ماہ مبارک وحدت واخوت کا جلوہ

0 4

اس مبارک مہینے کوشہراللہ الاعظم کہا ہے ۔

سال کے تمام مہینوں میں ماہ مبارک رمضان سب سے ممتازمقام رکھتا ہے اسی لئے خداوند عالم نے اسے خود  سے مخصوص کیا ہے  اوراس مبارک مہینے کوشہراللہ الاعظم کہا ہے ۔ اس مبارک وبے نظيرمیہنے کی راتوں اوردنوں میں شب قدرکوتمام دنوں سے برتربنایا ہے اورپرودگارعالم نے اس شب میں نزول قرآن کی وجہ سے اس رات کوہزارمہینوں سے افضل قراردیا ہے ۔شب قدرمیں لوگوں کی عبادتوں کوافضل عبادات میں قراردیا گیا ہے اوراس رات میں بندوں کی تقدیربھی لکھی جاتی ہے اسی لئے اس رات میں لوگوں کوخداکے حضوررازونیازکی دعوت دی گئی ہے ۔ساتھ ہی اس بات پرکافی تاکید کی گئی ہے کہ بندوں کوچاہئے کہ وہ اس مبارک رات میں خداکی قدرت اوراس کی کائنات اورامورپرغوروفکرکریں ۔عقل سے استفادے اورتفکروتدبرکی اسلامی تعلیمات میں کافی تاکید ہے اوراس کواتنا مقام ومرتبہ حاصل ہے کہ تفکروتعقل اورتحقیق کے  بغیردین پرآنکھ بند کرکےیقین کرلینے کومنع کیا گیا ہے اسلام ایسی دینداری کوہرگزقبول نہيں کرتا جسےسطحی تفکرکے ساتھ قبول کیا گیا ہو۔اس ماہ مبارک میں اپنے اعمال اورنفس کے محاسبہ پربھی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ۔ پورے ایک سال کے دوران ہمارے بے لگام نفس نے جہاں چاہا خودکوآزاد سمجھا اورجیسا چاہا اپنی من مانی کی اب ماہ مبارک رمضان میں محاسبہ نفس کے وقت قیامت کا جلوہ پیش ہوتا ہے اوربندہ اپنے اعمال کے ترازوکے پاس بیٹھ کراس کا حساب کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس ماہ مغفرت میں اموراورمعاملات کا محاسبہ قبل اس کے کہ خداہمارامحاسبہ کرے خاص اہمیت کا حامل ہے ۔مختلف شعبوں میں اپنے نفس کا محاسبہ ماہ مبارک رمضان کے بابرکت اثرات میں سے ایک ہے ۔ اس کےساتھ اگرفکری محاسبہ بھی اس مہینے میں صحیح طریقے سے انجام پاجائے اوریہ عمل آزادنہ سوچ پرمنتج ہوتواس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دلوں سے بغض وکینہ ختم ہوجاتا ہے  افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہمارے دورمیں ایسے لوگ ہيں جوعملی میدان میں نہ صرف یہ اپنے نفس کے محاسبے کے قائل نہيں ہيں بلکہ وہ کسی بھی طرح کے محاسبے کوکوئی اہمیت نہيں دیتے یہ وہ لوگ ہیں جوانانیت اورتکبرکے تنگ دائرے میں محصورہيں اورایسے لوگ خود کودوسروں کی نگاہ سے دیکھنے بجائے خود کودوسروں کاآئینہ سمجھتے ہیں ایسی صورت حال میں ان کے سامنے عقل وخرد اورعلمی و معنوی دریچے بند ہوجاتے ہيں ۔اورپھر حقیقی مفہوم کی ترقی وکمال کاراستہ بھی ان کے سامنے مسدودہوجاتا ہے آج کی دنیا میں طاقت کے نشے میں چورجوحکومتیں اورحکمراں دوسروں کی باتوں کا احترام نہيں کرتے اوریکطرفہ ومن مانی پالیسیوں کی ہی بنیاد پرفیصلے کرتے ہيں وہ صرف طاقت کوہی ہرمسئلہ کا حل سمجھتے ہيں اورپھر اسی غلط فکرکے نتیجے میں وہ خود بھی بڑے سے بڑے مسائل میں پھنس جاتے ہيں جس کی تازہ مثال آج عراق اورافغانستان ہے جہاں طاقت کےنشے میں چورہوکران ملکوں پرچڑھائی کی گئی اورطاقت کوہی مسائل کا حل سمجھ کران پرحملہ کیا مگرآٹھ نوسال کا عرصہ گذرجانے کے بعد بھی انانیت اورتکبرکے تنگ دائرے سے  ان حکمرانوں کوکو ئی بھی راہ مفرنظرنہيں آرہی ہے ۔جبکہ تمام توحیدی ادیان اورانبیاء الہی نے بالعموم اورخاص طورپرپیغمبراسلام نے الہی احکامات کی بنیاد پریہ فرمایا کہ لوگوں کے مسائل کوصلاح ومشورے سے حل کرواجتماعی عقل وخرد کا سہارالو۔ آج ہمارے اسلامی معاشرے میں بھی بعض جگہوں پریہ مرض سرایت کرتا جارہا ہے کہ عالم اسلام کے مسائل کے حل کے لئے بعض حکمراں یاتوقدم آگے نہيں بڑھاتے یا پھر استکباری طاقتوں سے اپنی دوستی کے نشے میں چوررہتے ہوئے وہ کسی سے صلاح ومشورے کے بغیرہی فلسطین وبیت المقدس جیسے اہم مسائل پرخودسرانہ فیصلے اورفارمولے پیش کردیتے ہيں جن کا سارافائدہ نتیجے میں اسرائیل اوراسلام دشمن طاقتوں کوہی پہنچتا ہے ۔اسی وجہ سے پیغمبراسلام نے فرمایا ہے کہ میں اپنی امت کی غربت وتنگدستی کی بابت فکرمند نہیں ہوں بلکہ مجھے   تشویش اس بات کی ہے کہ میری امت بے تدبیری کا شکارنہ ہوجائے ۔رسول اکرم مسلمانوں کواس بات کی نصیحت کرتے ہيں کہ وہ مسائل کے حل کے سلسلے میں ایک دوسرے سے صلاح ومشورے کریں اوراجتماعی عقل وتدبرسے کام لیں یہ وہ نصیحت ہے جوآج کے دورمیں مسلمانوں کولاحق پریشانیوں اورمسائل کے حل کےلئے سب سے زیادہ مددگارہے بنابریں بہترہوگا کہ ماہ رمضان کی معنوی فضا میں اسلامی معاشروں کی مختلف ثقافتی وعلمی صلاحیتوں کواجاگرکیا جائے اوراپنے مسائل کوحل کرنے کے لئے متحد ہوکرکام کیا جائے تاکہ فلسطین اوربیت المقدس کی آزادی کے لئے مضبوط اندازمیں آوازبلند کی جائے . ماہ مبارک تمام مسلمانوں کے لئے یہ بہترین موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اس بابرکت  مہینےمیں اپنے اندراتحاد اخوت اوربھائی چارہ کومضبوط بنائيں اوراس میں بھی شک نہيں کہ عالم اسلام کے مسائل پرغوروفکرکرنے کے لئے اس مہینے سے زیادہ مناسب موقع اورکوئی بھی نہيں ہے شاید اسی لئے اسلامی انقلاب کے  بانی امام خمینی رہ نے جمعۃ الوداع کوعالمی یوم قدس کا اعلان کرکے فلسطین اوربیت المقدس کے تعلق سے مسلمانوں کے اندراس ماہ مبارک میں  بیداری پیدا کرنے کابیڑہ اٹھایا اورآج ان کی یہ عظیم یادگاردنیا کے گوشہ وکنارمیں مسلمانوں کےاندربیداری اورہوشیاری کا باعث بنی ہوئی ہے بہرحال ماہ مبارک  رمضان کی بے شماربرکتوں اورفضيلتوں سے تمام مسلمانوں کواستفادہ کرنا چاہئے جن کے ثمرات  زندگی کے تمام شعبوں میں دیکھے جاسکتے ہيں ۔

مزید  چند روزہ زندگی اور انسان کے اچھے اور برے اعمال کی بقا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.