مثالی معاشرہ نہج البلاغہ کی روشنی میں

مقدمہ

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ انسان آغاز خلقت سےہی تنہائی سے گریز کرتے ہوئے اجتماعی زندگی اور اپنے آس پاس میں زندگی بسر کرنے والوں سے مختلف نوعیت کے رابطے اور میل و ملاپ بڑھانے کی سعی و تلاش میں رہا ہےیہ نہ فقط اسکی طبیعت کی خاصیت تھی بلکہ اسکی  فطرت کا بھی تقاضا تھا اسلامی نقطہ نظر سے بھی اگر دیکھا جائے تو کائنات کی ہر چیز جوڑے کی صورت میں خلق ہوئی ہے اسی فطری اور طبیعی  غریزے کو پورا کرنےاور دوسرے موجودات کی نسبت  عقل کے نایاب گوہر  سے بہرمند ہونے کی وجہ سے اپنی اجتماعی اور معاشرتی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی تگ و دو میں رہا  آہستہ آہستہ تاریخ انسانیت کی ترقی کے ساتھ ساتھ نہ فقط ایک معاشرے سے وابستہ افراد کے درمیان آپسی رابطے بڑھنے لگے بلکہ معاشروں کےدرمیان ایک دوسرے سے رابطے بھی عمیق اور گہرے ہونے لگےخاص کرعصرحاضر میں علم و صنعت اور ٹکنولوجی کی روز افزوں ترقی کی بناپر یہ رابطے اتنے وسیع ہونے لگے کہ عصر حاضر کو عصر ارتباط (Cominication World)کے خطاب سے بھی نوازا گیا اس سے بڑھ کر ان گہرے روابط کی وجہ سے  پورا عالم ایک معاشرے میں تبدیل ہوکے رہ گیا جس کی بنا پر عالم کاری وغیرہ جیسے نظریات بھی وجود میں آئے  لیکن اس تگ و دو میں مشرق اور مغرب سارے معاشروں کی یہی کوشش رہی ہے  کہ اپنے آپ کو دوسروں کے سامنے ہر زاویے سے لائق اور بہتر سے بہتر معاشرہ کی شکل میں پیش کرے یہاں تک کہ مغرب والے دوسروں سےایک قدم آگے  بڑھاتے ہوئے اس بات کے دعوے دار بھی بن بیٹھے کہ سب سے بہترین معاشرہ انکے یہاں ہی پایا جاتا ہے لہذا اگر دنیا میں دوسرے معاشروں کے لئے کوئی نمونہ عمل ہوسکتا ہے تو وہ ہمارا معاشرہ ہے۔ یہ بھی انسان کی فطرت کے رازوں میں سے ایک راز ہے کہ انسان یا تودوسروں کے لئے اپنے آپ کو نمونہ عمل پیش کرنے پر فخر کرتا ہے یا پھر کافی توانایی نہ ہونے کی صور ت میں دوسروں کے نقش قدم پہ چل کے اپنے اندر پائے جانے والے ضعف اور کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہےلوگوں کی طرح معاشرے اور سوسائٹی کا بھی یہی حال ہے اسی لئے انسان کے اس دیرینہ آرزو اور خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے طویل مدت سے انسانیت کے دوست اور دشمن دونوں ایک مثالی معاشرے یا ماڈل سوسائٹی کا خاکہ پیش کرتے رہےوہ پتھر کے زمانے کا انسان ہو یا قدیم یونان کے حکیم ہوں عصر جاہلیت کے سردار ہوں یا تاریخ اسلام کے نامور حکیم اور فلاسفر ، ہر ایک نے  اپنی علمی اورفکری سطح  کے اعتبار سے مثالی معاشرے کی سنگ بنیاد ڈالنے کی نظریاتی جدوجہد کی ہےلیکن چنانچہ عقل بشری کتنا ہی علمی اور فکری آسمانوں کی معراج کرتی رہے،ابھی تک کائنات اور انسان کے بہت سارے اسرار و رموز سے ناواقف ہےاور جب تک انسان اپنی فکر جولان گاہ کو وحی الہی کے چشمہ فیضان سے سیراب نہ کرے انسانیت کے عروج اور سربلندی کے لئے ایک مثالی معاشرے کی تشکیل بھی ادھوری  رہے گی  آج اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے وحی الہی کے چشمہ فیض سے سیراب ہونے والے کائنات کی بے مثال ہستی کے انمول بیانات کی روشنی میں  ایک ایسے مثالی معاشرے کی سنگ بنیاد ڈالتے ہیں جن کے مبارک اقوال کو‘‘دون کلام خالق اور فوق کلام بشر’’ کہا گیا ہے جی ہاں یہ مولائے کونین علی(ع) کا مبارک کلام ہےیہ انسانیت کے لئے نہج البلاغہ جیسی نایاب اقوال پر امام (ع) کا ایک عظیم تحفہ ہے جس میں مثالی معاشرے کے خدو خال بیان کرنے میں ہم اپنی کم علمی اور ہزاروں عیب  کو مدنظر رکھتے ہوئے فقط ایک اجمالی سیر کریں گے اور ہماری کوشش یہی رہے گی  امام علی کے ہاتھوں تشکیل پانے والے مثالی معاشرے کے تمام جوانب کی طرف  اشارہ کیا جائے نہج البلاغہ کی نورانیت میں جو معاشرہ چاند، ستاروں کی طرح چکمتا نظر آرہا ہے وہ انسان کے ہراخلااقی ، ثقافتی،معاشرتی، سیاسی، معیشتی، اور کئ دوسری خصوصیات اپنے تمام جوانب کے ساتھ بیان کررہا ہےیہ مثالی معاشرہ منفر د ہے یہ انسانوں کا معاشرہ ہے اسے مثالی انسانی معاشرہ کہا جائے تو زیادہ بہتر رہے گانہج البلاغہ کی روشنی میں ایک ایسے مثالی معاشرے کو تلاش کرناخود ہی بہت اہمیت کا حامل ہے آج کے دور میں تڑپتی اورسسکتی ہوئی انسانیت جہاں انسانما افراد کے ہاتھوں لہولہاں ہے، وہیں انسانیت کے دوستداروں کی ہمیشہ یہی کوشش رہی کہ معاشرے کو ہر انداز سے بہتر سے بہتر بناکے انسانیت اور اسکے اقدا کو ہمیشہ کے لئے زندہ اور جاوید رکھا جائے  میں  پھر سے اپنی کمی علمی کا اعتراف کرتا ہوں اور ساتھ ہی اس بات کا تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں کہ میری کوشش یہی رہی ہے کہ دوسری کتابوں سے کم سے کم استفادہ کرکے نہج البلاغہ پر ہی زیادہ توجہ کروں اسی لئے پروردگار عالم کے بعد اپنے مولائے کائنات کےچوکھٹ پہ سرخم کرکے آپ ہی سے مدد کا طلبار ہوں کہ میری فکری توانائیوں میں اپنے مبارک کلام کوصحیح ادراک کرنےکی صلاحیت عطاکرے  اور قلم کی روانی میں مثالی معاشرے کی انمول  خصوصیات  بیان کرنے کی سکت عنایت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

مثالی معاشرے کی ضرورت و اہمیت:

اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر خلقت کے مقاصد اور انسانی کی اجتماعی زندگی کے ناقابل انکار پہلو کو ملحوظ نظر رکھا جائے، ایک مثالی معاشرے کی ضرورت خودبخود عیان ہوجاتی ہے مکتب نہج البلاغہ میں نہ صرف ایک انسانی معاشرے کی ضرورت پر ہی زوردیا گیا ہے بلکہ ایک صالح اورمثالی معاشرے کے تشکیل پربھی کافی تاکید کی گئی ہےامام علی(ع)انفرادی زندگی اور رہبانیت سے پرہیز کرنے کی تلقین کرتے ہوئے معاشرے میں یکجا اور آپس میں ملکر رہنے کی تاکید فرماتے ہیں[i]۔

(وَالْزَمُوا السَّوَادَ الاَعْظَم فَإِنَّ يَدَ اللهِ مَعَ الْجَمَاعَةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْفُرْقَةَ! فَإِنَّ الشَّاذَّ مِنَ النَّاسِ لِلشَّيْطَانِ، كَمَا أَنَّ الشَّاذَّةَ مِنَ الْغَنَمِ لِلذِّئْبِ)[ii]”همیشہ مسلمانوں کی جمع غفیر سے پیوستہ رہو یقینا خدا کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے اور تفرقہ کرنے سے پرہیز کرو کیونکہ اکیلا آدمی شیطان کا نوالا ہوتا ہے جس طرح اکیلا بھیڑ، بھیڑئے کا شکار ہوجاتا ہے“

آپ کی نظر میں ایسے مراکز اور معاشرے میں زندگی گزارنی چاہیے جہان مسلمانوں کا کافی مجمع ہو اور توحید پرست افراد سکونت  پزیر ہوں اور ایسی سوسائٹی سے دوری اختیار کرنی چاہیے جہاں ظلم و ستم اور خدا کی ذکر و عبادت سے غفلت کی جاتی ہو۔

(وَاسْکُنِ الْأَمْصَارَ الْعِظَامَ فَإِنَّهَا جِمَاعُ الْمُسْلِمِینَ وَاحْذَرْ مَنَازِلَ الْغَفْلَةِ وَالْجَفَاءِوَقِلَّةَ الْأَعْوَانِ عَلَی طَاعَةِ اللَّهِ)[iii]”ایسے بڑے بڑے شہروں میں سکونت اختیار کروجہاں مسلمانوں کی کافی بڑی تعداد پائی جاتی ہو اور ایسے معاشروں میں سکونت اختیار کرنے سے پرہیز کرو جہاں یاد خدا سے غفلت،ظلم کا ساتھ اور خدا کی قلیل عبادت کی جاتی ہو“

اسی طرح ایسے معاشرے میں پروان چڑھنے والے افراد کے نیک صفات بیان کرتے ہوئے ان کے ساتھ اجتماعی روابط برقرار کرنے کی تاکید کرتے ہیں۔

(ثُمَّ الْصَقْ بَذَوِي الْمُرُوءَاتِ وَالاَْحْسَابِ، وَأَهْلِ الْبُيُوتَاتِ الصَّالِحَةِ، وَالسَّوَابِقِ الْحَسَنَةِ، ثُمَّ أَهْلِ النَّجْدَةِ وَالشَّجَاعَةِ، وَالسَّخَاءِ وَالسَّماحَةِ، فَإِنَّهُمْ جِمَاعٌ مِنَ الْكَرَمِ، وَشُعَبٌ مِنَ الْعُرْفِ)[iv] ”پھر اسکے بعد اپنا رابطہ بلند خاندان ، نیک گھرانے، عمدہ روایات والے اور حاصبان ہمت و شجاعت و سخاوت و کرم سے مضبوط رکھو کہ یہ لوگ کرم کا سرمایہ اور نیکیوں کا سرچشمہ ہیں“

پس ایسے نیک صفات آدمی جس معاشرے میں بھی پائے جاتے ہوں وہ معاشرہ بیشک انمول ہوگاامام فقط ایسے معاشرے کی تشکیل پر تاکید کرتے ہیں ایسے انسانی اقدار زندہ رکھنے والوں سے معاشرت کرنے کی تلاش میں ہیں پس ان فرمایشات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ انسان کواپنے اعلی مقاصد اور انسانی کمالات تک پہنچنے کے کئے ایک مثالی معاشرے کی ضرورت ہے۔

مثالی معاشرے کے بنیادی ارکان۔

ایک چھوٹے سے چھوٹے اجتماع اور جماعت سے لیکر ایک معاشرے اور سوسائٹی تک کی بنیاد کے کچھ اصول، مبنی اور ارکان  ہوتے ہیں اور انہی اصول اور ارکان کو ملحوظ نظر رکھتے ہوے اس معاشرے کے دوسرے سارے امور انجام پاتے ہیں  مکتب نہج البلاغہ میں تشکیل پائے جانے والا مثالی معاشرہ بھی کچھ اہم اصول اورارکان کی بنیاد پر وجود میں آتا ہے امام علی (ص)نے ہر جگہ ان ارکان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انسان کو اپنے مثالی معاشرے کی حقیقت سے آشنا کرایا ہے مقالہ کی طوالت سےپرہیز کرتے ہوے یہاں  صرف سب اہم اور بنیادی ارکان کی جانب اشارہ کریں گے۔

توحید:

اس میں کوئی شک نہیں کہ مغربی سماج میں رائج سکولر اور لیبرل نظام کی بنیاد غیردینی ہے اور مغربی دانشور اپنے ماڈل سماج کے بنیادی رکن کو انسان محوری(humemism)قرار دیتے ہیں لیکن مکتب نہج البلاغہ کے مثالی معاشرے کے اندر توحید مرکزی کردار ادا کرتی ہے یہ مختلف شکلوں میں رائج انسان پرستی اور بت پرستی سے دور توحید پرستی کا معاشرہ ہے توحید دوسرے سارے اصول اور ارکان کے لئےسرچشمہ  کی حیثیت رکھتی ہے اگر توحید نہ ہو تودوسرے سارے ارکان اور خصوصیات  بے معنی ہوجاتے ہیں یہاں ہر چیز پہ انسان کی نہیں بلکہ خدا کی نظارت ہے‘‘لا حکم الاّ الله’’ جلوہ نما ہےہر فعل و عمل میں توحید کا نظارہ کیاجاتا ہے ‘‘مارأیت شیئا و رایت الله قبله و معه و فیه’’[v] ‘‘ اسی لئے ایسے معاشرے میں پروش پانے والی نسل سے خطاب ہوتے ہیں:

(فَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذي أَنْتُمْ بِعَيْنِهِ، وَ نَوَاصيكُمْ بِيَدِهِ، وَ تَقَلُّبُكُمْ في قَبْضَتِهِ، إِنْ أَسْرَرْتُمْ عَلِمَهُ، وَ إِنْ أَعْلَنْتُمْ كَتَبَه)[vi] ”اس اللہ سے ڈرو کہ تم جس کی نظروں کے سامنے ہو اور جس کے ہاتھ میں تمہاری پیشانیوں کے بال اور جس کے قبضہ قدرت میں تمہار ا اٹھنابیٹھنا او ر چلنا پھرنا ہےاگر تم کوئی بات مخفی رکھو گے تو وہ اس کو جان لے گا اور ظاہر کرو گے تو اسے لکھ لے گا “

نقطه ادوار عالم لا اله                              انتهای کار عالم لا اله

چرخ را از زور او گردندگی                          مهر را پابندگی رخشندگی[vii]

جس طرح قرآن مجید توحید کے محور پر مومنین اور مسلمین کوایک مثالی معاشرہ تشکیل دے کے عدالت الہی قائم کرنے پر زود دیتا ہے بالکل ویسے ہی  نہج البلاغہ بھی ایک خدا، ایک معبود، ایک خالق کی جانب دعوت دے کے، حقیتقت میں سارے معبود کی نفی اورمثالی معاشرے میں حائل سارے موانع کو دور کرنا چاہتا ہے۔

قرآن کریم کی نگاہ میں بعثت انبیاء کا فلسفہ خدا اور توحید کی بنیاد پر لوگوں کو دعوت دینا اور قوموں کے درمیان  تفرقہ اور جدائی ڈالنے والے زمانے کے سامراجی اور استعماری طاقتوں، سے مقابلہ کرنا مقصود ہے۔

(وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللّهَ وَاجْتَنِبُواْ الطَّاغُوتَ )(نحل ٣٦)”اور بیشک ہم نے ہر امت کے لئے ایک رسول بھیجا تا کہ خدا کی عبادت کریں اور طاغوت سے دوری اختیار کریں “

نیز امام علی (ص)نہج البلاغہ میں اسی فلسفہ اور حکمت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

فَبَعَثَ اللهُ مُحَمَّداً بِالْحَقِّ لِيُخْرِجَ عِبَادَهُ مِنْ عِبَادَةِ الاَْوْثَانِ إِلَى عِبَادَتِهِ، وَمِنْ طَاعَةِ الشَّيْطَانِ إِلَى طَاعَتِهِ، بِقُرْآن قَدْ بَيَّنَهُ وَأَحْكَمَهُ، لِيَعْلَمَ الْعِبَادُ رَبَّهُمْ إِذْ جَهِلُوهُ)[viii] ”پروردگار عالم نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا بتاکہ آپ لوگوں کوبت پرستی سے نکال کر عبادت الہی کی منزل  کی طرف لے آئیں اور شیطان کی اطاعت سے نکال کر رحمان کی اطاعت  کرائیں اس قرآن کے ذریعہ سے جسے واضح اور محکم قرار دیا ہے تاکہ بندے خدا کو نہیں پہچانتے ہیں تو پہچان لیں “

آپ اہل رائے کی مذمت کرتے ہوئے انہیں مشترکہ عقیدہ کی جانب توجہ دلاتے ہوئے مثالی معاشرے کے اس اہم رکن اور مبنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”سب کا خدا ایک ، نبی ایک اور کتاب ایک ہے“[ix] یعنی جب معاشرے پر توحید پرستی حاکم ہو تو اختلاف معنی ہی نہیں رکھتا۔

ایک اور جگہ لشکر شام کے بنیادی عقاید کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہیں توحید کے مبنی پر اتحاد اور یکجہتی استوار کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔[x] کیونکی عقیدہ توحید کی بناپر ہی مثالی معاشرے میں سالمیت پیدا ہوسکتی ہے۔

یہ فرمایشات اسی بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عملی اور نظریاتی میدان امام علی(ص) کے مثالی معاشرے کا سب سے بنیادی رکن  توحید ہی ہے یہ معاشرہ توحید پرستوں کا معاشرہ ہےنہ کہ انسان پرستوں کا ۔

نہاد زندگی میں ابتدا لا، انتہا لا                پیام موت ہے جب لاہوا الاّ سے بیگانہ[xi]

قرآن:

اس بات سے قطعی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایک صالح اور نیک معاشرے کی سعادت اور ترقی کے لئے ایک صالح قانون کا ہونا بھی ضروری ہے نہج البلاغہ کی دنیا میں صالح قانون قرآن ہے جو امام علی(ص) کے مثالی معاشرے کا دوسرا اہم رکن قرارپایا ہے آپ نے قریب بیس سے زیادہ خطبوں میں تعلیمات قرآن کوعملی جامہ پہنانے پر تاکید کی ہے آپ کا مثالی معاشرہ قرآن کے اصول اور قوانین پر استوار ہےامام کی فرمایشات کے مطابق انسان اور انسانی معاشرے کا سب سے بہترین ھادی قرآن ہے ایک ایسا نور ہے جو کبھی خاموش ہونے والا نہیں ہےمعاشرے کی ساری بیماریوں کا علاج اس میں پوشیدہ ہے مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس پر عمل کریں۔

(وَعَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللهِ، فَإِنَّهُ الْحَبْلُ الْمَتِينُ، وَالنُّورُ الْمُبِينُ، وَالشِّفَاءُ النَّافِعُ…)[xii] ”اور تم پر لازم ہے کہ کتاب خدا پر عمل کرو کہ یہی مضبوط ریسمان اور روشن نور اور مفید علاج ہے…“

آپ خطبہ نمبر(198) میں تفصیل سے قرآن کی حقیقت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کا رھرو کبھی گمراہ نہیں ہوگا انسان کے ایمان کی اصل قرآن ہی ہے یہ اسلام کا مضبوط ستون ہے گویا مثالی معاشرے کی استواری کے لئے ہر طرح کا علم و برہان اور ہدایت اس میں پائی جاتی ہے معاشرے کے معیشتی، قضایی، عبادی، سیاسی وغیرہ امور کو انجام دینے کے واسطے قرآن ہی سب سے بہترین ھادی ہے اسی لئے مکتوب نمبر(47)میں اپنی آخری وصیت میں یہی فرماتے ہیں کہ ‘‘ الله الله فی القرآن لایسبقکم بالعمل به غیرکم’’ ‘‘دیکھو اللہ سے ڈرو قرآن کے بارے میں اس پر عمل کرنے میں دوسرے لوگ تم سے آگے نہ نکل جائیں’’

اسي قرآن میں مثالی معاشرے کے امور کو تنظیم کرنے کی معلومات موجود ہے ماضی سے عبرت اور مستقبل میں آئیڈئیل سوسائٹی کو بہتر سے بہتر بنانے کے فرامین پائے جاتے ہیں

(أَلاَ إِنَّ فِيهِ عِلْمَ مَا يَأْتي، وَالْحَدِيثَ عَنِ الْمَاضِي، وَدَوَاءَ دَائِكُمْ، وَنَظْمَ مَا بَيْنَكُمْ)[xiii] ” اس میں مستقبل کا علم ہے اور ماضی کی داستان ہے تمہارے درد کی دوا ہے اور تمہارے امور کی تنظیم کا سامان ہے“

آپ(ع) لوگوں سے بیعت لےتے وقت اس بات کہ جانب اشارہ کرتے ہیں کہ اسلامی حکومت میں تشکیل پائے جانے والا مثالی معاشرہ قرآن کے اصول اور قوانین پر استوار ہوگا ۔

(و اعلموا أنّي إنْ أجَبْتُكُمْ رَكِبْتُ بكم ما أعْلَمُ، و لَمْ أُصْغ ِإلي قولِ القائل و عَتْب ِالعاتبِ)[xiv] ”تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اگر میں تمہاری اس خواہش کو مان لوں تو تمہیں اس راستے پر لے چلوں گا۔ جو میرے علم میں ہے اور اس کے متعلق کسی کہنے والے کی بات اور کسی ملامت کرنے والے کی شرزنش پر کان نہیں دھروں گا۔“

اور اپنے علم کے مطابق عمل کرنے سے مراد تعلیمات قرآن اور رسول اکرم(ص) کی پاکیزہ سیرت کے مطابق عمل کرنا ہے چنانچہ آپ قرآن ناطق بھی ہیں اور وارث علم پیغمبر بھی۔(ادعوکم الی کتاب الله و سنة نبية۔۔۔)[xv] ”میں تمہیں کتاب خدا اور اسکے نبی کی سنت کی جانب دعوت دیتا ہوں“

پس امام علی(ع) کے خوبصورت اور پاکیزہ شہر اور بے مثال معاشرے میں قرآن حاکم ہے قرآن کے اصول اور قوانین نافذ ہیں لہذا اسکی تشکیل کے نظری اور عملی میدان میں قرآن پاک کا ایک اہم اور بنیادی کردارہےاسی لئے یہ معاشرہ اور وں کے مقابلے میں زیادہ پائیدا اور استوار ہےکیونکہ اس کے ارکان ابدی اور مستحکم ہیں۔

ملـــت از آئين حق گيرد نظام                از نظام محکـــمي خيزد دوام[xvi]

از يـک آئــــيني مسلم زنده است                  پـــــيکر ملت ز قرآن زنـده است[xvii]

گر تو مي خواهي مسلمان زيــستن      نيست ممــــکن جز به قرآن زيستن[xviii]

سیرت پیغمبر (ص)

مکتب امام علی(ع) کے مثالی معاشرے اور آئیڈیل سوسائٹی کا تصور رسول پاک(ص) کی سیرت طیبہ کے بغیر ناممکن ہے آنحضور(ص)کی سیرت طیبہ کو نظریاتی اور عملی میادین میں اجرا کرنا امام کے مثالی معاشرے کے اہم ترین ارکان میں سے ہے دوسرے الفاظ میں کہا جائے کہ امام علی(ع) کا مثالی معاشرہ رسالت مآب(ص)کی سیرت کا عملی نمونہ ہے کیونکہ پیغمبراکرم(ص) اپنی پوری زندگی انہی دو مذکورہ رکن (توحید اور قرآن ) کو لوگوں کی زندگی میں نافذ کرنا چاہتے تھےپس آئیڈئیل سوسائٹی کے قیام کے لئے آپ توحید کا پیغام اور انسانیت ساز آئین لے کے بشریت کے پاس آئے تھے امام علی(ع) خطبہ نمبر(۱۶۰)میں اس بات کی جانب واضح الفاظ میں اشارہ کرتے ہیں کہ آنحضور(ص) کی زندگی مکمل طور سے نمونہ عمل ہے اسی لئے بیعت کے وقت لوگوں سے اس بات کا تعہد لیتے ہیں کہ میرے سارے امور کا مبنی اور محور قرآن اور آنحضور(ص) کی پاکیزہ اور مثالی سیرت رہے گی۔

(اَدعوکم الی کتاب الله و سنه نبية)[xix] ‘‘میں تمہیں کتاب خدا اور اسکے نبی کی سنت کی جانب دعوت دیتا ہوں’’

کیونکہ توحید کے بعد یہی دین کے اہم ستون میں حساب ہوتی ہےآپ شہادت سے پہلے اس حقیقت کی جانب اشارہ فرماتے ہیں کہ اگر معاشرے کو زندہ اور نورانی اور سعادتمند بنانا چاہتے ہو تو ان دونوں چراغوں کو روشن رکھنا ہوگا۔

(أَمَّا وَصِيَّتِي: فَاللهَ لاَ تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئاً، وَمُحَمَّداً فَلاَ تُضَيِّعُوا سُنَّتَهُ، أَقِيمُوا هذَيْن الْعَمُودَيْنِ، وَأَوْقِدُوا هذَيْنِ الْمِصْبَاحَيْنِ)[xx] ”میری وصیت یہ ہے کہ کسی کو اللہ کا شریک قرار نہ دینا اور پیغمبر کی سنت کو ضائع نہ کرنا کہ یہی دونوں دین کے ستون ہیں انہیں کو قائم کرو اور انہیں دونوں چراغوں کو روشن رکھو“

آپ کی نظر میں سیرت نبوی (ص)سب سے زیادہ ہدایت یافتہ اور مضبوط سیرت ہے اگر اسے معاشرے کےبنیادی امور میں جگہ دی جائے تو مثالی معاشرے کی تشکیل بھی یقینی ہوجاتی ہے۔

(اقتدوا بهدی نبیکم فانه اصدق الهدی و استنو بسنة فانها اهدی السنن)[xxi] ”اپنے نبی کی ہدایت کی اقتدا کرو کیونکہ وہ سب سے مصدق ہدایت ہے اورآپکی سنت اور سیرت پر عمل کرو کیونکہ وہ سب سے زیادہ ہدایت یافتہ سنت اور سیرت ہے“

امام اس حقیقت سے پردہ ہٹاتے ہیں کہ  بعثت سے پہلے لوگ اختلافات اور انتشار کے شکار تھے معاشرہ بدحالی میں مبتلا تھا لوگ جانوروں سے بھی بدتر زندگی گزارتے تھے لیکن آنحضور(ص) کی ذات مبارک کی برکت سے وہ تفرقہ اور اختلافات کی گمراہی سے نجات پاکے اتحاد کی نورانی ہدایت اور سعادت سے بہرہ مند ہوجاتے ہیں اور اس زمانے کے سب سے برے معاشرے کو دنیا کے سب سے اعلی اقدار رکھنے والے انسانی اور مثالی معاشرے میں تبدیل کرتے ہیں جو رہتی دنیا تک آنے والی ہر نسل کے لئے نمونہ عمل بن کے رہ گیا۔

(وَ اهْلُ الاَرْضِ يَوْمَئِذٍ مِلَلٌ مُتَفَرِّقَهٌ وَ اهْواءٌ مُنَتِشرَهٌ وَ طَرائِقُ مُتشَتِّتَهٌ بَيْنَ مُشْبِّهٍ لِلّهِ بِخَلْقِهِ اوْ مُلْحِدٍ فِى اسْمِهِ اوْ مُشِيرٍ الى غَيْرِهِ، فَهَداهُمْ بِهِ مِنَ الضَّلالَهِ وَ انْقَذَهُمْ بِمَكانِهِ مِنَ الْجَهالَهِ)[xxii] ”اس وقت اہل زمین مختلف مذاہب ، منتشر خواہشات اور مختلف راستوں پر گامزن تھے۔ کوئی خدا کو مخلوقات کی شبیہ بتا رہا تھا ۔ کوئی اس کے ناموں کو بگاڑ رہا تھا۔ اور کوئی دوسرے خدا کا اشارہ دے رہا تھا۔ مالک نے آپ کے ذریعہ سب کو گمراہی سے نجات دی اور جہالت سے باہر نکال لیا“

آپ (ع)کی نظر میں آنحضور(ص) نےنہ صرف ایک صالح  اور مثالی معاشرے کی تشکیل کے اصول و ضوابط لوگوں تک پہنچائے بلکہ عملی جد وجہد کے ذریعہ اسکی سنگ بنیاد بھی رکھی۔

(فَصَدَعَ بَمَا أُمِرَ بِهِ، وَبَلَّغَ رِسَالَةِ رَبِّهِ، فَلَمَّ اللهُ بِهِ الصَّدْعَ، وَرَتَقَ بِهِ الْفَتْقَ، وَأَلَّفَ بِهِ بَيْنَ ذَوِي الاَْرْحَامِ، بَعْدَ الْعَدَاوَةِ الْوَاغِرَةِ فِي الصُّدُورِ، والضَّغَائِنِ الْقَادِحَةِ فِي الْقُلُوبِ)[xxiii] ”رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اوامر الہیہ کو واضح انداز سے پیش کردیا اوراس کے پیغامات کو پہونچادیا ۔ اللہ نے آپ کے ذریعہ انتشار کو مجتمع کیا۔ شگاف کو بھردیا اور قرابتداروں کے افتراق کو انس میں تبدیل کردیا حالانکہ ان کے درمیان سخت قسم کی عداوت اور دلو ںمیں بھڑک اٹھنے والے کینے موجود تھے“

از رسالت درجهان تکوين مـــــــا                 از رسالت دين ما آئين مـــــــا

از رسالت صد هزارمــــا يک است              جزو مـــا از جزومالاينفک است

از رســالت همنوا گشتيم مـــــــا               هم‌نفس، هم‌مدعـــــا گشتيم ما

آن که شان او است يهدي من يريد            از رسالت حلقه گرد ما کشيد[xxiv]

لیکن پیغمبر اکرم(ع) کی پاکیز ہ سیرت کو سمجھنے اور مثالی معاشرے میں اجرا کرنے کے لئے ہم اہلبیت رسول(ع) کے در کے محتاج ہیں اگر صحیح معنوں میں ہمیں سیرت نبوی کو سمجھنا ہوگا تو اہلبیت کی جانب رجوع کرنا ہوگا کیونکہ وہیں حقیقی دین کے مالک ہیں حق اور حقیقت کا صحیح پیغام انہیں کے پاس موجود ہیں۔

(نَحْنُ الشِّعَارُوَالاَْصْحَابُ، وَالْخَزَنَةُ وَالاَْبْوَابُ، وَلاَ تُؤْتَى الْبُيُوتُ إِلاَّ مِنْ أَبْوَابِهَا، فَمَنْ أَتَاهَا مِنْ غَيْرِ أَبْوَابِهَا سُمِّيَ سَارِقاً فِيهِمْ كَرَائِمُ الْقُرْآنِ، وَهُمْ كُنُوزُ الرَّحْمنِ، إِنْ نَطَقُوا صَدَقُوا، وَإِنْ صَمَتُوا لَمْ يُسْبَقُوا)[xxv] ”در حقیقت ہم  اہلبیت ہی دین کے نشا  ن اور اس کے ساتھی ، اس کے احکام کے خزانہ دار اور اس کے دروازے ہیں اور ظاہر ہے کہ گھروں میں داخلہ دروازوں کے بغیر نہیں ہوسکتا ہے ورنہ انسان چور کہلائے گا۔ انہیں اہلبیت کے بارے میں قرآن کریم کی عظیم آیات ہیں اور یہی رحمان کے خزانہ دار ہیں یہ جب بولتے ہیں تو سچ کہتے ہیں اور جب قدم آگے بڑھاتے ہیں تو کوئی ان پر سبقت نہیں لے جا سکتا ہے“

اسی طرح خطبہ نمبر (97) میں ان کے نقش قدم پر ہوبہو چلنے کا حکم دیتے ہیں ان کی راہ سے آگے بڑھنے یا پیچھے ہٹنے کو ہلاکت سے تعبیر کرتے ہیں پس ان فرمایشات کی بناپر مکتب نہج البلاغہ کے مثالی معاشرے میں آنحضرت(ص) کی پاکیزہ سیرت کو ایک مبنی اور رکنیت کی حیثیت سے ملحوظ نظر رکھنا ناقابل انکار حقیقت ہےلیکن اس سیرت طیبہ کو اجرا کرنے کے لئے ہمیں اہلبیت (ع) کی چوکھٹ پر سر تسلیم خم کئے بغیر چارہ ہی نہیں ہے۔

زندگی کی صحیح آ ئیڈیالوجی۔

اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ معاشرے پر حاکم آئیڈیالوجی اور جہاں بینی بھی معاشرے کی سعادت اور ترقی میں اثرانداز ہوتی ہے اگر معاشرے میں پلنے والے افراد ، موت کو ہی اختتام زندگی سمجھنے لگیں توطبیعی طور سے اس زندگی سے کسی بھی طرح کی اچھی یا بری لذت اٹھانے سے وہ اجتناب بھی نہیں کریں گے لیکن اگر موت کو ابدی زندگی تک پہنچنے کا ایک وسیلہ سمجھیں تو معاشرہ بھی دوسری نوعیت کا وجود میں آئے گاامام علی(ع) کے مثالی معاشرے کا ایک اوراہم رکن زندگی کی صحیح آئیڈیالوجی ہے دنیاوی اور اخروی زندگی کے حَسین امتزاج اور گہرے رابطے کا صحیح ادراک و فہم ہےامام علی(ص) زندگی کے صحیح معنی اور مفہوم سمجھانے کی سعی و تلاش کرتے ہیں آپ نے مختلف خطبوں میں لوگوں سے یہی تقاضا کیا کہ دنیا کو آخرت کی گزرگاہ سمجھ کے زندگی بسر کریں۔(الدُّنْیَا دَارُ مَمَرٍّ لَا دَارُ مَقَرٍّ)[xxvi]  ”دنیا ایک گزرگاہ ہے ایک منزل نہیں ہے“

بلکہ اس سے بڑھکر دنیا نفع اور نقصان  کا ایک کمرشل بازارہے جس میں ہر کوئی سرمایہ گذاری کرتا ہے بعض نفع حاصل کرتے اور بعض افراد اپنا سرمایہ کھوکے نقصان میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

(الدُّنیا سَوقٌ رَبِحَ فِیْها قَوْمٌ وَ خَسِرَ فِیْها آخَرُون)[xxvii] ”دنیا ایک بازار ہے جس میں ایک گروہ نفع حاصل کرتا ہے اور دوسرے کو نقصان ہوتا ہے“

آپ کی نظر میں مثالی معاشرہ اور حیات اخروی کا ایک دوسرے کے ساتھ  کافی مضبوط رابطہ پایاجاتا ہے پہلا، دوسرے کو سنوارنے میں اتنا ہی مؤثر ہے جتنا دوسرے پہ توجہ کرنا دنیا کے آباد ہونے میں اثر انداز ہے، اسکا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ دنیا اور آخرت کی سعادت اورشقاوت آمیز زندگی کا آپس میں کافی گہرا اورمستقیم رابطہ  ہے گویا دائمی عالم آخرت کو یاد کئے بغیر کرہ زمین پر ایک مثالی معاشرے کی بنیاد ڈالنا ناممکن ہے نیزانسانی اور اسلامی اقدار کی راہ میں حرکت کئے بغیر آخرت کی سعادتمند زندگی حاصل کرنا امکان پذیر نہیں ہے۔[xxviii]

اسی طرح خلقت کے اصلی ہدف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتےہیں کہ تمہیں  آخرت کے لئے پیدا کیا گیا ہے لہذا اس سرای فانی سے کوچ کرنے کے لئے ہمیشہ آمادہ رہو

(وَاعْلَمْ أَنَّكَ إِنَّمَا خُلِقْتَ لِلاْخِرَةِ لاَ لِلدُّنْيَا، وَلِلْفَنَاءِ لاَ لِلْبَقَاءِ، وَلِلْمَوْت لاَ لِلْحَيَاةِ، وَأَنَّكَ فِي مَنْزِلِ قُلْعَة وَدَارِ بُلْغَة، وَطرِيق إِلَى الاْخِرَةِ)[xxix] ”یاد رکھو کہ تمہیں آخرت کے لئے پیدا کیا گیا ہے دنیا کے لئے نہیں اور فنا کے لئے بنایا گیا ہے دنیا میں باقی رہنے کے لئے نہیں۔ تمہاری تخلیق موت کے لئے ہوئی ہے زندگی کے لئے نہیں اور تم اس گھر میں ہوجہاں سے بہر حال اکھڑنا ہے اور صرف بقدر ضرورت سامان فراہم کرنا ہےاور تم آخرت کے راستے پر ہو“

قیامت کواس دنیا کا مقصد اور غایت سمجھیں اور اسکے لئےہمیشہ خود کوآمادہ رکھاکریں۔

(اعدوا له قبل نزوله فان الغایة القیامة و کفی بذالک واعظا لمن عقل و معتبراَ لمن جهل)[xxx] ”آخرت میں وارد ہونے سے پہلے ہی اپنے آپ کو آمادہ کرو کیونکہ تمہارا غایت اور آخری مقصد قیامت ہی ہے لہذا عقلمند انسان کے لئے ایک واعظ کی حیثیت سے اور جاہل کے لئے ایک عبرت آموز کی حیثیت سے تصورقیامت کافی ہے“

لہذااس آئیڈیالوجی کو مدنظر رکھتے ہوئےدنیا کو آخرت کی سرمایہ گذاری سمجھ کے بھر پور فائیدہ اٹھانا چاہیے۔

پس ان فرمایشات سے بھی واضح ہوجاتا ہے کہ یہ آئیڈیالوجی بھی معاشرے کی تشکیل میں ایک بنیادی رکن کی حیثیت رکھتی ہے اگرمعاشرے کے افراد ایسے عقیدہ کے حامی نہ ہوں تو مثالی معاشرہ تو دور ایک عام ، صحیح اور سالم معاشرے کا قیام بھی ممکن نہیں ہوسکتا ہے

مثالی معاشرے کی اہم خصوصیات۔

مثالی معاشرے کی ضروت اور ارکان  کی وضاحت کے بعد اب اسکی اہم اور بے مثال خصوصیات کی جانب اشارہ کرتے ہیں جو اسے دوسرےغیر اسلامی مشرقی اور مغربی معاشرے سے الگ اور متمایز کردیتی ہیں یہ خصوصیات معاشرے کے سیاسی، اجتماعی، ثقافتی، معیشتی، امنیتی میادین وغیرہ سے مکمل رابطہ رکھتی ہیں امام کی نظر میں جب تک ایک مثالی اور آئیڈیل سوسائٹی کے اندرایسی خصوصیات اور صفات نہ پائی جائیں تب تک اسکے اہداف اور خلقت کے اصلی مقاصد کی دستیابی بھی ناممکن ہے۔ اگر چہ مکتب امام کے ایسے معاشرے  میں بہت ساری صفات اور خصوصیات کی جانب اشارہ ملتا ہے لیکن مقالہ کی وسعت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہماری کوشش یہی   ہے کہ اس کی اہم ترین خصوصیات کو بیان کرنے پہ ہی اکتفا کریں گے۔

آزادی

اس میں کوئی شک نہیں کہ آزادای انسان کا پیدایشی حق ہے عصر حاضر میں جتنا آزادی بشر کے بارے میں لکھا اور کہاجاتا ہے شاید ہی انسانی تاریخ کے کسی اور دور میں اس سلسلے میں گفت و شنید ہوئی ہوامام علی(ع) کے مثالی معاشرے کی سب سے اہم اور بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہر طرح کی آزادی سے مالا مال ہے اس میں زندگی گزارنے والے افراد اپنی ذاتی اور معنوی آزادی سے لیکر سیاسی آزادی پر مکمل اختیار رکھتے ہیں آپکی آرزو یہی ہے کہ اس معاشرے کے سارے افراد کے اندر اپنے آپ کو ہر طرح کے قید و بند سے آزاد سمجھنے کا شعور اور سلیقہ پیدا ہوجائے نہ یہ کہ آزادی کو حکمران کی جانب سے لایا ہو ایک تحفہ جانیں۔[xxxi] شہید مطہری فرماتے ہیں:سیاسی اور اجتماعی آزادی تک پہنچنے کے لئے معنوی آزادی بھی ضروری ہے یعنی انسان اپنی قید اوراسارت سے بھی آزاد ہوجائے۔[xxxii] امام(ع) اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

(لاَ تَكُنْ عَبْدَ غَيْرِكَ وَقَدْ جَعَلَكَ اللهُ حُرّاً َ)[xxxiii] ”کسی کا غلام مت بنو کیونکہ خدا نے تمہے آزاد پیدا کیا ہے“

آپ سخت اور دشوارترین حالات میں بھی لوگوں کے اس ذاتی حق کا بھرپور خیال رکھتے تھےچنانچہ جب سہل بن حنیف نے مدینہ میں معاویہ کے ساتھ لوگوں کی ملاقات کی شکایت کی، آپ نے فرمایا:

(فَلاَ تَأْسَفْ عَلَى مَا يَفُوتُكَ مِنْ عَدَدِهِمْ، وَيَذْهَبُ عَنْكَ مِنْ مَدَدِهِمْ، فَكَفى لَهُمْ غَيّاً وَلَكَ مِنْهُمْ شَافِياً، فِرَارُهُمْ مِنَ الْهُدَى والْحَقِّ، وَإِيضَاعُهُمْ إِلَى الْعَمَى وَالْجَهْلِ)[xxxiv]”خبردار تم اس عدد کے کم ہوجانے اور اس طاقت کے چلے جانے پر ہرگز افسوس نہ کرنا کہ ان لوگوں کی گمراہی اور تمہارے سکون نفس کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ لوگ حق و ہدایت سے بھاگے ہیں اور گمراہی اور جہالت کی طرف دوڑپڑے ہیں“

اسی طرح حکمیت کے بارے میں لوگوں کے درمیان اختلاف ہونے پر فرمایا:

(وَلَيْسَ لِي أَنْ أَحْمِلَكُمْ عَلَى مَا تَكْرَهُونَ!)[xxxv] ”میں تمہے کسی ایسی چیز پر آمادہ نہیں کرسکتا ہوں جو تمہیں ناگوار اور ناپسند ہو“

سیاسی امور میں آزادی کے حوالے سے لوگوں کا سب سے اہم حق، انتخاب کا حق ہوتا ہے یہ بات طلحہ اور زبیر کو لکھے گئے ایک خط سے روشن ہو جاتی ہے کہ امام نے اس حوالے سے  بھی لوگوں  کومکمل آزادی دے رکھی تھی ۔

(أَنِّي لَمْ أُرِدِ النَّاسَ حَتَّى أَرَادُونِي، وَلَمْ أُبَايِعْهُمْ حَتَّى بَايَعُونِي، وَإِنَّكُمَا مِمَّنْ أَرَادَنِي وَبَايَعَنِي، وَإِنَّ العَامَّةَ لَمْ تُبَايِعْنِي لِسُلْطَان غَاصِب، وَلاَ لِعَرَض حَاضِر)[xxxvi] ”میں نے خلافت کی خواہش نہیں کی لوگوں نے مجھ سے خواہش کی ہے اور میں نے بیعت کے لئے اقدام نہیں کیا ہے جب تک انہوں نے بیعت کرنے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا ہے تم دونوں بھی انہیں افراد میں شامل ہو جنہوں نے مجھے سے چاہاتھا اور میری بیعت کی تھی اور عام لوگوں نے بھی میری بیعت نہ کسی سلطنت کے رعب دأب سے کی ہے اور نہ کسی مال و دنیا کی لالچ میں کی ہے“

یعنی لوگ ہر طرح سے آزاد تھے کسی مجبوری یا جبر و زیادتی کی وجہ سے میری بیعت نہیں کی ہے اسی طرح اھل کوفہ کو ایک خط لکھتے ہوئے لوگوں کے آزاد اور مختار ہونے کی جانب اشارہ فرماتے ہیں:

(بَايَعَنِي اَلنَّاسُ غَيْرَ مُسْتَكْرَهِينَ وَ لاَ مُجْبَرِينَ بَلْ طَائِعِينَ مُخَيَّرِين )[xxxvii] ”لوگوں نے میری بیعت کی جس میں نہ کوئی جبر تھا اور نہ اکراہ، بلکہ سب کے سب اطاعت گذار تھے اور مختار“

پس ان اقوال کی روشنی میں یہ بات ہمارے لئے روشن ہوجاتی ہےکہ امام علی (ع)کا معاشرہ آزاد  معاشرہےیہاں اپنی ذاتی اور معنوی آزدی سے لیکر سیاسی امور کی آزادی کا پوراخیال رکھاجاتا ہے اس مثالی معاشرے میں آزاد نسل پروان چڑھتی ہے غلامی کا یہاں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

صالح قیادت:

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک چھوٹے سے گھرانے سے لیکر ایک بڑی جماعت تک کے لئے ایک قائد کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے ہر طرح کی سستی اور بے انضباطی سے بچاتے ہوے اس کے اندر نظم و انضباط پیدا کرسکےامام علی (ع)کی نظر میں ہر معاشرے کے لئے ایک حاکم اور قائد کی ضرورت ہے۔ (لاَبُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ أَمِير بَرّ أَوْ فَاجِر )[xxxviii] ”لوگوں کے لئے ایک حاکم اور قائد کا ہونا ضروری ہے چاہے وہ نیک ہو یا برا“لیکن مثالی معاشرے کی قیادت کے کچھ معیار ہیں امام کا مثالی معاشرہ صالح اور نیک قیادت کی حاکمیت پر استوار ایک ایسا منفرد معاشرہ ہے جس کے سیاسی، معاشرتی، ثقافتی امور کو ادارہ کرنے کے لئے شایستگی، اور صلاحیت کو دیکھا جاتا ہے نہ کسی حسب و نسب کو، اسی لئے ایسے افراد کی باتوں پر اظہار تعجب کرتے ہیں جوخلافت اور امت مسلمہ کی حاکمیت کی گدی پربیٹھنے کے لئے صرف آنحضور(ص)کے صحابی ہونے کے معیار کو کافی جانتے تھےاگر یہی معیار ہے تو پھر میں زیادہ مستحق خلافت ہوں کیونکہ میں صحابی کے علاوہ قرابت دار بھی ہوں۔ (وَا عَجَبَاهْ أَتَكُونُ الْخِلَافَةُ بِالصَّحَابَةِ وَ الْقَرَابَةِ)[xxxix] ”واعجباہ!خلافت صرف صحابیت کی بناپر مل سکتی ہے لیکن اگر صحابیت اور قرابت دونوں جمع ہوجائیں تو نہیں مل سکتی ہے“

آپ ہر طرح کے حسب و نسب اورذاتی روابط کی نفی کرتے ہوے مثالی معاشرے کے لائق اور صالح قائد اور رہبرکی ضرورت اور اہمیت کے بارے میں فرماتے ہیں:(وَمَكَانُ الْقَيِّمِ بِالاَْمْرِ مَكَانُ النِّظَامِ مِنَ الْخَرَزِ يَجْمَعُهُ وَيَضُمُّهُ: فَإِنِ انْقَطَعَ النِّظَامُ تَفَرَّقَ وَذَهَبَ، ثُمَّ لَمْ يَجْتَمِعُ بِحَذَافِيرِهِ أَبَداً)[xl] ”ملک میں ایک رہبر کی جگہ اس محکم دھاگے کی مانند ہے جو مہروں کو متحد کر کے آپس میں ملاتی ہے اور وہ اگر ٹوٹ جائے گاتوسارا سلسلہ بکھر جائے گا اورپھرہرگز دوبارہ جمع نہیں ہوسکتا ہے“

اور اسی طرح رھبر اور قائد امت مسلمہ ہونے کے ناطے اپنا تعارف یوں کراتے ہیں:

(و انما انا قطب الرحا تدور علیّ و انا بمکانی ، فاذا فارقته استحار مدارها و اضطرب ثفالا)[xli] ”میں حکومت کی چکی کا محور ہوں جسے میرے گرد چکر لگانا چاہیے اگر میں اپنے محور سے دور ہوا تووہ اپنے مدار سے ڈگمگا جائے گی اور اسکی نیچے کی بساط بھی متزلزل ہوجائیگی“

امام علی (ع)کے مثالی معاشرے میں غیر صالح قائدکی کوئی جگہ نہیں ہےکیونکہ رعیت اپنے حاکم کی اتباع کرتی ہے لہذا فاجر اور فاسق حاکم کی صورت میں پوری رعیت فاسد ہوجائے گی لیکن صالح اور نیک حاکمیت کی صورت میں معاشرہ بھی صالح اور نیک بن جاتا ہے اسی بناپرآپ ایک صالح رھبر اور قائد کے بغیر مثالی معاشرے کی تشکیل بھی ناممکن جانتے ہیں۔

(فَلَيْسَتْ تَصْلُحُ الرَّعِيَّةُ إِلاَّ بِصَلاَحِ الْوُلاَةِ)[xlii] ”رعایا کی اصلاح تب تک ممکن نہیں ہے جب تک والی صالح نہ ہو“

اسی طرح آپ نے مختلف مقامات پر ایک صالح اور مثالی رھبر اور قائد کی خصوصیات اور صفات بھی بیان فرمائے ہیں عادل اور منصف قائد کی اطاعت اور فرمانبرداری کے سائے میں پیدا ہونے والے مثالی معاشرے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

(اتقوا الله و اطیعوا امامکم فان الرعیة الصالحة تنجو بالامام العادل، الا و ان الرعیة الفاجر تهلک بالامام الفاجر)[xliii] ”خدا سے ڈرو اور اپنے رہبر اور پیشوا کی اطاعت کرو کیونکہ صالح قوم عادل پیشوا کے ذریعہ سے نجات پاتی ہے خبردار فاسد قوم فاسد پیشوا کی وجہ سے ہلاک ہو جاتی ہے“

پس یہ بات کافی حد تک واضح ہوگی کہ امام علی کے مثالی معاشرے کا ایک اہم جز صالح قیادت ہے یہاں صلاحیت اور اچھائی کی پرورش ہوتی ہےنہ حسب و نسب کی بناپر برائی کی ترویج اسی لئے یہ معاشرہ ہر طرح کی برائی سے پاک ہے۔

قانون گرایی:

نہج البلاغہ کی دنیا میں تشکیل پانے والے مثالی معاشرے کی ایک اور بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایک قانون گرا معاشرہ ہے یہاں قانون اور ضوابط کی حاکمیت ہے کسی کو حق نہیں بنتا کہ اپنے نفع کی خاطر یا نقصان سے بچنے کے لئے قانون کو پاؤں تلے روند دے آپ معاشرے میں اٹھائے گئے کسی بھی سیاسی، اجتماعی یا فوجی اقدامات کی وجہ نفاذ قانون اور شریعت ہی بتلاتے ہیں آپ خالق کائنات کے ساتھ مناجات کرتے ہوئے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں:

(اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ اَنَّهُ لَمْ يَكُنِ الَّذِي كانَ مِنّا مُنافَسَةً فِي سُلْطانٍ وَ لا الْتِماسَ شَيْءٍ مِنْ فُضُولِ الْحُطامِ وَ لكِنْ لِنَرُدَّ الْمَعالِمَ مِنْ دِينِكَ وَ نُظْهِرَ الْإِصْلاحَ فِي بِلادِكَ فَيَأمَنَ الْمَظْلُومُونَ مِنْ عِبادِكَ وَتُقامَ الْمُعَطَّلَةُ مِنْ حُدُودِكَ)[xliv] ”بار الٰہا! تو خوب جانتا ہے کہ یہ جو کچھ بھی ہم سے (جنگ و پیکار کی صورت میں)ظاہر ہوا اس لیے نہیں تھا کہ ہمیں تسلط و اقتدار کی خواہش تھی یا مال دنیا کی طلب تھی بلکہ یہ اس لیے تھا کہ ہم دین کے نشانات کو (پھر ان کی جگہ پر )پلٹائیں اور تیرے شہروں میں امن و بہبودی کی صورت پیدا کر یں تاکہ تیرے ستم رسیدہ بندوں کو کوئی کھٹکا نہ رہے اور تیرے وہ احکام (پھر سے )جاری ہو جائیں جنہیں بیکار بنا دیا گیاہے “

آپ کی نظر میں مثالی معاشرے  کی تشکیل کا ایک اہم ذریعہ حکومت اسلامی کا قیام ہے جس کے سائے میں اس کے اصلی مقصد یعنی قانون الہی کو بھی اجرا کیا جاسکتا ہے آپ عملی صورت میں خلافت اسلامی کو قبول کرنے کی ایک اہم وجہ بھی یہی نفاذ شریعت ہی بتلاتے ہیں۔

(وَاللهِ مَا كَانَتْ لِي فِي الْخِلاَفَةِ رَغْبَةٌ، وَلاَ فِي الْوِلاَيَةِ إِرْبَةٌ وَلكِنَّكُمْ دَعَوْتُمُونِي إِلَيْهَا، وَحَمَلْتُمُونِي عَلَيْهَا، فَلَمَّا أَفْضَتْ إِلَيَّ نَظَرْتُ إِلَى كِتَابِ اللهِ وَمَا وَضَعَ لَنَا، وَأَمَرَنَا بِالْحُكْمِ بِهِ فَاتَّبَعْتُهُ، وَمَا اسْتَسَنَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله فَاقْتَدَيْتُهُ)[xlv] ”خدا کی قسم! مجھے تو کبھی بھی اپنے لئے خلافت اور حکومت کی حاجت و تمنا نہیں رہی تم ہی لوگوں نے مجھے اس کی طرف دعوت دی اور اس پر آمادہ کیا۔ چنانچہ جب وہ مجھ تک پہنچ گئی تو میں نے اللہ کی کتاب کو نظر میں رکھا اور جو لائحہ عمل اس نے ہمارے سامنے پیش کیا اور جس طرح فیصلہ کرنے کا اس نے حکم دیا میں اسی کے مطابق چلا اورجو سنت پیغمبر قرار پاگئی اس کی پیروی کی“

اسی طرح مالک اشتر کو قانون الہی اجرا کرنے کی سخت تاکید کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مثالی معاشرے میں سعادتمند زندگی کے حصول کے لئے قانون کا نفاذ ضروری ہے و گرنہ معاشرہ بربادی کے دلدل میں گرجائے گا۔

(امره بتقوي الله،و ايثار طاعته، واتباع ما امر به في کتابه من فرائضه وسننه، التي لايسعد احد الا باتباعها ولايشقي الا مع جحودها و اضاعتها)[xlvi] ”سب سے پہلا امر یہ ہے کہ اللہ سے ڈرو اس کی اطاعت کو اختیار کرو اور جن فرائض کا اپنی کتاب میں حکم دیا ہے ان کا اتباع کرو کہ کوئی شخص ان کے اتباع کئے بغیر نیک بخت نہیں ہوسکتا ہے اور کوئی شخص ان کے انکار اور بربادی کے بغیر بدبخت نہیں قرار دیا جاسکتا“

مثالی معاشرے میں قانون ہی ایک ایسی چیز ہے جو معاشرے میں برابری اور مساوات قائم کردیتی ہے اور ہر طرح کی تبعیض ختم کرکے ایک صالح معاشرہ وجود میں لاتی ہے امام علی(ع) کے قانون میں تبعیض کی کوئی گنجایش نہیں اپنے سیاسی پیغام میں مالک اشتر سے یہی چاہتے ہیں کہ قانون میں مساوات سے کام لے کیونکہ قانون کے آگے سب برابر ہیں۔

(وَإيَّاكَ وَالاْسْتِئْثَارَ بِمَا النَّاسُ فِيهِ أُسْوَةٌ)[xlvii] ”دیکھو جس چیز میں تمام لوگ برابر کے شریک ہیں اسے اپنے ساتھ مخصوص نہ کرلینا“

اسی طرح حلوان کے سپاہیوں کے سپہ سالار اسود ابن قطبہ کے نام لکھے ایک خط میں قانون کی برابری پر زور دیتے ہیں۔

(فَلْيَكُنْ أَمْرُ النَّاسِ عِنْدَكَ فِي الْحَقِّ سَوَاءً)[xlviii] ”لیکن تمہاری نگاہ میں تمام افراد کے معاملات کو ایک جیسا ہونا چاہیے“

لیکن ان الہی قوانین کو ہر کوئی اجرا نہیں کرسکتایہ تھوڑے ہی مغربی معاشرے کے قانون گذار ہیں جو اپنے نفع و نقصان کو دیکھ کے قانون بناتے ہیں اور ہر طرح کی برائیوں میں ملوث ہونے کے بعد بھی قانون اجراکرنے کے دعو ے دار بن جاتے ہیں یہ امام علی(ع) کا مثالی معاشرہ ہےیہاں قانون نافذ کرنے والے افراد کو ہر طرح کے عیب اور نقائص سے پاک ہونا چاہیے۔

(لَا يُقِيمُ أَمْرَ اللَّهِ سُبْحَانَهُ إِلَّا مَنْ لَا يُصَانِعُ وَ لَا يُضَارِعُ وَ لَا يَتَّبِعُ الْمَطَامِعَ)[xlix] ”حکم الہی کا نفاذ وہی کرسکتا ہے جو حق کے معاملہ میں مروت نہ کرتا ہو اور عاجزی و کمزوری کا اظہار نہ کرتا ہو اور لالچ کے پیچھے نہ دوڑتا ہو“

پس نہج البلاغہ میں تشکیل پانے والا مثالی معاشرہ قانون گرا اور قانون مدار معاشرہ ہے ایک ادنی اور عام آدمی سے لیکر ایک حاکم اعلی تک سب کے سب قانون کے آگے یکسان اور برابر ہیں یہان نفاذ قانون کے سلسلے میں کسی بھی قسم کی تبعیض نہیں کی جاسکتی۔

حق مداری:

مکتب نہج البلاغہ میں بیان ہونے والا مثالی معاشرہ حق مدار ہے حق اور حقیقت پر مبنی ہےاس معاشرے میں زندگی بسر کرنے والے افراد کا معیار اور محور حق ہیں ایسے افراد (يعترف بالحق قبل ان يشهد عليه)[l] ”گواہی طلب  کئےجانے سے پہلے حق کا اعتراف کرتے ہیں“ اور (و یصف الحق و یعمل به)

  • ”حق کی معرفت رکھنے کے ساتھ ساتھ اس پر عمل بھی کرتے ہیں“آپکی نظر میں بیان و توصیف کے اعتبار سے حق کا دائرہ کافی وسیع ہے لیکن عملی میدان میں کافی تنگ ہے۔

    (وَالْحَقُّ اَوْسَعُ الْاشْيَاءِ فِي التَّواصُفِ، وَ اَضْيَقُها فِي التَّناصُفِ،)[lii] ”اور حق مدح سرایی کے اعتبار سے تو بہت وسعت رکھتا ہےلیکن انصاف کے اعتبار سے بہت تنگ ہے“

    مثالی معاشرے میں حق محوری کو فروغ دینے کے لئے امام لوگوں سے حق اور عدالت آمیز مشورہ دینے کی ترغیب کرتے ہیں اور ہر طرح کے ڈر اور خوف کی نفی کرتے ہیں آپ کی نظر میں مثالی معاشرے کی ایک اہم خاصیت یہ ہے کہ حاکم، عوام کی حق بات کو اپنے دل کی گہرائیوں سے سنتا ہے اور انکے حق اور عدالت آمیز مشوروں سے استفادہ کرتے ہوئے معاشرے کی فلاح اور بہبود کی جدوجہد میں رہتا ہے یہ سلطنت اور شہنشاہی نظام نہیں ہے جہاں حق اور حقیقت کا گھلا گھونٹا جاتا ہے یہاں ہر چیز کا محور اور مرکز حق ہے ۔

    (وَ لا تَظُنُّوا بِي اسْتِثْقالاً فِي حَقِّ قِيلَ لِي، وَلا الْتِماسَ إِعْظامٍ لِنَفْسِي، فَإِنَّهُ مَنِ اسْتَثْقَلَ الْحَقَّ انْ يُقالَ لَهُ، اَوِالْعَدْلَ انْ يُعْرَضَ عَلَيْهِ كانَ الْعَمَلُ بِهِما اَثْقَلَ عَلَيْهِ، فَلا تَكُفُّوا عَنْ مَقالَةٍ بِحَقِّ اَوْ مَشُورَةٍ بِعَدْلٍ)[liii] ”میرے متعلق یہ گمان نہ کرو کہ میر ے سامنے کوئی حق بات کہی جائے گی تو مجھے گراں گزرے گی اور نہ یہ خیال کرو کہ میں یہ درخواست کروں گا کہ مجھے بڑھا چڑھا دو کیونکہ جو اپنے سامنے حق کے کہے جانے اورعدل کے پیش کئے جانے کو بھی گراں سمجھتا ہو اسے حق او رانصاف پرعمل کرنا کہیں زیادہ دشوار ہوگاتم اپنے کو حق کی بات کہنے اور عدل کا مشورہ دینے سے نہ روکو“

    پس امام علی(ع) کے مثالی معاشرے کا محور حق  ہے یہاں ادنی فقیر سے لیکر اعلی حاکم تک سب کے سب حق بیانی میں یکساں ہیں یہ معاشرہ اس زاویے سے بھی دوسرے معاشروں سے ممتاز ہے چونکہ عصر حاضر میں مثالی معاشرے کا پرچم اٹھانے والنے مغربی تہذیب کے حامی محض باطل کی ترویج میں ہیں یہ معاشرے حق کشی اور حق تلفی میں اول درجے پر ہیں انہیں مکتب نہج البلاغہ کے اس حق مدار اور حق محور معاشرے پر ایک بار پھر سے غور کرنا چاہیےیہاں حق کہاجاتا ہے حق سناجاتا ہے اور حق پہ عمل ہوتا ہے باطل کی کوئی گنجایش نہیں۔

    عقل گرایی:

    کائنات میں صرف انسان ہی وہ واحد مخلوق ہے جسے اللہ تعالی نے عقل کے نایاب گوہر سے نوازا ہے انسان اور حیوان کے درمیان عقل ہی فصل ممیز ہے لہذا جو انسان اپنی عقل سے استفادہ نہ کرے وہ بھی حیوان ہے بلکہ قرآن کی نظر میں کبھی حیوانوں سے بھی پست  اور نیچا ہوجاتا ہے.(اولئک کالانعام بل هم اضلّ (سوره اعراف، ۱۷۹)امام علی(ع)کے مثالی معاشرے میں عقل کا عنصر کافی عمل دخل رکھتا ہے یہ عقلمندوں کامعاشرہ ہے اس معاشرے  پر عقلانیت حاکم ہے یہاں جاہلیت ،بے جا غیرت اور غیرمعقول احساسات کی کوئی گنجایش نہیں ہے آپ کی نظر میں زمانہ جاہلیت کا معاشرہ عقل و درایت سے عاری ایک حیوان نما اور درندہ ساز معاشرہ تھاپیغمبر کی بعثت کی جانب اشارہ کرتے ہوے فرماتے ہیں:

    (واَنْتُمْ مَعْشَرَ الْعَرَبِ عَلَى شَرِّ دِينٍ وَ فِي شَرِّ دَارٍ مُنِيخُونَ بَيْنَ حِجَارَةٍ خُشْنٍ وَحَيَّاتٍ صُمِّ تَشْرَبُونَ الْكَدِرَ وَ تَأْكُلُونَ الْجَشِبَ وَ تَسْفِكُونَ دِمَاءَكُمْ وَ تَقْطَعُونَ اَرْحَامَكُمْ الْاءَصْنَامُ فِيكُمْ مَنْصُوبَةٌ وَ الْآثَامُ بِكُمْ مَعْصُوبَةٌ)[liv]”(پیغمبر کی بعثت سے پہلے)تم گروہ عرب بدترین دین کے مالک اور بدترین علاقہ کے رہنے والے تھے ، ناہموار پتھروں اور زہریلے سانپوں کے درمیان بود و باش رکھتے تھے، گندہ پانی پیتے تھے اور غلیظ غذا استعمال کرتے تھے، آپس میں ایک دوسرے کا خون بہاتے تھے اور قرابتداروں سے بے تعلقی رکھتے تھے، بت تمہارے درمیان نصب تھے اور گناہ تمہیں گھیرے ہوئے تھے“

    پیغمبر نازنین (ص)نے انہیں جہالت کی تاریکی سے نکال کر نور ہدایت اور عقلانیت سے نوازا۔

    (فَهَداهُمْ بِهِ مِنَ الضَّلالَهِ وَ انْقَذَهُمْ بِمَكانِهِ مِنَ الْجَهالَه)[lv]”مالک(خدا) نے آپ کے ذریعہ سب کو گمراہی سے نجات دی اور جہالت سے باہر نکال لیا“

    (ویثیروا لهم دفائن العقول)[lvi] ”اور انکی عقل کے دفینوں کو باہر لائیں“

    امام علی(ع) کا فرمان ہے کہ جہاں عقلانیت نہ ہو وہاں تباہی اور فساد حاکم ہو تا ہے آپ معاویہ کے ہاتھوں ترویج پائے جانے والے غیراسلامی معاشرے کی ایک اہم  وجہ عوام اور لوگوں کی اندھی تقلید اور ناآگاہی جانتے ہیں۔

    (… وَ اَقْرِبْ بِقَوْمٍ مِنَ الْجَهْلِ بِاللَّهِ قَائِدُهُمْ مُعَاوِيَةُ وَ مُؤَدِّبُهُمُ ابْنُ النَّابِغَةِ)[lvii] ”… وہ قوم اللہ (کے احکام)سے کتنی جاہل ہے کہ جس کاپیشرو معاویہ اور معلم نابغہ(عمرعاص) کابیٹا ہے“

    اسی طرح امام علی(ع) عقل گرایی کی بنیاد پر احساسات کو ابھارنے سے پرہیز دلاتے ہیں جنگ صفین میں سپاہیوں کی ایک دوسرے کو گالیاں دینے کی خبر ملنے پر فرمایا:

    (إِنِّي اكْرَهُ لَكُمْ اَنْ تَكُونُوا سَبّابِينَ وَ لكِنَّكُمْ لَوْ وَصَفْتُمْ اَعْمالَهُمْ وَ ذَكَرْتُمْ حالَهُمْ كانَ اَصْوَبَ فِي الْقَوْلِ وَ اَبْلَغَ فِي الْعُذْرِ وَ قُلْتُمْ مَكانَ سَبِّكُمْ إِيّاهُمْ اللَّهُمَّ احْقِنْ دِمائَنا وَ دِمائَهُمْ وَ اَصْلِحْ ذاتَ بَيْنِنا وَ بَيْنِهِمْ وَ اهْدِهِمْ مِنْ ضَلالَتِهِمْ حَتَّى يَعْرِفَ الْحَقَّ مَنْ جَهِلَهُ، وَ يَرْعَوِيَ عَنِ الْغَيِّ وَ الْعُدْوانِ مَنْ لَهِجَ بِهِ)[lviii] ”میں تمہارے لئے اس چیز کو پسند نہیں کرتا کہ تم گالیاں دینے لگو اگر تم ان کےکرتوت کھولو اور ان کے صحیح حالات پیش کرو، تو یہ ایک ٹھکانے کی بات اور عذر تمام کرنے کا صحیح طریق کار ہو گا۔ تم گالم گلوچ کے بجائے یہ کہو کہ خدا یا ہمارا بھی خون محفوظ رکھ اور ان کا بھی، اور ہمارے اور ان کے درمیان اصلاح کی صورت پیدا کر اور انہیں گمراہی سے ہدایت کی طرف لاتا کہ حق سے بے خبر، حق کو پہچان لیں اور گمراہی و سرکشی کے شیدائی اس سے اپنا رخ موڑ لیں۔“

    اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انسان جہالت اور ناآگاہی کی بنیاد پر ہی اپنے احساسات کا مطیع ہوجاتا ہے لیکن اگر عقل و درایت اور شعور پیدا ہو تو نہ فقط معاشرے کے اندر صلح و آشتی برقرار ہوتی ہے بلکہ گمراہی اور حق سے بٹھکے ہوئے افراد کو بھی حق اور ہدایت کے جام سے سیراب کیا جاسکتا ہےپس مثالی معاشرے کی اہم ترین خاصیت عقل گرایی ہے۔

    علم گرایی:

    اس میں کوئی شک نہیں کہ علم، آگاہی اور بصیرت سے عاری ذلیل افراد تباہی اور بربادی کا باعث بنتےہیں کیونکہ انکی اپنی کوئی پہچان ہی نہیں ہوتی ہے وہ ایک دوسرے کے اسیر اور شیطان کے آلہ کار بنے ہوتے ہیں لیکن جو چیز انسان کی حقیقت، پہچان، کرامت، اور عزت کا باعث بنتی ہے اور اسکی حفاظت کرتی ہے وہ علم، آگاہی اور بصیرت ہے۔[lix] پس اس حوالے سے ایک با شعور اور تعلیم و تربیت یافتہ معاشرہ ہی سعادتمند اور ترقی یافتہ معاشرہ بن سکتاہے لہذا ایک مثالی معاشرے کی تشکیل میں علم و دانش کا ایک اہم کردار ہو سکتا ہے۔ امام علی کا مثالی معاشرہ علم و دانش سے مالا مال ہے۔

    آپ علم  اور صاحبان علم کی قدر و منزلت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

    (النَّاسُ ثَلَاثَةٌ فَعَالِمٌ رَبَّانِيٌّ وَ مُتَعَلِّمٌ عَلَى سَبِيلِ نَجَاةٍ وَ هَمَجٌ رَعَاعٌ أَتْبَاعُ كُلِّ نَاعِقٍ يَمِيلُونَ مَعَ كُلِّ رِيحٍ لَمْ يَسْتَضِيئُوا بِنُورِ الْعِلْمِ وَ لَمْ يَلْجَئُوا إِلَى رُكْنٍ وَثِيق)[lx] ”لوگ تین طرح کے ہوتے ہیں:خدا رسیدہ عالم، راہ نجات پر چلنے والاطالب علم اور عوام الناس کا وہ گروہ جو ہر آواز کے پیچھے چل پڑتا ہے اور ہر ہوا کے ساتھ لہرانے لگتا ہے۔ اس نے نہ نور کی روشنی حاصل کی ہے اور نہ کسی مستحکم ستون کا سہارا لیا ہے“

    امام  کی نظر میں انسان کی قدر و قیمت اسکے علم  و بصیرت کے مطابق ہے چنانچہ ایک معاشرہ مختلف افراد سے وجود میں آتا ہے لہذا معاشرے کی قدر و قیمت اس معاشرے کے صاحبان علم و معرفت سے لگایا جاسکتا ہے ۔

    (قیمة کل امرئ ما یعلم)[lxi] ”ہر انسان کی قیمت اسکے علم و آگاہی کے مطابق ہے“

    آپ مزید فرماتے ہیں کہ معاشرے کی فلاح اور ترقی کا دارمدارعلم پرہے اور نیز ہر برائی اور پسماندگی  کی جڑ جہالت اور بیسوادی ہے(العلم اصل کل خیر)[lxii] ”ہر نیکی کی جڑ علم ہے“ (الجهل اصل کل شر)[lxiii] ”ہر برائی کی جڑ جہالت ہے“

    اسی طرح کمیل بن زیاد سے علم اور مال کے درمیان تقابلی جائزہ کرتے ہوئے علم کی برتری پر زور دیتے ہیں۔ (حکمت ۱۴۷) نیز اپنے معاشرے کو مثالی بنانے کے لئے لوگوں کو علم و دانش حاصل کرنے کی ترغیب کررہے ہیں۔

    (فَبَادِرُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِ تَصْوِيحِ نَبْتِهِ وَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُشْغَلُوا بِأَنْفُسِكُمْ عَنْ مُسْتَثَارِ الْعِلْمِ مِنْ عِنْدِ اهْلِهِ)[lxiv] ”تمہیں چاہئے کہ علم کی طرف بڑھو قبل اس کے کہ اس کا (ہرا بھرا) سبزہ خشک ہو جائے اور قبل اس کے کہ اہل علم سے علم سیکھنے میں اپنے ہی نفس کی مصروفتیں حائل ہوجائیں“

    پس مثالی معاشرے کو تعلیم و تربیت کے بغیر تصور کرنا محال ہے لہذا علم و دانش اور صاحبان علم معاشرے کے ایک لازمی  جز میں شمار ہوتے ہیں اور معاشرے کی مادی اور معنوی ترقی اور پیشرفت میں ان کا اہم اور بنیادی کردار ہوتا ہے۔

    عملی جدوجہد اور محنت:

    اس میں کوئی شک نہیں مولائے کائنات علی (ع) ہر میدان میں محنت اور مشقت کرتے تھے چاہیے وہ جنگ کا میدان ہو یا پھر نخلستان کے باغات کی آبیاری کا کام ہو میدان علم ہو یا میدان عمل ، ہر جگہ جدوجہد اور تلاش جاری رکھتے تھے اس حیثیت سے نہج البلاغہ کا مثالی معاشرہ کاہلی اورسستی سے دورایک زحمتکش، عملی جدوجہد اور سعی وتلاش کرنے والے افراد کا معاشرہ ہے جہاں غربت اور افلاس کی کوئی جگہ نہیں ہے وہاں کے لوگ اپنی محنت اور مشقت کے بلبوتے پر آباد ہیں اس  معاشرے میں کام اور محنت کرنے کا حوصلہ اور ہمت بلند ہے معاشرے کی غربت کی ایک وجہ یہی کسالت اور کاہلی ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

    (ان الاشیاء لمّا ازدوجت، ازدوج الکسل والعجزفتنجا بینهماالفقر)[lxv] ”جب امور ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں تو کسالت اور ناتوانی وجود میں آجاتی ہے اور ان دونوں سے غربت جنم لیتی ہے“

    لہذا جس معاشرے میں کام کاج اور عملی جدوجہد کی حاکمیت قائم ہوجس سوسائٹی میں لوگوں نے کام کاج اور محنت کو اپنا پیشہ بنایا ہو وہ کبھی افلاس اورغربت کی بیماری میں مبتلا نہیں ہوسکتی اسی لئے امام علی(ع) ایسے مثالی معاشرے میں پرورش پانے والے افرادکی محنت اور مشقت نیز اپنے اہل خانہ کی فلاح  و بھبود کی خاطرجدوجہد میں سحرخیزی کرنے کو راہ خدا میں جہاد کرنے والوں کی سحرخیزی سے بھی برتر جانتے ہیں۔

    (ما غدوة احدکم فی سبیل الله باعظم می غدوة یطلب لولده وعیاله مایصلحهم)[lxvi] ”راہ خدا میں تمہاری سحرخیز کرنا ایسے شخص کی سحرخیزی سے بڑھکر نہیں ہے جو اپنی اولاد اور گھروالوں کی مصلحت کونظر میں رکھتے ہوے طلب معاش کے لئے سحرخیزی کرے“

    نیز فرماتے ہیں کہ کام اور محنت سے ہی ہرطرح کی طاقت اور قدرت میں اضافہ ہوجاتا ہے لیکن غربت اور بیکاری، تنگدستی اور غلامی ہی وجود میں لاتی ہے جس کا ایک لازمی نتیجہ فساد اور بربادی ہےجو کسی بھی طرح سے ایک مثالی معاشرہ اور آئیڈئل سوسائٹی سے تناسب نہیں رکھتا ہے۔

    (ومن یعمل یزدد قوة و من یفتقر فی العمل یزدد قترة)[lxvii] ”جو شخص کام اور محنت کرتا ہے اس کی طاقت بڑھ جاتی ہے اور جو شخص کام چوری کرتا ہے اسکی تنگدستی میں اضافہ ہوجاتا ہے“

    پس اس بناپر مثالی معاشرہ ایک محنت کش افراد کا معاشرہ ہے جہاں ہر شخص اپنی ذاتی توانائیوں سے معاشرے کی ترقی اور سعادت کی راہیں ہموار کرتا ہےاپنے معاشرے کو غربت اور افلاس اور اسکے ذریعہ سے پھیلنے والی ہرطرح کی برائی اور فساد ، سے نجات دلاتا ہے۔

    وحدت اورانسجام:

    اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک معاشرے اور قوم کی ترقی ، سعادت اوربلند اہداف ایک دوسرے کے تعاون اور اتحاد کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتے نوع بشر کی دوام اور نسل نوین کی بقاء کا اساسی اور بنیادی عامل اتحاد اور اتفاق ہی ہے کیونکہ اجتماعی زندگی کی بقاء کا اہم راز اتحاد میں ہی پوشیدہ ہے مثالی معاشرے کی ایک اہم خصوصیت لوگوں کا آپسی اتحاد اور بھائی چارہ ہے شاید پوری کائنات میں  امام علی(ع) سے بڑھکر کوئی ایسا شخص ہی  نہیں ملےگا جس نے اتحاد کے لئے انتھک جدوجہد اور عظیم قربانیاں دی ہوں۔

    (وَلَيْسَ رَجُلٌ ـ فَاعْلَمْ ـ أَحْرَصَ عَلَى جَمَاعَةِ أُمَّةِ مُحَمَّد صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأُلْفَتِهَا مِنِّي…)[lxviii] ”امت كي شيرازه بندي اور اس كے اتحاد کے لئے مجھ سے زیادہ خواہش مند کوئی نہیں ہے“

    چنانچہ امام ایک آئیڈئل سوسائٹی کی تلاش میں ہیں اس لئے کسی بھی طرح کی قربانی دینے سے اتراتے نہیں ہیں اہل کوفہ کو سرزنش کرتے ہوئے کہتےہیں کہ خدا نے اس امت اسلامی پہ اتحاد اور بھائی چارہ کے ذریعہ سے احسان کیا اور انکے درمیان الفت قائم کی۔جیساکہ بیان کیا گیاامام علی (ع)کے مثالی معاشرے میں پیغمبر اکرم(ص)کی خاصی جگہ اور مقام و منزلت ہے اور آپکے وجود مبارک کے بغیر امام علی(ع) کے مثالی معاشرے کا تصور کرنا محال ہے امام آپکے وجود نازنین کو مثالی معاشرے کے اتحاد اور انسجام میں کافی اثرگذار جانتے ہیں۔

    (فَانْظُرُوا إِلَى مَوَاقِعِ نِعَمِ اللهِ سُبْحَانَهُ عَلَيْهِمْ حِينَ بَعَثَ إِلَيْهِمْ رَسُولاً، فَعَقَدَ بِمِلَّتِهِ طَاعَتَهُمْ، وَجَمَعَ عَلَى دَعْوَتِهِ أُلْفَتَهُمْ)[lxix] ”دیکھو!کہ اللہ نے ا ن پر کتنے احسا نات کئے ہیں کہ ان میں اپنا رسول بھیجا کہ جس نے اپنی اطاعت کا انہیں پابند بنایا اور انہیں ایک مرکز وحدت پر جمع کر دیا“

    نیز فرماتے ہیں:

    (فَصَدَعَ بَمَا أُمِرَ بِهِ، وَبَلَّغَ رِسَالَةِ رَبِّهِ، فَلَمَّ اللهُ بِهِ الصَّدْعَ، وَرَتَقَ بِهِ الْفَتْقَ، وَأَلَّفَ بِهِ بَيْنَ ذَوِي الاَْرْحَامِ، بَعْدَ الْعَدَاوَةِ الْوَاغِرَةِ فِي الصُّدُورِ، والضَّغَائِنِ الْقَادِحَةِ فِي الْقُلُوبِ)[lxx] ”رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اوامر الہیہ کو واضح انداز سے پیش کردیا اوراس کے پیغامات کو پہونچادیا ۔ اللہ نے آپ کے ذریعہ انتشار کو مجتمع کیا۔ شگاف کو بھردیا اور قرابتداروں کے افتراق کو انس میں تبدیل کردیا حالانکہ ان کے درمیان سخت قسم کی عداوت اور دلوںمیں بھڑک اٹھنے والے کینے موجود تھے“

    مولائے کائنات (ع) کی نظر میں پیغمبراکرم(ص)توحید کے مبنی پر انسانیت کے نام وحدت کلمہ کا پیغام لیکر آئے تھے جسکے ذریعہ سے مثالی معاشرہ تشکیل دے کےانہیں سربلند اور سرفراز کیا۔

    (جَعَلَهُ اللَّهُ سُبْحانَهُ بَلاَغا لِرِسالَتِهِ، وَ كَرامَةً لاُمَّتِهِ، وَرَبِيعا لِاَهْلِ زَمانِهِ وَ رِفْعَةً لِاَعْوانِهِ، وَ شَرَفا لِانْصارِهِ) ”خدا نے اسے اپنی رسالت کا پیغامبر بناکے بھیجااور اپنی امت کے واسطے کرامت، اپنے ہمعصر کے لئے شادی بخش اور اپنے دوستوں اور مددگاروں کے واسطے بہت ہی مہربان اور شریف بناکے بھیجا“

    اسی لئے مثالی معاشرے میں آپسی اتحاد اور بھائی چارےکی انتہائی اہمیت ہے امام بار بار گذشتہ قوموں کی وحدت، تفرقہ اور اس سے برآمد نتائج اور آثار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وحدت اور انسجام پر کافی تاکید کرتے ہیں آپ کی نظر میں دوسرے معاشروں پر مثالی معاشرے کی سبقت اور برتری کا اہم راز اسی وحدت میں پوشیدہ ہے ۔

    ” گزشتہ قوموں کو دیکھو جب وہ ایک دوسرے سے متحد تھے ان کے دل اور نظریات یکسان تھے ایک دوسرے کے یاور و مددگار تھے شمشیریں ایک دوسرے کی مدد کے لئے اٹھاتے تھے انکے عزم و ارادے ایک تھے ، کیا وہ زمین کے مالک نہیں تھے اور دنیا پر حاکم نہیں تھے؟“[lxxi]

    ہے زندہ فقط وحدت افکارسے ملت                         وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد[lxxii]

    پس مکتب امام علی (ع)میں پروان چڑھنے والے مثالی معاشرے کی یہ کچھ اہم اور بنیادی سیاسی ، اجتماعی اور ثقافتی خصوصیات تھیں جنہیں اجمالی طور بیان بیان کیا گیا مقالہ کی محدودیت کونظر میں رکھتے ہوے  دوسری خصوصیات سے صرف نظر کرتے ہیں اور مقالہ کےاس آخری حصہ میں مثالی معاشرے کے اغراض و مقاصد پر بھی ایک اجمالی نظر ڈالے۔

    مثالی معاشرے کے اغراض و مقاصد:

    اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر چیز کا ایک ہدف اور مقصد ہوتا ہے اور ہر چیز کے ہدف اور مقصد کی اہمیت اور قدر و قیمت کا اندازہ اس کی ضرورت یا پھر اسکے مقابل یا اضداد کے نقصان سے لگایا جاسکتاہے اس بات سے بھی انکار کی قطعی گنجایش نہیں کہ مثالی معاشرے کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد مثالی حکومت کی تشکیل ہے  قیام حکومت کی ضرورت کے بغیر ایک مثالی یا عمومی معاشرہ کی بقاء اور استحکام ناممکن ہے (لاَبُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ أَمِير بَرّ أَوْ فَاجِر)[lxxiii]”لوگوں کے لئے ایک حاکم اور قائد کا ہونا ضروری ہے چاہے وہ نیک ہو یا برا“ لیکن اگراسے دوسرے اہداف اور مقاصد کے ساتھ تقابلی جائزے کی نگاہ سے دیکھا جائے تو پتہ چلے گا کہ یہ بھی ایک وسیلہ اور ذریعہ ہی ہے جو ہمیں ان اصلی اہداف کی جانب حرکت کرنے میں مددگار اور معاون ثابت ہوگا جن کے حصول کے لئے مثالی معاشرے کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔

    امام علی(ع) ابن عباس سے فرماتے ہیں اگر اس حکوت کے ذریعہ سے حق کو زندہ کرنا اور باطل کو دور کرنا مطلوب نہ ہوتا تو ایک پھٹا پرانا جوتا میرے لئے اس سے زیادہ قیمتی تھا۔

    (والله لَهِيَ أَحَبُّ إِليَّ من إِمرتكم، إِلاّ أَن أُقيم حقّاً، أَوأَدفع باطلاً)[lxxiv] ”اگر میرے پیش ِ نظر حق کا قیام اور باطل کا مٹانا ہو تو تُم لوگوں پر حکومت کرنے سے یہ جوتا مجھے کہیں زیادہ عزیز ہے ۔“

    جی ہاں مثالی معاشرے کی تشکیل کے واسطے ایک صالح اسلامی حکومت اور قیادت کے بھی  کچھ اہم  ابتدائی اغراض اور مقاصد ہیں جو در واقع مثالی معاشرے کےاصلی مقصد اور ہدف کا پیش خیمہ بنتے ہیں، مکتب نہج البلاغہ کی روشنی  میں ان  ابتدایی اہداف اور پھر مثالی معاشرے کے اصلی اور واقعی ہدف اور مقصد کی جانب اشارہ کریں گے ۔

    عدالت

    امام علی(ع) کے مثالی معاشرے کا سب سے بنیادی مقصد اور ہدف یہ ہے کہ معاشرے کے تمام امور میں انسان کی فطرت کے مطابق عدالت  الہی اجرا ہوجائے ، انبیاء کرام(ع) کی بعثت کا ایک اہم مقصد بھی عدالت الہی اور اقامہ قسط ہے۔(لیقوم الناس بالقسط۔۔۔(حدید 25) امام علی(ع)سورہ نحل کی  آیہ شریفہ(۹۰ )کی وضاحت میں فرماتے ہیں کہ حقیقت عدالت سے مراد وہی انصاف ہے۔”آیہ کریمہ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ میں عدل، انصاف ہے اور احسان فضل و کرم“[lxxv]

    اور دوسری جگہ اس کے دائرے کو وسعت بخشتے ہوئے سخاوت کے ساتھ اس کا موازنہ کرتے ہوئےفرماتے ہیں اس سے مراد صاحبان حق کو حق دلانا مقصود ہے یعنی عدالت حق کی رعایت کرنے کا نام ہے۔

    (العدل یضع الامور مواضعها والجود یخرجها عن جهتها والعدل سائس عام والجود عارض خاص فالعدل اشرفهما و افضلهما)[lxxvi] ”عدل امور کو اپنی جگہ پر بر قرار رکھتا ہے لیکن سخاوت امور کو انکی حدود سے خارج کردیتی ہے ۔عدل ایک عام سیاست گر ہے لیکن سخاوت کا اثر محدود ہے اسی لئے عدل جود و سخا کے مقابلے میں بہتر ہے“

    امام علی (ع) کی نظر میں عدالت  ذاتی طور سے ایک نیک اور اچھا کام ہےلہذا بغیر کسی دستور الہی کے بھی انسان کو عدالت اجرا کرنی چاہیے۔

    (وَلَوْ لَمْ يَكُنْ فِيَما نَهَى اللهُ عَنْهُ مِنَ الْبَغْيِ وَالْعُدْوَانِ عِقَابٌ يُخَافُ لَكَانَ فِي ثَوَابِ اجْتِنَابِهِ مَا لاَ عُذْرَ فِي تَرْكِ طَلَبِهِ فَأَنْصِفُوا النَّاسَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ)[lxxvii] ”اگر پروردگار نے بغاوت اور ظلم سے روکنے کے بعد اس پر عذاب بھی نہیں رکھا ہوتا تو اس سے پرہیز کرنے کا ثواب ہی اتنا زیادہ تھا کہ اس کے ترک کرنے میں کو ئی شخص معذور نہیں ہوسکتا تھا لہذا لوگوں کے ساتھ انصاف کرو“

    آپ نے عدالت کی مختلف تعبیریں بیان فرمائی ہیں کبھی دستورات الہی کی حیات[lxxviii] کے محور کو عدالت ہی قرار دیا ہے اور کبھی معاشرے میں رائج اسلامی حکومت کا نظام[lxxix]  نیز اس پر حاکم سیاست کا معیار[lxxx]بھی  عدالت ہی جانا  ہے۔اسی لئے حکومت کا سب سے بنیادی کام اپنے تمام امور میں عدالت اور انصاف سے کام لینا جانتے ہیں اسی زاویے سے  والی مصر مالک اشتر کو تحریر فرماتے ہیں کہ دیکھو تمہارا مقصد صرف عدالت اجرا کرنا ہو!

    (وَلْيَكُنْ أَحَبَّ الاُْمُورِ إِلَيْكَ أَوْسَطُهَا فِي الْحَقِّ، وَأَعَمُّهَا فِي الْعَدْلِ، وَأَجْمَعُهَا لِرِضَى الرَّعِيَّةِ)[lxxxi] ”تمہاری نظر میں سب سے پسندیدہ کام وہ ہونا چاہئے جو حق کے مطابق ہو جس میں عدل عمومی ہو اور زیادہ زیادہ سے رعایا کی خوشنودی کا باعث ہو!“

    دوسری جگہ ملکی سطح پر عدالت اجراکرنے کو حکام کی آنکھوں کی ٹھنڈک سے تعبیر کرتے ہیں:

    (وَإِنَّ أَفْضَلَ قُرَّةِ عَيْنِ الْوُلاَةِ اسْتِقَامَةُ الْعَدْلِ فِي الْبِلاَدِ، وَظُهُورُ مَوَدَّةِ الرَّعِيَّةِ)[lxxxii] ”بے شک حکام اور والیوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک ملکی سطح پر عدالت کا قائم کرنا اور رعایا کے دلوں کو اپنی طرف جذب کرنا ہے“

    حکمین کی خیانت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ہم نے انہیں اپنی باطل رأی واپس لینے سے پہلے عدل و انصاف کا حکم کرنے کے لئے کہا۔آپ کےمثالی معاشرے میں عدالت اجرا کرنے میں  دوست اور دشمن کا امتیاز نہیں کیا جاتا ہے چنانچہ یہ انسان کی ذات اور فطرت کے ساتھ عجین ہے لہذا دوست اور دشمن دونوں کے ساتھ عدالت سے پیش  آنا چاہیے۔

    (علیک بالعدل فی الصدیق و العدو)[lxxxiii] ”دوست و دشمن کے ساتھ عدالت سےپیش آو“

    آپ اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ اگر عدالت اجرا ہوجائے تو سارے لوگ بے نیاز ہوجائیں گے اسی وجہ سے مملکت اسلامی کی بھاگ دوڑ ہاتھ میں لیتے ہی آپ کے حلقہ مبارک سے نکلنے والی عدالت انسانی  کی صدائیں اسلامی مثالی معاشرے کی فضاؤں میں گونجنے لگی۔

    (لوعدل فی الناس لاستغنوا)[lxxxiv] ”اگر لوگوں کے درمیان عدالت اجرا ہوتی تو سارے لوگ ایک دوسرے سے بے نیاز ہوجاتے“

    یہی  عدالت جو مثالی معاشرے کے ابتدائی مقاصد میں شمار ہوتی ہے  خود بخود  اسلامی معاشرے کے دوسرے امور اور مقاصد تک پہونچنے کا ایک ذریعہ ہے اسی عدالت کی وجہ سے ہر قسم کی تبعیض ختم ہوکے معاشرے میں فلاح اور بہبودی وجود میں آتی ہےہر طرح کی غربت ، بربریت اور ظلم و ناانصافی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ (بالعدل تصلح الرعية)[lxxxv] ”عدالت اجرا کرنے سے رعایا میں اصلاح ہوجاتی ہے“

    پس ان فرمایشات  کی روشنی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسلامی مثالی معاشرے کا ایک اہم مقصد عدالت انسانی کو احسن طریقہ سے اجرا کرنا ہے۔

    امنیت۔

    امنیت نہ فقط عالم انسانیت کا ایک اہم مقصد ہے بلکہ عالم حیوانات میں بھی یہ چیز ہر جانور، پرندے اور حشرات کے لئے اہمیت کی حامل ہے۔ عصر حاضر کے سب سے اہم مسائل میں سے ایک مسئلہ امنیت ہی ہے کتنے ہی مغربی اور مشرقی نظام اور معاشرے وجود میں آئے تاکہ انسان کی زندگی میں چین و سکون اور امنیت برقرار کرسکیں لیکن یہ سب کے سب اس امرمیں ناکام ہوئے ہیں مثالی معاشرے کا ایک لازمی اور ناقابل تفکیک نتیجہ اور مقصد امنیت ہے امام علی(ع) کے اس خوبصورت مثالی معاشرے میں زندگی بسر کرنے والے کسی بھی ذات، پات کسی بھی دین و مذہب سے تعلق رکھنے والے کیوں نہ ہووہ اپنی زندگی کے تمام جوانب میں امن و امنیت کی لذت کو درک کرتے ہیں۔آپ کے نزدیک سب سے برا معاشرہ وہ ہے جو ناامنی کا شکا ہو۔

    (شرالبلا بلد لاامن فیه و لا خِصَب)[lxxxvi] ”سب سے برا شہر اور معاشرہ وہ ہے جس میں امن نہ ہو مہنگائی سے خالی نہ ہو“

    اسی طرح فرماتے ہیں: (شرالاوطان مالم یأمن فیه القطان)[lxxxvii] ”سب سے برا وطن وہ ہے جس میں رہنے والے افراد ناامنی کے شکار ہوں“

    ان احادیث کا لازمی نتیجہ یہ ہےکہ اگر ناامن شہر، معاشرہ اور وطن سب سے بری جگہ ہیں تو اسکے عوض میں امن کی نعمت سے بھرا ہوا شہر ،معاشرہ اور وطن سب سے بہترین جگہ ہونی چاہیے لہذا اس بناپر امنیت مثالی معاشرے کے اہم اہداف کا حصہ ہونا چاہیے۔

    قرآن کریم میں بھی رب العزت مثالی معاشرے کے اس اہم مقصد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتاہے۔

    (وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا) (سورہ نور ۵۵) ”اور ان کے خوف کو امن سے تبدیل کردے گا“

    امیرالمومنین(ع) بھی حکومت اسلامی کی ایک اہم وجہ معاشرے کی امنیت ہی بتلاتے ہیں۔

    (فَيَاءْمَنَ الْمَظْلُومُونَ مِنْ عِبادِكَ،)[lxxxviii]  ” تاکہ تیرے ستم رسیدہ بندوں کو امن و امان حاصل ہوجائے“

    اسی طرح مالک اشتر کے نام لکھے سیاسی پیغام میں جنگ و جدال سے کسی بھی طرح پرہیز کرتے ہوئے امنیت کی جانب توجہ کرنے پر زور دیتےہوئے فرماتے ہیں۔(وَلاتَدْفَعَنَّ صُلْحاً دَعَاكَ إِلَيْهِ عَدُوُّ كَ لله فِيهِ رِضىً، فإِنَّ فِي الصُّلْحِ دَعَةً لِجُنُودِكَ، وَرَاحَةً مِنْ هُمُومِكَ وأَمْناً لِبِلاَدِكَ)[lxxxix] ”اور خبردار کسی ایسی دعوت صلح کا انکار نہ کرنا جس کی تحریک دشمن کی طرف سے ہو اور جس میں مالک کی رضامندی پائی جاتی ہو کہ صلح کے ذریعہ فوجوں کو قدرے سکون مل جاتا ہے اور تمہارے نفس کو بھی افکار سے نجات مل جائے گی اور شہروں میں بھی امن و امان کی فضا قائم ہوجائے گی“

    اسی طرح سے شریعت اسلامی کے نفاذ کا ایک مقصد امنیت اور سلامتی بتلاتے ہیں۔

    (الْحَمْدُ للهِ الَّذِي شَرَعَ الاِْسْلاَمَ فَسَهَّلَ شَرَائِعَهُ لِمَنْ وَرَدَهُ، وَأَعَزَّ أَرْكَانَهُ عَلَى مَنْ غَالَبَهُ، فَجَعَلَهُ أَمْناً لِمَنْ عَلِقَهُ، وَسِلْماً لِمَنْ دَخَلَهُ)[xc] ”تمام حمد اس اللہ کے لیے ہے کہ جس نے شریعت اسلام کو جاری کیا اور اس (کے سرچشمہٴ) ہدایت پر اترنے والوں کے لیے اس کے قوانین کو آسان کیا، اور اس کے ارکان کو حریف کے مقابلے میں غلبہ و سرفرازی دی چنانچہ جو اس سے وابستہ ہو اس کے لیے امن جو اس میں داخل ہو اس کے لے صلح و آشتی“

    اور اسی طرح مثالی معاشرے پر حاکم وحدت اور انسجام سے پیدا ہونے والی امنیت  کی جانب خطبہ نمبر(١٩١)میں یوں اشارہ فرماتے ہیں:”انکی ذلت کو عزت بخشی اور انکے خوف کو امنیت میں بدل دیا“

    پس اگر مثالی معاشرے کی خصوصیات کی جانب توجہ کی جائے تو خود بخود یہ ہمیں اسکے اہم اور بنیادی مقصد امنیت کی جانب لے جاتی ہیں جی ہاں امام علی(ع)کے مثالی معاشرے کا ایک اور ابتدائی ہدف اور مقصد امنیت ہےکیونکہ ہرطرح کے خوف و ہراس سے عاری معاشرہ ہی ایک مطلوب اور مثالی معاشرہ ہوسکتا ہے ۔

    تربیت:

    تربیت ایک وسیع اور عام موضوع ہے یہاں پہ صرف اشارہ کے طور پر امام کے بعض اقوال کی روشنی میں اسے بیان کرناچاہتا ہوں آپ کےخوبصورت مثالی معاشرے اور سماج کا تیسرا اہم  مقصد انسان اور معاشرے کی تربیت ہے۔ تربیت یعنی کمال مطلق تک پہنچنے کے لئےانسان کی صلاحیتوں کو شکوفا کرنے  کی غرض سے موجودہ موانع کو دور کرکےضروری وسائل فراہم کرنا۔[xci]

    آپ انبیاء کی فلسفہ بعثت کی وجہ بھی انسان کے اندر موجودپوشیدہ صلاحیتوں کو پروان چڑھانا ہی بیان فرماتے ہیں:”اللہ نےان میں اپنے رسول مبعوث کئے اور لگاتار انبیاء بھیجے تاکہ ان سے فطرت کےعہدو پیمان پورے کرائیں۔۔۔عقل کے دفینوں کو ابھاریں اورا نہیں قدرت کی نشانیاں دکھائیں“[xcii]

    نیز فرماتے ہیں:(وَبَعَثَ إِلَى الْجِنِّ وَالاِْنْسِ رُسُلَهُ، لِيَكْشِفُوا لَهُمْ عَنْ غِطَائِهَا)[xciii] ”اس نے جن و انس کی طرف اپنے رسول بھیجے ہیں تاکہ وہ نگاہوں سے پردہ اٹھادیں اور نقصانات سے آگاہ کردیں“

    امام علی(ع) کی نظر میں مثالی دینی حکومت کے حاکم اور قائد کی سب سے اہم ذمہ داری عوام  اور معاشرے کی تربیت کرناہے۔

    (أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّ لِي عَلَيْكُمْ حَقّاً، وَلَكُمْ عَلَيَّ حَقٌّ: فَأَمَّا حَقُّكُمْ عَلَيَّ: فَالنَّصِيحَةُ لَكُمْ، وَتَوْفِيرُ فَيْئِكُمْ عَلَيْكُمْ، وَتَعْلِيمُكُمْ كَيْلا تَجْهَلُوا، وَتَأْدِيبُكُمْ كَيْما تَعْلَمُوا)[xciv] ”اے لوگو! ایک تو میرا تم پر حق ہے ، اور ایک تمہارا مجھ پر حق ہے کہ میں تمہاری خیر خواہی پیشِ نظر رکھوں اور بیت المال سے تمہیں پورا پورا حصہ دوں اور تمہیں تعلیم دوں تاکہ تم جاہل نہ رہو اور اس طرح تمہیں تہذیب سکھاؤں ، جس پر تم عمل کرو“

    ان فرمایشات کی تایید میں یہ تذکرہ ضروری ہے کہ قرآن بھی انبیاء کرام کا اہم مقصد تعلیم اور تربیت ہی بتلاتا ہے(سورہ جمعہ، آیہ  2 و آل عمران 164)

    امام تربیت کے اس دائرے کو صرف رعایا اور عوام کی تربیت تک محدود نہیں کرتے بلکہ سب سے پہلے خود قائد اور رہبر کو اپنی ذات کی تربیت کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔

    (مَنْ نَصَبَ نَفْسَهُ لِلنَّاسِ إِمَاماً فَلْيَبْدَأْ بِتَعْلِيمِ نَفْسِهِ قَبْلَ تَعْلِيمِ غَيْرِهِ وَ لْيَكُنْ تَأْدِيبُهُ بِسِيرَتِهِ قَبْلَ تَأْدِيبِهِ بِلِسَانِهِ وَ مُعَلِّمُ نَفْسِهِ وَ مُؤَدِّبُهَا أَحَقُّ بِالْإِجْلَالِ مِنْ مُعَلِّمِ النَّاسِ وَ مُؤَدِّبِهِمْ)[xcv] ”جو شخص اپنے کو قائد ملت بناکر پیش کرے اس کا فرض ہے کہ لوگوں کو نصیحت کرنے سے پہلے اپنے نفس کو تعلیم دے اور زبان سے تبلیغ کرنے سے پہلے اپنے عمل سے تبلیغ کرے اور یہ یاد رکھے کہ اپنے نفس کو تعلیم و تربیت دینے والا دوسروں کو تعلیم و تربیت دینے والے سے زیادہ قابل احترام ہوتا ہے“

    پس اس بنا پر پہلے مرحلہ میں قائد خود کو تہذیب نفس اور تربیت کے زیور سے آراستہ کرے اور پھر مثالی معاشرے کے افراد اور رعایا کے تہذیب و تربیت پر کمر کسے کیونکہ سعادت اور خوشبختی عوام اور رعایا کی اصلاح اور تہذیب میں ہی پوشیدہ ہے۔

    (من کمال السعادةالسعی فی صلاح الجمهور)[xcvi] ”سعادت کی انتہایہ ہے کہ جمہوریت کی اصلاح کے لئے سعی و تلاش کی جائے“

    پس تربیت عوام اور معاشرہ امام کے مثالی معاشرے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اس معاشرے کی تشکیل کا اہم مقصد تربیت انسان ہے یہ تربیت عدالت اور امنیت کے سائے میں ہی حاصل ہوسکتی ہے گو یا یہ اہداف ایک دوسرے پر مترتب ہیں  لیکن اسکے باوجود بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ مثالی معاشرے کی تشکیل کے ان اہداف اور مقاصدکے حصول کے کیا بعد کیا کرنا ہے ؟ کیا واقعی معنوں میں ان مقاصد کے حصول سے امام علی (ع) اس مقصد تک پہنچ رہے ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں توکیا کوئی اور مقصد بھی درکار ہے ؟

    مقصد اصلی:

    جی ہاں ان سارے سوالوں کا جواب یہی ہے کہ ابھی وہ مطلوبہ مقصد حاصل ہونا باقی ہےجس کے لئے مثالی معاشرے کو وجود میں لایا گیالہذاجو چیز امام علی(ع) کے مثالی معاشرے کو دوسرے معاشروں سے جدا اور ممتاز بنادیتی ہے وہ اس معاشرے میں پرورش پانے والے انسان کےمتعلق آپکی جہان بینی اور آیڈیالوجی ہےآپ کی نظر میں آگانہ طور سے اقدار انسانی کی ارتقاء کی انتہا ان فطری صلاحیتوں کے احیاء پر موقوف ہے جو انبیاء کی بعثت کا اصلی مقصد تھا۔ (لیستادوهم میثاق فطرته)(خطبه۱)یہ شکوفایی حقیقت میں انسان کے درمیان حائل اس دیوار کو گرادیتی ہے جو اسے حقیقت ابدی تک پہنچنے سے باز رکھتی ہے اور اسے مقصد نہایی سے دور کردیتی ہےلہذا اس بناپر امام علی(ع) کے فرمایشات کے نتیجہ میں مثالی معاشرے کے مذکورہ تین اہم مقصد (عدالت، امنیت اور تربیت) اس میں پرورش پانے والے مثالی انسان کا واقعی مقصد نہیں ہوسکتے بلکہ واقعی مقصد تک پہونچنے کے لئے ہمیں آنحضرت(ع)کی دوسری فرمایشات کا سہارا لینا ہوگا اس کے ساتھ ساتھ قرآن  پاک سے بھی اس بارے میں مدد لے سکتے ہیں کہ جس میں ارشاد ہو رہا ہے کہ خلقت کا بنیادی مقصد عبودیت اور معرفت الہی ہے جو فقط بندگی سے حاصل ہوتی ہے۔

    (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ)( سورہ ذاریات۵۶)” میں نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت اور معرفت کے لئت پیدا کیا“

    اسی لئے  اس پورے عالم کوایک سعادتمند اور بے مثال معاشرہ بنانے اور انسان کو اپنے عبودیت کے مقام و منزلت سے آشنا کرنے کے لئےانبیاء کرام(ع)بھی ارسال کئے گئے۔(وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ)( سورہ انبیاء۲۵) ‘‘اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر یہ کہ اسکی طرف سے یہی وحی کرتے رہے کہ میرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے لہذا سب لوگ میری ہی عبادت کرو’’

    یا دوسری آیہ شریفہ میں ہر معاشرے میں ایک پیغمبر اور رسول کے بھیجنے کا فلسفہ صرف خدا کی بندگی اور طاغوت سے اجتناب کہا گیا ہے۔

    (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللّهَ وَاجْتَنِبُواْ الطَّاغُوتَ)(نحل٣٦)”اور بیشک ہم نے ہر امت کے لئے ایک رسول بھیجا تا کہ خدا کی عبادت کریں اور طاغوت سے دوری اختیار کریں “

    نہج البلاغہ بھی بعثت پیغمبر (ص)کا سب سے اہم فلسفہ اور حکمت لوگوں کی بندگی اور عبودیت ہی  بتلاتا ہے۔

    فَبَعَثَ اللهُ مُحَمَّداً بِالْحَقِّ لِيُخْرِجَ عِبَادَهُ مِنْ عِبَادَةِ الاَْوْثَانِ إِلَى عِبَادَتِهِ، وَمِنْ طَاعَةِ الشَّيْطَانِ إِلَى طَاعَتِهِ، بِقُرْآن قَدْ بَيَّنَهُ وَأَحْكَمَهُ، لِيَعْلَمَ الْعِبَادُ رَبَّهُمْ إِذْ جَهِلُوهُ)[xcvii] ”پروردگار عالم نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیاتاکہ آپ لوگوں کوبت پرستی سے نکال کر عبادت الہی کی منزل  کی طرف لے آئیں اور شیطان کی اطاعت سے نکال کر رحمان کی اطاعت  کرائیں اس قرآن کے ذریعہ سے جسے واضح اور محکم قرار دیا ہے تاکہ بندے خدا کو نہیں پہچانتے ہیں تو پہچان لیں “

    پس عبادت اور بندگی سب سے اہم ترین ہدف خلقت ہے اسی لئے امام علی (ع)پوری سعی و تلاش کررہے ہیں کہ انسان اپنے اصلی مقام اور منزلت (عبودیت) تک پہنچ سکے معرفت کے حوالے سے ‘‘معرفة الله اعلی المعارف[xcviii]یا  اول الدین معرفته’’[xcix]ہی مقصد حیات ہے اسی لئے  عبودیت کے حوالے سے ہمیشہ اپنے آپ کو عبد کہنا زیادہ پسند کرتے تھےاپنے حکومتی دستورات میں ہمیشہ یہی لکھتے تھے۔ ‘‘مِن عَبدِ اللهِ عَلی امیرالمومنین الی۔۔۔’’اسی طرح شہر میں تعینات مختلف والیوں کے نام لکھے خطوط نیز عوام الناس کو موعظہ کرتے وقت اکثر‘‘یا عبادالله يا عبد الله’’ کا لفظ ہی استعمال میں لاتے تھے۔

    پس مثالی معاشرے کا یہی وہ حقیقی اور اصلی مقصد ہے جس کے لئے پوری کائنات کو معرض وجود میں لایا گیا اور مولائے کائنات ہر حال میں ایسے معاشرے کی تشکیل کے لئے انتھک کوشش کی آج بھی اگر انسان باب علم پہ دستک دے کے اپنے معاشرے کو مثالی بنانا چاہتاہے تو اپنے آپ کوہر طرح کی ہوا و ہوس اور سامراجی ہتھکنڈوں سے آزاد کردے اگر اقدار انسانیت کی بقاء کی تمنا کرتا ہے تو اسے نہج البلاغہ کے نور ہدایت میں اپنے تاریک وجود کو روشن کرنا ہوگا۔

    نتیجہ :

    اس مضمون میں ہم نے امام علی(ع) کی فرمایشات کی روشنی میں تشکیل پائے جانے والے ایک ایسے منفرد اور انمول مثالی معاشرے کی کسی حد تک وضاحت کی جسے آپ نے چودہ سو برس پہلے انسانیت کے نام ہدیہ کیا سب سے پہلے آپ کے مثالی معاشرے کے بنیادی ارکان پہ اجمالی بحث کی اور اسی نتیجہ پہ پہونچے کہ توحید ،سیرت نبوی ، کتاب الہی اور زندگی کی صحیح آئڈیالوجی ہی اسکے بنیادی ارکان ہیں اور اسکے بعد اہم خصوصیات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس معاشرے پر حاکم صفات اور خصوصیات بھی بیان کئے اور آخرمیں کچھ اہم عارضی مقاصد کی جانب بھی اشارہ کیا اور  اسی نتیجہ پر پہونچے کہ قرآن اور نہج البلاغہ کی روشنی میں  امام علی(ع)کے مثالی معاشرے یا آئیڈئل سوسائٹی کا اہم مقصدخدا کی معرفت اور بندگی ہے مثالی معاشرے کی ساری کوشش یہی ہے کہ انسان کو اپنے حقیقی مقام اور مرتبہ سے آشنا کرایا جائے اور یہ حقیقی مقام وہی مقام بندگی ہےجس کے لئے کائنات کی تخلیق ہوئی ہے ۔خدایا ہمیں بھی اپنے حقیقی  بندوں میں شمار کر اور مولاامیرالمومنین(ع) کی دیرینہ تمنا، مثالی معاشرے کو تشکیل دینے میں ہماری مدد فرما! آمین یا رب العالمین۔

    منابع و مآخذ

    (قرآن مجید) انوار القرآن؛ ترجمہ،سید ذیشان حیدر جوادی ، قم ؛انصاریان ٢٠٠٧ء  ۔

    الرضی، سید شریف،نہج البلاغہ، ترجمہ ؛محمد دشتی؛ موسسه انتشارات مشهور ۱۳۸۰۔

    الرضی، سید شریف،نہج البلاغہ، ترجمہ و تشریح اردو؛ علامہ سید ذیشان حیدر جوادی، قم؛ انصاریان ٢٠٠٦ء۔

    الرضی، سید شریف،نهج البلاغه، ترجمہ اردو؛ علامہ مفتی جعفر حسین ، mehdimission.com۔

    بحرانی ، میثم ابن علی ابن میثم؛شرح نہج البلاغہ ج 5،

    معتزلي،عزالدين عبد الحميد؛شرح ابن الحدید، ج۳، تحقیق محمد ابوالفضل ابراھیم، دارالکتاب العربی، قاھرہ،۱۹۶۴م۔

    شرح غررالحکم و دررالکلم، خوانساری، جمال الدین، ج۶،2،با مقدمہ و تصحیح سید جلال الدین حسینی ، انتشارات دانشگاہ تھران، ۱۳۶۰۔

    الآمدی التمیمی، عبدالواحدابن محمد ؛غررالحکم و دررالکلم، دارالکتاب اسلامی، 2002ء۔

    رشاد،  علی اکبر ؛دانشنامہ امام علی،ج۶،  انتشارات پژوھشگاہ فرھنگ و اندیشہ اسلامی،تھران ۱۳۸۰ش۔

    علیزاده،سلیمان یوسف؛ جامعه مطلوب درنهج البلاغه، ؛ قم؛ دانشکده علوم حدیث، 1387۔

    تهرانی،مصطفی دلشاد ، دولت آفتاب، تھران،انتشارات دریا، ۱۳۸۰ش۔

    تهرانی،مصطفی دلشاد ؛ ماه مهرپرور،(تربيت درنهج البلاغه),.وزارت ارشادو فرهنگ اسلامی,تهران 1379ش۔

    اقبال،محمد ؛کلیات اقبال (فارسی)، با اهتمام پروين قائمي، تهران، پيمان، ۱۳۸۲ ۔

    اقبال، محمد ؛رموز بیخودی ، کوہ نور پریس ، دھلی نو١٩٩٧ء  ۔

    دشتی،محمد؛ الگوھای رفتاری، ج۱۱(امام علی و نظارت مردمی)، موسسہ فرھنگی تحقیقاتی امیر المومنین، قم ۱۳۸۱ش۔

    حرانی، ابو محمد الحسن بن علی؛ تحف العقول عن آل الرسول، طبعة،مکتب بصیرتی،قم،١٣٩٤ق۔

    الکافی، کلینی، محمد بن یعقوب،تحقیق علی اکبر غفاری، دار صعب و دار التعارف،بیروت،۱۴۰۱ق۔

    مطہری، مرتضی؛ گفتارھای معنوی، انتشارات صدرا،

    مجلسي، محمد باقر ،بحار الانوار ، ج8،چاپ سوم، دار احياء التراث العربي ، بيروت،سال١٤٠٣ ھ۔ق۔

    [i]۔الگوھای رفتاری، ج۱۱(امام علی و نظارت مردمی)، محمد دشتی،ص۲۳۷،موسسہ فرھنگی تحقیقاتی امیر المومنین۱۳۸۱ش۔

    [ii]۔نہج البلاغہ، ، خطبہ ۱۴۷، ترجمہ محمد دشتی،ص۲۴۱؛ موسسه انتشارات مشهور ۱۳۸۰۔

    [iii]۔ شرح ابن میثم بحرانی ج 5 ، ص 221۔

    [iv]۔نہج البلاغہ، مکتوب۵۳، ترجمہ و تشریح اردو؛ علامہ سید ذیشان حیدر جوادی، قم؛ انصاریان ٢٠٠٦ء،ص581۔

    [v]۔ شرح اصول کافی، مازندرانی، ج3، ص83۔

    [vi]۔ نہج البلاغہ، خطبه ۱۸۳، ترجمہ؛ علامہ جوادی، ص353.

    [vii]۔کلیات اقبال (فارسی)، محمد اقبال لاہوری، با اهتمام پروين قائمي، ص۷۸۔

    [viii]۔ نہج البلاغہ، خطبہ ۱۴۷، ترجمہ؛ علامہ جوادی، ص۲۷۱۔

    [ix]۔سابق،خطبہ ١٨،ص ٥٩۔

    [x]۔ سابق ،مکتوب ٥٨،ص ٦٠١۔

    [xi]۔ ضرب کلیم ، ص232۔

    [xii]۔ سابق ،خطبه ، 156و ۱۷۶،

    [xiii]۔نہج البلاغہ ،خطبہ ۱۵۸، ترجمہ؛ علامہ جوادی، ص۲۹۵۔

    [xiv]۔  نهج البلاغه، خطبه 92، ترجمہ اردو؛ علامہ مفتی جعفر حسین ، mehdimission.com۔

    [xv]۔ شرح ابن الحدید، ج۳، تحقیق محمد ابوالفضل ابراھیم، دارالکتاب العربی، قاھرہ،۱۹۶۴م؛ ص۱۴۱۔

    [xvi]۔ رموز بيخودي، ص۲۳۸۔

    [xvii]۔ کليات اقبال (فارسي)، ص۷۶۔

    [xviii]۔ رموز بيخودي، ص۲۱۸۔

    [xix]۔ شرح ابن الحدید، ج۳، ص۱۴۱۔

    [xx]۔ نہج البلاغہ ، خطبہ۱۴۹، ترجمہ علامہ جوادی، ص۲۷۵۔

    [xxi]۔ شرح غررالحکم، ص۱۶۸۔

    [xxii]۔ نہج البلاغہ، خطبہ١، ترجمہ علامہ جوادی، ص ٣٣۔

    [xxiii]۔سابق خطبہ ٢٣١،ص ٤٦٩۔

    [xxiv]۔ کليات اقبال (فارسی)،ص ۵۹ و۶۰۔

    [xxv]۔ نہج البلاغہ، خطبہ ۱۵۵، ترجمہ علامہ جوادی،  ص۲۸۷۔

    [xxvi]۔ سابق، حکمت 133، ص۶۷۹۔

    [xxvii]۔ تحف العقول، ص 361۔

    [xxviii] ۔ دانشنامہ امام علی،ج۶،  زیرنظر علی اکبر رشاد،  انتشارات پژوھشگاہ فرھنگ و اندیشہ اسلامی،تھران ۱۳۸۰ش؛ ص۱۷۴،۱۷۵۔

    [xxix]۔ نہج البلاغہ ، مکتوب ۳۱، ترجمہ؛ علامہ جوادی،ص533۔

    [xxx]۔شرح ابن الحدید، ج ۱۳، ص۱۱۰۔

    [xxxi]۔جامعه مطلوب درنهج البلاغه، سلیمان یوسف علیزاده؛ قم؛ دانشکده علوم حدیث، 1387، ص233۔

    [xxxii]۔ گفتارھای معنوی، مرتضی مطہری ، ص۳۲۔

    [xxxiii]۔ نہج البلاغہ، خط ۳۱۔

    [xxxiv]۔ نہج البلاغہ، مکتوب۷۰،ترجمہ علامہ جوادی،ص۶۱۹۔

    [xxxv]۔ سابق، خطبہ ۲۰۸، ص۴۲۷۔

    [xxxvi]۔ سابق،مکتوب ۵۴، ص۵۹۷۔

    [xxxvii]۔ سابق،مکتوب ۱، ص۴۸۵۔

    [xxxviii]۔ سابق ، خطبہ ۴۰، ترجمہ علامہ مفتی جعفر۔

    [xxxix]۔ سابق،کلمہ قصار ۱۹۰، ترجمہ؛ علامہ جوادی،ص697۔

    [xl]۔ سابق،خطبہ ١٤٦، ترجمہ؛ علامہ جوادی،ص271۔

    [xli]۔ سابق،خطبہ ١١٩، ترجمہ؛ علامہ جوادی، ص235۔

    [xlii]۔ سابق،خطبہ۲۱۶، ترجمہ؛ علامہ جوادی، ص439۔

    [xliii]۔ بحار الانوار ، ج٨، ص ٤٧٢۔

    [xliv]۔ سابق،خطبہ ۱۳۱، ترجمہ؛ علامہ جعفر حسین۔

    [xlv]۔ سابق،خطبہ ۲۰۵۔

    [xlvi]۔ نہج البلاغہ، مکتوب۵۳،ترجمہ علامہ جودای ،ص۵۷۲۔

    [xlvii]۔ سابق، مکتوب ۵۳، ص۵۹۶۔

    [xlviii]۔ سابق،مکتوب ۵۹، ص۶۰۳۔

    [xlix]۔ سابق،کلمہ قصار، ۱۱۰، ص669۔

    [l]۔ سابق،خطبہ 193،ص403

  • ۔ نہج البلاغہ، خطبہ ۸۷،ترجمہ؛ علامہ مفتی جعفر۔

    [lii]۔ نہج البلاغہ، خطبہ ۲۱۶، ترجمه علامه جوادی، ص۴۳۸۔

    [liii]۔ سابق، خطبہ ۲۱۶، ص441۔

    [liv]۔ سابق ، خطبہ ۲۶، ص۶۹۔

    [lv]۔ سابق،خطبہ١، ص33۔

    [lvi]۔ نہج البلاغہ خطبہ١، ترجمہ؛ علامہ مفتی جعفر۔

    [lvii]۔ سابق،خطبہ ۱۸۰۔

    [lviii]۔ سابق،خطبہ ۲۰۶۔

    [lix]۔ دلشاد تھرانی، دولت آفتاب، ص۴۰۷، تھران، دریا، ۱۳۸۰ش۔

    [lx]۔ نہج البلاغہ،حکمت، ۱۴۷، ترجمہ علامہ جوادی ،ص۶۸۳۔

    [lxi]۔ الآمدی التمیمی، عبدالواحد، ش۶۱۴۸، ص۲۲۵۔

    [lxii]۔ سابق،ش۵۲۶۷، ص۱۹۶۔

    [lxiii]۔ سابق،ش۶۱۴۸، ص۲۲۵۔

    [lxiv]۔ نہج البلاغہ، خطبہ۱۰۵،ترجمہ؛ علامہ مفتی جعفر۔

    [lxv]۔ الکافی، کلینی، محمد بن یعقوب، ج۵، ص۸۶۔تحقیق علی اکبر غفاری، بیروت، دار صعب و دار التعارف،۱۴۰۱ق۔

    [lxvi]۔ الآمدی التمیمی،ج۲، ص۱۵۔

    [lxvii]۔سابق، ج۵، ص۲۰۶۔

    [lxviii]۔نہج البلاغہ ، مکتوب ۷۸، ترجمہ محمد دشتي؛ ص۶۱۹۔

    [lxix]۔نهج البلاغه، خطبه192، ترجمہ؛ علامہ مفتی جعفر۔

    [lxx]۔ نہج البلاغہ ، خطبہ ٢٣١، ترجمہ ، علامہ جوادی؛ ص ٤٦٩۔

    [lxxi]۔ نہج البلاغہ ، خطبہ ٨٩ اور ١٩٢، ترجمہ؛ علامہ مفتی جعفر۔

    [lxxii]۔ کلیات اقبال

    [lxxiii]۔نہج البلاغہ،خطبہ ۴۰؛ ترجمہ؛ علامہ مفتی جعفر۔

    [lxxiv]۔ سابق،خطبہ۳۳۔

    [lxxv]۔ سابق،حکمت ۲۳۱۔

    [lxxvi]۔ سابق، حکمت٤٣٧۔

    [lxxvii]۔ سابق، مکتوب ۵۱۔

    [lxxviii]۔ الآمدی، ش۵۱۵۹، ص ۱۹۳۔( العدل حیاۃ الاحکام )(عدل حکومت کی حیات ہے)

    [lxxix]۔سابق، ش۵۱۷۲، ۱۹۳۔( العدل نظام الامر) (عدالت حکومت کا نظام ہے)

    [lxxx]۔ شرح غررالحکم و دررالکلم، خوانساری، جمال الدین، ج۶، ص۱۱۶؛ با مقدمہ و تصحیح سید جلال الدین حسینی ، انتشارات دانشگاہ تھران، ۱۳۶۰۔( ملاک السیاسۃ العدل)(سیاست کا معیار عدالت ہے)

    [lxxxi]۔ نہج البلاغہ ، مکتوب ٥٣، ترجمہ؛ علامہ مفتی جعفر۔

    [lxxxii]۔ سابق،مکتوب ٥3۔

    [lxxxiii]۔ شرح غررالحکم و دررالکلم، ج٤ ص ٢٩٤۔

    [lxxxiv]۔ الکافی ،ج۱، ص۵۴۲۔

    [lxxxv]۔ شرح غررالحکم، ج۱، ص۲۹۲۔

    [lxxxvi]۔ سابق ،ج۶، ص۴۳۵۔

    [lxxxvii]۔ سابق، ج۴، ص۱۷۱۔

    [lxxxviii] ۔ نہج البلاغہ، خطبہ ۱۳۱،ترجمہ؛ علامہ مفتی جعفر۔

    [lxxxix]۔ نہج البلاغہ، مکتوب ۵۲، ترجمہ علامہ جوادی؛ ص۵۹۳۔

    [xc]۔ نہج البلاغہ،  خطبہ ۱۰۶، ترجمہ؛ علامہ مفتی جعفر۔

    [xci] ۔ مصطفی دلشاد، تهرانی؛ ماه مهرپرور

    [xcii]۔ نہج البلاغہ، خطبہ۱، ترجمہ؛ علامہ مفتی جعفر۔

    [xciii]۔ نہج البلاغہ، خطبہ ۱۸۳، ترجمہ جوادی، ص۳۵۱۔

    [xciv]۔ نہج البلاغہ، خطبہ ۳۴، ترجمہ؛ علامہ مفتی جعفر۔

    [xcv]۔ نہج البلاغہ، حکمت۷۳۔

    [xcvi]۔ خوانساری، ج۶، ص۳۰۔

    [xcvii]۔ نہج البلاغہ،خطبہ ۱۴۷، ترجمہ علامہ جوادی، ص ۲۷۱۔

    [xcviii] ۔ غرر الحکم ، ش۸۹۹۹۔

    [xcix] ۔ نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۔

    جواب چھوڑیں

    آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.