قیامت

0 0

جو شخص موضوع قیامت پر گفتگو کرنا چاھے ،تو اس کے لئے ضروری ھے کہ سب سے پھلے مر حلے میں ”قیامت“ کو غیر تفصیلی طور سے ثابت کرے تاکہ اس کی ضرورت اور اس کے یقینی ہونے پرعقیدہ رکھے ،نیز اس ضرورت اور یقینی ہونے کے اسباب کو تلاش کرے اور اس کی ضرورت پر دینی دلائل قائم کرے۔
اور جب اس ضرورت(معاد) کو انسان دلیل و برھان سے ثابت کر لیتاھے تو ایک دوسری بحث کا آغاز ہوتا ھے: کہ اس معاد کی جزئیات کیا کیا ھیں، کیونکہ ضرورت معاد وہ بنیادی مسئلہ ھے کہ جس کے بغیر جزئیات معاد کے بارے میں بحث کرنا فضول ھے۔
کیونکہ انسان کسی ٹھوس نتیجہ تک نھیں پہونچ سکتا مگر یہ کہ تدریجی طور پر اس طرح کہ بعد والا مرحلہ پھلے والے مرحلے سے مر تبط ہو اور ان کے درمیان ایک مستحکم رابطہ ہو جس کے ذریعہ حقائق سے پردہ اٹھ جائے اور حقیقت واضح ہوجائے :

 
۱۔کیا خدا وند عالم امر و نھی کرتا ھے؟

ھمارے لحاظ سے ھر عقل مند انسان اس بات کو سمجھتا ھے کہ خدا وند عالم نے امر و نھی کیا ھے ،کیونکہ انھیں اوامر نواھی کے عظیم مجموعہ کو شریعت اسلام کھا جاتاھے ،
اور اگر ھم قرآن مجید پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو اس بات کی دلیل آسانی سے مل سکتی ھے: جیسا کہ ارشاد خدا وند عالم ہوتا ھے:
[10]
”پا بندی سے نماز اداکرو اور زکوةدیا کرو“
[11]
”روزہ رکھنا جس طرح تم سے پھلے لوگوں پر فرض تھا اسی طرح تم پر بھی فرض کیا گیا ۔“
[12]
”اور لوگوں پر واجب ھے کہ محض خدا کے لئے خانہ کعبہ کا حج کریں“
[13]
”اور جان لو کہ جو کچھ تم (مال لڑکر)لوٹو ان میں کا پانچواں حصہ مخصوص خدا “
[14]
”جو حق جھاد کرنے کا ھے خدا کی راہ میں جھاد کرو “
[15]
”حالانکہ خرید وفروخت کو خدا نے حلال اور سود کو حرام قرار دیا “
[16]
”اس میں شک نھیں کہ خدا انصا ف اور(لوگوں کے ساتھ)نیکی کرنے اور قرابت داروں کو (کچھ)دینے کا حکم کرتا ھے اور بدکاری اور ناشایستہ حرکتوں اور سر کشی کرنے سے منع کرتا ھے“
[17]
”نہ تم میں سے ایک دوسرے کی غیبت کرے“
[18]
”ایک دوسرے کے مال کی ٹوہ میں نہ رھا کرو“
[19]
”بہتان تو بس وھی لوگ باندھا کرتے ھیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نھیں رکھتے۔“
[20]
”بہت سے گمان (بد )سے بچے رہو“
[21]
”ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی خرابی ھے“
ان کے علاوہ اور دیگر آیات کریمہ ھیں جن میں خدا وندا عالم کی طرف سے امر و نھی بیان ہوئے ھیں۔
لہٰذااس وقت ھم یہ بات یقین کے ساتھ کہہ سکتے ھیں کہ خدا وند عالم نے امر و نھی کیا ھے ۔

 
۲۔کیا یہ اوامر و نواھی الزامی ہوتے ھیںیا ارشادی؟

یہ مسئلہ علم اصول فقہ میں تفصیلی طور پر ثابت ہو چکا ھے جس کا خلاصہ یہ ھے کہ جو چیز وجوب پر دلالت کرے اور وجوب میں ظاھر بھی ہو اگر مستحب پر دلالت کرنے والے قرینہ سے خالی ہو، اس کو امر کھا جاتا ھے،اورحکم عقل کے ذریعہ اس کا وجوب ہوتا ھے کیونکہ عبد پر مولا کے حکم کی اطاعت کرنا ضروری ھے اور مولا جس کام کا ارادہ کرلے اس کو انجام دینے کے لئے حرکت کرنا ضروری ھے تاکہ عبودیت و مالکیت کا حق ادا ہو سکے۔

جس طرح مسئلہ نھی کا خلاصہ تھا:
نھی بھی الزام پر دلالت کر نے میں امر کی طرح ہوتی ھے اور حرمت میں ظاھر ہوتی ھے اور جب صیغہ نھی کسی ایسے شخص سے صادر ہو جس کی اطاعت واجب ھے تو اس مولیٰ کی وجوب اطاعت ،و حرمت نا فرمانی عقلی طور پر ثابت ہونے کا تقاضا یہ ھے کہ جس کام سے مولیٰ منع فرمائے اس کو انجام دینا جائز نھیں ھے،،[22]
اور کیونکر مذکورہ مطلب صحیح نہ ہو ، جبکہ خدا وند عالم ارشاد فرماتا ھے:
[23]
”جو تم کو رسول دیں وہ لے لیا کرو اور جس سے منع کریں اس سے باز رہو“
[24]
”جو لوگ اس کے حکم کی مخالفت کرتے ھیں ان کو اس بات سے ڈرتے رہنا چاہئے کہ(مبادا) ان پر کوئی مصیبت آپڑے یا ان پر کوئی درد ناک عذاب نازل ہو“
پس ان تما م چیزوں سے ثابت یہ ہوا کہ خدا وند عالم کے اوامر و نواھی مکمل طور پر الزامی (ضروری)ہوتے ھیں ،اور اس میں کسی کو کوئی اختیار و رخصت نھیں ھے۔

 
۳۔اگر کوئی ان اوامر و نواھی کی مخالفت کرے تو؟

جیسا کہ ثابت ہو چکا ھے کہ خدا وند عالم نے امر ونھی کیا ھے اور ان اوامر و نواھی پر عمل کرنا ضروری ھے نیز ان کی مخالفت جائز نھیں ھے تو کیا اگر کوئی انسان خدا کے امر و نھی کی مخالفت کرے تو کیا اس پر عقوبت و عذاب (مادی معنی میں)ہونا چاہئے یا نھیں ؟یا ان کی مخالفت پر معنوی آثار مرتب ہوں گے؟
اس سوال کے جواب میں ھمارے لئے کافی ھے کہ ھم چند قرآنی آیات کا مطالعہ کریںتاکہ خدا وند عالم کی مخالفت کا نتیجہ معلوم ہو سکے۔
ارشاد خداوندی ہوتا ھے:
[25]
”اور ان میں سے جس نے ھمارے حکم سے انحراف کیا اسے ھم (قیامت میں)جہنم کے عذاب کا مزا چکھائیں گے“
[26]
”(اے رسول)تم کہو کہ اگر میں نافرمانی کروں تو بیشک ایک بڑے (سخت) دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں“
[27]
”اور بہت سے بستیوں (والے)نے اپنے پروردگار اور اس کے رسولوں کے حکم سے سر کشی کی تو ھم نے ان کا بڑی سختی سے حساب لیا اور انھیں بُرے عذاب کی سزا دی“
[28]
”آخر تمھیں دوزخ میں کون سی چیز (گھسیٹ )لائی وہ لوگ کھیں گے کہ ھم نہ تو نماز پڑھا کرتے تھے“
[29]
”جن لوگوں نے ظلم کیا ان پر درد ناک عذاب سے افسوس ھے“
پس مذکورہ آیات کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوتی ھے کہ خدا وند عالم کے اوامر و نواھی جس کو شریعت اسلام کھا جاتا ھے؛ کی مخالفت پر (ابدی)عذاب ہوتا ھے۔

 
۴۔کیا خدا وند عالم کے وعدوعید حقیقی ھیں یا صرف لوگوں کو اطاعت پر تحریک کرنے کے لئے ؟

بعض لوگ یہ کہتے ھیں کہ خدا وند کریم کا قرآن مجیدمیں بار با ر اس بات کا ذکر کرنا کہ انسان کو مرنے کے بعد قیامت میں اٹھا یا جائے گا اور اچھے اعمال کرنے والوں کو بہشت میں اور برے اعمال کرنے والوں کو جہنم میںبھیجا جائے گا،یہ وعد و وعید صرف لوگوں کی ترغیب اور تحریک کے لئے ھیں ۔تاکہ لوگ خدا کی اطاعت کریں اور اس کی نا فرمانی نہ کریں جب کہ در حقیقت ان میں کوئی انعام یا عذاب نھیں ھے گویا اس قول کا کہنے والا یہ عقیدہ رکھتا ھے کہ یہ مادی جسم چونکہ موت کے بعد ختم ہو جاتا ھے اور اس کا دوبارہ اپنی حالت پر پلٹنا محال ھے کیونکہ جو چیز ختم ہو جاتی ھے دوبارہ واپس نھیں پلٹ سکتی ۔لہٰذامادی معنی کے لحاظ سے انعام و جزا اور عذاب کا تصور ھی نھیں پایا جاتا۔ گویا یہ وعدہ وعید صرف ایک (دھمکی)ہوتی ھے جس میں حقیقت کچھ نھیں ہوتی۔
جب کہ حقیقت یہ ھے کہ ھم قرآن کریم میں پڑھتے ھیں(اور خدا وند عالم نے قرآن کریم کو عر بی زبان میں واضح طور پر نازل کیا ھے)اور ھم عربی زبان کو جانتے ھیں اور اس کے مورد استعمال نیز اس کے الفاظ کی دلالت سے بھی با خبر ھیں ۔چنانچہ ھم کوئی ایسا جواز نھیں پاتے جس سے الفاظ کو اس کے ظاھر کے خلاف حمل کریں حالانکہ خلاف ظاھر پر دلالت کرنے والے قرینہ سے خالی ہو۔
اور جب قرآن مجید میں استعمال شدہ الفاظ کے ذریعہ کسی کو مخاطب کیا گیا ہو اور اس میں کوئی ایسا قرینہ بھی نہ ہو جس سے اس کی تاویل کی جاسکے تو پھر اس کو اس کے حقیقی معنی میں ھی استعمال کیا جائے گا ،اور ھمیں ذرہ برابر بھی اس کو مجاز ،مبالغہ اور جھوٹے وعدوں پر حمل کرنے کا حق نھیں ھے۔
قارئین کرام ! ھم آپ کے سامنے ایسی آیات قرآنی کو بیان کریںگے جن میں حشر و نشر اور قیامت پر واضح طور پر تائید کی گئی ھے اور ایسی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ھے جس میں کسی قسم کی تاویل اور تقیید کی کوئی گنجائش نھیں ھے ،اور جن میں ذرہ برابر بھی ھیرا پھیری نھیںکی جاسکتی۔
چنانچہ ارشاد خدا وندی ھے:
[30]
”جس طرح ھم نے (مخلوقات کو)پھلی بار پید ا کیا تھا (اسی طرح)دوبارہ (پیدا )کر چھوڑیں گے(یہ وہ)وعدہ (ھے جس کا کرنا)ھم پر (لازم)ھے اور ھم اسے ضرور کر کے رھیں گے“
[31]
”اس نے ان(کے موت)کی ایک میعاد مقرر کر دی ھے جس میں ذرا بھی شک نھیں “
[32]
”اور ھم ان سبھوںکو اکٹھا کریں گے تو ان میں سے ایک کو نہ چھوڑیں گے“
[33]
”اور(لوگوں کے اعمال کی)کتاب (سامنے رکھی جائے گی)تو تم گناہگار وں کو دیکھو گے کہ جو کچھ اس میں (لکھا)ھے (دیکھ دیکھ کر)سھمے ہوئے ھیں اور کہتے جاتے ھیں ھائے ھماری شامت یہ کیسی کتاب ھے کہ نہ چھوٹے ھی گناہ کو بے قلمبند کئے چھوڑتی ھے نہ بڑے گناہ کو اور جو کچھ ان لوگوں نے (دنیامیں) کیا تھا وہ سب (لکھاہوا)موجود پائیں گے اور تیرا پرور دگار کسی پر (ذرہ برابر)ظلم نھیں کرے گا“
[34]
”پھراس کے بعد یقیناً تم سب لوگوں کو( ایک نہ ایک دن) مرنا ھے اس کے بعد قیامت کے دن تم سب کے سب قبروں سے اٹھائے جاوٴگے“
[35]
”کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ھم نے تم کو (یونھی ) بیکار پیدا کیا اور یہ کہ تم ھمارے حضور لوٹا کر نھیں لائے جاوٴگے “
[36]
”اے ھمارے پروردگار بیشک تو ایک نہ ایک دن جس کے آنے میں شبہ نھیں لوگوں کو اکٹھا کرے گا(تو ھم پر نظر عنایت رھے)بیشک خدا اپنے وعدے کے خلاف نھیں کرتا “
[37]
”(پھر ھم پوچھیں گے) کہ کیوںاے گروہ جن و انس کیا تمھارے پا س تم ھی میں کے پیغمبر نھیں آئے جو تم سے ھماری آیتیں بیان کریں اور تمھیں تمھارے اس روز (قیامت)کے پیش آنے سے ڈرائیں، وہ سب عرض کریں گے(بیشک آئے تھے)ھم خود اپنے اوپر آپ اپنے (خلاف) گواھی دیتے ھیں (واقعی)ان کو دنیا کی(چند روزہ)زندگی نے انھیں دھوکے میں ڈال رکھا“
[38]
”بیشک فیصلہ کا دن مقرر ھے“
[39]
”وہ دن بر حق ھے تو جو شخص چاھے اپنے پروردگار کی بارگاہ (اپنا) ٹھکانا بنائے“
[40]
”اور جس شخص نے جیسا کیا ہو اسے اس کا پوراپورا بدلہ مل جائے گا اور جو کچھ یہ لوگ کرتے ھیں وہ اس سے خوب واقف ھے“
[41]
”اور کفار کہنے لگے کہ ھم پر تو قیا مت آئے گی ھی نھیں (اے رسول)تم کہہ دو ھاں(ھاں)مجھ کو اپنے اس عالم الغیب پروردگار کی قسم ھے جس سے ذرہ برابر(کوئی چیز)نہ آسمان میں چھپی ہوئی ھے اور نہ زمین میں کہ قیامت ضرور آئے گی اور ذرہ سے چھوٹی چیز اور ذرہ سے بڑی (غرض جتنی چیزیں ھیں سب )واضح و روشن کتاب(لوح محفوظ)میں محفوظ ھیں تاکہ جن لوگوں نے اچھے کام کئے ان کو خدا جزاء خیر دے، یھی وہ لوگ ھیں جن کے لئے (گناہوں کی)مغفرت اور (بہت ھی)عزت کی روزی ھے “
[42]
”اور یہ کفار خدا کی جتنی قسمیں ان کے امکان میں تھیں کھا (کر کہتے)ھیں کہ جو شخص مرجاتا ھے پھر اس کو خدا دوبارہ زندہ نھیں کرے گا (اے رسول کہدوکہ)ھاں ضرور ایسا کرے گا)اس پر اپنے وعدہ کی وفا لازم و ضروری ھے مگر بہتیرے آدمی نھیں جانتے ھیں(دوبارہ زندہ کرنا اس لئے ضروری ھے )کہ جن باتوں پر یہ لوگ جھگڑ ا کرتے ھیں انھیں ان کے سامنے صاف و واضح کر دے گا اور تاکہ کفار یہ سمجھ لیں کہ یہ لوگ (دنیامیں)جھوٹے تھے“
[43]
”اور تمھیں کیا معلوم کہ جزا کا دن کیا ھے پھر تمھیں کیا معلوم کہ جزا کا دن کیا چیز ھے، اس دن کوئی شخص کسی کی بھلائی نہ کر سکے گا اور اس دن حکم صرف خدا ھی کا ہوگا“

پس نتیجہ بحث یہ ہوا :
۱۔خدا وندعالم امر و نھی کرتا ھے۔
۲۔ اس کے امر ونھی الزامی ہوتے ھیں ۔
۳۔ان اوامر و نواھی کی مخالفت موجب عقوبت ہوتی ھے۔
۴۔اسی عقوبت کے حقیقی (مادی)معنی ھیں اور صرف ڈرانے کے لئے نھیں ھیں ۔
لہٰذاھم کہتے ھیں کہ ان تمام مطالب کے پیش نظر قیامت کا ہونا ضروری ھے اور ایک مسلمان پر قیامت کا ایمان رکھنا اس کو ضروری اور قطعی ماننا ضروری ھے۔
اور اسی بات پر مذکورہ تما م آیات دلالت کرتی ھیں، کیونکہ انھیں آیات میں وضاحت کی گئی ھے کہ قیامت وہ چیز ھے ”جس میں کوئی شک نھیں“اور یھی(یوم الحق)ھے جس میں ایک ساعت بھی کم و زیادتی نھیں ہو سکتی ،اوراس قیامت کا مقصد حساب و کتاب ھے کیونکہ ھر انسان کو اس کے اعمال کی بنا پر جزا یا سزا دی جائے گی۔
انھیں آیات میں وضاحت کی گئی ھے کہ:
[44]
”نہ چھوٹے گناہ کو بے قلمبند کئے چھوڑتی ھے نہ بڑے گناہ کو“
انھی آیات میں موجود ھے:
[45]
”ھر شخص جو کچھ اس نے (دنیامیں ) نیکی کی ھے اور جو کچھ برائی کی ھے اس کو موجود پائے گا“
اور انھیں آیات کی بنا پر مجرمین ”مشفقین مما فیہ“دکھائی دیتے ھیں ۔
پس خدا وند عالم کا وعدہٴ قیامت ”حق “ ھے اور خدا سے زیادہ کون صادق الوعد ہو سکتا ھے، اور جولوگ گمان کرتے ھیں:
(وہ مبعوث نھیں کئے جائیں گے)اور کہتے ھیں کہ قیامت نھیں آئے گی وہ کافر اور جھوٹے ھیں۔
[46]
”اس دن کو جھٹلانے والوں کی خرابی ھے جو لوگ روز جزا کو جھٹلاتے ھیں حالانکہ اس کو حد سے نکل جانے والے گنہگار کے سوا کوئی جھٹلاتا۔“
اور جب گفتگو اس نتیجہ پر پہونچ چکی ھے تو ضروری ھے (تاکہ بحث کے تمام پھلوٴں پر گفتگو ہو جائے )کہ ھم غور و فکر اور یقین کے ساتھ یہ بات طے کر یں قیامت کے دن کیا چیزپلٹائی جائے گی؟
کیا وہ فقط ”روح“ھے جیسا کہ بعض لوگوں کا گمان ھے کہ روح کا جسم میں پلٹنا محال ھے؟
یا فقط”جسم“ھے جیسا کہ جناب جبائی اور ان کے پیر و کار افراد کا نظریہ ھے کیونکہ ان کا نظریہ یہ ھے کہ روح ھی جسم ھے؟
یا جسم کے ساتھ روح بھی جیسا کہ اکثر علماء اسلام کا عقیدہ ھے۔
اس موضوع سے متعلق آیاتِ قرآنی کے سیاق سے ذہن میںاس بات کا تبادر ہوتا ھے کہ قیامت میں ایسے زندہ جسم کے ساتھ اٹھا یا جائے گا جو لذتِ نعمت اور دردِ عذا ب درک کر سکے ،یعنی ”جسم کے ساتھ روح“جس میں تمام عضوو تمام صفات و خصوصیات موجود ہوں گے۔قرآن مجید کی مذکورہ آیات اپنی تمام وضاحت کے ساتھ اپنے مقصود و معنی کو بیان کرتی ھیں اور کسی بھی طرح کی تاویل و قید سے منزہ ھے ،اور دلالت کے اعتبار سے بھی اتنی واضح ھیں کہ ان میں کسی طرح کی ھیرا پھیری نھیں کی جا سکتی ۔
ارشاد خدا وندی ھے:
[47]
”اور جس دن خدا کے دشمن دوزخ کی طرف ہکائے جائیں گے تو یہ لوگ ترتیب وار کھڑے کئے جائیں گے یھاں تک کہ جب سب کے سب جہنم کے پاس جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے( گوشت پوست) ان کے خلاف ان کے مقابلہ میں ان کی کارستانیوں کی گواھی دیں گے اور یہ لوگ اپنے اعضاء سے کھیں گے کہ تم نے ھمارے خلاف کیوں گواھی دی؟!! تو وہ جواب دیں گے کہ جس خدا نے ھرچیز کو گویا کیا، اس نے ھم کو بھی (اپنے قدرت سے)گویا کیا، اور اسی نے تم کو پھلی بار پیدا کیا تھا اور (آخر)اسی کی طرف لوٹ کرجاوٴ گے اور(تمھاری تو یہ حالت تھی کہ)تم لوگ اس خیال سے (اپنے گناہوں کی)پردا داری بھی تو نھیں کرتے تھے کہ تمھارے کان اور تمھاری آنکھیں اور تمھارے اعضاء تمھارے بر خلاف گواھی دیں گے بلکہ تم اس خیال میں (پھولے ہو)تھے کہ خدا کو تمھارے بہت سے کاموں کی خبر ھی نھیں“
[48]
آج ھم ان کے منھ پر مھر لگا دیں گے اور جو(جو)کارستانیاں یہ لوگ (دنیا میں) کر رھے تھے خود ان کے ھاتھ ھمیں بتا دیں گے اور ان کے پاوٴں گواھی دیں گے“
[49]
”(یاد رھے)کہ جن لوگوں نے ھماری آیتوں سے انکار کیا انھیں ضرورعنقریب جہنم کی آگ میں جھونک دیں گے (اورجب ان کی کھالیں (جل ) جائیں گی تو ھم ان کے لئے دوسری کھالیں بدل کر پیدا کر دیں گے تاکہ وہ اچھی طرح عذاب کا مزہ چکھیں“
[50]
”کیا انسان یہ خیا ل کرتا ھے کہ ھم اس کی ہڈیوں کو بو سیدہ ہونے کے بعد (جمع نہ کریں گے ھاں ضرور کریں گے) ھم اس پر قادر ھیں کہ ھم اس کی پور پور درست کریں۔“
قارئین کرام ! مذکورہ آیات کا غور و فکر کے ساتھ تلاوت کرنا اس بات کی طرف واضح اشارہ ھے کہ قیامت میں انسان کو ”جسم و روح“کے ساتھ اٹھایا جائے گا کیونکہ آنکھیں، کان، کھال، منھ، ھاتھ، پیر، ہڈی اور درد عذاب کا احسا س سب کچھ دنیاوی طرح سے ہوگا، اوران تما م چیزوں کے پیش نظر شک و تاویلات کی کوئی گنجائش باقی نھیں ر ہ جا تی۔
قارئین کرام ! ھم مذکورہ آیات میں سے صرف آخری دو آیات کے بارے میں کچھ علمی مطالب بیان کرنا چاہتے ھیں اور یہ وہ حقائق ھیں جن کو خدا وند عالم نے اس وقت بیان کیا جب یہ علمی کشفیات نھیں تھے،اور ھم ان مطالب کو قرآن کے معجزہ ہونے پر دلیل بھی کہہ سکتے ھیں۔
چنانچہ پھلی آیت میں کفار کو نار جہنم میں جلانے کے بارے میں ارشاد ہوتا ھے:
[51]
”جس وقت جہنم کی آگ انسان کی کھال کو جلائے گی تو ھم اس کھال کو دوبارہ بنادیں گے تاکہ ھمیشہ دردو تکلیف میں مبتلا رھے اورعذاب الیم کا مزہ لیتا رھے“۔
پس یہ ان کی کھال کا تبدیل کرنا کس لئے ؟
اس کی وجہ کو آج کا علم طب بیان کرتا ھے کہ انسان کی کھال میں دردو الم کاشدید احساس پایا جاتا ھے لیکن گوشت اور اندرون اعضاء میں کم احساس ہوتا ھے اسی وجہ سے ایک طبیب کا یہ ماننا ھے کہ اگر انسان کا جسم معمولی طورپر اس طرح جلے کہ فقط کھال تک اس کا اثر جائے تو اس کو بہت شدید درد ہوتا ھے اس کے برخلاف اس کے جس کے بدن کا اندرونی حصہ بھی جل جائے اگر چہ اس میں خطرہ زیادہ ھے لیکن درد و تکلیف کا احساس زیادہ نھیں ہوتا۔
قارئین کرام ! آپ نے خدا وندعالم کی حکمت کو ملاحظہ فرمایا،جب کہ آج کا انسان تر قی کر کے اس نتیجہ پر پہونچا ھے ”خداوندعالم عزیز و حکیم ھے“[52]

مزید  اقوال حضرت امام علی علیہ السلام

دوسری آیت :
جس میں قیامت کے منکرین کے اعتقاد کو بیان کیا گیا ھے اور اس کے بعد قیامت کے بارے میں تاکید و اصرار کیا ھے:
[53]
انگلیوں کے سرے (پورے)کیا خاصیت رکھتے ھیں؟

آج کا سائنس کہتا ھے : ”انگلیوں کے سرے گویا ایک عجیب شئی ھے جن میں لکیریںہوتی ھیں اور ان لکیروں کی شکل و صورت ایک دوسرے انسان سے مکمل طور پر مختلف ہوتی ھیں اگر چہ حسب و نسب میں یا خونی رشتہ میں ایک دوسرے کے قریب ہوں پس اس پورے عالم بشریت میں ایک جیسی انگلیوں کی لکیریں رکھنے والے نھیں پائے جاسکتے۔
سب سے پھلے جب ۱۸۸۴ء میں انسان کی انگلیوں کی لکیروں کے بارے میں تحقیق پیش کی گئی کیونکہ جس وقت بڑی بڑی دور بین بنائی گئی اور ان کے ذریعہ سے اس بات کو ثابت کیا گیا کہ ھر انسان کے لئے جدا جدااور دقیق لکیریں ھیں جو انسان کی انگلیوں کی کھال میں خوبصورتی بھی عطا کرتی ھیں جس کو خدا وند عالم نے اس کی انگلیوں میںقرار دیا ھے۔ اور جو انسا ن کی شخصیت کی نشاندھی کرتی ھیں۔
یہ تمام لکیریں ایسی بناوٹ اور شکل کی ہوتی ھیں کہ ان کے تمام دقیق اجزاء اور تمام مختلف شکل کاغذ پر آجاتی ھیں ،مثلاًانگلیوں پر روشنائی لگاکر ایک کاغذ پر لگانے سے یہ ساری لکیریں واضح طور پر نمایاں ہو جاتی ھیں ، اسی طریقہ سے انگلیوں کے یہ نشانات لوھے ،شیشے یا چکنی لکڑی وغیرہ پر ظاھر ہو سکتے ھیں ،ایک عالمی رپورٹ کے مطابق ۴۰۰ ملین “Million” لوگوں کی انگلیوں کے نشانات میں سے صرف ایک نشان معمولی طور پر ایک دوسرے سے مشابہ پایا گیا ھے ،لیکن وہ بھی دو افراد میں مکمل طور پر ایک دوسرے سے جدا ھے ، کیو نکہ ان دونوں افراد میں جو شباہت پائی گئی ھے وہ مکمل طور پر ایک دوسرے پر منطبق نھیں ہوتی ۔
آج کے زمانہ میں تو دنیا کی اعلیٰ درسگاہوں میں اس موضوع کے لئے خاص شعبہ جات کھل گئے ھیں ،تاکہ انگلیوں کی لکیروں کے بارے میں مکمل طور پر تحقیق کر سکیں اور بعض معاملات اور بعض حوادث اور چوری وغیرہ میں اشخاص کی پہچان کر سکیں ،کیونکہ کسی بھی چیز پر مثلاً اسلحہ کو پکڑنے یا دروازے یا تالے پر ھاتھ لگا نے سے ھاتھوں کے نشانات ان پر منتقل ہو جاتے ھیں ،اور پھران نشانات کو مشینوں کے ذریعہ کاغذپر اتار لیا جاتا ھے اور ان کو بڑا کر کے مزید واضح کیا جاتا ھے تاکہ انھیں نشانیوں کے ذریعہ متھم اور ملزم کی شناخت ہو سکے۔
واقعاً یہ بات بھی عجیب ھے کہ ھاتھوں کی نشانیوں کا یہ عجیب سسٹم ھے کہ یہ ولادت کے وقت سے آخر وقت تک ثابت رہتی ھیں اور ان میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی نھیں آتی ،یھاں تک کہ انسان اپنی عمر کے مختلف حصوں سے گذرتا ہوا رشد ونمو کرتا ھے لیکن ان میں کوئی بھی تحریف کوئی بھی تبدیلی نھیں آتی ،گویا یہ ایک بڑی دور بین کے مابین ھیں جو بچپن کی لکیروں کو دیکھ کر جوانی اور بڑھاپے کے عالم کی لکیروں کو اصل کے مطابق بناتی رہتی ھیں۔
در حقیقت یہ بات بھی تعجب آور ھے کہ جب انسان کے ھاتھوں کی لکیریں کسی حادثہ کی بناپر ختم ہوجاتی ھیں یا جل جاتی ھیں تو نظام قدرت کے تحت یہ پھر دوبارہ اپنی اسی پرانی حالت کے مطابق نقشہ بناتی ھیں جو بالکل پرانی شکل سے ملتی ھیں، یعنی ان میں ذرہ برابر بھی تبدیلی نھیں ہوتی۔ چنانچہ اس علم کے ما ھرین نے ان خطوط اور لکیروں کو چار حصوں میں تقسیم کیا ھے:
۱۔فصیلة الخطوط المتقوسة ،(قوس دار لکیریں )
۲۔فصیلة الخطوط المرادیة ۔(جالی ٹائپ کی)
۳۔ فصیلة الخطوط الدوامیة ۔(گول او ردائرہ والی) جو ایک دوسرے پر چڑھی رہتی ھیں جو آہستہ آہستہ اندر کی طرف باھر کی طرف کو پھیلتی بھی ھیں اور یہ وسط میں موجود مر کز میں پائی جاتی ھیں۔
۴۔فصائل المرکبات ،یہ گذشتہ تینوں قسموں سے مل کر بنتی ھے ،اورصرف یھی قسم دوسرے لوگوں سے ملتی جلتی ہوتی ھے،لیکن ان کا پہچاننا مشکل ہوتا ھے۔
المختصر آج کے دور میں جرائم کی دنیا میںان لکیروں کے ذرریعہ بہت سے جرائم کو کشف کرلیا جا تا ھے یھاں تک کہ ہزاروں انکشافات اس الٰھی راز سے ہوتے رہتے ھیں جس کو خداوند عالم نے انسان کی ھاتھ کی انگلیوں کے سرے میں قرار دیا ھے۔
واقعاً اسلام نے پھلے ھی روز جسم میں پو شیدہ اس عظیم راز کی طرف نشاندھی کر دی تھی اور قرآن مجید نے لوگوں کے ذہنوں کو اس طرف متوجہ کیا کہ ھر انسان کی انگلیوں کے سرے پرخاص لکیریں ہوتی ھیں جو ایک دوسرے سے ذرہ برابر بھی نھیں ملتی ۔[54]

 
قیامت کا ممکن ہونا اوراس کی دلیل

ھم نے اس بحث کے مقدمہ میں عر ض کیا تھا کہ ھم مسئلہ معاد پر مکمل طور پر عقیدہ رکھتے ھیں اور وھاں پر ھم نے یہ اشارہ بھی کیا کہ قیامت پر ایمان رکھنا خدا وند عالم کے ایمان کانتیجہ ھے کیونکہ وھی تمام مخلوقات کا خالق ھے اور تمام موجودات کی اصل وجہ ھے اور وھی مسبب الاسباب ھے،بغیر اس کے کہ اس کے وجود کے لئے کوئی سبب ہو،یا اس کے وجود کے لئے کوئی مسبب ہو۔ اور جب ھم نے خدا وند عالم کی ذات اقدس پر مکمل ایمان کر لیا اور یہ مان لیا کہ وھی تمام مخلوقات کی علت ھے،اور یہ کہ مادہ اس کی ایک مخلوقات میں سے ھے اگر چہ بعض نے مادہ کو ازلی اور ابدی تصور کیا ھے[55]
لہٰذا انسان حشر ونشر اور قیامت کے عقیدہ سے فرار نھیں کرسکتا ،کیونکہ قیامت کا امکان پایا جاتا ھے اور اس کا واقع ہونا محال نھیں ھے۔
وہ عقل جو فاعل اول پر ایمان رکھتی ھے وہ ایسے راستے کھول دیتی ھے کہ اس فاعل کی ایسی قدرت پر ایمان رکھے جو اس فعل کو دوسری مرتبہ بلکہ ہزاروں مرتبہ انجام دے سکتا ھے اور یہ بات بالکل واضح ھے جس کے لئے مزید وضاحت و استدلال کی ضرورت نھیں ھے لیکن اس چیز کے لئے ھم ایک مثال پر اکتفاء کرتے ھیں کہ وہ شخص جو کوئی ایک چیز بنا سکتا ھے (مثلاً الکٹرونک عقل یا کوئی گاڑی)تو وہ انسان اس چیز کو دوبارہ بنانے کی بھی قدرت رکھتا ھے ،اور اس بات میں بھی کوئی شک و شبہ کی گنجائش نھیں ھے ،جب کہ ھم یہ بھی عقیدہ رکھتے ھیں کہ صانع اول خدا وندعالم کی ذات ھے۔
اسی طرح ایک گاڑی بنانے والا انجینئر اگراس گاڑی کے چھوٹے چھوٹے ہزاروں مختلف پرزوں کو الگ الگ بھی کردے ،تو وہ پھر بھی اس بات پر قادر ھے کہ اس گاڑی کو ویسی ھی بنادے جس طرح وہ پھلے تھی ،اور کوئی شخص بھی اس سے کوئی دلیل طلب نھیں کرے گا کہ وہ ایسی قدرت کس طرح رکھتا ھے ،کیونکہ جو شخص کسی چیز کو پھلی مرتبہ بنا سکتا ھے وہ اس کو دوبارہ کیا بلکہ سیکڑوں اور ہزاروں بار بنا سکتا ھے۔
بالکل اسی طرح قیامت کے امکان پر بھی دلیل قائم ہو سکتی ھے چنانچہ اس سلسلے میں قرآن مجید نے واضح طورپر حشر ونشر اور قیامت کے عقیدہ کو بیان کیا ھے،لہٰذاھم یھاں پر صاحبان ارباب کے لئے قرآن مجید کی وہ آیات بیان کرتے ھیں جن میں اس حقیقت پر روشنی ڈالی گئی ھے۔ارشاد خدا وندی ہوتا ھے:
[56]
”اور یہ لوگ کہتے ھیں کہ جب ھم (مرنے کے بعد سڑ گل کر)ہڈیاں رہ جائیں گے اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا از سر نو پیدا کرکے اٹھا کھڑے کئے جائیں گے؟!! (اے رسول)تم کہہ دو کہ تم (مرنے کے بعد)چاھے پتھر بن جاوٴ یا لوھا یا کوئی اور چیز جو تمھارے خیال میں بڑی (سخت)ہواور اس کا زندہ ہونا دشوار بھی ہو، وہ بھی ضرور زندہ ہوگی، تو یہ لوگ عنقریب ھی تم سے پوچھیں گے بھلا ھمیں دوبارہ کون زندہ کرے گا تم کہہ دو کہ وھی (خدا)جس نے تم کو پھلی مرتبہ پیدا کیا“
[57]
”اور( بعض )آدمی (ابی بن خلف)تعجب سے کھا کرتے ھیں کہ کیا جب میں مرجاوٴں گا تو جلدی سے جیتا جاگتا (قبرسے)نکالا جاوٴں گاکیا وہ (آدمی)اس کو نھیں یادکرتا کہ اس کو اس سے پھلے جب وہ کچھ نھیں تھا پیدا کیا“
[58]
”(یہ) وہ دن (ہوگا)جب ھم آسمان کو اس طرح لپیٹیںگے جس طرح خطوں کا طومار لپیٹا جاتا ھے جس طرح ھم نے (مخلوقات کو)پھلی بار پیدا کیا تھا (اسی طرح) دوبارہ (پیدا)کر چھوڑیں گے (یہ وہ)وعدہ (ھے جس کا کرنا) ھم پر لازم ھے اور ھم اسے ضرور کر کے رھیں گے“
[59]
”خدا ھی نے مخلوقات کو پھلی بار پیدا کیا وھی دوبارہ (پیدا) کرے گا پھر تم سب لوگ اس کی طرف لوٹائے جاوٴگے“
[60]
”اور یہ لوگ کہتے ھیں کہ جب ھم (مرنے کے بعد سڑ گل کر )ہڈیاں رہ جائیں گے اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، تو کیا از سر نو پیدا کرکے اٹھا کھڑے کئے جائیں گے“
[61]
”کیا ان لوگوں نے اس پر بھی نھیں غور کیا کہ وہ خدا جس نے سارے آسمان اور زمین بنائے اس پر بھی (ضرور ) قادر ھے کہ ان ایسے آدمی دوبارہ پیدا کرے“
[62]
”اور ھم نے آدمی کو گیلی مٹی کے جوھر سے پیدا کیا ،پھر ھم نے ا س کو ایک محفوظ جگہ (عورت کے رحم میں)نطفہ بنا کر رکھا پھر ھم نے نطفہ کو جما ہوا خون بنا یا ،پھر ھم نے منجمد خون کو گو شت کا لوتھڑا بنایا، ھم ھی نے لوتھڑے کی ہڈیاں بنائیںپھر ھم ھی نے ہڈیوں پر گو شت چڑھایا پھر ھم ھی نے اس کو (روح ڈال کر)ایک دوسری صورت میں پیدا کیا تو (سبحان اللہ)خدابا برکت ھے جو سب بنانے والوں سے بہتر ھے پھر اس کے بعد یقینا تم سب لوگوں کو (ایک نہ ایک دن)مرنا ھے اس کے بعد قیامت کے دن تم سب کے سب قبروں سے اٹھائے جاوٴگے“
[63]
”تم لوگوں کو(پھلی بار بھی) ھم ھی نے پیدا کیا ھے پھر تم لوگ (دوبارہ کی) کیوں نھیں تصدیق کرتے تو جس نطفہ کو تم (عورت کے)رحم میں ڈالتے ہو کیا تم نے دیکھ بھال لیا، کیا تم اس سے آدمی بناتے ہو؟ یا ھم بناتے ھیں ھم نے تم لوگوں میں موت کو مقرر کر دیا ھے اورھم اس سے عاجز نھیں ھیں کہ تمھارے ایسے او ر لوگ بدل ڈالیں اور تم لوگوں کو اس (صورت)میں پیدا کریں جسے تم مطلق نھیں جانتے اور تم نے پھلی پیدائش تو سمجھ ھی لی ھے (کہ ھم نے کی)پھر تم غور کیوں نھیں کرتے؟“
[64]
”کیا انسان یہ سمجھتا ھے کہ وہ یوں ھی چھوڑ دیا جائے گا کیا وہ (ابتداً)منی کا ایک قطرہ نہ تھا جو رحم میں ڈالی جاتی ھے پھر لوتھڑا ہوا پھر خدا نے اسے بنایا پھر اسے درست کیا پھر اس کی دو قسمیں بنائیں (ایک)مرد اور(ایک) عورت ،کیا اس پر قادر نھیں کہ (قیامت میں)مردوں کو زندہ کر دے“
[65]
”کیا ان لوگوں نے یہ نھیں غور کیا کہ جس خدا نے سارے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے ذرا بھی تھکا نھیں ،وہ اس بات پر قادر ھے کہ مردوں کو زندہ کرے ھاں(ضرور) و یقینا ھر چیز پر قادر ھے“
[66]
”کیا ھم نے تم کو ذلیل پانی (منی) سے پیدا نھیں کیا؟! پھر ھم نے اس کوایک معین وقت تک ایک محفوظ مقام (رحم)میں رکھا، پھر(اس کا) ایک اندازہ مقرر کیا، تو ھم اچھا اندازہ مقرر کرنے والے ھیں، اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ھے“
[67]
”کیا آدمی نے اس پر بھی غور نھیں کیا ھم ھی نے اس کو ایک ذلیل نطفہ سے پیدا کیا پھر وہ یکا یک (ھمارا ھی)کھلم کھلامقابل (بنا)ھے اور ھماری نسبت باتیں بنانے لگا ھے اور اپنی خلقت (کی حالت)بھول گیا (اور)کہنے لگا کہ بھلا جب یہ ہڈیاں (سڑ گل کر)خاک ہوجائیں گی تو (پھر) کون (دوبارہ)زندہ کر سکتا ھے (اے رسول) تم کہدو کہ اس کو وھی زندہ کرے گا جس نے ان کو (جب یہ کچھ نہ تھے)پھلی مرتبہ حیات دی، وہ ھر طرح کی پیدایش سے واقف ھے“
[68]
”(بھلا )جس (خدا)نے سارے آسمان اور زمین پیدا کئے کیا وہ اس پر قابو نھیں رکھتا کہ ان کے مثل (دوبارہ)پیدا کردے ھاں(ضرور قابو رکھتا ھے)اور وہ تو پیدا کرنے والاواقف کار ھے“
[69]
”تو کیا ھم پھلی بار پیدا کرکے تھک گئے ھیں؟(ھر گز نھیں)،مگر یہ لوگ ازسر نو(دوبارہ)پیداکرنے کی نسبت شک میں پڑے ھیں“
[70]
”سارے آسمان اور زمین کا پیدا کرنا،لوگوں کے پیدا کرنے کی نسبت یقینی بڑا(کام) ھے مگر اکثر لوگ (اتنابھی) نھیں جانتے“
[71]
”اے لوگو! اگر تم کو (مرنے کے بعد)دوبارہ جی اٹھنے میں کسی طرح کا شک ھے تو اس میں شک نھیں کہ ھم نے تمھیں (شروع شروع مٹی )سے اس کے بعد نطفہ سے اس کے بعد جمے ہوئے خون سے پھر اس لوتھٹر ے سے جو پورا(سڈول)ہو یا ادھوراہو؛ پیداکیا تاکہ تم پر(اپنی قدرت)ظاھر کر یں (پھر تمھارا دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ھے)؟! اور ھم عورتوںکے پیٹ میں جس (نطفہ)کو چاہتے ھیں ایک مدت معین تک ٹھھرا رکھتے ھیں ،پھر تم کو بچہ بنا کر نکالتے ھیں پھر (تمھیںپالتے ھیں)تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو، اور تم میں سے کچھ لوگ تو ایسے ھیںجو (قبل بڑھاپے کے)مر جاتے ھیں اور تم میں سے کچھ لوگ ایسے ھیں جو ناکارہ زندگی (بڑھاپے )تک پھیر لائے جاتے ھیں تاکہ سمجھنے کے بعدسٹھیاکے کچھ بھی (خاک)نہ سمجھ سکے اور وہ تو زمین کو مردہ (بیکار افتادہ) دیکھ رھا ھے ،پھر جب ھم اس پر پانی برساتے ھیں تو لھلھانے اور ابھرنے لگتی ھے اور ھر طرح کی خو شنما چیزیں اگاتی ھے تو یہ (قدرت کے تماشے اس لئے دکھاتے ھیں تاکہ تم جانو)کہ بیشک خدا بر حق ھے اور (یہ بھی کہ)بیشک وھی مردوں کو جلاتا ھے اور وہ یقینا ھر چیز پر قادر ھے اور قیامت یقینا آنے والی ھے اس میں کوئی شک نھیں اور بیشک جو لوگ قبروں میں ھیں ان کو خدا دوبارہ زندہ کرے گا“
[72]
”اور (اس وقت ھم یاد دلائیں گے کہ جس طرح ھم نے تم کو پھلی بار پیدا کیا تھا (اسی طرح )تم لوگوں کو (آخر)ھمارے پاس آنا پڑا، مگر تم تو یہ خیال کرتے تھے کہ تمھارے (دوبارہ پیداکرنے کے) لئے کوئی وقت ھی نھیں ٹھھرائیں گے“
اس طرح ھمارے بہترین طریقہ سے یہ واضح ہو جا تا ھے :
[73]
”وہ خدا جس نے سارے آسمان اور زمین بنائے اس پر بھی (ضرور )قادر ھے کہ ایسے آدمی دوبارہ پیدا کرے “
کیونکہ دوسری مرتبہ کسی چیز کا پیدا کرنا یا اس کو دوبارہ بنانا پھلی پیدائش سے مختلف نھیں ہو سکتا ،اور اس کو ھم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ھیں اور اس پر دلیل بھی قائم ھے۔
اور اس میںکوئی شک نھیں ھے کہ نطفہ میں اسی طرح کی صلاحیت ھے کہ وہ نطفہ سے علقہ بنے اور علقہ سے مضغہ بنے ،اور مضغہ سے جنین بنے اور جنین سے بچہ بنے اور پھر جوان ہو جائے اور آخر میںبڑھاپے کی منز ل تک پہونچ جائے ،تو جو خدا ان تمام چیزوں پر قادر ھے، تووہ اس بات پر بھی قادر ھے کہ وہ تخلیق کے ان مراحل کو دوبارہ بھی انجام دے، انسان کے لئے حشر و نشر قرار دے اور ان کو دوبارہ زندہ کرے۔
[74]
” وہ ہڈیوں کو راکھ ہونے کے بعد بھی زندہ کر سکتا ھے“
جیسا کہ اس نے انسان کو اس وقت بھی پیدا کیا جب کچھ نہ تھا۔
کیونکہ خدا وندا عالم کی ذات کے سامنے کوئی تعجب والی بات نھیں ھے کیونکہ اس کی ذات وہ ھے:
[75]
”اس کو وھی زندہ کرے گا جس نے ان کو(جب یہ کچھ نہ تھے پھلی مرتبہ زندہ کیا“
اس کی ذات وہ ھے:
[76]
”آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے ذرا بھی تھکا نھیں“
اورخدا کی ذات ھی وہ ھے :
[77]
”اور وہ تو پیدا کرنے والا واقف کار ھے“
[78]
”وہ خدا(ھر نفس سے)پاک صاف ھے جس کے قبضہٴ قدرت میںھر چیز کی حکومت ھے“
[79]
”اور وہ خدا جو سارے جھاں کا پالنے والا ھے“
قارئین کرام ! یہ منطق و فطرت اور وجدان ھے ،جس میں کسی طرح کے شک و شبہ اور بے جا احتمال کی کوئی گنجائش نھیں ھے۔
لیکن اگر کوئی شخص اس ٹھوس حقیقت میں شک کرے بھی تو ھم اس کو قیامت میں شک کرنے والا نھیں کھیں گے ،کیونکہ ھم اس پر اعتراض کریں گے ،کہ اس کا یہ شک اس بات پر دلالت کرتا ھے کہ وہ اپنے ایمان کے دعوے میں کہ” خدا ھی مبداء اول ھے“ سچا نھیںھے،اور اس کو اس وقت یہ بھی حق نھیں پہونچتا کہ وہ قیامت کے بارے میں استدلال طلب کرے یا قیامت کا انکار کرے یا قیامت پر یقین نہ کر ے بلکہ اس کے لئے ضروری ھے کہ وہ خلق اول اور خالق اول پر ایمان کے سلسلے میں بحث کرے،کیونکہ قیامت کا مسئلہ (جیسا کہ ھم پھلے بھی کہہ چکے ھیں) ایسے عمل کی تکرار ھے جو خدا وندا عالم نے پھلے انجام دیا ھے کیونکہ اگر کوئی شخص گذشتہ مسئلہ پر یقین و ایمان رکھتا ھے تو پھربعد والے میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش ھی باقی نھیںرہ جاتی۔
مذکورہ مطالب کے پیش نظر کوئی یہ اعتراض کر سکتا ھے کہ قیامت کا انکا ر کرنا خدا وند عالم کے خالق ہونے کا انکار نھیں ھے بلکہ یہ تو حکم عقل کی بنا پر ھے کہ کسی چیز کا واپس پلٹانا محال ھے، کیونکہ انسان مرنے کے بعد معدوم ہو جاتا ھے ،اور یہ بات واضح ھے کہ معدوم کا اعادہ محال ھے، یعنی جو چیز بالکل ختم ہوجائے اس کو دوبارہ اسی حالت پر پلٹانا غیر ممکن ھے اور ایک عقلمند انسان کے لئے محالات پر ایمان رکھنا معقول نھیں ھے۔!!
قارئین کرام ! یہ تھا بعض لوگوں کے اعتراض کا خلاصہ ،کیونکہ ان پر یہ بات مخفی رھی ھے اور موت و معاد کے حقیقی معنی کو صحیح طور پر سمجھ نھیں پائے۔
کیونکہ اگر معتر ض اپپے اعتراض پر تھوڑا سا بھی غور کرے تو اس پر یہ بات واضح ہو جائے گی کہ ان کی موت کامطلب اس کے اجزاء و اعضاء کا معدوم ہونا نھیں ھے،بلکہ در حقیقت موت کے ذریعہ وہ اجزاء متفرق اور پرا کندہ ہو جاتے ھیں ۔ (جیسا کہ مشہور شعر ھے: )

مزید  مہینہ بھر کی ٹریننگ سے سال بھر کی پلاننگ کرو/ اوقات سحری یا نظام زندگی

(”موت کیا ھے انھیں اجزاء کا پریشاں ہونا“)

جبکہ بعض لوگوں نے یہ گمان کر لیا ھے جسم کے اعضاء کا متفرق اور بکھرجانا ان کا معدوم ہونا ھے یعنی اس کا کوئی وجود ھی باقی نھیں رہتا،جب کہ حقیقت میں یہ اجزاء موجود رہتے ھیں اگر چہ متفرق اور جدا جدا ہوجائیں،اور جب خدا ان بکھرے ہوئے اعضاء کو اپنی قدرت کاملہ سے جمع کرنا چاھے گا تو ان کو پرانی حالت پر پلٹادے گا اور جسم و روح ایک جگہ جمع ہو جائیں گے اور اسی کا نام معاد ھے۔
چنانچہ اس معنی کی طرف قرآن کریم کی وہ آیت جس میں جناب ابراھیم علیہ السلام نے اپنے پر وردگار سے سوال کیا تھا کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا ،بہترین دلیل ھے۔
ارشادخدا وندی ھے:
[80]
(پالنے والے تو مجھے دکھا دے کہ مردوںکو کس طرح زندہ کرے گا)
تو اس وقت خدا وند عالم نے جناب ابراھیم علیہ السلام کے جواب میں فرمایا:
[81]
(یعنی جناب ابراھیم علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ چار پرندوں کو لے کر ان کا قیمہ بنا لو ،اور اس کو آپس میں اس طرح ملالو کہ وہ ایک دوسرے سے الگ کر نے کے قابل نہ رھیں۔
[82]
”یعنی پھر ا س مخلوط قیمہ کو الگ الگ پھاڑوں پر رکھ دو ۔“
[83]
”اس کے بعد تم ان کو پکارنا ،وہ دوڑے ہوئے تمھارے پاس آجائیںگے۔“
یعنی خدا وندعالم نے ان پرندوں کے اعضاء و اجزاء کو ان کے اصلی صاحب سے ملادیا جبکہ وہ مستقل طریقہ سے ایک دوسرے سے جدا جدا ہوگئے ،اور جب ھر پرندہ کے سارے اجزاء اس سے مل گئے تو خدا وندعالم نے ان کو حیات عطا کر دی۔
قارئین کرام ! قرآن مجید کی یہ آیت ھمارے لئے بہترین دلیل ھے کہ موت نام ھے اجزاء و اعضاء کا متفرق ہوجانا،اور موت کسی بھی صورت میں انعدام نھیں ھے جیسا کہ قیامت کے بعض منکرین کا گمان ھے۔
لہٰذاطے یہ ہوا کہ اس کام (دوبارہ زندہ کرنے میں)استحالہ اور محال ہونے کی کوئی بات نھیں ھے،اور عقلی طور پر شک شبہ کی ذرہ برابر بھی گنجائش نھیں ھے،جیسا کہ بعض گمان کرنے والوں کا گمان ھے۔
اور جب یہ طے ہو گیا کہ معاد نام ھے انسان کو موت کے بعد حساب و کتاب کے لئے واپس پلٹانے کا،اور اسی محاکمہ کے نتیجہ میں ثواب وعقاب کیا جائے گا :
[84]
”اورھم ان سبھوں کو اکٹھا کریں گے تو ان میں سے ایک کو نہ چھوڑیں گے“
[85]
”اور اس دن کو یا رکھو )جس دن ھر شخص جو اس نے (دنیا میں)نیکی کی ھے اور جو کچھ برائی کی ھے اس کو موجود پائے گا“
تو پھر ضروری ھے کہ تمام عالم اور جو کچھ اس میں موجود ھے وہ فنا ہوں اور ان کی حرکت حیات کی چکی بند ہو ،اور تمام زندہ چیزوں کو موت آئے۔
[86]
”جب ھم آسمان کو اس طرح لپیٹیں گے جس طرح خطوں کا طومار لپیٹا جاتا ھے“
[87]
”جس دن یہ زمین بدل کردوسری زمین کر دی جائے گی اور (اسی طرح) آسمان (بھی بدل دئے جائیں گے“
تو کیا یہ باتیں عقل میں آتی ھیں؟اور کیا آج کا سائنس اس سلسلہ میں ھماری راہنمائی کرتا ھے تاکہ ھمارے سامنے آفاق کی مجمل باتیں واضح و روشن ہو جائیں؟

مزید  دينى حكومت كے منكرين

(چند دانشوروں کے نظریات) قارئین کرام ! اس سلسلے میں چند دانشوروں کے نظریات ملاحظہ فرمائیں:

پرو فیسر”فرانک لین“کہتے ھیں:
”ڈینا میکا حراری“ “Thermo Dynamics”کے قوانین اس بات پر دلالت کرتے ھیں کہ اس کائنات کی حرارت آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گی،اور ایک دن وہ آئے گا کہ تمام چیزوں کا درجہ حرارت گھٹ کر بالکل ”صفر“ہوجائے گا ،اور اس وقت تمام طاقتیں ختم ہو جائیں گی، اور پھر زندگی محال بن جائے گی، لہٰذاضروری ھے کہ ایک ایسی حالت پیدا ہو جس میں تمام طاقتیں ختم ہو جائیں کیونکہ مرور زمان کے ساتھ ساتھ تمام چیزوں کا درجہ حرارت بالکل (صفر) ہو جائےگا“

اسی طرح پرو فیسر ”اڈوارڈ لوثر کیل“کہتے ھیں :
” حرارت گرم چیزوں سے ٹھنڈی چیزوں کی طرف منتقل ہوتی ھے اور کبھی اس کے بر عکس نھیں ہوتا یعنی حرارت اس کے بر عکس نھیں چلتی کہ ٹھنڈی چیزوں سے گرم چیزوں کی طرف منتقل ہو، اس کا مطلب یہ ھے کہ ایک دن وہ آئے گا جب اس دنیا کی حرارت تمام اجسام میں برابر ہو جائے گی ،اور اس صورت میں تمام چیزوں کی طاقت ختم ہو جائے گی ،اور اس وقت کیمیاوی یا طبعی عملیات ختم ہو جائیں گی،اور پھر اس کائنات کی حیات ختم ہوجائے گی “

نیز پرو فیسر کلوڈ۔م۔ھا ثاوی کہتے ھیں:
”اسحاق نیوٹن،،کی تحقیق یہ ھے کہ یہ نظام کائنات نابودی کی طرف بڑھ رھا ھے ،اور ایک دن وہ آئے گا جب تمام چیزوں کی حرارت برابر ہو جائے گی…اور حرارت کے بارے میںتحقیق ان نظریات کی تائید کرتی ھے اور” طاقت میسور“”طاقت غیر میسور“ میں تبدیل ہو جائے گی ،اور جب حرارت میں تبدیلی آئے گی تو طاقت میسور غیر میسور میں بدل جائے گی ،اور اس کے بر عکس ہونے کا کوئی راستہ نھیں ھے “
اسی طرح”بولٹز مین“ نے بھی اس نظریہ کی تائید کی ھے کیونکہ وہ اپنی لا جواب تدریس اورریاضی تحقیق کو بروئے کار لایا ھے یھاں تک کہ اس نے ثابت کیا ھے کہ طاقت میسور کا ختم ہو جانا جس کی طرف ڈینا میکا”Thermo Dynamics”قوانین کا قانون دوم اشارہ کرتا ھے،اور یہ ایک ایسی خاص حالت کا پیدا ہونا ھے جس میں ھر طبیعی تغیر و تبدلی نظام کائنات میں نقص اور تحول ایجاد کرتی ھے، اور حرارت کی اس حالت میں طاقت میسور ،طاقت غیر میسور میں تبدیل ہوکر کم اور ختم ہو جائے گی ،یا بالفاظ دیگر تمام چیزیں منحل اور ختم ہو جائیں گی۔“

اسی طرح ڈاکٹر جمال الدین الفندی کہتے ھیں:
”تمام علماء فلک اس بات پر تائید کرتے ھیں کہ سورج (دیگر سیاروں کی طرح)کی حرارت ،اس کا حجم اور اس کی شعاعیں اس حد تک خطرناک ہوجاتی ھیں جن تک عقل کی رسائی ممکن نھیں ،اور جب یہ حرارت بیرونی سطح میں پھیل جائے گی تو اس کے شعلہ اور دھواں اس قدر پھیل جائے گا کہ وہ چاند تک پہونچ جائیں گے ،اور تمام نظام شمسی اپنا تو ازن ختم کردے گا ، آسمان میں ھر ستارہ کے لئے ضروری ھے کہ وہ اپنا ھمیشگی کار نامہ سے پھلے ایسی حالت رکھتا ہو ،لیکن ھمارا یہ سورج اب تک اس مرحلہ تک نھیں پہونچا ھے۔“[88]
خداوندعالم کا ارشاد ھے:
[89]
”تو تم اس دن کا انتظار کرو کہ آسمان سے ظاھر بظاھر دھواں نکلے گا“
[90]
”جب آنکھیں چکا چوند میں آجائیں گی اور چاند گہن میں چلا جائے گا اور سورج اور چاند اکھٹا کر دئے جائیں گے تو انسان کھے گا آج کھاں بھاگ کر جاوٴ گے“
[91]
”زمین اور پھاڑ اٹھا کر اکبارگی (ٹکراکر)ریزہ ریزہ کر دئے جائیں گے“
قارئین کرام ! جیسا کہ آپ حضرات نے ملاحظہ فرمایا کہ بڑے بڑے دانشوروں کے نظریہ کے مطابق بھی یہ کائنات اور تمام عالم سب کچھ فنا کی طرف بڑھ رھا ھے تو پھر قیامت کے دن کا آنا بہت ممکن ھے ،بلکہ آج کے علمی لحاظ سے ایک یقینی اور قطعی بات ھے۔
اور اب جب کہ آج کے سائنس نے اس حقیقت کے بارے میں ھمیں مزید اطمینان عطا کردیا ھے ،لیکن بعض قدیم فلاسفہ جن کے زمانہ میں آج کا جدید علم نھیں تھا ،لہٰذاان کا نظریہ یہ تھا کہ یہ کائنات اسی صورت پر باقی رھے گی اور اس میں زوال و فنا نھیں ہو گا، کیونکہ وہ یہ دلیل پیش کرتے تھے کہ چونکہ سورج میں (اتنی طولانی عمر کے بعد بھی ) کوئی کمی اور کاستی نھیں آئی ھے،لہٰذایہ ھمیشہ ھمیشہ کے لئے باقی رھے گا ،اور اگر اس میں فنا کی بات ہوتی تو اب تک اس میں تبدیلی یا نقص پیدا ہوگیا ہوتا ۔
لیکن ان کا یہ نظریہ درج ذیل حقائق کی روشنی میں باطل ہو جاتا ھے:
۱۔ڈینا میکا حراری “Thermo Dynamics” قانون نے یہ بات ثابت کر دی ھے کہ یہ حرارت ھمیشہ باقی رہنے والی نھیں ھے،اور ایک دن ایسا آئے گا جب یہ کائنات فنا ہوجائے گی (جیسا کہ تفصیل گزر چکی ھے)
۲۔ستارہ شناس افراد نے بہت سی مرتبہ سورج پر ہوئے دھماکوں کا تجربہ کیا جن کے بعد یہ پتہ چلتا ھے کہ سورج کے اس حصے میں بوسیدگی آگئی ھے۔
۳۔فلکی ماھرین کی اس بات کی تائید کرنا کہ سورج کی سطح خارجی چاند تک پہونچ جائے گی، اور پھر نظام شمسی کا تو زان ختم ہو جائے گا (جیسا کہ تفصیل گزر چکی ھے)
لہٰذاان تمام باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ کائنات ضرور بالضرور فنا ہوجائے گی ،جبکہ سورج کا ھمیشہ کے لئے باقی رہنے والوں کے قول کے لئے کوئی بھی دلیل موجود نھیں ھے۔
اسی طرح جب لوگوں نے قاعدہٴ ”المادة لاتفنیٰ“(مادہ کے لئے فنا نھیں ھے)کی بنا پر قیامت کا انکار کیا ھے ،لیکن ان کا یہ قول بھی بے بنیاد اور باطل ھے ،کیونکہ ان کا یہ قول بہت قدیمی ھے اور آج کے علم نے یہ بات ثابت کی ھے کہ مادہ بھی فنا ہو نے والا ھے، چاھے مادہ فنا ہو یا نہ ہو، اس مسئلہ کا ھماری بحث (معاد) سے کوئی رابطہ نھیں ھے،کیونکہ معاد مادہ کی صورت کا بدلنا ھے نہ کہ مادہ کا فنا ہونا،جیسا کہ خدا وند عالم کا ارشاد ھے :
[92]
”(مگر کب) جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین کردی جائے گی۔“
اور تبدل اور فنا میں زمین آسمان کا فرق ھے۔
جبکہ ھمیں یہ بھی معلوم ھے کہ” تبدل مادہ“ اور ”فنا“ میں بہت بڑا فرق ھے۔
خلاصہ بحث !

[93]
”اور قیامت یقینا آنے والی ھے اس میں کوئی شک نھیں اوربیشک جو لوگ قبروں میں ھیں ان کو خدا دوبارہ زندہ کرے گا“
[94]
”جو لوگ قیامت کے بارے میں شک کرتے ھیں وہ بڑے پر لے درجے کی گمراھی میں ھیں “
[95]
”او ر جس روز قیامت بر پا ہوگی اس روز اھل باطل بڑے گھا ٹے میں رھیں گے۔“
اور یہ قیامت عنقریب آئے گی جب زمین اپنی پوری آب وتاب پر پہونچ جائے گی اور انسان ترقی کی آخری منزلوں کو طے کرلے گا ، اور زمین اپنی تمام تر زینتوں کے ساتھ مزین ہوجائے گی، اور انسان یہ گمان کرنے لگے گا کہ وہ ھر چیز پر قادر ھے اور اس کی حکومت تمام اشیاء پر ھے یھاں تک کہ بارش پر بھی کنٹرول کرنے لگے گا، اور پھاڑوں پر بھی زراعت کرنے لگے گا، نیزمشکل امراض کا علاج کرنے لگے گا، اور مردہ لوگوں کے دلوں اور آنکھوں کا زندہ انسان میں پیوند لگانے لگے گا، اور ستاروں کے درمیان سیر کرے گا ، اور ذرہ کو روشن کردے گا، اور پھاڑوں کو ہٹانے لگے گا، کیونکہ انھیں تمام چیزوں کے بارے میں خداوندعالم نے ڈرایا ھے، ارشاد ہوتا ھے:
[96]
”یھاں تک کہ جب زمین نے(فصل کی چیزوں سے)اپنا بناوٴ سنگار کر لیا اور ھر طرح آراستہ ہوگئی اور کھیت والوں نے سمجھ لیا کہ اب وہ اس پر یقینا قابو پا لیں گے (جب چاھیں گے کاٹ لیں گے) یکا یک ھمارا حکم و عذاب رات یا دن کو آپہونچا تو ھم نے اس کھیت کو ایسا صاف کٹا ہو ا بنادیاجیسے کل اس میں کچھ تھا ھی نھیں“
قارئین کرام !مذکورہ آیت میں ایک بڑا لطیف اشارہ ھے کہ خدا وند عالم فرماتا ھے کہ قیامت رات میں آئے گی یا دن میں،اوراس کی تفسیر اس کے علاوہ کچھ نھیں ہو سکتی کہ زمین کروی(انڈے کے شکل کی)ھے جس میں آدھی میں رات ہوتی ھے اور آدھی میں دن، اور جب قیامت آئے گی تو وہ ایک لمحہ میں آئے گی:
[97]
”قیامت کا واقع ہونا تو ایسا ھے جیسے پلک جھپکنا بلکہ اس سے بھی جلد تر“
یعنی قیامت کے وقت آدھی زمین میں رات ہوگی اور آدھی میں دن اس کے علاوہ قرآن مجید نے قیامت کی ایک دوسری نشانی بھی بیان کی ھے ،اور وہ یہ کہ جب صور پھونکا جائے گا تب قیامت آئے گی ۔
اسی طرح قیامت کے لئے قرآن مجید نے ایک اور نشانی بیان کی ھے کہ تمام لوگوں میں خون برف بن جائے گا چاند و سورج کو گہن لگے گا پھاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے ،ستارے پھیکے (ماند)پڑجائیں گے دریا پھٹنے لگیں گے،زمین میں زلزلہ آجائے گا ،اور زمین و آسمان میں تمام زندہ چیزیں نابو د ہو جائیںگی۔
اور سب کچھ پھلے صور پھونکنے کے نتیجہ میں ہوگا۔اور دوسرے صور میں تمام کے تمام زندہ ہو جائیں گے اور حساب کتاب شروع ہوجائےگا۔[98]
[99]
”نہ چھوٹے ھی گناہ ہو بے قلمبند کئے چھوڑتی ھے نہ بڑے گناہ کو اور جو کچھ ان لوگوں نے(دنیامیں )کیا تھا وہ سب (لکھا ہوا) موجود پائیں گے اور تمھارا پروردگار کسی پر (ذرہ برابر ) بھی ظلم نھیں کرے گا“
[100]
”اور اعمال کی کتاب (لوگوں کے سامنے)رکھ دی جائے گی اور پیغمبر اور گواہ لاکر حاضر کئے جائیں گے اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر (ذرہ برابر ) ظلم نھیں کیا جائے گا اور جس شخص نے جیسا کیا ہوگا اسے اس کا پورا پورا بدلا مل جائے گا اور جو کچھ یہ لوگ کرتے ھیں وہ اس سے خوب واقف ھے“

والحمد لله رب العالمین۔
——————————————————————————–
[1] سورہ تغابن آیت۷۔
[2] سورہ جاثیہ آیت ۲۶۔
[3] شروع کتاب خدا شناسی پر رجوع فرمائیں۔
[4] بحث عدل الٰھی رجوع فرمائیں۔
[5] رجوع فرمائیں بحث نبوت پر ۔
[6] سورہ نساء آیت ۸۷۔
[7] سورہ سباء آیت ۲۹،۳۰۔
[8] سورہ آل عمران ۳۰۔
[9] سورہ عبس ۳۴تا ۴۱۔
[10] سورہ بقرہ آیت۴۳۔
[11] سورہ بقرہ آیت۱۸۳۔
[12] سورہ آل عمران آیت ۹۷۔
[13] سورہ انفال آیت ۴۱۔
[14] سورہ حج آیت ۷۸۔
[15] سورہ بقرہ آیت ۲۷۵۔
[16] سورہ نحل آیت۹۰۔
[17] سورہ حجرات آیت ۱۲۔
[18] سورہ حجرات آیت ۱۲۔
[19] سورہ نحل آیت ۱۰۵۔
[20] سورہ حجرات آیت۱۲۔
[21] سورہ مطففین آیت۱۔
[22] صول الفقہ شیخ مظفرۺ جلد اول ص۵۵،۵۹،۸۹،۹۰۔
[23] اورہ حشر آیت۷۔
[24] سورہ نور آیت۶۳۔
[25] سورہ سباء آیت ۱۲۔
[26] سورہ انعام آیت۱۵۔
[27] سورہ طلاق آیت ۸۔
[28] سورہ مدثر آیت۴۲،۴۳۔
[29] سورہ زخرف آیت ۶۵۔
[30] سورہ انبیاء آیت ۱۰۴۔
[31] سورہ اسراء آیت۹۹۔
[32] سورہ کہف آیت ۴۷۔
[33] سورہ کہف آیت۴۹۔
[34] سورہ مومنون آیت ۱۵۔
[35] سورہ مومنون آیت ۱۱۵۔
[36] سورہ آل عمران آیت۹۔
[37] سورہ انعام آیت ۱۳۰۔
[38] سورہ نباء آیت ۱۷۔
[39] سورہ نباء آیت ۳۹۔
[40] سورہ زمر آیت ۷۰۔
[41] سورہ سباء آیت ۳،۴۔
[42] سورہ نحل آیت۳۹۔
[43] سورہ انفطار آیت۱۷تا۱۹۔
[44] سورہ کہف آیت۴۹۔
[45] سورہ آل عمران آیت ۳۰۔
[46] سورہ مطففین آیت ۱۰تا۱۲۔
[47] سورہ فصلت حم السجدہ آیت ۱۹تا ۲۲۔
[48] سورہ یٰس آیت ۶۵۔
[49] سورہ نساء آیت۵۶۔
[50] سورہ قیامت ۳تا۴۔
[51] سورہ نساء آیت ۵۶۔
[52] الاسلام و الطب الحدیث ص۶۶۔
[53] سورہ قیامت آیت۴۔
[54] ڈاکٹر ابراھیم الراوی ،مجلة العدل النجفیة ۔ ع ۱# س۶ص۲۔
[55] مادہ”ازلی نہ ہونے کے سلسلہ میں اور ازلی کہنے والوں کی دلیل کی رد“ھماری کتاب ھوامش علی کتاب نقد الفکرالدینی ”طبع بیروت ۱۳۹۱ھ مطابق ۱۹۷۱ء میں ملاحظہ فرامائیں۔
[56] سورہ اسراء آیت ۴۹،۵۰۔
[57] سورہ مریم آیت ۶۶،۶۷۔
[58] سورہ انبیاء آیت ۱۰۴ ۔
[59] سور ہ روم آیت ۱۱۔
[60] سورہ اسراء آیت ۴۹۔
[61] سورہ بنی اسرائیل (اسراء) آیت ۹۹۔
[62] سورہ مومنون آیت ۱۲ تا ۱۶۔
[63] سورہ واقعہ آیت ۵۷تا ۶۲۔
[64] سورہ القیامة ۳۶تا ۴۰۔
[65] سورہ احقاف آیت۳۳۔
[66] سورہ المرسلات آیت ۲۰تا۲۴۔
[67] سورہ یٰس آیت ۷۷تا۷۹۔
[68] سورہ یٰس آیت ۸۱۔
[69] سورہ ق آیت ۱۵
[70] سورہ مومن آیت۵۷۔
[71] سورہ حج آیت۵تا۷۔
[72] سورہ کہف آیت ۴۷۔
[73] سورہ اسراء آیت ۹۹۔
[74] سورہ یٰس آیت۷۸۔
[75] سورہ یٰس آیت۷۹۔
[76] سورہ احقاف آیت۳۳۔
[77] سورہ یٰس آیت ۸۱۔
[78] سورہ یٰس آیت۸۳۔
[79] سورہ نمل آیت ۸۔
[80] سورہ بقرہ آیت ۲۶۰۔
[81] سورہ بقرہ آیت ۲۶۰۔
[82] سورہ بقرہ آیت ۲۶۰۔
[83] سورہ بقرہ آیت ۲۶۰۔
[84] سورہ کہف آیت ۴۷۔
[85] سورہ آل عمران آیت ۳۰۔
[86] سورہ انبیاء آیت ۱۰۴۔
[87] سورہ ابراھیم ۴۸۔
[88] گذشتہ علمی مطالب کے سلسلہ میں کتاب”اللہ یتجلی فی عصر العلم“ ص۸،۲۹،۹۲،۸۳ ،۱۶۷ پر رجوع فرمائیں۔
[89] سورہ دخان آیت ۱۰۔
[90] سورہ قیامت آیت۱۰۔
[91] سورہ الحاقة آیت ۱۴۔
[92] سورہ ابراھیم آیت۴۸۔
[93]سورہ حجر آیت۷۔
[94] سورہ شوری آیت ۱۸۔
[95] سورہ الجاشیہ آیت ۲۷۔
[96] سور یونس آیت۲۴۔
[97] سورہ نحل آیت۷۷،وسورہ قمر آیت ۵۰۔
[98] القرآن مصطفی محمود :ص۲۰۷ تا ۲۰۹۔
[99] سورہ کہف آیت ۴۹۔
[100] سورہ زمر آیت۶۹تا ۷۰۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.