قرآن کی روشنی میں ماں باپ کا مرتبہ

0 3

قرآن میں مختلف مقامات پروالدین کا ذکر آیا ہے خصوصا چار جگہوں پر توحید کے ہمراہ والدین کے ساتھ احسان اورنیکی کرنے کا حکم بیان ہوا ہے عظمت والدین کے لئے یہی کافی ہے کہ پروردگا ر عالم نے اپنی توحید کے ساتھ والدین کا ذکر کیا ہے۔ (١)

ان آیات میں والدین کیساتھ احسان ونیکی کرنا بطور مطلق ذکر ہوا ہے یعنی والدین مسلمان ہوں یا نہ ہوں ان کے ساتھ ہر حال میں احسان کرنا ہے جس طرح عبادات کو انجام دینے سے حق عبودیت ادا نہیں ہو سکتا اسی طرح والدین کے ساتھ احسان کرنے سے ان کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔جس طرح یہ ملتا ہے کہ ایک شخص مسلمان ہوا او رحج پرگیا وہاں اس نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے ملاقات کی اور امام سے اپنی نصرانی ماں کے متعلق سوال کیا مولا میں مسلمان ہوگیا ہوں لیکن میری ماں نصرانی ہے کیا میں اس کے ساتھ کھانا کھا سکتا ہوں ؟امام نے جواب میں فرمایا :کیاوہ خنزیر کا گوشت کھاتی ہے اس نے کہا :نہیں مولا :امام نے فرمایا :تم اس کے ساتھ کھانا کھا سکتے ہو او ردیکھو تم اپنی ماں کا زیادہ احترام کرو اور ماں کے ساتھ نیکی اور احسان کرو، جب یہ نصرانی حج سے واپس گھر پلٹا تو ماں کے ساتھ کافی احسان ونیکی کی اورکافی احترام کیا اس کی ماں نے اس کا جب یہ احترام اور احسان دیکھا تو کہا: بیٹا تمہیںکیا ہو گیا اس بار سفر سے واپسی پر تمہارے اخلاق اور رفتار میں کافی تبدیلی آگئی ہے جب تم ہمارے مذہب پر تھے تو میرا اتنا خیال نہیں رکھتے تھے لیکن اب جب کہ تم ہمارے مذہب پر نہیں ہو میرے ساتھ کافی احسان ونیکی کررہے ہو اس نے کہا :ماں حج پر میں نے اپنے امام سے ملاقات کی میرے امام نے مجھے آپ کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے بیٹے کے اس عمل کی وجہ سے نصرانی ماں بھی مسلمان ہو گئی ۔ (2)

قارئین کرام آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ :انسان کے اخلاق اور والدین کے ساتھ احسان ونیکی کرنے کی وجہ سے ایک نصرانی عورت مسلمان ہو گئی اس واقعہ سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ احسان ونیکی کے لئے مسلمان ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ والدین اگرچہ مسلمان نہ بھی ہوں پھر بھی ان کے ساتھ احسان ونیکی کرنا چاہیے۔ والدین کا حق ہم لوگ ادا نہیں کرسکتے جتنی بھی والدین کی خدمت کرلیں پھربھی ان کا حق ادانہیں ہو سکتا۔ قرآن مجید میں توحید کے ساتھ والدین کے ساتھ احسان کا تذکرہ اس بات کی دلیل ہے کہ :جس طرح اس کا حق ادا نہیں ہو سکتا اسی طرح والدین کا حق ادا نہیں ہوسکتا ۔لیکن روایات میں مختلف تعبیرات آئی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ والدین کا حق کسی حال میں بھی ادا نہیں ہو سکتا ۔بعض جگہ یہ تعبیر آئی ہے کہ ماں نے جوتمہیں نوماہ اپنے شکم میں رکھا اور کروٹیں لیں ہیں تم اس کا بھی حق ادا نہیں کر سکتے۔دوسری جگہ جس وقت تم اس دنیا میں آئے اور ماں نے تکلیف میں آہ لی تم اس کا بھی حق ادا نہیں کرسکتے ۔یا جس طرح واقعہ ملتا ہے کہ ایک شخص امام کے پاس آیا اورآکر کہا :مولا میں اپنی ماں کا ہر کام انجام دیتا ہوں جس طرح سے بچپنے میں اس نے میرا خیال کیا ہے میں بھی اسی طرح اس کا خیال رکھتا ہوں وہی کام جو وہ میرے ساتھ کرتی تھی میں بھی وہی کام اس کے ساتھ کررہا ہوں غذا لباس ادھر سے ادھر اٹھا کر بٹھانا اور لے جانا وغیرہ کیا میں نے اپنی ما ں کا حق اد ا کردیا امام نے فرمایا:نہیں کیونکہ جس وقت وہ تمہاری خدمت کررہی تھی تو دعا کر رہی تھی خدایا میرے بچے کو پروان چڑھا اوراس کو طول عمر عطا فرمالیکن جس کی تو خدمت کررہا ہے تو کہہ رہ ہے :خدایا :اس کی مشکل آسان فرماوہ تمہارے حیات کی دعا کررہی تھی اور تم اس کی موت کی دعا کررہے ہو؟کیا یہ یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ۔کافی کی روایت میں آیا ہے کہ ایک شخص پیغمبر اکرم کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہ کس کے ساتھ نیکی کروں فرمایا:اپنی ماں کے ساتھ اس کے بعد ماں کے ساتھ اس کے بعد ماں کے ساتھ اس کے بعد ماں کے ساتھ اس کے بعد فرمایا :اپنے والد کے ساتھ۔

مزید  انسان کی اصلاح نهج البلاغه کی روشنی میں

قرآن میں حضرت یحی کے بارے میں ارشاد الٰہی ہے: ” بَراًّ بِوَالِدَیہِ وَلَمْ یَکُنْ جَبَّاراًّ عَصِیاًّ” (سورہ مریم ١٤)حضرت عیسی کے لئے قرآن مجید سورہ مریم آیہ٣٢میں ذکر ہوا ”وَ بَرّاً بِوَالِدَتِیْ وَلَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّاراً شِقِیاًّ” کافی میں روایت ہے امام صادق سے سوال ہوا ”ای الاعمال افضل؟” کون سے اعمال افضل ہیں؟ نماز اپنے وقت میں والدین کے ساتھ نیکی اور اللہ کی راہ میں جہاد عرض کیاکہ والدین کی خدمت جہاد سے افضل ہے ۔بحار میں روایت ہے کہ ایک جوان شخص پیغمبر کے پاس آیا اور عرض کیا میں جہاد کو دوست رکھتا ہوں اور جہاد پرجانا چاہتاہوں لیکن کیا کروں ماں مجھے جہاد پر جانے سے روکتی ہے۔ حضرت نے فرمایا :جاو ماں کے پاس قسم ہے اس خدا کی جس کے قبضہ قدرت میں میر ی جاں ہے اور مجھے حق کیساتھ مبعوث بہ رسالت کیا (توجہ کریں)تمہار ا اپنی ماں کے پاس ایک شب وروز پیار ومحبت سے گذارنا ان کی خدمت کرنا ایک سالہ جہاد سے افضل ہے ۔

جہاں توحید کے ساتھ والدین کا تذکرہ ہے وہا ں مقام شکر میں بھی پروردگا رعالم نے والدین کو توحید کے ساتھ ذکر کیا ۔(3)

والدین پرانفاق کریں (4)والدین کی طرف سے صدقہ دیں نیک کام کریں تودوگنا ثواب ملے گا ایک خود عمل کا دوسرا والدین کے لئے انجام دینے کا ثواب کا م ایک ہے ثواب دوگنا ہے ۔والدین کے لئے وصیت کا حکم (5)ہرجگہ والدین کی اطاعت ہے لیکن معصیت الہی میں والدین کی اطاعت واجب نہیں ہے ۔(6)بحار میں روایت ہے کہ امام صادق نے فرمایا: ”لاَطَاعَةَ لَہُمَا فِیْ مَعْصِیَّةِ الْخَالِقِ”، والدین کے لئے استغفار کے بارے میں سورہ ابراہیم آیہ ٤١میں ارشاد ہوا ۔

مزید  لعان

دوسرے مقام پروالدین کے لئے دعا کے بارے میں سورہ اسراء ٢٤میں ارشاد ہوا۔

والدین کے ساتھ احسان ونیکی ہمیشہ کرنا چاہیے زندگی میں بھی اوران کے مرنے کے بعد بھی جوانی میں بھی بڑھاپے میں بھی ایک والدین کے ساتھ نیکی واحسان کے بارے میں قرآن کریم میں ایک ظریف نکتہ کی طرف اشارہ ہوا ہے۔”وَ قَضیٰ رَبُّکَ اَلاَّ تَعْبُدُوْا اِلَّا ایّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَاناً اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُھُمَا اَوْ کِلاَھُمَا فَلاَ تَقُلْ لَھُمَا اُفّ وَلاَ تَنْھَرْھُمَا وَ قُلْ لَھُمَا قَوْلاً کَرِیْما” یعنی تمہارے پاس…..یہ کلمہ اس بات کی طرف اشارہ کررہا ہے کہ والدین کوتمہارے پاس ہونا چاہیے ایسا نہ ہو کہ والدین کوتم اپنے آپ سے جدا کردو بلکہ تم ان کے ساتھ زندگی گذار و اپنے پاس انہیں رکھو جب تمہارے پاس ہوں تو خیال رہے، روایت میں ہے اگر اس کلمہ اف سے چھوٹا کوئی کلمہ ہوتا تو پروردگا راس کلمہ کو قرآن میں جگہ دیتا ۔عجیب بات ہے کہ قرآن میں سورہ ضحی آیہ ١٠ میں ارشاد الٰہی ہے وَاَمَّاالسَّائِلَ فَلاَ تَنْھَرْ (7)جب سائل کو جھڑک نہیں سکتے جب انہیں اف نہ کہیں توپھر کیسے گفتگو کریں ارشاد الہی ہے قُلْ لَہُمَاقَوْلاً کَرِیْماً (8) نرم لہجے اور بہترین آواز میں ان سے گفتگو کرنا ۔کافی میں روایت ہے امام صادق فرماتے ہیں: اِنْ ضَرَبَاکَ فَقُلْ لَہُمَاغَفَرَ اللّٰہُ لَکُماَ (9) اگر والدین تم کو ماریں تو دعا کرو خدایا توان کو بخش دے ۔یہ ہے عظمت والدین ـاب ہم اپنے گریبان میں دیکھیں کہ والدین ہمیں کچھ کہتے ہیں توہم کیا جواب دیتے ہیں قرآن کہہ رہا ہے کہ اف نہ کہو اور ہم نہ جانے والدین کو کیا سے کیا کہہ دیتے ہیں والدین تو وہ ہیں جن کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے اور یہ بات آخر میں قلم بند کرتاچلوں کہ والدین کوکہنے کی ضرورت نہیں کہ ہم نے تمہیں عاق کردیا بلکہ یہ اولاد کا عمل بتائے گا کہ عاق والدین ہے یا نہیں ۔روایت کے جملے ہیں والدین کو ترچھی نگاہ سے دیکھنا عاق والدین کا ایک درجہ ہے ۔اگر زندگی رہی تو بعد میں حقوق والدین اورعظمت والدین کے بارے میں گفتگوکریں گے۔آخر میں خداسے دعا ہے بحق محمد وآل محمد ہمیں والدین کے حقوق ادا کرنے اور انکا احترام کرنے کی توفیق عطا فرما۔آمین

مزید  سیرت امام علی (ع) میں آداب معاشرت کے چند اصول

١۔ سورہ بقرہ آیہ ٨٣،نسائ٣٦انعام ١٥١،اسرائ٢٣

2۔ ازدواج اسلامی آیةاللہ دستغیب

3۔ سورہ لقمان

4۔ آیہ ١٤، سورہ بقرہ، ٢١٥

5۔ سورہ بقرہ، آیہ ١٨٠

6۔ سورہ لقمان، ١٥

7۔ سورۂ ضحیٰ، آیت١٠

8۔ سورہ الاسرائ، آیت٢٣

9۔اصول کافی، ج٢، ص١٥٨

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.