قضاء وقدر الہی(حصہ اول)

0 0

بسم اللہ الرحمان الرحیم

مقدمہ

قضاء وقدر علم عقائداور علم کلام کے اہم ترین موضوعات میں سے اسی لئے یہ معرکۃ الاراء  موضوعات میں سے ہے  تو سب سے پہلے ہمیں قضاء وقدر کے معنی اورمفہوم   کو سمجھنے کی ضرورت ہے  اسی لئے ہم  سب سے پہلے  قضاء وقدر کی لغوی اور اصطلا حی معنی  کی وضاحت کرینگے پھر ان شاء اللہ قرآن اور احادیث کی روشنی میں  قضاء وقدر پرتفصیلی بحث کرینگے

قدر کا معنی

قدر لغت میں :-  قدر عربی کا لفظ ہے جس کا معنی  “مقدار ”  ہے اورکلمہ تقدیر اسی لفظ سے مشتق ہوا ہے اسی کا معنی “اندازہ گیری “تولنا ” اندازہ لینا “ہے
قضاء لغت میں :-  قضاء بھی عربی لفظ ہے اسکے محتلف معانی بیان ہوئے ہیں مثلا  “تمام کرنا  ،مکمل کرنا” “کسی چیز سے فارغ ہونا””انجادینا” اور حکم سناناوغیرہ ہے  لیکن مناسب ترین معنی   کسی کام کو انجام دینا کسی کام کو پائہ تکمیل تک پہنچانے کو کہا جاتا ہے
کبھی  یہ دونوں لفظ مترادف کے طور پر “قسمت اور سرنوشت ” کے معنی میں استعمال ہوتا ہے

 قضاء وقدر کا اصطلاحی معنی

تقدیرالہی  اصطلاح میں :-  تقدیر الہی سے مراد یہ ہے کہ کسی بھی حادثہ یا واقعہ کو اگر دیکھا جائے تو وہ کام یا واقعہ خداوند متعال کی تدبیر کے ماتحت ہوتا ہے  اس معنی میں کہ خداوند متعال نے  تمام حادثات اور واقعات کے لئے کمی اور کیفی اسی طرح زمان و مکان  کے اعتبار سے خاص قسم کے حدود معین کیا ہے  اور اس  کے تحقق  کیلئے تدریجی  علل اوراسباب  معین کیا گیا ہے اوربلاتشبیہ  خداوند متعال نے ایک  ماہر انجئنیر  کی طرح اس حادثہ  یا واقعہ کو تمام پہلوؤں  کوملوحظ نظر رکھا گیا ہے  یعنی خداوند متعال کے ہاں بے پایاں علم اور قدرت ہونے کے پیش نظر ہر موجود کیلئے ہر پہلو سے ایک خاص قسم کی حدوحدود اور مبداء ومقصد معین کیا ہے اسی کو تقدیر الہی کہتے ہیں ۔

قضاء الہی اصطلاح میں :-  قضاء الہی سے مراد کسی واقعہ یا حادثہ  کے وجود میں آنے کے اسباب وشرائط فراھم ہونے کے بعد خداوند متعال کسی واقعہ یا حادثہ کو حتمی کرتا ہے  اور وہ واقعہ یا حادثہ معینہ شرائط اور قوانین الہی کے عین مطابق ہوتا ہےجس کو خدا نے حتمی کیا ہےاورسرانجام تک پہونچایا دیا ہے
آیۃ اللہ مصاح یزدی  حفظہ اللہ فرماتا ہے  “تقدیر الہی کا مرحلہ قضاء الہی کے مرحلہ سے پہلے ہوتا ہے کیونکہ تقدیر کے ایک امر تدریجی  ہوتا ہے جو مختلف مقدمات اور شرائط تدریجی پر مشتمل ہوتا ہے  “(1) انہوں نے ایک قرآنی مثال پیش کیا ہے  (2)ایک جنین جو نطفہ سے علقہ(خون کالوتھڑا) پھر مضغۃ   یعنی (گوشت کا لوتھڑا)پھر ایک کامل جنین بن جاتا ہے تو یہ مراحل اس جنین کے متعلق تقدیر ہے ۔اور یہ مراحل مختلف زمانی اور مکانی شرائط پر مشتمل ہوتے ہیں اور جنین کا ان مراحل سے گزرنا تقدیر کی تبدیلی  سے بھی تعبیر کی جاسکتی ہے
لیکن مرحلہ قضاء دفعی  ہوتا ہے  یعنی وہ ناقابل تغییر ہے لیکن تقدیر کے مراحل(اسباب وشروط) سے وابستہ ہے جیسا کہ خداوند متعال کا فرمان ہے “( وإذا قضى أمرا فإنما يقول له كن فيكون”)(3)  اس کا مفہوم یہ ہے جب وہ کسی چیز کے  وجودحتمی کرتا ہے تو وہ اس کو ہوجاؤ کہتا ہے تو وہ فوراہوجاتا ہے
یہ بات یہاں قابل ذکر ہے کہ قضاء وقدر مترادف استعمال ہوتا ہے  اسی لئے بعض روایات اور دعاؤں میں  قضاء کی تغییر اور تبدیلی کے حوالے سے نکات موجود ہیں(4)  تو حقیقت میں تقدیر  کی تبدیلی مراد ہے نہ  قضاء کی۔
اس بنا پر  قضاء وقدر الہی کا معنی یہ ہے کہ ہر چیز جس کو خداوند متعال نے انسان کے لئے مقدر  کیا ہے جب  اس کا وقت ، اسباب وشرائط پورے ہوجائیں(وہ شرائط اوراسباب بھی تقدیر سے معین ہوتے ہیں) تو قضائے الہی اس چیز کو حتمی کردیتی ہے اور وہ امر ذھنی اور نقشے سے گزرکر عملی طور پر وجود میں آتا ہے

مزید  ماہ رمضان میں شب و روز کے اعمال

قضاء قدر کی اقسام

قضاء قدر   کے معانی اور مفہوم  کو بیان کرنے کے  ہم  آج  کے درس میں  قضاء وقدر کی اقسام پر کچھو مفید مطالب  بیان کرینگے ۔
علم کلام اور عقائد اسلامی کے علماء اور دانشوروں نے  قضاء وقدر الہی  کو قرآنی آیات اور آحادیث کی روشنی میں  دوقسموں میں تقسیم کی ہیں
پہلی قسم : قضاء وقدر علمی  ۔ دوسری قسم قضاء وقدر عینی

1:- قضاء وقدر علم

قدر علمی سے مراد یہ ہے کہ خداوند متعال  کو کسی حادثہ یا واقعہ کے تمام اسباب اور شرائط( جو بتدریج   تحقق پاتے ہیں ) کا علم  ہے
قضاء علمی  سے مرادہ یہ ہے کہ خداوند کو علم ہے کہ وہ واقعہ یا حادثہ  فلان معین وقت میں پیش آئے گا  یعنی وجود میں آئے گا
 پس قدر  علمی     ہرم موجود  کے لئے ایک خاص اندازے کے مطابق شرائط اوراسباب ومقدمات  ، زمان ومکان اور کمیت وکیفیت   مشخص اور معین  ہوتے ہیں اور یہ سب خداوند متعال کے بے پایاں علم کے دائرے میں ہیں ۔
اور قضاء علمی  ایک خاص اندازے کے مطابق شرائط واسباب  پورے ہونے  یا فراہم ہونے کے بعد فلان واقعہ پیش  آنا اور وجود میں آنا بھی خدا وند کے علم سے خارج  نہیں ہے

2:-  قضاء اور قدر عینی

اس قسم میں کسی واقعہ یا حادثہ کو خارج اور وجودی نظر سے دیکھا جاتا ہے  یعنی کسی واقعہ کا بتدریج وجود میں آنا  خدا سے منسوب ہے مثلا  گزشتہ درس میں جو قرآنی مثال پیش کی گئی کہ ایک جنین  جو کئی مراحل طے کرکے آخرمیں ایک مکمل  جنین  کی شکل اختیار کرتا یہ سب مراحل خداوند سے منسوب ہے اور خداوند اس  جنین کو ان مراحل سے گزاردیتا ہے
اور قضاء عینی  میں بھی کسی واقعہ یا حادثہ کا خارج میں وجود میں آنا  اور پیش آنا  مراد ہے  یعنی جب وہ خارج میں  پیش آتا ہے یا وجود میں آتا ہے تو قضاء الہی  عینی کہا جاتا ہے
یعنی دوسری عبارت میں  اس واقعہ یا حادثہ  کے بتدریج  واقع ہونے  میں تقدیر الہی حاکم ہے  اور اس کام یا واقعہ کے انجام پانے میں  ‍ قضاء الہی  کی مداخلت ہے
اس  بنا پر  ہم اس نتیجے پر پہونچتے ہیں کہ قضاء وقدر الہی   اثر کے اعتبار سے  تمام موجودات اور واقعات یا حادثات  حتی انسان  کے رفتار ،کردار پر بھی مسلط اور حاکم  ہے

مزید  روز عاشور جب خون تلوار پر غالب نظر آیا

قضاء وقدر علمی اور عینی میں فرق

مذکورہ  بالا قضاء وقدر کی تقسیم کے مطابق   قضاء وقدر علمی کسی  چیز یا واقعہ یا حادثہ کے وجود میں آنے سے پہلے ہوتی ہیں جبکہ قضاء وقدر عینی ایک چیز یا واقعہ یا حادثہ کے وجود میں آنے کے ساتھ ہوتی ہیں  یعنی کسی چیز یا واقعہ یا حادثہ کے وجود میں آتے ہیں قضاء وقدر عینی استنتاج  ہوتی ہیں   اس مسئلہ کو عقل بطور احسن درک کرتی ہے  یہ بات یہاں قابل توجہ ہے کہ قضاء وقدر عینی  خلقت کی کیفیت کا نام ہے  تو اس بحث کا تعلق  توحید خالقیت سے  بھی بنتا ہے
مختصر عبارت میں ان دونوں کا فرق  اس انداز میں بیان کیا جاسکتا ہے   پہلی قسم کا تعلق  علم  الہی سے  ہوتا ہے اور دوسری کا تعلق  وجود  سے ہوتا ہے

قضاء قدر اور لوح محفوظ

لوح مقدس محفوظ   کا وجود تمام  اسلامی علماء اور کلامی دانشوروں کے درمیان متفق علیہ مسئلہ ہے  اور یقینا اس کا قضاء وقدر الہی سے تنگا تنگ اور قریبی  رابطہ ہے   اس بارے میں ہم یہاں آیت اللہ مصباح یزدی   مدظلہ العالی کے بیان کا خلاصہ پیش کرتے ہیں
آپ فرماتے ہیں “آیات قرآنی اور رویات اسلامی کے مطابق علم خداوند تمام موجودات  کے بارے میں  انکے خارجی وجود کی شکل اور کمیت کیفیت کے اعتبار سے  یا (وہی قضاء قدر علمی   ) لوح مقدس وشریف ورفیع   یعنی لوح محفوظ  پر  سپرد  قلم کئے گئے ہیں اور ہر شخص جس کو  ” خدا کے اذن اور اجازت سے ” اس مقدس لوح  تک دسترسی   ممکن ہوجائے   تو وہ (علم ماکان اور مایکون  ) ماضی اور مستقبل میں پیش آنے وانے تمام واقعات  کے تمام جزئیات سے آگا ہ و آشنا ہوتے ہیں     اور وہاں  اس مقدس لوح محفوظ   کے ضمن میں  دیگر  الواح  بھی ہیں   جو رتبہ اور مرتبہ کے اعتبار سے لوح محفوظ سے کم درجہ کے ہیں
ان الواح میں  موجودات اور حوادث اور واقعات  کے ظواہر اور وجود کو مشروط اورقابل تغییر اور غیر حتمی   طور پر درج کیے ہوئے ہیں   اور اگر کسی کو ان الواح تک دسترسی پیدا ہوجائے تو  وہ بھی موجودات کے حوالے سے  ان کے مستقبل کے بارے میں پیش آنے والے واقعات کے متعلق ناقص اور مشروط معلومات سے آگاہ اور آشنا  ہوجاتا ہے  ” لیکن  ضروری نہیں وہ اس مکتوب کے مطابق واقع ہوکیونکہ یہ مشروط  مکتوب ہیں ممکن ہے تبدیل ہوجائے  شاید   یہ آیت  مبارکہ  “يَمْحُو اللّهُ مَا يَشَاء وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ (5) ” یعنی خدا جو چاہتا ہے مٹادیتا ہے اور جوچاہتا ہے درج کردیتا ہے اور  اس کے پاس ام الکتاب  ہے ” ان انہی الواح کی اقسام کے بارے میں  اشارہ ہے  “(6)

مزید  امام رضا (عليہ السلام) کي زيارت کي فضيلت

قابل توجہ نکتے  اور فوائد

1:- اس مذکورہ آیت کو  علماء  نے  “بداء ” کے ثبوت   پر دلیل قرار دیا ہے  کیونکہ بداء ان تقدیروں کو کہا جاتا جو قابل تغییر ہیں اور مشروط ہیں  
آیت اللہ   شیخ جعفر سبحانی حفظہ اللہ اس بارے میں فرماتے ہیں ” یہ آیت اصل ہے  بداء کے لئے  اور اس کو مرحلہ ثبوت    میں   ثابت کرنے کے لئے  ساتھ ساتھ تمام مفسرین اور محققین کے کلمات اس آیت مبارکہ کے ذیل میں  اور خود آیت کی دلالت واضحہ بھی کافی ہے  “بداء ” کو صحیح  معنی اور مفہوم کے ساتھ سمجھنے کےلئے  اور اگر کوئی  اہل مطالعہ غور سے ان کے کلمات کا جائزہ لے تو اس نتیجے پر پہونچے گا کہ  ‘بداء ” اپنے صحیح مفہوم ومعنی میں  امت اسلامی کے نزدیک ایک متفق علیہ مسئلہ ہے (7)

2:- مذکورہ  بالا لوح محفوظ اور دیگر ضمنی الواح کے بیان سے  ان دو آیتوں (”  ومن عندہ علم الکتاب “(8)اور وہ جس کے پاس علم کتاب ہے  اور ” علم من الکتاب “(9) جس کے پاس بعض کتاب کا علم   ہے) کےمعنی ومفہوم واضح وروشن اور آشکار ہوجاتے ہیں

3:- پیغمبر مکرم اسلام اور ائمہ معصومین علیھم السلام کے پاس باذن اللہ” علم ماکان ومایکون  ” ہونے کے بارے میں شک وشبہات  باقی نہیں رہتے  یا بعض غیر معصوم  خدا کے مقربین اور اولیاء کے پاس بھی مشروط طور پر الواح مشروطہ اور قابل تغییر کا جزئی طور پر علم ہونا بھی  ممکن  ہونا ثابت ہوجاتا ہے

 

حوالہ جات
1:-  دروس فی العقیدۃ الاسلامیۃ ،آیت اللہ مصباح یزدی   ص 152
2:- ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضغَةَ عِظماً فَکَسوْنَا الْعِظمَ لحَْماً ثُمَّ أَنشأْنَهُ خَلْقاً ءَاخَرَ فَتَبَارَک اللَّهُ أَحْسنُ الخَْلِقِینَ( مومنون 14)
3:-  سورہ بقرہ آیت  117
4″-  دروس فی العقیدۃ الاسلامیۃ ،آیت اللہ مصباح یزدی   ص 152
5:-  سورہ  رعد آیت 39
6:- دروس فی العقیدۃ الاسلامیۃ    ص  53
7:- أضواء على عقائد الشیعۃ الامامیۃ- شيخ جعفر بحاني  ص 441
8:-( وَ يَقُولُ الَّذينَ كَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلاً قُلْ كَفى بِاللَّهِ شَهيداً بَيْني وَ بَيْنَكُمْ وَ مَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتاب )سورہ رعد آیت 43
9:- (قَالَ الَّذِي عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ فَلَمَّا رَآهُ مُسْتَقِرًّا عِندَهُ قَالَ هَذَا مِن فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ )سورہ نمل آیت

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.