متقين كی پہلی صفت

0 0

مام عالم كو دو حصوں يعنی عالم غيب اور عالم شہود میں تقسيم كيا جا سكتا ہے ۔غيب يعنی وہ چيز جو انسان كے حواس سے پوشيدہ ہے۔ شہود سے مراد وہ عالم ہے جو ہمارے سامنے موجود ہے ۔

متقين كی پہلی صفت: “غيب پر ايمان ركھنا” ہے

 يعنی وہ لوگ جو غيب پر ايمان ركھتے ہیں البتہ ہم نے آيت كے ترجمہ میں كہا ہے كہ جو لوگ غيب پر يقين ركھتے ہیں ۔ قرآن مجيد میں كئی مقامات پہ غيب پر ايمان ركھنے كوغيب پر خشيت اور غيب كی طرف توجہ كی صورت میں بيان كيا گيا ہے؛مثلا قرآن میں ايك مقام پر آيا ہے ٫٫ و خشی الرحمن بالغيب ٬٬ اور اس طرح كی دوسری كئی آيات ۔ غيب يعنی وہ چيز جو انسان كے حواس سے پوشيدہ ہے ۔ تمام عالم كو دو حصوں يعنی عالم غيب اور عالم شہود میں تقسيم كيا جا سكتا ہے ۔ یہاں شہود سے مراد وہ عالم ہے جو ہمارے سامنے موجود ہے ۔ البتہ اس سے مراد صرف آنكھوں كے سامنے ہونا نہیں ہے بلكہ ہر وہ چيز مراد ہے جو حواس كے ذريعہ قابل درك ہويعنی وہ اشياء جنہیں آپ محسوس كرسكتے ہیں اور آپ كے سامنے ہیں ۔ اور آپ كے لیے قابل تجربہ ہیں مثلا كہكشاں جس كا نظارہ آپ ٹيلی سكوپ كے ذريعہ كر سكتے ہیں ۔ يعنی وہ چيزیں جنہیں آپ ديكھ سكتے ہیں؛ سن سكتے ہیں اور حس كر سكتے ہیں ؛ آشكار اور ظاہر ہیں۔ انہیں عالم شہود سے تعبير كيا گيا ہے ۔ تاہم جو اشياء ماورائی حيثيت ركھتی ہیں وہ بھی موجود ہیں۔ صرف موجودات انہی اشياء میں محدود نہیں ہیں جنہیں ميری اور آپ كی آنكھیں ديكھ رہی ہیں بلكہ موجودات كا دائرہ اس قدر وسيع ہے كہ انسان ان كا احساس كرنے سے عاجز ہے يعنی عالم غيب اس كائنات میں الہی رجحانات اور مادی رجحانات كی سرحد كا نام ہے ۔

مزید  اسلامی اتحاد وقت کی سب سے اہم ضرورت

مادی نظريات اور افكار ركھنے والے افراد معتقد ہیں كہ وہ اشياء جنہیں میں ديكھ رہا ہوں وہی موجود ہیں ليكن وہ چيزیں جنہیں میں نہیں ديكھ رہا وہ موجود بھی نہیں ہیں اگرچہ ممكن ہے كہ وہ اشياء جنہیں آج ہم نہیں ديكھ رہے انہیں كل ديكھ پائیں ۔ اس قسم كےمادی افكار بہت ہی تنگ نظری اور محدود فكر كا نتيجہ ہیں ۔اس لئے كہ﴿ان سے یہ سوال كيا جا سكتا ہے كہ﴾ جس چيز كو آپ نہیں ديكھ رہے ہیں آپ كے پاس كيا دليل ہے آپ اس كے موجود ہونے كی ہی نفی كردیں ؟

آپ تبھی كسی چيز كے موجود ہونے يا معدوم ہونے كا حكم كرسكتے ہیں جب واقعا آپ كے پاس كوئی دليل ہو۔ پھر آپ كا یہ كہنا درست ہو گا ۔ لہذا آپ اس وقت كسی چيز كی موجودگی كا اعلان كر سكتے ہیں جب آپ كو يقين ہو كہ وہ موجود ہے اور اسے ثابت كرسكتے ہوں اور اسی طرح جب آپ كسی چيز كے معدوم ہونے كا حكم كرتے ہیں تو آپ كے لیے یہ ثابت ہونا چاہیے كہ وہ چيز معدوم ہےجبكہ مادہ پرست شخص كے پاس اپنے اس مدعا كو ثابت كرنے كے لیے كوئی دليل نہیں ہے۔ وہ صرف یہی كہنے كا حق ركھتا ہے كہ میں عالم غيب كو نہیں ديكھ سكتا اور اس كے بارے میں مجھے كوئی خبر نہیں ہے ۔ لہذا جب آپ كو اس بارے میں خبرہی نہیں ہے تو آپ كيسے يقين كے ساتھ یہ كہہ سكتے ہیں كہ عالم غيب موجود ہی نہیں ہے؟! وہ كہتے ہیں كہ ہم عالم غيب كا مشاہدہ نہیں كر رہے اور اس كے بارے میں كوئی خبر نہیں ركھتے ہیں۔ ﴿تعجب اس بات پہ ہے كہ﴾ ايك طرف سے تو وہ خود كہہ رہے ہیں ہم عالم غيب كے بارے میں كوئی خبر نہیں ركھتےجبكہ دوسری طرف سے یہ يقين كے ساتھ كہہ بھی رہے ہیں كہ عالم غيب موجود ہی نہیں ہے ۔ اس مقام پر ان سے پہلا سوال كيا جا سكتا ہے كہ جب تم خود كہہ رہے ہو كہ میں اس كے بارے جانتا ہی نہیں ہوں تو پھر كيسے كہہ رہے ہو كہ وہ موجود ہی نہیں ہے ؟ اسی لیے قرآن میں مادہ پرست اور ملحدين كے بارے میں آيا ہے كہ ” ان ھم الا يظنون ” ﴿ ۲۴ جاثیہ ﴾

مزید  امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا بیان، مقتل ابی مخنف سے

يعنی وہ گمان كے ساتھ بات كرتے ہیں ٫٫ ان ھم الا يخرصون ٬٬ ﴿ يونس ۶۶ / ﴾ وہ ايك دوسرے سے محض باتیں كرتے ہیں ۔

اديان الہی اور الہی تفكركا﴿مادی تفكر سے﴾ یہی نقطہ امتيازہے كہ وہ اشياء جنہیں وہ ديكھ رہا ہے اور لمس كر رہا ہے ان كے علاوہ بھی كوئی عالم موجود ہے۔ اب سوال یہ ہے كہ وہ عالم غيب كس طرح انسان كے لیے ثابت ہو سكتا ہے ؟جواب یہ ہے كہ صرف عقلی دليل كے ذريعہ۔ یہی وہ اصلی نكتہ ہے كہ عقل كے ذريعہ وجود خدا كو ثابت كيا جا سكتا ہے ۔ عقل پيغام خدا، درس خدا اور ہدايت خدا ہے۔ عقل ہی ہمارے لیے وحی كو ثابت كرتی ہے؛ عقل ہی قيامت كے وجود اور ان كئی اشياء كو ثابت كرتی ہے جو عالم غيب سے متعلق ہیں ۔

پس ان میں سے بعض امور كو عقل خود ثابت كرتی ہے اور بعض كو وہ اشياء جو برھان عقلی كے ذريعہ ثابت ہوتی ہیں ، ثابت كرتی ہیں ۔ يعنی جب آپ نے ثابت كر ليا كہ خدا ہے اور توحيد كو ثابت كر ليا ، مبداء كو ثابت كر ليا تو پھر نبوت كو بھی ثابت كر لیں گے ۔ اس كے بعد كہ آپ نے وجود نبی كو دليل عقلی كے ذريعہ ثابت كر ليا تو پھر وہ عالم غيب جس سے نبی خبر ديتا ہے وہ بھی ثابت ہو جاۓ گا جيسے فرشتے ، جنت و دوزخ اور وہ اشيا جن پر ہم سب ايمان ركھتے ہیں۔ ان میں سے بعض جيسے جنت و دوزخ اور قيامت كا وجود انہیں دليل عقل كے ذريعہ ثابت كيا جا سكتا ہے ليكن كئی ايسی چيزیں ہیں جن پر عقلی دليل موجود نہیں ہے انہیں حق كا نمائندہ يعنی وحی الہی كو دريافت كرنے والا نبی ہمارے لیے بيان كرتا ہے۔ اور جب وہ ہمارے لیے بيان كرتا ہے تو ہم اس پر ايمان و يقين ركھتے ہیں اور جانتے ہیں كہ وہ سچ كہتا ہے۔ اس لیے كہ اس پيغمبر كا وجود عقلی دليل سے ثابت ہو چكا ہے۔ پس تقوی كی پہلی شرط غيب پر ايمان لانا اور محدوديت سے اپنے وجود كو خارج كرنا يعنی كائنات كو اسی انسانی محسوسات كے دائرے تك محدود نہ سمجھنا ہے ۔ پس یہ غيب پر ايمان ہی مادی تفكر اور الہی تفكر كے درميان بہترين فرق ہے جس سے انسانی افكار اور انسانی اعمال پر بہت زيادہ اثرات مرتب ہوتے ہیں يعنی وہ انسان جو غيب پر ايمان ركھتا ہے وہ ايك طرح كی زندگی بسر كرتا ہے اور جو لوگ غيب پر ايمان نہیں ركھتے ان كی زندگی ايك اور نوعيت كی ہوتی ہے كيونكہ ايمان انسان كو آزاد نہیں چھوڑتا بلكہ اس كی زندگی ، اس كی فكر اوراس كے اعمال پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے جو كہ ايك مادی انسان اور مادی افكار كے حامل شخص سے سر زد نہیں ہو سكتے ۔ ہم نے ان میں سے بعض خصوصيات كا ذكر كر ديا ہے مثلا غيب پر ايمان ركھنے والا شخص با مقصد زندگی كرتا ہے جبكہ جو لوگ غيب پر ايمان نہیں ركھتے وہ زندگی میں كسی حقيقی مقصد كو قبول كرنے كے لیے تيار نہیں ہوتے ۔

مزید  ناخواندہ رسول

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.