مباھلہ دین کی حقانیت کی سند

0 2

سن ہجری کا نواں سال تھا ، مکہ معظمہ اور طائف فتح ہو چکا تھا ، یمن ،عمان اور اسکے مضافات کے علاقے بھی توحید کے زیرپرچم آچکے تھے اس بیچ حجاز اور یمن کے درمیاں واقع علاقہ نجران جہاں عیسائی مقیم تھے اور شمالی آفریقہ اور قیصر روم کی عیسائی حکومتیں ان کی پشت پناہی کررہے تھیں ان میں توحید کے پرچم تلے آنے کی سعادت حاصل کرنے کا جذبہ نظر نہیں آتا اس پر رحمۃ للعالمین ان پر مہربان ہوگے ، عیسائیوں کے بڑے پادری کے نام اپنا خط روانہ کیا جس میں عیسائیوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی گئی تھی ۔

رسول رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ کا خط ایک وفد کے ہمراہ نجران روانہ ہوا ، جب مدینہ سے آنحضرت کا نمائندہ خط لے کر نجران پہنچا اور وہاں کے بزرگ پادری ابو حارثہ کو آنحضرت کا خط تقدیم کیا ۔ ابوحارثہ نےخط کھول کر نہایت دقت کے ساتھ اس کا مطالعہ کیا اور پھر فکر کی گہرایوں میں ڈوب گیا ۔

اس دوران شرحبیل جسکا درایت اور مہارت میں شہرہ شہر تھا اسکو بلاوا بھیجا اس کے علاوہ علاقے کے دیگر معتبر اور ماہر اشخاص کو بھی حاضر ہونے کو کہا گیا ، سبھی نے اس موضوع پر بحث و گفتگو کی ، اور اس مشاورتی مجلس کا نتیجہ بحث یہ نکلا کہ ساٹھ افراد پر مشتمل ایک وفد حقیقت کو سمجھنے اور جاننے کے لئے مدینہ روانہ کیا جائے۔

نجران کا یہ قافلہ بڑی شان و شوکت اور فاخرانہ لباس پہنے مدینہ منورہ میں داخل ہوا ، میر کارواں نے مرسل اعظم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کا پتہ پوچھا تو اسے مسجد کا پتہ بتا دیا گیا ۔

کارواں مسجد میں داخل ہوا اور سبھی کی نظر یں ان پر ٹک گئیں ، پیغمبراسلام نے نجران سے آئے افراد کے بنسبت بے رخی ظاہر کی جو کہ ہر ایک کیلئے سوال بر انگیز ثابت ہوئی اور ظاہر سی بات ہے اھل کاروان کوبھی ناگوار گذرا کہ پہلے دعوت دی اوراب بے رخی دکھا رہیں ہیں ! آخر کیوں ۔

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی علی ہی نے اس گتھی کو سلجھایا ، عیسائیوں سے کہا آپ تجملات اور سونے کے جواہرات کے بغیر، معمولی لباس زیب تن کرکے ائیں اور آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوں یقینا آپکا استقبال ہوگا ۔

مزید  حضرت معصومہ(س) آئمہ معصومين(ع) کي نظر ميں

اب کارواں معمولی لباس پہنے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور انہیں اپنے پاس بٹھایا ، میر کارواں ابوحارثہ نے گفتگو شروع کی کہ آپ کا خط پاتے ہی ھم سبھی مشتاقانہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ سے گفتگو کریں ۔

اپ نے فرمایا : جی ہاں وہ خط میں نے ہی بھیجا تھا اور اس سے پہلے دوسرے ممالک کے حکام کے نام بھی خط ارسال کرچکا ہوں اور سبھی سے ایک بات کے سوا کچھ نہیں مانگا وہ یہ کہ شرک اور الحاد کو چھوڑ کر خدای واحد کے فرمان کو قبول کرکے محبت اور توحید کے دین ، اسلام کو قبول کریں ۔

انہوں نے جواب میں کہا : اگر آپ اسلام قبول کرنے کو ایک خدا پر ایمان لانے کو کہتے ہو تو ہم پہلے سے ہی خدا پر ایمان رکھتے ہیں ۔

حضرت نے فرمایا : اگر تم حقیقت میں خدا پر ایمان رکھتے ہو تو عیسی کو کیوں خدا مانتے ہو اور سور کے گوشت کھانے سے کیوں اجتناب نہیں کرتے ۔

انہوں نے جواب میں کہا : اس بارے میں ہمارے پاس بہت ساری دلائل ہیں ، عیسی مردوں کو زندہ کرتے تھے اندھوں کو بینائی عطا کرتے تھے پیسان میں مبتلا بیماروں کو شفا بخشتے تھے ۔

اپ نے فرمایا : تم لوگوں نے عیسی علیہ السلام کے جن معجرات کو گنا وہ صحیح ہیں لیکن یہ سب خدای واحد نے انہیں ان اعزازات سے نوازا تھا اس لئے عیسی کی عبادت کرنے کے بجائے اسکے خدا کی عبادت کرنی چاہئے ۔

پادری یہ جواب سن کے خاموش ہوا۔ اور اس دوراں کارواں میں شریک کسی اور نے ظاہرا شرحبیل نے اس خاموشی کو توڑا :عیسی، خدا کے بیٹے ہیں کیونکہ انکی والدہ مریم نے انہیں کسی سے نکاح کئے بغیر انہیں جنم دیا ہے ۔

اس دوران اللہ نے اپنے حبیب کو وحی فرما ئی : عیسی کی مثال آدم کے مانند ہے کہ اسے (ماں ، باپ کے بغیر) خاک سے پیدا کیا گیا ( إِنَّ مَثَلَ عِیسَى عِندَ اللّهِ کَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثِمَّ قَالَ لَهُ کُن فَیَکُونُ ) {آل عمران /59}

مزید  حاجت برآري کے لئے 40 بار جمکران ميں حاضري!

اس پر اچانک خاموشی چھا گئ اور سبھی بڑے پادری کو تک رہ گئے اور وہ خود شرحبیل کے کچھ کہنے کے انتظار میں تھا تاھم خود شرحبیل خاموشی سے سرجھکائے بیٹھا تھا ۔

آخر کار اس رسوائی سے اپنے آپ کو بچانے کیلئے بہانہ بازی پر اتر آئے اور کہنے لگے ان باتوں سے ہم مطمئن نہیں ہوئےہیں اس لئے ضروری ہے کہ سچ کو ثابت کرنے کے لئے مباھلہ کیا جائے ، خدا کی بارگاہ میں دست بہ دعا ہوں اور جھوٹے پر عذاب کی درخواست کریں ۔

ان کا خیال تھا کہ ان باتوں سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ اتفاق نہیں کریں گے لیکن ان کے ہوش آڑ گئے جب انہوں نے سنا:   اے عیسائیو! اپنے بیٹوں ، خواتین اور اپنے نفوس کو لے کر آو اور مباھلہ کرلو؛ اور جھوٹے پر الہی لعنت طلب کریں ۔ فَمَنْ حَآجَّکَ فِیهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءکَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءکُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءکُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَةُ اللّهِ عَلَى الْکَاذِبِینَ {آل عمران/61}

اس نشست میں طے یہ ہوا کہ کل سورج طلوع ہونے کے بعد شہر سے باہر (مدینہ کے مشرق میں واقع) صحرا میں ملتے ہیں ، یہ خبر سارے شہر میں پھیل گئ ، لوگ مباھلہ شروع ہونے سے پہلے ہی معینہ جگہ پر پہنچ گئے ، نجران کے نمائندے آپس میں کہنے لگے : اگر آج محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ) اپنے سرداروں اور سپاہیوں کے ساتھ میدان میں حاضر ہوتے ہیں ، تو معلوم ہوگا کہ وہ حق پر نہیں ہے اور اگر وہ اپنے عزیزوں کو لے آتے ہیں تواپنے دعوے میں سچے ہیں ۔

سب کی نظریں شہر کے دروازے پر ٹکی تھیں دور سے مبہم سایہ نظر آنے لگا جس سے ناظرین کی حیرت میں اضافہ ہوا ، اور کچھ دیردیکھتے ہی رہے انہیں اسکا تصور بھی نہیں تھا کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ اپنی آغوش مبارک میں حسین علیہ السلام کو اور دوسرے ہاتھ سے حسن علیہ السلام کی انگلیاں پکڑے ، آنحضرت کے پیچھے سیدۃ النساء العالمین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور سب سے پیچھے آپ کے چچا زاد بھائی ، اور داماد علی ابن ابیطالب علیہ السلام ائیں گے ۔

مزید  مزدور اور مولوی صاحب

صحرا میں ہمھمے اور ولولے کی صدائیں بلند ہونے لگیں ، کوئی کہہ رہا ہے دیکھو ، پیغمبر اپنے سب سے عزیزوں کو لے کرآئے ہیں تو دوسرا کہہ رہا تھا انہیں اپنے دعوے پر اتنا یقین ہے کہ انھیں ساتھ لائے ہیں، اس بیچ بزرگ پادری نے کہا : افسوس اگر انھوں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھایا تو ہم اسی لمحے اس صحرا میں قہر الہی میں گرفتار ہو جائیں گے اور دوسرے نے کہا تو پھراس کا سد باب کیا ہے ؟ جواب ملا ان کے ساتھ صلح کرلیں اورجزیہ کا وعدہ کریں تاکہ وہ ہم سے راضی رہیں اورپھر انہوں نے ایسا ہی کیا اس طرح حق کی باطل پر فتح ہوئی ۔

مباھلہ پیغمبر کی حقانیت اور امامت کی تصدیق کا نام ہے ، مباھلہ اھل بیت پیغمبر کا اسلام پر آنے والے ہر آنچ پر قربان ہونے کیلئے الہی منشور کا نام ہے ، تاریخ میں ہم اس مباھلے کی تفسیر کبھی امام علی کی شہادت ، کبھی امام حسن علی شہادت کبھی امام حسین کی شہادت کبھی امام علی زید العابدین کی شہادت ، کبھی امام محمد باقر کی شہادت ، کبھی امام جعفر صادق کی شہادت ، کبھی امام موسی کاظم کی شہادت ، کبھی امام علی رضا کی شہادت ، کبھی امام محمد تقی کی شہادت ، کبھی امام علی النقی کی شہادت ، کبھی امام حسن عسکری کی شہادت اور کبھی امام مھدی کی غیبت سے ملاحظہ کرتے ہیں کہ اس دن سے لے کراسلام کی بقا کیلئے یہی مباھلہ کےلوگ ، اسلام کی بقا کیلئے قربان ہونے کیلئے سامنے آتےنظر آتے رہے ہیں اور اسلام دشمن قوتوں کی ہر سازش کو ناکام بنادیتے ہیں ۔

ھم اللہ کی بارگاہ میں دست بہ دعا ہیں کہ ہمیں مباھلہ میں فتح پانے والے اسلام پر عمل کرنے اور پیغمبر کی تعلیمات کو عام کرنے والے ائمہ معصومین علیہم السلام کے نش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.