قرآن کی فصاحت و بلاغت

0 0

قرآن مجيد ميں متعدد مقامات ایسے ہيں جہاں عربى قواعد کا لحاظ نہيں رکھا گيا اور جو کلام قوانين و قواعد کے خلاف ہوتا ہے اسے فصيح و بليغ بھى نہيں کہا جا سکتا کہ اسے معجزہ کا مرتبہ دے دیا جائے۔ اس اعتراض کا مختصر جواب يہ ہے کہ عربى زبان کے ادبى قواعد کچھ بندھے ٹنکے اصولوں کا نام نہيں ہے جن کى مخالفت کلام کو بلاغت و فصا

قرآن مجيد ميں متعدد مقامات ایسے ہيں جہاں عربى قواعد کا لحاظ نہيں رکھا گيا اور جو کلام قوانين و قواعد کے خلاف ہوتا ہے اسے فصيح و بليغ بھى نہيں کہا جا سکتا کہ اسے معجزہ کا مرتبہ دے دیا جائے۔

اس اعتراض کا مختصر جواب يہ ہے کہ عربى زبان کے ادبى قواعد کچھ بندھے ٹنکے اصولوں کا نام نہيں ہے جن کى مخالفت کلام کو بلاغت و فصاحت سے خارج کردے بلکہ يہ قرآن مجيد کے نزول کے ايک عرصہ بعد اہل زبان کى استقرائى کوشش ہے جس ميں کلام عرب کا جائزہ لے کر اکثر کلمات کى نوعیت کو دیکھتے ہوئے کچھ قواعد مقرر کر دیۓ گئے ہيں اور بعد ميں آنے والى نسلوں نے اسى کا اتباع کيا ہے۔ ايسى صورت ميں يہ کس قدر مہمل بات ہے کہ عرب کے سارے کلام کو قوانين کا مصدر و مدرک تسليم کيا جائے اور قران حکيم کو نظر انداز کر دیا جائے۔ يہ صورت حال تو خود اس بات کى دليل ہے کہ قانون سازوں نے مکمل استقراء نہيں کيا اور اس کلام کى طرف سے بے توجہى برتى ہے جو عربى زبان کى جان اور ادب کى روح ہے۔

مزید  اگلی جنگ مسجداقصیٰ کی آزادی کے لئے ہوگی

 

اس دعوى کا واضح ثبوت يہ ہے کہ جب آيات قرآنيہ کو عرب کے ادبى شاہکارکے مقابلے ميں پيش کيا گيا تو ان لوگوں نے اپنے قصائد اتار لئے اور قرآن کے ما فوق البشرہونے کا اقرار کر ليا۔ اس کا جواب لانے سے عاجز ہونے کا اعتراف کيا اور واضح لفظوں ميں اشارہ کردیا کہ جس کلام ميں اہل زبان کو گنجائش اعتراض نہيں ہے اس کلام پر بعد کے آنے والے قانون و قواعد کے غلاموں کو انگلي اٹھانے کا حق کيونکر ہو سکتا ہے۔

 

يہيں سے اس اعتراض کى حقیقت بھى بے نقاب ہو جاتى ہے کہ کلام کي فصاحت و بلاغت اور اسکے اسلوب و انداز کو صرف خواص ہى محسوس کر سکتے ہيں اور معجزہ اس غیر معمولى مظاہرہ کا نام ہے جسکا ادراک عوام وخواص سب کے لئے برابر ہوتا ہے کہ سب ايمان بھى لاسکيں ۔

 

اس لئے کہ يہ بات اپنے مقام پر مسلم ہے کہ معجزہ کو عوام و خواص سب کے لئے يکساں طور پر معجزہ ہونا چاہئے ليکن اسکا مطلب صرف يہ ہے کہ اس کا جواب لانے سے دونوں طبقے يکساں طور ہر عاجز ہوں۔ نہ يہ کہ دونوں ادراک ميں مساوى ہوں اور برابر سے معجزہ ہونے کا احساس رکھتے ہوں۔ ايسا ہونا تو غیر ممکن ہے اس لئے کہ نہ دونوں کا ذہن ايک سطح پر آ سکتا ہے اور نہ دونوں کا ادراک و احساس برابر ہو سکتا ہے۔ بلکہ يہى عدم مساوات معجزہ کے کمال کى دليل ہے کہ عوام تو عوام ،خواص بھى اسکا جواب لانے سے قاصر ہيں اور جس بات کے لاجواب ہونے کا اقرار خواص کو ہو عوام کے اقرار نہ کرنے کا کوئى محل ہى نہيں ہے۔

مزید  خوشي اور خدا پر توکل

تبصرے
Loading...