قرآن کے کاتب

0 0

علامہ طباطبائي نے بھي مذکورہ نظر يہ کو قبول کيا ہے-([6])

اس کے علاوہ خود لکھنا پڑھنا آنا کمال ہے نقص وعيب نہيں ہے اور کيونکہ پيغمبر کو تمام کمالات خدا کي طرف سے خاص طور پر عنايت ہوئے تھے لہٰذا ان کے لئے کسي استاد کي ضرورت نہيں تھي اور يہ بات ناممکن تھي، کہ پيغمبر کے کمالات ميں اس کمال کي کمي ہوتي-

پيغمبر اکرم (ص)کا اپنے لکھنے کو ظاہر نہ کرنا سبب بنا کہ آپ اپنے پاس کچھ کاتبوں کو رکھيں جومختلف باتوں کومنجملہ ان ميں سے وحي کو آپ کے لئے کتابت کريں لہٰذا چاہے مکي زندگي ہو يا مدني زندگي آنحضرت(ص) نے اچھے کاتبوں کو اپنے پاس کتابت کے لئے رکھا ہوا تھا،سب سے پھلے شخص جنہوں نے مکہ ميں پيغمبر کے لئے کتابت کا کام مخصوصاًوحي کي کتابت کاکام شروع کيا وہ علي بن ابي طالبں تھے جو پيغمبر کي آخري عمر تک اس کام کو انجام ديتے رہے اور پيغمبر کا بھي اکثر اصرار حضرت علي (ع) سے يھي ہوتا تھا کہ تم ہي ميرے اوپر نازل ہونے والي وحي کو لکھا کرو تاکہ کوئي بھي قرآن اور وحي آسماني کي بات علي (ع)سے پوشيدہ نہ رہے-

سليم بن قيس ہلالي کہتے ہيں ميں ايک دفعہ مسجد کوفہ ميں علي (ع) کے ساتھ بيٹھا ہوا تھا اور لوگ بھي علي (ع)کے اطراف ميں گھير ا ڈالے بيٹھے ہوئے تھے کہ علي (ع)نے فرمايا: ”‌تم لوگوں کو جو کچھ بھي پوچھنا ہے مجھ سے پوچھو مجھ سے کتاب خدا کے بارے ميں پو چھو خدا کي قسم کوئي ايسي آيت نہيں جو پيغمبر (ص)پر نازل ہوئي ہو اور آنحضرت (ص)نے اسے ميرے لئے تلاوت نہ کيا ہواور اس کي تفسيروتاويل مجھے نہ سکھائي ہو“ ايک شخص نے سوال کيا:جو آيات آپ کي عدم موجودگي ميں نازل ہوا کرتي تھيں ان کے لئے آپ کيا کرتے تھے؟تو حضرت نے فرمايا:”‌جب ميں بعد ميں پيغمبر کي خدمت ميں پہنچتا تھا تو پيغمبر(ص) مجھ سے فرماتے تھے کہ اے علي (ع)! تمہاري عدم موجودگي ميں يہ يہ آيات نازل ہوئي ہيں اور ان کي ميرے سامنے تلاوت کياکرتے تھے اور ان کي تاويل کي بھي مجھے تعليم ديتے تھے“-([7])

مزید  کیا مدینہ کے گھروں کے دروازے تھے؟

دوسرے نمبر پر مدينہ ميں سب سے پہلے کتابت وحي کے لئے اُبيّ بن کعب انصاري منتخب ہوئے جو کہ زمانہ جاہليت سے لکھنے ميں کافي مہارت رکھتے تھے پيغمبر(ص)نے پورے قرآن کو ان کے

سامنے پڑھا تھا اور انہو ں نے لکھا تھا اسي لئے عثمان کے دور ميں جب قرآن کي جمع آوري کا مسئلہ پيش آيا تو اس جمع آوري کر نے والے گروپ کا سر پرست اْبيّ بن کعب کو بنايا گيا لہٰذا کسي وقت بھي کوئي مشکل پيش آتي تو اْبيّ بن کعب کي رائے کے تحت اس مشکل کو حل کرديا جاتا تھا-( [8])( جاري ہے )

 

حوالہ جات:

[6] الميزان،ج16،ص145-

[7] السقيفہ؛ ص214-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.