ماں کا مقام قرآن کی روشنی میں

0 0

قرآن کریم والدین کے ساتھ احسان ونیکی اور ان کے حقوق کی رعایت پہ تاکید کرتے ہوئے دو مستقل آیتوں میں ماں کے مقام اور حمل کے دوران اس کی غیر عادی زحمات کی طرف اشارہ کررہا ہے اور حمل کے زمانے کو بہت سخت زمانے کے نام سے یاد کرتا ہے۔

” ووَصّینا الانسانَ بوالدیہِ ، حملتہُ امّہ وھنا علی وھن وفصالہ فی عامین ان اشکُر لی وَلوالدیک الیّ المصیر”[1]

ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق  نصیحت کی ہے کہ اس کی ماں مصائب برداشت کرتے ہوئے اس حمل میں رکھا اور اس کے دودھ پینے کی مدت دو برس ہے کہ اے انسان تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر(اور تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔

ایک اور مقام پہ قرآن فرماتا ہے :

ووَصّینا الانسان بوالدیہِ احساناً حملتہُ امّہ کُرھاً ووَضعتہُ کُرھا”[2]

ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے ،اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے پیدا کیا۔

ماں ایک ایسی ہستی کا نام ہے جو اپنے بچے کی خاطر تمام تکالیف برداشت کرلیتی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے بچے سے محبت کرتی ہے اگر اس کے دل میں محبت نہ ہوتی تو وہ ہر گز سختیاں برداشت کرنے کے لئے تیار نہ ہوتی لہذا ماں کا مقام بہت بلند ہے جسے صرف قرآن ہی میں نہیں بلکہ روایات میں تلاش کیاجاسکتا ہے ماں کے حق کے متعلق  روایات میں بھی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے، امام صادق علہ السلام نے منقولہ ایک حدیث میں ہم پڑھتے ہیں کہ ایک انسان پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیااور کہنے لگایارسول اللہ ! میں کس کے ساتھ نیکی کروں ؟اپنی ماں کے ساتھ،اس نے عرض کیا اس کے بعد،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، اپنی ماں کے ساتھ،تیسری بار پھر اس نے عرض کیا اس کے بعد؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا اپنی ماں کے ساتھ نیکی کرولیکن چوتھی بار اس نے عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اپنے باپ کے ساتھ ۔[3]

مزید  ابدی خو شبختی یا بد بختی میں ایمان کا دخل

احکام دینی میں تھوڑی سی دقت سے واضح ہوجاتا ہے کہ ماں کے حقوق کی رعایت اس کا احترام اور اس کی منزلت بہت زیادہ ہے کیونکہ بچے سے متعلق اس کی ذمہ داریاں باپ سے زیادہ ہیں لہذا اس سے متعلق زیادہ تاکید کی گئی ہے۔

امام سجاد علیہ السلام اپنے رسالہ حقوق میں ماں کے حق کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ماں کا ادا کرنا انسان  کے لئے ناممکن ہے لیکن اگر خدا وندمتعال کی توفیقات اس کے شامل حال ہوجائیں تو تب انسان ماں کے حق کو ادا کر نے پہ قادر ہوپائے گا کیونکہ ماں نے حمل کے دوراں جو سختیاں اور مشکلات برداشت کی ہیں اس کے علاوہ بچے کی پیدائش کے بعد جو زحمات اور فداکاریاں انجام دیتی ہے ان کی تلافی نہیں کی جاسکتی۔

منبع:درسنامہ خانوادہ در اسلام

[1] لقمان،۱۴

[2] احقاف،۱۵

[3] اصول کافی، ج۲،ص۱۵۹

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.