا ہے _ 

امام جعفر صادق (ع) كا قول ہے كہ : پيغمبروں كى ايك سيرت يہ رہى ہے كہ وہ اپنى بيويوں سے محبت كرتے تھے _ 

حضرت پيغمبر اسلام (ص) كاارشاد گرامى ہے كہ : مرد اگر بيوى سے كہتا ہے كہ ميں تم سے سچى محبت كرتا ہوں تو اس كى يہ بات اس كے دل كبھى محونہيں ہوگى _ 

محبت دل كى گہرائيوں سے ہونى چاہئے تا كہ دل پر اثر كرے كيونكہ دل كودل سے راہ ہوتى ہے _ ليكن صرف دلى محبت پر ہى اكتفا نہيں كرنا چاہئے _ بلكہ صاف صاف اس كااظہار كرنا بھى ضرورى ہے _ ايسى صورت ميں اس كے نتيجہ كى توقع كى جا سكتى ہے اور جواب ميں دوسرے كے افعال و كردار اور زبان سے بھى محبت كے آثار نماياں ہوں گے _ اپنى بيوى سے كھلے الفاظ ميں اپنى محبت و چاہتكا اظہار كيجئے اس كى موجودگى اور عدم موجودگى ميں بھى اس كى تعريف كيجئے _ سفر پر جايئےو اس كو خط لكھئے اور اپنے درد و فراق كا ذكر كيجئے _ كبھى كبھى اس كے لئے تحفہ خريد كرلايئے اگر ٹيليفون موجود ہو تو آفس سے اس كى خيريت پوچھ ليا كيجئے _ ايك چيز جسے خواتين كبھى فراموش نہيں كر سكتيں وہ يہى حقيقى عشق و محبت ہے _ مثال كے طور پر ذيل كا واقعہ ملاحظہ فرمايئےايك خاتون نے وفور جذبات سے روتے ہوئے بتايا كہ ميں نے موسم خزاں كى ايك شب ايك نوجواں سے شادى كى تھى _ مدتوں ہمارى زندگى بڑے آرام و سكون سے گزرى _ ميں اپنے آپ كو روئے زمين پر خوش قسمت ترين عورت تصور كرتى تھى _ چھ سال تك ايك چھوٹے سے گھر ميں ، جسے اس نے ميرے لئے بنوايا تھا ہم نے باہم زندگى گزارى _ يہاں تك ايك دن ميرى خوش نصيبى ميں كئي گنا اضافہ ہوگيا _ جس روز مجھے پتہ چلا كہ ميں حاملہ ہوگئي ہوں جب ميں نے اپنے شوہر كہ يہ خوش خبرى سنائي تو اپنے جذبات پر قابو نہ پا سكا فرط محبت سے مجھے اپنے آغوش ميں كھينچ كر بچوں كى طرح رونے لگا _ اس كے بعد بازار گيا اور اس كے پاس جو كچھ جمع پونجى تھى اس سے ميرے لئے ہيروں كا ايك نيكلس خريد كرلايا اور يہ كہتے ہوئے مجھے اپنے ہاتھوں سے پہناديا كہ يہ نيكلس ميں دنيا كى بہترين خاتون كى نذر كرتاہوں ، ليكن افسوس كہ زيادہ مدت نہيں گزرى كہ ايك ايكسيڈنٹ ميں اس كا انتقال ہوگيا” _ 

مزید  ائمہ معصومین(ع) کی علم کو کتابت کے ذریعے محفوظ رکھنے پر تاکید

اپنى بيوى كى عزّت اورا حترام كيجئے

عورت بھى مرد كى مانند اپنے آپ كو عزيز ركھتى اور اپنى شخصيت كا تحفظ چاہتى ہے _ اس كى بھى خواہش ہوتى ہے كہ اس كى عزت كى جائے _ اپنى تحقير و توہين سے رنجيدہ ہوجاتى ہے _ اگر اس كا احترام كيا جائے تو اپنى شخصيت كا احساس كركے زندگى اور كام ميں دل جمعى اور گرمجوشى كے ساتھ رہتى ہے _ اپنا احترام اسے عزيز ہے ، اور اپنا احترام كرنے والے كو پسند كرتى ہے _ اپنى توہين اور توہين كرنے والے سے متنفر ہوجاتى ہے _

جناب عالى آپ كى بيوى يقينا آپ سے اس بات كى توقع ركھتى ہے كہ دوسروں سے زيادہ آپ اس كيعزت كريں گے اور اس كى يہ توقع حق بجانب ہے _ كيونكہ آپ كو اپنى زندگى كا شريك اور بہترين اور سچا دوست سمجھتى ہے _

رات دن آپ كے اور آپ كے بچوں كے آرام و راحت كے لئے زحمتيں اٹھاتى ہے كيا اس بات كى اميد نہيں كر سكتى كہ آپ اس كے وجود كو غنيمت سمجھ كر اس كا احترام كريں؟

اس كى عزت افزائي كركے آپ چھوٹے نہيں ہوجائے گے بلكہ اس چيز سے آپ حق شناسي، اور آپ كى مہر و مؤدت ثابت ہوگى _ جس طرح آپ دوسروں كااحترام كرتے ہيں اسى طرح بلكہ اس سے بڑھ كر اپنى بيوى كا احترام كيجئے _ بات چيت كرتے ہيں تہذيب و ادب كا پورا لحاظ ركھئے _ اس سے تم كركے بات نہ كيجئے بلكہ ہميشہ سے مخاطب كيجئے _ كبھى اس كے كلام كو قطع نہ كيجئے _ اس كے اوپر چيخئے چلايئےہيں _ عزت كے ساتھ اور اچھے نام سے اسے پكاريئےيٹھتے وقت اس كے احترام كوملحوظ ركھئے _ جب گھر ميں داخل ہوں اگر اس نے سلام نہيں كيا تو آپ سلام كيجئے _ جب گھر سے باہر جايئےو اسے خداحافظ كيجئے _ دوسروں كے سامنے اور محفلوں ميں اس كے ساتھ عزت سے پيش آيئے اس كى توہين اور بے عزتى سے قطعى پرہيز كيجئے _ برا بھلا كہنے اور گالى دينے سے مكمل طور پر اجتناب كيجئے _ اس كا مذاق نہ اڑايئےواہ تفريح كى خاطر خواہى كيوں نہ ہو _ يہ نو سوچئے كہ آپ كى تو ايك خاص حيثيت ہے اس لئے آپ كو يہ حق حاصل ہے _ جى نہيں آپ سے ايسى باتوں كى ہرگز توقع نہيں ركھتى _ يہ بات اس كے دلى رنج كا باعث ہوگى خواہ منہ سے نہ كہے

مثال كے طور پر ذيل كى داستان سنئے :

ايك خاتون جس كى عمر 35_36 سال ہوگى غم و غصّہ كى حالت ميں طلاق كى درخواست كرتى ہے و ہ كہتى ہے كہ ہمارى شادى كو تقريباً بارہ سال ہوگئے ميرا شوہر اچھا آدمى ہے ايك مكمل انسان ميں پائي جانے والى بہت سى خصوصيات اس ميں موجود ہيں ليكن اس نے كبھى يہ نہيں سوچا كہ ميں اس كى بيوى ، اس كى شريك زندگى اوراس كے بچوں كى ماں ہوں _ اپنے خيال ميں بزم آرا اور خوش باش قسم كا آؤ ہے _ محفلوں ميں مجھ كو تختہ مشق بناتا ہے _ آپ اندازہ نہيں لگاسكتے كہ مجھ كو كتنى اذيت ہوتى ہےميرے اعصاب پر اس كا بڑاخراب اثر پڑا ہے اور بيمار رہنے لگى ہوں _ اپنے شوہر سے ميں نے ہزار باركہا _ بارہا عاجزى كے ساتھ سمجھا يا كہ ميں تمہارى بيوى ہوں _ كوئي بچہ نہيں ہوں _ يہ مناسب نہيں كہ تم آشنا و غير سب كے سامنے مجھ سے مذاق كرنے لگتے ہو _ طنز يہ اورمزاحيہ جملے بولتے ہو كہ دوسرے ہنسيں اور لطف ليں _ ميں اكثر ان باتوں سے شرمندہ ہوجاتى ہوں چونكہ شروع ہى سے ميں شوخ طبع اور بذلہ سنج نہيں ہوں اس لئے كبھى اپنے شوہر كى باتوں كا جواب اس كے انداز ميں نہيں دے سكى _ بارہا ميں نے اس كى خوشامد كى التجا كى ، مگر سب بے سود _ اور اپنى ان حركتوں سے باز نہيں آتا _ لہذا اب ميں نے ارادہ كرليا ہے كہ ايسے ناقدر ے انسان سے عليحدگى اختيار كرلوں جس نے كبھى ميرى عزت و احترام كا لحاظ نہيں ركھا _ مذكورہ خاتون كى طرح سبھى خواتين اپنے شوہر سے اس بات كى توقع ركھتى ہيں كہ وہ ان كى عزت كريں اور اگر ان كى بے عزتى كى جائے تو سخت ناراض ہوجاتى ہيں _ اگر شوہر كے توہين آميز رويے كہ مقابلہ ميں خاموش رہيں تو اس كا مطلب يہ نہيں كہ انھيں اس بات كا احساس نہيں اور وہ راضى ہيں _ بلكہ يقين جانئے دل ميں بيحد رنجيدہ ہوتى ہيں خواہ مصلحتاً زبان سے كچھ نہ كہيں _ اگر آپ اپنى بيوى كى عزت كريں گے تو وہ بھى آپ كا دل سے احترام كرے گى _ اور آپ كے باہمى تعلقات روزبروز مضبوط اور خوشگوار ہوتے جائيں گے _ دوسروں كى نظر ميں بھى آپ قابل احترام رہيں گے _ اگر آپ نے اس كى بے عزتى كى اور اس نے اس كا بدلہ ليا تو قصوروار آپ خودہى ہيں _

برادر عزيز بيوى لانے اور لونڈى لانے ميں بہت فرق ہوتا ہے _ بيوى آپ كے گھر لونڈى ياقيدى كى حيثيت سے نہيں آئي ہے بلكہ وہ ايك آزاد انسان ہے اور سعادتمند انہ طور پر ايك مشتركہ زندگى كى بنياد ڈالنے كى غرض سے آپ كے گھرائے ہے _ جو توقعات آپ اس سے ركھتے ہيں بالكل وہى توقعات وہ آپ سے بھى ركھتى ہے لہذا ويسا ہى سلوك اس كے ساتھ كيجئے ، جيسا سلوك آپ چاہتے ہيں كہ وہ آپ كے ساتھ كرے _

حضرت رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ وس لم كا ارشاد گرامى ہے كہ جو شخص كسى مسلمان كى عزتكرے گا خدا بھى اس كى عزت كرے گا _ 

پيغمبر اسلام (ص) كا يہ بھى قول ہے كہ : نيك اور بلند مرتبہ لوگ اپنى بيويوں كى عزت كرتے ہيں اور پست ذہنيت اور نيچ لوگ ان كى توہين كرتے ہيں _

ايك اور موقع پر آپ فرماتے ہيں: جو شخص اپنے گھر والوں كى بے عزتى كرتا ہے زندگى كى مسرتوں كو ہاتھ سے كھوديتاہے _ 

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام اپنے پدر گرامى حضرت امام محمد باقر (ع) سے نقل كرتے ہوئے فرماتے ہيں كہ : جو شخص شادى كرے اسے چاہئے بيوى كى عزت اور اس كا احترام كرے_ 

خوش اخلاق بنيئے

دنيا اپنے معينہ راستے پر ايك منظم نظام كے تحت گردش كرتى ہے اور اسى نظم و ترتيب كے تحت ، دنيا ميں ايك كے بعد ايك حوادث رونما ہوتے رہتے ہيں _ اس وسيع وعريض كائنات ميں ہمارا ناچيز وجود بمنزلہ ايك چھوٹے سے ذرے كے ہے جو ہر لحمہ دوسرے ذروں كے ساتھ حركت ميں ہے _ كائنات كا نظام ہمارے ہاتھ ميں نہيں اور دنيا كے حادثات ہمارى مرضى و منشاء كے مطابق رونما نہيں ہوتے _ صبح جب ہم گھر سے نكلتے ہيں اس وقت سے ليكر واپس لوٹتے ہيں طرح طرح كے چھوٹے بڑے مشكل حالات سے گزرنا پڑتا ہے زندگى كے اميدان ميں اور كسب و معاش كے سلسلے جسے ايك طرح سے ميدان جنگ سے تشبيہ دى جا سكتى ہے بيشمار مشكلات كا سامنا كرنا پڑتا ہے _ مثلاً ٹيكسى كے انتظار ميں كھڑے ميں ، فلان شخص نے توہين كردى _ كسى كى عيب جوئي اور سرزنش كا شكار ہونا پڑا _ كوئي شخص آپ سے حسد و رقابت كرتا ہے _ باس يا ما تحتوں كے اعتراضات اور سخت كلامى كا سامنا كرنا پڑتا ہے _ كسى بدنت ديا كا ديا ہواچكرواپس لوٹ آيا مطالبات كى وصولى مشكل ہورہى ہے، غرضكہ اس قسم كے سينكڑوں چھوٹے بڑے حادثات ہر شخص كى زندگى ميں پيش آتے رہتے ہيں _

ممكن ہے ان ناسازگار _ حالات سے آپ قدر غضبناك ہوجائيں كہ ايك آتش فشان كى مانند پھٹ پڑيں چرخ گردوں اور ستمگروں پرتو آپ كا زورچلتا نہيں ليكن جس وقت گھر ميں داخل ہوتے ہيں تو چاہتے ہيں اپنى طاقت و قدرت كامظاہرہ كريں اور چرخ فلك اور كج رفتار افراد كا انتقام اپنے بے گناہ بيوى بچوں سےلے كر اپنے دل كى بھڑ اس نكاليں _

آپ گھر ميں كيا تشريف لاتے ہيں معلوم ہوتا ہے حضرت عزرائيل گھر ميں داخل ہوتے ہيں _ سب كى روح فنا ہوجاتى ہے _ بچے چوہوں كى طرح دمم دبا كر ادھر اودھر ہوجاتے ہيں _ خدا نہ كرے كہ كوئي معمولى سا بہانہ آپ كے ہاتھ لگ جائے _ كھانے ميں نمك تيز ہوگيا يا كم ہے ، چائے فوراً پيش نہ كى گئي ، يا معصوم بچے نے شور مچا ديا ، گھر ميں كوئي چيز غلط جگہ پر ركھى ہوئي ہے ، يا بيوى كے منھ سے كوئي نامناسب لفظ نكل گيا وامصيبتا قيامت آگئي ہے ، اور صاحب بہادر بم كى طرح پھٹ پڑے _ اس كو ڈانٹا ، ا س كو پھٹكارا كسى كو گاليوں سے نوازا، كسى كو تھپڑمارا ، ايك اودہم مچ گئي ، اور اس طرح گھر كے خوشگوار اور پرسكون ماحول كو ،كہ جس ميں آپ آرام كرنے كى غرض سے پناہ لينے آئے تھے، جہنّم بناديا_ اور خود اپنے ہاتھوں تيار كئے ہوئے اس جہنم ميں خود بھى جلے اور بے گناہ بيوى بچوں كو بھى جلاديا _ اس رعب و وحشت كے ماحول ميں اگر بچوں كو فرار كرنے كى مہلت مل گئي تو گلى كو چوں ميں مارے مارے پھريں گے اور خدا سے چاہيں گے كہ دوزخ كامالك كسى طرح جلدى گھر سے باہر جائے تا كہ اس كے شر سے نجات ملے _

ايسے ماحول ميں جہاں ہميشہ لڑائي جھگڑے اور جو تم پيزاررہے كسى كو بھى سكون وچين نصيب نہ ہوگا ايسے خاندان كى افسوسناك حالت اور خراب انجام ظاہر ہے _ گھر كى حالت ابتر رہے گى _ بيوى گھر كے ماحول اورشوہر كى تيورياں چڑھى صورت سے بيزار ہوجائے گى _ وہ عورت جو ہميشہ اپنے شوہر كى بدسلوكيوں كا شكاربنتى رہے كس طرح خوش رہ سكتى ہے _ اور اس سے گھر دارى اور شوہر دارى دلجمعى كے ساتھ دلچسپى لينے كى توقع كيسے كى جا سكتى ہے ؟

اور سب سے بدتر حالت اور خطرناك سرنوشت تو ان معصوم بچوں كى ہوتى ہے جو ايسے بد نصيب ماحول ميں پرورش پاتے ہيں _ ماں باپ كے آئے دن كے لڑائي جھگڑوں سے بلا شبہ ان كے معصوم دل و دماغ اور حساس روح پر بہت خراب اثر پڑتا ہے _ وہ بھى بڑے ہو كر بدمزاج ، غصہ ور، بدتميز اور كينہ ور نكلتے ہيں _ ان كے چہروں پر پمردگى چھائي رہتى ہے _چونكہ انھيں گھڑ كے ماحول اور زندگى ميں كوئي مسرت حاصل نہيں ہوتى ، آوارہ گردى كرتے ہيں _ بعض بچے اور نوجواں سماج كے حيلہ باز عناصر كے ہتھے چڑھ جاتے ہيں جو اسى قسم كے بچوں اورنوجوانوں كو گمراہ كرنے كى تاك ميں رہتے ہيں اور ان كے حال ميں پھنس كرہميشہ كے لئے اپنى عاقبت خراب كرليتے ہيں _ اس بات كا بھى امكان ہے كہ دماغى پريشانيوں ميں مبتلا ہوجائيں اور بيحد خطرناك كام مثلاً قتل و غارتگرى ، چوري، يا خودكشى كا ارتكاب كرڈاليں _اس بات كى تصديق جرائم پيشہ افراد خصوصاً مجرم بچوں كى فائلوں پر نظر ڈالنے سے ہوسكتى ہے _ اس قسم كے بچوں كے متعلق خبريں اور اعداد شمار جو ہرروز اخبار ورسائل كے صفحات ميں نظر آتى ہيں اس با ت كى بہترين گواہ ہيں ان تمام ناگوار حادثات كے ذمہ دار خاندان كے سرپرست ہوتے ہيں جو اپنے آپ پر كنٹرول نہيں كرپاتے اور گھر ميں بداخلاقى اور بدمزاجى كامظاہرہ كرتے ہيں _ ايسے لوگ اس دنيا ميں بھى كوئي سكون و آرام حاصل نہيں كرپاتے اوريقينا اس دنيا ميں بھى اپنے ان اعمال كى سزا بھگتيں گے _

مزید  جہاد

برادر عزيز دنيا كا نظام ہمارے اختيار ميں نہيں ہے _ ركاوٹيں ، مصائب ، پريشانياں اس دنيا كے لا ينفك جزو ہيں _ ہر انسان كو زندگى ميں ان سب چيزوں كا سامنا كرنا پڑتا ہے اور ان كا مقابلہ كرنے كے لئے ہميشہ تياررہنا چاہئے _ انسان كے كردار كى پركھ ايسے ہى موقعوں پر ہوتى ہے _ نالہ و فرياد كئے بغير ، مردانہ وار ان كامقابلہ كرنا چاہئے _ اور ان كو حل كرنے كى فكر كرنى چاہئے _ انسان اس بات كى توانائي ركھتا ہے كہ سينكڑوں چھوٹى بڑى مشكلات كو خندہ پيشانى كے ساتھ قبول كرے اور اس كى ابروپربل نہ آئے _

پريشانيوں كى اصل وجہ زمانے كے ناخوشگوار حادث نہيں ہوتے بلكہ يہ خود ہمارے اعصاب كى كمزورى ہے جو ہر چھوٹى بڑى بات سے جلد متاثر ہوكر پريشانيوں اور گھبراہٹ ميںمبتلا ہوجاتے ہيں اگر درپيش حالات كے مقابلے ميں ہم اپنے نفس كو قابو ميں ركھيں اور اپنے اعصاب پر كنٹرول كريں تو غم و غصہ كوئي معنے ہى نہيں ركھتا _

ہمارى زندگى ميں جو ناگوار حالات وواقعات پيش آتے ہيں وہ دو قسم كے ہوتے ہيںايك تو وہ جو اس جہاں مادى كا جزو لا ينفك ہيں اور جن سے بچنے كے لئے ہمارى كوئي بھى سعى و تدبير كام نہيں آتى _ دوسرے وہ حادثات ہيں جنھيں ہم اپنى سعى و تدبير سے ٹال سكتى ہيں _

اگر حادثات كا تعلق پہلى قسم سے ہو تونالہ و فرياد ، غم و غصہ اوربدمزاجى كرنا بلا شك و شبہ بے سود ہوگا _ بلكہ يہ امر سو فيصدى غير عاقلانہ ہوگا _ كيونكہ اس سلسلے ميں كوئي چيز ہمارے دائرہ اختيار ميں نہيں ہے ہم چاہيں يا نہ چاہيں اس جہان مادّى ميںان چيزوں كا وجود ميں آنا لازمى امر ہے _ بلكہ ہميں ان كے لئے تيار رہنا چاہئے _ البتہ اگر ان كا تعلق دوسرى قسم سے ہے تو سعى و تدبير او ربردبارى سے ان كو حل كرنے كى فكر كرنى چاہئے _ اگر ہم اپنى مشكلات كا مقابلہ كرنے كے لئے اپنے آپ كو آمادہ ركھيں اور اپنے اعصاب كو كنٹرول ميں ركھيں اور دانشمندى اور سوجھ بوجھ سے كام ليں تو اكثر مشكلات بڑى آسانى سے حل ہوسكتى ہيں _ ايسى صورت ميں غصّہ اوربداخلاقى سے نہ صرف يہ كہ مشكلات حل نہيں ہو سكيں گى بلكہ ممكن ہے مزيد اضافہ ہوجائے _ لہذا ايك عاقل اور باوقار انسان كو چاہئے كہ اپنے ہوش و حواس اور اعصاب كو ہميشہ قابو ميں ركھے اور زمانے كے حادثات اور زندگى كى اونچ نيچ سے متاثر ہوكر آپے سے باہر نہ ہوجائے _

انسان ايك طاقتور اور بااختيار مخلوق ہے جو اپنى سعى و كوشش اور بردبارى سے بڑى سے بڑى مشكل پر فتح حاصل كرسكتا ہے _ كيا يہ چيز قابل تاسف نہيں كہ چھوٹى باتوں اور زمانے كے سردو گرم كے مقابلے ميں انسان ہمت چھوڑ بيٹھے اور نالہ و فرياد شروع كردے اور اپنے سے كمزوروں پر اپنا غصہ اتارے ان پر چيخ چلائے ؟

سب سے بڑھ كر يہ كہ زمانے كى گردش اور ناپسنديدہ عناصر كے سلوك نے آپ كى پريشانى كے حالات فراہم كئے ہيں اس سلسلے ميں آپ كى بيوى بچوں كا كيا قصور ہے؟ آپ كى بيوى صبح سے اب تك گھر كے كاموں ميں مشغول رہى ہے _ كھانا پكانے ، كپڑے دھونے ، گھر كى صفائي اور بچوں سے نپٹنے جيسے صبر آزما مراحل سے گزرى ہے اور تھكى ہارى آپ كے انتظار ميں ہے كہ آپ گھر آئيں اور اپنى خوش اخلاقى اور مہربانى سے اس كے دل كو شاد كركے اس كى سارى تھكاوٹ دور كريں گے _

آپ كے بچے بھى صبح سے اب تك اسكول ميں پڑھائي ميں مشغول رہے ہيں ان كا دل و دماغ بھى تھكا ہوا ہے يا دوكان يا كارخانے ميں كام ميں مشغول رہے ہيں اور اب تھكے ہارے گھر لوٹے ہيں اور اپنے باپ سے اس بات كى توقع ركھتے ہيں كہ اپنى ميٹھى ميٹھى محبت و شفقت بھر ى باتوں كے ذريعہ ان كى تھكن دور كرديں گے _ اور باپ كا شفيق رويہ اور اظہار محبت ان ميں ايك نئي روح پھونك دے گا اور انھيں مزيد سعى و عمل كے لئے حوصلہ عطا كرے گا_

جى ہاں آپ كے بيوى بچے دل ميں سينكڑوں اميديں اور آرزوئيں لئے آپ كے منتظر ہيں _ آپ خود غور كريں كيا يہ مناسب ہے كہ وہ بيچارے آپ كى تيورياں چڑعى ہوئي ، غصے سے لال پيلى صورت سے روبرو ہوں ؟

يہ سب آپ سے توقع ركھتے ہيں كہ آپ ان كے لئے فرشتہ رحمت ثابت ہوں گے _ اپنى خوش اخلاقى اور شگفتہ چہرے كے ساتھ گھركے ماحول كورونق بخشيں گے اور اپنى دلكش اور شفيق باتوں سے ان كے تھكے ماندے اعصاب كو سكون پہونچائيں گے نہ يہ كہ اپنى بدمزاجى اورناروا سلوك سے گھر كے ماحول كو تيرہ و تاريك بناديں گے اور غصہ و ناراضگى كا اظہار كركے اور ڈانٹ ڈپٹ كركے ان كے تھكے اعصاب كو مزيد خستہ كرديں گے _

كيا آپ جانتے ہيں كہ نامناسب جملوں او رجھڑكيوں سے ان كى معصوم روح و جسم پر كتنے خراب اثرات مرتب ہوتے ہيں ؟ كہ جن كے نتائج كا خميازہ آپ كو بعد ميں بھگتنا پڑے گا _ اگر آپ كو ان پر رحم نہيں آتا تو كم سے كم خود اپنے آپ پررحم كھايئے يہ جو آپ خود پر كنٹرول نہيں كريں گے اور معمولى معمولى باتوں پر چراخ پا ہوجاياكريں گے تو كيا آپ كا جسم اوراعصاب صحيح و سالم رہ سكيں گے ؟

ايسى صورت ميں آپ كس طرح اپنے روزمرہ كے فرائض كو لجن و خوبى انجام دے سكتے ہيں اور زندگى كى مشكلات اور زمانے كے مصائب پر قابو پا سكتے ہيں ؟ كيوں اپنے اور اپنے بيوى بچوں كے سكون و آرام كى جگہ كوايك خوفناك قيد خانے ميں تبديل كرنے پر تلے ہوئے ہيں _ يادرہے اس ماحول سے حاصلہ خراب نتائج كے ذمہ دار آپ خود ہوں گے _

كيا يہ بہتر نہ ہوگا كہ ہميشہ خوش و خرم اورمسكراتے رہئے _ اور اگر كوئي مشكل آپڑے توغصہ اور چيخے چلاّئے بغير اپنى عقل و تدبر سے كام لے كر سكون كے ساتھ اس كو حل كرنے كى فكر كريں؟

كيا يہ بہتر نہ ہوگا كہ جب آپ اپنى تونائيوں كو پھر سے بروئے كارلانے كى غرض سے اپنے گھر كى آسائشے گاہ ميں قدم ركھيں تو اپنے دل ميں خود اس بات كا تجزيہ كريں كہ غصہ اور بدمزاجى سے كوئي مشكل حل نہ ہوگى _ بلكہ اعصاب اور زيادہ خستہ ہوجائيں گے بلكہ ممكن ہے اور كئي نئي نئي مشكلات پيدا ہوجائيں لہذا بہتر ہے كہ تجديد توانائي كے لئے فى الحال آرام كروں تا كہ ميرے جسم كو آرام ملے اس كے بعد تروتازہ ہوكر اطمينان كے ساتھ اس مشكل سے نپٹنے كى فكركروں _

تھوڑى دير كے لئے زندگى كى پريشانيوں اورتلخ حادثات كو بھول جايئے اور كشادہ پيشانى كے ساتھ مسكراتے ہوئے گھر ميں داخل ہوئے _ خوشگوار اورمحبت بھى باتوں ہے اہل خانہ كے دلوں كو شاد كيجئے _ اطمينان كے ساتھ پر لطف باتيں كيجئے ہنسئے ہنسايئے خوشگوار ماحول ميں كھانا كھايئےور آسودہ اعصاب كے ساتھ سوجايئےا آرام كيجئے، اس طريقہ كار سے آپ اپنے بيوى بچوں كے دلوں كو اور گھر كے ماحول كو خوش اور پرسكون بنا سكتے ہيں اور انھيں اپنے اپنے كاموں ميں سرگرم رہنے كے لئے آمادہ كرسكتے ہيں اور خود بھى صحيح و سالم اعصاب كے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سكتے ہيں _

يہى وجہ ہے كہ دين مقدس اسلام ميں اچھے اخلاق كو ، ديانت كا جزو اور كمال ايمان كى علامت كہا گيا ہے _

حضرت رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں : ايمان كے اعتبار سے كامل ترين انسان وہ لوگ ہيں جو بيحد خوش اخلاق ہوں _ تم ميں سے بہترين انسان وہ ہے جو اپنے خاندان كى نسبت نيكى كرے _ 

پيغمبر اسلام(ص) كا ارشاد گرامى ہے كہ اچھے اخلاق سے بہتر كوئي عمل نہيں ہے _ 

امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں : نيكوكارى اور خوش مزاجى گھروں كو آباد اور عمر كو طويل كرتى ہے _

امام جعفر صادق عليہ السلام كا يہ بھى قول ہے كہ ” بداخلاق انسان خود كو عذاب ميں مبتلا كرليتا ہے _ حكيم لقمان كا كہنا ہے : عقل مند آدمى كو چاہئے كہ اپنے گھروالوں كے درميان ايك بچے كى مانند رہے اور اپنى مردانگى كا مظاہرہ گھر كے باہر كرے _ 

حضرت رسول خدا (ص) فرماتے ہيں خوش اخلاقى سے بڑدہ كر كوئس عيش نہيں _ 

آنحضرت صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كا يہ بھى قول ہے كہ : اچھا اخلاق ، نصف دين ہے _ 

حضرت رسول خدا (ص) كے ايك بڑے صحابى سعد بن معاذ ، جن كا آپ بہت احترام كرتے تھے ، كا جب انتقال ہو ا تو رسول اكرم نے صاحبان عزا كى طرح پا برہنہ ہو كر ان كے جلوس جنازہ ميں شركت كى _ اپنے دست مبارك سے ان كے جنازہ كو قبر ميں اتارا اور قبر كى مٹى برابر كى _ سعد كى والدہ نے ، جو رسول خدا (ص) كے ان تمام احترامانہ اعمال كو ديكھ رہى تھيں اپنے بيٹے سعد كو مخاطب كركے كہا : اے سعد بہشت مبارك ہو _

پيغمبر اكرم(ص) نے فرمايا: اے مادر سعد ايسا نہ كہئے كيونكہ سعد كو قبر ميں سخت فشار كا سامنا كرنا پڑاہے _ لوگوں نے وجہ پوچھى تو آ پ نے فرمايا كہ اس كى وجہ يہ ہے كہ وہ اپنے گھروالوں كے ساتھ بداخلاقى سے پيش آتے تھے _ 

بے فائدہ شكوے شكايات

زندگى ميں مشكلات اور دشوارياں پيش آتى رہتى ہيں _ دنيا ميں كوئي ايسا نہيں جسے كبھى نہ كبھى گردش ايام كا سامنا نہ كرنا پڑا ہو اور وہ سو فيصدراضى و خوش ہو اور اسے كوئي غم نہ ہو _ البتہ بعض لوگ اس قدر وسيع القلب ، صابر اور باحوصلہ ہوتے ہيں كہ مشكلات كو نہايت سكون كے ساتھ برداشت كرليتے ہيں _ زمانے كا رونا نہيں روتے صرف ضرورى مواقع پرہى ان كا ذكر كرتے ہيں اور سنجيدگى كے ساتھ مشكلات كو رفع كرنے كے لئے كوشش كرتے ہيں _

باوقار انسان نالہ و فرياد ، ہر ايك پر نكتہ چينى كرنے اور ہر ايك سے اپنا دكھرا بيان كرنےسے گريز كرتے ہيں كيونكہاس كا كوئي فادہ بھى نہيں اور يہ چيز نفس كى كمزورى كى علامت سمجھى جاتى ہے بلكہ وہ اس بات كو سمجھتے ہيں كہ اپنى پريشانيوں كو بيان كرنے سے ان كے درد كى دوا نہيں ہوجائے گى پس اپنا درد و غم سنا كر دوستوں كى پر لطف محفل كو كيوں درہم برہم كريں اور ان كا وقت برباد كريں ليكن بعض لوگوں ميں اتنا ظرف نہيں ہوتا اور انھيں اپنے نفس پر قابو نہيں رہتا كہ كوئي بات اپنے دل ميں ركھ سكيں انھيں شكوہ شكايات اور نالہ و فغان كرنے كى عادت پڑجاتى ہے _ ہر كسى كے سامنے خواہ موقع محل ہو يا نہ ہو شكايتوں كے دفتر كھول كے بيٹھ جاتے ہيں _ دوستوں كى محفل ميں ، جو كہ تفريح اور پر لطف وقت گزارنے كى خاطر سجائي جاتى ہے ، عنان سخن كو اپنے ہاتھ ميں لے ليتے ہيںاور پريشانيوں ، زمانے كے كج رفتارى ، اور چرخ فلك كى شكايتيں كرنے ميں مشغول ہوجاتے ہيں ، گويا شيطان كى طرف سے انھيں يہ كام سونپاگيا ہے كہ انس و خوشى كى محفل كو درہم برہم كرديں اور محفل ميں موجود لوگوں كو بھى ان كى پريشانياں يادلاديں _ يہى وجہ ہے كہ اكثر دوست اس قسم كے شيطان صفت لوگوں كى صحبت سے گريز كرتے ہيں اور جہاں تك ہو سكتا ہے ان سے اپنا دامن بچاتے ہيں _

مزید  کیا یہ حدیث صحیح ہے کہ پیغمبر خدا (ص) نے دایہ نہ ہونے کی وجہ سے کئی دن تک اپنے چچا ابو طالب کی پستان سے دودھ پیا ہے؟

چونكہ دوسرے لوگ ان كى شكايتيں سننے كے لئے تيار نہيں ہوتے تو اس كى تلافى اپنے گھر والوں سے كرتے ہيں اور اس سلسلے ميںمعمولى باتوں كو بھى نظر انداز نہيں كرتے _ كبھى چيزوں كى مہنگائي كا گلہ كرتے ہيں كبھى ٹيكسيوں كے خراب سسٹم كى اور بسوں ميں زيادہ مسافروں كو سواركر لينے كى شكايت كرتے ہيں تو كبھى دوستوں كى بد سلوكيوں يا ساتھيوں كى رقابتوں اور ركاوٹوں يا باس كى سخت گيرى اور بے انصافيوں كا رونا روتے ہيں _ كبھى بازار كے ماندہ پڑنے يا خراب گاہكوں كا ، كبھى بيماريوں اور ڈاكٹروں كى اونچى فيسوں كا يا اچھے ڈاكٹروں كى كمى كا ماتم كرتے ہيں _ اس قسم كے افراد چونكہ قنوطى ہوتے ہيں اوردنيا ميں انھيں صرف برائياں ہى نظر آتى ہيں _ معمولى معمولى ناگوار باتوں سے متاثر ہوكر شكوہ كيا كرتے ہيں اور گھر والوں كا بھى سكون و چين غارت كرديتے ہيں _ ان بيچاروں كے لئے توكوئي راہ فرار بھى نہيں ہے بس جلے جائيں اور حئے جائيں _

برادر محترم اس قسم كى باتوں اور نالہ و زاريوں سے سوائے پريشانى كے كيا حاصل ؟ يہ كس درد كى دوا كرتى ہيں ؟ كيوں ايك برى اور بے سود عادت كے سبب اپنے خاندان والوں كى پريشانى ميں اضافہ كرتے ہيں ؟ آپ كى بيوى صبح سے رات تك گھر ميں كتنى زحمتيں اٹھاتى ہے اسے بھى گوناگوں مشكلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے _ گھر كے كاموں كى كثرت اور بچوں كے ہنگاموں نے اس كے اعصاب كو تھكاديا ہے _

آپ كے بچے بھى اسكول سے يا اپنے كام پر سے تھكے ہارے گھر آئے ہيں سبھى آپ سے اس بات كى توقع ركھتے ہيں كہ آپ گھر آئيں گے تو اپنى خلوص گفتگو سے سب كے دلوں كو خوش كرديں گے _ سچ كہئے گا كيا يہى انصاف ہے كہ ان كى دلجوئي كرنے كے بجائے آپ ان كے لئے شكوہ و شكايات كا تحفہ لے كر آئيں ؟

كيوں انس و محبت كے مركز اوراپنى آرام و آسائشے كو ايسے سلگتے ہوئے جہنّم ميں تبديل كرنے پر تلے ہوئے ہيں كہ جس كے ہر گوشے سے نالہ و فرياد اور آہ و زارى كى صدائيں بلند ہوتى ہيں ؟ اگر زندگى كے مخارج زيادہ ہيں يا دوسرے لوگ ناروا سلوك كرتے ہيں يا كچھ اور مشكلات درپيش ہيں تو اس ميں آپ كے بيوى بچوں كا كيا قصور ہے ؟ اگر آپ كا كاروبار ماندہ چل رہا ہے ، يا ٹھپ ہوگيا ہے وہ لوگ كيا كريں؟

آپ كى يہ ضرر سال عادت جو كسى مشكل كو حل كرنے ميں معاون ثابت نہيں ہوسكتى ، آپ كے گھر والوں كو ، گھر زندگى اور آپ كى صورت سے بيزار بنادگے گى ، بدمزگى اور رنجيدہ دلى كے ساتھ جو كھانا كھايا جائے گا اس كا بھلا كيا اثر ہوگا ؟ بس سب زہر ماركرليں گے _

آپ كے بيوى بچے آپ كے دائمى شرسے بچنے كى خاطر ، گھر سے فرار اختيار كرنے كى كوشش كريں گے بہت ممكن ہے فتنہ و فساد اور بدعنوانيوں كے رنگين جالوں ميں پھنس جائيں _ اس كے علاوہ مختلف بيماريوں خصوصاً اعصابى امراض ميں ہميشہ گرفتار رہيں _

كيا يہ بہتر نہ ہوگا كہ بردبارى ، متانت و سنجيدگى ، اعلى ظرفى اور عقلمندى سے كام ليں؟ جب آپ گھر كے لئے روانہ ہوں تو آلام و مصائب اور تلخيوں كى وقتى طور پر فراموش كرديجئے اور ہنستے مسكراتے خوش و خرم گھر آيئے جب تك گھر ميں رہئے اچھے اور خوشگورا موڈميں رہئے _ گھر كے ماحول كو ٹھيك ركھئے زمانے كى شكايتں اور دردل بيان كرے نہ بيٹھ جايئےور اپنے گھر والوں كو رنجيدہ و افسردہ نہ كرويجئے اچھى اچھى باتيں كيجئے خود بھى ہنسئے اور دوسروں كو بھى ہنسايئے خوشگوار ماحول ميں سب مل كر كھانا كھايئےور محبت بھرے پر سكون ماحول سے فرحت حاصل كيجئے اور زندگى كى جد و جہد ميں سرگرم عمل رہنے كے لئے اپنے دل و دماغ كو تروتازہ كيجئے _

اسلام ميں بھى بردبارى سے كام لينے اور آہ و زارى اور شكوہ شكايات سے اجتناب كو ايك اچھى عادت ماناگيا ہے اور اس كے لئے جزا معين كى گئي ہے _

حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں : جب كسى مسلمان پر كوئي مصيت پڑ جائے تو لوگوں سے خدا كى شكايت نہ كرے بلكہ خدا سے ، كہ جس كے ہاتھ ميں تمام مشكلات كو حل كرنے كى كنجى ہے ، شكايت كرے _ 

حضرت على (ع) كا يہ بھى ارشاد ہے كہ : توريت ميں لكھا ہے كہ جو شخص اپنى مصيبتوں كى شكايت كرتا ہے وہ در اصل خدا كى شكايت كرتا ہے _ 

پيغمبر اكرم (ص) فرماتے ہيں: كسى شخص پر جسمانى يا مالى اعتبار سے كوئي مصيبت آپڑے اور وہ لوگوں سے اس كى شكايت نہ كرے تو خدا پر لازم ہے كہ اس كے گناہوں كو معاف كردے _

اعتراض اور بہانہ جوئي

بعض مردوں كو اعتراض كرنے اور عيب نكالنے كى عادت ہوتى ہے _ گھر ميں داخل ہوتے ہى اعتراضات كا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے _ چھوٹى چھوٹى باتوں كے لئے بھى مسلسل بولتے رہتے ہيں مثلا فلاں چيزوہاں كيوں ركھى ہے ؟ فلاں چيز اپنى جگہ پر كيوں نہيں ہے ؟يہاں پا جامہ كيوں پڑا ہے ؟ يہاں گندگى كيوں ہے؟ كھانا تيار ہونے ميں دير كيوں ہوئي؟ كھانے ميں نمك كم ہے كتنى با ركہا ہے چكھ كے ديكھ ليا كرو_ فلاں چيز كيوں نہيں پكائي؟ آج سلادكيوں نہيں بنايا و سالن ميں ہرادھنيا كيوں نہيں ڈالا_ ہرى مرچيں دستر خوان پر كيوں نہيں آئيں چٹنى كيوں نہيں بنائي، حوض كا پانى كيوں گندہ ہے _ گلدان كو يہاں سے ہٹاؤ_ ہزار وقعہ كہا ايش ٹرے كو ميز پر ركھا كرو_ آخركتنى بار كہا جائے كيسے كہا جائے و غيرہ و غيرہ اور اس قسم كے سينكڑوں چھوٹے بڑے اعتراضات كرتے رہتے ہيں _

حتى كہ بعض مرد اس سلسلے ميں اس قدر سختى سے كام ليتے ہيں كہ خود اپنا اوراپنے گھر والوں كا سكول و چين حرام كرديتے ہيں _بلكہ بعض تواس كى خاطر شادى شدہ زندگى كے مقدس پيمان كو بھى متزلزل كرنے پر آمادہ ہوجاتے ہيں _

ہم اس بات كوتسليم كرتے ہيں كہ مرد كو گھر امور ميں دخل دينے كا اور اچھا برابتانے كاحق ہے اور اس كتاب كے پہلے حصہ ميں خواتين كونصيحت كى جا چكى ہے كہ مرد كے اس حق كو مانيں اور اس كى دخل اندازيوں كے مقابلے ميں كسى رد عمل كا اظہار نہ كريں ليكن مرد كو جو ك خاندان كا سرپرست اور منيجر ہے احتياط سے كام لينا چاہئے سوجھ بوجھ اور تدبر كو ملحوظ ركھنا چاہئے _ اگر گھركے امور ميں دخل اندازى كرنا چاہتا ہے تو اسے چاہئے كہ عاقلانہ اور صحيح طريقہ اختيار كرے تا كہ اس كى بات مؤثر ثابت ہو _

چونكہ مرد كو اتنى فرصت نہيں ہوتى كہ گھر كے تمام امور ميں دخل دے اور اصولى طور پر اسے اس سلسلے ميں كوئي مہارت بھى نہيں ہوتى اس لئے صلاح اسى ميں ہے كہ امور خانہ دارى كا كل اختيار اپنى بيوى كے سپرد كردے اور اس سلسلے ميں اسے پور ى آزادى دے كہ اپنے سليقے اور ذوق كے مطابق گھر كا انتظام چلائے _ اگر اس سلسلے ميں اس كے كچھ خاص نظريات ہوں تو صلاح و مشورہ كے طور پر، نہ كہ زورزبردستى اور حكم كے طور پر، اپنى بيوى كو بتادے اور اس سے كہے كہ اس كے سليقے اور نظريے كہ بھى لحاظ ركھے _ بيوى كو جب اپنے شوہر كے ذوق كا علم ہوجائے تو اگر وہ عقلمند اورمدبر ہے اورگھر اور زندگى سے دلچسپى ركھتى ہے تو اسے چاہئے كہ كوشش كرے كہ اپنے شوہر كى مرضى و خوشى كا خيا ل ركھے _ اوراگر گھر كے بعض امور ميں شوہر كى رائے كو مناسب نہ سمجھے تو نہايت نرمى و ملائمت سے اور مناسب الفاظ ميں اپنے شوہر سے اس كا ذكر كردے _ ايسى صورت ميں مرد كا احترام باقى رہے گا اور اس كى شخصيت مجروح نہيں ہوگى اور ايك حد تك اس كى رائے مان لى جائے گى _ كيونكہ اكثر خواتين اس صورت ميں مرد كى دخل اندازيوں كو تو قبول كرليتى ہيں ليكن اگراعتراضات كى شكل ميں اور دائمى طور پر ہو تو نہ صرف يہ كہ اس كا كوئي اثر نہيں ہوتا بلكہ اس كا نتيجہ برعكس نكلنے كا بھى امكان ہے _ كيونكہ بيوى آہستہ آہستہ شوہر كے مسلسل اعتراضات كى عادى ہوجاتى ہے اور اس كو اہميت نہيں ديتى _ ايسى صورت ميں شوہر كى شخصيت اس كى نظر ميں بے وقعت ہوجاتى ہے اور اس كى باتوں پر توجہ نہيں ديتى _ حتى كہ بجااور بہت اہم اعتراضات كو بھى درخوراعتنا نہيں سمجھتى _ اپنے دل ميں سوچتى ہے كہ جو بھى كام كروں گى آخر اس پر اعتراضات اور جھڑ پ تو ہونى ہى ہے ، لہذا كيا ضرورت ہے كہ اس كى رضامندى حاصل كرنے كيلئے زحمت اٹھاؤں _ اس كى توعادت ہى اعتراضات كرنے اور عيبب نكالنے كى ہے ، جتنا كرے كرنے دو _ رفتہ رفتہ گھر دارى اور شوہر كے كاموں كى طرف سے سرد مہرى برتنے لگتى ہے ، بعض اوقات انتقام كى غرض سے اسى كى طرح وہ بھى اعتراض اور عيب جوئي كرنے لگتى ہے _

ايسى صورت ميں گھر كا ماحول، جسے سكون و آرام كامركز ہونا چاہئے دائمى كشمكش كا شكار ہوكر ميدان جنگ ميں تبديل ہوجاتا ہے _ ممكن ہے مسلسل اعتراضات او رجھگڑوں سے اتنا تنگ آجائے كہ ايسى زندگى پر عليحدگى كو ترجيح دے اور شادى شدہ زندگى كے تانے بانے بكھر جائيں _ بيوى خواہ كتنى ہى عاقل اور بردبار ہوبالآخر مسلسل اعتراضات اور تحقير سے تھك جاتى ہے

مثل كے طور پر ذيل كے واقعہ پر توجہ كيجئے :

ايك شخص نے پولى چوكى ميں رپورٹ درج كرائي كہ اس كى بيوى دومہينے ہوئے لڑكر اپنے باپ كے گھر چلى گئي ہے _ اس شخص كى بيوى نے بتايا كہ ميرے شوہر كو گھر كے كاموں ميں ميرا طريقہ كارپسند نہيں ہے _ كھانا پكانے اورگھر كے انتظامات كے سلسلے ميں ہميشہ ميرى تحقير كيا كرتا ہے اس لئے ميں اس كے گھر سے آگئي ہوں _ اس كى باتيں سنتے سنتے ميرے كان پك گئے _ 

مرد كو يہ نكتہ دھيان ميں ركھنا چاہئے كہ گھر كے امور كى تنظيم اور گھر كا انتظام عورت سے مخصوص ہے اور يہ اس كى ذمہ دارى ہے _ اس كے اس حق كو سلب نہيں كرنا چاہئے كہ وہ ايك بے ارادہ مشين بن كررہ جائے _ بلكہ اس كو مكمل آزادى و اختيار دينا چاہئے تا كہ اپنے ذوق و سليقے كو بروئے كارلائے اور شوق و دلچسپى كے ساتھ امور خانہ دارى كو انجام دے _ يہ بات مصلحت سے بعيد ہے كہ مرد اس سلسلے ميں سختى اور ہٹ دھرمى سے كام ليں اور بہانہ تراشياں كريں _ كيونكہ گھر كا سكون و چين اور باہمى ميل محبت تمام چيزوں پر مقدم ہے _

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.