قرآن کریم میں قَسَموں کا فلسفہ اور قرآنی قسموں کے امتیازی پہلو

0 1

 

قرآن کریم اپنے نزول کے وقت سے لے کر آج تک انسانوں کے أذہان ، أفکار ، زبان اور زندگی کے مختلف اُمور میں بڑی حدّ تک أثر انداز رہا ہے، بالخصوص مسلمانوں پر اِسکا أثراور نفوذ کسی بیان کا محتاج نہیں ہے، طولِ تاریخ میں مختلف علوم و فنون کے محقِّقین و ماہرین نے اِس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ اُنہیں قرآن مجید کے علاوہ، کسی اور ایسی باعظمت و با رفعت کتاب کا علم نہیں ، کہ جس پر بطور متواتر چودہ صدیوں تک تحقیق اور ریسرچ کی جاتی رہی ہو، جس کے عمیق معانی و معارف کو سمجھنے کے لئے مختلف علوم و فنون کی بنیاد پڑی ہو، اور ہزاروں ماہر ینِ تحقیق نے اِس کتاب مقدَّس کے بارے میں وسیع و عریض تحقیقات انجام دی ہوں ، لیکن اُس کتاب نے ہر زمانے میں اپنی طراوت ، ترو تازگی اور شگفتگی کو محفوظ رکھا ہو۔

حضرت علی (علیہ السلام ) قرآن کریم کے بارے میں فرماتے ہیں :

”قرآن ایسی روشن مشعل ہے کہ جس کی روشنائی و نورانیت کبھی ختم نہیں ہوتی ، اور ایسا گہرا و عمیق سمندر ہے کہ انسانی فکر اس کی گہرائی تک نہیں پہنچ سکتی ۔ ۱؂

قرآن مجید میں بے شمار اُن آیات کے علاوہ جو عقل و فکر کی عظمت و اہمیت کے بارے میں موجود ہیں ، قرآن عقلِ انسانی کی پرورش اور فکری جلاء کے لئے بھی بہت سی راہیں پیش کرتا ہے ، اور انسانوں کو زیادہ سے زیادہ اِن راہوں پر چلنے کی تشویق کرتا ہے اور اِسکے مقابلے میں ہر وہ چیز جو عقل کی رشد و پرورش اور شگوفائی میں مانع بنتی ہے ، اُس کی سخت مخالفت کرتا ہے ۔

انسانی عقل کو شگوفہ کرنے اور اُسکو رُشد و کمال تک پہنچانے والے راستوں میں سے ایک راستہ ، قرآن مجید کی قَسَمیں بھی ہیں ، کہ جو براہِ راست انسان کی عقل و فکر سے تعلّق رکھتی ہیں ، اور اُسکی سطح فکری کو بلندی و کمال دینے کے لئے پیش کی گئی ہیں ، بہت ہی عمیق اور گہرے مطالب ، قَسَم کی صورت میں بیان ہوئے ہیں اور حقیقت میں پوری ہستی و کائنات ، فکر بشری کی دسترس میں قرار دی گئی ہے ۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خدا وند عالم کو کسی قَسَم کی ضرورت نہیں ہے ، لیکن اُسکی رحمانیت اِس چیز کے متقاضی ہے کہ ہدایت اور تکامُل بشری کے تمام عوامل و أسباب کو ، چاہے وہ قَسَم ہی کی صورت میں ہوں،فراہم کرے، تاکہ عمیق أفکار کو زیادہ سے زیادہ نکھارنے کا موقع میسّر آئے،اور یہ أفکار محسوسات اور ظواہر سے ماورائے طبیعت اور نا محسوس أشیاء کی جانب سیر کرسکیں ۔

قسم کھانا اگرچہ ایک بین الاقوامی روش اور طریقہ ہے ، اور اِسکی سابقہ تاریخ ، حیات بشری کے ساتھ بہت طولانی ہے ، حتیٰ کہ بشر کے روئے زمین پر قدم رکھنے سے پہلے قسم کا وجود تھا، جب شیطان اِبلیس نے ابوالبشر حضرت آدم ؑ کو اپنی جھوٹی قسم کا فریفتہ بنایااور حضرت آدم ؑ و حوّا ؑ کے لئے قسم کھاکر خود کو اُن دونوں کا خیر خواہ و ہمدرد ظاہر کیا ۔ ۲؂

قسم کھانا ہر زبان اور ہر قوم و قبیلے میں رائج رہا ہے اور لوگ اپنی بات کو ثابت کرنے یا اِتّھامات و اِلزامات کے دور کرنے کے لئے قسم کھاتے رہے ہیں ،لیکن قرآن کریم کی خوبصورتی یہ ہے کہ قرآن نے قسم کی اِس روش کو محض تاکید تک محدود نہیں رکھا ، بلکہ تاکید کے ساتھ ساتھ عقلی و منطقی استدلال بھی پیش کئے ہیں ، اور اسطرح اِس مرسوم و رائج روش میں بنیادی تبدیلیاں ایجاد کی ہے ، جو قرآن کریم کا ہی خاصّہ ہے ، اور قرآن کریم میں قسم کی اِس روش کو اِس کتابِ مقدَّس کے علمی و بیانی اعجاز کی صورتوں میں سے ایک صورت قرار دیا جاسکتا ہے ، اگرچہ قرآن میں اِس روش کے ساتھ چیلنج و مقابلہ طلبی نہیں کی گئی ، لیکن ہم یقین سے یہ بات جانتے ہیں کہ کوئی بھی انسان اِس طرح کی قسمیں نہیں کھا سکتا۔

”اسلام سے پہلے قَسَم کا پس منظر ”

قسم کی تاریخ مختلف ملّتوں اور قوموں کے درمیان بہت قدیمی ہے ،اور پوری تاریخ بشریّت میں تمام شہر و دیہات نشین ملّت و اقوام اور ہر گروہ و قبیلہ ، اپنے اعتقادات اور ایمان کے مطابق ، اُن خاص چیزوں کے ساتھ ، کہ جو اُنکی نظر میں تقدیس اور احترام کے قابل ہوتی تھیں ، اپنے مدعیٰ کو ثابت کرنے یا اپنے اوپر لگی، تہمت کو دور کرنے کے لئے ، قسم کھاتے رہے ہیں، لوگ ہمیشہ سے اپنے معبودوں اور خداؤں کے غضب ، اور ناراضگی سے ڈرتے تھے ، اور جانتے تھے کہ جب بھی جھوٹی قسم کھائیں گے اپنے خداؤں کے مورد عذاب و نفرین قرار پائیں گے، اسلئے حقیقت میں قسم کھانے کے ساتھ ، وہ اپنے خداؤں کو اپنی بات پر گواہ ٹہراتے تھے۔ ۳؂

یہ بات بھی قابلِ توجّہ ہے کہ قَسَم میں اصل ”اللہ ” کی قَسم ہی تھی لیکن بعد میں اس روش میں تحوُّل و تبدیلی رونما ہوئی، اور دوسرے خداؤں(معبودوں) و مقدّس چیزوں کی قسم بھی معمول بن گئی ، البتّہ جو چیز واضح اور ظاہر ہے وہ یہ ہے کہ ” اللہ ” کی قسم تمام ملّتوں اور أدیان میں ، حتیٰ کہ بُت پرستوں کے درمیان بھی زیادہ شہرت کی حامل رہی ہے ، لیکن وہ ” اللہ ” کی قسم کے ساتھ ، دیگر چیزوں کی قسم کھاتے تھے، مثلاً یہودی اپنی کتاب تورات ، حضرت موسیٰ ؑ اور دیگر وہ انبیاء ؑ جو انکی نظر میں قابل احترام تھے، قسم کھاتے تھے، اور مسیحی ، انجیل مقدّس ، حضرت مریم ؑ اور أقانیمِ ثلاثہ (یعنی باپ ، بیٹا اور روحُ القُدس ) کی قسم کھاتے تھے، نیز اسی طرح حجاز کے لوگ لاٰت و عُزّیٰ اور دوسری بے اہمیت چیزوں کی قسم کھاتے تھے۔ ۴؂

اللہ تعالیٰ سورۂ یوسف میں تین مقامات پر حضرت یعقوب ؑ کے بیٹوں کی لفظِ” اللہ” کے ساتھ قسم کھانے کو بیان فرمایا ہے ،۵؂ اور یہ چیز ظاہر کرتی ہے کہ” اللہ” کی قسم کھانا گذشتہ زمانے میں رائج اور معمول رہا ہے ، اور یہ روش عربوں یا کسی خاص ملّت کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ۔

”بعد از اسلام قَسَم کے اسلوب میں انقلاب”

مکّہ معظّمہ کی سرزمین پر اسلام کے سورج کا طلوع ہونا ، بڑی عظیم تبدیلیوں کو پیش خیمہ ثابت ہوا اور اسلام نے اِس سرزمین کے لوگوں کو زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بنیادی أثر مرتّب کیا ، نیز قرآن کریم کا نازل ہونا بھی مختلف علوم و معارف کی أساس قرار پایا، اور یہ تبدیلی ”قَسَم ” کے مورد میں بھی نظر آتی ہے، قرآن کریم نے قسم کے موارد کو اُن بے اہمیت اور بے ارزش چیزوں سے ، کہ جن کی قسم کھانا عربوں کے درمیان رائج تھا ، جیسے: بُت ، قوم ، قبیلہ ، تلوار، گھوڑا ، آسمان ، ستارے ، معشوقہ ، باپ ، بیٹا اور اپنی جان وغیرہ، سے تبدیل کرکے بلند و باعظمت چیزوں کو اُنکی جگہ قرار دیا،اور کائنات کے مختلف مظاہر ، آسمانی و زمینی موجودات ، خاص زمانوں ، اور مقدّس مکانوں کی قسم کھائی، تاکہ لوگ اِن اُمور میں زیادہ سے زیادہ غور وفکر کریں اور اِنکے دقیق و پیچیدہ نظم کو درک کریں ۔

قرآن کریم میں جن چیزوں کے ثابت کرنے اور اُن پر تاکید کے لئے قسم کھائی گئی ہیں ، وہ انسانی قسموں کی طرح دنیوی اُمور یا اپنے سے تہمت کا دور کرنا یا اپنے مُدّعا کو ثابت کرنا نہیں ہیں ، بلکہ ایسے اُمور ہیں جو عقیدے اور معنوی مسائل سے تعلّق رکھتے ہیں ، اور بشر کو اِن کے درک کرنے کے لئے تفکُّر و تدبُّر کی ضرورت پڑتی ہے ، اللہ تعالیٰ نے قسم کی صورت میں بشر کو اِن عجیب و غریب موجودات اور اِنکی حقیقت کا مطالعہ کرنے اور اِن میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے ۔

پس تمام نوع بشر ، خواہ مسلمان ہوں یا مشرک و کافر، خواہ زمانہ جاہلیّت سے تعلّق رکھتے ہوں یا اسلام کی شگوفائی کے بعد سے ، خواہ عرب ہوں یا غیر عرب ، سب ہی اِس قسم کی روش سے استفادہ کرتے رہے ہیں ، کیونکہ انسانی طبیعت و مزاج یہ ہے ، کہ وہ جس زمانے میں اور جس جگہ بھی زندگی گذارتا ہے ، اُسے ملنے والی خبر اور دیئے جانے والے وعدے کے قطعی اور یقینی ہونے کی ضرورت ہوتی ہے ، تاکہ مخاطب اُسکے کلام میں شوق و رغبت پیدا کرے اور اطمینان خاطر ہوجائے۔

” کلام میں قَسَم کی اہمیت ”

کلام میں ” قسم ” ایک طرح کی تاکید شمار ہوتی ہے اور کسی مطلب کو ثابت کرنے اوراُس پر تاکید کرنے کے لئے لائی جاتی ہے ،اسلئے قسم ایسی چیزوں کے ساتھ کھائی جاتی ہے کہ جو خود اہمیت اور ارزش کے قابل ہوں اور مخاطب بھی اُنکو قبول کرتا ہو، تاکہ اِس وسیلے سے وہ چیز جس کو ثابت کرنے کے لئے قسم کھائی گئی ہے ، وہ بھی مورد قبول واقع ہو جائے، زمانۂ جاہلیّت میں عرب اپنی گفتار کو ثابت کرنے اور یقین دلانے کے لئے بہت زیادہ قسم کھاتے تھے ، لیکن ایسی فضول اور بے اہمیت چیزوں کے ساتھ،جو اُنکی سطحی نظر میں ارزشمند ہوتی تھیں ، لیکن حقیقت میں یا تو بالکل ہی بے ارزش ہوتی تھیں ، یا بہت کم فائدہ رکھتی تھیں ، اللہ تعالیٰ نے اُن کے درمیان قرآن کریم نازل فرماکر قسم کی ارزشمندی اور عظمت کو سکھایا، اور اپنے ایسے عظیم موجودات و مخلوقات کی قسم کھائی ، جو خود اپنے خالق کی عظمت و قدرت پر دلالت کرنے والے ہیں۔

بعض محقِّقین ہر زمانے میں ” قسم ” کی اہمیت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ” قسم ہر جوامع بشری اور ثقافتِ انسانی میں ، بالخصوص وہ جوامع بشری جو قانون اور اپنی گفتار کی پابندی کی رعایت کرتے ہیں ، انتہائی اہم مقام رکھتی ہے ، اور آج تک قسم کی اہمیت سے کوئی چیز کم نہیں ہوئی ہے ، بلکہ بعض موارد میں تو قسم کھانا ، (حلف برداری) قانونی اور آئینی پہلو اختیار کرگیا ہے ، عرصۂ دراز سے میڈیکل کالجز سے فارغ التحصیل ہونے والے ڈاکٹرز اپنے پیشے کے تقدُّس اور احترام کے پیشِ نظر قسم کھا رہے ہیں ، سیاسی اور عسکری عہدہ داران کسی منصب کو سنبھالتے وقت قسم (حلف) اُٹھاتے ہیں اور اِس طرح سے اپنی قانون و مملکت سے وفاداری کا یقین دلاتے ہیں ، عدالتوں میں بھی ، جب گواہ کے ملنے کا امکان نہ ہو ، تو قسم سے استفادہ کیا جاتا ہے ، نیزعام لوگ بھی کسی کام کی تاکید یا اپنی حقانیت کو ثابت کرنے کیلئے قسم کا استعمال کرتے ہیں ، لہٰذا اِس بناء پر قسم کھانا ، کسی خاص قوم اور ملّت یا زمان و مکان کے ساتھ مختص نہیں ہے ۔ ۶؂

کلام میں قسم کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ جب کوئی متکلم گفتگو کا آغاز کرتا ہے ، اور اپنی گفتگو کو قسم کے ساتھ مؤکَّد قرار دیتا ہے ، تو سننے والا یہ احساس کرتا ہے کہ ضرور اِس کلام میں کوئی بڑی بات ہے ، اور ضروری ہے کہ اِس کو دھیان سے سنا جائے ، سننے کے بعد وہ متوجّہ ہوتا ہے کہ انتہائی محکم و پختہ دلیل و برہان ، قسم کی صورت میں اُس کے لئے پیش کئے گئے ہیں ،کہ جن کے انکار یا اُن میں تردید کرنے کی کوئی گنجائش ہی موجود نہیں ہے ، اِسی وجہ سے قسم ہمیشہ ارزشمند اور مہم اُمور سے تعلُّق رکھتی ہے ، جو انسانی فکر اور سوچ و سمجھ کو اپنی جانب جذب کرلیں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں اپنی بہت سی مخلوقات کی قسمیں کھائی ہیں، اِس وجہ سے کہ یہ سب انسان کے لئے اللہ کی رحمت و نعمت کے وسیلے شمار ہوتے ہیں ، جنھیں اُس نے انسان کے لئے پیش کردیا ہے ۔ ۷؂

بعض محقّقین قسم کے بارے میں لکھتے ہیں : ” قسم ایسے مشہور مؤکِّدات میں سے ہے کہ جو کسی چیز کو نفوس میں تقویّت کرتے ہیں ، اور اُسکو نفوس کی اتھاہ گہرائیوں میں اتار دیتے ہیں ، اور کیونکہ قرآن کریم کے نزول کے وقت ، لوگ اِس کتاب مقدّس کے مقابلہ میں مختلف طرح کے رویّے رکھتے تھے، بعض اِسکے مطالب کی نسبت شکّ و تردُّد رکھتے تھے ، تو دوسرے بعض دشمنی اور ہٹ دھرمی کی بناء پر اِسکا انکار کرتے تھے،اللہ تعالیٰ نے جہاں محکم اور پختہ استدلالات کے ذریعہ اِس کتابِ عزیز کے مطالب کو بیان فرمایا، وہاں متعدّد اور پے درپے قسموں کے ذریعہ بھی اِن مطالب کو ذکر فرمایا، تاکہ ہر طرح کے شکوک و شبہات کو اِس کلامِ الھی کی نسبت دور کرے اور دلیل و حجّتِ قاطع اِن مطالب پر قائم فرمائے”۔ ۸؂

”قرآن کریم میں قسموں کا فلسفہ اور فوائد ”

قرآن کریم کی قسمیں حقیقت میں تمام کائنات اور اِسکے موجودات کو انسانی فکر کی دسترس میں قرار دیتی ہیں ، اور اُسکو اِس جہانِ مادّی و محسوس سے جہانِ معنوی و غیر محسوس کی طرف سیر کراتی ہیں ، اِس زمین و آسمان، چاند و سورج ، ستاروں اور لامحدود کہکشاؤں سے لے کر ، انسانی روح و وجدان ، فرشتوں ، ہواؤں ، نور ، روشنائی اور تاریکی تک کی قسم کھائی گئی ہے، اور نتیجۃً جو انسان دیکھ اور درک کرسکتا ہے ، اُسکی بھی قسم کھائی گئی ہے اور وہ چیز جو انسان نہ تو دیکھ سکتا ہے، اور نہ ہی درک کر سکتا ہے ، اُسکی بھی قسم کھائی گئی ہے ۹؂ ، اور یہ قسم اِس لامتناہی و غیر محدود کائنات کے ہر موجود کو شامل ہوسکتی ہے کیونکہ وہ چیزیں جو انسان دیکھ نہیں سکتا ، اُنکی نسبت جنھیں وہ دیکھ سکتاہے، بہت زیادہ ہیں ،اوریہ قسم اِس قدر وسیع و عریض ہے کہ انسان جو بھی فکر کرے، اِسکی وسعت کو درک نہیں کرسکتا، یہ وہ مقام ہے کہ جہاں انسان اپنی جہالت کا بہت شدّت سے احساس کرتا ہے ۔

مزید  "کامیاب عورت" کا مغربی اور اسلامی نقطہ نظر

بعض محقّقین اِس بات کے قائل ہیں کہ خداوند عالم نے اُمورِ مادّی و محسوس جیسے : چاند و سورج اور اِن دونوں کی نورانیّت ، زمین و آسمان و۔۔۔کی قسم ، اُمورِ غیبی اوراُمورِ غیر مشہود پر تاکید کے لئے کھائی ہے، کہ یہ اُمورِ غیبی اور معنوی ،جیسے : پروردگار عالم کی وحدانیّت اور اُسکی لامحدود قدرت ، قرآن مجید کے وحیِ الٰہی ہونے کی حقانیّت، رسول اکرم ؐ کی رسالت و نبوّت کا اثبات ، اور روز قیامت و محشور ہونے کا قطعاً تحقُّق پذیر ہونا، ایسے اُمور ہیں کہ جنکی معرفت و شناخت اور اِنکا ثابت ہونا قسم اور محکم استدلالات کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے دونوں طریقوں سے اِن اُمور کو مقام اثبات تک پہنچایا ہے ،اور قرآن کریم میں متعدّد قسموں کا فلسفہ سوائے تاکید اور اِن اُمور کے اثبات کے ، کوئی اور چیز نہیں ہے ۔ ۱۰؂

”محمد جواد مغنیہ” قرآنی قسموں کے فلسفہ کے بارے میں لکھتے ہیں : ”وہ چیز جو قرآن کی قسموں کے بارے میں ہمیں نظر آتی ہے ، وہ یہ ہے کہ خداوند عالم نے ہر موجود اور ہر چیز کی قسم کھائی ہے ، لیکن اسکا ہدف و مقصد ایک ہی ہے ، اور وہ یہ ہے کہ ہر چیز اپنے وجود میں اللہ کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی ہے ، اور یہ کہ اُسکا کوئی شریک نہیں ہے ”۔ ۱۱؂

قرآن مجید کی بعض قسموں کا فلسفہ یہ بھی ہے کہ وہ لوگ جو کائنات کے بعض موجودات ، جیسے : چاند و سورج ، یا ستاروں وغیرہ کی پرستش کرنے کا عقیدہ رکھتے ہیں ، اور اِن موجودات کو انسان کی سرنوشت میں موثِّر خیال کرتے ہیں ، اُنکی اصلاح کی جائے ، خداوند عالم نے اِن موجودات کی قسم کھا کر اُن لوگوں کا آگاہ کیا ہے کہ یہ موجودات صرف اُسکی مخلوقات ہیں ، اور انسان کی سرنوشت و تقدیر میں اِنکی کوئی دخالت و أثر نہیں ہے ، بلکہ انسان یہ قدرت اور قابلیّت رکھتا ہے کہ اپنی تقدیر کو خود اپنے ہاتھ سے رقم کرے۔

”لفظِ ”ربّ ” کے مخفی ہونے کا نظریہ اور اُسکا جواب ”

بعض محقِّقین ، قرآن کریم کی قَسموں کے تمام موارد میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ لفظِ ” ربّ ” اِن سب موارد میں مخفی اور مقدَّر ہے ، یعنی تقدیراً اِس طرح ہے: (وَرَبِّ النَّازِعَاتِ، وَرَبِّ السَّمَاءِ ، وَرَبِّ الأَرْضِ ۔۔۔)اس کے نتیجے میں قرآن کریم کی تمام قسمیں ، فقط لفظِ اللہ یا اُسکی صفات کے ساتھ کھائی گئی ہیں ،یعنی اصل میں اِن موجودات کے پروردگار کی قسم کھائی گئی ہے ، کیونکہ اُنکے نزدیک غیر خداکی قسم کھانا جائز اور صحیح نہیں ہے ، حتیٰ کہ خود اللہ تعالیٰ بھی اپنی ذات کے غیر کی قسم نہیں کھا سکتا ، اور اس کے علاوہ قسم کے لئے ضروری ہے کہ با عظمت اور ارزشمند چیز کی قسم کھائی جائے ، اور اللہ تعالیٰ سے باعظمت تر کوئی چیز وجود ہی نہیں رکھتی ہے ۔ ۱۲؂

لیکن حقیقت میں اِن لوگوں نے اِس نکتے سے غفلت برتی ہے ، کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی آفاقی اور أنفسی آیات اور زمین و آسمان میں اپنی قدرت کی نشانیوں کی طرف انسانوں کی توجّہ دلانے کیلئے ، مختلف موجودات کی بہت زیادہ قسمیں کھائی ہیں ، تاکہ انسانوں کو اِن نشانیوں میں تفکُّر اور تدبُّر کی طرف متوجّہ کرکے ، خود اُنکی اپنی شناخت کا اہتمام کرے ، لہٰذا یہ عقیدہ صحیح نہیں ہے اور محقّقین نے اسکے تین جواب دیئے ہیں ، جو ہم بطور خلاصہ پیش کرتے ہیں :

اوّل: تمام قسم کے موارد میں لفظ ”ربّ” کا مقدَّر قرار دینا ممکن نہیں ہے ، اسلئے کہ(فَلٰآ أُقْسِمُ بِمٰا تُبْصِرُوْنَ وَمَا لٰا تُبْصِرُونَ) ۱۳؂” قسم اُسکی جو تم دیکھتے ہو اور اُسکی جو تم نہیں دیکھتے” میں قسم کا دوسرا حصّہ خود پروردگار عالم کو بھی شامل ہے ، اور یہ دونوں قسم کے حصّے تمام عالم ہستی کو شامل ہیں ، یعنی خالق و مخلوق ہر دو اس میں موجود ہیں ، پس ”ربّ” کی تقدیر کا کوئی فائدہ نہیں ہے ، علاوہ یہ کہ کسی چیز کا مقدَّر قرار دینا ، اصل اور ظاہر کے خلاف ہے ، اسلئے بغیر کسی دلیل کے مقدَّر نہیں مانا جاسکتا اور نیز ماءِ موصولہ سے شروع ہونے والی قسموں میں بھی لفظِ ” ربّ ” کا مقدّر ماننا ممکن نہیں ہے ، کیونکہ اس ماءِ موصولہ سے مراد ، اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے : ( وَالسَّمٰاءِ وَ مٰا بَنٰاھٰا ) ۱۴؂ ” قسم آسمان کی اور اُسکی جس نے آسمان کو بنایا ہے ”، اس کی دوسری قسم میں لفظِ ” ربّ ” کا اضافہ کرکے یوں کہنا : ”وَ رَبِّ مٰا بَنٰاھٰا ” صحیح نہیں ہے ، کیونکہ ” ربّ ” اور ”مائے موصولہ” ، دونوں اللہ تعالیٰ کی ذات ہی سے حکایت کرتے ہیں ۔ ۱۵؂

دوم : اگر قرآن کریم کی تمام قسموں میں لفظِ ”ربّ ” تقدیراً موجود ہو ، تو قرآن کی قسموں کی جذابیّت اور خوبصورتی ، جو اس کتاب آسمانی کے اعجاز علمی کو تشکیل دیتی ہیں ، بے اہمیت اور بے أثر ہوجائے گی ، اللہ تعالیٰ نے اِن مختلف اور طرح طرح کی چیزوں کی قسم کھائی ہے تاکہ انسان کو انکی عظیم اور پائیدار خلقت کی طرف توجّہ دلائے اور اسطرح سے اُس مطلب کو ، جس کے ثابت کرنے اور تاکید کی خاطر یہ قسمیں کھائی ہیں ، تحقُّق بخشے ، کیونکہ قرآن کریم کی قسموں اور اُنکے جواب کے درمیان قریبی تعلُّق و ارتباط پایا ہے ۔

سوم : قرآن کریم کی سورتوں میں قسموں کی تعداد مختلف ہے ، ایک قسم سے لیکر پانچ قسمیں تک پے در پے کھائی گئی ہیں ، ۱۶؂ حتی کہ سورۂ شمس میں گیارہ قسمیں واقع ہوئی ہیں ، یہ متعدّد قسمیں خود اِس مطلب کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ” مُقْسَمٌ بِہ”(یعنی جس چیز کے ساتھ قسم کھائی گئی ہے ) ، ایک چیز نہیں ہے ، بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا ہے کہ اپنی مخلوقات کی مختلف انواع کی طرف انسان کی توجّہ دلائے ، تاکہ وہ اِن مخلوقات کی خلقت میں جو پائیداری اور استحکام پایا جاتا ہے ، اُس میں غور و فکر کرکے اِس عالم ہستی کے خالق تک پہنچ سکے ۔

” فخر رازی ” یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ قرآن کی وہ سورتیں جو ” قَسَم ” پر مشتمل ہیں ، وہ قرآن کریم کے نزول کے آغاز میں نازل نہیں ہوئیں ، بلکہ مختلف مطالب پر محکم اور پختہ دلیلیں قائم کرنے کے بعد ، یہ قسمیں مخصوص سجع و قافیہ اور وزن کے ساتھ بہت ہی واضح انداز میں بیان ہوئی ہیں ۔ ۱۷؂

لیکن سؤال یہ ہے کہ کیوں اللہ تعالیٰ نے متعدِّد چیزوں اور مختلف موجودات کی قسمیں کھائی ہیں ؟ اِس بارے میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بعض لوگ اِن موجودات کا انکار کرتے تھے ، اور اِن کے فوائد سے مطلع نہ ہونے کی وجہ سے اِنہیں حقیر سمجھتے تھے اور اِنکا مزاق اُڑاتے تھے ، اور بعض دوسرے اپنی باطل سوچ اور توھُّم کی وجہ سے ، اِن موجودات کو اُلوہیت اور پرستش کے مرتبے تک لے جاتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے اِ ن موجودات کی قسم کھا کر ، اِن موجودات کے مخلوقِ خدا ہونے کی یاد آوری کر وائی ہے ، اور اِن میں سے ہر ایک کے صحیح مقام و موقعیت کو ظاہر کیا ہے ، تاکہ لوگ اِن موجودات کی خلقت اور اِنکے دقیق نظم میں غور و فکر کریں اور یہ جان لیں کہ واقعیت کا انکار کرنا، خود اُس واقعیت اورحقیقت کو کوئی ضرر نہیں پہنچاتا ، بلکہ یہ نقصان خود اُنکو پہنچتا ہے کہ وہ غفلت و جہالت کے اندھیروں میں پڑے رہتے ہیں ۔

”قرآن کریم کی قسموں کے بعض دیگر فوائد ”

محقِّقین نے قرآنی قسموں کے بعض دیگر فوائد بھی بیان کئے ہیں ، جو ہم ذیل میں بطور اختصارپیش کرتے ہیں :

۱۔ ” قسم ” انسان کو اِن موجودات کے زیادہ سے زیادہ منافع کی طرف توجّہ دلانے کے لئے کھائی گئی ہے، کہ انسان اِن موجودات میں تفکُّرو تدبُّر کرے اور وہ محکم و حیرت انگیز دلائل، جو اِن موجودات میں خداوند عالم کی وحدانیّت پر موجود ہیں ، اُن تک دسترسی حاصل کرکے ، اُن سے عبرت لے ، اور جان لے کہ خداوندِ قادر و توانا نے ہی اِن موجودات کو خلق فرمایا ہے ۔ ۱۸؂

۲ ۔ قرآن کی قسمیں ، اُن لوگوں کی خُرافاتی فکروں اور جاہلانہ اعتقادات کو باطل کرنے کے لئے کھائی گئی ہیں ، جو اِن بعض موجودات کی نسبت رکھتے تھے اور رکھتے ہیں ، جیسے : ستاروں کے قابل پرستش ہونے اور اِنکے انسانی تقدیر و سرنوشت میں موثِّر واقع ہونے کا عقیدہ، یا فرشتوں کے خدا کی بیٹیاں ہونے کا عقیدہ اور یا دن کے بعض اوقات کے نحس ہونے کا عقیدہ وغیرہ۔

۳ ۔ خود موارد قَسَم (مُقْسَمٌ بِہٖ)اور نیز وہ چیزیں جن کے ثابت کرنے کے لئے قسم کھائی گئی ہے، یعنی جوابِ قَسَم (مُقْسَمٌ عَلَیْہٖ) دونوں کا واقعیّت رکھنا ، کیونکہ بعض لوگ اِن چیزوں کا انکار کرتے تھے ، اور بعض اِن کو شکّ و تردُّد کی نگاہ سے دیکھتے تھے ، اور بعض وہم و خیال ، تصوّر کرتے تھے ، جیسے : فرشتوں کا وجود ، محشور ہونے اور قیامت کے آنے کا عقیدہ ، اور قرآن کریم کا وحیِ الٰہی ہونا وغیرہ ، اسلئے خداوند عالم نے اِس طرح کے شکّ و تردُّد کو برطرف کرنے اور مخاطبین کے نفوس کے اطمینان خاطر کے لئے متعدّد قسمیں کھائی ہیں ۔

۴ ۔ قرآنی قسمیں دو طرح کی خصوصیات رکھتی ہیں اور اُن میں دو پہلوؤں کا لحاظ رکھا گیا ہے، ایک تو خود قسموں (مُقْسَمٌ بِہٖ) کی طرف لوگوں کو توجّہ دلانا مقصود ہے ، اور دوسری طرف جوابِ قسم (مُقْسَمٌ عَلَیْہ ) کی تاکید اور اُسکا ثابت کرنا مقصود ہے ، جبکہ انسانی قسموں میں فقط جوابِ قسم (مُقْسَمٌ عَلَیْہ ) کا تاکید اور ثابت کرنا ہی ہدف ہوتا ہے ، اور قسم کھانے والے اور اُسکے مخاطب دونوں کی توجّہ صرف جوابِ قسم پر ہی مرکوز ہوتی ہے ۔

۵۔ قرآنی قسموں میں اِن موارد قسم کے ذریعہ قسم کھانے کا ایک مقصد ، اِن موارد کی عظمت و بلندی بیان کرنا بھی ہے ، جیسے : مجاہدین اسلام کے گھوڑوں ، یا فریضہ حج کے اوقات کی قسم کھانا، تاکہ لوگ اِن چیزوں کی قسم کے ذریعہ جہاد اور عبادت وغیرہ کی طرف شوق و رغبت پیدا کریں ۔

۶۔ کبھی قسم کھانے کا ہدف و مقصد مخاطبین اور سننے والوں کو ڈرانا و دھمکانا ہوتا ہے ، اور کبھی اِن مواردِ قسم کا اپنے خالق کی نسبت مقرَّب و نزدیک اور با عظمت ہونا ، مقصود ہوتا ہے ، اور کبھی مخاطب کو اس معاملے میں ، جس میں وہ شکّ و تردُّد رکھتا ہے،یقین و اطمینان دلانے کے لئے قسم کھائی جاتی ہے ۔ ۱۹؂

پس خلاصۂ کلام یہ کہ قرآن کریم کی قسمیں ، اِس کتابِ مقدَّس کے دیگر علمی مسائل کی طرح ، انسان کی فکر اور سوچ و بچار کے ساتھ تعلُّق رکھتی ہیں ، اور قرآن کریم نے انتہائی علمی اور دقیق مسائل کو ” قسم اور جوابِ قسم ” کی صورت میں پیش کیا ہے ، تاکہ عقلوں اور فکروں کو اپنی جانب مبذول کرسکیں، لہذا ” قسم اور جوابِ قسم ” دونوں ہی بہت زیادہ اہمیت و عظمت کے حامل ہیں کیونکہ انسان کو اِس مادّی اور محسوس جہان سے ، اِسکے ماوراء یعنی معنوی اور غیر محسوس جہان کی طرف لے جاتے ہیں ،تاکہ انسان اِن میں تدبُّر و تفکُّر کرکے اپنے لئے اُخروی اور واقعی سعادت کی راہ تلاش کرسکے۔

” قرآنی قسموں کے امتیازی پہلو اور خصوصیات ”

قرآن کریم اور انسانی قسموں کے درمیان بہت زیادہ فرق اور تفاوت پایا جاتا ہے ، قرآن کریم کی قسمیں مخصوص امتیازات اور خصوصیات کی حامل ہیں ، ایسی خصوصیات جو ہمیں کسی بھی جگہ انسانی قسموں میں نظر نہیں آتی ہیں ، ان ہی خصوصیات میں سے کچھ ، ذیل میں بطور اختصار بیان کرتے ہیں :

اول : انسانی قسموں میں خود قسم (مُقْسَمٌ بِہ ، یعنی وہ چیز جس کے ساتھ قسم کھائی جاتی ہے ) محدود اور خاص پہلو کی حامل ہوتی ہے ، یعنی یہ قسم، فقط قسم کھانے والے کی نظر میں قابل احترام اور ارزشمند ہوتی ہے ، اور اگر کبھی عمومی حیثیت کی حامل بھی ہو اور سب لوگوں کے لئے باعظمت و با ارزش ہو ، پھر بھی اس قسم کا مقصد ، ذاتی اور شخصی نوعیّت کا ہوتا ہے ، کیونکہ معمولاً لوگ اپنے فائدے ہی میں قسم کھاتے ہیں ، لیکن قرآنی قسموں میں خود قسم کے موارد (مُقْسَمٌ بِہ) بھی انتہائی باعظمت اور قابل دقّت ہیں کہ کوئی بھی انکی اہمیت اور ارزش سے انکار نہیں کرسکتا، اور نیز وہ مقصد کہ جس کے لئے قسم کھائی گئی ہے (مُقْسَمٌ عَلَیہ) وہ بھی انتہائی عظیم اور قابل اہمیت ہے، اور اسکا فائدہ بھی تمام انسانوں کو پہنچنے والا ہے ، نہ کہ قسم کھانے والے کو، کیونکہ خداوند عالم کو اصلاً اِن قسموں کی ضرورت نہیں ہے ، بلکہ یہ ہم انسان ہیں جنکو اِن قسموں اور تاکیدوں کی ضرورت پڑتی ہے ، تاکہ دقیق اور پیچیدہ معاملات کا یقین کرسکیں ۔

مزید  امام رضا علیہ السلام کی چالیس حدیثیں

دوم : انسانی قسموں میں خود قسم (مُقْسَمٌ بِہ) اور اسکے جواب (مُقْسَمٌ عَلَیہ) کے درمیان کوئی ارتباط و تعلّق نظر نہیں آتا ،مثلاً ”اللہ ”کی قسم کو ہر جگہ کھاتا ہے ، اور اگر کسی دوسری چیز کی قسم کھاتا ہے ، تب بھی اس قسم کے جوابِ قسم کے ساتھ تعلّق کو مدّنظر نہیں رکھتاہے ، لیکن قرآن کی قسموں میں قسم اور جوابِ قسم کے درمیان بہت دقیق اور قابل ملاحظہ تعلّق و ارتباط موجود ہے ، کیونکہ قرآنی قسمیں تشبیہ اور تاکید سے مخلوط اور متضمِّن ہیں ، اور حقیقت میں جوابِ قسم (مُقْسَمٌ عَلَیہ) کو ثابت کرنے کے لئے قسم (مُقْسَمٌ بِہ) سے تشبیہ دی گئی ہے ، یعنی جس طرح سے قسم (مُقْسَمٌ بِہٖ) ثابت اور یقیناًوجود رکھتی ہے اور سب اسکے وجود کے قائل ہیں ، اسی طرح جوابِ قسم (مُقْسَمٌ عَلَیہ) بھی ثابت اور یقیناًموجود ہے ، اور چاہیے کہ سب اِسے بھی قبول کریں ، اور تشبیہ میں فقط ”مُشَبَّہٌ بِہٖ” کا ثابت اور قابل قبول ہونا کافی ہوتا ہے ،جبکہ انسانی قسموں میں اس طرح کی تشبیہ وجود نہیں رکھتی ہے ۔

سوم : انسانی قسموں میں قسم (مُقْسَمٌ بِہ) معمولاً حقیقی اور واقعی ارزش کا حامل نہیں ہوتی ہے، بلکہ قسم کھانے والا کیونکہ اسے عزیز اور محبوب رکھتا ہے ، اسلئے قسم کے قابل قرار دیتا ہے، لیکن قرآن کی قسموں میں تمام قسم کے موارد (مُقْسَمٌ بِہ) حقیقی اور واقعی ارزش کے حامل ہیں ، اور سب کے نزدیک عزیز اور محبوب ہیں ، اللہ کے نزدیک عزیز اور محبوب ہیں کیونکہ اسکی عظیم خلقت کا شاہکار ہیں اور ہم انسانوں کے نزدیک عزیز اور محبوب ہیں کیونکہ ان سب موجودات کا فائدہ ہمیں ہی ملتا ہے ، ہم میں سے ہر فرد اپنی روز مرّہ کی زندگی میں ان موجودات کا شدید نیاز مند ہے ، اور دوسرے لحاظ سے خود یہ قسمیں (مُقْسَمٌ بِہ) اپنے قادر و توانا خالق کے وجود پر دلیل ہیں ، کہ یہ کتاب طبیعت اور خلقت و آفرینش کا دقیق نظام بغیر کسی دانا و آگاہ مدبّر کے نہیں چل سکتا ہے ۔ ۲۰؂

گذشتہ مقالے میں ہم نے ” کلام میں قَسَم کی اہمیت و قرآنِ کریم اور انسانی قسموں کے درمیان وجہِ اختلاف ” کے عنوان سے گفتگو کی تھی ، اور بیان کیا تھا کہ قسم کی تاریخ ، انسان کے روئے زمین پر قدم رکھنے سے بھی پہلے کی ہے ،اور یہ روش تمام گذشتہ تاریخی أدوار میں مختلف ملّتوں اور أقوام کے درمیان رائج رہی ہے اور ہر قوم و قبیلہ اپنے اعتقادات اور رسم و رواج کے مطابق ، اپنے نزدیک قابلِ احترام اور مقدَّس چیزوں کی قسم کھاتا رہا ہے ،لیکن سر زمین عرب پر اسلام کا سورج طلوع ہونے کے بعد قرآن کریم کا نازل ہونا ، اِس قسم کی روش اور اسلوب میں نمایاں تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوا ، اور قرآن کریم نے قسم کے موارد کو ، لوگوں کی سطحی فکر سے بلند کرکے آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے ، اور کائنات کے عظیم و حیرت انگیز موجودات کی قسمیں کھائیں ہیں ، تاکہ لوگوں کو اِن موجودات میں زیادہ سے زیادہ غور و فکر اور تدبُّرکرنے کی جانب راغب کیا جا سکے ۔

زیرِ نظر مقالے میں ہم ” قرآن کریم میں قسموں کا فلسفہ اور اُنکی انواع ” کے عنوان سے بحث کریں گے ،بعض محقِّقین قرآن کریم کے تمام قَسَم کے موارد میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ لفظِ ” ربّ ” اِن سب موارد میں مخفی و مقدَّر ہے ، یعنی تقدیراً اِس طرح ہے: (وَرَبِّ النَّازِعَاتِ، وَرَبِّ السَّمَاءِ ، وَرَبِّ الأَرْضِ ۔۔۔)اس کے نتیجے میں قرآن کریم کی تمام قسمیں ، فقط اللہ یا اُسکی صفات کی کھائی گئی ہیں ،یعنی اصل میں اِن موجودات کے پروردگار کی قسم کھائی گئی ہے ، کیونکہ اُنکے نزدیک غیر خداکی قسم کھانا جائز اور صحیح نہیں ہے ، حتیٰ کہ خود اللہ تعالیٰ بھی اپنی ذات کے غیر کی قسم نہیں کھا سکتا ، اور اس کے علاوہ قسم کے لئے ضروری ہے کہ با عظمت اور چیز کی قسم کھائی جائے ، اور اللہ تعالیٰ سے باعظمت تر کوئی چیز وجود ہی نہیں رکھتی ہے ۔(رجوع کریں : محمد حسین طباطبائی ، المیزان فی تفسیر القرآن ، ج 20 ، قم المقدَّسہ ، جماعۃ المدرِّسین فی الحوزۃ العلمیّۃ ، بدون ِ تاریخ ، ص 180 ؛ ابو علی الفضل ابن الحسن الطبرسی ، مجمع البیان فی تفسیر القرآن ، ج10 ، تحقیق : ھاشم رسولی المحلّاتی ، الطبعۃ الاُولیٰ ، بیروت ، دار المعرفۃ ، 1406ق ، ص 652 اور 653 ؛ محمد ابن عمر ابن حسین القرشی ، المعروف بہ فخر رازی ، التفسیر الکبیر ، ج 26 ، الطبعۃ الثالثۃ ، بیروت ، دار احیاء التراث العربی ، بدون ِ تاریخ ، ص 117 )

لیکن حقیقت میں اِن لوگوں نے اِس نکتے سے غفلت برتی ہے ، کہ اللہ تعالیٰ نے آفاقی اور أنفسی آیات اور زمین و آسمان میں اپنی قدرت کی نشانیوں کی طرف انسانوں کی توجّہ دلانے کیلئے مختلف موجودات کی بہت زیادہ قسمیں کھائی ہیں ، تاکہ اُن کو اِن نشانیوں میں تفکُّر اور تدبُّر کی طرف متوجّہ کرکے ، خود اُنکی اپنی شناخت کا اہتمام کرے ، لہٰذا یہ عقیدہ صحیح نہیں ہے اور محقّقین نے اسکے تین جواب دیئے ہیں ، جو ہم بطور خلاصہ پیش کرتے ہیں :

اوّل: تمام موارد قسم میں لفظ ”ربّ” کا مقدَّر قرار دینا ممکن نہیں ہے ، اسلئے کہ(فَلٰآ أُقْسِمُ بِمٰا تُبْصِرُوْنَ وَمَا لٰا تُبْصِرُونَ) (سورۂ حاآہ ، آیت 38 اور 39)” قسم اُسکی جو تم دیکھتے ہو اور اُسکی جو تم نہیں دیکھتے” میں قسم کا دوسرا حصّہ خود پروردگار عالم کو بھی شامل ہے ، اور یہ دونوں قسم کے حصّے تمام عالم ہستی کو شامل ہیں ، یعنی خالق و مخلوق ہر دو اس میں موجود ہیں ، پس ”ربّ” کی تقدیر کا کوئی فائدہ نہیں ہے ، علاوہ یہ کہ کسی چیز کا مقدَّر قرار دینا ، اصل اور ظاہر کے خلاف ہے ، اسلئے بغیر کسی دلیل کے مقدَّر نہیں مانا جاسکتا اور نیز ماءِ موصولہ سے شروع ہونے والی قسموں میں بھی لفظِ ربّ کا مقدّر ہونا ممکن نہیں ہے ، کیونکہ اس ماءِ موصولہ سے مراد ، اللہ ہی کی ذات ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے : ( وَالسَّمٰاءِ

وَ مٰا بَنٰاھٰا ) (سورۂ شمس ، آیت5) ” قسم آسمان کی اور اُسکی جس نے آسمان کو بنایا ہے ”، اس کی دوسری قسم میں لفظِ ” ربّ ” کا اضافہ کرکے یوں کہنا : ”وَ رَبِّ مٰا بَنٰاھٰا ” صحیح نہیں ہے ، کیونکہ ” ربّ ” اور ”مائے موصولہ” ، دونوں اللہ تعالیٰ کی ذات ہی سے حکایت کرتے ہیں ۔( نیز رجوع کریں : سورۂ شمس ، آیت 5 ،6اور 7 ؛ سورۂ لیل ، آیت 3)

دوم : اگر قرآن کریم کی تمام قسموں میں لفظِ ”ربّ ” تقدیراً موجود ہو ، تو قرآن کی قسموں کی جذابیّت اور خوبصورتی ، جو اس کتاب آسمانی کے اعجاز علمی کو تشکیل دیتی ہیں ، بے اہمیت اور بے أثر ہوجائے گی ، اللہ تعالیٰ نے اِن مختلف اور طرح طرح کی چیزوں کی قسم کھائی ہے تاکہ انسان کو انکی عظیم اور پائیدار خلقت کی طرف توجّہ دلائے اور اسطرح سے اُس مطلب کو ، جس کے ثابت کرنے اور تاکید کی خاطر یہ قسمیں کھائی ہیں ، تحقُّق بخشے ، کیونکہ قرآن کریم کی قسموں اور اُنکے جواب کے درمیان قریبی تعلُّق و ارتباط پایا ہے ۔

سوم : قرآن کریم کی سورتوں میں قسموں کی تعداد مختلف ہے ، ایک قسم سے لیکر پانچ قسمیں تک پے در پے کھائی گئی ہیں ، ( رجوع کریں : سورۂ طور ، آیت 1 تا 6 ؛ سورۂ مرسلات ، آیت 1 تا 5؛ سورۂ نازعات ، آیت 1 تا 5 ) ، حتی کہ سورۂ شمس میں گیارہ قسمیں واقع ہوئی ہیں ، یہ متعدّد قسمیں خود اس مطلب کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ مُقْسَمٌ بِہ(یعنی جس چیز کے ساتھ قسم کھائی گئی ہے ) ایک چیز نہیں ہے ، بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا ہے کہ اپنی مخلوقات کی مختلف انواع کی طرف انسان کی توجّہ دلائے ، تاکہ وہ اِن مخلوقات کی خلقت میں جو استحکام اور پائیداری پائی جاتی ہے ، اس میں غور و فکر کرکے اِس عالم ہستی کے خالق تک پہنچ سکے ۔

” فخر رازی ” یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ قرآن کی وہ سورتیں جو قسم پر مشتمل ہیں ، وہ قرآن کریم کے نزول کے آغاز میں بیان نہیں ہوئیں ، بلکہ مختلف مطالب پر محکم اور پختہ دلیلیں قائم کرنے کے بعد ، یہ قسمیں مخصوص سجع و قافیہ اور وزن کے ساتھ بہت ہی واضح انداز میں بیان ہوئی ہیں ۔ (امام فخر رازی ، التفسیر الکبیر ، ج 29 ، گذشتہ ، ص 186 )۔

لیکن یہ کہ کیوں اللہ تعالیٰ نے متعدِّد چیزوں اور مختلف موجودات کی قسمیں کھائی ہیں ؟ اِس بارے میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ بعض لوگ اِن موجودات کا انکار کرتے تھے ، اور اِن کے فوائد سے مطلع نہ ہونے کی وجہ سے اِنہیں حقیر سمجھتے تھے اور اِنکا مزاق اُڑاتے تھے ، اور بعض دوسرے اپنی باطل سوچ اور توھُّم کی وجہ سے اِن موجودات کو اُلوہیت اور پرستش کے مرتبے تک لے جاتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے اِ ن موجودات کی قسم کھا کر ، اِن موجودات کے مخلوقِ خدا ہونے کی یاد آوری کر وائی ہے ، اور اِن میں سے ہر ایک کے صحیح مقام و موقعیت کو ظاہر کیا ہے ، تاکہ لوگ اِن موجودات کی خلقت اور اِنکے دقیق نظم میں غور کریں اور یہ جان لیں کہ واقعیت کا انکار کرنا، خود اُس واقع اورحقیقت کو کوئی ضرر نہیں پہنچاتا ، بلکہ یہ ضرر خود اُنکو پہنچتا ہے کہ وہ غفلت و جہالت کے اندھیروں میں پڑے رہتے ہیں ۔

بعض محقّقین” قسم ” کے بارے میں لکھتے ہیں : ” قسم ایسے مشہور موکِّدات سے ہے کہ جو کسی چیز کو نفوس میں تقویّت کرتے ہیں ، اور نفوس کی اتھاہ گہرائیوں میں اُتار دیتے ہیں ، اور کیونکہ قرآن کریم کے نزول کے وقت ، لوگ اس کتاب مقدّس کے مقابلہ میں مختلف طرح کے رویّے رکھتے تھے، بعض اسکے مطالب کی نسبت شکّ و تردُّد رکھتے تھے ، تو دوسرے بعض دشمنی اور ہٹ دھرمی کی بناء پر اِسکا اِنکار کرتے تھے،اللہ تعالیٰ نے جہاں محکم اور پختہ استدلالات کے ذریعہ اِس کتابِ عزیز کے مطالب کو بیان فرمایا، وہیں متعدّد اور پے درپے قسموں کے ذریعہ بھی اِن مطالب کو ذکر فرمایا، تاکہ ہر طرح کے شکوک و شبہات کو ، اِس کلامِ الٰہی کی نسبت دور کرے اور قاطع دلیل و حجّت اِن مطالب پر قائم فرمائے ”۔( رجوع کریں : منّاع القطان ، مباحث فی علوم القرآن ،الطبعۃ الرابعۃ ، بیروت ، مؤسَّسۃ الرسالۃ ، 1396ق ، ص 291 ؛ محمد بکر اسماعیل ، دراسات فی علوم القرآن ، الطبعۃ الاُولیٰ ، مصر ، دار المنار ، 1411ق ، ص 363)

بعض محقِّقین ہر زمانے میں ” قسم ” کی اہمیت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ” قسم ہر جوامع بشری اور ثقافتِ انسانی میں ، بالخصوص وہ جوامع بشری جو قانون اور اپنی گفتار کی پابندی کی رعایت کرتے ہیں ، انتہائی اہم مقام رکھتی ہے ، اور آج تک قسم کی اہمیت سے کوئی چیز کم نہیں ہوئی ہے ، بلکہ بعض موارد میں تو قسم کھانا ، (حلف برداری) قانونی اور آئینی پہلو اختیار کرگیا ہے ، عرصۂ دراز سے میڈیکل کالجز سے فارغ التحصیل ہونے والے ڈاکٹرز اپنے پیشے کے تقدُّس اور احترام کے پیشِ نظر قسم کھا رہے ہیں ، سیاسی اور عسکری عہدہ داران کسی منصب کو سنبھالتے وقت قسم (حلف) اُٹھاتے ہیں اور اِس طرح سے اپنی قانون و مملکت سے وفاداری کا یقین دلاتے ہیں ، عدالتوں میں بھی ، جب گواہ کے ملنے کا امکان نہ ہو ، تو قسم سے استفادہ کیا جاتا ہے ، نیزعام لوگ بھی کسی کام کی تاکید یا اپنی حقانیت کو ثابت کرنے کیلئے قسم کا استعمال کرتے ہیں ، لہٰذا اِس بناء پر قسم کھانا ، کسی خاص قوم اور ملّت یا زمان و مکان کے ساتھ مختص نہیں ہے ۔(سید محمد علی ایازی ، قرآن و فرہنگ زمانہ ، طبع اول ، رشت ، انتشارات کتاب مبین ، 1378 ہجری شمسی ، ص 60 )

مزید  ماں نے نذر مانی خیال تھا بیٹا ہوگا مگر حضرت مریم کی ولادت ہوئی۔ اللہ نے بیٹی کو بھی خدمت بیت المقدس کے لئے قبول کر لیا۔

”قرآن کریم میں قسموں کا فلسفہ اور اُنکے فائدے ”

قرآن کریم کی قسمیں حقیقت میں تمام کائنات اور اِسکے موجودات کو انسانی فکر کی دسترس میں قرار دیتی ہیں ، اور اُسکو اِس جہانِ مادّی و محسوس سے جہانِ معنوی و غیر محسوس کی طرف سیر کراتی ہیں ، اِس زمین و آسمان، چاند و سورج ، ستاروں اور لامحدود کہکشاؤں سے لے کر ، انسانی روح و وجدان ، فرشتوں ، ہواؤں ، نور ، روشنائی اور تاریکی تک کی قسم کھائی گئی ہے، اور نتیجۃً جو انسان دیکھ اور درک کرسکتا ہے ، اُسکی بھی قسم کھائی گئی ہے اور وہ چیز جو انسان نہ تو دیکھ سکتا ہے، اور نہ ہی درک کر سکتا ہے ، اُسکی بھی قسم کھائی گئی ہے ، اور یہ قسم اس لامتناہی و لا محدود کائنات کے ہر موجود کو شامل ہوسکتی ہے کیونکہ وہ چیزیں جو انسان دیکھ نہیں سکتا ، اُنکی نسبت جنھیں وہ دیکھ سکتاہے، بہت زیادہ ہیں ،(رجوع کریں : سورۂ حاآہ ، آیت 38 اور 39)اوریہ قسم اِس قدر وسیع و عریض ہے کہ انسان جو بھی فکر کرے، اِسکی وسعت کو درک نہیں کرسکتا، یہ وہ مقام ہے کہ جہاں انسان اپنی جہالت کا بہت شدّت سے احساس کرتا ہے ۔

بعض محقّقین اِس بات کے قائل ہیں کہ خداوند عالم نے اُمورِ مادّی و محسوس جیسے : چاند و سورج اور اِن دونوں کی نورانیّت ، زمین و آسمان و۔۔۔کی قسم ، اُمورِ غیبی اوراُمورِ غیر مشہود پر تاکید کے لئے کھائی ہے، کہ یہ اُمورِ غیبی اور معنوی ،جیسے : پروردگار عالم کی وحدانیّت اور اُسکی لامحدود قدرت ، قرآن مجید کے وحیِ الٰہی ہونے کی حقانیّت، رسول اکرم ؐ کی رسالت و نبوّت کا اثبات ، اور روز قیامت اور محشور ہونے کا قطعاً تحقُّق پذیر ہونا، ایسے اُمور ہیں کہ جنکی معرفت و شناخت اور اِنکا ثابت ہونا قسم اور محکم استدلالات کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے دونوں طریقوں سے اِن اُمور کو مقام اثبات تک پہنچایا ہے ،اور قرآن کریم میں متعدّد قسموں کا فلسفہ سوائے تاکید اور اِن اُمور کے اثبات کے ، کوئی اور چیز نہیں ہے ۔ (رجوع کریں : شمس الدین محمد ابن ابی بکر ( المعروف بابنِ قیِّم الجوزیّۃ) ، التبیان فی اقسام القرآن ، تصحیح و تعلیق : طہٰ یوسف شاھین ، بیروت ، دار الکتب العلمیۃ ، 1402 ق ، ص 6 اور 7 ؛ ڈاکٹر عایشہ عبدالرحمٰن بنت الشاطی ، التفسیر البیانی للقرآن الکریم ، ج 1، الطبعۃ الثانیۃ ، مصر ، دار المعارف ، 1388 ق ، ص 93 ؛ علی العامر فارس ، ظاھرۃ القسم فی القرآن الکریم ، قم مقدّس ، دار انوار الھُدیٰ ، 1414ق، ص 37 و38 )

”محمد جواد مغنیہ” قرآنی قسموں کے فلسفہ کے بارے میں لکھتے ہیں : ”وہ چیز جو قرآن کی قسموں کے بارے میں ہمیں نظر آتی ہے ، وہ یہ ہے کہ خداوند عالم نے ہر موجود اور ہر چیز کی قسم کھائی ہے ، لیکن اسکا ہدف و مقصد ایک ہی ہے ، اور وہ یہ ہے کہ ہر چیز اپنے وجود میں اللہ کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی ہے ، اور یہ کہ اُسکا کوئی شریک نہیں ہے ”۔ (شیخ محمد جواد مغنیہ ، التفسیر الکاشف ، ج 6، الطبعۃ الرابعۃ ، بیروت ، دارالعلم للملایین ، 1990م ، ص330 ؛ نیز رجوع کریں : محمد رشید رضا ، تفسیر المنار ، ج 6، الطبعۃ الثانیۃ ، بیروت ، دار المعرفۃ ، 1393ق ، ص 373 )

قرآن مجید کی بعض قسموں کا فلسفہ یہ بھی ہے کہ وہ لوگ جو کائنات کے بعض موجودات ، جیسے : چاند و سورج ، یا ستاروں وغیرہ کی پرستش کرنے کا عقیدہ رکھتے ہیں ، اور اِن موجودات کو انسان کی سرنوشت میں موثِّر خیال کرتے ہیں ، اُنکی اصلاح کی جائے ، خداوند عالم نے اِن موجودات کی قسم کھا کر اُن لوگوں کا آگاہ کیا ہے کہ یہ موجودات صرف اُسکی مخلوقات ہیں ، اور انسان کی سرنوشت و تقدیر میں اِنکی کوئی دخالت و أثر نہیں ہے ، بلکہ انسان یہ قدرت اور قابلیّت رکھتا ہے کہ اپنی تقدیر کو خود اپنے ہاتھ سے رقم کرے۔

”قرآن کریم کی قسموں کے بعض دیگر فوائد ”

محقِّقین نے قرآنی قسموں کے بعض دیگر فوائد بھی اشارۃً بیان کئے ہیں ہم ذیل میں بطور اختصارپیش کرتے ہیں :

1۔ قسم انسان کو اِن موجودات کے زیادہ سے زیادہ منافع کی طرف توجّہ دلانے کے لئے کھائی گئی ہے، کہ انسان اِن موجودات میں تفکُّرو تدبُّر کرے اور وہ محکم و حیرت انگیز دلائل، جو اِن موجودات میں خداوند عالم کی وحدانیّت پر موجود ہیں ، اُن تک دسترسی حاصل کرکے ، اُن سے عبرت لے ، اور جان لے کہ خداوندِ قادر و توانا نے ہی اِن موجودات کو خلق فرمایا ہے ۔ (رجوع کریں : ابو علی الفضل ابن الحسن الطبرسی ، مجمع البیان فی تفسیر القرآن ، ج 10، گذشتہ ،ص 653 اور 737 ؛ سید محمود آلوسی ، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم و السبع المثانی ، ج 30 ، الطبعۃ الرابعۃ ، بیروت ، دار احیاء التراث العربی ، 1405ق ، ص 59 )

2 ۔ قرآن کی قسمیں ، اُن لوگوں کی خُرافاتی فکروں اور جاہلانہ اعتقادات کو باطل کرنے کے لئے کھائی گئی ہیں ، جو اِن بعض موجودات کی نسبت رکھتے تھے اور رکھتے ہیں ، جیسے : ستاروں کے قابل پرستش ہونے اور اِنکے انسانی تقدیر و سرنوشت میں موثِّر واقع ہونے کا عقیدہ، یا فرشتوں کے خدا کی بیٹیاں ہونے کا عقیدہ اور یا دن کے بعض اوقات کے نحس ہونے کا عقیدہ وغیرہ۔

3 ۔ خود موارد قَسَم (مُقْسَمٌ بِہٖ)اور نیز وہ چیزیں جن کے ثابت کرنے کے لئے قسم کھائی گئی ہے، یعنی جوابِ قَسَم (مُقْسَمٌ عَلَیْہٖ) دونوں کا واقعیّت رکھنا ، کیونکہ بعض لوگ اِن چیزوں کا انکار کرتے تھے ، اور بعض اِن کو شکّ و تردُّد کی نگاہ سے دیکھتے تھے ، اور وہم و خیال تصوّر کرتے تھے ، جیسے : فرشتوں کا وجود ، محشور ہونے اور قیامت کے آنے کا عقیدہ ، اور قرآن کریم کا وحیِ الٰہی ہونا وغیرہ ، اسلئے خداوند عالم نے اِس طرح کے شکّ و تردید کو برطرف کرنے اور مخاطبین کے نفوس کے اطمینان خاطر کے لئے متعدّد قسمیں کھائی ہیں ۔

4 ۔ قرآنی قسمیں دو طرح کی خصوصیات رکھتی ہیں اور اُن میں دو پہلوؤں کا لحاظ رکھا گیا ہے، ایک تو خود قسموں (مُقْسَمٌ بِہٖ) کی طرف لوگوں کو توجّہ دلانا مقصود ہے ، اور دوسری طرف جوابِ قسم (مُقْسَمٌ عَلَیْہ ) کی تاکید اور اُسکا ثابت کرنا مقصود ہے ، جبکہ انسانی قسموں میں فقط جوابِ قسم (مُقْسَمٌ عَلَیْہ ) کا تاکید اور ثابت کرنا ہی ہدف ہوتا ہے ، اور قسم کھانے والے اور اُسکے مخاطب دونوں کی توجّہ صرف جوابِ قسم پر ہی مرکوز ہوتی ہے ۔

5 ۔ قرآنی قسموں میں اِن موارد قسم کے ذریعہ قسم کھانے کا ایک مقصد ، اِن موارد کی عظمت و بلندی بیان کرنا بھی ہے ، جیسے : مجاہدین اسلام کے گھوڑوں ، یا فریضہ حج کے اوقات کی قسم کھانا، تاکہ لوگ اِن چیزوں کی قسم کے ذریعہ جہاد اور عبادت وغیرہ کی طرف شوق و رغبت پیدا کریں ۔

6۔ کبھی قسم کھانے کا ہدف و مقصد مخاطبین اور سننے والوں کو ڈرانا و دھمکانا ہوتا ہے ، اور کبھی اِن مواردِ قسم کا اپنے خالق کی نسبت مقرَّب و نزدیک اور با عظمت ہونا ، مقصود ہوتا ہے ، اور کبھی مخاطب کو اس معاملے میں ، جس میں وہ شکّ و تردید رکھتا ہے،یقین و اطمینان دلانے کے لئے قسم کھائی جاتی ہے ۔ (رجوع کریں : ڈاکٹر حسین کیانی، سوگند در زبان و ادب فارسی ، چاپ اول ، تہران ، موسَّسہ انتشارات و چاپ دانشگاہ تہران ، 1371ش ، ص 30 ؛ علی العامر فارس ، ظاھرۃ القسم فی القرآن ، گذشتہ ، ص 45 ؛ محمد تقی شریعتی ، تفسیر نوین ، چاپ چھارم ، تہران ، شرکت سھاہی انتشار ، بدونِ تاریخ ، ص 34 و 35 )

پس خلاصۂ کلام یہ کہ قرآن کریم کی قسمیں ، اِس کتابِ مقدَّس کے دیگر علمی مسائل کی طرح ، انسان کی فکر اور سوچ و بچار کے ساتھ تعلُّق رکھتی ہیں ، اور قرآن کریم نے انتہائی علمی اور دقیق مسائل کو ” قسم اور جوابِ قسم ” کی صورت میں پیش کیا ہے ، تاکہ عقلوں اور فکروں کو اپنی جانب مبذول کرسکیں، لہذا ” قسم اور جوابِ قسم ” دونوں ہی بہت زیادہ اہمیت و عظمت کے حامل ہیں کیونکہ انسان کو اِس مادّی اور محسوس جہان سے ، اِسکے ماوراء یعنی معنوی اور غیر محسوس جہان کی طرف لے جاتی ہیں ،تاکہ انسان اِن میں تدبُّر و تفکُّر کرکے اپنے لئے اُخروی اور واقعی سعادت کی راہ تلاش کرسکے

منابع

۱ ۔ الشّیخ محمد عبدُہ ، نہج البلاغۃ ، خُطَب امام علی ابن ابی طالب ؑ ، خُطبہ ۱۹۸

۲ ۔ سورۂ اعراف ، آیت 21: (و قَاسَمَھُمَا اِنّٖی لَکُمَا لَمِنَ النَّاصِحِینَ)” اور (شیطان نے ) اُن دونوں سے قَسم کھائی کہ میں تمھیں نصیحت کرنے والوں میں سے ہوں ”

۳ ۔ علی ابو القاسم عون ، اسلوب القسم و اجتماعُہ مع الشرط فی رحابِ القرآن الکریم ، اللیبیّۃ ، منشورات جامعۃ الفاتح ، ۱۹۹۲ء ، ص ۲۴

۴ ۔ کاظم فتحی الراوی ، اسالیب القسم فی اللغۃ العربیۃ ، الطبعۃ الاُولیٰ ، بغداد ، الجامعۃ المستنصریّۃ ، ۱۳۹۷ق، ص ۱۷ اور ص ۱۸۴

۵ ۔ رجوع کریں : سورۂ یوسف ، آیات ۷۳،۸۵اور ۹۱

۶ ۔ سید محمد علی ایازی ، قرآن و فرہنگ زمانہ ، طبع اول ، رشت ، انتشارات کتاب مبین ، ۱۳۷۸ شمسی ، ص ۶۰

۷ ۔ محمد حسین طباطبائی ،المیزان فی تفسیر القرآن ، جلد۱ول، قم المقدَّسہ ، جماعۃ المدرِّسین فی الحوزۃ العلمیّۃ ، بدون ِ تاریخ ، ص ۳۶۸

۸ ۔ رجوع کریں : منّاع القطان ، مباحث فی علوم القرآن ،الطبعۃ الرابعۃ ، بیروت ، مؤسَّسۃ الرسالۃ ، ۱۳۹۶ق ، ص ۲۹۱ ؛ محمد بکر اسماعیل ، دراسات فی علوم القرآن ، الطبعۃ الاُولیٰ ، مصر ، دار المنار ، ۱۴۱۱ق ، ص ۳۶۳

۹ ۔ رجوع کریں : سورۂ حاآہ ، آیت ۳۸ ۔۳۹

۱۰ ۔ رجوع کریں : شمس الدین محمد ابن ابی بکر ( المعروف بابنِ قیِّم الجوزیّۃ)،التبیان فی اقسام القرآن ، تصحیح و تعلیق : طہٰ یوسف شاھین ، بیروت ، دار الکتب العلمیۃ ، ۱۴۰۲ ق ، ص۶۔۷ ؛ ڈاکٹر عایشہ عبدالرحمٰن بنت الشاطی ، التفسیر البیانی للقرآن الکریم ، ج ۱، الطبعۃ الثانیۃ ، مصر ، دار المعارف ، ۱۳۸۸ ق ، ص ۹۳ ؛ علی العامر فارس ، ظاھرۃ القسم فی القرآن الکریم ، قم مقدّس ، دار انوار الھُدیٰ ، ۱۴۱۴ق، ص ۳۷۔۳۸

۱۱ ۔ محمد جواد مغنیہ ، التفسیر الکاشف ، ج ۶، الطبعۃ الرابعۃ ، بیروت ، دارالعلم للملایین ، ۱۹۹۰ء ، ص۳۳۰ ؛ نیز رجوع کریں : محمد رشید رضا ، تفسیر المنار ، ج ۶، الطبعۃ الثانیۃ ، بیروت ، دار المعرفۃ ، ۱۳۹۳ق ، ص ۳۷۳

۱۲ ۔ رجوع کریں : محمد حسین طباطبائی ، المیزان فی تفسیر القرآن ، ج ۲۰ ، قم المقدَّسہ ، جماعۃ المدرِّسین فی الحوزۃ العلمیّۃ ، بدون ِ تاریخ ، ص ۱۸۰ ؛ ابو علی الفضل ابن الحسن الطبرسی ، مجمع البیان فی تفسیر القرآن ، ج۱۰ ، تحقیق : سید ھاشم الرسولی المحلّاتی ، الطبعۃ الاُولیٰ ، بیروت ، دار المعرفۃ ، ۱۴۰۶ق ، ص ۶۵۲۔۶۵۳ ؛ محمد ابن عمر ابن حسین القرشی ، المعروف بہ فخر رازی ،التفسیر الکبیرأو مفاتیح الغیب ، ج ۲۶ ، الطبعۃ الثالثۃ ، بیروت ، دار احیاء التراث العربی ، بدون ِ تاریخ ، ص ۱۱۷

۱۳ ۔ سورۂ حاآہ ، آیت ۳۸۔۳۹

۱۴ ۔ سورۂ شمس ، آیت5

۱۵ ۔ نیز رجوع کریں : سورۂ شمس ، آیت ۵ تا ۷ ؛ سورۂ لیل ، آیت ۳

۱۶ ۔ رجوع کریں : سورۂ طور ، آیت ۱تا ۶؛ سورۂ مرسلات ، آیت ۱تا ۵؛ سورۂ نازعات ، آیت ۱ تا ۵

۱۷ ۔ فخر رازی ، التفسیر الکبیر ، ج ۲۹ ، گذشتہ ، ص ۱۸۶

۱۸ ۔ رجوع کریں : ابو علی الفضل ابن الحسن الطبرسی ، مجمع البیان فی تفسیر القرآن ، ج ۱۰، گذشتہ ،ص ۶۵۳ اور ۷۳۷؛ سید محمود آلوسی ، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم و السبع المثانی ، ج ۳۰ ، الطبعۃ الرابعۃ ، بیروت ، دار احیاء التراث العربی ، ۱۴۰۵ق ، ص ۵۹

۱۹ ۔ رجوع کریں : ڈاکٹر حسین کیانی، سوگند در زبان و ادب فارسی ، چاپ اول ، تہران ، موسَّسہ انتشارات و چاپ دانشگاہ تہران ، ۱۳۷۱ ش ، ص ۳۰ ؛ علی العامر فارس ، ظاھرۃ القسم فی القرآن، گذشتہ ، ص ۴۵ ؛ محمد تقی شریعتی ، تفسیر نوین ، چاپ چھارم ، تہران ، شرکت سھاہی انتشار ، بدونِ تاریخ ، ص ۳۴۔۳۵

۲۰ ۔ ابو القاسم رزّاقی ، سوگند ھائی قرآن ، قم ، انتشاراتِ توحید ، ۱۳۶۱ش ، ص۱۳ تا ۱۵

(والسَّلامُ عَلیٰ مَن اتَّبَع الھُدیٰ)

تحقیق : سید عقیل حیدر زیدی المشہدی (از : کراچی

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.