ماہ رجب میں روزے کی اھمیت

0 0

 ‘‘ماہ رجب’’ اللہ کا وہ عظیم مہینہ ہے، جس کی نسبت خود اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف دی ہے، اس لیے کوئی دوسرا مہینہ فضیلت و برتری میں اس کی برابری نہیں کر سکتا، قبل از اسلام بھی ماہِ رجب کی حرمت عربوں کے نزدیک مسلّم رہی ہے، اور دورِ جاہلیت میں بھی اس مہینے کو حرام مہینوں میں شمار کیا جاتا تھا اور عرب ہر صورت میں اِس مہینے کی حرمت کی رعایت کرتے ہوئے، جنگ و جدال اور خونریزی سے اجتناب کرتے تھے، لیکن اُن کے اس احترام کی وجہ کیا تھی؟ سرزمین عرب میں نور محمدی  طلوع کرنے کے بعد، آنحضرتؐ کے گہربار کلمات نے اِس عظیم الہٰی راز سے کسی قدر پردہ اٹھایا ہے۔  ١

 پیغمبر اکرم سے منقول ہے کہ ‘‘ماہِ رجب خدا کا مہینہ ہے، شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان المبارک میری اُمت کا مہینہ ہے، جو شخص ماہِ رجب کے ایک دن کا روزہ رکھے گا،خدا وند اُس سے خوشنود ہو گا اور اپنا غیظ و غضب اُس سے دور فرمائے گا، نیز جہنم کا ایک دروازہ اُس پر سے بند ہو جائے گا۔’’ ٢

 لیکن ایک دوسری روایت میں حضرت امیر المومنین علی فرماتے ہیں: ‘‘ماہِ رمضان المبارک اللہ کا، شعبان رسول خدا  کا اور رجب میرا مہینہ ہے۔’’  ٣

اس ماہ میں روزے کی بہت زیادہ فضیلت کے بارے میں بہ کثرت روایات وارد ہوئی ہیں:

 امام موسیٰ ابن جعفر سے باسندِ معتبر نقل ہوا ہے کہ ‘‘جو کوئی ماہِ رجب کے ایک دن کا روزہ رکھے، جہنم کی آگ ایک سال کی مسافت تک اُس سے دور ہو جاتی ہے، اور جو شخص تین دن روزہ رکھے، تو بہشت اُس پر واجب ہو جاتی ہے۔’’ ٤

مزید  سفير حسيني ( حصہ چہارم )

  امام محمد باقر   فرماتے ہیں: ‘‘جو شخص ماہِ رجب کے اول، وسط اور آخر سے ایک روزہ رکھے گا، خداوند متعال اُس کے لیے بہشت واجب کر دے گا اور روزِ قیامت اُسے ہمارے درجے میں ہمارے ساتھ قرار دے گا۔’’ ٥

 سماع  امام جعفر صادق سے روایت نقل کرتا ہے کہ پیغمبر اکرم نے فرمایا: ‘‘جو شخص ماہِ رجب کے تین دن روزہ رکھے، تو خداوند ہر دن کے عوض اُس کے لیے ایک سال کے روزے لکھ دیتا ہے اور جو اس ماہ میں سات دن روزہ رکھے تو اُس پر جہنم کے دروازے بند کر دیئے جائیں گے اور جو آٹھ دن روزہ رکھے اُس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے اور جو پندرہ دن روزے رکھے خداوند متعال اس کے حساب میں نرمی فرمائے گا اور جو پورے ماہِ رجب میں روزے سے رہے، خداوند اس کے لیے اپنی رضوان و خوشنودی فرض کر دیتا ہے اور جس کے لیے خداوند اپنی رضوان فرض کردے، اُسے ہرگز عذاب نہیں کرے گا۔’’ ٦

 ایک طولانی روایت ابن بابویہ قمی  نے معتبر سند کے ساتھ ‘‘علی بن سالم’’ سے اور اُس نے اپنے باپ سے نقل کی ہے کہ ابھی چند روز ماہِ رجب کے آخر سے باقی تھے، میں امام جعفر صادق  کی خدمت میں پہنچا،جب امام  کی نظرِ مبارک مجھ پر پڑی، تو آپ  نے فرمایا: ‘‘کیا تم نے اس ماہ میں روزہ رکھا ہے؟’’ میں نے عرض کی: نہیں! اے فرزندِ رسول خدا ۔  امام صادق نے فرمایا: ‘‘تجھ سے اس قدر ثواب چھوٹ گیا ہے کہ جس کی قدر و قیمت سوائے خدا وند عالم کے کوئی نہیں جانتا، بے شک یہ ماہِ رجب، وہ مہینہ ہے کہ جس کو خدا وند نے دوسرے تمام مہینوں پر فضیلت دی ہے اور اس کی حرمت کو بزرگ شمار کیا ہے اور اس ماہ میں روزہ رکھنے والے کا احترام و اکرام اپنے اُوپر واجب قرار دیا ہے۔’’

مزید  کربلا حيات بخش کيوں

                راوی کہتا ہے میں نے عرض کیا: اے فرزندِ رسول خدا ؐ! اگر میں اس ماہ کے باقی ماندہ دنوں میں روزہ رکھوں تو کیا میں اس ماہ میں روزہ رکھنے والوں کے کچھ ثواب کو حاصل کر سکتا ہوں؟ امام ؑ نے فرمایا: ‘‘اے سالم! جو شخص ماہِ رجب کے آخر میں ایک دن بھی روزہ رکھے گا ، خدا وند اُس کو عالمِ نزاع کی سختی، موت کے بعد کے خوف اور قبر کے عذاب سے محفوظ رکھے گا، اور جو شخص اس مہینہ کے آخر میں دو دن روزہ رکھے گا، تو وہ پلِ صراط سے باآسانی گزر جائے گا اور جو شخص اس مہینہ کے آخر میں تین دن روزہ رکھے گا، تو وہ روزِ قیامت کے وحشتناک خوف، اُس دن کی سختی اور عذاب سے محفوظ رہے گا اور اُسے جہنم کی آگ سے برائت کا پروانہ عطا کیا جائے گا۔’’ ٧

  کتاب ‘‘ تحفۃ الاخوان’’  میں ‘‘ثوبان’’ سے روایت نقل ہوئی ہے کہ ‘‘ہم      رسول اللہ کے ساتھ جارہے تھے کہ ہمارا گزر ایک ایسے قبرستان سے ہوا، جہاں مُردوں پر عذاب ہو رہا تھا، پس آنحضرت ٹھہر گئے اور گریہ فرمانے کے بعد اُن کے حق میں دعا کی: ‘‘خدا وندا! ان سے عذاب کو دور فرما دے۔’’  پھر آپ نے فرمایا: ‘‘اگر یہ لوگ ماہِ رجب کے ایک دن کا روزہ رکھ لیتے، تو عذابِ قبر اِن پر سے اُٹھا لیا جاتا۔’’  ٨

١۔ فضائل الاشھر الثلاثہ، شیخ صدوق  ، ص٣٤

٢۔ ایضاً

مزید  امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا بیان، مقتل ابی مخنف سے

٣۔  المقنعہ، شیخ مفید، ص ٣٧٣

٤۔ بحار الانوار، علامہ مجلسی ، ج٩٧، ص٣٧، ح٢٠

٥۔ وسائل الشیعہ، شیخ حر عاملی ، ج١٠، ص٤٧٣

٦۔ مصباح المتہجد، شیخ طوسی ، ص٧٩٧

٧۔  وسائل الشیعہ، شیخ حر عاملی ، ج١٠، ص٤٧٥

٨۔ شرح زیارتِ رجبیہ، شیخ محمد باقر بیرجندی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.