كتاب:اسرار غدیر

0 0

موٴلف محمد باقر انصاری

 مقدمہ ناشر

غدیر حضر ت امیر المو منین (ع) کی سب سے بڑی فضیلت

۔۔۔فقال الرجل لاٴمیرالمومنین (ع) : فاٴخبرنی باٴفضل منقبةلکَ من رسول اللہ (ص)۔فقال:

”ایک شخص نے حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: آپ(ع) کےلئے پیغمبر اکرم کی طرف سے عطا کی گئی سب سے بڑی فضیلت کیا ھے ؟

آ پ نے فرمایا:خداوند عالم کے حکم سے مجھ کو غدیر خم کے میدان میں ولایت کا تاج پہنانا۔ (کتاب سلیم صفحہ ۹۰۳ حدیث ۶۰)

اھداء

کیا یہ ناچیز مکتوب باعظمت خاتون کی بارگاہ میں قبول هو جا ئیگا جس کو میں نے ان کے پر برکت جوار ،ان کی عنایت کے زیر سایہ اور ان کی شفاعت کی امید میں تالیف کیا ھے ؟

کیا کر یمہ آل محمد حضرت فاطمہ معصومہ سلا م اللہ علیھا اس موٴ لف کے سر کو اپنے آستانہ پر جھکانے کو قبول کریں گی ؟

اس امید کی کرامت میں کتاب حاضر کوان کی بارگاہ میں تقدیم کر تا هوں ۔

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا نے حدیث غدیر کی سند

مندرجہ ذیل طریقہ سے نقل کی ھے

۔۔۔حضرت فاطمہ دختر امام مو سیٰ بن جعفر علیہ السلام نے فاطمہ دختر حضرت امام جعفر صادق (ع) سے انھوں نے فاطمہ دختر حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے انھوں نے فاطمہ دختر حضرت امام زین العا بدین علیہ السلام سے انھوں نے فا طمہ اور سکینہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی بیٹیوں سے انھوں نے حضرت فاطمہ زھرا علیھا السلام کی بیٹی ام کلثوم سے نقل کیا ھے کہ ان کی مادر گرامی حضرت فاطمہ زھراء دختر رسول اکرم(ص) سے مروی ھے کہ :اَنَسِیْتُمْ قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ یَوْمَ غَدِیْرِخُمٍّ : ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ“؟!

”کیا تم نے غدیر خم میں رسول اسلام(ص) کے اس فرمان کو بھلا دیا ھے: جس کا میں مولا اور صاحب اختیار هوں یہ علی علیہ السلام اس کے مو لا اور صاحب اختیار ھیں “؟![1]

__________________

[1]۔عوالم العلوم جلد ۱۱ صفحہ ۵۹۵،اسنی المطالب جزری صفحہ۵۰ ۔      

مقد مہ

غدیر ھمارا پاک و پا کیزہ عقیدہ

”غدیر “یہ مقدس اورپاک و پا کیزہ نام ھما رے عقیدہ کا عنوان اورھما رے دین کی بنیاد ھے

غدیر خلقت کا ما حصل ،تمام ادیان الٰھی کا نچوڑ اور مکتب وحی کا خلا صہ ھے ۔

غدیر ھمارا عقیدہ ھے صرف ایک تا ریخی واقعہ نھیں ھے ۔

غدیر،نبوت کا ثمر اور رسالت کا میوہ ھے ۔

غدیر،قیامت تک مسلمانوں کے گامزن رہنے کے لئے راستے کو معین کر نے کا نام ھے ۔

غدیر ،کوئی بھلادینے والی یا پرا نی هو نے والی چیز نھیں ھے ۔

غدیر ،وہ پانی ھے جس سے گلستان توحید کے تمام درختوںاورغنچوں کواپنے رشد و نمو کےلئے سیراب هونے کی ضرورت ھے ۔

غدیرپل صراط ھے اورغدیر پر ایمان رکھ کر ھی اس صراط سے گذرا جا سکتا ھے ورنہ اس شمشیر کی ایسی تیز دھار ھے جس سے ھر منافق اور ملحد دو ٹکڑے هو جا ئے گا ۔

غدیر ،اسلام کی تاریخ کا سب سے حساس موڑھے جس نے ابتداء ھی میںدین خدا کو دشمنوں کی طرف تمام اندرونی اور بیرونی یقینی خطرات سے فکری اور معنوی اعتبار سے نجات دی ۔

غدیر، اسلام کے ماضی کا محا فظ اور مستقبل کا ضامن ھے ،جس کا منصوبہ بنانے والا خداوند عالم، اعلان کر نے والے رسول خدا (ص) اورجامہٴ عمل بنانے والے بارہ امام علیھم السلام ھیں ۔

غدیر پوری انسانیت کی عید ھے ۔اس د ن انسانی تخلیق کا آخری مقصد بیان هو ااور انسانیت کا مقصد معین هوا ۔جنھوں نے اس دن کو برباد کیا انھوں نے حق انسانیت کو پا ئمال کر دیا اور ار بوں انسانوں کے حق کو نظرانداز کیا ھے ۔

غدیر ھما ری روح اور ھما ری سرشت ھے ۔ھم غدیر کے ذریعہ ھی اس دنیا میں آئے ھیں ،اور ھم اسی کے ساتھ اپنے پر وردگار سے ملاقات کریں گے ۔

غدیرفکر کا مقام ھے اس لئے کہ اس کا تعلق انسان کی حقیقت سے ھے ،اور انسان کے وجود میں مختلف جہتوں سے مو ٴثر ھے اور دنیا و آخرت میں اس کی ذمہ داریوں کو معین کر تا ھے ۔

چودہ سو سال سے شیعہ غدیر کے بابرکت نتھرے پانی کو ولایت کے درختوں کی جڑوں پر چھڑ کتے ھیں ،اور اس خشک بیابان سے ، عقائد سے ھرے بھرے پودوں اور محبت کے خوبصورت پھولوں کو پروان چڑھا تے ھیں حضرت علی علیہ السلام سے کینہ و بغض و حسد رکھنے والوں سے برائت اور ان پر لعنت کرکے ان کی بنیادوں کو اکھاڑ پھینکتے ھیں اور رسول اسلام(ص) کی عطا کی هو ئی محکم و مضبوط حجت کے ذریعہ غدیر کی سرحدوں کو مخالفین غدیر کےلئے بند کرکے ان سے ھمت دکھانے کی طاقت و قوت چھین لی ھے ۔غدیر کے شھیدوں نے چودہ سو سال کے عرصہ میں غدیر کے نام پر شھید هونے والے ،غدیرکے سب سے پھلے شھداء حضرت فا طمہ زھرا سلام اللہ علیھا اور حضرت محسن علیہ السلام کے نقش قدم پر چلنے والے اور کربلا میںاس کے با عظمت شھدا کے پیروکار ھیں ۔عاشورا مولود غدیر اور اس کا محا فظ ھے اور ٹھیک سقیفہ کے مد مقابل مو رچہ بنائے هوئے ھے ۔

غدیر میں پیغمبر اکرم(ص) کی چشم مبارک بہت دور کا نظارہ کر رھی تھیں جو کشتیٴ اسلام کا بیڑا پار لگا ئے اور اس کے آخری ھدف کو آشکار کرے ،مستقبل کا نظارہ بھی کر رھی تھیں بھیڑیا دھسان عقیدہ رکھنے والے اسلام کو اندر سے کھوکھلا کرنے کی کوشش میں لگے ھیں ۔

اسی سبب کے مد نظر پیغمبر اسلام(ص) نے حضرت علی علیہ السلام کے ھاتھ کو اپنے دست مبارک میں لیکر بلند کیا اور تاریخ کی تمام نسلوں کو دکھلایا اور ان کا اپنے جا نشین کے عنوان سے تعا رف کرایا ۔

ھمارے پاس غدیر کی میراث کے وارث ھیں اور ھمارا وجود اسی کی عظمت کامرهون منت ھے آج غدیر دشمنوں کی آنکھوں کو خیرہ کرنے والا وہ آفتاب ھے جو پوری دنیا کو ضوفشاں کررھا ھے اور اس کی طاقتور کشتی کو وسیع و عریض گیتی میں کھے رھا ھے اور چودہ سو سال سے سقیفہ کے فتنہ میں غرق هو نے والوں کو گرمی پہنچا رھا ھے اور اس کوکفر و گمراھی کے گردابوں سے بچاکر اس کی روح کو نئی زندگی عطا کررھا ھے ۔

اے صاحب غدیر

غدیر والے آپ کو اوج غدیریت سے سلام عرض کرتے ھیں ،تعظیم کرتے ھیں ،آپ کے دست مبارک، پیر اورآپ کی خاک پا کو چو متے ھیں آپ (ع) کے بلند و بالا مقام کے با لمقابل خود کو بہت چھو ٹا سمجھتے ھیں !۔۔۔اگر آپ(ع) ان کی اس خا کساری کو قبول فر ما ئیں ۔!؟

انتظار سے لبریز آنسو کے قطرہ کا ۔۔۔سلام !

اس کتاب کو تحریر کرنے کی وجہ

غدیر سر نوشت ساز واقعات کا مجموعہ ھے کہ ’خطبہٴ غدیر “ان کی سب سے آشکار اور سب سے زندہ سند ھے ۔یہ خطبہ اسلام کا بنیادی دستور اور اسلام کی ابدی عزت ھے جس کا خلاصہ جملہ ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ“”جس کا میں مو لا هوں اس کے علی مو لا ھیں“اور اس کا نتیجہ ”امیر المو منین علیہ السلام کی ولا یت “ھے ۔

غدیر کا ایک چھوٹے جملہ یا ایک تفصیلی تقریر میں خلا صہ نھیں کیا جا سکتا ھے اس خطبہ کے ذیل میںبہت سے مطالب اور واقعات ھیں جن کو واقعہٴ غدیر کے مجمو عہ کے عنوان سے یاد کیا جا سکتا ھے اور اس کی مکمل نقشہ کشی کی جا سکتی ھے ۔

غدیر خم کے خطبہ کے ذیل میں جو کچھ رونما هوااس سے اس عظیم واقعہ میں پوشیدہ حقائق کو درک کرنے یھاں تک کہ خطبہ ٴ غدیر کے بعض جملوں اور عبارتوں کو سمجھنے کے اسباب فر ا ھم کرتا ھے ۔

اگر ھم کو غدیر کے واقعات کا الگ الگ علم هوجائے لیکن ھم پر ان کا ایک دو سرے سے رابطہ واضح نہ هو تو ھم پر ایسی حقیقتیں مخفی رہ جا ئیں گی جن کا ایک مسلمان کے عقیدے سے براہ راست تعلق ھے اور ان کے مد نظر اکثر مسلمانوں کے حضرت امیرالمو منین علیہ السلام کی ولایت و امامت سے منحرف هو نے کے علل واسباب سے پردہ اٹھ جا ئےگا ۔

تا ریخ کے ان فقروں کی جمع آوری ،ان کی تنظیم اور ان کے رابطہ کو درک کرنا ایک مسلمان کو یہ سمجھا تا ھے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے ان مخصوص حالات میں (مسلمانوں کوائمہ معصومین علیھم السلام کے راستہ پر متحد رہنے کے لئے یہ مفصل خطبہ ایک بڑے شان و شوکت والے پروگرام میں ارشاد فر مایا اور قیا مت تک کےلئے اپنے جا نشینوں کاباقاعدہ تعارف کرایا ۔ان تمام باتوں کے با وجود مسلمان ایک دوسرے کیوںمتفرق ھیں اور پیغمبر اکرم(ص) کے معین و مشخص فر ما ئے هو ئے جانشینوں کے ایک دل و زبان سے پیرو کار کیوں نھیں ھیں ؟

اس مقام پر پیغمبر اکرم(ص) مسلمانوں سے سوال فر ما سکتے ھیں ۔ھر مسلمان کاضمیراپنے آپ کواس خطبہ کے بالمقابل دیکھتا ھے تو وہ واقعہٴ غدیر کا دقت سے مطالعہ کرنے پرمجبور هوجاتاھے۔

اسی سبب کے مد نظر ھم نے یہ کتاب تا لیف کی ھے اور اسی سبب نے ھمیں موضوع ”غدیر “کے تمام جزئیات کو جمع کرنے اور موجودہ کتاب کی صورت میں قا رئین کرام کی خدمت میں پیش کرنے کا شوق دلایا ھے ۔

کتاب کے اغراض و مقاصد

اب جبکہ حدیث غدیر کی سند اور متن کے سلسلہ میں علامہ مجلسی ،علا مہ میر حا مد حسین ہندی، علا مہ امینی اور دو سرے علماء اعلام کے ذریعہ علمی بحثیں با لکل مکمل اور صاف طور پر بیان هو چکی ھیں تو ان حضرات کی کا وشوں اور زحمتوں کو مد نظررکھتے هوئے خطبہٴ غدیر پر مفصل نظر ڈالنا ضروری ھے ،او ر یہ خطبہ جس کو خا تم الانبیاء نے سب سے اھم اور آخری پیغام کی شکل میں ایک دائمی منشور کے عنوان سے مسلمانوں کےلئے بیان فرمایا ھے لہٰذا اس کامخصوص حالات کے ساتھ جائزہ لینا ضروری ھے ۔

اس اھم مسئلہ کےلئے ھمیں سب سے پھلے اُس وقت کے اسلامی معا شرہ پر حاکم فضا کا مطالعہ اور واقعہ ٴ غدیر کی اھمیت کی مختلف جھات کا جا ئزہ لیناهوگا ھم نے کتاب کا پھلا حصہ اسی مطلب سے مخصوص کیا ھے ۔

اس کے بعد واقعہٴ غدیر کے رونما هو نے کے تمام جزئیات کو مد نظر رکھیںگے جن کا آغاز پیغمبر اکرم(ص) کے مدینہ سے سفر کرنے سے هو تا ھے یھاں تک کہ جو کچھ پیغمبر اکرم(ص) نے مکہ مکرمہ اور مراسم حج انجام دیتے وقت غدیر کے سلسلہ میں بیان فر مایا ھے ۔لوگوں کے غدیر میں حاضر هو نے کی دعوت ، حاجیوں کا ایک ساتھ نکلنا اور ان کا غدیر کے بیابان میں حاضر هونا ،غدیر خم کے ظاھری اور رو حی اسباب کا فرا ھم کرنا ،خطابت کا طریقہ ،خطیب ،مخا طبین اور جو کچھ اس مقدس مقام پر تین دن کے عرصہ میںوقوع پذیر هوا جس میں بیعت ،مبارک بادی ،جبرئیل کا ظاھر هونا اور معجزہ الٰھی شامل ھے یہ سب کتاب کے دوسرے حصہ میں بیان کیا گیا ھے ۔

یہ بات بھی جان لینا ضروری ھے کہ پیغمبر اکرم(ص) کے اس عظیم اقدام کے وقت منافقین اور دشمنان اسلام منصوبے بنانے اور خیانت کر نے میں مشغول تھے اور اسلام کے خلاف اپنے پروگرام تشکیل دے رھے تھے، اور آنحضرت کو قتل کرنے کا منصوبہ بنارھے تھے ۔پیغمبر اکرم(ص) ان کے ان تمام منصوبوں سے آگاہ تھے اور معاشرہ کے اجتماعی حالات کو مد نظر رکھتے هوئے ان کے تمام منصوبوںپر پانی پھیر دیتے تھے تیسرے حصہ میں اسی موضوع کو بیان کیا گیا ھے ۔

اس کے بعد چوتھے حصہ میں اس بات کی نوبت آگئی ھے کہ خطبہٴ غدیر کے مطالب کا مو ضوعی اعتبار سے مطالعہ کیا جا ئے تا کہ یہ معلوم هو سکے کہ اسلام کا یہ دائمی منشور کن پیغامات کا حامل ھے اس طرح خطبہ کے عربی متن اور اردو ترجمہ کا دقت سے مطالعہ کیا جائے گا ۔

حدیث غدیر کی سند اور متن کے علمی اور استدلالی ابحاث کے سلسلہ میںکتاب کے پانچویں حصہ میں اشارہ کیا گیا ھے

چھٹے حصہ میں خطبہٴ غدیر کے عربی متن کا نو نسخوں سے مقابلہ کرکے منظم و مرتب صورت اور اعراب گذاری کے ساتھ قارئین کرام کی خدمت میں پیش کیا گیا ھے اور حاشیہ میں نسخوں کے اختلاف اور ضروری توضیحات درج کی گئی ھیں ۔

ساتویں حصہ میں خطبہ کا مکمل اردو ترجمہ اس کے عربی متن سے مطابقت کے ساتھ نقل کیا گیا ھے

خطبہ ٴ غدیر سے نتائج اخذ کرنا اور اس کی تفسیر آٹھویں حصہ میں تحریر کی گئی ھے ۔

نویں حصہ میں ”عید اور جشن غدیر “،اھمیت غدیر ،اورعید غدیر کس طرح منائی جا ئے کے متعلق مطالب تحریر کئے گئے ھیں تا کہ ھم اسلام کے اس بزرگ شعار کو زندہ کرکے اپنے ائمہ سے تجدید بیعت کرسکیں۔

دسویں حصہ میں تاریخچہٴ غدیر اور چودہ صدیوں میں اس کے تاریخ اسلام پر هو نے والے اثرات سے متعلق بحث کی گئی ھے جو اس بات کا ثبوت ھے کہ پیغمبر اکرم(ص) کے اس حساس موڑ پر اقدامات کتنے دقیق تھے جو اتنے طولانی زمانہ تک مسلمانوں کےلئے موٴثر اور کارساز واقع هوئے ھیں ۔

اس تالیف میں انھیں اغراض و مقاصد کو مد نظر رکھا گیا ھے انشاء اللہ ان سب کو اس کتاب میں الگ الگ عنوان سے بیان کیا جائے گا ۔جو نتائج آپ حضرات کی خدمت میں پیش کئے جا ئیں گے وہ سب اھل تشیع کے بڑے بڑے علماء کی علمی کاوشوں کا نتیجہ ھیں جنھوں نے ھمارے لئے ان اسناد و مدارک کی حفاظت کی ھے اور ان کے حدیثی اور تا ریخی متون کا جائزہ لیا گیاھے ۔

اس بات کا بیان کر دینا بھی لازم و ضروری ھے کہ ھم نے جو کچھ بھی واقعہ ٴ غدیر کو بیان کرنے میں محنت و کوشش کی ھے ان میں فقط مدارک کے اسناد اور متون کی عبارتوں کے جزئیات پر بہت زیادہ غوروفکرکی ھے اور اندازہ ،خیالی اور گڑھی هو ئی داستانوں کو نقل کرنے سے گریز کیا گیا ھے ۔

کتاب کے منابع و مصادر

غدیر کے سلسلہ میں شیعہ اور سنّی منابع و مصادر کی کتابوں کی دقیق اور جا مع فھرست کتاب کے آخر میں ھر مورد کے سلسلہ میں دقیق حوالہ کے ساتھ درج کی گئی ھے ۔

علاّمہ شیخ حر عاملی ،علامہ مجلسی،علامہ بحرانی اور علامہ امینی رضوان اللہ علیھم نے چا ر کتابوں ” اثبات الھدات جلد/۲،بحارالانوار جلد /۳۷،عوالم العلوم جلد/۱۵/۳اور الغدیر جلد /۱میں غدیر سے متعلق بطور کامل اور جامع مطالب بیان کئے ھیںان بزرگوں کی زحمتوں کے مد نظر آسانی سے متعلقہ اسناد و مطالب تک رسائی کی جا سکتی ھے۔

اس کتاب کی تالیف کے بعد پچاس سے زیادہ اھم کتابوں ”جو مستقل طور پر غدیر کے سلسلہ میں تالیف کی گئی ھیں“ کا مطالعہ کیا گیا اور ان سے استفادہ کیا گیا ھے ۔

یہ کتاب پھلی مرتبہ غدیر کے چودہ سو پانچویں ۱۴۱۵ ھ مطابق ۱۳۷۴ ھ ش سالگرہ کے موقع پر اور دوسری ،تیسری اور چو تھی مرتبہ ۱۴۱۷ ھ ،۱۴۱۸ ھ ،اور ۱۴۲۰ ھ میں طبع هوئی ھے اب یہ چوتھا ایڈیشن مندرجہ ذیل نکات کے اضافہ کے ساتھ پیش کیا جا رھا ھے :

۱۔نو حصوں سے اخذ شدہ نتائج ۔

۲۔خطبہ کے متن کا دوسرے اور دو نسخوں سے مقابلہ ۔

دسویں حصہ ”غدیر قیامت تک کھلی رہنے والی فائل“کا اضافہ ۔

موجودہ کتاب اس دن کے وعدہ کی وفا کےلئے لکھی گئی ھے جس دن پیغمبر اکرم (ص) نے عھد لیاتھا اور دریائے بیکران غدیر کے سلسلہ میں دقیق تحقیق اور مطالعہ کےلئے پیش کی جا رھی ھے

اس دن کے انتظار میں جس دن ھم صاحب غدیر حضرت بقیة اللہ الاعظم ارواحنا فداہ وعجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے ظهور کے ذریعہ ”مَنْ کُنْتُ مَوْ لَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ “کو عملی طور پر محقق هو نے کا مشاھدہ کریں،ان کے وجود مبارک کے نزدیک ”اَللَّھُمَّ وَالِ مَنْ و َالَاہُ “ کے معنی کا تہہ دل سے احساس کریںاور ان کی مدد سے ”اَللَّھُمَّ انْصُرْمَنْ نَصَرَہُ“کے اوج کا اظھار کریں اور غدیر کو جس طرح غدیر خم میں بیان کیا گیا اسی طرح مانیں اس سے لذت حاصل کریں اور لطف اٹھائیں ۔

محمد باقر انصاری زنجانی خو ئینی

قم ،

 اسرار غدیر

 واقعہٴ غدیر کاپیش خیمہ

غدیر کاعمیق مطالعہ کر نے کےلئے اس عظیم واقعہ کے وقوع پذیر هونے کے وقت معا شرہ کے سماجی،اعتقادی اور اخلاقی حالات سے آگاہ هو نا ضروری ھے ،تا کہ معلوم هو کہ غدیر خم میں رسول(ص) کے سا تھ کون لو گ تھے؟ اور وہ کیسے مسلمان تھے؟ان کا عقیدہ کیسا تھا ؟اور وہ کتنے گروهوں میں تقسیم هو سکتے ھیں؟

یہ فکری آمادگی واقعہٴ غدیر کے جزئیات اور اس کی خاص کیفیت کاتجزیہ و تحلیل کر نے میں مدد گار اور نتیجہ خیز ثابت هو گی ۔

۱.ھجرت کے پھلے عشرہ میں اسلامی معا شرے کی تشکیل

دین اسلام کی تبلیغ میں پیغمبر اکرم (ص)کی رسالت[1]

دین اسلام آخری دین ھے جو گزشتہ تمام ادیان کو منسوخ کر دینے والا اور معارف الٰھی کے سب سے بلند وبالا مطالب کا حا مل ھے جو کسی زمان و مکان میں محدود نھیں ھیں ۔لہٰذا ان معارف کو پوری دنیا میں ھمیشہ کےلئے لوگوں کی فکر و روح کی تعمیر کرنے والی اور انسانیت ساز قانونی دستاویز کے طور پر هونی چا ہئے

اس عظیم رسالت کی ذمہ داری خا تم الانبیاء حضرت محمد بن عبد اللہ(ص) کے کاندھوں پرڈالی گئی ھے۔ آنحضرت (ص)اسلامی احکام و معارف لوگوں کےلئے آھستہ آھستہ بیان فر ما تے تھے اور ھر اقدام سے پھلے اس کےلئے ماحول کوسازگار بناتے تھے۔جیسے جیسے اسلام کی قدرت و طاقت اورترقی میں اضافہ هو تا جاتا تھا پیغمبر اسلام (ص)بھی سنگین تر اسلامی مطالب کو لو گو ں کے سامنے بیان فر ما تے تھے،اور یہ طریقہ آپ کی حیات طیبہ کے آخری وقت تک جاری و ساری رھا ۔

ھجر ت سے پھلے مسلمان[2]

پیغمبر اکرم(ص) کی تیرہ سال کی تبلیغ کے دوران مکہٴ معظمہ میں مسلمانوں کی تعدادبہت کم تھی اور اس کی وجہ ظا ھر ی طور پر اسلام کاکمزور هوناتھا ،لہٰذا دنیوی خواھشات کے خواھاں اسلام کی طرف بہت کم ما ئل هو تے تھے ۔

اگر چہ اس دور میں بھی کچھ منا فقین اپنا مستقبل بنا نے کی غرض سے آنحضرت (ص) کی خدمت میں حاضر رہتے تھے ، اپنے جاھلیت والے مقاصدکوحاصل کرنے اور آنحضرت (ص) کے اقدامات کو نابود کر نے کےلئے دل ھی دل میں منصوبہ بنایا کر تے تھے ،لیکن دوسرے افراد کی نیک نیتی ان کے تمام ارادوں پر پانی پھیر دیتی تھی ۔

ھجرت کے بعد مسلمان [3]

پیغمبر اکرم (ص)کی مدینہ تشریف آوری ،آپ کے استقبال اور مسلمانوں کےلئے امن و امان کی جگہ فراھم هو جا نے کے بعدروز بروز مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ هو تا گیا۔اسلام اس قدر ترقی کی راہ پر گا مزن تھا کہ گروہ گروہ اور کبھی توساراقبیلہ مسلمان هو جا تا تھا ۔مدینہ کے گرد و نواح سے بھی افراد آنحضرت(ع) کی خدمت با برکت میں حا ضر هو تے تھے اور اسلام قبول کر تے تھے ۔اس بنا پر مسلمانوں کی آبادی میں ایک بنیادی تبدیلی هو رھی تھی ،مشرکین ،یهودی اور عیسائی ایمان لا کرمسلمان معاشرہ میں داخل هو چکے تھے اور یہ معاشرہ مختلف قبائل اورمختلف گرو هوں کو اپنے اندر جگہ دے رھا تھا۔ان لوگوں میں سے بعض لوگ اپنے قبیلہ کے سرداروں کی اتباع میں ، کچھ جنگو ں میں شرکت کر کے مال غنیمت حا صل کر نے کے قصد و ارادہ سے مسلمان هوئے اور بعض دوسرے افرادعھدہ ومنصب وغیرہ حاصل کرنے کی غرض سے اسلام لا ئے ۔

جب پیغمبر اسلام(ص) کی جنگیںاوج پر پہنچیںاورمسلمانوں کی معاشرتی اور فوجی طاقت بڑھی اور مسلمان جنگوں کو فتح کر نے لگے ،تو کثرت سے لوگ اپنی جان و مال کی حفا ظت کے لئے اسلام قبول کر نے لگے اور کچھ لوگو ں نے رسوا و ذلیل نہ هونے کی خاطرخود کو اکثریت کے ساتھ ملحق کر لیا ۔

اگرچہ مخلص اور فدا کار مسلمانوں کی تعدادبھی کم نھیںتھی اور یھی وہ افراد تھے جو منافقین کے منصوبوں اور دنیا پرستوں کی خوا ھشات میں رکاوٹ ڈالتے تھے ۔

فتح مکہ کے بعد مسلمان [4]

پیغمبر اسلام (ص)کے ذریعہ مکہ فتح هو نے کے بعدیہ صورت حال نے مزیدپیچیدہ هوگئی۔یہ بڑی فتح جس میں پیغمبر اکرم(ص) اور حضرت علی علیہ السلام نے بت پرستی اور شرک کی کمر توڑ دی تھی ، پیغمبر اکرم(ص) کی طرف سے عام طور پر در گزرکر نے کے اعلان کے بعد بہت سے وہ افراد جو کل تک جنگوں میں مسلمانوں کے خلاف تلوار چلاتے تھے ،مسلمانوں کے گروہ میں داخل هو گئے اس طرح مسلمان معاشرہ نے نئی شکل اختیارکرلی ۔

حجةالوداع کے سال اسلامی معاشرہ [5]

پیغمبر اکرم(ص) کی حیات طیبہ کے آخری سال میں جھاں آپ کے ساتھ ایک طرف سلمان ابوذر اور مقداد جیسے مخلص مسلمان تھے تو دو سری طرف وہ نئے مسلمان بھی تھے جو کل تک اسلام کے خلا ف تلواراٹھایا کرتے تھے ۔اس کے علاوہ خواھشات نفسانی کے پابند هویٰ و هوس کے غلام اور دنیا کے خواھاں افراد بھی تھے جن کامقصددنیاحا صل کر نا تھا۔

کچھ افراد کی افکار پر دور جا ھلیت کے تعصبات کا غلبہ ،بدر و احد وحنین اور خیبر کے کچھ باقیماندہ عُقدے اور دنیاوی لالچ نے کچھ لوگوں کے دلوں سے ایمان راسخ کو ختم کر دیا تھااس کے علاوہ مخفی حسد جو روز بروز آشکار هو تا جا رھا تھا حجة الوداع کے وقت سب چیزیں مسلمانوں کے معا شرہ پرحکم فرما تھیں اور اس وقت کی فضا انھیں اسباب کی دین تھی۔

مسلم معا شرے میں منا فقین[6]

مسلم معاشرے کی سب سے بڑی مشکل، نفاق تھاجوان افراد کی مختل کمزوریوں سے فائدہ اٹھاکر ان کے اندر سے روح ایمان کو سلب کرکے انھیں اپنی طرف مائل کر لیتاتھا ۔ منافقین وہ لوگ تھے جو ظا ھری طور پر تو مسلمان تھے لیکن قانونی طور پر ان سے پیش آنامشکل تھا ۔

یہ گروہ بعثت کی ابتدا ھی سے مسلمانوں کے درمیان مو جودتھا اور بعض تو ابتدا ھی سے منا فقانہ نیت سے مسلمان هو ئے تھے ،لیکن ان کی تعداد بہت کم تھی ۔جیسے جیسے اسلام کی قوت بڑھتی جا رھی تھی ویسے ویسے منا فقین بھی اپنے کو منظم کر تے جا رھے تھے اور اسلام کی ظاھر ی عبا زیب تن کئے هو ئے اسلام کے نئے پودے پر کفار و مشرکین سے بھی زیادہ مھلک وار کر تے تھے ۔

پیغمبر اسلام(ص) کی حیات طیبہ کے آخر ی سالوں میں منا فقین عملی طور پر میدان میں آگئے تھے ،وہ مٹینگیں کیا کر تے تھے ،اسلام اور پیغمبر اکرم(ص) کے خلاف سا زش کر تے اور ماحول خراب کیا کر تے تھے جس کی بہترین گواہ قرآن کریم کی آیات ھیں ۔ اگر ھم قرآن کر یم کی آیات کے نا زل هو نے کی تر تیب کا جا ئزہ لیں تو منا فقین سے متعلق اکثرآیات پیغمبر اکر م(ص) کی حیات طیبہ کے آخری سالو ں میں نا زل هو ئی ھیں ۔[7]

منافقین ظا ھر ی طور پرتو مسلمان تھے لیکن با طنی طور پر کفر والحاد اور شرک کی طرف ما ئل تھے ان کے دل میں یہ آرزو تھی کہ دین اسلام کو ھر اعتبار سے نقصان پہنچا یا جا ئے اورکسی طرح اپنی پرانی حا لت پرپلٹ جا ئےں لیکن وہ یہ بھی اچھی طرح جا نتے تھے کہ ھم اس ھدف کو آسانی سے نھیں حا صل کر سکتے اور کم سے کم پیغمبر اکرم(ص) کی حیات طیبہ میں تو ایسا هو نا نا ممکن ھے ۔لہٰذا انھوں نے پیغمبر اسلام(ص) کی رحلت کے بعد اپنے ناپاک عزائم کو عملی جامہ پہنانے کا منصوبہ بنایا ۔

انھو ں نے حجةالوداع کے سال میں اپنے درمیان کئی عھد نا موں پر دستخط کئے تھے اور ان میں اسلام کے خلاف کئی دقیق اور پیچیدہ سازشیں تیارکی تھیں۔[8]

غدیر ،سازشوں کی ناکامی کی بنیاد

جو چیزاس ماحول میںمنا فقو ں کی سازشوں کو بالکل نیست و نا بود ،اسلام کواس کی اصلیت اور حقیقت کے ساتھ محفوظ رکھ سکتی تھی وہ پیغمبر اسلام (ص)کے بعد آپ کے جا نشین کااعلان تھا۔ آنحضرت (ص)نے اپنی بعثت کے آغاز سے ھی ھر منا سب مو قع پراس کا اعلان فر ما یا تھا یھاں تک کہ متعدد مر تبہ سند کے طور پرمعاشرہ کی پشت پناھی کے ساتھ بیان فرمایا ،یھاں تک کہ ایک روز امیر المو منین (ع) کو بلایا اسکے بعد اپنے خادم کو حکم فرما یا کہ قریش کے سو افراد ،دیگرعربوں سے اسّی افراد عجم سے ساٹھ افراد اور حبشہ کے چالیس افراد جمع کریں جب یہ افراد جمع هو گئے تو آپ نے ایک کاغذ لا نے کا حکم دیا ۔

اس کے بعد سب کو ایک دو سرے کے پھلو میں نماز کی طرح صف میں کھڑے هو نے کا حکم دیا اور فر مایا: ”ایھا الناس ، کیا تم اس بات کو تسلیم کر تے هو کہ خداوند عالم میرا ما لک ھے اور مجھ کو امر اور نھی کر تا ھے اور میںخدا وند عالم کے قو ل کے مقابلہ میں امر و نھی کر نے کا حق نھیں رکھتا“؟

انھو ں نے کھا :ھاں ، یا رسول اللہ ۔آپ نے فر مایا :کیا میں تمھارے نفوس پر تم سے زیا دہ حا کم نھیں هوں ، تم کو امر و نھی کرتاهوں اور تم کو میرے مقابلہ میں امر و نھی کر نے کا حق نھیں ھے ؟انھوں نے کھا : ھاں ،یا رسول اللہ ۔

فرمایا :جس شخص کا خداوند عالم اور میں صاحب اختیار هوں یہ علی بھی اس کے صاحب اختیار ھیں یہ تم کو امر و نھی کر نے کا حق رکھتے ھیں اور تمھیں ان کو امر و نھی کر نے کا حق نھیں ھے ۔خدایا علی (ع) کے دوست کو دوست رکھ اور علی (ع) کے دشمن کو دشمن قرار دے ،جو اس کی مدد کرے تو اس کی مدد کر،جو اس کو ذلیل و رسوا کر ے تو اُس کو ذلیل و رسوا کر۔ خدایا تو اس بات کا شاھد ھے کہ میں نے تبلیغ کی اور ان تک پیغام پهونچا دیا اور ان کے سلسلہ میں پریشان رھا۔

اس کے بعد اس کاغذ(جس میں یہ مطالب تحریر تھے )کو ان افراد کے سا منے تین مر تبہ پڑھنے کا حکم دیا ۔ اس کے بعد تین مر تبہ فر مایا :تم میں کون شخص اس عھد سے پھرجائے گا؟انھوں نے تین مرتبہ کھا : ھم خدا اور اس کے رسول کی پناہ چا ہتے ھیں اگر ھم اپنے عھد سے پھریں۔

اس کے بعد آنحضرت (ص) نے اس کاغذکو لپیٹا اور اس پر مجمع میں موجودسب افراد کے دستخط کرائے اور فرمایا: اے علی (ع) اس نوشتہ (تحریر ) کو اپنے پاس رکھو،اور اگر ان میں سے کسی نے عھد شکنی کی تو یہ تحریر اس کو پڑھ کر سنا ناتا کہ میں قیامت میں اس کے خلاف مبغوض رهوں ۔[9]

ان تمام اقدامات کے با وجود پیغمبر اکرم(ص) حضرت علی (ع) کو قا نونی طور پر اپناجانشین و خلیفہ معین فر ما نے کےلئے اپنی حیات طیبہ کے آخری ایا م میں زمان ،مکان اور تا ریخ کے اس عظیم جم غفیر کے منتظر تھے منافقین کو بھی اس چیز کا خطرہ تھا اور متعدد طریقو ں سے اس اعلان میں رو ڑے اٹکا رھے تھے ۔

قانونی طور پر زمان و مکان کے اعتبار سے اعلان کر نے کا سب سے بہترین مو قع ’غدیر خم“تھا جس نے منافقین کو مبهوت کر کے رکھ دیا تھا، ان کی کئی سالو ں سے چلی آرھی سازشوںکوچکنا چور کر دیااور ان کے شیطانی منصوبوں پرپانی پھیر دیا ۔[10]

حضرت فا طمہ زھراء (ص) اس سلسلہ میں فر ما تی ھیں :

”وَ اللہِ لَقَدْ عَقَدَ لَہُ یَوْ مَئِذٍ الْوِلَا ءَ لِیَقْطَعَ مِنْکُمْ بِذلِکَ الرَّجَا ءَ “[11]

”پیغمبر اکرم(ص) نے غدیر کے دن عقد ولایت کو حضرت علی (ع) کےلئے محکم و استوار فرما یا تا کہ اس طرح تمھا ری آرزوئیں اس سے منقطع هو جا ئیں “

غدیر عرصہ دراز کےلئے اتمام حجت

پیغمبر اکرم(ص) نے اس دین اسلام کے قیامت تک باقی رہنے اور پوری دنیا میںمسلمانوں کے پھیل جا نے کے بعدقیا مت تک باقی رہنے والے اپنے جانشینوں (یعنی بارہ ائمہ معصومین علیھم السلام)کا اپنے ایک خطبہ میں تعارف کرا یا ۔

اس لئے اگر اس دن اکثر مسلمانوں نے اپنے ھمدرد پیغمبرکے کلام کوتسلیم نہ کیاا ور امیر المو منین حضرت علی علیہ السلام کی بلا فصل خلافت کو قبول نھیں کیا لیکن مسلمانوں کی بعد میں آنے والی نسلوںکے اکثر افرادنے پیغمبر اکرم(ص) کے حقیقی وصی کی معرفت حا صل کرلی ۔یھی غدیر کا سب سے اھم اور بنیادی ھدف تھا ۔

اگر چہ منا فقین نے اپنے ارادوں کو عملی جا مہ پہنایا لیکن یہ غدیر کا ھی نور ھے کہ جس نے چودہ صدیا ں گذر جانے کے با وجود دنیا کی اس وسیع و عریض زمین پر تاریخ کے ھر دورمیں کروڑوں شیعوں اور اھل بیت علیھم السلام سے محبت رکھنے والوں کوباقی رکھا اور اسی طرح نور ولایت کودنیا کے مختلف مقامات پر روشن اورتابناک محفوظ رکھا ھے۔

اسی طرح اگر عر صہٴ دراز تک مسلمانو ں کے گروہ نے پیغمبر اسلام(ص) کے حقیقی جا نشینوں کے سا منے سر تسلیم خم نہ کیا اور نھیں کر تے ھیں لیکن شیعوں کی یہ بہت بڑی تعداد فقط علی بن ابی طالب (ع) اور ان کی نسل سے گیارہ فرزندوں کو پیغمبر اکرم(ص) کے جا نشین سمجھتی ھے ۔

اس مقدمہ سے یہ بات ظاھر هو تی ھے کہ خطبہٴ غدیر کچھ محدود گروہ اور خاص زمانہ کےلئے نھیںبیان کیا گیا تھا ،بلکہ پیغمبر اکرم(ص) نے خود یہ ارشاد فر مایا کہ حا ضرین غائبین کو ،شھر میں رہنے والے گاوٴں میں رہنے والوں کو اورباپ اپنی اولاد کوقیامت تک یہ خبر پہنچا تے رھیں اور سب اس پیغام کو پہنچا نے میں اپنی ذمہ داری پر عمل کریں ۔[12]

جب پیغمبر اکرم(ص) نے لوگوں پر اپنی حجت تمام کر دی ،تو اب یہ صرف لو گو ں کے اوپر ھے کہ وہ چا ھے جنت کو اختیار کر یں یا جہنم کو ،اور ان کا ولایت علی (ع) کو قبول کر نا یا قبول نہ کرنا ایک الٰھی امتحان ھے ۔

اس سلسلہ میں امام علی رضا علیہ السلام فر ما تے ھیں :

(مَثَلُ الْمُوٴمِنِیْنَ فِیْ قَبُوْلِھِمْ وِلَاءَ اَمِیْرِالْمُوٴْ مِنِیْنَ عَلَیْہِ السَّلّا مُ فِیْ یَوْمِ غَدِیْرِخُمٍّ کَمَثَلِ الْمَلَا ئِکَةِ فِیْ سُجُوْدِھِمْ لِآدَمَ،وَمَثَلُ مَنْ اَبیٰ وِلَایَةَ اَمِیْرِالْمُوٴْ مِنِیْنَ یَوْمَ الْغَدِیْرِ مَثَلُ اِبْلِیْسَ )

”غدیر خم کے دن حضرت علی (ع) کی ولایت کو قبول کر نیوالے مو منین کی مثال حضرت آدم کو سجدہ کر نےوالے ملا ئکہ جیسی ھے ،اور ولایت امیر المو منین (ع) کا انکار کرنے والوں کی مثال ابلیس جیسی ھے‘[13]

اس مختصر سی بحث سے اسلامی معا شرے پر حکم فرما فضااور وہ حالات جن میں واقعہٴ غدیررونما هوا اور وہ اھداف و مقاصدجوغدیرکے مد نظر تھے واضح هو جا تے ھیں ۔

_______________________

[1] بحا ر الانوار جلد :۱۸،۱۹،۲۰۔

[2] بحا ر الانوار جلد :۱۸ صفحہ ۱۴۸۔ ۲۴۳ ، جلد ۱۹ صفحہ ۱۔۲۷۔

[3] بحا ر الانوار جلد ۱۹ صفحہ ۱۰۴ ۔۱۳۳ ، جلد ۲۰ ،جلد ۲۱ صفحہ ۱ ۔۹۰۔

[4] بحا ر الانوار :جلد۲۱ صفحہ ۹۱۔۱۸۵۔

[5] بحا ر الانوار :جلد ۲۱ صفحہ ۱۸۵۔۳۷۸۔

[6] بحا رالانوار :جلد ۲۲۔اسی طرح منا فقین سے متعلق آیات ،قرآن کریم میں ملا حظہ فر ما ئیں ۔

[7] اس سلسلہ میں سورہ آل عمران ،نساء ،ما ئدہ، انفال ، تو بہ، عنکبوت ، احزاب ،محمد ، فتح ، مجا دلہ، حدید ، منافقین و حشر میں رجوع کریں۔

[8] منافقوں کی سازشوں کی تفصیل اس کتاب کے تیسرے حصہ میں بیان کی جا ئے گی ۔

[9] فیض الغدیر :صفحہ ۳۹۴۔

[10] اس کتاب کے دوسرے اور تیسرے حصہ میں رجوع فر ما ئیں ۔

[11] عوالم : جلد ۱۱ صفحہ ۵۹۵ حدیث ۵۸۔

[12] اس سلسلہ میں خطبہٴ غدیر کے گیا رهویں حصہ میں رجوع کیجئے ۔

[13] عوالم : جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۲۴ ۔

۲.خطبہ ٴ غدیر کی اھمیت کے پھلو

پیغمبر اسلا م(ص) کی پوری تا ریخ بعثت میں صرف ایک حکم ایسا ھے جو اتنے تفصیلی مقد مات، ایک خاص مقام اور مسلمانوں کے جم غفیر میں ایک طولانی خطبہ کے ذیل میں بیان هو ا ھے دیگر تمام احکام الٰھی مسجد النبی یا آپ کے بیت الشرف میں بیان هو تے تھے اور اس کے بعد ان کی اطلاع سب کو دیدی جا تی تھی ، اسی بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ھے کہ اسلا م کا یہ الٰھی حکم دوسرے تمام الٰھی احکام سے ممتاز اور اھم ھے ۔حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام فر ما تے ھیں :

”غدیر کے دن ولایت کے مانند کسی حکم کا اعلان نھیں هوا “

ھم ذیل میں فھر ست وار خطبہٴ غدیر کی اھمیت کے اسباب بیان کر رھے ھیں:

جغرافیائی اعتبار سے غدیرکی جگہ جحفہ میںاس مقام سے پھلے ھے جھاں سے تمام راستے الگ الگ هوتے تھے اورتمام قبائل اپنے اپنے راستہ کی طرف جانے کی وجہ سے ایک دوسرے سے جدا هوتے تھے۔اسی طرح اس گرم و ریگستانی علاقہ میں تین دن قیام کرنااور وقت کے لحاظ سے حجة الوداع کے بعد کا زمانہ اوریہ اس دن تک مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع تھا ۔

خطیب کی جگہ،مخاطبین یعنی حا جیوں کی خاص کیفیت وہ بھی اتمام حج کے بعداور واپسی کے وقت نیزمخاطبین کے سامنے پیغمبر اسلام (ص)کی وفات کے نزدیک هو نے کااعلان اس لئے کہ آنحضرت (ص)اس خطبہ کے ستّر دن بعد اس دنیا سے رحلت فر ما گئے ۔

خدا وند عالم کا یہ فرمان ”اے پیغمبر اس پیغام کو پہنچا دیجئے جو آپ پر خدا وند عالم کی طرف سے نا زل هوا ھے اگر آپ نے یہ پیغام نہ پہنچایا تو گویا رسالت کا کو ئی کام ھی انجام نھیں دیا “یعنی فرامین الٰھی میں سے کسی ایک فرمان کے لئے بھی ایسا حکم نھیں هوا ۔

پیغمبر اکرم (ص)کو خوف اورمسلمانوں کے مستقبل کی خاطر ولایت اور امامت کے حکم کو جاری کر نے کےلئے خدا کاقطعی فیصلہ ، اس حکم الٰھی کو پہنچا نے کی خصوصیات میں سے ھے کہ پیغمبر کسی بھی حکم کو پہنچا نے کےلئے اس طرح فکرمند نہ هو ئے ۔

خدا وند عالم کا دشمنوں کے شر سے پیغمبر اکرم(ص) کی حفاظت کی ذمہ داری لینا اس پیغام اور اس اعلان کی خصوصیت ھے اور احکام الٰھی میں سے کسی کے لئے بھی ایسی ضما نت نھیں دی گئی ۔

آنحضرت (ص)کا غدیر خم میں لوگوں سے اقرار لینا ۔

اس دستور الٰھی کو بیان کر نے کےلئے خاص اسباب کا اہتمام، اتنا بڑا مجمع ،بیان کر نے کا خاص انداز اور منبر صرف اسی حکم الٰھی کےلئے تھا ۔خاص طور سے پیغمبر اکرم (ص)کا لوگوں کو الوداع کہنا جبکہ بیرونی دشمنوں کی طرف سے اب اسلام کونقصان پہنچانانا ممکن هو گیا تھا۔

مسئلہٴ امامت صرف ایک پیغام اور ایک ھی خطبہ کی صورت میں نھیں پہنچایا گیا بلکہ خدا وند عالم کے حکم وفر مان اور عام مسلمانوں کی بیعت اور ان سے عھد کے ذریعہ سے عمل میںآیا ۔

وہ عظیم ا ور حساس مطالب جو ولایت کوبیان کر تے وقت خطبہ میںذکرکئے گئے ھیں۔

خطبہ سے پھلے اور بعد واقع هو نے والے خاص رسم و رسومات مانند بیعت ،عمامہٴ سحاب اور مبارکباد جو اس واقعہ کی خاص اھمیت پر دلالت کر تے ھیں ۔

خداوند عالم کا یہ خطاب ”آج میں نے تمھارا دین کا مل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر تمام کر دیں“جو اس دن تک کسی بھی مو قع پر نھیں فر مایا گیا ۔

ائمہ علیھم السلام کا پیغمبر کے خطبہ غدیر کو اپنی توجہ کا مر کز قرار دینا ،خاص طور پر حضرت امیرالمو منین اور حضرت زھرا علیھما السلام کا یہ فر مان ”پیغمبر اکرم(ص) نے غدیر میں کسی کےلئے کو ئی عذر باقی نھیں چھو ڑا “[1]نیز علماء کا ائمہ ٴ ھدیٰ علیھم السلام کی اتباع میں غدیر سے متعلق موضوعات کا تفصیل سے بیان کر نا کہ یھی ولایت و امامت کی بنیاد ھے ۔

تاریخی ،حدیثی ،کلا می اور ادبی اعتبار سے اس حدیث کی سند اور نقل کر نے کا اندازاسی طرح اس کلام کا لوگوں کے دلوں میں بیٹھ جا ناجو روایات ولایت میںممتاز اوربے مثال ھے محققین اس روایت کے تواتر کو ثابت کرچکے ھیں اور تمام مسلمان چا ھے وہ کسی بھی فرقہ اور مسلک کے هوں اس حدیث کے صحیح هو نے کااعتراف کرتے ھیں

خطبہٴ غدیر میں آنحضرت (ص)کے بلند و بالا مقاصد

۱۔ اپنی تیئس سال کی زحمتوں کانتیجہ اخذکرنے کےلئے اپنا جا نشین معین کر نا جس کے ذریعہ اس راہ کوبرقرار رکھے گا۔

۲۔اسلام کو کفار و منافقین سے ھمیشہ کےلئے محفوظ کرنے کی خاطر ایسے جا نشینوں کا معین فر مانا جو اس ذمہ داری کو نبھا سکیں ۔

۳۔ خلیفہ معین کرنے کےلئے قانونی طور پر اقدام کرنا جوھرقوم کے قوانین کے اعتبار سے ھمیشہ رائج رھاھے اور تاریخ میںبطورسندثابت ھے ۔

۴۔اپنے تیئس سالہ پروگرام میں گذشتہ اور مسلمانوں کے ماضی اورحال کا بیان کرنا۔

۵۔دنیا کے اختتام تک مسلمانوں کے مستقبل کا راستہ ھموار کر نا ۔

۶۔لوگوں پر حجت تمام کرناجو انبیاء علیھم السلام کی بعثت کاایک اصلی مقصد ھے۔

پیغمبر اکرم(ص) کے اس عملی اقدام کا نتیجہ جو اھل بیت علیھم السلام کے حق کو پہچاننے والوںاور اس کا اعتراف کر نے والوں کی کثرت، اور تاریخ میں اربوں شیعوں کا وجود خاص طور سے اس دور میں اس کی اھمیت کا بہترین گواہ ھے۔

______________________

 [1] بحا ر الانوار جلد ۲۸ صفحہ ۱۸۶۔عوالم جلد ۱۱ صفحہ ۵۹۵ حدیث ۵۹۔                                              

اسرار غدیر

 غدیر خم کے تین روز کی رسومات

غدیر خم میں رو نما هو نے والے واقعات ایک ھی مقام پر اور ایک ھی شخص سے نقل نھیںهو ئے ھیں حاضرین میں سے ھر ایک نے اس باعظمت پروگرام کے بعض پھلوؤں پر روشنی ڈالی ھے اور کچھ مطالب ائمہ معصومین علیھم السلام نے نقل کئے ھیں ۔

ھم نے اخبار و احا دیث کے مطالعہ اور جائزہ سے واقعہ غدیر کی منظر کشی کی ھے جس کو مندرجہ ذیل تین حصوں میں بیان کیا جاتا ھے :

ابتدا میںخطبہ سے پھلے کے واقعات جوخطبہ کےلئے ماحول کوسازگار بنانے کے لئے رونماهوئے ، اس کے بعد پیغمبر اسلام (ص)کے خطبہ کی کیفیت اور وہ عملی اقدامات جو آپ نے منبر پر انجام دئے ،اور تیسرے حصہ میں وہ چیزیں بیان کی جا ئینگی جو خطبہ ٴ غدیر کے بعد انجام دی گئیں۔

۱ خطبہ سے پھلے کے پروگرام

حجة الوداع کی اھمیت[1]

پیغمبر اسلام (ص)کی ھجرت اور آپ کا مکہ معظمہ سے تشریف لیجانا تاریخ اسلام کا ایک حساس موڑ شمار کیا جا تا ھے اور ھجرت کے بعد پیغمبر اسلام(ص) نے مکہ معظمہ کے تین سفر فر ما ئے ۔

پھلی مر تبہ آٹھویں ھجری میں صلح حدیبیہ کے بعدعمرہ کے عنوان سے مکہ معظمہ تشریف لے گئے اور مشرکین کے ساتھ معاھدہ کے مطابق فوراً واپس پلٹ آئے ۔

دوسری مر تبہ نویں ھجری میں فتح مکہ کے عنوان سے اس شھر میں داخل هو ئے ،اور تمام امور کی تکمیل اور کفر و شرک اور بت پرستی کا جا ئزہ لینے کے بعد آپ طائف تشریف لے گئے لوٹتے وقت مکہ تشریف لا ئے اور عمرہ بجالانے کے بعد مدینہ واپس لوٹ آئے ۔

تیسری اور آخری مرتبہ پیغمبر اسلام(ص) ھجرت کے بعد دس ھجری میں حجة الوداع کے عنوان سے مکہ تشریف لا ئے آنحضرت (ص) نے پھلی مر تبہ رسمی طور پر حج کا اعلان فر مایا تاکہ جھاں تک ممکن هوسب لوگ اپنے تئیں حا ضر هوں۔

اس سفر میں آنحضرت (ص) کے دو بنیادی مقصد اسلام کے دو اھم احکام بیان کرنا تھا جن کو آ نحضرت(ص) نے ابھی تک لوگوں کے لئے مکمل اور رسمی طور پر بیان نھیں فر مایا تھا :ایک حج اور دوسرے پیغمبر اسلام(ص) کے بعد خلافت و ولایت اور جا نشینی کا مسئلہ تھا ۔

سفر حج کا اعلان[2]

خدا وند عالم کے حکم کے بعد پیغمبر اسلام(ص) نے مدینہ اور اس کے اطراف میں منا دی دینے والوں کو روانہ فر مایا تاکہ آنحضرت (ص) کے اس سفر کی اطلاع سب تک پہنچا دیںاور یہ اعلان کردیںکہ جو چا ھے وہ آپ(ع) کے ساتھ سفر کر سکتا ھے ۔

عام اعلان کے بعد مدینہ کے اطراف سے متعدد افراد آنحضرت (ص)،مھا جرین اور انصار کے ساتھ مکہ جا نے کےلئے شھر مدینہ آئے ۔مدینہ سے مکہ کے درمیان راستہ میں مختلف قبیلوں کے متعدد افراد آ نحضرت(ص) کے ساتھ شامل هوتے گئے دور دراز علاقوں میں بھی اس اھم خبر کے پہنچتے ھی مکہ کے اطراف اور یمن وغیرہ شھر وںکے متعدد افراد نے بھی مکہ کےلئے رخت سفر باندھا تاکہ حج کے جز ئی احکام ذاتی طور پر خود پیغمبر اکر م(ص) سے سیکھیں اور آنحضرت (ص)کے ساتھ اس پھلے رسمی سفر حج میں شریک هوسکیں ۔مزید یہ کہ آنحضرت (ص) نے یہ اشارہ فر ما دیا تھا کہ یہ میری زندگی کا آخری سفر ھے جس کے نتیجہ میں چا روں طرف سے لوگوں کے اضافہ هو نے کابا عث بنا ۔

تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار افراد[3]حج میںشریک هو ئے جن میں سے صرف ستّرہزار افراد مدینہ سے آنحضرت(ع) کے ساتھ آئے تھے یوں لبیک کہنے والوں کا سلسلہ مکہ سے مدینہ تک جڑاهوا تھا ۔

مدینہ سے مکہ تک سفر کا راستہ

آنحضرت (ص) نے ھفتہ کے دن ۲۵ ذیقعدہ کو غسل انجام دیااور احرام کے دو لباس اپنے ھمراہ لیکر مدینہ سے با ھر تشریف لا ئے ، آپ(ع) کے اھل بیت جن میں حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا اما م حسن علیہ السلام ،امام حسین علیہ السلام شامل تھے نیز آ پ کی ازواج سب کے سب اونٹوں کے کجا ووں اور محملوں میں سوار تھے ”مسجد شجرہ “ ”جو مدینہ کے نزدیک ھے “سے احرام با ندھنے کے بعد آپ نے مکہ کی راہ لی اور سوار و پیادہ لوگ آ پ کے ھمراہ چل رھے تھے ۔

اگلے دن صبح ” عِرْق ُ الظَّبْیَہ “ پہنچے اور اس کے بعدمقام ” روحا ء “ پر کچھ دیر کےلئے توقف فر مایا

وھاں سے نماز عصر کےلئے مقام ”مُنصرَف “پہنچے ۔نماز مغرب و عشا ء کے وقت مقام ”مُتَعَشّیٰ“ پر قیام فر مایارات کا کھانا وھیں نوش فرمایا ، نماز صبح کے لئے مقام ”اٴ ثَا یَةً“ ،پهونچے منگل کی صبح مقام ”عرج “ پر تھے اور بدھ کے روز ” سقیاء “ کی منزل پر قدم رکھا ۔

راستے کے دوران پیدل چلنے والوںنے راستہ کی مشکلات کا تذکرہ کیاآنحضرت (ص)سے سواری کی درخواست کی گئی تو آپ(ع) نے فر مایا ابھی سواری مھیانھیں ھے آپ نے حکم دیا کہ آسانی کےلئے سب اپنی کمریں باندھ لیں اورتیز رفتاراور دوڑ دوڑ کر سفر طے کریں ۔اس حکم پر عمل پیرا هو ئے تو کچھ راحت و آرام ملا ۔

جمعرات کے دن مقام” ابواء“پهونچے ،جھاں پر آنحضرت (ص)کی مادر گرامی جناب آمنہ کی قبر ھے ،آپ(ع) نے اپنی والدہ گرامی کی قبر کی زیارت فر ما ئی ۔ جمعہ کے دن مقام ” جحفہ “ اور” غدیر خم “سے گذر نے کے بعد مقام ” قُدَیْد “ کےلئے عا زم هو ئے اور ھفتہ کے دن وھاں پہنچے۔اتوار کے دن مقام ” عسفان “ پہنچے اور ”پیر کے دن مقام ” مرّالظھران “پر پہنچے اور رات تک وھیں پر قیام فر مایا ۔رات کے وقت مقام ” سیرف “ کی طرف حرکت کی اور وھاں پهونچے اوراس کے بعد کی منزل مکہ ٴ معظمہ تھی ۔دس دن کا سفر طے کر نے کے بعد منگل کے روز پانچ ذی الحجہ کو مکہ پہنچے ۔

حضرت امیر المو منین علیہ السلام کا مدینہ سے یمن اور یمن سے مکہ کا سفر

دو سری طرف حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اسلام کی طرف سے ایک لشکر کے ھمراہ نجران اور اس کے بعد یمن تشریف لے گئے اس سفر میں آپ کا مقصد خمس زکوٰة اور جزیہ وصول کرنا اور نیز اسلام کی دعوت دینا تھا ۔

پیغمبر اسلام(ص) نے مدینہ سے چلتے وقت حضرت علی علیہ السلام کےلئے ایک خط تحریر فر مایا اورآپ (ع) کو حکم دیا کہ وہ بھی یمن سے مکہ چلے آئیں ۔نجران اور یمن کے امور انجام دینے کے بعد حضرت علی علیہ السلام کا لشکر نیز اھل یمن کے کچھ افراد (جن کی تعداد بارہ ہزار تھی) کے ساتھ میقات سے احرام با ندھنے کے بعد عازم مکہ هو ئے ۔پیغمبر اسلام (ص)مدینہ کی طرف سے مکہ کے نز دیک پہنچے توادھرسے حضرت امیر المو منین علی علیہ السلام بھی یمن سے مکہ کے نزدیک پہنچے ۔آپ (ع) نے لشکرمیںاپنا جا نشین مقرر فر مایا اور خود آنحضرت (ص) کی ملا قات کےلئے تشریف لے گئے اور مکہ کے نزدیک آنحضرت (ص) کی خد مت میں پہنچے اور روداد سفر سنا ئی

پیغمبر اکرم(ص) مسرور هوئے اور حکم دیا کہ جتنا جلدی ممکن هو آپ(ع) کے لشکر کو مکہ لا یا جا ئے ۔

حضرت علی علیہ السلام پھر اپنے لشکر کے پاس آئے اور آنحضرت (ص) کے قافلہ کے ساتھ منگل کے دن پا نچ ذی الحجہ کو مکہ پہنچے ۔

ایام حج آنے کے بعد آنحضرت (ص) نویں ذی الحجہ کے دن عرفات تشریف لے گئے اس کے بعد مشعر اور منٰی پہنچے ۔اس کے بعدیکے بعد دیگرے اعمال حج انجام دئے اورحج کے واجب و مستحب اعمال لو گوں کےلئے بیان فر مائے۔

غدیر سے پھلے خطبے[4]

آنحضرت (ص) نے مقام غدیر سے پھلے دو حساس مقامات پر دو خطبے دئے جن کا مقصد حقیقت میں خطبہٴ غدیر کےلئے ماحول فراھم کر نا تھا ۔

آپ (ص)نے پھلا خطبہ منیٰ میں دیا تھا ۔ اس خطبہ کے آغاز میںآپ(ع) نے معاشرہ میں مسلمانوں اور عوام الناس کی جان ،مال ،عزت اور آبرو کی حفاظت ،اس کے بعددور جا ھلیت میں نا حق خون ریزی اور نا حق لئے گئے اموال کو رسمی طور پر معاف فرمایا تاکہ لوگوں کے مابین ایک دوسرے سے کینہ ختم هو جائے تاکہ معاشرے میں پوری طرح امنیت کا ماحول پیدا هو جا ئے اور اس کے بعد لوگوں کو اپنے بعد اختلاف کر نے اور ایک دوسرے پر تلواراٹھانے سے خوف دلایا ۔

اس مقام پر آ پ نے واضح طورپر فر مایا:

”اگر میں نہ رهوں تو علی ابن ابی طالب (ع) خلاف ورزی کر نے والوں کے سا منے اٹھ کھڑے هو ں گے “

اس کے بعد آپ(ع) نے اپنی زبان مبارک سے حدیث ثقلین بیان کی اور فرمایا:

”میں تمھا رے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑکر جا رھا هوں اگر ان دونوں سے متمسک رهوگے تو ھر گز گمراہ نہ هو گے :کتاب خدا اور میری عترت یعنی میرے اھل بیت (ع) “

آپ(ص) نے اس بات کی طرف بھی اشارہ فر مایا کہ میرے ان اصحاب میں سے بعض کوقیامت کے دن جہنم کی آگ میں جھونک دیا جا ئیگا ۔

اھم بات یہ ھے کہ اس خطبہ میں حضرت امیر المو منین (ع) آنحضرت (ص)کے کلام کی لوگوں کےلئے تکرار فر ما رھے تھے تا کہ دور بیٹھنے والے افراد بھی سن لیں۔

منیٰ کی مسجد خیف میںدوسرا خطبہ[5]

آنحضرت (ص) نے دوسرا خطبہ منیٰ کی مسجد خیف میں ارشاد فر مایا ۔منیٰ میں قیام کے تیسر ے روز آپ(ع) نے لوگوں کے مسجد خیف میں جمع هو نے کا حکم صادر فر مایا۔وھاں پر بھی آپ نے خطبہ دیا جس میں صاف صاف یہ اعلان فر مایاکہ اس خطبہ کو یاد رکھیں اور حا ضرین غا ئبین تک پہنچائیں۔

اس خطبہ میں آ پ(ع) نے اخلاص عمل ،مسلمانوں کے امام سے متعلق ھمدردی اور تفرقہ نہ ڈالنے پر زور دیااور تمام مسلمانوں کے حقوق اور قوانین الٰھی میں برابرهو نے کا اعلان فر مایا اس کے بعد مسئلہٴ خلافت بیان فر مایا پھرآپ(ع) کی زبان مبارک پر حدیث ثقلین جا ری هو ئی اور دوسری مرتبہ غدیر کے لئے زمینہ فراھم کیا ۔

اس موقع پر منافقوں نے مکمل طور پر خطرہ کا احساس کیا اور واقعہ کوسنجیدگی سے لیا انھوں نے عھد نا مہ لکھا اور قسمیں کھا ئیں اور اپنے پروگرا موں کا آغاز کیا ۔[6]

غدیر سے پھلے انبیاء علیھم السلام کی میراث کا حوالہ کرنا[7]

مکہ میں پیغمبر اکرم (ص)پر الٰھی قانون اس طرح نا زل هوا :”آپ کی نبوت مکمل هو گئی اورآپ کا زمانہ ختم هو کیا ۔اسم اعظم اور آثار علم و میراث انبیاء علیھم السلام، علی ابن ابی طالب (ع) کے حوالہ کر دیجئے جو سب سے پھلے ایمان لا ئے ھیں ۔میں زمین کو اس عالم کے بغیر ایسے ھی نھیں چھوڑ دوں گا کہ جس کے ذریعہ میری اطاعت اور ولایت سے لوگ متعارف هوں اور وہ میرے پیغمبر کے بعد لوگوں کےلئے حجت هو “

انبیاء علیھم السلام کی یا دگاریں حضرت آدم و نوح و ابراھیم علیھم السلام کے صحیفے،توریت و انجیل، حضرت مو سیٰ علیہ السلام کا عصا ،حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگشتری اور دوسری تمام میراث صرف اور صرف حجج الٰھی کے ھا تھوں میںرہتی ھیں ۔اس دن خاتم الانبیاء (ص) اس پوری میراث کے محافظ تھے اور اب حکم الٰھی حضرت امیر المومنین کےلئے آگیا ۔یہ تمام چیزیں حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب سے یکے بعد دیگرے ائمہ علیھم السلام تک منتقل هو تی رھیںاور اب یہ تمام چیزیں خدا وند عالم کی آخری حجت پیغمبر اکرم(ص) نے حضرت علی علیہ السلام کو طلب فر مایا اور ایک مخصوص میٹینگ کی جس میں خداوند عالم کی اما نتیں حضرت علی علیہ السلام کے حوالہ کر نے میں ایک رات دن لگ گیا ۔

لقب امیر المو منین(ع) [8] مکہ میں جبرئیل (ع) خدا وند عالم کی طرف سے حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کےلئے خاص طور سے لقب ( امیر المو منین )لیکر نا زل هو ئے اگر چہ اس سے پھلے بھی یہ لقب آپ ھی کےلئے معین هو چکاتھا ۔

پیغمبر اکرم (ص)نے تمام اصحاب کو حکم دیا کہ ایک ایک صحابی حضرت علی علیہ السلام کے پاس جا ئے اور آپ (ع) کو ”السلام علیک یا امیر المومنین “ کھکر سلام کرے ۔اس طرح پیغمبر اکرم(ص) نے اپنے دور حیات میں ھی اصحاب سے حضرت علی علیہ السلام کے امیر هو نے کا اقرار کرا لیا تھا ۔

مزید  جدید مرثیہ، ہئیت اور فارم کے مسائل

اس مقام پر ابو بکر اور عمر نے پیغمبر اکرم(ص) پر اعتراض کرتے هوئے کھا: کیا یہ حق خدا وند عالم اور ان کے رسول کی طرف سے ھے ؟آنحضرت (ص) غضبناک هو ئے اور فرمایا:”یہ حق خدا اور اس کے رسول کی طرف سے ھے ،خدا وند عالم نے مجھ کو یہ حکم دیا ھے “

غدیرمیں حاضرهونے کےلئے قانونی اعلان[9]

لوگ اس چیز کے منتظر تھے کہ پیغمبر اکرم(ص) ا پنے اس آخری سفرحج میں کچھ ایام مکہ میں قیا م فر ما ئیں،لیکن اعمال حج تمام هو نے کے فوراً بعد آپ نے اپنے منادی بلال کولوگوں کے لئے اس بات کا اعلان کر نے کا حکم دیا :کل محتاجو ں کے علاوہ سب کو چلنا ھے کو ئی بھی مکہ میں نہ رہنے پائے تاکہ وقت معین پر ”غدیر خم “میں حا ضر هو سکیں ۔

”غدیر “ کے علاقہ کا انتخاب جو خاص حکم الٰھی کی وجہ سے تھا کئی اعتبار سے قابل غور ھے :

ایک یہ کہ مکہ سے واپس آتے وقت غدیراس جگہ سے پھلے ھے جھاں پر لوگوں کے راستے ایک دو سرے سے جدا هو تے ھیں۔

دوسرے یہ کہ مستقبل میں مسلمانوں کے حج کرنے والے قافلے مکہ آتے اور جا تے وقت جب اس مقام سے گذریں تووادی غدیر اور مسجد النبی(ص) میں نماز پڑھیں اور اپنے عقیدہ کے مطابق تجدید بیعت کریں تاکہ اس واقعہ کی یاد دلوں میں دوبارہ زندہ هو جائے ۔[10]

تیسرے یہ کہ ”غدیر “ جحفہ سے پھلے وہ وسیع و عریض میدان تھا جھاں پر سیلاب اور شمال مغرب کی طرف سے بہنے والے چشمہ کا پانی آکرجمع هوتا تھا اور اس میدان میںکچھ پرانے اور مضبوط درخت بھی تھے لہٰذا یہ میدان پیغمبر اسلام(ص) کے تین دن کے پرو گرام اورخطبہ ارشاد فرمانے کےلئے بہت ھی منا سب تھا لوگوں کےلئے بھی یہ بڑے تعجب کی بات تھی کہ پیغمبر (دس سال مکہ سے دور رہنے کے با وجود ) مکہ میں قیام نھیں فر ماتے تاکہ ان کی خدمت با برکت میں لوگ حا ضر هوں اور ان سے اپنے مسائل بیان کر یںبلکہ اعمال حج تمام هو نے کے بعد فور اً وھاں سے رخت سفر با ندھ لیتے ھیںاور لوگوں کو بھی مکہ سے چلنے اور ” غدیر خم “میں حاضر هو نے کا حکم فر ما تے ھیں۔

جس صبح کو آنحضرت (ص) نے مکہ سے کوچ فرمایا آپ کے ساتھ ایک لاکھ بیس ہزار[11]سے زیادہ افراد تھے یھاں تک کہ مکہ کے پانچ ہزارافراد اور یمن کے تقریبابارہ ہزار افراد”جن کا ادھر سے راستہ بھی نھیں تھا “بھی غدیر کے پروگرام میں شریک هونے کےلئے آنحضرت (ص) کے ساتھ آئے تھے ۔

__________________

[1] بحا رالانوار جلد ۳۷صفحہ۲۰۱۔

[2] عوالم العلوم جلد۱۵/۳صفحہ۱۶۷،۲۹۷۔الغدیرجلد۱صفحہ۹،۱۰۔بحارالانوارجلد ۱صفحہ۳۶۰،۳ ۳۸،۳۸۴ ، ۳۹۰ جلد ۲۸ صفحہ ۹۵ ۔

[3] بعض روایات میں ایک لاکھ اسّی ہزار افراد نقل هوئے ھیں ۔

[4] بحارالانواتر جلد ۳۷ صفحہ ۱۱۳،جلد ۲۱صفحہ ۳۸۰۔

[5] بحارالانوار جلد ۳۷ صفحہ ۱۱۴۔

[6] منافقین کے اقدامات کی تفصیل کااس کتاب کے تیسرے حصہ میں تذکرہ هو گا ۔

[7] بحار الانوار جلد ۲۸ صفحہ ۹۶،جلد ۳۷ صفحہ ۱۱۳،جلد ۴۰ صفحہ ۲۱۶۔

حضرت بقیة اللہ الاعظم علیہ السلام کے پاس ھیں ۔

[8] بحارالانوار جلد ۳۷صفحہ ۱۱۱،۱۲۰جلد ۳۷صفحہ۱۱۳،جلد ۴۰ صفحہ ۲۱۶۔عوالم ۱۵/۳صفحہ ۳۹،کتاب سلیم بن قیس صفحہ۷۳۰۔

[9] بحارالانوارجلد۲۱صفحہ۳۸۵،جلد۳۷صفحہ ۱۱۱۔۱۵۸۔اثبات الھدات:جلد ۲ صفحہ ۱۳۶حدیث ۵۹۳۔الغدیر جلد ۱ صفحہ ۱۰،۲۶۸۔

[10] غدیر میں مسجد نبی (ع) ”جو اس تاریخی واقعہ کی یادگار ھے “نے دوست و دشمن کی طرف سے عجیب دن دیکھے ھیں ھم اس کتاب میں اس بات کی طرف اشارہ کریں گے ۔

[11] ایک قول کے مطابق ایک لاکھ چالیس ہزار اور دوسرے قول کے مطابق ایک لاکھ اسّی ہزارافراد تھے ۔

۲ خطبہ کی کیفیت اور اس کے جزئیات

غدیر میں لوگوں کا اجتماع [1]

پیر [2]کے دن ظھر کے وقت جیسے ھی ”کراع الغُمَیم “[3](وہ علاقہ جھاں پر ”غدیر خم “ واقع ھے )پر پہنچے ،آنحضرت (ص) نے اپنا راستہ دائیں طرف اور غدیر کی جانب بدلتے هو ئے فرمایا :

”اَیُّھاالنَّاس،اجیبواداعیَ اللہ ،اناَرسُول اللہ “

”ایھا الناس خدا کی طرف دعوت دینے والے کی دعوت پر لبیک کهو ،میں خدا کا پیغام لانے والا هوں “ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اھم پیغام کے پہنچا نے کا وقت آگیا ھے ۔

اس کے آنحضرت (ص) نے منادی کو یہ ندا لگا نے کا حکم دیا :”تمام لوگ ٹھھر جا ئیں جو لوگ آگے بڑھ گئے ھیںوہ پیچھے پلٹ آئیں اور جوپیچھے رہ گئے ھیں وہ ٹھھر جا ئیں “تاکہ تمام لوگ پھلے سے معین شدہ مقام پر جمع هو جا ئیں ۔اسی طرح یہ حکم بھی صادر فر مایا :کوئی شخص قدیم درختوں کے نیچے نہ جا ئے اور وہ جگھیں اسی طرح خالی رھیں ۔

اس حکم کے صادر هو نے کے بعد تمام مرکب رک گئے ،اور جو لوگ بڑھ گئے تھے وہ واپس پلٹ آئے ، تمام لوگ غدیر خم کے مقام پر اترگئے ھر ایک نے اپنی اپنی جگہ تلاش کی ،اور آھستہ آھستہ سکون و اطمینان کاسانس لیایہ صحرا پھلی مرتبہ ایسے عظیم انسانی مجمع کا شاھد تھا ۔

گرمی کی شدت اور گرم زمین اتنی تکلیف دہ تھی کہ لوگ یھاں تک کہ آنحضرت (ص) نے بھی اپنی عبا کا ایک حصہ اپنے سر اقدس پر اور دوسرا حصہ اپنے پیروں کے نیچے بچھا رکھا تھا اور کچھ لوگ گرمی کی شدت کی وجہ سے اپنی عبا اپنے پیروں پر لپیٹے هو ئے تھے !

خطبہ اور منبر کی جگہ کی تیاری[4]

دوسری طرف پیغمبر اسلام (ص)نے مقداد ،سلمان ،ابوذر اور عمار کو بلاکر یہ حکم صادر فر مایا کہ ان پانچ پرانے درختوں (جوتالاب غدیر کے کنا رے ایک لائن میں کھڑے هو ئے تھے )کے نیچے جگہ تیار کریں انھوں نے درختوں کے نیچے سے کا نٹوں کو صاف کیا ،پتھروں کو جمع کیا ،درختوں کے نیچے صفائی کی اور پا نی کا چھڑکا وٴ کیا ۔اس کے بعد درختوں کی زمین تک لٹکنے والی شاخوں کو کا ٹا ۔پھر دھوپ سے بچنے کی غرض سے دو نزدیک کھڑے هو ئے درختوںکی شاخوں پر کپڑا ڈال کرسائبان بنایا،اوراس طرح وہ جگہ تین دن کے پروگرام کیلئے بالکل تیارهوگئی۔

اس شا میانہ کے نیچے پتھروں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھا اور پالان شتر کاآنحضرت(ع) کے قد کے برابر منبر تیار کیا اور اس پر کپڑا ڈالا منبر کو مجمع کے درمیان بنایا تھا تاکہ پیغمبر اکرم(ص) خطبہ ارشاد فرما تے وقت سب کو دیکھ سکیں، اور آپ(ع) کی آواز سب تک پہنچ سکے اور سب لوگ آپ کا دیدار کرسکیں ،اور جیساکہ غدیر کے واقعہ میں آیا ھے کہ:غدیر خم میں کو ئی ایسا شخص نھیں تھا جس نے آپ(ع) کا دیدار نہ کیا هو اور اپنے کا نوں سے آنحضرت (ص) کی آواز نہ سنی هو ۔

البتہ ربیعہ بن امیہ بن خلف لوگوں کےلئے آپ(ع) کے کلام کی تکرار کر رھے تھے تاکہ دور بیٹھنے والے افراد بہتر طریقہ سے مطالب سمجھ سکیں ۔

پیغمبراکرم(ص) اور امیر المومنین علیہ السلام منبر پر [5]

ظھر کے وقت انتظار کی گھڑیاں تمام هوئی یھاں تک کہ منادی نے نماز جما عت کےلئے آواز لگا ئی لوگوں کے اپنے اپنے خیموں سے باھر آنے اور نماز کی صفیں مرتب کر نے کے بعد پیغمبر اکرم(ص) اپنے خیمہ سے با ھر تشریف لائے اور نماز با جما عت بجالائے ۔

اس کے بعد مجمع مشاھدہ کر رھا تھا کہ پیغمبر اکرم(ص) منبر پر کھڑے هو ئے اور آپ نے حضرت علی علیہ السلام کو بلایا اور حکم دیا کہ آپ منبر پر آئیں اور میرے پاس دائیں طرف کھڑے هو جائیں ،خطبہ شروع هو نے سے پھلے امیر المومنین علیہ السلام آپ(ع) سے ایک زینہ نیچے کھڑے هو ئے تھے اور آنحضرت(ع) اپنادست مبارک آپ (ع) کے دوش پر رکھے هو ئے تھے ۔

اس کے بعد پیغمبر اکرم(ص) نے مجمع پر دائیں اور با ئیں طرف نظر ڈالی اور مجمع کا پوری طرح جمع هو نے کا انتظار کیاجلسہ میں ایک طرف عورتیں بھی بیٹھی هو ئیں تھیں جو پیغمبر کو اچھی طرح دیکھ رھیں تھیں۔مجمع کے تیار هو جا نے کے بعد پیغمبر اکرم(ص) نے دنیائے اسلام کے لئے اپنے آخری اور تا ریخی خطاب کا آغاز فر مایا ۔

منبر اور خطبہ کے اس دلچسپ انداز کو مد نظر رکھ کرکہ دو آدمی منبر پر ھیں اور ایک لاکھ بیس ہزار افراد اس انو کھے منظر کا نظارہ کر رھے ھیں آنحضرت (ص)کے خطبہ پر توجہ مرکوز کئے هوئے ھیں ۔

ھم یہ بات بیان کر تے چلیں کہ ایک تقریر کےلئے ایک لاکھ بیس ہزار افراد کا مجمع اس عالم میں کہ ایک خطیب کو تمام لوگ دیکھ رھے هوں آج کی دنیا میںبھی یہ ایک غیر معمولی مسئلہ ھے چہ جائیکہ عصر بعثت میں گذشتہ انبیاء علیھم السلام کے چھ ہزار سالہ دور میں کسی تقریر کےلئے اتنابڑا مجمع جمع هوا هو ۔

پیغمبر اسلام (ص)کاخطبہ[6]

پیغمبر اسلام(ص) کاغدیر خم میں تاریخ ساز خطبہ جو تقریباً ایک گھنٹہ جاری رھا اس کو گیارہ حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ھے ۔

آنحضرت (ص) نے سب سے پھلے خدا وند عالم کی حمد و ثنا اور اس کی قدرت و رحمت کا تذکرہ فر مایا اور اس کے بعد خدا وند عالم کے سامنے اپنی بندگی کا اقرار فر مایا ۔

دوسرے حصہ میں آپ نے مجمع کو اصل مطلب کی طرف متوجہ کرتے هو ئے فر مایا کہ مجھے علی بن ابی طالب (ع) کے سلسلہ میں ایک اھم پیغام پہنچا ناھے اگر میں نے یہ پیغام نہ پہنچایا تو گو یا رسالت الٰھی کا کوئی کام انجام نھیں دیا اور میں خدا کے عذاب سے ڈرتا هوں ۔

تیسرے حصہ میں آپ نے اپنے بعدقیامت تک کےلئے بارہ اماموں کا اعلان فر مایاتاکہ اقتدار کی تمام امیدیں ایک دم قطع هو جا ئیں ۔ آنحضرت (ص) کی تقریر میںسب سے اھم بات یہ تھی کہ ائمہ معصومین علیھم السلام قیامت تک کےلئے تمام انسانوں پر ولایت رکھتے ھیںاور ھر زمانہ میں اور ھر جگہ ھر معاملہ میں ان ھی کے کلمات و ارشادات کا بول بالا هوگا اور خداو رسول کی جا نب سے حلال و حرام میں حضرات ائمہ علیھم السلام کی مکمل نیابت اور ان کے تام الاختیار هو نے کا اعلان فر مایا ۔

خطبہ کے چو تھے حصہ میں پیغمبر اسلام(ص) نے حضرت علی علیہ السلام کے ھا تھوں کو بلند کر کے فر مایا :

”جس کا میں مو لا هوں اس کے یہ علی مو لا ھیں پر ور دگارا جو علی کو دوست رکھے اس کو تو دوست رکھ اور جو علی سے دشمنی کرے اس کو دشمن رکھ اور جو ان کی مد د کرے اس کی تو مدد کراور جو ان کو رسوا کرے اس کو تو رسوا و ذلیل کر“

اور اس کے بعد ائمہ علیھم السلام کی ولایت کے ذریعہ اکمال دین اور نعمتوں کے تمام هو نے کا اعلان فر مایا اور اس کے بعد خدا ،ملائکہ اور لوگوں کو اپنے اس پیغام کے پهونچا نے پر شاھد قرار دیا ۔

پا نچویں حصہ میں آپ(ع) نے صاف صاف یہ اعلان فر مایا :جو ائمہ علیھم السلام کی ولایت سے سر پیچی کر ے گا اس کے تمام نیک اعمال حبط هو جا ئیں گے اور اس کا ٹھکانا جہنم ھے “اس کے بعد امیر المو منین علیہ السلام کے کچھ فضا ئل بیا ن فر ما ئے ۔

پیغمبر اسلام(ص) نے چھٹے حصہ میں غضب الٰھی کے کچھ گو شوں پر رو شنی ڈالی ،آنحضرت (ص) نے عذاب اور لعنت کے متعلق آیات کی تلاوت کرتے هوئے فرمایا :” ان آیات سے مراد میرے بعض اصحاب ھیں کہ جن سے میں اغماض نظر کرنے پر ما مور هوں ،لیکن جان لو! خدا وند عالم نے مجھے دشمنوں ، مخا لفین ،خائنین اور مقصرین پر حجت قرار دیا ھے اور دنیا میں اغماض نظر کرنا آخرت میں ان کے عذاب سے مانع نھیں ھے “

اس کے بعد جہنم کی طرف لے جانے والے گمراہ راہنماوٴںکے با رے میں اشارہ کرتے هو ئے فر مایا”میں ان سب سے بیزار هوں “ رمزی طورپر”اصحاب صحیفہٴ ملعونہ “ کی طرف اشارہ کیا اور صاف طور پر فر مایا کہ میرے بعد کچھ لوگ مقام امامت کو غصب کریں گے اور اس کے غاصبین پر لعنت فرمائی ۔

ساتویں حصہ کو آنحضرت (ص) نے اھل بیت علیھم السلام کی محبت و ولایت اور ان کے اثرات کاذکر کرتے هو ئے فر مایا : سوره حمدمیں صراط مستقیم والوںسے مراد اھل بیت علیھم السلام کے شیعہ ھیں۔

اس کے بعد اھل بھشت کے با رے میں کچھ آیات کی تلاوت فر مائی اور ان کی تفسیر شیعہ اور آل محمد علیھم السلام کی اتباع کر نے والوں سے فر ما ئی ۔اھل جہنم سے متعلق بھی کچھ آیات کی تلا وت فر ما ئی اور ان کی تفسیر میں دشمنان آل محمد علیھم السلام کا تذکر ہ فر مایا ۔

آٹھویں حصہ میں” حضر ت بقیة اللہ الاعظم حجة بن الحسن المھدی ارواحنا فداہ “کا تذکرہ فر مایا اور ان کے مخصوص اوصاف بیان فر مائے اور مستقبل میں آپ کے وجود مبارک کے ذریعہ دنیا کے عدل و انصاف سے پرُهونے کی خوشخبری سنائی ۔

نویں حصہ میں فرمایا:خطبہ تمام هو جا نے کے بعد میں تمھیں اپنی بیعت اور اس کے بعدعلی بن ابی طالب (ع) کی بیعت کی دعوت دیتا هوں ۔اس بیعت کاسرچشمہ یہ ھے کہ میں نے خدا وند عالم کی بیعت کی ھے اور علی (ع) نے میری بیعت کی ھے ،نتیجتاً یہ بیعت جو میں تم سے لے رھا هوں یہ خداوند عالم کی جانب سے ھے اور خدا وند تبارک و تعالیٰ کے ساتھ بیعت ھے۔

دسویں حصہ میں آنحضرت (ص) نے احکام الٰھی کے سلسلہ میں گفتگو فر مائی جس کا مقصد چند بنیادی عقائد اور اھم مسائل بیان کرنا تھا :منجملہ یہ کہ چونکہ تمام حلال و حرام بیان کرنا میرے امکان میں نھیں ھے لہٰذا میں نے تم سے ائمہ علیھم السلام کی بیعت لے کرقیامت تک کےلئے تمام حلال و حرام کو بیان فر ما دیاھے چونکہ ان کا علم و عمل حجت ھے ،دوسرے یہ کہ امر با لمعروف و نھی عن المنکر کا سب سے اھم مر حلہ ائمہ علیھم السلام کے سلسلہ میں پیام غدیر کی تبلیغ ،انکی اطاعت کا حکم اور ان کی مخا لفت سے روکنا ھے ۔

اپنے خطبہ کے آخری حصہ میںزبانی بیعت انجام پا ئی اور آپ (ص) نے فرمایا: ”خدا وند عالم کا یہ حکم ھے کہ ھاتھ کے ذریعہ بیعت لینے سے پھلے تم سے زبانوں کے ذریعہ اقرار لوں “اس کے بعد جس مطلب کی تمام لوگوں کو تا ئید کرنا تھی وہ معین فر مایا جس کا خلاصہ بارہ اماموں کی اطاعت دین میں تبدیلی نہ کرنے کاعھد و پیمان ،آئندہ نسلوں اور غائبین تک پیغام غدیر پہنچا نا تھا ۔ضمناً یہ بیعت ھاتھ کی بیعت بھی شمارهو تی تھی چونکہ آنحضرت (ص) نے فر مایا :کهو کہ ھم اپنی جان و زبان اور ھاتھوں سے بیعت کر تے ھیں “

پیغمبر اکرم(ص) کے خطبہ کے آخری کلمات آپ کے فرامین کی اطاعت کرنے والوں کے حق میں دعا اور آپ کے فرامین کا انکار کر نے والوںپر لعنت تھی اور خداوند عالم کی حمد و ثنا پر آپ نے خطبہ تمام فر مایا ۔

منبر پر دو عملی اقدام

پیغمبر اکرم(ص) نے خطبہ کے دوران منبرپر دو عملی اقدام انجام فر ما ئے جو اب تک بے نظیر اور بہت ھی جا ذب نظر تھے :

حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام منبرپرپیغمبر اکرم(ص) کے ھا تھوں پر[7] پیغمبر اکرم(ص) نے تمام مقدمات فراھم کرنے اور امیر المو منین علیہ السلام کی خلافت و ولایت کا تذکرہ کرنے کے بعد اس غرض سے کہ قیامت تک ھر طرح کا شک و شبہ ختم هو جائے اور اس سلسلہ میں ھر طرح کا مکر و فریب غیرموٴثر هو جا ئے ابتدا میں آپ نے زبانی طور پر اشارہ فرمایا اور اس کے بعد لوگوں کے لئے عملی طور پر بیان کرتے هوئے ابتدا میں اس ترتیب کے ساتھ بیان فر مایا :

”قرآن کا باطن اور تفسیر تمھارے لئے کو ئی بیان نھیں کر سکتا مگر یہ شخص جس کا ھاتھ میرے ھاتھ میں ھے اور اس کو بلند کر رھا هوں “

اس کے بعد آنحضر ت(ص) نے اپنے قول کو عملی صورت میں انجام فر مایا اور امیر المو منین علیہ السلام سے جو منبر پر آپ کے پاس کھڑے هوئے تھے فرمایا :”میرے اور قریب آوٴ “حضرت علی علیہ السلام اور قریب آئے ،اور آنحضرت (ص) نے حضرت علی علیہ السلام کے دونوں بازوٴوںکو پکڑا اس وقع پرحضرت علی علیہ السلام نے اپنے دونوں ھا تھوں کو آنحضرت (ص)کے چھرہ ٴ اقدس کی طرف بڑھا دیا یھاں تک کہ دونوں کے دست مبارک آسمان کی طرف بلند هو گئے ۔اس کے بعد آنحضرت (ص) نے حضرت علی علیہ السلام کو ”جوآپ سے ایک زینہ نیچے کھڑے هو ئے تھے “ان کی جگہ سے اتنا بلند کیا کہ ان کے پا ئے اقدس آنحضرت (ص) کے زانو کے بالمقابل آگئے اورسب نے آپ (ص) کی سفیدیٴ بغل کا مشاھدہ کیا جو اس دن تک کبھی نھیں دیکھی گئی تھی اس حالت میں آپ نے فر مایا :

”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَھٰذَا عَلِیٌّ مَوْلَاہُ“”جس کا میں مولا هوں اس کے یہ علی مو لا ھیں “

______________________

[1] بحار الانوارجلد ۲۱ صفحہ ۳۸۷ ،جلد ۳۷ صفحہ ۱۷۳،۲۰۳،۲۰۴،جلد ۹۸ صفحہ ۲۹۸،عوالم :جلد ۱۵/۳ صفحہ۵۰،۶۰،۷۵، ۷۹،۸۰،۳۰۱۔ جلد ۱ صفحہ ۱۰ ،۲۲ ۔مدینة المعا جز صفحہ ۱۲۸۔الفصول المھمة صفحہ ۲۴،۲۵۔

[2] گذشتہ حصہ میں بیان شدہ روایتوں کے مطابق آنحضرت (ص) مدینہ سے ۲۵ ذیقعدہ ھفتہ کے روز چلے اور ۵ /ذی الحجہ منگل کے روز مکہ پہنچے ۔اس بنا پر ۱۸ ذی الحجہ پیرکے روزهو تی ھے ۔اور پندرہ سو سالہ ھجری قمری اور عیسوی (تحقیق:حکیم قریشی ) ڈائری کے مطابق دس ھجری میں ۱۸ ذی الحجہ دس ھجری مطابق ۱۵ مارچ ۶۳۲ ء پیر کے روز تھی ۔

[3] کُرا ع : اس جگہ کو کھا جاتا ھے جھاں پر جا کر پانی کاراستہ ختم هو جاتا ھے ۔” غمیم “ اس علاقہ کا نام ھے غدیراس تالاب کو کہتے ھیںجس میںسیلاب کے بعدپانی باقی رہ جا ئے ۔”خم “اس آبگیر کو کہتے ھیں ۔”غدیر خم“ کا علاقہ وادی جحفہ میں ھے اور اسی نام سے مشهور ھے ‘

[4] بحارالانوار جلد۱ ۲صفحہ ۳۸۷،جلد ۳۷صفحہ۱۷۳،۲۰۳،۲۰۴،جلد۹۸صفحہ۲۹۸۔عوالم:جلد ۱۵/۳ صفحہ۵۰، ۶۰، ۷۵، ۷۹،۸۰،۳۰۱۔احقاق الحق جلد ۲۱ صفحہ ۴۶۔

[5] بحا رالانوار جلد ۱ ۲صفحہ ۳۸۷ ،جلد ۳۷ صفحہ ۲۰۹۔عوالم :جلد ۱۵/۳صفحہ ۴۴،۹۷،۳۰۱۔اثبات الھداة جلد ۲ صفحہ۷ ۲۶حدیث ۳۸۷ ،۳۹۱۔احقاق الحق جلد ۲۱صفحہ ۵۳۔۵۷۔

[6] بحار الانوار جلد ۳۷ صفحہ ۲۰۱ ۔۲۰۷۔اثبات الھداة جلد ۲ صفحہ ۱۱۴ ،جلد ۳ صفحہ ۵۵۸۔

[7] بحار الانوار جلد ۳۷صفحہ /۱۱۱،۲۰۹۔عوالم :جلد ۱۵/۳صفحہ ۴۷۔کتاب سلیم :صفحہ ۸۸۸حدیث/۵۵۔

۲۔دلوں اور زبانوں کے ذریعہ بیعت

آنحضرت (ص) کا دوسرا اقدام یہ فرمایا کہ چونکہ اس انبوہ کثیر کے ایک ایک فرد سے بیعت لینا غیر ممکن تھا اور دوسری جانب ممکن تھا لوگ بیعت کر نے کےلئے مختلف قسم کے بھانے کریں اور بیعت کرنے کےلئے حاضر نہ هوں ،جس کے نتیجہ میں ان سے عملی طور پر پابند رہنے کا عھد اور قا نونی گواھی نہ لی جا سکے ،لہٰذا آنحضرت (ص) نے اپنے خطبہ کے آخر میں فر مایا :ایھا الناس !ایک ھاتھ پر ،اتنے کم وقت میںاس انبوہ کثیرکابیعت کر نا سب کےلئے ممکن نھیں ھے لہٰذا جو کچھ میں کہنے جا رھا هوں سب اس کی تکرار کر تے هو ئے کھیں :ھم آپ کے اس فر مان کی جو آپ نے حضرت علی بن ابی طالب اور ان کی اولا د سے هونے والے اماموں کے متعلق فرمایا اس کو قبول کر تے ھیں اور اس پر راضی ھیں ،ھم اپنے دل ،جان ،زبان اور ھاتھوں سے اس مدعاپر بیعت کر تے ھیں ۔۔۔ان کےلئے ھم سے اس بارے میں ھما رے دل و جان ،زبانوں، ضمیروں اور ھاتھوں سے عھد و پیمان لے لیا گیاھے جو شخص ھاتھ سے بیعت کر سکا ھاتھ سے اور جو ھاتھ سے بیعت نہ کر سکا وہ زبان سے اس کا اقرار کر چکا ھے “

ظاھر ھے کہ آنحضرت (ص)جس کلام کی بعینہ تکر ار کرانا چا ہتے تھے وہ آپ نے ان کے سامنے بیان کیااوراس کی عبارت معین فرمادی تاکہ ھر انسان اپنے مخصوص طریقہ سے اس کا اقرار نہ کرے بلکہ جو کچھ آپ نے بیان فرمایاھے سب اسی طرح اسی کی تکر ار کریں اور بیعت کریں ۔

جب آنحضرت (ص) کا کلام تمام هوا سب نے اس کو اپنی زبانوں پر دھرایا اس طرح عمومی بیعت انجام پائی ۔

۳ خطبہ کے بعد کے مراسم

مبارکباد ی[1]

خطبہ تمام هو نے کے بعد ،لوگ ھر طرف سے منبر کی طرف بڑھے اور حضرت علی علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کی ،آنحضر ت (ص)اور حضرت امیر المو منین علی علیہ السلام کو مبارک باد پیش کی اور آنحضر ت(ص) فر ما رھے تھے :”اَلْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ فَضَّلَنَاعَلیٰ جَمِیْعِ الْعٰا لَمِیْن“َ

تاریخ میں عبارت اس طرح درج ھے :خطبہ تمام هو جا نے کے بعد لوگوں کی صدائیں بلند هوئیں کہ: ھاں ،ھم نے سنا ھے اور خدا و رسول کے فر مان کے مطابق اپنے دل و جان ، زبان اور ھا تھوں سے اطاعت کر تے ھیں “اس کے بعد مجمع پیغمبر اکرم(ص) اور حضرت علی علیہ السلام کی طرف بڑھا اور بیعت کےلئے ایک دوسرے پر سبقت کر تے هو ئے ان کی بیعت کی ۔

مجمع سے اٹھنے والے اس احساساتی اور دیوانہ وار شورسے اس بڑے اجتماع کی شان و شو کت دوبالا هو رھی تھی۔

جس اھم اور قابل توجہ مطلب کا پیغمبر اسلام(ص) کی کسی بھی فتح و پیروزی (چا ھے جنگوں میں هو یادوسرے مقامات پرهوحتی ٰکہ فتح مکہ بھی )میں مشاھدہ نہ کیا گیا وہ یہ ھے کہ آپ (ص) نے غدیر خم میں فر مایا :مجھے مبارکباد دو مجھے تہنیت کهو اس لئے کہ خدا نے مجھ سے نبوت اور میرے اھل بیت علیھم السلام سے سے امامت مخصوص کی ھے “

یہ بڑی فتح و پیروزی اور کفرو نفاق کی تمام آرزووٴں کا قلع و قمع کر دینے کی علامت تھی ۔

دوسری طرف پیغمبر اسلام(ص) نے منادی کو حکم دیا کہ وہ مجمع کے درمیان گھوم گھوم کر غدیر کے خلاصہ کی تکرار کرے :”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَھٰذَاعَلِیٌ مَوْلَاہُ اَللَّھُمَّ وٰالِ مَنْ وَالَاہُ وَعَادِمَنْ عَادَاہُ وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَہُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَہُ“تا کہ غدیر کا مرقع لوگوں کے ذہن میں منقش هو جا ئے ۔

لوگوں سےبیعت[2]

مسئلہ کو رسمی طور پر مستحکم کرنے کیلئے اوراس لئے کہ پورا مجمع منظم و مرتب طریقہ سے بیعت کر سکے لہٰذا پیغمبر اکرم (ص)نے خطبہ تمام کر نے کے بعد دو خیمے لگا نے کا حکم صادر فرمایا ۔ایک خیمہ اپنے لئے مخصوص قرار دیا اور آپ اس میں تشریف فر ما هو ئے اور حضرت علی (ع) کو حکم دیا کہ آپ دوسرے خیمہ کے دروازہ پر تشریف فر ماهوں اور لوگوں کو جمع هو نے کا حکم دیا ۔

اس کے بعد لوگ گروہ گروہ کر کے آنحضرت (ص) کے خیمہ میں آتے اورپ کی بیعت کرتے اور آپ کو مبارکباد پیش کر تے ،اس کے بعدحضرت امیر المو منین (ع) کے خیمہ میں آتے اور آپ کو پیغمبر اکرم(ص) کے خلیفہ اور امام هو نے کے عنوان سے آپ کی بیعت کر تے اور آپ پر (امیر المو منین )کے عنوان سے سلام کرتے اور اس عظیم منصب پر فائز هونے کی مبارکباد پیش کرتے تھے۔

بیعت کا یہ سلسلہ تین دن تک چلتا رھا ،اور تین دن تک آنحضرت (ص) نے غدیر خم میں قیام فرمایا ۔یہ پروگرام اس طرح منظم و مرتب تھا کہ تمام لوگ اس میں شریک هو ئے ۔

یھاں پراس بیعت کے سلسلہ میں تاریخ کے ایک دلچسپ مطلب کی طرف اشارہ کرنا منا سب هو گا: سب سے غدیر میں جن لوگوں نے امیر المو منین علیہ السلام کی بیعت کی وہ وھی لوگ تھے جنھوںنے سب سے پھلے یہ بیعت توڑی اور اپنا عھد و پیمان خود ھی اپنے پیروں تلے روند ڈالا ۔وہ افراد :ابو بکر، عمر،عثمان ، طلحہ ا ور زبیر تھے جو آنحضرت (ص) کے بعدیکے بعد دیگرے آپ (ع) کے مد مقابل آئے ۔

تعجب خیز بات یہ ھے کہ عمر نے حضرت علی علیہ السلام کی بیعت کے بعد اپنی زبان سے یہ کلمات ادا کئے :

”مبارک هو مبارک اے ابو طالب(ع) کے بیٹے ،مبارک اے ابو الحسن آج آپ میرے اور ھر مو من مرد اور ھر مو منہ عورت کے مو لا هو گئے “!

دو سری بات جس نے ان دورخے چھروں کو اجاگرکیا یہ تھی کہ پیغمبر اسلام(ص) کے حکم صادر هو جا نے کے بعد تمام لو گوں نے چون و چرا کے بغیر حضرت علی علیہ السلام کی بیعت کی ،لیکن ابو بکر اور عمر (جنھوں نے سب سے پھلے حضرت علی علیہ السلام کی بیعت کی تھی )نے بیعت کر نے سے پھلے اعتراض کر تے هو ئے سوال کیا : کیا یہ حکم خدا وند عالم کی جا نب سے ھے یا اس کے رسول کی جانب سے ھے (یعنی آپ یہ اپنی طرف سے کہہ رھے ھیں )؟آنحضرت (ص) نے فرمایا :خدا اوراس کے رسول کی طرف سے ھے ۔کیا اتنا بڑا مسئلہ خدا وند عالم کے حکم کے بغیر هو سکتا ھے ؟نیز فرمایا :”ھاں یہ حق ھے کہ حضرت علی علیہ السلام خدا اور اس کے رسول کی طرف سے امیر المو منین ھیں “

عورتوں کی بیعت [3]

پیغمبر اسلام(ص) نے عورتوں کو بھی حضرت علی علیہ السلام کی بیعت کر نے کا حکم دیا اوران کوامیر المو منین کہہ کر سلام کریں اور ان کو مبارکباد پیش کریں اور اس حکم کی اپنی ازواج کےلئے تا کید فر مائی ۔

اس عمل کو انجام دینے کےلئے آنحضرت (ص) نے پانی کا ایک برتن منگایااوراسکے اوپر ایک پردہ لگایا اس طرح کہ عورتیں پردہ کے ایک طرف پانی کے اندر ھاتھ ڈالیں پردہ کے ادھر سے مولائے کائنات کا ھاتھ پانی کے اندر رھے اور اس طرح عورتوں کی بیعت انجام پائے۔

یہ بات بھی بیان کر دیں کہ حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا بھی غدیر خم میں حا ضر تھیں ۔ اسی طرح پیغمبر اکرم(ص) کی ازواج ،حضرت علی علیہ السلام کی بہن ام ھانی ،حضرت حمزہ علیہ السلام کی بیٹی فاطمہ اور اسماء بنت عمیس بھی اس پرو گرام میں مو جود تھیں ۔

عما مہ ٴ ” سحاب“[4]

عرب جب کسی کو کسی قوم کا رئیس بنا تے تھے تواُن کے یھاں اس کے سر پرعمامہ با ندھنے کی رسم تھی ۔عربوں کے یھاں اس بات پر بڑا فخرهوتا تھا کہ ایک بڑی شخصیت اپنا عمامہ کسی شخص کے سر پر باند ھ دے کیونکہ اس کامطلب ا س پر سب سے زیادہ اعتماد هو تا تھا۔[5]

پیغمبر اکرم(ص) نے اس رسم و رواج کے مو قع پر اپنا عمامہ جس ک ”سحاب “ کھا جاتا تھا تاج افتخار کے عنوان سے حضرت امیر المو منین علیہ السلام کے سر اقدس پر با ندھا اور تحت الحنک کو آپ کے دوش پر رکھ کر فرمایا :”عمامہ تاجِ عرب ھے “

خود امیر المو منین حضرت علی علیہ السلام اس سلسلہ میں یوں فر ما تے ھیں :

”پیغمبر اکرم(ص) نے غدیر خم کے دن میرے سر پر عمامہ باندھا اور اس کا ایک کنا رہ میرے دوش پر رکھتے هو ئے فر مایا :خدا وند عالم نے بدر و حنین کے دن اس طرح کا عمامہ باندھنے والے ملا ئکہ کے ذریعہ میری مدد فر ما ئی “۔

غدیر کے موقع پر اشعار[6]

غدیر کے پروگرام کا دوسرا حصہ حسان بن ثابت کا اشعار پڑھنے کی درخواست تھی ۔اس نے پیغمبر

اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی :یا رسول اللہ اجازت مر حمت فرمائیے میں نے حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کے سلسلہ میں جو شعر اس عظیم واقعہ کی مناسبت سے کھے ھیں ان کو پڑھوں ؟

آنحضرت (ص) نے فرمایا :پروردگار عالم کے نام اور اس کی بر کت سے پڑھو۔

حسان ایک بلند جگہ پر کھڑے هو ئے اور اس کا کلام سننے کےلئے جم غفیر اکٹھا هوگیا ۔حسان نے کھا: ”اے قریش کے بزر گو! میری بات رسول اکرم (ص)کی گواھی اور اجازت سے سنو“

اس کے بعد اس نے اسی مقام پر کھے هوئے اشعار کوپڑھنا شروع کیا جو غدیر کی تا ریخی سند کے اعتبار سے ثبت هو ئے اور یادگاری کے طور پر باقی رھے ۔ھم ذیل میں حسان کے عربی اشعار کا متن اور ان کا تر جمہ پیش کر تے ھیں :

اَلَمْ تَعْلَمُوْا اٴَ نَّ النَّبِیَّ مُحَمَّداً لَدیٰ دَوْحِ خُمٍّ حِیْنَ قَا مَ مُنَا دِیاً

کیا تم نھیں جا نتے کہ محمد پیغمبر خدا(ص) نے غدیر خم کے درختوں کے پاس منادی کی حیثیت کھڑے هوئے:

وَقَدْ جَا ءَ ہُ جِبْرِیْلُ مِنْ عِنْدِ رَبِّہِ بِاَ نَّکَ مَعْصُوْمٌ فَلَا تَکُ وَا نِیاً

اور ان کے پاس جبرئیل (ع) خدا وند عالم کی طرف سے یہ پیغام لے کر آئے کہ اے رسول اس پیغام کو پہنچا نے میں سستی نہ کیجئے آپ محفوظ رھیں گے ۔

وَبَلِّغْھُمْ مَااَنْزَلَ اللہُ رَبُّھُمْ وَاِنْ اَنْتَ لَمْ تَفْعَلْ وَحَاذَرْتَ بَا غِیاً

جو کچھ آپ پر خداوند عالم کی طرف سے نا زل هوا ھے اس کو پہنچا دیجئے اگر آپ نے ایسا نہ کیا اور سر کشوں سے خوف کھا گئے “

عَلَیْکَ فَمَا بَلَّغْتَھُمْ عَنْ اِلٰھِھِمْ رِسَا لَتَہُ اِنْ کُنْتَ تَخْشیٰ اِلَّا عَا دِیٰا

”اگر آپ ظالموں سے خوف ڈرگئے اور دشمنوں سے ڈر گئے تو گو یا آپ نے اپنے پروردگار کی رسالت کا کوئی کام ھی انجام نھیں دیا “

فَقَامَ بِہِ اِذْ ذَاکَ رَافِعُ کَفِّہِ بِیُمْنیٰ یَدَیْہِ مُعْلِنُ الصَّوْتِ عَا لِیاً

”اس وقت پیغمبر اسلام(ص) نے حضرت علی علیہ السلام کے دست مبارک کو بلند کیا اور بلند آوازمیں فر مایا :

فَقَالَ لَھُمْ :مَنْ کُنْتُ مَوْ لَاہُ مِنْکُمْ وَکَانَ لِقَوْ لِیْ حَا فِظاً لَیْسَ نَا سِیاً “

میں تم میں سے جن لوگوں کا مو لا هوں اور جو میری بات یاد رکھے گا اور فراموش نھیں کرے گا

فَمَوْ لَاہُ مِنْ بَعْدِیْ عَلِیٌّ وَاِنَّنِیْ بِہِ لَکُمْ دُوْ نَ الْبَرِ یَّةِ رٰا ضِیاً

”میرے بعد علی (ع) اس کے مو لا ھیں اور میںصرف علی کےلئے ،کسی اور کےلئے نھیں،اپنے جا نشین کے عنوان سے راضی هو ں “

فَیَا رَبِّ مَنْ وَالیٰ عَلِیّاً فَوَالِہِ وَکُنْ لِلَّذِیْ عَا دیٰ عَلِیَّاً مُعَادِیاً

”پروردگار ا!جو علی (ع) کو دوست رکھے تو اس کو دوست رکھ اور جو علی سے دشمنی رکھے تو اس کو دشمن رکھ“

وَ یَارَبِّ فَا نْصُرْنَاصِرِیْہِ لِنَصْرِھِمْ اِمَامَ الْھُدیٰ کَالْبَدْرِیَجْلُو الدَّیَاجِیَا

”پروردگارااس کی مدد کرنے والوں کی مدد کر اس لئے کہ وہ اس ھدایت کر نے والے امام کی مدد کر تے ھیں جو شب کی تاریکیوں میں چو دهویں رات کے چاند کی مانندروشنی بخشتا ھے “

وَیَارَبِّ فَاخْذُلْ خَا ذِلِیْہِ وَکُنْ لَھُمْ اِذَا وَقَفُوْایَوْ مَ الْحِسَا بِ مُکَافِیاً

”اس کو رسوا کرنے والے کو رسوا کر اور قیامت کے دن جب وہ حساب کےلئے کھڑا هو تو خود اس کو جزا دینا“

حسان کے اشعار ختم هو نے کے بعد پیغمبر اسلام(ص) نے فر مایا :جب تک اپنی زبان سے ھمارا دفاع کر تے رهو گے روح القدس کی طرف سے تمھاری تائید هو تی رھے گی ۔

غدیر میں جبرئیل کا ظا ھر هو نا [7]

پیغمبر اسلام(ص) کے خطبہ کے بعد ایک اور یہ مسئلہ پیش آیا اور دوسری مرتبہ لوگوں پر حجت تمام هو ئی کہ ایک خوبصورت شخص لوگوں کے پاس کھڑا هوا کہہ رھا تھا :

”خدا کی قسم آج کے دن کے مانندمیںنے کوئی دن نھیں دیکھا ۔کس طرح پیغمبر نے اپنے چچا زاد بھا ئی کے سلسلہ میں تاکید فر ما ئی ،اس کے لئے یوں عھد لیا کہ خداوند عالم اور اس کے رسول کے علاوہ کوئی اس کا کچھ نھیں بگاڑسکتا وائے هو اس پر جو اپنا باندھا هوا پیمان و عھد توڑے“

اس وقت عمر نے پیغمبر اکرم(ص) کی خدمت اقدس میں حاضر هوکر عرض کیا :آپ نے اس مرد کی باتیں سنیں؟آنحضرت (ص) نے فر مایا :کیا تم نے اس شخص کو پہچان لیا ھے ؟عمرنے کھا :نھیں آپ(ص) نے فرمایا :

”وہ روح الامین جبرئیل ھے ۔تم اپنے ایمان کی حفاظت کرنا کہ کھیں عھد شکنی نہ کر بیٹھو،اگر تم نے ایسا کیا تو خدا ،رسول ،ملائکہ اور مو منین تجھ سے بیزار هو جا ئیں گے “

معجزئہ غدیر،تائید الٰھی[8]

معجزہ کے عنوان سے ایک واقعہ جو غدیر کے پروگرام کے اختتام پر پیش آیا وہ ”حارث فھری ‘ ‘ کا ما جرا تھایہ شخص تیسرے دن پروگرام کی آخری گھڑیوں میں اپنے بارہ ساتھیوں کو لیکر آیا اور پیغمبر اکرم(ص) سے عرض کیا :

”اے محمد(ص) میں آپ سے تین سوال پوچھنا چا ہتا هوں :خدا وند عالم کی وحدانیت کی گواھی اور اپنی رسالت کا اعلان آپ نے پرور دگار عالم کی جانب سے یا اپنی طرف سے کیا ھے؟ کیا نماز و زکات و حج اورجھادکا حکم پروردگار عالم کی جا نب سے آیا ھے یا آپ نے اپنی طرف سے ان کا حکم دیا ھے؟ آپ نے جو حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کے با رے میں یہ فرمایا ھے :”مَنْ کُنْتُ مَوْلَا ہُ فَعَلِیٌ مَوْلَاہُ۔۔۔“ یہ آپ نے پر وردگار عالم کی جا نب سے فر مایا ھے یا آپ کی طرف سے ھے ؟

تو آپ نے تینوں سوالوں کے جواب میں فرمایا :

خدا وند عالم نے مجھ پر وحی کی ھے میرے اور خدا کے درمیان جبرئیل واسطہ ھیں ،میں خدا وند عالم کے پیغام کا اعلان کر نے والاهوں اور خداوند عالم کی اجازت کے بغیر میں کو ئی اعلان نھیں کرتا “

حارث نے کھا :”پروردگارا محمد(ص) نے جو کچھ بیان فرمایاھے اگر وہ حق ھے اور تیری جانب سے ھے تو مجھ پر آسمان سے پتھر یا دردناک عذاب نازل فرما “

حارث کی بات تمام هو گئی اور اس نے اپنی راہ لی تو خداوند عالم نے اس پرآسمان سے ایک پتھر بھیجا جو اس کے سر پر گرا اور اس کے پاخانہ کے مقام سے نکل گیا اور اس کا وھیں پر کام تمام هو گیا ۔

اس واقعہ کے بعد آیت:

[9] نازل هوئی پیغمبر اکرم(ص) نے اپنے اصحاب سے فر مایا :کیا تم نے دیکھا اور سنا ھے؟ انھوں نے کھا: ھاں ۔

اس معجزہ کے ذریعہ سب کویہ معلوم هو گیا کہ ”غدیر “ منبع وحی سے معرض وجود میں آیا اور ایک الٰھی فر مان ھے

دوسری جانب ،اس دن کے تمام منافقین اور طول تاریخ میں حارث فھری کے مانند فکر رکھنے والے افراد کےلئے جو اپنی دانست میںخدا و رسول کو تو قبول کر تے ھیں اور یہ جانتے هوئے علی بن ابی طالب (ع) کی ولایت خداوند عالم کی جانب سے ھے صاف طور پر کہتے ھیں کہ ھمیں یہ برداشت نھیں ھے !!خدا کے اس دندانشکن اور فوری جواب نے یہ ثابت کردیا کہ جس نے حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کو قبول نھیں کیا اس نے خدا و رسول کا انکار کیا اور وہ کافر ھے ۔

تین دن کے پروگرام میں پیغمبر اسلام(ص) کے دیگر فرامین[10]

تین دن تک بیعت کا سلسلہ چلتا رھا ،اور مختلف طبقوں کے افراد گروہ گروہ میں آنحضرت (ص) کی خد مت میں حا ضر هو تے رھے ۔ان چھوٹے چھوٹے اجتماعات میں(خطبہ اور مسئلہ بیعت کی اھمیت کے پیش نظر کچھ سوالات ابھر کر سامنے آئے جن کی وضاحت کی ضرورت تھی ۔آنحضرت (ص) نے بھی خطبہ کے مطالب مختصر اور مختلف عبارتوںمیں بیان فر ما تے اور بعض موارد میں وضاحت کے طور پر دیگر مطالب کا بھی اضافہ فر ماتے اور کبھی سوال و جواب کی صورت میں بیان فر ماتے ۔ان میں سے بعض مطالب آپ(ص) مفصل خطبے سے پھلے بیان فر ما ئے جو لوگوں کے آمادہ هو نے کےلئے تھے ھم نمونہ کے طور پر ذیل میں چند فرامین کا تذکرہ کر رھے ھیں :

اپنے انتقال کی خبر

ایھاالناس !مجھ سے پھلے آنے والے تمام انبیا ء نے اس دنیا میںزندگی بسر کی اور جب خدا نے ان کی اجل بھیجی تو انھو ں نے اس پر لبیک کھی ۔میں بھی عنقریب داعی اجل کو لبیک کہنے والا هوں خدوند لطیف و خبیر نے مجھ کو خبر دی ھے کہ گویا مجھ کو بھی دعوت اجل دی گئی ھے اور میں اس پر لبیک کہہ چکاهو ں ۔اے لوگو !ھر پیغمبر اپنی قوم میںاپنے سے پھلے پیغمبر کی نسبت آدھی مدت رہتا ھے ۔

حضرت عیسیٰ بن مریم اپنی قوم کے درمیان چالیس سال رھے اور میں بیس سال کے بعد اس دنیا سے جا نے کےلئے تیار هوں اور نزدیک ھے کہ تم سے مفارقت کر جا وٴں ۔

رسالت کے پہنچا نے پر اقرا ر

آگاہ هو جا وٴ کہ مجھ سے بھی سوال هو گا اور تم سے بھی باز پُرس هو گی ۔میں جو کچھ رسالت کے عنوان سے تمھارے لئے لیکر آیا هوں ،کتاب خدا اور اس کی حجت جس کو میں نے یاد گاری کے طور پر تمھارے درمیان چھوڑا ھے اس کا مسئول هوں اور تم بھی (ان کے سلسلہ میں) مسئول هو ۔کیا میں نے پہنچا دیاھے ؟تم اپنے پروردگار کے سامنے کیا کهوگے ؟

ھر طرف سے آوازیں بلند هو ئیں : ھم گواھی دیتے ھیں کہ آپ خدا کے بندے اور اس کے رسول ھیں ۔آپ نے اس کی رسالت کو پہنچایا اور اس کی راہ میں جھاد کیا آپ(ص) نے اس کا امر پهونچا دیا،آپ خیر خواہ تھے اور جو کچھ آپ (ص) کے ذمہ تھا آپ (ص) نے وہ پهونچا دیا ،خدا وند عالم آپ کو ھماری طرف سے وہ بہترین جزا دے جو کسی پیغمبر کو اس کی امت کی طرف سے دی جا تی ھے ۔

آنحضرت (ص) نے فر مایا :خدا یا گواہ رہنا ۔

دوسرے انداز سے حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کا بیان

ایھا الناس میرا شجرئہ طیبہ بیان کرو ۔لوگوں نے کھا :آپ محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ھاشم بن عبد مناف ھیں ۔

آپ(ص) نے فرمایا :خدا وند عالم جب مجھ کو معراج پر لے گیا تو اس نے مجھ پر اس طرح وحی نازل کی: اے محمد ،میں محمود هوں اور تو محمد ھے !میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے مشتق کیا جو شخص تیرے ساتھ نیکی کرے گا میں اس کے ساتھ نیکی کروں گا اور جو شخص تجھ سے دور رھے گا میں اس سے دور رهوں گا ، میرے بندوں کے پاس جانا اور اپنی نسبت میری کرامت کی ان کو خبر دینا ۔میں نے کوئی پیغمبر نھیں بھیجا مگر یہ کہ اس کا وزیر قرار دیا ۔تم میرے پیغمبر هو اور علی (ع) تمھارے وزیر ھیں !

آگاہ هو جاوٴ : میں تم کو اس چیز کا گواہ بناتا هوں کہ میں گواھی دیتا هوں: خدا وند عالم میرا صاحب اختیار ھے اور میں ھر مومن کا صاحب اختیار هوں کیا تم اس بات کا اقرار کر تے هو اوراس کی گواھی دیتے هو؟ انھوں نے کھا: ھاں ،ھم اس بات کی آپ کےلئے گواھی دیتے ھیں ۔آنحضرت (ص) نے فر مایا :”آگاہ هو جاوٴ مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْ لَاہُ ،جس کا میں مو لا هوں یہ علی اس کے مو لا ھیں “اور امیر المو منین کی طرف اشارہ فرمایا ۔

اے مسلمانو!حاضرین غائبین تک یہ پیغام پہنچا دیں :جو لوگ مجھ پر ایمان لائے اور انھوں نے میری تصدیق کی ھے میں ان کو ولایت علی (ع) کی وصیت کر تا هوں ۔ جان لو کہ علی کی ولایت میری ولایت،اور میری ولایت خدا کی ولایت ھے ۔یہ وہ عھد و پیمان ھے جوخدا وند عالم نے مجھ سے لیاھے اور مجھے تم تک پہنچا نے کا حکم دیا ھے اس کے بعد تین مر تبہ فر مایا :کیا تم نے سنا ؟ انھوں نے کھا : یا رسول اللہ ھم نے سن لیا ۔

ایھا الناس کس چیز کی گواھی دو گے ؟انھوں نے کھا :ھم گواھی دیتے ھیں کہ خدا کے علاوہ اور کو ئی خدا نھیں ھے ۔آنحضرت (ص) نے فرمایا: اس کے بعد کس چیز کی گو اھی دیتے هو ؟انھوں نے کھا :محمد اللہ کے بندے اوراسکے رسول ھیں ۔آنحضرت (ص) نے فرمایا :تمھارا صاحب اختیار کون ھے : انھوں نے کھا: خدا اور اس کا رسول ھمارے صاحب اختیار ھیں ۔آنحضرت (ص) نے فر مایا: جس شخص کے خدا اور رسول صاحب اختیار ھیں یہ شخص(علی علیہ السلام ) اس کے صاحب اختیار ھیں

کیا میں ھر مو من پر ا س کے نفس سے زیادہ حق نھیں رکھتا ؟

انھوں نے کھا :ھاں یا رسول اللہ ۔

آپ (ص) نے آسمان کی طرف نظریں اٹھا کرتین مرتبہ فرمایا:اے خدا گواہ رہنا! اس کے بعد فرمایا : آگاہ هو جا وٴ !جس شخص کا میں صاحب اختیار هوں اور اس کے نفس پر اس سے زیادہ حق رکھتا هوں یہ علی (ع) اس کے صاحب اختیار اور اس کے نفس پر اس سے زیادہ حق رکھتے ھیں ۔

سلمان نے سوال کیا :حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کس طرح ھے اور اسکا نمونہ کیا ھے ؟

آنحضرت (ص) نے فرمایا :علی علیہ السلام کی ولایت میری ولایت کے مانند ھے ۔جس شخص پر میں اس کے نفس سے زیادہ حق رکھتا هوں علی (ع) بھی اس کے نفس پر اس سے زیادہ حق رکھتے ھیں ۔

دوسرے شخص نے سوال کیا :حضرت علی علیہ السلام کی ولایت سے کیا مراد ھے ؟

آنحضرت (ص) نے فرمایا:جس شخص کا میں پیغمبر هوں اس شخص کے یہ علی علیہ السلام امیر ھیں ۔

قیامت کے دن ولایت کا سوال

کیا تم اس بات کو تسلیم کرتے هو کہ اللہ کے علاوہ کوئی خدا نھیں ھے اور میں تمھاری طرف اس کا رسول هوں ،جنت و جہنم اور مرنے کے بعد زندہ هو نا حق ھے ؟

انھوں نے کھا :ھم ان باتوں کی گواھی دیتے ھیں ۔

آپ (ص) نے فرمایا :خدایا یہ جو کچھ کہہ رھے ھیں اس پرگواہ رہنا ۔

آگاہ هو جاوٴ کہ تم لوگوں نے مجھ کو دیکھا ھے اورمیرا کلام سنا ھے ۔ جو شخص جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ با ندھے گا اس کا ٹھکانا جہنم ھے ۔آگاہ هوجاوٴ کہ میں حوض کوثر پر تمھارا منتظر هوںگااور قیامت کے دن دوسری امتوں کے مقابلہ میں تمھاری کثرت پر فخر کروں گا ۔تم وھاں پر آنا لیکن دوسری امتوں کے مقابل میں مجھ کو شرمندہ نہ کرنا !!

آگاہ هو جاوٴ میں تمھارا انتظار کروں گا اور تم قیامت کے دن میرے پاس حوض کوثر پر آوٴ گے وہ حوض جس کی چوڑائی بُصریٰ سے لیکر صنعا تک[11] ھے ،اس میں آسمان کے ستاروں کی تعدادسے برابر پیالے ھیں۔

آگاہ هو جاوٴ کہ قیامت کے دن جب تم میرے پاس حوض کوثر پر حا ضر هو گے تو میں نے جس چیز پر آج تم سے شھادت لی ھے اس کے سلسلہ میں اور ثقلین سے متعلق سوال کروں گا کہ تم نے ان کے ساتھ کیسا برتاوٴ کیا ؟دیکھو جس دن مجھ سے ملاقات کروگے دیکھوں گا کہ تم نے میری عدم مو جود گی میں ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا۔

سوال کیا گیا : یا رسول اللہ ثقلین کون ھیں ؟آپ (ص) نے فرمایا :ثقل اکبر خدا وند عز و جل کی کتاب ھے جو خدا اور مجھ سے تمھارے ھاتھوں میں ایک متصل واسطہ ھے اس کا ایک طرف خداوند عالم کے ھاتھ میں ھے اور دوسری طرف تمھارے ھاتھوں میں ھے اس میں ماضی میںاورروز قیامت تک مستقبل کے علوم موجودھیں ۔

ثقل اصغر قرآن کا ھمتا ھے اور وہ علی بن ابی طالب اور ان کی عترت ھے اور یہ ایک دوسرے سے جدا نھیں هو ںگے یھاں تک کہ قیامت کے دن حو ض کوثر پر میرے پاس حا ضر هوں ۔

ان سے سوال کر نا اور ان کے علاوہ کسی اور سے سوال نہ کرنا ورنہ گمراہ هو جا وٴ گے ۔میں نے ان دونوں کے لئے خدا وند عالم سے درخواستیں کیں وہ خدا وند لطیف و خبیر نے مجھے عطا کی ھیں ،ان کی مدد کرنے والا میری مدد کرنے والااور ان کو رسوا کرنے والا مجھے رسوا کرنے والا ھے ،ان دونوں کا دوست میرا دوست اور ان کا دشمن میرا دشمن ھے ۔تم سے پھلے کو ئی امت ھلاک نھیں هو ئی مگراس وقت جب انھوں نے اپنے دین کو اپنی خواھشات نفسانی کے تحت قرار دے لیا، ایک زبان هو کر اپنے پیغمبر کی مخالفت کی اور اپنے درمیان عدالت سے فیصلہ کر نے والوں کو قتل کر ڈالا۔

آگاہ هو جا وٴکہ میں بہت سے لوگوں کوآتش جہنم سے نجات دلاوٴ ں گا اور لیکن بعض کو مجھ سے لے لیا جا ئے گا میں خدا سے عرض کروں گا پروردگارا یہ میرے اصحاب ھیں ؟!مجھ کو جواب ملے گا :آپ کو نھیں معلوم کہ انھوں نے آپ کے بعد کیا کیا کارنامے انجام د ئے ھیں !!

غدیر کے پروگرام کا اختتام[21]

اس طرح غدیر کا تین دن کا پروگرام اپنے اختتام کو پہنچااور وہ روز ”ایام الولایة“کے نام سے ذہنوں میں بیٹھ گئے،مختلف گروہ اور عرب کے قبیلوںمیں سے ھرایک نے دنیائے معارف اسلام ،اپنے پیغمبرسے الوداع کہنے اور آنحضرت (ص) کے جا نشین کی کامل معرفت کے ساتھ اپنے اپنے شھر و دیار کی راہ لی ۔مکہ اور یمن کے رہنے والے جنوب کی طرف جس راستے سے آئے تھے اسی راستے سے واپس پلٹ گئے ،اور مختلف قبیلے راستے میں اپنے اپنے وطنوں کی طرف چلے گئے آپ(ص) نے بھی مدینہ کا رخ کیادر حا لیکہ کاروان بعثت کو اس کے منزل مقصود تک پہنچا دیا تھا۔

واقعہٴ غدیر کی خبر شھروں میں منتشر هو ئی، بہت جلدی شائع هو ئی اور سب کے کانوں تک پہنچ گئی، اور بیشک مسافروں ،ساربانوں اور تاجروں کے ذریعہ اس وقت کے سب سے دور ممالک یعنی ایران، روم اور چین تک پھیل گئی ،اور غیر مسلم بھی اس سے با خبر هو ئے ۔دوسری جانب ،ملکوں کے بادشاہ جو اسلام کی نئی قدرت و طاقت کے مخالف تھے اور آنحضرت (ص) کی رحلت کے بعد کے ایام کے متظرتھے ان کے ارادے و منصوبے بھی حضرت علی علیہ السلام کے آپ(ص) کے جا نشین هو نے کی خبر سن کر پاش پاش هو گئے ۔ اسلامی معا شرہ دوبارہ نئی طاقت بن کر سامنے آیا ،اور اغیار کے احتمالی حملوںسے محفوظ هو گیا ،اس طرح خدا وند عالم نے لوگوں پر اپنی حجت تمام کی: حضرت امیر المو منین علیہ السلام فر ما تے ھیں :

”مَاعَلِمْتُ اَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ (ص)تَرَکَ یَوْمَ الْغَدِیْرِلِاَحَدٍ حُجَّةً وَلَالِقَائِلٍ مَقَا لاً“[13]

”پیغمبر اکرم(ص) نے غدیر کے دن کسی کےلئے کوئی حجت اور کوئی بھانہ باقی نھیں چھوڑا ‘ ‘

یھیں سے خدا وند تبارک و تعالیٰ کے کلام کے عمیق و دقیق هو نے کو پہچانا جا سکتا ھے جو یہ فر ماتا ھے :

”لَوْ اِجْتَمَعَ النَّاسُ کُلُّھُمْ عَلیٰ وِلَایَةِ عَلِیٍّ مَاخَلَقْتُ النَّارَ “[14]

”اگر تمام لوگ حضرت علی علیہ السلام کی ولایت پر متفق هو جاتے تو میں جہنم کو پیدا نہ کر تا “

__________________

[1] بحار الانوار:جلد ۲۱صفحہ ۳۸۷۔امالی شیخ مفید:صفحہ ۵۷۔

[2]بحار الانوار جلد۲۱ صفحہ ۳۸۷، جلد ۲۸ صفحہ ۹۰، جلد ۳۷ صفحہ۱۲۷ ۔۱۶۶۔ا لغدیر جلد ۱ صفحہ ۵۸،۲۷۱،۲۷۴۔ عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۴۲،۶۰،۶۵،۱۳۴،۱۳۶،۱۹۴،۱۹۵،۲۰۳،۲۰۵۔

[3] بحارالانوار جلد ۲۱صفحہ/ ۳۸۸۔عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۳۰۹۔

[4] الغدیر جلد ۱صفحہ/ ۲۹۱۔عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۱۹۹۔اثبات الھداة جلد۲صفحہ۲۱۹حدیث ۱۰۲۔

[5] تاج العروس جلد ۸ صفحہ ۴۱۰۔

[6] بحا رالانوار :جلد ۲۱ صفحہ ۳۸۸،جلد ۳۷ صفحہ ۱۱۲،۱۶۶،۱۹۵۔عوالم :جلد۱۵/۳ صفحہ ۴۱،۹۸،۱۴۴،۲۰۱۔کفا یة الطّالب صفحہ ۴۔اشعار کاعربی متن کتاب سلیم بن قیس صفحہ۲۸۲ سے نقل کیا گیا ھے جوتھوڑے فرق کے ساتھ دوسروں کتابوں میں بھی موجود ھے۔

[7] بحارالانوار جلد ۳۷ صفحہ ۱۲۰،۱۶۱۔عوالم جلد ۱۵/۳ صفحہ ۸۵ ،۱۳۶۔

[8] بحار الانوار جلد ۳۷ صفحہ ۱۳۶ ،۱۶۲،۱۶۷۔عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۵۶،۵۷،۱۲۹،۱۴۴۔الغدیر:جلد ۱ صفحہ ۱۹۳۔یہ بات بیان کر دینا ضروری ھے کہ روایات میں ”حارث فھری “کا نام مختلف ناموں سے ذکر هوا ھے، احتمال ھے کہ بعض نام اس کے بارہ ساتھیوں کے هوں ۔

[9] سوره معارج آیت /۲۱۔

[10] عوالم العلوم جلد ۱۵/۳صفحہ ۴۳،۴۴،۴۶،۴۹،۵۴،۷۵،۹۷،۱۹۶،۱۹۹،۲۳۹،۲۶۱۔

[11] ”بصری “ملک شام کا ایک شھر ھے اور”صنعا “ملک یمن کا ایک شھر ھے ،لیکن یھاں پر اس سے حوض کوثرکا وسیع هونا مراد ھے “

[12] بحار الانوار جلد ۳۷صفحہ ۱۳۶،جلد ۳۹صفحہ ۳۳۶،جلد ۴۱صفحہ۲۲۸۔عوالم :جلد۱۵/۳صفحہ ۶۸۔کشف المھم :صفحہ ۱۰۹۔بصا ئرالدرجات صفحہ۲۰۱۔

[13] اثبات الھُداة :جلد ۲ صفحہ ۱۵۵حدیث۴۷۶۔

[14] بحارالانوار جلد ۳۹صفحہ۲۴۷۔                                    

اسرار غدیر

 غدیر میں شیاطین و منافقین

ابلیسی شیاطین اور انسانی شیاطین کے رد عمل کا افشا اوران کے اقدامات پر روشنی ڈالناغدیر کی اھم ابحاث میں سے ھے ،چو نکہ اس کے پس منظر میں پیغمبر اسلام(ص) کی رحلت کے بعد جو کچھ واقع هوا اس کا آسانی سے پتہ لگایا جا سکتا ھے کہ لوگوں نے آپ (ص) کی ایک پوری زندگی کی زحمات اور غدیر کے عظیم خطبہ کوکوئی اھمیت نہ دیتے هو ئے بھُلادیا ، یہ سب کچھ قطعاً ان کی پھلے سے بنائی هوئی سازشوںکے تحت تھا شیطانوںاور منافقوں نے اپنی تمام تر کو ششوں کو اس سلسلہ میں صرف کر دیا تھا ۔

غدیر میں ابلیس اور اس کے گروہ پر مصائب کے پھا ڑ ٹوٹ گئے ،اور منافقین بھی نا امید ی و افسوس میں بسر کر رھے تھے ،ان کی تمام امیدوں پر پانی پھر گیا تھا ۔

شیطان اور اس کے تابعین امت اور مسلمانوں کو گمراہ کر نے اور جہنم رسید کر نے کی نئی فکر کر نے میں لگے تھے ،اور بظاھر مسلمان نما کفار دوران جا ھلیت اور کفر وشرک و الحاد کو دوبارہ زندہ کر نے کی فکر میں لگے هو ئے تھے ۔

تاریخ کے اس حصہ میں یہ بات ھلا دینے والی ھے کہ غدیر میں شیاطین اپنے دل منافقین سے لگا ئے هو ئے تھے اور وہ اپنی انکھوں سے ٹکٹکی باندھے هو ئے ان کے ھاتھوں اور ان کے پروگراموںکو دیکھ رھے تھے ،اور خود کو ھر طرح سے بے سروپا سمجھ رھے تھے یہ مشرک و کافر منافقین تھے جنھوں نے شیطان اور اس کے تابعین کو سرخرو کر دیا تھا ،اور انھوں نے اپنے فرزندان خَلَف کو جواُن سے کسی طرح کم نھیں تھے وحی نبوت سے مقابلہ کا درس دیااور ایسا نقشہ کھینچا کہ نہ صرف وہ اپنے برے مقاصد میں کامیاب هو ئے بلکہ قیامت تک اکثر مسلمانوں کو صراط مستقیم اور پیغمبر(ص) کے برحق بارہ جا نشینوں سے منحرف کردیا اور اسلامی خلافت کودنیا کے سامنے مخدوش بھی کردیا ۔

مزید  رمضان المبارک کے سولہویں دن کی دعا

اس حصہ میں پھلے ھم غدیر کے دن ابلیس اور شیطانوں کے درمیان رو نما هو نے والے واقعات بیان کریں گے اس کے بعد منافقین کے اقدامات اور ردعمل کو بیان کریں گے۔

۱ غدیر میں ابلیس اورشیاطین

ابلیس اور اس کے شاگرد” انسان کے سخت ترین دشمن “غدیر کواپنے لئے سب سے خطرناک موقع سمجھ رھے تھے ۔ان کو یہ خیال تھا کہ غدیر کے بعد مسلمانوں کے گمراہ هو نے کا راستہ بند هو جا ئے گا اسی وجہ سے وہ سب اس دن بڑے غمگین و رنجیدہ تھے اور وہ بلندآواز سے فریاد کر رھے تھی ۔

لیکن انسانی شیطانوں نے ابلیس کی آواز پر لبیک کھی اور وھیں غدیر میں ھی اس سے وعد ے کئے، منصوبے بنائے ،جس سے اس کے تمام رنج و غم دور هو گئے اور وہ خوش و خرم و مسرور هو گیا ۔

جب اس نے سقیفہ میں ان تمام پر وگراموں کو عملی جامہ پہنتے دیکھا تو وہ پھولا نھیں سما رھا تھا ،اس دن ابلیس(سب سے بڑا شیطان ) نے ان کی تاج پوشی کی اور ا پنے گروہ کو رسمی طور پر خوش وخرم هو نے کا حکم دیا ۔

ھم ذیل میںاس مدعا سے متعلق چند احا دیث نقل کر رھے ھیں :

غدیر میں شیطان کی فریاد

امام محمد با قر علیہ السلام نے فرما یا ھے :ابلیس کی چار مر تبہ فریادبلند هوئی :جس دن وہ خدا وند عالم کی لعنت کا مستحق قرار پایا ،جس دن آسمان سے زمین پر بھیجا گیا ،جس دن پیغمبر اکرم(ص) مبعوث هو ئے اور غدیر خم کے دن (جب امیر المو منین علیہ السلام جانشین رسول بنے )۔[1]

منافقین کے شیطان کے ساتھ وعدے

امام محمد باقر علیہ السلام کافرمان ھے :جب پیغمبر اکرم(ص) نے حضرت علی علیہ السلام کا ھاتھ پکڑکر فرمایا ابلیس اور اس کے گروہ کے بڑے بڑے شیاطین مو جود تھے ۔

ان شیاطین نے اس سے کھا :تو نے ھم سے یہ نھیں کھا تھا !بلکہ تم نے تو یہ خبر دی تھی کہ جب پیغمبر دنیا سے رحلت کریں گے تو ان کے اصحاب متفرق هو جا ئیں گے !لیکن آنحضرت کے بیان سے تو یہ واضح هو رھا ھے کہ انھوں نے ایک محکم پروگرام کی پیش گوئی کی ھے کہ جب ان کے جانشینوں میں سے ایک کا انتقال هو جا ئیگا تو دوسرا اس کا قائم مقام هو گا !

ابلیس نے جواب دیا :جاوٴ ، ان کے اصحاب نے مجھ سے یہ وعدہ کیا ھے کہ ان کی کسی بات کا اقرار نہ کریں ،اور وہ اپنے اس وعدے سے ھر گز سر پیچی نھیں کر یں گے ![2]

مسلمانوں کے مرتد اور کافر هو جانے سے شیطان خوش

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایاھے :جب پیغمبر اکرم(ص) نے امیر المو منین حضرت علی علیہ السلام کا ھاتھ اپنے ھاتھ میں لیا تو ابلیس نے ایک چیخ ماری جس سے خشکی اور تری کے تمام شیطانوں نے اس کو اپنے گھیرے میں لے کر کھا :اے ھمارے آقا ،اور اے ھمارے مولا آپ کو کس مشکل نے گھیر لیا؟ ھم نے آج تک تمھاری اس سے زیادہ بھیانک آواز نھیں سنی !

ابلیس نے کھا :

اس پیغمبر اکرم(ص) نے وہ کام انجام دیا ھے کہ اگر نتیجہ بخش ثابت هو گیا تو ھر گزکوئی خدا وند عالم کی معصیت نھیں کرے گا ۔

شیطانو ں نے کھا :اے ھمارے آقا ،اے ھمارے مولا تم نے تو آدم علیہ السلام تک کو گمراہ کردیا!

جب منافقین نے آپس میں باتیں کیںکہ:”پیغمبر اپنی خواھشات نفسانی سے بات کررھے ھیں“ اوران دو آدمیوں (ابو بکر اور عمر )میںسے ایک نے دوسرے سے کھا :نھیں دیکھ رھے هو کہ ان کی آنکھیں ان کے سر میں دیوانوں کی طرح گردش کر رھی ھیں “،جب ان دونوں نے یہ باتیں کیں تو ابلیس نے خوشی سے نعرہ لگایا اور اس نے اپنے تمام دوست و احباب کو جمع کر کے کھا :کیا تم جا نتے هو کہ میں نے آدم علیہ السلام کو گمراہ کیا ؟انھوں نے کھا :ھاں ،تو ابلیس نے کھا:آدم (ع) نے اپنا عھد و پیمان توڑالیکن وہ منکر خدا نھیں هو ئے لیکن ان لوگوں نے اپنے عھد و پیمان کو توڑ دیا اور پیغمبر کا انکار کر بیٹھے “!!

جب پیغمبر اکرم (ص)نے انتقال فر مایا اور لوگوں نے حضرت علی علیہ السلام کوچھوڑکر غیر کو اپنا خلیفہ بنا لیاتو ابلیس نے بادشاہت کا تاج سر پر رکھا اور ایک منبر رکھ کر اس پر بیٹھا اپنے تمام شیطانوں کو جمع کر کے کھا:

”خوشی مناوٴ اس لئے کہ جب تک امام قیام نھیں کرےگا اس وقت تک خدا وند عالم کی اطاعت نھیں هو سکتی “[3]

شیعو ں کو گنا ہ میں ملوث کر نے کی شیطان کی کو شش

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فر مایا :جب پیغمبر اکرم(ص) نے غدیر خم میں خطبہ دیا اور امیر المو منین علیہ السلام کولو گوں کے لئے اپنا خلیفہ و جانشین معین فرمایا تو شیطان نے ایک چیخ ماری جس سے اس کے تمام دوست و احباب اس کے پاس جمع هو کر کہنے لگے اے ھمارے سردار تم نے یہ چیخ کیوں ماری ؟!ابلیس نے کھا :وائے هو تم پر آج کا دن عیسیٰ کے دن کے مانند ھے !

خدا کی قسم ،اس سلسلہ میں لوگوں کو گمراہ کروں گا ۔۔۔

ابلیس نے دوسری مرتبہ چیخ ماری تو اس کے گروہ کے بڑے بڑے لیڈر اس کے پاس جمع هو کرکہنے لگے : اے ھمارے سردار یہ دوسری چیخ کیوں ماری ؟!ابلیس نے کھا :

خدا وند عالم نے میرے قول کے سلسلہ میں آیت نازل فر مائی ھے [4]

”اور ان پر ابلیس نے اپنے گمان کو سچ کر دکھایا“

اس کے بعد ابلیس نے آسمان کی طرف متوجہ هو کر کھا :

خداوندا تیری عزت و جلال کی قسم ھدایت یافتہ گروهوں کو بھی دوسرے گروهوں سے ملا دوں گا !

اس مقام پر پیغمبر ”جو ابلیس کے کردار ورفتار سے واقف تھے “نے خداوند عالم کی جانب سے اس آیت کی تلاوت فرمائی: [5]

”میرے بندوں پر تیرا کو ئی اختیار نھیں ھے “

پھر ابلیس نے چیخ ماری اور اس گروہ کے بڑے سردار نے اس کے پاس واپس آکر اس سے سوال کیا یہ تیسری چیخ کیوں ماری؟ابلیس نے کھا :

خدا کی قسم ،میں علی علیہ السلام کے اصحاب پر (تسلط نھیں رکھتا هوں)!لیکن خدوند عالم تیری عزت و جلال کی قسم ،گنا هوں کو ان کے لئے (یعنی علی علیہ السلام کے شیعہ )اچھا بناکر پیش کروں گا ،تاکہ ان کوان کے ارتکاب کرا کے تیری بارگاہ میں مبغوض کروں ۔[6]

غدیر میں شیطان کی پیغمبر اکرم(ص) سے گفتگو

غدیر میں شیطان نے ایک بوڑھے خوبصورت مرد شکل میں پیغمبر اکرم(ص) کی خدمت میں حاضر هوکر کھا :اے محمد ،کتنے کم افراد ھیں جو آپ کی گفتگو کے مطابق آپ کی واقعی بیعت کر نے والے ھیں !![7]

غدیر میں شیطان کا حزن اور سقیفہ میں خو شی

امیر المومنین علی علیہ السلام نے فر مایا :پیغمبر اکرم(ص) نے مجھے خبر دی ھے :

ابلیس اور اس کے گروہ کے بڑے بڑے لیڈر میرے جانشین بننے کے وقت غدیر میں مو جود تھے اس دن ابلیس کے اصحاب نے اس کی طرف منھ کر کے کھا : یہ امت رحمت کے لائق قرار پائی اور گمراھی سے محفوظ هو گئی ،اب ھمارے اور تمھارے لئے ان کو بھکا نے کا کوئی موقع نھیں ھے ،چونکہ انھوں نے پیغمبر اکرم(ص) کے بعد اپنے امام اورپناہ گاہ کی معرفت حا صل کر لی ھے ۔

ابلیس غمگین و رنجیدہ هو کر ان سے جدا هو گیا ۔

امیر المو منین علی علیہ السلام نے مزید فرمایا :پیغمبر اکرم(ص) نے مجھ کو خبر دی ھے:

میری رحلت کے بعد جب لوگ تمھاری بیعت توڑ لیں گے ابلیس اپنے اصحاب کو جمع کر ے گا اور وہ اس کو سجدہ کر تے هو ئے سوال کریں گے :

اے ھما رے سرپرست ،اے ھمارے بڑے سردار ،تونے ھی نے حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے باھر کیا تھا !

ابلیس کہتا ھے :

کو نسی امت اپنے پیغمبر کے بعد گمراہ نھیں هو ئی ؟!تم یہ گمان کر تے هو کہ میں ان پر کو ئی تسلط نھیں رکھتا هوں ؟!تم نے مجھ کو کیسا پایا کہ میں نے ایسا کام کیا جس سے انھوں نے حضرت علی علیہ السلام کی اطاعت کے سلسلہ میں خدا اور پیغمبر کے امر کو ترک کر دیا ؟[8]

_________________

[1] بحا رالانوار جلد ۳۷ صفحہ ۱۲۱۔

[2] بحار الانوار جلد ۳۷ صفحہ ۱۲۰ ،۱۶۸۔عوالم :جلد۱۵/۳صفحہ ۱۲۵،۱۳۵۔

[3] روضہٴ کافی صفحہ ۳۴۴ حدیث ۵۴۲۔اس آخری حدیث کا عربی متن اس طرح ھے :لَا یُطَاعُ اللّٰہُ حتیّٰ یَقُوْمَ الْاِمَامُ“اس جملہ کے معنی میں دو احتمال پائے جا تے ھیں :

الف:جب تک امام حق امور کی باگ ڈور اپنے ھاتھ میں نہ لے خدا کی اطاعت نھیں هو سکتی ھے ۔

ب:جب تک امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف قیام نہ کریں خدا کی مکمل طور پر اطاعت نھیں هو سکتی ۔

[4] سوره سباآیت/۲۰۔

[5] سوره حجر آیت/۴۲۔

[6] بحارالانوار جلد ۳۷صفحہ۱۶۴،۱۶۵۔

[7] بحار الانوار جلد ۳۷صفحہ ۱۳۵۔عوالم :جلد ۱۵/۳صفحہ ۳۰۳۔

[8] کتاب سلیم حدیث۵۷۹۔روضہ ٴ کافی صفحہ ۳۴۳حدیث ۵۴۱۔

۲ غدیر میں منافقین

غدیر میں منافقین کے رفتار و کردار کا تین طرح سے جا ئزہ لیا جا سکتا ھے :

۱۔غدیر کے خلاف ان کے عملی اقدامات اور سازشیں ۔

۲۔غدیر کے سلسلہ میں ان کا حسد،کینہ اور منافقانہ اقوال۔

۳۔غدیر میں ان کے عکس العمل کے واضح نمونے ۔

غدیر میں منا فقوں کی سازشیں

غدیر سے مدتوں پھلے منافق پیغمبر اکرم(ص) کے خلاف اپنی صفوف مستحکم کر رھے تھے اور بعض حساس مو قعوں پرتھوڑا بہت اپنی منافقت کا اظھار بھی کرتے رہتے تھے ۔

حجة الوداع میںجب منافقین آپ (ص) کی رحلت کے نزدیک اوراپنے بعد رسمی طور اپنا جانشین معین فرمانے سے واقف هوئے تو منافقین بنیادی اقدامات کاآغاز کیا اور خود کو پیغمبر اسلام (ص)کی رحلت کے بعدکے دنوں کےلئے آمادہ و تیار کرلیا ،اس مقام پر کفر و نفاق متحد هوگئے ،ان کے جاسوس پیغمبر اسلام(ص) کے ارادوں کے جزئیات کو ان تک پہنچا نے لگے ۔

پھلی سازش[1]

منافقوں کی سازشوں کا نطفہ اس وقت منعقد هوا جب دو آدمیوں نے اس بنیادی کام کے سلسلہ میںآپس میں عھد و پیمان کیاکہ :

”اگر محمد اس دنیا سے کوچ کر گئے یا قتل هو گئے تو ھر گز ان کی خلافت اور جا نشینی ان کے اھل بیت علیھم السلام تک نھیں پہنچنا چا ہئے “

ان کے اس عھد میں تین آدمی اور شریک هو گئے اور سب سے پھلا معاھدہ کعبہ کے پاس لکھاگیا، دستخط کر نے کے بعد اس کو کعبہ کے اندر زیر خاک چھپا دیا گیا تاکہ اس پیمان کو ھر حال میں عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک سند رھے ۔

ان تین آدمیوں میں سے ایک شخص معاذ بن جبل کا کہنا ھے :

”آپ اس مسئلہ کو قریش کے ذریعہ حل کریں انصار کا ذمہ وار میں هوں “

انصار کے رئیس کل” سعد بن عبادہ“ تھے ،وہ ابو بکر و عمر کے ساتھ ھم عھد بھی نھیں تھے لہٰذامعاذ بن جبل، بشیر بن سعید اور اسید بن حضیرجو آدھے انصار یعنی ان کے دو قبیلے” اوس“ اور” خزرج“میں سے ایک کا حاکم تھا، کی تلاش میں نکلے اور ان کو خلافت غصب کر نے کےلئے اپنا ھم عھد بنالیا۔

پیغمبر اسلام(ص) کو قتل کر نے کی سازش[2]

پیغمبر اسلام (ص)کو قتل کر نے کی سازش ایک مرتبہ جنگ تبوک میں اور کئی مرتبہ زھر اور دوسرے حربوں سے کی گئی مگر ھر بار ناکامی هو ئی ۔

لیکن حجة الوداع کے موقع پر انھیں پانچ ھم پیمان منافقوں نے دوسرے نو افراد کے ساتھ مل کرآخری مرتبہ مکہ سے مدینہ واپس آنے کے راستہ میں پیغمبر اسلام (ص)کو قتل کرنے پر وگرام بنایا اور اس پروگرام کی ایک وجہ حضرت علی بن ابی طالب کے اعلان خلافت سے پھلے پیغمبر (ص)کو قتل کرکے آسانی سے اپنے مقاصد تک پہنچنا تھی لیکن محل سازش تک پہنچنے سے پھلے ھی حکم خدا نازل هوگیااور غدیر کے مراسم انجام پاگئے۔اگر چہ وہ اپنے منصوبے سے پیچھے نھیں ہٹے۔

ان کا پروگرام یہ تھاکہ کوہ ھرشیٰ کی چوٹی پر کمین میں بیٹھاجائے چونکہ اکثرلوگ ،پھاڑ کے دامن سے گذرجاتے ھیں اور چوٹی پر نھیں آتے لہٰذاجیسے ھی پیغمبر اکرم (ص)کا اونٹ پھاڑکی چوٹی سے گذر کر اترنے لگے گا تو بڑے بڑے پتھر آپ (ص) کے اونٹ کی طرف پھینک دئے جائےںجو آپ (ع) کے اونٹ کو جاکر لگیںجس سے آپ (ع) کااونٹ یا گر جائے یا اچھل کر پیغمبر اکرم (ص)کو گرادے اور وہ رات کی تاریکی میں آ پ (ع) پر حملہ کردیںاور یقینی طورپر پیغمبر (ص)کا خون هوجائے۔

اور اسکے بعد فرار هوکر دوسرے لوگوں کے ساتھ مل جائیں تاکہ قاتل کا پتہ نہ چل سکے ۔

پیغمبر اسلام (ص)کے قتل کی سازش ناکام

خداوندعالم نے اپنے پیغمبر (ص)کو اس پرو گرام سے آگاہ کیا اور ان کی حفاظت کاوعدہ دیا۔چودہ افراد پر مشتمل منافقین کا گروہ ”رات کی تاریکی میں اپنی وعدہ گاہ کو ہ ھرشی کی چوٹی کا اختتام اور اس کے نشیب کی ابتدا “پر پہنچا اور اپنے اونٹوں کو ایک کنارے پر بٹھادیااور سات سات آدمی پھاڑکے دائیں بائیںچھپ کر بیٹھ گئے۔ انھوں نے اپنے پاس کے بڑے بڑے برتن ریت اور کنکریوں سے بھر کر رکھے هوئے تھے تاکہ پیغمبر (ص)کے اونٹ کی طرف ان کو پھینک کر اسکو دوڑادیں۔

جیسے ھی پیغمبر اسلام (ص)کی سواری پھاڑکی چوٹی پر پہنچی اور پھاڑسے نیچے اترنا چاہتی تھی منافقوںنے بڑے بڑے پتھر اور ریت اور کنکریوں سے بھرے برتنوں کو ان کی طرف چھوڑ دیا۔قریب تھاکہ اونٹ کو جاکے لگتے یا اونٹ دوڑنے بھاگنے لگتا۔پیغمبر اسلام (ص)نے اونٹ کو رک جانے کا حکم دیا۔یہ واقعہ اس وقت رونما هوا جب حذیفہ اورعمار میں سے ایک آنحضرت کی سواری کی لگام تھامے هوئے تھے اور دوسرا اسکو پیچھے سے ھانک رھا تھا۔

اونٹ کے رک جانے سے پتھرگذرکر پھاڑسے نیچے کی طرف چلے گئے اور آنحضرت (ص) صحیح وسالم بچ گئے۔منافقین کو جو اپنے اس دقیق پروگرام سے مطمئن تھے فوراً تلواریں لے کر کمینگاهوں سے باھر نکل آئے اور آنحضرت(ص) کی طرف حملہ کرنے کےلئے بڑھے۔

لیکن عمار اور حذیفہ نے بھی تلوار یں کھینچ لیں اور جوابی کاروائی شروع هوگئی۔آخر کار وہ بھاگنے پر مجبور هوگئے۔

منافقوں نے پھاڑوں کے پیچھے پناہ لی تاکہ پیغمبر کے تھوڑا آگے بڑھنے کے بعد رات کی تاریکی سے استفادہ کر تے هو ئے قافلہ کے ساتھ ملحق هو جا ئیں ۔

اس لئے کہ آنے والی نسلوں کو یہ معلوم هو جا ئے کہ اس زمانہ میں منافقین کے سردار کون لوگ تھے اور پیغمبر اسلام(ص) کے بعد هو نے والی سازشوں کی تحلیل آسانی سے هو سکے ،آپ (ص) نے اسی رات ان کے چھروں سے نقاب الٹ دی اور اچانک چند لمحوں کےلئے فضا میں نور چمکا جس سے عمار اور حذیفہ نے بھی ان چودہ افراد کے چھروں کو بخوبی پہچان لیاحتی ان کی سواریوں کو بھی دیکھ لیا جن کو انھوں نے ایک طرف بٹھا رکھا تھا اور وہ چودہ آدمی یہ تھے :

ابو بکر ،عمر ،عثمان ،معاویہ ،عمرو عاص ،طلحہ،سعد بن ابی وقاص ،عبد الرحمن بن عوف ،ابو عبیدہ بن جراح ،ابو موسیٰ اشعری ،ابو ھریرہ ،مغیرہ بن شعبہ ،معاذ بن جبل اور سالم مو لیٰ ابی حذیفہ۔

پیغمبر اسلام(ص) کو یہ حکم تھا کہ اس وقت آپ ان سے کو ئی بات نہ کریں اس لئے کہ ان حساس حالات میں فتنہ و فساد پھیلنے اور گزشتہ تمام زحمتوں کے بر باد هو نے کا خطرہ تھا ۔

دوسرے روز جب صبح کی نماز با جماعت قائم هو ئی تو یہ چودہ لوگ سب سے پھلی صف میں تھے!! اور آنحضرت (ص) نے ان کی طرف اشارہ کر تے هو ئے چند باتیں بیان کیں اور فرمایا :

”کچھ لوگوں کو کیا هو گیا ھے کہ انھوں نے کعبہ میں یہ قسم کھا ئی ھے کہ اگر محمد(ص) دنیا سے چلے گئے یا قتل هو گئے تو ھر گز خلافت ان کے اھل بیت علیھم السلام تک نھیں جانے دیں گے ۔

مدینہ میں دوسری سازش[3]

وہ منافق جو پھلے شکست کھا چکے تھے انھوں نے ھی مدینہ پہنچتے ھی ایک میٹنگ کی جس میں وہ چو نتیس افراد شریک هو ئے جو پیغمبراکرم (ص) کی رحلت کے بعد اس طرح کے کا موں میں پیش پیش رہتے تھے ۔

اس میٹنگ میں آئندہ کے پروگرام کا منصوبہ بنایا گیااور سب نے اس پر دستخط کئے۔دستخط کرنے والوں میں گذشتہ چودہ افراد کے علاوہ بعض قبیلوں کے سردار تھے کہ جن میں سے ھر ایک کے ساتھ لوگوں کا ایک گروہ تھا۔منجملہ ان میں سے :ابوسفیان، ابوجھل کابیٹا عکرمہ،سعید بن عاص،خالد بن ولید، بشیر بن سعید، سھیل بن عمرو ،ابوا لاعور اسلمی،صھیب بن سنان اور حکیم بن حزام تھے۔

پیمان نامہ کا لکھنے والا سعید بن عاص اورمیٹنگ کی جگہ ابوبکر کا گھر تھا۔دستخط کے بعد پیمان نامہ کو بند کرکے ابو عبیدہ جراح کو بعنوان امانت دےدیا تاکہ اسکو مکہ لے جائے اور کعبہ کے اندر پھلے صحیفہ کے ساتھ دفن کردے تاکہ سند کے طور پر محفوظ رھے۔

اسکے دوسرے دن پیغمبر اسلام (ص)نے نماز صبح کے بعد منافقوں کے اس اقدام کی طرف اشارہ کرتے هوئے فرمایا:

میری امت کے بعض لوگوں نے ایک معاھدہ لکھا ھے جو زمان جاھلیت کے اس معاھدہ سے مشابہ ھے جو کعبہ میں لٹکایا هواتھا لیکن میںاس راز کو فاش نہ کرنے پر مامور هوں“

اسکے بعد ابو عبیدہ جراح کی طرف رخ کرکے فرمایا”اب تم اس امت کے امین بن گئے هو؟“

اسامہ کا لشکر[4]

پیغمبر اکرم (ص)نے منافقین کے اقدامات کے ساتھ آخری مقابلہ کرنے اور اپنی وفات کے بعد مدینے کو ان کے وجود سے خالی کرنے کی غرض سے اسامہ بن زید کی حکمرانی میں ایک لشکرتشکیل دیااور منافقین میں سے چار ہزار افراد کو ان کے نام کے ساتھ معین کرکے حکم دیا کہ یہ گروہ حتماًاس لشکر میں حاضر هواور جلدازجلدسرزمین شام میں رومیوں کی طرف حرکت کریں۔اس گروہ میں سے ابوبکراور عمر کے لشکر میں حاضرهونے پر زیادہ زور دے رھے تھے آنحضرت (ص) کا اس میں شامل نہ هونے والوںپرلعنت کرنا اور لشکرکے جلدی حرکت کرنے والوں پر لعنت کرنے پر زیادہ زور دینا قابل دید تھا۔

لیکن آنحضرت کے اس اقدام کی منافقوں نے سخت مخالفت کی اور کسی نہ کسی بھانے سے مدینہ واپس لوٹ آنے اور لشکر کے حرکت کرنے میں اتنی تاخیر کی کہ پیغمبراسلام(ص) دنیا سے رحلت فرماگئے اور انھوں نے اپنے پروگراموںکو آسانی سے عمل میں لاناشروع کردیا۔

غدیر کا نور ولایت کا محافظ

یہ واقعہ غدیر کے زمانے میں منافقین کے اقدامات اور نیز ان کے مقابلے میں ان کی سازشوں کو ناکام کرنے ،تیئیس سالہ زحمات کی حفاظت کرنے، اور مسلمانوں کی آنے والی نسلوں کی ھدایت کے لئے پیغمبر اکرم (ص)کے اقدامات کا خلاصہ تھا۔

لیکن منافقین نے اپنی سازشوں کو عملی جامہ پہنادیااور پیغمبر اکرم (ص)کی رحلت کے بعدمسلمانوں کو پچھلے پاؤں پلٹنے پر مجبورکردیا اور مسلمان بھی پیغمبر (ص)کی زحمات اور واقعہٴ غدیر کو نظر انداز کرکے جاھلیت کی طرف پلٹ گئے۔اور اس کام میں انھوں نے اتنی جلدی کی کہ پیغمبر اکرم (ص) کے غسل ودفن هونے کا بھی انتظار نھیں کیا !!

امام صادق (ع) سے اس آیةشریفہ کے بارے میں سوال هوا ”یعرفون نعمةاللهثم ینکرونھا “ تو آپ نے فرمایا:

”غدیر کے دن اسکو پہچانتے ھیں اور سقیفہ کے دن اسکا انکار کرتے ھیں “[5]

طول تاریخ میں امیر المومنین علی علیہ السلام کے مقابلے میں منافقوں کے اقدامات کو مد نظر رکھ کر خداوند متعال کے اس کلام کی گھرائی کو معلوم کیا جاسکتاھے:

”اگر تمام لوگ ولایت علی پر متفق هو جا تے تو میں آتش جہنم کو پیدا نہ کر تا “[6]

غدیر میں منافقین کے اقوال

منافقوں نے غدیر کے دن کینہ اور حسد کی وجہ سے جو الفاظ کھے ان میںسے بعض اس وقت سے مر بوط ھیں جب آنحضرت (ص) خطبہ ارشاد فر ما رھے تھے ،خاص طور سے جس وقت آ پ امیر المومنین (ع) کے ھاتھوں کو بلند کرکے ان کا تعارف کرا رھے تھے ،بعض الفاظ اس پروگرام کے ختم هوجانے کے بعد سے متعلق ھیںجب منافقین آپس میں جمع هوکر ایک دوسرے کو اپنا درد دل سنا رھے تھے

خطبہ کے دوران ان کی گفتگوکے چندنمونے[7]

وہ اپنے چچا زاد بھائی کے گرویدہ هو گئے ھیں ۔

وہ اس جوان کے سلسلہ میںدھوکہ کھاگئے ھیں۔

وہ اپنے چچازاد بھائی کے معاملہ کوعجب محکم اور مضبوط کر رھے ھیں ۔

ھم راضی نھیں ھیں ،اور یہ ایک تعصب ھے !

ھم ھر گز ان کی بات ماننے کے لئے تیار نھیں هو ں گے ۔

یہ امر خدا نھیں ھے وہ اپنی طرف سے کہہ رھے ھیں !

ان کی آنکھوں کودیکھو(معاذاللہ)مثل دیوانوں کے گھوم رھی ھیں ۔

اگر اس میں طاقت و قدرت هو تی تو قیصر و کسریٰ کی طرح کام کر تا !

خطبے کے بعد کی گفتگو کے چند نمونے[8]

ھمارے سب منصوبے خاک میں مل گئے!

ھم ھر گز محمد(ص) کی بات کی تصدیق نھیں کریں گے اور علی (ع) کی ولایت کا اقرار نھیں کریں گے۔

ھمیں بھی علی کی ولایت میں شریک کرے تاکہ ھمارا بھی کچھ حصہ رھے۔

وہ ابھی علی (ع) کو ھمارے اوپر مسلط کررھے ھیںلیکن خدا کی قسم بعد میں انکو معلوم هوگا(کہ ھم نے کیا منصوبے بنا رکھے ھیں۔)

_____________________

[1] بحار الانوار جلد ۱۷صفحہ ۲۹،جلد ۲۸صفحہ ۱۸۶،جلد۳۶ صفحہ ۱۵۳،جلد ۳۷صفحہ ۱۱۴،۱۳۵۔کتاب سلیم: ۸۱۷ حدیث ۳۷۔ عوالم ۱۵/۳صفحہ ۱۶۴۔

[2] بحا رالانوار جلد ۲۸صفحہ ۹۹۔۱۰۰،جلد ۳۷ صفحہ ۱۱۵،۱۳۵۔عوالم:جلد ۱۵/۳صفحہ ۳۰۴۔اقبال الاعمال:صفحہ ۴۵۸ ۔ تبوک میں آنحضرت (ص)کے قتل کی سازش کے سلسلہ میں :بحارالانوار جلد ۲۱صفحہ ۱۸۵تا ۲۵۲۔

[3] بحار الانوارجلد ۲۸صفحہ۱۰۲۔۱۱۱

[4] بحار الانوارجلد ۲۸صفحہ۱۰۷۔ ۱۰۸

[5] اثبات الھدات جلد صفحہ ۱۶۴حدیث۷۳۶۔

[6] بحارالانوارجلد ۳۹صفحہ۲۴۷۔

[7] بحارالانوارجلد۳۷صفحہ ۱۱۱،۱۳۹،۱۵۴،۱۶۰،۱۷۲،۱۷۳۔

[8] بحارالانوارجلد ۳۷صفحہ۱۵۴،۱۶۰،۱۶۱،۱۶۲۔

۳ غدیر میںمنافقین کے عکس العمل کے واضح نمونے

منافقین کی مذکورہ گفتگو کے علاوہ ان کی رفتار وگفتار کے بعض دوسرے نمونہ درج ذیل ھیں

اب کہتاھے:میرے خدا نے ایسا کھا ھے !!

امام صادق (ع) نے فرمایا:پیغمبر اسلام (ص)نے جب امیر المومنین کو غدیر کے دن (عھدہ امامت پر)منصوب کیااور ان کا تعارف کرایا تو ان کے سامنے منافقوں کے یہ سات آدمی بیٹھے هوئے تھے : ابوبکر،عمر، عبدالرحمن بن عوف،سعد بن ابی وقاص، ابو عبیدہ بن جراح ،سالم مولی ابی حذیفہ اور مغیر ہ بن شعبہ۔

ان میں سے عمر نے کھا:

اسکو نھیں دیکھتے کہ اس کی آنکھیں مجنون کی طرح گھوم رھی ھیں؟!اب وہ کہتا ھے:

میرے خدا نے ایسا کھا ھے ![1]

ھم تصدیق نھیں کریںگے ۔۔۔اقرار نھیں کریں گے!

حذیفہ کا بیان ھے :معاویہ غدیر کے دن امیرالمومنین علی (ع) کے منصوب هونے کے بعد غضب و غصّہ کی حالت میں اٹھااور تکبر سے اپنادایاں ھاتھ ابوموسیٰ اشعری اور بایاں ھاتھ مغیرہ بن شعبہ کے کاندھے پر رکھ کر آگے بڑھتے هوئے کہنے لگا:

”ھم محمد کی اس بات کی تصدیق نھیں کرتے اورعلی کی ولایت کا اقرار نھیں کرتے۔۔۔“

خداوند متعال نے یہ آیت اسکے بارے میں نازل کی:

[2]”اس نے نہ کلام خدا کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی ۔بلکہ تکذیب کی اور منھ پھیر لیا۔پھر اپنے اھل کی طرف اکڑتا هوا گیا۔

پیغمبر اکرم (ص)اسکو واپس بلا کر قتل کرنا چاہتے تھے کہ آیت نازل هوئی:

[3]”دیکھئے آپ قرآن کی تلا وت میںعجلت کے ساتھ زبان کو حرکت نہ دیں“

اور آپ(ص) صبر کرنے پر مامور هوئے۔[4]

کاش اس سوسمارکو۔۔۔؟

جب غدیر کا واقعہ رونماهوا تومنافقین لگے”ھماری ساری تدبیر ےںفیل هوگئیں“جب سب لوگ متفرق هوگئے تو منافقین جمع هوئے اور اس واقعہ پر افسوس کرنے لگے اتنے میں ایک (سوسمار) ان کے پاس سے گزرا تو آپس میں کہنے لگے:

کاش محمد نے اس سوسمار کو ۔۔۔ھماراامام بنادیا هوتا!!

ابوذر نے اس بات کو سن لیا انھوں نے پیغمبر کو بتایا ۔جب آپ (ص) نے ان منافقین کو حاضر کیا تو سب جھوٹی قسمیں کھانے لگے تو آپ نے فرمایا:

”جبرئیل نے مجھے خبر دی ھے کہ قیامت کے دن ایک ایسی قوم کو لایا جائے گا جس کا امام سوسمار هوگا:خبردار کہ وہ تم نہ هو!![5]

______________________

[1] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ۱۳۴۔

[2] سوره قیامت آیت /۳۱۔۳۴۔

[3] سوره قیامت آیت/ ۱۶۔

[4] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۹۶،۹۷،۱۲۵۔

[5] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۱۶۳۔بحارالانوارجلد ۳۷صفحہ۱۶۳۔                                       

اسرار غدیر

 خطبہ غدیر کا خلاصہ

اگر چہ خطبہٴ غدیر کا عربی متن اور اس کا اردو ترجمہ اس کتاب کے چھٹے اور ساتویں حصہ میں بیان هو گا لیکن خطبہ کا خلاصہ ،اس کی مو ضوعی تقسیم اورمطالب کا جدا جدا بیان کرنا قارئین کرام کےلئے خطبہ کے متن کا دقیق طور پر مطالعہ کرنے کا ذوق بڑھاتا ھے ۔لہٰذاھم اس اھم مطلب کو دو حصوں میں بیان کرتے ھیں ۔

۱ خطبہ غدیر کے چند اھم نکات

خطبہ غدیر پر ایک سرسری نگاہ کرنے سے کچھ مھم نکات نظر آتے ھیں جن کو ھم ذیل میں ذکر کر رھے ھیں :

۔پیغمبر اسلام (ص)کے خطبہ کے مختلف موارد میں اپنی تبلیغ پر خداوند عالم کو گواہ بنانا۔

۔پیغمبر اسلام (ص)کامختلف مواقع پر اپنے پیغام کو پہنچانے پر لوگوں کو گواہ بنانا۔

۔خطبہ کے دوران قرآن کی آیتوں کو بطور شاھد پیش کرنا۔

۔خطبہ کے دوران کئی جگهوں پر اپنے بعدبارہ اماموں (ع) کی امامت کے مسئلہ پرتاکید کرنا۔

۔حرام وحلال کے تبدیل نہ هونے اور اماموں کے ذریعے ان کے بیان هونے پر تاکیدکرنا

۔خطبہ میں بہت ساری آیتوں کی اھل بیت علیھم السلام کے ذریعے تفسیر کرنا۔

۔کئی مقامات پر منافقین کے گذشتہ اور آئندہ اقدامات کی طرف کبھی صاف طور پراور کبھی تلویحاً اشارہ کرنا۔

۔خطبہ کے پھلے آدھے حصہ کو امیر المومنین علی (ع) کی ولایت کے رسمی اعلان سے مخصوص کرنا اور اس بنیادی مطلب اوراصل مو ضوع کو بیان کر نے کے بعداس کے سلسلہ میں وضاحت نیز دوسرے مطالب جیسے نماز۔زکات ،حج وغیرہ کا بیان کرنا۔

۲ خطبہ غدیر کے مطالب کی موضوعی تقسیم

وہ مطالب جو ذیل میں ۲۱ عنوان کے تحت ذکر هوئے ھیں خطبہ غدیر جو انشاء اللہ چھٹی اور ساتویںفصل میں ذکر هوگاکے متن سے لئے گئے ھیں ان کو ذکر کرنے سے پھلے چارنکات کی طرف توجہ کرنا ضروری ھے :

۱۔وہ موضوعات جو ھم نے مد نظر رکھے ھیں اور ان کاذکر کیا ھے خطبہ کے مھم مطالب سے مربوط ھیں اور پیغمبر اسلام (ص)نے ان پر زیادہ زوردیا ھے اگر خطبہ کے تمام مطالب کا ذکر کیا جائے توایک مفصل مو ضوعی فھرست درکار ھے ۔

۲۔اختصار کی وجہ سے ھم نے خطبہ کی عبارتوں کو مختصر تلخیص کے ساتھ ذکر کیا ھے علاقہ مند حضرات زیادہ توضیحات کے لئے متن خطبہ کی طرف مراجعہ کرسکتے ھیں ۔

۳۔ھر عبارت کے آخر میں بریکٹ کے اندر خطبہ کے گیارہ حصوںمیں سے جس کے اندر وہ عبارت ذکر هوئی ھے اسکا ایڈرس نیچے دیا گیاھے ۔

۴۔اس موضوعی تقسیم کے عناوین درج ذیل ھیں :

۱۔توحید۔

۲۔پیغمبر اسلام (ص)کی نبوت۔

۳۔علی بن ابی طالب (ع) کی ولایت۔

۴۔بارہ معصوم اماموں کا تذکرہ۔

۵اھل بیت (ع) کے فضائل۔

۶۔امیرالمومنین (ع) کے فضائل۔

۷۔ امیرالمومنین هونے کا لقب۔

۸۔اھل بیت (ع) کا علم ۔

۹۔حضرت مھدی (عج)۔

۱۰۔اھل بیت (ع) کے شیعہ اور محبّین۔

۱۱۔اھل بیت (ع) کے دشمن۔

۱۲۔گمراہ کرنے والے امام۔

۱۳۔اتمام حجت۔

۱۴۔بیعت۔

۱۵۔قرآن۔

۱۶۔تفسیر قرآن۔

۱۷۔حلال و حرام۔

۱۸۔نمازاور زکات۔

۱۹۔حج اور عمرہ۔

۲۰۔امر بالمعروف ونھی عن المنکر۔

۲۱۔قیامت ۔

۱۔توحید

خطبہ کا پھلا حصہ ، توحید کے متعلق اعلیٰ اور معنی عبارت پر مشتمل ھے کہ جسکی طرف اجمالی طور پر اشارہ کیا جاتا ھے :خداوند عالم کی عظمت اور بزرگی،اسکا علم ،قدرت اورخالقیت،اسکا سمیع وبصیر هونا،اسکا ازلی اور ابدی هونا،اسکا بے نیاز هونا،اس کا ارادہ،اس کی ضداور شریک کا نہ هونا،پروردگارکا حکےم وکریم هونا، اسکا قدوس اورمنزہ هونا،تمام امور کاخدا کی طرف پلٹنا،بندوں سے اسکاقریب هونا۔خداکی رحمت ونعمت کا وسیع هونا،انسان اورافلاک کے اندر اسکی قدرت کے آثار، خدا کا انتقام اورعذاب،خدا کی حمد وثناکاضروری هونا، اسکی صفات کو درک کرنے سے عاجز ی کا اظھار کرنا۔اسکی عظمت کے مقابلے میں تواضع اور انکساری کرنا۔(۱)

۲۔پیغمبر اکرم (ص)کی نبوت

۔میں زمین وآسمان کی تمام مخلوقات پر خداکی حجت هوں جو بھی اس بارے میں شک کرے وہ کافرھے۔(۳)

۔جس نے میری ایک بات میں شک کیا گویا اس نے میری ساری گفتگومیں شک کیا اور جو میری گفتار میں شک کرے اسکا ٹھکاناجہنّم ھے۔(۳)

۔خدا کے حکم کے بغیرمیرے کلام میں تغیر وتبدیلی نھیں آسکتی۔(۴)

۔مجھ سے پھلے والے انبیاء اور مرسلین نے میرے آنے کی بشارت دی ھے۔ (۳)

۔کوئی ایسا علم نھیں ھے جس کی خدا نے مجھے تعلیم نہ دی هو( ۳)

۳۔علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت

خداوند عالم نے علی کو صاحب اختیار اور تم لوگوں پر امام بنایا ھے ( ۳ )

علی (ع) کی اطاعت شھری ، دیھاتی ،عربی، عجمی ،آزاد، غلام ،چھوٹے بڑے سب پر واجب ھے۔

علی (ع) کام حکم ھرموحد( موجود) پرقابل اجراء اور ان کا کلام مورد عمل اورامر نافذ ھے۔( ۳)

جس جس پر میں اختیار رکھتا هوں یہ علی (ع) بھی اس پر اختیار رکھتے ھیں ۔( ۳)

علی (ع) کی ولایت خدا کی طرف سے ھے اور اس کا حکم بھی خدا کی طرف سے هوا ھے (۳)

خدایا ! جو علی (ع) کو دوست رکھے تو اس کو دوست رکھ ۔(۴)

خدا نے تمھارے دین کو حضرت علی علیہ السلام کی امامت کے ذریعے کا مل کیا ھے ۔(۵)

علی (ع) کے حکم کو غور سے سننا تا کہ سالم رهو ،ان کی اطاعت کر نا تا کہ ھدایت پا سکو ،ان کے روکنے سے باز رہنا تاکہ صلاح و بھبودی تک پهونچ سکو ،اور اس کے ارادہ کے پیچھے پیچھے چلنا تاکہ مختلف راستے تم کو گمراہ نہ کر سکیں ۔(۶)

علی (ع) کے راستے کو چھو ڑ کر گمراھی کی طرف مت چلے جانا ،ان سے دور نہ هوجانا اور ان کی ولایت سے سر پیچی نہ کر نا ۔

اگر طویل عر صہ گزرنے کے بعد تم نے کو تا ھی کی یاان کوبھول گئے تو یاد رکھو کہ تمھارے نفسوں پر اختیار رکھنے والے اور تمھارے دین کو بیان کرنے والے علی ھیں جس کو خدا نے میرے بعد اپنی مخلوق پر امین قرار دیا ھے ۔وہ تمھارے ھر سوال کا جواب دیں گے اور جس چیز کو تم نھیں جانتے اس کو بیان کریں گے(۱۰)

۴۔ بارہ ائمہ معصومین علیھم السلام کا تذکرہ

میں خدا کا وہ صراط مستقیم هوں جس کی پیروی کا خدا نے تم کو حکم دیا ھے اور میرے بعد علی (ع) اور ان کی نسل سے میرے فرزند ھیں جو حق کی طرف ھدایت کر نے والے امام ھیں۔(۷)

میری نسل میں امامت علی (ع) کی اولاد سے هو گی جب تک کہ قیامت کے دن خدا اور اس کے رسول سے ملاقات نہ کر لو ۔(۳)

جس شخص نے خدا ،رسول ،علی اور ان کے بعد آنے والے ائمہ کی اطاعت کی یقیناً وہ بڑا کامیاب هوگا ۔(۱۱)

امیر المو منین علی (ع) ،حسن ،حسین اور باقی ائمہ (ع) کی کلمہ ٴ باقی اور طیب و طاھر کے اعتبار سے بیعت کرو (۱۱ )

قرآن تم کو دعوت دے رھا ھے کہ علی علیہ السلام کے بعد ان کے فرزند امام ھیں اور میں نے بھی تم لوگو ں کو آگاہ کر دیا ھے کہ باقی امام میری اور ان کی نسل سے ھیں ،قرآن کہہ رھا ھے : اور میں کہہ رھا هوں (۱۰) لَنْ تَضِلُّوْامَااِنْ تَمَسَّکْتُمْ بِھِمَا> (۱۰)جو لوگ قیامت تک علی (ع) اور ان کی نسل اور میری اولاد سے هو نے والے اماموں کو امام کے عنوان سے قبول نھیں کریں گے ان کے اعمال حبط هو جا ئیں گے اور وہ ھمیشہ جہنم میں رھینگے(۵)

میں خلا فت کو امامت کے عنوان سے اپنی نسل میں قیامت تک کےلئے چھو ڑے جا رھا هوں ۔(۶)

حلا ل و حرام اس سے کھیں زیادہ ھیں کہ میں ان کو ایک مجلس میں بیٹھ کر شمار کروں پس مجھ کو خدا کی جانب سے یہ حکم دیا گیا ھے کہ علی امیر المو منین اور ان کے بعدقیامت تک اماموں کے بارے میں جو میری اولاداور ان کی نسل سے ھیں اور ان کا قائم مھدی ھے ان کے سلسلہ میں جو کچھ خدا کی جانب سے نازل هوا ھے اس پر تم لوگوں سے بیعت لوں ۔(۱۰)

حلال وہ ھے جس کو خدا ،رسول اور بارہ امام حلال قراردیں اور حرام وہ ھے جس کو خدا ،رسول اور بارہ امام حرام قرار دیں ۔(۳)

۵۔اھل بیت علیھم السلام کے فضائل

تمھارا پیغمبر بہترین پیغمبر ،تمھارے پیغمبر کاجانشین بہترین جا نشین اور ان کی اولاد بہترین جا نشین ھیں ۔

حضرت علی (ع) صبر اور برد باری کا بہترین نمونہ ھیں اور ان کے بعد ان کی نسل سے میرے فرزند ۔

خدا وند عالم نے اپنا نور مجھ میں پھر علی (ع) میں ان کے بعد ان کی نسل میں مھدی مو عود تک قرار دیا ھے ۔ (۶)

۶۔امیر المو منین علیہ السلام کے فضائل

علی (ع) امام مبین اور امام المتقین ھیں ۔(۳)

علی (ع) حق کی طرف ھدایت کر تے ھیں ،اور اس پر عمل کر تے ھیں باطل کو نیست و نا بود کر نے والے اور اس سے منع کر نے والے ھیں اور راہِ خدا میں کسی ملا مت کر نے والے کی ملامت ان کے لئے رکا وٹ نھیںهوسکتی ۔(۳)

علی (ع) خدا وند عالم پر ایمان لا نے والے سب سے پھلے شخص ھیں ۔(۳)

علی (ع) کو سب سے افضل مانو اس لئے کہ وہ میرے بعد ھر مرد و عورت سے افضل ھیں ۔(۳)

علی (ع) جنب خدا ھیں قرآن میںآیا ھے :(۳)

یہ علی (ع) ھیں جس نے تم سب سے زیادہ میری مدد کی ،تم میں سب سے زیادہ میرے نزدیک محبوب اور عزیز ھیں میں اور میرا خدا اس سے راضی ھیں۔(۵)

خدا وند عالم کی رضا کے با رے میں کوئی آیت نازل نھیں هو ئی مگر علی (ع) کے بارے میں ۔(۵)

خداوند عالم نے قرآن میں جب بھی مو منین سے خطاب کیاتو ان میں سب سے پھلے علی (ع) کومخاطب قراردیا ۔(۵)

خدا وند عالم نے سوره ”ھل اتیٰ “میں جنت کی گوا ھی صرف علی (ع) کے لئے دی ھے (۵)

سوره ” ھل اتیٰ“فقط علی (ع) کے سلسلہ میں اور علی (ع) کی مدح میں نازل هوا ھے۔(۵)

علی (ع) دین خدا کے یاور ومددگاراور رسول کے محافظ ھیں ۔(۵)

علی (ع) تقی ،نقی ،ھادی اور مھدی ھیں ۔(۵)

علی (ع) وعدہ گاہ الٰھی ھیں (۶)

علی (ع) مبشر ھیں ۔۔۔علی (ع) ھادی ھیں ۔(۷)

علی (ع) وہ شخصیت ھیں جن کو خدا وند عالم نے مجھ سے خلق فرمایا اور مجھ کو علی (ع) سے خلق فرمایا ۔(۱۰)

حضرت علی (ع) کے فضائل و کمالات صرف خدا جانتا ھے اور خداوند عالم نے ان کو قرآن میں بیان فر مایا ھے ،علی (ع) کے فضائل اس سے کھیں زیادہ ھیں کہ میں ان کو ایک مجلس میں بیان کروں ۔پس جو بھی علی (ع) کے فضائل تمھارے سامنے بیان کرے (بشر طیکہ ان کی معرفت بھی رکھتا هو )اس سے قبول کر لو ۔

۷۔”امیر المو منین (ع) “کے القاب

میرے بھا ئی (علی (ع) ) کے علاوہ کو ئی” امیر المو منین “نھیں ھے اور میرے بعد مو منین کا امیر بننا علی (ع) کے علاوہ کسی کے لئے جا ئز نھیں ھے۔(۳)

علی (ع) کو امیر المو منین کہہ کر سلام کیا کرو ۔(۱۱)

جو لوگ علی (ع) کو امیر المو منین کہہ کر سلا م کر نے میں سبقت کریں گے وہ کامیاب ھیں ۔(۱۱)

۸۔اھل بیت علیھم السلام کا علم

کو ئی ایسا علم نھیں ھے جس کی خدا نے مجھے تعلیم نہ دی هو اور کوئی ایسا علم نھیں ھے جس کی میں نے علی (ع) کو تعلیم نہ دی هو ۔(۳)

خدا وند عالم نے مجھ کو امر و نھی کیا ھے اور میں نے علی (ع) کو امرونھی کیا ھے پس علی (ع) نے امر و نھی خدا کی جانب سے سیکھا ھے ۔(۶)

ایھا الناس !میں نے تمھارے لئے (احکام) بیان کئے اور تمھیں تعلیم دی ھے اور میرے بعد تمھیں یہ علی (ع) تعلیم دیں گے ۔(۹)

۹۔حضرت مھدی عج

خدا وند عالم نے اپنا نور میرے اور علی (ع) کے صلب میں اور اور ان کی نسل میں مھدی قائم تک قرار دیا ھے (۶)

مھدی ،حق خدا اور ھمارے ھر حق کا بدلہ لیں گے ۔(۶)

کو ئی ایسی سر زمین نھیں ھے مگر خدا وند عالم اس کے باشندوں کو ان کی تکذیب کی وجہ سے ھلاک کرے گا اور ان کو مھدی کے اختیار میں قرار دے گا ۔(۶)

خاتم الا ئمہ ،قائم آل محمد ھم سے ھیں ۔(۸)

مھدی وہ ھیںجو تمام ا دیان پر غالب آنے والے ،ظالموں سے انتقام لینے والے دین خدا کے مددگار ،ناحق بہنے والے خون کے منتقم،قلعوںکوفتح کرنے والے،دریائے عمیق سے نشاٴت پانے والے انسانوں کو ان کی حیثیت کے مطابق نشاندھی کرانے والے،علوم کے وارث اور آیات الٰھی کو استحکام بخشنے والے ھیں ۔(۸)

مھدی وہ ھیں جن کے سپرد امور کئے گئے ھیں گزشتہ انبیاء و ائمہ نے ان کے آنے کی بشارت دی ھے وہ زمین پر باقی رہنے والی خدا کی حجت اوراس کے ولی ھیں اور وہ خداوند عالم کے سرّ اور آشکار کے امانتدار ھیں ۔(۸)

۱۰۔اھل بیت علیھم السلام کے دوستدار اور شیعہ

خدا وند عالم ھر اس شخص کو بخش دے گا جو علی (ع) کا کلام سنے گا اور اس کی اطاعت کرے گا ۔(۳)

خدایا جو علی (ع) کو دوست رکھے تو اس کو دوست رکھ ۔(۴)

متقی شخص کے علاوہ کوئی خدا کو دوست نھیں رکھ سکتا ،اور مخلص مو من کے علا وہ کوئی علی پر ایمان نھیں لا سکتا ۔(۷)

علی (ع) کے دوست وہ لوگ ھیں جن کا تذکرہ خدا وند عالم نے قر آن میں کیا ھے (اس کے بعد آپ(ص) نے ان کے سلسلہ میںقر آن کریم کی چند آیات کی تلاوت فر ما ئی)(۷)

ھمارا دوست وہ شخص ھے جس کی خدا نے تعریف کی ھے اور جس کو خدا دوست رکھتا ھے (۷)

جو شخص خدا ،اس کے رسول اوربارہ اماموں کی اطاعت کر ے گا وہ عظیم کا میابیاں حاصل کرے گا (۱۱)

وہ لوگ جو علی (ع) کی بیعت ،ولایت اور ”امیر المو منین “ کے عنوان سے سلام کر نے میں سبقت کرےںگے وہ کامیاب ھیں اور ان کا ٹھکا نا جنت ھے ۔(۱۱)

۱۱۔اھل بیت علیھم السلام کے دشمن

علی (ع) کی مخالفت کر نے والا ملعون ھے ۔(۳)

خدا وند عالم علی (ع) کی ولایت کا انکار کر نے والے کی توبہ ھر گز قبول نھیں کرے گا اور اس کو نھیں بخشے گا ۔(۳)

علی (ع) کی مخالفت سے بچو ورنہ ایسی آگ کے حوالے کئے جا وٴ گے جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ھیں اور وہ کافروں کے لئے بنا ئی گئی ھے ۔(۳)

خدا وند عالم فرماتا ھے (جو شخص علی (ع) کے ساتھ دشمنی رکھے اور ان کی ولایت قبول نہ کرے اس پر میری لعنت اور غضب نا زل هو ۔(۳)

ملعون ھے ،ملعون ھے ،مغضوب ھے ،مغضوب ھے وہ شخص جو (علی کے بارے میں )میری اس بات کو قبول نہ کرے اور اس سے متفق نہ هو ۔(۳)

خدایا علی کے دشمن کو اپنا دشمن قرار دے ،علی (ع) کے منکر پر اپنی لعنت بھیج اورحق علی (ع) کے منکر پر اپنا غضب نازل فرما ۔(۴)

جو لوگ علی (ع) اور ان کے جا نشینوں کی امامت کے منکر ھیں قیامت کے دن ان کے اعمال حبط هو جا ئیں گے اور وہ ھمیشہ آتش جہنم میں جلیں گے ان کے عذاب میں کو ئی کمی نھیں هو گی اور ان کو مھلت نھیں دی جا ئے گی ۔(۵)

شقی انسان کے علاوہ کو ئی علی سے دشمنی نھیں کرے گا ۔(۵)

خدا وند عالم نے ھمیں دنیائے عالم کے تمام مقصروں ،معاندوں ،مخالفوں ،خائنوں، گناہگاروں ظالموں اور غاصبوں پر حجت قرار دیا ھے ۔(۶)

گمراہ کرنے والے پیشوا ،ان کے دوست ،ان کی اتباع کر نے والے اور ان کی مد د کرنے والے جہنم کے سب سے نچلے درجہ میں هو ں گے ۔(۶)

علی (ع) کے دشمن ،اھل شقاوت اھل نفاق اور اپنے نفسوں پر ظلم کر نے والے ھیں ،وہ شیطانوں کے بھا ئی ھیں جو آپس میںبظاھر خوبصورت اور تکبر آمیز باتیں کیا کرتے ھیں ۔(۷)

خداوند عالم نے قر آن کریم میں علی (ع) کے دشمنوں کا تذکرہ کیا ھے (اس کے بعد آنحضرت (ص) نے اس سلسلہ میں قرآن کریم کی چند آیات کی تلاوت فر ما ئی )(۷)

ھمارا دشمن وہ شخص ھے جس پر خدا وند عالم نے لعنت و ملامت کی ھے ۔(۷)

۱۲۔گمرا ہ کر نے والے پیشوا

عنقریب میرے بعد ؛کچھ افراد اپنے آپ کو امام کھلا ئیں گے اور لوگوں کو آتش جہنم کی طرف دعوت دیں گے ،قیامت کے دن ان کی کو ئی مدد نھیں کی جا ئیگی ،خدا وند عالم اور میں ان سے بیزار ھیں،وہ ان کے اعوان و انصار اور ان کی اتباع کر نے والے جہنم کے سب سے آخری درجہ میں هو ں گے ،آگاہ هو جاوٴ وہ اصحاب صحیفہ ھیں لہٰذا تم میں سے ھر کوئی اپنے صحیفہ پرغور کرلے (آنحضرت (ص) نے اس کے ذریعہ اصحاب صحیفہ ملعونہ کی طرف اشارہ فرمایاھے)۔(۶)

عنقریب میرے بعد کچھ لوگ خلافت کو بادشاہت کے عنوان سے غصب کر لیں گے ۔خدا ان غاصبوں پر لعنت کرے ۔(۶)

۱۳ ۔اتمام حجت

خدا وند عالم نے ھمیں دنیا کے تمام مقصروں ،دشمنوں ،مخالفوں ،خائنوں ،گناہگاروں ،ظالموں اور غاصبوں پر حجت قرار دیا ھے ۔(۶)

مجھے خدا نے جس چیز کے پہنچانے کا حکم دیا تھا میں نے پہنچا دیا تاکہ ھر حاضر و غائب اور ھر اس شخص پر جو دنیا میں آیا ھے یا ابھی نھیں آیا حجت تمام هو جا ئے ۔(۶)

حاضر ین غائبین کو اور باپ اپنی اولاد کو قیامت تک اس(واقعہ غدیر) پیغام کو پہنچا ئیں ۔(۶)

ایھا الناس ،خدا تم لوگوں کو تمھارے حال پر نھیں چھوڑے گا یھاں تک کہ خبیث لوگوں کوپاک لوگوں سے الگ کرلے (۶)

سب سے بڑا امر با لمعروف یہ ھے کہ تم میری باتوں کو غور سے سنو اور جو حاضر نھیں ھیں ان تک پہنچاوٴ،ان کو ان باتوں کے قبول کر نے پر زور دو اور ان کی مخالفت کر نے سے روکو۔(۱۰)

حضرت آدم علیہ السلام ایک معمولی سے ترک اولیٰ کی وجہ سے زمین پر بھیج دئے گئے، حالانکہ خدا کے منتخب بندے تھے تو تمھارا کیا حشر هو گا حالانکہ تم هو !(یعنی تم میں اور حضرت آدم علیہ السلام بہت میں فرق ھے )اور تمھارے درمیان خدا کے دشمن بھی مو جود ھیں ۔(۵)

ایسی باتیں کروکہ خداتم سے راضی هو ،اس لئے کہ اگرتم اور تمام روئے زمین کے لوگ کافر هو جا ئیں تو خدا کو کچھ نقصان نھیں پہنچا سکتے ۔(۱۰)

تم میں سے ھر ایک علی (ع) کی نسبت جتنی دل میں محبت اور نفرت رکھتا ھے اسی کے مطابق پر عمل کرے۔(۶)

۱۴۔بیعت

میں خطبہ کے بعد تم لوگوں کو دعوت دونگا کہ میرے ساتھ علی (ع) کی بیعت اور ان کے بلندو بالامقام کے اقرارکے عنوان سے ھاتھ ملائیں اور میرے بعد علی علیہ السلام سے ھاتھ ملا ئیں ۔آگاہ هو جا ؤ !میں نے خدا کی بیعت کی ھے اور علی (ع) نے بھی میری بیعت کی ھے اور میں خدا کی نیابت میں علی (ع) کےلئے بیعت لے رھا هوں،پس جو بھی اپنی بیعت سے منھ موڑے گا وہ اپنا ھی نقصان کرے گا (۹)

میں تم لوگوں سے بیعت لینے پر مامو ر هوں اور امیر المومنین علی (ع) اور ان کے بعد ائمہ جو مجھ سے ھیں اور ان کا آخری قائم ھے ان کے سلسلہ میں جو کچھ خدا کی جانب سے لا یا هوں اس کی قبولیت پر تمھارے ساتھ ھاتھ ملاوٴں۔(۱۰)

ایھا الناس !تمھاری تعداد اس سے کھیں زیادہ ھے کہ میں تم سے اس مختصر سے وقت میں بیٹھ کر بیعت لوں ،لہٰذا خدا نے مجھے یہ حکم دیا ھے کہ میں علی (ع) اور ان کے بعد آنے والے ائمہ کی خلافت اورمقام کے بارے میں تمھاری زبانوں سے اقرار لوں ۔(۱۱)

امیر المو منین علی (ع) ،حسن ،حسین اور باقی ائمہ (ع) کی بیعت کرو۔(۱۱)

جو کچھ میں کهوں تم اس کو اپنی زبان سے دھراوٴ۔۔۔کهو ”ھم نے سنا اور ھم اطاعت کریںگے‘(۱۱)

علی (ع) کی بیعت کرنے میں سبقت کر نے والے افراد کا میاب ھیں ۔(۱۱)

۱۵۔قرآن

قرآن میں تدبر کرو ،اس کی آیات کو سمجھو ،اس کے محکمات میں دقت کرو اور متشابھات کے پیچھے مت جا وٴ ۔(۳)

خدا کی قسم علی بن طالب علیہ السلام کے علاوہ کو ئی قرآ ن کے باطن اور اس کی تفسیر بیان نھیں کر سکتا ھے کہ جن کے ھاتھو ں کو میں نے تمھارے سامنے بلند کر رکھا ھے ۔(۳)

۱۶ ۔تفسیر قرآن

رضا ئے خدا کے بارے میں نازل هو نے والی آیت، علی (ع) کے بارے میں ھے(۵)

خدانے قرآن میں مومنین کو مخاطب نھیں قرار دیا مگران میں سب سے پھلے شخص علی (ع) ھیں۔(۵)

خدانے سوره (ھل آتی)کو فقط علی کے بارے میں نازل کیا ھے اور اسمیں صرف علی کی مدح کی ھے۔(۵)

خدا کی قسم سوره ”والعصر“علی بن ابی طالب کے بارے میں نازل هوا ھے۔(۵)

قرآن تم سے کہہ رھا ھے کہ علی (ع) کے بعد امام ان کی اولاد میں سے هوں گے۔۔لہٰذا خدا فرماتاھے:

”وجعلھاکلمة باقیة فی عقبہ“(۱۰)

خدا نے علی کے فضائل کو قرآن میں نازل کیا ھے۔(۱)

یہ علی (ع) ھے جس نے نمازکو قائم کیا،حالت رکوع میں زکات دی اور ھر حال میں خدا کو یاد رکھتا ھے۔(آیت”انماولیکم واللهورسولہ و۔۔۔کی تفسیر(۲)

خدا کا یہ قول: سوره نساء آیت/۴۷۔”۔۔۔قبل اس کے کہ ھم تمھارے چھروں کو بگاڑکر پشت کی طرف پھیر دیں“میرے اصحاب میں سے ایک گروہ کے بارے میں نازل هوا ھے جن کو میں نام ونسب سے جانتا هوں مگرمجھے ان کے نام نہ لینے کا حکم دیا گیا ھے۔

۱۷۔حلال اور حرام

ھر وہ حلال جس کی طرف میں نے تمھاری ھدایت کی ھے اور ھر وہ حرام جس سے میں نے منع کیا ھے ھمیشہ وھی رھے گا کبھی بھی اس میں تبدیلی واقع نھیں هوسکتی۔یہ بات ھمیشہ یاد رھے اور دوسروں کو بھی اس بات کی تلقین کر دیجئے کہ ھر گز میرے حلال وحرام میں تغیّرو تبدل نہ کریں۔(۱)

حلال وحرام اس سے زیادہ ھیںکہ میں سب کوتم لوگوںکے سامنے گنوادوں اور ایک ھی مجلس میں تمام حلال کاموں کاامر کروں اور تمام حرام کاموں سے نھی کروں پس میں مامور هوں کہ تم سے بیعت لوںاوراس بات پرھاتھ ملاوٴںکہ جو کچھ میں خدا وند عالم کی طرف سے علی (ع) اور ان کے بعد کے ائمہ (ع) کے بارے میں لیکر آیا هوںتم اسے قبول کرو۔(۱۰)

حلال کام فقط وھی ھے جسکو خدا ،اسکے رسول اور اماموں نے حلال کیا هو،اور حرام کام فقط وھی ھے جسکو خدا،اسکے رسول اور اماموں نے حرام کیا هو۔(۳)

۱۸۔نماز اور زکات

نماز کو قائم رکھو اور زکات دیتے رهو جیسا کہ خدا نے تمھیں حکم دیا ھے۔(۱۰)

میں دوبارہ اپنی بات کی تکرار کر رھاهوں ۔”نماز کو قائم رکھو اور زکات ادا کرو۔“

۱۹۔حج اور عمرہ

حج اور عمرہ شعائر الٰھی ھیں۔(۱۰)

خانہ خداکے حج کےلئے جاؤ،کوئی انسان خانہ خداکی زیارت نھیں کرے گا مگریہ کہ غنی هو جا ئیگا اور (ممکن هونے کے باوجود) کوئی خانہ خدا کی زیارت سے انکار نھیں کرے گا مگر یہ کہ فقیرهوجائے گا۔(۱۰)

دین کامل اور معرفت کے ساتھ خانہ خدا کی زیارت کے لئے جاؤ ،اور گناهوںسے دوری اور توبہ کئے بغیر مقدس مقامات سے واپس نہ لوٹو۔

حاجیوںکی مدد کی جائے گی جو کچھ وہ خرچ کریں گے دوبارہ انکو دے دیاجائے گا۔خدا احسان کرنے والوں کا اجر ضایع نھیں کرتا۔(۱۰)

کوئی مومن موقف پہ توقف نھیں کرتا مگر خدا اس وقت تک کے اسکے گناهوں کو بخش دیتا ھے اور جب اسکا حج تمام هوجاتا ھے تو اسکے نامہ اعمال کانئے سرے سے آغاز هوتا ھے۔(۱۰)

۲۰۔امر بالمعروف و نھی عن المنکر

میں اپنی بات کی تکرار کرتا هوں۔”امر با لمعروف ونھی عن المنکر کرو۔“(۱۰)

بہترین امر با لمعروف اور نھی عن المنکر یہ ھے کہ میری بات کو غور سے سنواور جو لوگ حاضر نھیں ھیں ان تک پہنچاؤ اوران کو قبول کرنے کا حکم دو۔

اور اسکی مخالفت سے بچو،اس لئے کہ یہ حکم خدا کی طرف سے ھے۔(۱۰)

کوئی امر بہ معروف ونھی ازمنکر نھیں ھے مگر معصوم امام( کی راہنمائی) کے ساتھ۔(۱۰)

۲۱۔قیامت اور معاد

تقویٰ اختیار کرو۔تقویٰ اختیار کرو۔روز قیامت سے ڈرو۔موت،حساب و کتاب۔ میزان،اور خدا کی بارگاہ میںمحاسبہ اورثواب وعقاب کو یاد کرو۔(۱۰)

جواپنے ساتھ نیکی لے کرآئے گااسکو ثواب دیا جائے گا اور جو گناہ لے کرآئے گاوہ جنت کی خوشبو بھی نھیں سونگھ پائے گا۔(۱۰)

اس مقام پر خطبہ غدیر کے مطالب کا خلاصہ اور اس کی مو ضوعی تقسیم تمام هوجاتی ھے ۔                                               

 

اسرار غدیر

 

 

            حدیث غدیر کی سند اور متن کے سلسلہ میں تحقیق

 

اگرچہ حدیث غدیرکی سند اورمتن کے سلسلہ میں مفصل علمی بحثیں ھیں لیکن پھر بھی ھم ان پر طائرانہ نظر ڈالتے ھیں

علماء کرام نے ان دونوں مطالب کے سلسلہ میں کافی اور وافی بحثیں کی ھیں مطالعہ کرنے والے افراد اسی حصہ میں جن کتابوں کا تذکرہ کیا گیا ھے ان کی طرف رجوع کریں ۔

۱ حدیث غدیر کی سند

غدیر کے عظیم واقعہ میں خطبہ سے پھلے جو مقدماتی مراحل انجام پائے،خطبہ کامتن،اور وہ واقعات جو خطبہ کے ساتھ یا خطبہ کے بعد رونما هوئے سب ایک روایت کی شکل میں ھمارے ھاتھوں تک نھیں پہنچ پائے۔بلکہ غدیر میں موجود افراد میں سے ھر ایک نے مراسم کے ایک گوشہ یا آنحضرت (ص) کی باتوں کے ایک حصے کو نقل کیا ھے ۔البتہ اس واقعہ کا کچھ حصہ متواتر طریقے سے بھی ھم تک پہنچاھے اور خطبہ غدیر بھی مکمل طورپر کتابوں میں محفوظ ھے۔

حساس دور میں حدیث غدیرکی روایت

مزید  نھج البلاغہ کے خطبہ کا ایک حصہ

غدیر کے میدان میں اس جمع غفیر میں پیغمبر اسلام (ص)نے جو باتیں کیںوہ اس طریقے سے شھروں میں منتشر هوگئیں کہ حتی غیر مسلم بھی ان سے باخبر هوگئے۔

بجا هوتا اگر غدیرمیںایک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ حاضرمسلمانوں میں سے ھر ایک اپنے سھم کے مطابق خطبہ غدیر کے ایک حصہ کو حفظ کرتااوراسکے متن کو اپنی اولاد ،اپنے رشتہ داروں اور دوستوں تک پہنچاتا۔

افسوس کا مقام ھے کہ اس وقت کی مسلمانوںکی اجتماعی حالت اور رحلت پیغمبر کے بعدکی تاریک فضا کہ جس میں کئی سال تک حدیث سنانا اور لکھنا ممنوع تھا۔اس بات کا سبب بنی کہ لوگ پیغمبر اسلام (ص)کی تقدیر ساز باتوں کو بھی بھول جائیں،اور ان کی اھمیت کو کھوبیٹھیں۔

طبیعی طور پر ایسا ھی هونا چاھےے تھا اسلئے کہ مسئلہ غدیر کو چھیڑنا ،غاصبین خلافت کی جڑوں کو اکھاڑپھینکنے کے مترادف تھا اور وہ ھر گزاس کام کی اجازت نھیں دے سکتے تھے لیکن اسکے باوجود واقعہ غدیر یوں لوگوں کے ذہنوں میں بیٹھا کہ اکثر لوگوں نے غطبہ غدیر یا اس کا کچھ حصہ حفظ کیااور اس کوآنے والی نسلوں تک پہنچایا اور کسی کے بس میں نھیں تھا کہ اس پر کنٹرل کر سکے اور اس مھم خبر کو منتشرهونے سے روک سکے۔

خود امیر المومنین(ع) اور فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھاجو غدیر کا رکن تھے اور ائمہ یکے بعد دیگرے اس حدیث کو محفوظ رکھتے رھے اور کئی بار دوستوں اور دشمنوں کے مقابلے میں اس کے ذریعے استدلال پیش کرتے رھے۔[1]ھم دیکھتے ھیں کہ اس خطرناک ماحول میں امام باقر علیہ السلام خطبہ غدیر کے مکمل متن کو اپنے اصحاب کےلئے بیان کرتے تھے۔

اسی طرح صحابہ میں سے دو سو آدمیوں نے اور تابعین کے ایک گروہ نے اس تقیہ کے ماحول میں کہ جھاں ایک حدیث کا نقل کرنا ایک جان دینے کے برابر تھا اسکو نقل کیا۔کتاب عوالم العلوم:ج۱۵/۳ صفحات ۴۹۳۔۵۰۸میں حدیث غدیر کے راویوں کی چودہ سو سال سے اب تک کی زمانہ کے لحاظ سے ایک فھرست ذکر هوئی ھے اور ا س میں ثابت کیا ھے کہ یہ نقل خَلَف از سَلَف اس بات کی دلیل ھے کہ بغیر انقطاع کے حدیث غدیر کے نقل کاسلسلہ مستحکم ھے۔صفحات۵۰۱۔ ۵۱۷ میں غدیر کے راویوں کو الف، با ،کی ترتیب سے ذکر کیا ھے ، صفحہ۵۲۲ میں وہ مو ٴ لفین جنھوںنے حدیث غدیر کو ضبط(لکھا) کیا ھے کاتذکرہ کیا ھے ۔صفحات۹ ۲ ۵ ۔ ۴ ۳ ۵ میں حدیث غدیر کے نقل کرنے والے صحابہ تابعین اور دوسرے لوگوں کی وثاقت کو بیان کیا ھے۔اسی وجہ سے مسلمانوں کے درمیان ”حدیث غدیر“برابرکسی حدیث کے راوای نھیں ھیں اوراس کے تواترکے علاوہ علم رجال اور درایت اسناد کے اعتبار سے بھی یہ حدیث فوق العادہ ھے۔

حدیث غدیر کی سند کے سلسلہ میں کتابوں کی شناخت

حدیث غدیر کی سند سے مربوط تاریخی اور رجالی بحثوں کے اعتبار سے بہت سی مفصل کتابیں تالیف هوئی ھیں۔

ان کتابوں میں ،حدیث غدیر کے راویوں کے نام جمع کئے گئے ھیں اور راویوں کے موثق هونے کے بارے میں رجالی بحثیں هوئی ھیں راویوںاور اسنادکے بارے میں مفصل تاریخ بیان هوئی ھے اور اس کے اسناد و رجال کے بارے میںتعجب خیز باتوں کا تذکرہ کیا گیا ھے ذیل میں دو نمونوں کی طرف ا شارہ کیا جاتاھے:

ابوالمعالی جو ینی کہتے ھیں :میں نے بغداد میں ایک جلد ساز کے پاس ایک کتاب دیکھی کہ جس کی جلد پر یہ لکھا هوا تھا۔”من کنت مولاہ فھٰذا علی مولاہ“کی اسنادکے بارے میں اٹھائیسویں جلد اور اس جلد کے بعد انتیسویںجلدھے“[2]

ابن کثیر کہتے ھیں:میں نے دو ضخیم جلدوں میں ایک کتاب کو دیکھا جس میں طبری نے غدیر خم کی احادیث کو جمع کیا ھے۔[3]

اھل سنت کی بہت سی بڑی بڑی کتابوں میں حدیث غدیر کو مسلمات کے عنوان کے تحت ذکر کیا گیاھے۔منجملہ ان کے موٴلفین یہ ھیں :اصمعی ،ْابن سکیت ،جاحظ،سجستانی، بخاری اندلسی ، ثعلبی، ذھبی، مناوی، ابن حجر،تفتازانی،ابن اثیر،قاضی عیاض،باقلانی۔[4]

اگر چہ اس سلسلے میں کتابوں کی تعداد بہت زیادہ ھے لیکن ھم یھاںپر اختصار کے ساتھ چند ایک کتابوںکاتعارف کراتے ھیں:

۱۔عبقات الانوار۔میرحامد حسین ہندی۔(غدیر سے مربوط جلدیں)

۲۔الغدیر:علامہ امینی؛ج۱ص۱۲۔۱۵۱۔۲۹۴۔۳۲۲۔

۳۔نفحات الازھارفی خلاصة عبقات الانوار:علامہ سید علی میلانی؛ج۶۔۹۔

۴۔عوالم العلوم:شیخ عبداللهبحرانی؛ج۱۵/۳ص۳۰۷۔۳۲۷۔

۵۔بحار الانوار ،علا مہ مجلسی :جلد /۳۷ ،صفحہ /۱۸۱۔۱۸۲۔

۶۔اثبات الھدات ،شیخ حر عا ملی جلد ۲ صفحہ ۲۰۰۔۲۵۰۔

۷۔کشف المھم فی طریق خبر غدیر خم سید ھاشم بحرانی ۔

۸۔الطرائف سید ابن طا وٴس صفحہ /۳۳۔

خطبہ غدیرکے مکمل متن کے مدارک

اسلامی کتابوں کی تاریخ میں:خطبہ غدیر کو مستقل طور پر نقل کرنے میں سب سے پھلی کتاب کہ جس کو شیعہ عالم ،علم نحو کے استاد،شیخ خلیل بن احمد فراھیدی متوفیٰ ۱۷۵ ھجری نے تالیف کیا ھے ملتی ھے۔کہ جو عنوان”جزء فی خطبةالنبی(ص) یوم الغدیر“[5]کے تحت پہچانی جاتی ھے اور اسکے بعدبہت سی کتابیں اس سلسلے میں تالیف هوئی ھیں۔

خوش قسمتی سے خطبہ غدیر کا مکمل اور مفصل متن ،شیعوںکے معتبر مدارک میں سے طبع شدہ نو کتابوںمیں متصل سند کے ساتھ مذکورھے۔

ان نو کتابوں کی روایات تین سلسلوںپر ختم هوتی ھیں:

ایک امام باقرعلیہ السلام کی روایت کا سلسلہ ھے کہ جو معتبر اسناد کے ساتھ چار کتابوں”روضة الواعظین“(شیخ ابن فتال نیشاپوری)[6] ”الاحتجاج“(شیخ طبری)[7]، ”الیقین“(سیدابن طاووس[8] اور ”نزھة الکرام ”شیخ محمد بن حسینی رازی)[9] میں نقل هوا ھے۔

دوسرا سلسلہ :حذیفہ بن یمان کی روایت ھے کہ جے متصل سند کے ساتھ سیدابن طاووس نے اپنی کتاب”الاقبال“[10] ”النشر والطیّ“کتاب نقل کیا ھے۔

تیسرا سلسلہ:زید بن ارقم کی روایت کا ھے کہ جومتصل اسنا د کے ساتھ چار کتابوں ”العُدد القویة“ تالیف شیخ بن یوسف حلی[11] ،”التحصین“تالیف سیدابن طاووس[12] ،”الصراط المستقیم“ تالیف شیخ علی بن یونس بیاضی [13]اور ”نھج الایمان“ تالیف شیخ علی بن حسین بن جبر[14]، دونوں نے مورخ طبری کی کتاب”الولایة “ کے مطابق نقل کیا ھے۔

شیخ حرعاملی نے کتاب”اثبات الھداة“[15]میں،علامہ مجلسی نے ”بحار الانوار“[16]میں،سید بحرانی نے کتاب”کشف المھم“[17]میں اور باقی متاخرین علماء نے خطبہ غدیر کو مکمل طورپر مدارک مذکور سے نقل کیاھے۔

اس طرح خطبہٴ غدیر کے متن کامل کی ان شیعہ بزرگوں کے ذریعہ حفاظت هو ئی اور ھم تک پہنچاھے اور یہ خود عالم اسلام میں شیعوں کےلئے فخر کا مقام ھے ۔

خطبہٴ غدیر کے متن کامل کی روایت کر نے والے اسناد و رجال

ذیل میں خطبہ ٴ غدیر کے پشت پناہ کے اعتبار سے خطبہ ٴ غدیر سے مربوط روایات کو بعینہ نقل کیاجارھا

ھے۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی روایت دو سندوں کے ساتھ :

۱۔شیخ احمد بن علی بن ابی منصور طبر سی اپنی کتاب ”الاحتجاج “میں لکھتے ھیں :مجھے سید عالم عابد ابو جعفر مھدی بن ابی الحرث الحسینی مر عشی نے ، شیخ ابو علی حسن بن شیخ ابو جعفر محمد بن حسن طوسی سے بیان کیا انھوں نے شیخ سعید ابو جعفر قدس اللہ روحہ سے انھوں نے ایک جماعت سے اورانھوں نے ابو محمدھارون بن مو سیٰ تلعکبری سے انھوں نے ابو علی محمد بن ھمام سے انھوں نے علی سوری سے انھوں نے اولاد افطس (وہ اللہ کے صالح بندوں میں سے تھے )میں سے ابو محمد علوی سے انھوں نے محمد بن مو سیٰ ھمدانی سے انھوں نے محمد بن خالد طیالسی سے انھوں نے سیف بن عمیرہ و صالح بن عقبہ سے انھوں نے قیس بن سمعان سے انھوں نے علقمہ بن محمد حضرمی سے اورانھوں نے ابو جعفر محمد بن علی (الباقر) علیہ السلام سے نقل کیا ھے ۔

۲۔حذیفہ بن یمان کی روایت کی سند اس طرح ھے :

سید بن طاؤ س نے اپنی کتاب ”الاقبال “میں نقل کیا ھے :موٴلف کتاب ”النشرو الطی “نے احمد بن محمد بن علی المھلب سے انھوں نے شریف ابوالقاسم علی بن محمد بن علی بن القاسم شعرانی سے انھوں نے اپنے والد بزرگوارسے انھوںنے سلمہ بن فضل انصاری سے انھوںنے ابو مریم سے انھوں نے قیس بن حیان (حنان) سے انھوں نے عطیہ سعدی سے انھوںنے حذیفہ بن یمان سے نقل کیا ھے۔

۳۔زید بن ارقم کی روایت کی سند یوں ھے :

سید بن طاؤ س نے اپنی کتاب ”التحصین “میں نقل کیا ھے کہ حسن بن احمد جاوانی نے اپنی کتاب ”نور المھدی والمنجی من الردی “میں ابوالمفضل محمد بن عبد اللہ شیبانی سے نقل کیا ھے انھوں نے ابو جعفر محمد بن حریر طبری اورھارون بن عیسیٰ بن سکین البلدی سے انھوںنے حمید بن الربیع الخزاز سے انھوںنے یزید بن ھارون سے انھوں نے نوح بن مبشر سے انھوں نے ولید بن صالح سے اور انھوں نے زید بن ارقم کی زوجہ اورزید بن ارقم سے نقل کیا ھے ۔

____________________

[1] عوالم جلد ۱۵/۳ صفحہ ۴۷۲۔۴۷۶۔

[2] بحار الانوار:ج۳۷صفحہ/۲۳۵۔

[3] بحار:جلد۳۷صفحہ/۲۳۶۔

[4] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ /۴۷۷۔

[5] الذریعة جلد ۵ صفحہ /۱۰۱،نمبر ۴۱۸۔الغدیر فی التراث الاسلامی صفحہ۲۳۔

[6] روضةالواعظین جلد۱صفحہ/۸۹۔

[7] الاحتجاج جلد۱صفحہ۶۶۔بحارالانوارجلد۳۷صفحہ۲۰۱۔

[8] الیقین صفحہ/۳۴۳۔ بحارالانوارجلد ۳۷ صفحہ /۲۱۸۔

[9] نزھة الکرام و بستان العوام جلد پ صفحہ ۱۸۶۔ نزھة الکرام و بستان العوام جلد پ صفحہ ۱۸۶۔

[10] الاقبال صفحہ/۴۵۴،۴۵۶۔۔بحارالانوارجلد۳۷صفحہ/۱۲۷،۱۳۱۔۳۔

[11] العدد القویہ صفحہ /۱۶۹۔۴۔

[12] التحصین صفحہ /۵۷۸ باب۲۹ دوسری قسم ۔

[13] الصراط المستقیم جلد ۱صفحہ /۳۰۱۔

[14] نھج الایمان صفحہ /۹۲۔

[15] اثبات الھدات جلد ۲ صفحہ /۱۱۴۔جلد ۳ صفحہ ۵۵۸۔

[16] بحارالانوارجلد ۳۷ صفحہ ۲۰۱۔۲۱۷۔

[17] کشف المھم صفحہ /۱۹۰۔

۲ حدیث غدیر کا متن

جس طرح غدیر کا واقعہ اور اس کا خطبہ ایک سند کے ذریعہ ھم تک نھیں پہنچا ھے اسی طرح اس کا متن بھی ٹکڑوں ٹکڑوں میں نقل هوا ھے اور مختلف وجوھات جیسے تقیہ اور اس کے مانند چیزیں نیز خطبہ کے طولانی هو نے اوراس کے سب کےلئے مکمل طورپر حفظ نہ هو نے کی وجہ سے غدیر کے اکثر راویوں نے اس کے گوشوں کو نقل کیا ھے لیکن جملہ ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌ مَوْلَا ہُ“اور دوسرے چند جملوں کو تمام راویوں نے اشارتاًیا صاف طور پر نقل کیا ھے ۔ ان تمام باتوں کے با وجود خطبہ کا پورا متن ھم تک پہنچا ھے جیساکہ پھلے حصہ میں ھم نے بیان کیا ھے اور صاحب ولایت کا لطف و کرم ھے کہ اسلام کی اس بڑی سند کو ھمارے لئے محفوظ کیا ھے ۔

کلمہ ٴ ”مو لیٰ“ کے معنی کے متعلق بحث

خطبہ غدیر کو اسلام کا دائمی منشور کھا جاتا ھے اور اس میں اسلام کے تمام پھلو کلی طورپر جمع ھیں لیکن حدیث غدیر کے متن میں علمی بحثیں عام طور سے کلمہٴ ”مولیٰ “کے لغوی اور عرفی معنی کے اعتبار سے ذہنوں کو اپنی طرف مر کوز کئے هو ئے ھیں ۔

یہ اس لئے ھے کہ حدیث کا اصل محور جملہ ”مَنْ کُنْتُ مَوْ لَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ “ھے اور جب بھی حدیث غدیر کی طرف مختصر طور پر اشارہ کیا جاتا ھے یھی جملہ مد نظر هو تا ھے ۔راویوں اور محدثین نے بھی اختصار کے وقت اسی جملہ پر اکتفا کی ھے اور اس کے قرائن کو حذف کر دیا ھے ۔

اس سلسلہ میں قابل غور بات یہ ھے کہ خطبہ کے مفصل متن اور خطبہ میں پیغمبر اکرم(ص) کے بیان کردہ تمام مطالب کے پیش نظر غدیر میں کلمہ ”مولیٰ “کے معنی اور ولایت سے مراد تمام مخاطبین کےلئے با لکل واضح و روشن تھا اور خطبہ کے متن کامطالعہ کرنے اور خطبہ کی تمام شرطوں کو مکمل طور پر نظر میں رکھنے والے ھر منصف پر یہ معنی اتنے واضح هو جا ئےں گے کہ اس کو کسی بحث اور دلیل کی ضرورت ھی نھیں رھے گی ۔[1]

کلمہ ٴ”مو لیٰ “کو استعمال کرنے کی وجہ یہ ھے کہ کوئی دوسرا لفظ جیسے ”امامت “،” خلافت “اور ”وصایت “ اور ان کے مانند الفاظ اس معنی کے حامل نھیں ھیں جو لفظ ”ولایت “میں مو جود ھیں اور یہ مندرجہ بالا الفاظ کے معانی سے بالا ھے ۔

پیغمبر اکرم(ص) حضرت علی علیہ السلام کی صرف امامت یا خلافت یا وصایت کو بیان کر نا نھیں چا ہتے ھیں بلکہ آپ تو ان کے لو گو ں کے جان و مال و عزت و آبرواور ان کے نفسو ں سے اولیٰ اور ان کے تام الاختیار هو نے کو بیان کرنا چا ہتے ھیں واضح الفاظ میں آپ ان کی ”ولایت مطلقہ ٴ الٰھیہ“یعنی خدا وند عالم کی طرف سے مکمل نیابت کو بیان کرنا چا ہتے تھے اس بنا پر کو ئی بھی لفظ ،لفظ ”مولیٰ “سے فصیح اور بلیغ اورواضح نھیں ھے۔

اگر کو ئی اور لفظ استعمال کیا جاتا تو غدیر کے دشمن اس کو بڑی آسانی کے ساتھ قبول کرلیتے یا اس کی تردید میں اتنی تلاش و جستجو نہ کرتے ،اور اگر متعدد معنی رکھنے کی بنا هو تی تو دوسرے لفظوں میں بہت آسان تھی۔وہ اس کلمہ کے معنی سے متعلق شک میں ڈال کر اس کے عقیدتی اور معاشرتی پھلو سے جدا کرنا چاہتے تھے اور اس کو عاطفی اور اخلاقی مو ضوع کی حد تک نیچے لاناچا ہتے تھے ۔

غدیر کے مخالفین ”اولیٰ بنفس “کے وسیع معانی سے خوف کھا تے ھیں وہ اس کے معنی کو بڑی اچھی طرح سمجھتے ھیں لہٰذا اس طرح ان کا مقابلہ کرنے کےلئے اٹھ کھڑے هوئے ۔ھم کو اس معنی پر زور دینا چا ہئے، اور اس طرح کے کلمہ کے استعمال کرنے کےلئے پیغمبر اکرم(ص) کا شکریہ ادا کرنا چا ہئے جس نے ھماری اعتقاد میں ایک محکم و مضبوط بنیاد ڈالی ھے جس سے مندرجہ ذیل نتائج اخذ هو تے ھیں :

پیغمبر اکرم (ص) کی رحلت کے بعد بلا فاصلہ بارہ معصوم اماموںکی امامت و ولایت ۔

ان کی ولایت اور اختیار کا تمام انسانوںپر تمام زمان و مکان اور ھر حال میں عام اور مطلق هونا ۔

ان کی ولایت کا پروردگار عالم کی مھر سے مستند هو نا اور یہ کہ امامت ایک منصب الٰھی ھے ۔

صاحبان ولایت کی عصمت کا خدا وندعالم اور رسول کی مھر کے ذریعہ اثبات ۔

لوگوں کا ائمہ علیھم السلام کی ولایت کا عھد کرناان کی طرف سے بالکل رسول اسلام(ص) کی ولایت کے عھد کے مانند ھے ۔

سب سے اھم بات یہ کہ اس طرح کے بلند مطالب کے اثبات کا لازمہ ،خداوند عالم کی اجازت اور انتخاب کے بغیر ھر ولایت، شرعی ولایت نھیں ھے،اس طرح ھر اس دین و مذھب کی نفی هو جا تی ھے جو اھلبیت (ع) کے علاوہ کسی اور کی ولایت کو تسلیم کرتاهو۔

کلمہ ٴ مولیٰ میں بحث کا منشاٴ

کلمہ ٴ ”مو لیٰ “کے معنی کے سلسلہ میں بحث اس وقت شروع هوئی جب شیعوں کے مخالف اکثر راویوں نے حدیث کے صرف اسی جملہ کو نقل کرنے پر اکتفا کیا اوران کے متکلمین نے اپنا دفاع کرنے کےلئے تاریخ کے تمام قرینوں اور مطالب کو چھوڑتے هو ئے پورے خطبہ سے صرف کلمہ ٴ ”مو لیٰ “کا انتخاب کیا اور اس کے معنی کے سلسلہ میں لغوی اور عرفی بحث کرنا شروع کردی ۔[2] یہ فطری بات ھے کہ ان کے مقابلہ میں علماء شیعہ نے بھی اسی مو ضوع کے سلسلہ میں بحث و جستجو کی ھے اور ان کو لازمی جوابات دئے ھیں اور سب نے نا خواستہ طورپر اسی کلمہ کو مد نظر رکھا ھے ۔

واقعہ غدیر کے ھر پھلو کا دقیق و کامل مطالعہ اور خطبہ کے متن میں دقت کرنے سے کلمہ ٴ ”مو لیٰ“ کے معنی واضح هو نے کے لئے بہت سے جاذب نظر مطالب سامنے آتے ھیں :

پھلی تجلی

اگر ھم پورے خطبہ پر نظر ڈالیں تو یہ مشاھدہ کریں گے کہ اس کے اکثر مطالب کلمہ ٴ ”مو لیٰ“کے معنی کی تفسیر و تو ضیح ،اس کے مصداق معین کرنے اور معاشرہ میں”ولایت “کی قدر و قیمت اور اس کے توحید و نبوت و وحی سے مرتبط هونے کے بارے میں ھے ۔

بنابریں جب پیغمبر اکرم(ص) نے کلمہ ”مو لیٰ “کے معنی واضح و روشن فر ما دئے اور غدیرمیں مو جود تمام افراد (جن کے مابین عرب کے بڑے شاعر حسان بھی تھے )صاحب اختیار هو نے کے معنی سمجھ گئے اور اسی اعتبار سے انھوں نے بیعت کی ، تو پھر اس کا کو ئی مطلب نھیں رہ جاتا کہ آنحضرت (ص) کے کلام کے معنی سمجھنے کےلئے ھم لغت اور اس کے عرفی معنی کی طرف مراجعہ کریں ،چا ھے وہ آنحضرت (ص) کی تفسیر کے مطابق هوں یا تفسیر کے مطابق نہ هوں ۔

دوسری تجلی

یہ بات طے شدہ ھے کہ غدیر کے اجتماع اور خطبہ کا اصل مقصد مسئلہ ولایت کا بیان کرنا تھا اور اس وقت تھا جب لوگوں نے خود پیغمبر اکر م(ص) سے اس سلسلہ میں مطالب سنے تھے ۔ان تمام باتوں کے باوجود ظاھر ھے کہ غدیر کا عظیم اجتماع مسئلہ ٴ ولایت اور کلمہ مو لا کے معنی میں باقی رہ جانے والے ابھام کو رفع کرنے کے لئے تھا ۔

اس بنا پر یہ بات بڑی مضحکہ خیز هو گی کہ اس طرح کے مجمع اور ان حساس شرطوں میں ”مولیٰ “ کے سلسلہ میں گفتگو کی جا ئے جو نہ صرف مطالب کو روشن نہ کرے بلکہ اس میں اور زیادہ ابھام پیدا هو جائے اور اس ابھام کو رفع کرنے کےلئے لغت اور اس کے مانند کتابوں کی ضرورت پیش آئے اور ھر عقل مند انسان یہ فیصلہ کرتا هوا نظر آئے کہ اصلا ً اس طرح سے اتنا بڑا جلسہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ !!

تیسری تجلی

اس دن کا اجتماع مسئلہ ٴ ولایت میں پیدا هو نے والے ھر ابھام کو دور کرنے کیلئے تھا ،اور اگریہ بنا قرار دی جا ئے کہ اسی مجلس میں، اس مسئلہ میں بڑے ابھام کاآغازهوااور اس میں ایک ایسا عجیب کلمہ استعمال کیا جا ئے جو بہت پیچید گی کا حامل هو ،تو ایسی صورت میں تو یہ کہنا ھی منا سب هو گاکہ: اگراس طرح کی مجلس بر پا ھی نہ هو تی تو بھی مسئلہ ٴ ولایت بہت واضح تھا !!!

اسی مقام پر آیہ قرآن :محقق هو تی ھے ۔یعنی اگر ابلاغ پیغام اس طرح هو کہ اس کا مطلب چودہ صدیوںمیں روشن و واضح نہ هوا هو تو گو یاحقیقت میں پیغام ابلاغ ھی نھیں هوا ھے !!

چوتھی تجلی

پیغمبر اکرم(ص) سب سے زیادہ فصیح و بلیغ تھے اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ انھوں نے اپنی زندگی کی سب سے اھم گفتگو میں ایک ایسا مطلب بیان فرمایا کہ جسے سمجھنے کے لئے چودہ سو سال سے مسلمان اس کے تحت اللفظی معنی کو سمجھنے کی خاطربحث کر رھے ھیں اور ابھی تک کسی نتیجہ پر نھیں پہنچ سکے تو یہ آپ کی اس فصاحت و بلاغت کے خلاف هو گا اور کسی پیغمبر نے الٰھی پیغام کواس طرح نھیں پہنچایا ھے !!

پانچویں تجلی

یہ سوال پیدا هو تا ھے :کہ جب غاصبین خلافت کو خلیفہ معین کرنے کاکو ئی حق نھیں تھاتو پھر بھی وہ اپنا خلیفہ معین کرتے تھے اور کلمہ ”و لی“سے استفادہ کرتے تھے تو کسی شخص نے یہ کیوں نھیں کھا کہ اس لفظ کے ستّر معنی ھیں ؟جب ابو بکر نے عمر کے لئے لکھا کہ ”:ولَّیْتُکُمْ بعدی عمربن خطاب “ تو ولایت کے معنی میں کو ئی ابھام نھیں تھا اور یہ ابھام صرف غدیر خم میں پیغمبر اسلام (ص)کی گفتگومیں ھی کیوں پیش آیا ؟

ظاھر ھے کہ بحث کلمہ کے لغوی معنی اور ابھام میں نھیں ھے بلکہ غدیر کا وزن اتنا زیادہ اور گراں ھے کہ دشمن اس طرح کی مذبوحانہ کو شش کرنے پر مجبور هو گئے ؟

چھٹی تجلی

اسی طرح ذہن میں یہ سوال پیدا هو تا ھے کہ :حدیث غدیر اھل سنت اور شیعوں کے نزدیک متواتر ھے اور بہت کم ایسی حدیثیں ھیں چودہ سو سا ل کے دور ان میں اس کے اتنے زیادہ نقل کرنے والے هوں اگر اس کے معنی اتنے زیادہ مبھم ھیں کہ آج تک کو ئی بھی اس کے واقعی معنی کو نھیں سمجھ سکا ھے اور وہ اتنے احتمالات کے درمیان اسی طرح سرگردان ھے تو اس حدیث کو کیوں نقل کیا گیا اور یہ بڑے بڑے راوی جن میں سے بہت سے علما ء اور مولفین ھیں تو ان کو اس حدیث کے نقل کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟!حدیث مبھم کو نقل کرنے کی کیا ضرورت ھے !حدیث مبھم کی تو سند کو جمع کرنے کی بھی ضرورت نھیں ھے !تو یہ کہنا چاہئے کہ: ”مو لیٰ “ کے اھم معنی تو سب کےلئے واضح و روشن تھے لہٰذا اس کو نقل کرنے کےلئے اتنا اہتمام کیاگیا ۔

ساتویں تجلی

کو ئی شخص یہ سوال کر سکتا ھے :ابوبکر ،عمر ،حارث فھری اور کئی افراد نے یہ سوال کیا :”کیا یہ مسئلہ خدا وند عالم کی طرف سے ھے یا خود آپ کی طرف سے ھے ؟“یہ سب اسی وجہ سے تھا کہ وہ کلمہ ٴ مو لیٰ سے صاحب اختیار هونے کے معنی کو اخذ کرچکے تھے لہٰذا انھوں نے پیغمبر اکرم (ص)سے ایسا سوال کرنے کی جسارت کی ورنہ سب جانتے تھے کہ پیغمبر اکرم(ص) کی تمام گفتار آیہ ”وَمَایَنْطِقُ عَنِ الھَویٰ “ کے مطابق وحی الٰھی اور خداوند عالم کے کلام کے علاوہ اور کچھ نھیں ھے ۔

کلمہ مولیٰ کے معنی کا واضح هونا

بارہ زیادہ اھم قرینے جملہ ” مَنْ کُنْتُ مَوْ لَاہُ ۔۔۔“کے معنی کے بیان گرھیں کہ ان میں ھر ایک تنھا اس کے اثبات کےلئے کا فی ھے ،یھاں تک کہ اگر ان میں سے ایک بھی نہ هوتا پھر بھی اس کے معنی واضح تھے ھم ان کو ترتیب کے ساتھ ذیل میں نقل کر رھے ھیں :

پھلا قرینہ

پیغمبر اکرم(ص) نے ”نفس سے اولیٰ هو نا “کے سلسلہ میں پھلے خدا وند عالم اس کے بعد اپنا ذکر فرمایا پھر اس کے بعد اس کلمہ کو امیر المو منین علیہ السلام کے بارے میں استعمال کیا جبکہ ان کی ولایت مطلقہ کے معنی کسی پر پوشیدہ نہ تھے ۔

دوسرا قرینہ

آیت :جس کے آخر میں خداوندعالم فرماتا ھے :یہ کسی بھی حکم الٰھی کے بارے میں نازل نھیں هو ئی ھے لہٰذا اسلام کا سب سے اھم مسئلہ هو نا چا ہئے جس کے با رے میں اس طرح کے مطلب کو مد نظر رکھا گیا ھے ۔

تیسرا قرینہ

بیابان و جنگل میں لوگوں کو روکنا وہ بھی تین دن ،نظم و ترتیب کے ساتھ پروگرام کرنا اور ایک استثنا ئی طویل خطبہ ارشاد فرمانا یہ سارے پروگرام پیغمبر اسلام(ص) کی زندگی میں بلکہ پوری تاریخ میں بے مثال ھیں یہ سب سے قوی و محکم دلیل ھے کہ مو لیٰ کے معنی بہت اھمیت کے حامل ھیں ۔

چو تھا قرینہ

پیغمبر اسلام(ص) کااس بات کی طرف اشارہ فرمانا کہ میری عمر اختتام کو پہنچ رھی ھے اور میں تمھارے درمیان سے جانے والا هوں ،یہ اس بات کا بہت ھی اچھا قرینہ ھے کہ مو لیٰ کے معنی آپ کی رحلت کے بعد والے ایام سے متعلق هو جو وھی امامت اور وصایت ھیں ۔

 

پانچواں قرینہ

پیغمبر اکرم (ص)نے اس پیغام کے پہنچانے پر کئی مرتبہ خدا وندعالم کو اپنا گواہ قرار دیا کہ کسی بھی حکم الٰھی کو پہنچا نے پر آپ نے ایسا نھیں کیا ۔اس کے بعد آپ (ص) نے متعدد مرتبہ لوگوں سے یہ بھی چاھاکہ ”حاضرین غائبین تک یہ پیغام پہنچا دیں “ایساکسی اور حکم الٰھی کے لئے نھیں فرمایا ۔

چھٹا قرینہ

آنحضرت (ص) کا اس بات کی تصریح فرمانا کہ مجھے ڈر ھے کھیں لوگ میری تکذیب نہ کریں حالانکہ کسی دوسرے حکم الٰھی میں آپ کو ایسا خو ف نھیں تھا ۔ظاھر ھے کہ جا نشین کا معین کرناھی وہ حساس نکتہ ھے جسے لوگ آسانی سے قبول نھیں کر سکتے ھیں ۔

ساتواں قرینہ

آیت :بھی مندرجہ بالا آیت کے مانند کسی بھی حکم الٰھی کے سلسلہ میں نازل نھیں هو ئی اور یقیناً وہ حکم جس کے سلسلہ میں یہ آیت نازل هو ئی ھے وہ اسلام کا سب سے اھم حکم هو نا چاہئے جس کے ذریعہ دین کی تکمیل هو رھی ھے ۔

آٹھواں قرینہ

بیعت کا مسئلہ جو خطبہ کے دوران زبانی طورپر بیان کیا گیا اور خطبہ کے بعد ھاتھ کے ذریعہ انجا م دیا گیا اس کا ولایت کو قبول کرنے کے علاوہ کو ئی دوسرا مطلب نھیں هوسکتاھے ۔

نواں قرینہ

غدیر خم میں مو جود لوگوں کا بیعت کرنا اور مبارک باد پیش کرنا اور دوست و دشمن کے ذریعہ هو نے والی گفتگو سے معلوم هوتا ھے کہ انھوں نے اس جملہ سے ولایت اور امارت کے معنی سمجھے تھے اور پیغمبر اکرم(ص) نے بھی اس طرح کے مطلب کے اخذ کرنے کی نھی نھیں فرما ئی ھے یا ان کی اصلاح نھیں کی ھے۔

دسواں قرینہ

حسان بن ثابت کے ذریعہ پڑھے جا نے والے اشعار جن کی پیغمبر اکرم (ص)نے تا ئید فرما ئی یہ اس بات کی قطعی دلیل ھے انھوں نے بھی مولیٰ سے”اولیٰ بہ نفس “کے معنی سمجھے تھے ۔چونکہ وہ عرب کے بڑے ادباء اور شعراء میں شمار هو تا ھے لہٰذا وہ لغوی اعتبار سے دوسرے ھر لغتنامہ پر ترجیح رکھتا ھے چونکہ لغتنامہ میں صرف کلمہ کے معنی بیان کئے جاتے ھیں لیکن اس مورد معین کے کونسے معنی حاضرین کے ذہن میںآتے ھیں یہ خداوندعالم کا لطف و کرم تھا کھاتنا بڑا لغت شناس شاعر غدیر خم میں حا ضر تھا اور اس نے اپنے ذہنی تبادر کااسی مقام پر صریح طور پر اعلان کیا یھاں تک کہ اس کو شعر کی صورت میں ڈھال دیا جو ھمیشہ کے لئے محکم سند ھے۔

گیار هواں قرینہ

حارث فھری کی داستان مو لا کے معنی میں شک کر نے والوں کے لئے ایک قسم کا مباھلہ تھا اس نے صاف طور پر یہ سوال کیا کہ کیا ” مولیٰ “کا مطلب یہ ھے کہ علی بن ابی طالب ھمارے صاحب اختیار هو ں گے ؟اس مباھلہ میںخداوند عالم نے فوراً حق کی نشاندھی کرائی اور حارث پر عذاب نازل فرمایا اور اس کو ھلاک کیا تاکہ ”مو لیٰ “ کا مطلب ”اولیٰ بہ نفس “ثابت هو جائے ۔

بارهواں قرینہ

حضرت عمر نے وھیں غدیر میں جملہ ”اَصْبَحْتَ مَوْلَایَ وَمَوْلیٰ کُلِّ مُوٴْمِنٍ وَمُوٴْمِنَةٍ“استعمال کیا جس سے اس بات کا دعویٰ کیا جاسکتا ھے کہ دشمن کا اس سے بہتر کو نسا اقرار هو گا ۔کلمہ ٴ ” اَصْبَحْتُ “اس نئے واقعہ کی طرف اشارہ ھے اور کلمہ ٴ ”کُلْ “ولایت مطلقہ کی طرف اشارہ کرتا ھے یہ اقرار اس بات کی علا مت ھے کہ دشمن نے بھی اس کو قبول کیا ھے ۔

تیرهواں قرینہ

علی بن ابی طالب کے سامنے حاضر هو کرآپ (ع) کو”امیرالمو منین کے عنوان سے سلام کرنے “ کا حکم عنوان بھی مو لیٰ کے لئے امارت کے معنی کو ثابت کرتا ھے اور اس کا عملی اقرار بھی کرنا ھے ۔

معصومین علیھم السلام کے کلام میں مو لیٰ کا مطلب

اس سے اچھی اور کیا بات هو سکتی ھے کہ ھم غدیر میں پیغمبر اکرم(ص) کے کلمہ مو لیٰ “کے معنی کاصاحبان غدیراور ائمہ معصومین علیھم السلام سے سوال کریں :

۱۔اس چیز میں اطاعت کرنا جسکو دوست رکھتے هو یا دوست نھیں رکھتے هو

پیغمبر اکرم(ص) سے سوال کیاگیا :جس ولایت کے ذریعہ آپ ھماری نسبت ھم سب سے مقدم ھیں وہ کیا چیز ھے ؟آنحضرت (ص) نے فرمایا :جن تمام چیزوںکو پسندیانا پسند کرتے هو ان سب میں ھمارے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنااور ھماری اطاعت کرنا ۔[3]

۲۔حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کےلئے نمونہ

غدیر خم میں جناب سلمان نے آنحضرت (ص) سے سوال کیا :حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کس ولایت کے مانند ھے ؟آپ (ص) نے فرمایا :ان کی ولایت میری ولایت کے مانند ھے ۔میں جس شخص پر میںاس کی نسبت زیادہ اختیار رکھتا هوں علی بھی اس کے نفس پر اس سے زیادہ اختیار رکھتے ھیں ۔[4]

۳۔ولایت یعنی امامت

حضرت امام زین العا بدین علیہ السلام سے سوال کیا گیا :پیغمبر اکر م(ص) کے اس کلام ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌِّ مَوْلَاہُ “کاکیا مطلب ھے ؟ آپ (ع) نے فرمایا : آنحضرت (ص) نے لوگوں کو خبر دار کیا کہ میرے بعد علی امام ھیں ۔[5]

۴۔یہ بھی سوال هو سکتا ھے ؟!

ابان بن تغلب نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ ۔۔۔“کے سلسلہ میں سوال کیا توآپ نے فرمایا :

اے ابو سعید کیا اس مطلب کے سلسلہ میں بھی سوال هو سکتا ھے !؟ پیغمبر اکرم(ص) نے لوگوں کو سمجھا یا کہ میرے بعد حضرت علی علیہ السلام میرے مقام پر هوں گے ۔[6]

۵۔حزب اللہ کی علا مت

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام سے ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ ۔۔۔“کے سلسلہ میں سوال کیا گیاتو آپ (ع) نے فر مایا :

پیغمبر اکرم(ص) ان کو ایک ایسی نشانی قرار دینا چا ہتے تھے کہ وہ لوگوں کے اختلاف اور تفرقہ کے وقت خداوند عالم کے حزب کی شنا خت هو سکے ۔[7]

۶ ۔علی (ع) کے امر کے هوتے هوئے لوگوں کو اختیار نھیں ھے

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ :پیغمبر اکرم(ص) کے غدیر خم کے میدان میں حضرت علی علیہ السلام کے سلسلہ میں اس فرمان ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌِّ مَوْلَاہُ کا کیا مطلب ھے ؟آپ (ع) نے فرمایا :خدا کی قسم یھی سوال آنحضرت (ص) سے بھی کیا گیا تو آپ(ص) نے اس کے جواب میں فرمایا :

خدا وند عالم میرا مو لا ھے اور وہ مجھ پر مجھ زیادہ سے اختیار رکھتا ھے اور اس کے امر کے هوتے هوئے میرا کو ئی امر و اختیار نھیں ھے اور میں مومنوں کا مو لا هوں اور ان کی نسبت ان پر ان سے زیادہ اختیار رکھتا هوں اور میرے امر کے هوتے هوئے ان کا کو ئی اختیار نھیں ھے اور جس شخص کا میں صاحب اختیار هوں اور میرے امر میں اس کا کو ئی دخل نھیں ھے ،علی بن ابی طالب اس کے مو لا ھیں اور اس پر اس کے نفس سے زیادہ اختیار رکھتے ھیں اور ان کے امر کے هوتے هوئے اس شخص کاکوئی امر اور اختیار نھیں ھے ۔[8]

حدیث غدیر کے متن کے سلسلہ میں کتابوں کا تعارف

جیسا کہ حدیث غدیر کی سند کے سلسلہ میں کتابوں میں مفصل بحث هو ئی ھے ،حدیث کے متن کے سلسلہ میں بھی بڑی محکم کتابیں تا لیف کی گئی ھیں ھم ذیل میں ان میں سے بعض کتابوںکا تذکرہ کررھے ھیں :

۱۔عبقات الانوار ،میر حا مد حسین ،غدیر سے متعلق جلدیں ۔

۲۔الغدیر علا مہ امینی جلد ۱ صفحہ ۳۴۰۔۳۹۹۔

۳۔عوالم العلوم جلد ۱۵/۳صفحہ /۳۲۸۔۳۷۹۔

۴۔فیض القدیر فیمایتعلق بحدیث الغدیر،شیخ عباس قمی ۔

۵۔المنھج السوی فی معنی المو لیٰ والولی ،محسن علی بلتستا نی پاکستانی ۔

۶۔بحا رالانوار جلد ۳۷صفحہ ۲۳۵۔۲۵۳۔

۷۔الغدیر فی الاسلام ،شیخ محمد رضا فرج اللہ صفحہ /۸۴ ۔۲۰۹۔

۸۔کتاب ”اقسام المو لیٰ فی اللسان “شیخ مفید ۔

۹۔رسالہ فی معنی المو لیٰ،شیخ مفید ۔

۱۰۔رسالہ فی الحواب عن الشبھات الواردة لخبر الغدیر،سید مرتضیٰ۔

۱۱۔معا نی الاخبار ،شیخ صدوق صفحہ ۶۳ ۔۷۳۔

اس بات کے مد نظر کہ مفصل استد لالی بحثیں اس کتاب میں بیان کرنا مقصود نھیں ھیں لہٰذا ھم امید کرتے ھیں کہ قارئین کرام مذکورہ کتابوں کو ملاحظہ فرما کر اپنے مقصود تک رسا ئی حاصل کرسکتے ھیں۔

_______________________

[1] اس سلسلہ میں مکمل بیان اسی کتاب کے آٹھویں حصہ میں آئے گا ۔

[2] کتاب ” عوالم العلوم “جلد ۱۵/۳صفحہ /۳۳۱پر کلمہ ٴ ” مولیٰ “ کے سلسلہ میں مفصل بحث کی ھے اور صفحہ/۵۸۹ پراھلسنت کی تفسیر کی چند کتابوں کے نام درج کئے ھیں جن میں کلمہ ٴ ”مو لیٰ “ کے معنی ”اولیٰ “ بیان کئے گئے ھیں ۔اسی طرح صفحہ /۵۹پر ان راویان حدیث،شعرا اور اھل لغت کے اسماء کی فھرست نقل کی ھے جنھوں نے معنی ”اولیٰ “کو کلمہ”مولیٰ “ کے اصلی معنی سمجھا ھے ذیل میں ھم ان کے نام درج کررھے ھیں :

محمد بن سائب کلبی م ۱۴۶۔سعید بن اوس انصاری لغوی م۲۱۵،معمر بن مثنی نحوی م ۲۰۹،ابو الحسن اخفش نحوی م ۲۱۵،احمد بن یحییٰ ثعلب م۲۹۱،ابوالعباس مبرّد نحوی م ۲۸۶،ابو اسحاق زجاج لغوی نحوی م ۳۱۱،ابو بکر ابن انباری م۳۲۸،سجستانی عزیزی م۳۳۰،ابو الحسن رمانی م ۳۸۴،ابو نصر فارابی م ۳۹۳،ابو اسحاق ثعلبی م ۴۲۷،ابوالحسن واحدی م ۴۶۸،ابو الحجاج شمنتری م ۴۷۶،قاضی زوزنی م ۴۸۶،ابو زکریا شیبانی م ۵۰۲،حسین فرّاء بغوی م ۵۱۰،جار اللہ زمخشری م ۵۳۸،ابن جو زی بغدادی م ۵۹۷،نظام الدین قمی م ۷۲۸،سبط ابن جو زی م ۶۵۴،قاضی بیضاوی م ۶۸۵،ابن سمین حلبی م ۷۵۶،تاج الدین خجندی نحوی م ۷۰۰،عبد اللہ نسفی م ۷۱۰،ابن صباغ ما لکی ۷۵۵،واعظ کا شفی م ۹۱۰،ابو سعود مفسّرم ۹۸۲،شھاب الدین خفا جی م ۱۰۶۹،ابن حجر عسقلانی ،فخر رازی ،ابن کثیر دمشقی ،ابن ادریس شافعی ،جلال الدین سیوطی ،بدر الدین عینی ۔

[3] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۹۶۔

[4] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۶۱۔

[5] معا نی الاخبار صفحہ ۶۳۔

[6] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۱۲۸۔معا نی الاخبار صفحہ ۶۳۔

[7] اثبات الھداة جلد ۲ صفحہ ۱۳۹حدیث ۶۰۶۔

[8] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ /۱۳۳حدیث ۱۹۰۔

۳ خطبہ ٴ غدیر کے کامل متن کو مھیا اور منظم کرنا

خطبہ ٴ غدیر کے نسخوں کی ایک دوسرے سے مقایسہ کرنے کی اھمیت و ضرورت

”خطبہ غدیر “کے متن کو مقایسہ کرنے کی اھمیت مندرجہ ذیل طریقوں سے واضح هو تی ھے :

پیغمبر اکرم (ص)،ائمہ معصومین علیھم السلام اور اصحاب سے نقل شدہ احادیث چودہ صدیاں طے کر کے ھم تک پہنچی ھیںلیکن اس دوران انھیںبڑی مشکلیں جھیلنا پڑیںجیسے تقیہ ،شیعوں کے ثقافتی اور اقتصادی حالات کا نا مساعد هونا ،کتابوں کو چھاپنے کے امکانات کا نہ هونا ،نسخہ برداری کرنے میں فنی اصول کی رعایت کا امکان نہ هونا ،ناسخین کی کتابت کی غلطیاں اور ان کے مانند دو سرے اسباب ھیں جوکسی ایک معین روایت کے سلسلہ میں نسخوں کے اختلاف کا باعث هوئے ھیں ۔

لہٰذا ایک کتاب کے نسخوں کا مقابلہ اور تطبیق یا ایک حدیث کے متن کا تقابل جو کئی مختلف کتابوں میں نقل هو ئی ھے یہ متن سے متعلق بہت سی مشکلوں کو حل کردیتا ھے اور دو سرے نسخہ میں جو ابھام و مشکل پا ئی جاتی ھے اس کو برطرف کردیتا ھے اور اس طرح متن کامل طور پر روشن هو جاتا ھے ۔

”خطبہ ٴ غدیر “کے سلسلہ میں تین اھم جہتوںسے مقایسہ کرنا لازم و ضروری ھے :

۱۔ایک سر نوشت ساز حدیث کے عنوان سے خود خطبہ کی اھمیت اور اس دائمی منشور کی طرف امت کا لازمی طور پر توجہ دینا جوخطبہ کی عبارت کو واضح کرنے کی ذمہ داری کو بہت مشکل بنا دیتی ھے ۔

۲۔متن کا طولا نی هونااور فطری طور پرطولانی متن میںمبھم اور مشکل الفاظ و معانی بہت زیادہ هوتے ھیں جن کو مقایسہ کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ھے ۔

۳۔حدیث کا سماعی هونا ،یعنی حدیث املاء کے طور پر نھیں بیان کی گئی جو راوی ھمت کرکے لکھ لیتا ،بلکہ آنحضرت (ص) کے خطبہ کے دوران اسے ذہن نشین کیا ھے اور اس کے بعد نقل کیا ھے اور یہ بات فطری ھے کہ ایسے مواقع میں حدیث کے کم یا زیادہ هونے کا امکان زیادہ هو تا ھے اور مقابلہ کے طریقہ سے حذف شدہ جملے اور کلمات کو ان کے مقام پر لایا جاسکتا ھے ۔

خطبہ ٴ غدیر کے مقابلہ کے نتائج

روایات اور نسخوں کی قدرو قیمت کا اندازہ ایک دوسرے سے تقابل کرنے کے بعد ھی هو سکتا ھے اور ھرایک کے علمی مقام ومرتبہ کو بڑی آسانی کے ساتھ مشخص ومعین کیا جاسکتا ھے

خطبہ ٴ غدیر کے مختلف نسخوں کے ایک دوسرے سے مقائسہ کرنے سے مندرجہ ذیل نتایئج اخذ هوتے ھیں :

۱۔خطبئہ غدیر کے سلسلہ مےں ذکر شدہ تینوں روایات(امام باقر (ع) ،حذیفہ اور زید بن ارقم کی روایات) متن کے اعتبارسے مکمل طور پر ایک دوسرے کے موافق ھیں سوائے وہ کلمات اور عبارات کے وہ اختلافی موارد جن کا ھر حدیث مےں هونا ایک عام امر سمجھا جاتاھے حدیث کے طولا نی هونے کے باوجود اس مطابقت کا هونا حدیث کے لئے بہت اھمیت رکھتا ھے خاص طور سے اس مطلب کو مدنظر رکھ کر کہ امام باقر علیہ السلام نے اس خطبہ کو علم الٰھی اور غیبی طریقہ سے نقل فرمایا ھے اور آپ بذات خود غدیر خم مےں تشریف نھیں رکھتے تھے حالانکہ حذیفہ اور زیدبن ار قم وشعبہ غدیر کے چشم دید گواہ ھیں اور زید بن ارقم اور حذیفہ اھلسنت کے قابل اعتماد راوی بھی ھیں ۔

۲۔تینوں روایات ایک دوسرے کی تائید اور تکمیل کرتی ھیں :اس کا مطلب یہ ھے کہ نسخوں کا ایک دوسرے سے مقایسہ کر تے وقت ایک نسخہ مےں امام باقر علیہ السلام کی روایت میں ایک کلمہ یا جملہ موجود ھے لیکن دوسرے نسخہ مےں مو جود نھیں ھے اور وھی کلمہ یا جملہ زید بن ارقم اور حذیفہ سے مروی روایات مےں بھی ایک میںموجود ھے اور دوسری روایت مےں موجود نھیں ھے جس سے اس مطلب کا پتہ چلتا ھے کہ راویوں اور نا سخین سے غلطی یا کو تا ھی هوئی ھے اور اس بات کی نشاندھی هوتی ھے کہ اصل مےں تینوں روایات ایک دوسرے پر منطبق هوتی ھیں ۔

۳۔دو یاتین مقامات جھاں مسئلہ تو لاّ اور تبرا سے متعلق جملہ جو بعض نسخوں مےںموجود ھے تینوں روایات میں اشارہ کے طور پرآیا ھے یا حذف هوگیا ھے اور یہ بات خطبہ کے راویوں کے تقیہ کے مخصوص حالات کی حکایت کرتی ھے اس مسئلہ کا نمونہ دو اصحاب صحیفہ اور سب سے پھلے بیعت کرنے والوں کانام ھے جو بعض نسخوں میں صاف طور پر بیان نھیں کیا گیا ھے ۔

۴۔کتاب ”الاقبال “موٴلف سید بن طاؤس نیز کتاب”الصراط المستقیم“موٴلف علامہ بیاضی کی ایک روایت میںایک قسم کی تلخیص کی گئی ھے اسکا مطلب یہ ھے یاتو موٴلف نے اختصار سے کام لیا ھے یااسکے اصل راوی نے مختصر طورپر نقل کیاھے۔

بھر حال ان دو کتابوں مےں بھی موجود متن کابھی مقابلہ کیا گیا ھے اور ان دونوں کتابوں مےں نسخوں کے مابین اختلافی موارد کو حاشیہ مےں ان کے نام کے ساتھ ذکر کیا گیاھے۔

۵۔کتاب وروضتہ الوا عظین کی روایت کتاب ”التحصین “کے ساتھ بہت سے مقامات پر مشابہت رکھتی ھے اور خاص مقامات پر دوسرے تمام نسخوں سے مختلف ھے ۔

۶۔کتاب ”نھج الایمان “کی روایت کتاب ”العدد القویہ ّ “ کے ساتھ بہت سے مقامات پر مشابہت رکھتی ھے اور اس نے کئی مقامات پر عبارتوں کی مشکل حل کی ھے ۔

۷۔کتاب ”التحصین “مےں نقل کی گئی روایت کے آخر کے دو صفحہ ناقص ھیں جن کا اس کے مقام پر حاشیہ مےں پور ے متن کے ساتھ اشارہ کیا گیا ھے ۔

۸۔روایت کتاب ”الیقین “میںمتعدد مقامات پر کچھ اضافہ کیاگیاھے اور اور بعض مقامات پر اس کی جملہ بندی مےں دوسری روایات سے فرق پایا جاتا ھے ۔

غدیر مےں رسول(ص) کے تمام فرامین کا جمع کرنا

اس بات کا بیان کردینا نھایت ھی ضروری ھے کہ بعض روایات مےں جو خطبہ یا واقعہ غدیرکاایک حصہ نقل هواھے اس سے اس میں بعض ایسے مطالب کامشاھد ہ هوتا ھے جو خطبہ کا مل کے متن مےں موجود نھیں ھیں ان میں پیغمبر اکرم (ص)کے لوگوں سے لئے گئے اقراروں کا تذکرہ ھے اور ان سوا لا ت کے جوابات درج ھیں جولوگوں نے پیغمبر اکرم (ص)سے دریافت کئے ھیں ۔

اسی طرح پیغمبر اکرم (ص)کا اپنی وفات کے نزدیک هونے کی خبردینا ،لوگوں کے ساتھ اپنے گزشتہ معاملات کا تذکرہ کرنا، قیامت کا تذکرہ اور غدیر کے سلسلہ میں جوابات دینا ھیں جو دوسرے حصہ میں مفصل طور پر بیان کئے گئے ھیں ۔

ان موارد کے سلسلہ میں کئی احتمال پائے جاتے ھیں :

۱۔چونکہ آنحضرت (ص) نے مکہ ،عرفات اور منیٰ میں کئی مرتبہ خطبے ارشاد فر مائے ھیں لہٰذا وہ تمام خطبے راویوں کی نظر میں خطبہ حجة الوداع کے عنوان سے موجود اور انھوں نے ان کے بعض حصوںکو خطبہ غدیر کے ایک حصہ کے عنوان سے نقل کیا ھے ۔

۲۔جو مطالب متن کامل میں نھیں ھیں ان کے سلسلہ میں یہ احتمال ھے کہ یہ مطالب خطبہ سے پھلے یا خطبہ کے بعد لوگوں کے چھوٹے چھوٹے جلسوں میں بیان هو ئے ھیں اور پیغمبر اکرم(ص) نے غدیر خم میں تین دن قیام فرمایا لہٰذا ان تین ایام میںآپ کی زبان اقدس سے متعدد فرامین جا ری هوئے ھیں ۔

۳۔چونکہ نقل کرنے والے کا مقصد اصل خطبہ نقل کرنا تھا یہ مطالب جو سوال و جواب کی شکل میں نقل هوئے ھیں ان کو متن میں شمار نھیں کیا گیا ھے صرف خطبہ کے متن کو ذکر کیا گیا ھے ۔

۴۔مختصر طور پر غدیر میں پیغمبر اکرم (ص)کے فرامین میں سے متن خطبہ کے بعض مطالب خطبہ کے قبل و بعد کے مطالب کے ساتھ مخلوط طور پر نقل کئے گئے ھیں ۔

بھر حال خطبہ کو منظم کرنے میں فقط جن نسخوں میں خطبہ ٴ غدیر کو مفصل طور پر ایک متن کی صورت میںنقل کیا گیا ھے ان میں ایک دو سرے سے مقابلہ کیا گیا ھے ۔غدیر میں آنحضرت (ص) کے تمام فرامین کو جداگانہ طور پر دستہ بندی کرکے کتاب کے دو سرے حصہ میں نقل کیا گیا ھے ۔

خطبہ کے عربی متن کو منظم کرنا

خطبہ غدیر کا عربی متن متعدد مرتبہ مستقل طور پر طبع هو چکا ھے جو تمام کے تمام کتاب ”الاحتجاج “ کی روایت کے مطابق تھے ۔اس کے مشهور و معروف دو نمو نوں میں سے ایک کتاب ”الخطبة المبار کة النبویة “جس کو علامہ سید حسن حسینی لواسانی نے مرتب و منظم کیا ھے اور دوسراکتاب ”خطبة النبی الاکرم (ص)فی یوم الغدیر “ ھے جس کو مرحوم استاد عماد زادئہ اصفھانی نے منظم و مرتب کیا ھے ۔

مو جودہ متن حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ،حذیفہ بن یمان ،اور زید بن ارقم کی تین روایات کے مطابق ھے ۔ اس کے نو منابع اور مدارک یعنی ” روضة الواعظین،الاحتجاج ،الیقین ،التحصین ،العدد القویة ، الاقبال ،الصراط المستقیم ،نھج الایمان اور نزہة الکرام سے مقائسہ کرنے کے بعد منظم و مرتب کیا گیا ھے اوراسے گیارہ حصوں میں پیش کیا جائیگا اور ھر حصہ سے پھلے اس کا عنوان ذکرکیا جائیگا ۔

مطالعہ کی آسانی اور اس کو حفظ کرنے کیلئے حروف پر حرکات اور کلمات پر اعراب گذاری کی گئی ھے ۔وہ مقامات جو خطبہ کا جزء نھیں ھیں ان کو خاص حروف اور بغیر اعراب کے ذکر کیا گیا ھے جیسا کہ متن کے اھم موارد کو سیاہ حروف میں ذکر کیا گیا ھے ۔خطبہ کے کامل متن کو بچانے کی غرض سے جوجملے قطعی طورپر آنحضرت (ص) کے کلام کا جزء نھیں ھیں ان پر صلی اللہ علیہ وآلہ اور علیہ السلام لکھنے سے احتراز کیا گیا ھے

حاشیہ میں نسخوں میں اختلافات کے مقامات اور ان کی کیفیت بیان کی گئی ھے ۔چھ اصلی مقابلہ کی گئی کتابوں کےلئے مندرجہ ذیل اشاروں کو بیان کیا جا رھا ھے :

الف :الاحتجاج ۔ ب:الیقین ۔ ج:التحصین ۔

د : روضة الواعظین ۔ ھ:العدد القویة ۔ و:نھج الایمان ۔

جن بعض موارد میں نسخوں کا اختلاف کتاب ”الاقبال “،”الصراط المستقیم “اور ”نزھة الکرام “ سے ذکر کیا گیا ھے وھاں پر ان کتابوں کا نام ذکر هوا ھے اور کوئی رمز نھیں آیا ھے ۔

اس با ت کو مد نظر رکھتے هوئے موجودہ متن نو روایات اور نو کتابوں سے اخذ کیا گیا ھے حاشیوں اور دوسرے نسخوں کے مطالب اس لئے اھمیت کے حا مل ھیں کہ ھر نسخہ واقع کو نمایاں کرنے میںکردار اداکرسکتا ھے ۔

حاشیے میں قرآنی آیات کے حوالے اور مشکل کلمات اور جملوں کی وضاحت کی گئی ھے ۔

چونکہ خطبہ کا متن عربی زبان میں ھے لہٰذا حاشیے بھی عربی زبان میں ھی ذکر کئے گئے ھیں تا کہ دو زبانوں میں خلط ملط نہ هو جائے ۔ضمناً خطبہ کے گیارہ حصوں میں سے ھر ایک کے حاشیہ کا نمبر جداگانہ طورپر لکھا گیا ھے ۔

۴ خطبہ ٴ غدیر کے ترجمے

”خطبہ ٴ غدیر “کا فارسی ،اردو ،ترکی اور انگریزی زبان میں ترجمہ کیا گیا ھے نیز عربی ،فارسی اردواور ترکی زبان کے اشعار میں متعدد مرتبہ منظم کیا گیاھے اور ان میں سے بہت سے ترجمے و اشعار کے مجموعے چھا پے جا چکے ھیں ۔ ھم ذیل میں خطبہ کے نظم و نثر کے چند نمونوں کی طرف اشارہ کر رھے ھیں :

خطبہ ٴ غدیر کا سب سے پھلے فارسی زبان میں ترجمہ ۶ ھ میںایک بلندپایہ کے عالم شیخ محمد بن حسین رازی کے ذریعہ کتاب ”نزھة الکرام “میں انجام پایا اور بعینہ کتاب مذکور میں طبع بھی هوا ھے۔

خطبہ ٴ غدیر کے فارسی زبان میں چھپے هوئے تین عنوانوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ھے :

۱۔”خطبہ پیغمبر اکرم(ص) در غدیر خم “ موٴ لف استاد حسین عماد زادہ اصفھانی ۔یہ ترجمہ مختلف صورتوں میں چھاپا گیا ھے کبھی عربی متن اور اس کے نیچے فارسی ترجمہ اور کبھی مستقل فارسی ترجمہ کی صورت میں چھاپا گیا ھے ،اسی طرح ایک مفصل کتاب ”پیامی بزرگ از بزرگ پیامبران “کی صورت میں بھی طبع هواھے ۔

۲۔غدیریہ موٴلف ملا محمد جعفر بن محمد صالح قاری ۔

۳۔غدیر پیوند نا گسستنی رسالت و امامت مو ٴ لف شیخ حسن سعید تھرانی مرحوم ۔

خطبہ ٴ غدیر کے اردو زبان میں چھاپے گئے تین عنوانوں کی طرف اشارہ کرتے ھیں :

۱۔”غدیر خم اور خطبہ ٴ غدیر“ مو ٴلف علا مہ سید ابن حسن نجفی یہ ترجمہ کراچی میں طبع هوا ھے ۔

۲۔”حدیث الغدیر “موٴلف علامہ سید سبط حسن جا ئسی یہ ترجمہ ہندوستان میں طبع هوا ھے ۔

۳۔”حجة الغدیر فی شرح حدیث الغدیر“ یہ ترجمہ دھلی میں طبع هوا ھے ۔

خطبہ غدیر کا ترجمہ آذری ترکی زبان میںکتاب حاضر سے ”غدیر خطبہ سی “کے عنوان سے انجام پایا ھے ۔

انگریزی زبان میں هونے والے تین ترجموں کی طرف اشارہ کرتے ھیں :

۱۔what happend in qadir?(واٹ ھیپنڈ ان غدیر )کتاب حاضر میں مذکور خطبہ غدیر کا ترجمہ کیا گیا ھے ۔

۲۔the last two khutbas of the last prophet pbuh(دا لاسٹ ٹو خطباز آف دا لاسٹ پرفیٹ )مترجم سید فیض الحسن فیضی جو راولپنڈی پاکستان میں طبع هوا ھے ۔

۳۔the last sermon of prophet mohammad at ghadir khum(دا لاسٹ سِر مُن آف پرافیٹ محمد ایٹ غدیر خم )مترجم حسین بھا نجی جو تنزانیا میں طبع هوا ھے ۔

”حدیث غدیر “کی عربی نظم علامہ امینی کی کتاب ”الغدیر “میں جمع کی گئی ھیں اس کتاب کی گیارہ جلدوں میں ”غدیر “سے متعلق عربی اشعار کو جامع طور پر تدوین کیا گیا ھے ۔اسی طرح کتاب ”شعراء الغدیر “جو مو ٴ سسہ ٴ الغدیر کے ذریعہ دو جلدوں میں تدوین کی گئی ھے ۔

خطبہ غدیرکی فارسی نظم مندرجہ ذیل کتابوں میںذکر کی گئی ھے :

۱۔”سرود غدیر “موٴ لف علامہ سید احمد اشکوری ،۲ جلد۔

۲۔”شعرائے غدیر از گذشتہ تا امروز “تالیف ڈاکٹر شیخ محمد ھادی امینی ۱۰ جلد ۔

۳۔”غدیر در شعر فارسی از کسا ئی مروزی تا شھر یار تبریزی “محمد صحتی سردرودی ۔

کچھ فارسی شعراء نے خطبہ ٴ غدیر کو فارسی نظم کی صورت میں تحریر کیا ھے ھم ذیل میں چند طبع شدہ نمونو ں کی طرف اشارہ کرتے ھیں :

۱۔خطبة الغدیر موٴلف مرحوم صغیر اصفھانی جو مرحوم عماد زادہ کی مدد سے تحریر کیا گیا ھے ۔

۲۔خطبہ ٴ غدیریہ موٴلف مرزا رفیع ، جس کو ۱۳۱۳ ھ میں ہندوستان میں طبع کیا گیا ھے ۔

۳۔ترجمہ ٴ (منظوم )خطبہ ٴ غدیر خم موٴلف مرزا عباس جبروتی قمی ۔

۴۔”غدیر خم “موٴلف مرتضیٰ سرفراز جس کو۱۳۴۸ ھ ش میں طبع کیاگیا ھے ۔

یہ چندکتابیں نمونے کے طور پر پیش کی گئی ھیں اور زیادہ اطلاع کے لئے دو کتاب”الغدیر فی التراث الاسلامی “اور ”غدیر در آئینہ کتاب “ملا حظہ کیجئے ۔

غدیر کے خطبہ کو فارسی میں منظم و مرتب کیاجانا

خطبہ کے تمام تر جمے کتاب ”الاحتجاج “کے مطابق ھیں لیکن مو جودہ ترجمہ کے عربی متن کو مذکورہ نو کتابوں سے مقائسہ کرنے کے بعد انجام دیا گیا ھے اورعلم حدیث کی رو سے اضافات اور عبارتوںمیں تغیر و تبدیلی هو ئی ھے نیز عقیدتی پھلو ٴوں پر بھی رو شنی ڈالی گئی ھے ۔

یہ عربی متن کے مطابق ترجمہ (جس کو ھم چھٹے حصہ میں ذکر کریں گے )گیارہ حصوں میں تقسیم هوا ھے اور حصہ کے آغاز میںاس کانام بھی ذکرکیا گیا ھے ۔

خطبہ ٴ غدیر بلند و بالا مطالب و مفاھیم کا حامل ھے لہٰذا ترجمہ کرنے میں ان مطالب کوروشن و واضح کرنے کا خیال رکھا گیا ھے اور تحت اللفظ ترجمہ کو بھی مد نظر رکھا گیا ھے البتہ خطبہ کی اھمیت هو نے کے باوجود بعض مقامات پر تفسیر کی احتیاج ھے جس کو اس کتاب کے آٹھویں حصہ میں کسی حد تک بیان کرنے کی کو شش کی گئی ھے ۔

خطبہ کے متن میں موجودہ آیات کو پھلے عربی صورت میں تحریر کیا گیا اس کے بعد ان کا ترجمہ بھی تحریر کیا گیا ھے ۔

جن مقامات پر یہ معلوم نھیں هوتا ھے کہ یہ آنحضرت (ص) کا کلام نھیں ھے وھاں جملہ ”صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم “اور” علیہ السلام “تحریر نھیں کیا گیا ھے ۔

خطبہ میں کلمہ ”معاشر الناس “اور ”اٴلا“بہت زیادہ آیا ھے چونکہ اردو زبان میں اس کے معادل کوئی اچھالفظ نھیں ھے لہٰذا پھلے کلمہ کا ” اے لوگو “اور دو سرے کلمہ کا”آگاہ هو جاؤ “ترجمہ کیا گیاھے ۔

خطبہ کے اھم مقامات کو سیاہ حرفوں میں تحریر کیا گیا ھے خطبہ کے متن سے خارج موارد کو مشخص طور پر اور مختلف حروف کے ساتھ تحریر کیا گیا ھے ۔

نسخوں کے جن اختلافی موارد کو عربی متن کے حاشیہ میں تحریر کیا گیا ھے اگر کسی ایسے اھم مطلب کا حامل ھے کہ جس کا متن سے استفادہ نھیں هو رھا ھے یا عبارت میں اتنا اختلاف ھے جس سے جملہ کے معنی تبدیل هو جاتے ھیں تو اس صورت میں اس مطلب کو ترجمہ کے حاشیہ میں ذکر کیا گیاھے لیکن اگر کلمات مےں اختلاف هو اورنئے اور اھم مطلب کا حامل نہ هو تو اس کوترجمہ کے حاشیہ میں لکھنے سے خودداری کی گئی ھے الف اور با کی علامات جن کو عربی متن کے حاشیہ میں استعمال کیا گیا ھے ان کویھاں پر بھی استعمال کیا گیا ھے اور وہ چند موارد جو دو کتاب ”الاقبال “اور ”الصراط المستقیم “سے بیان کئے گئے ھیں ان کو علامت کے بغیر ذکر کیا گیا ھے ۔

وہ موارد جن میں عبارت کی وضاحت ضروری ھے یا تاریخ سے مربو ط ھیںان اس کو حاشیہ میں بیان کیا گیا ھے ۔

ھم امید کرتے ھیں کہ مذکورہ نسخوں سے مقائسہ کیلئے جواقدار بیان کئے گئے ھیں ان کے مد نظر قارئین کرام کےلئے خطبہ ٴ غدیر کی اھمیت واضح هو گئی هو گی اور وہ بڑی توجہ کے ساتھ اس کا مطالعہ کرینگے ۔

__________________

اسرار غدیر

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.