قرآن میں مخلوقات الٰہی کی قسمیں

0 1

١ ۔ملائکہ

٢۔ آسمان، زمین اور ستارے

٣۔ دوّاب ( زمین پر متحرک چیزیں)

٤۔ جن اور شیطان

٥۔ انسان

٦۔ آیات کی تشریح اور ان کی روایات میں تفسیر

١۔ ملائکہ

اس کا واحد ملک یعنی فرشتہ ، خدا وند عالم کی پردار مخلوقات کی ایک صنف ہے جس کیلئے موت و زندگی کا تصور بھی ہے یہ خدا کے مطیع اور فرمانبردار بندے ہیں جو اس کی عبادت کرتے ہیں۔ اس کے دستورات کی اطاعت کرتے اور کبھی اس کی نافرمانی نہیں کرتے ہیں۔ کبھی خدا وند عالم کے دستورات کی انجام دہی اور فرمانبرداری کے لئے انسانی شکل میں بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ خدا وند عالم نے اپنے پیغام پہنچانے والوں کو انہیں میں سے انتخاب کیا ہے اور سورۂ فاطر میں فرمایاہے :

(الحمد للہ فاطر السمٰوات و الارض جاعل الملائکة رسلاًاولی اجنحة مثنیٰ و ثلاث و رباع یزید فی الخلق ما یشاء ان اللہ علیٰ کل شیئٍ قدیر)

زمین و آسمان کے خالق خدا سے حمد و ستائش مخصوص ہے ایسا خدا جس نے فرشتوں کو  پیغام پہنچانے والابنایا جو دو دو، تین تین ، چار چار، پر(١) رکھتے ہیں وہ اپنی آفرینش میں جس قدر چاہے اضافہ کر سکتا ہے ،خداوند عالم ہر چیز پر قادر ہے ۔(٢)

سورۂ زخرف میں فرماتاہے:

(وجعلوا الملائکة الذین ہم عباد الرحمن اِناثاً اشھد وا خلقھم)

یہ لوگ فرشتوں کو جو رحمن کے بندے ہیںلڑکی خیال کرتے ہیں کیا یہ لوگ تخلیق کے وقت موجود تھے؟!(٣)

سورۂ شوریٰ میں فرماتا ہے :

(١) پردار قرآن کریم کی تاسی میں کہتے ہیں ورنہ اس کی کیفیت ہم نہیں جانتے۔(٢) فاطر ١۔(٣) زخرف  ١٩

(و الملائکة یسبحون بحمد ربھم و یستغفرون لمن فی الاَرض)

فرشتے، ہمیشہ اپنے پروردگار کی تسبیح کرتے ہیں اور زمین پر موجود افراد کے لئے خدا سے بخشش کے طالب رہتے ہیں۔(١)

سورۂ نحل میں ارشاد ہوتا ہے :

(یخافون ربھم من فوقھم و یفعلون ما یؤمرون)

یہ لوگ صرف خدا وند متعال (جو کہ ان کا حاکم ہے)کی مخالفت اور نافرمانی سے ڈرتے ہیں؛ اور جس پر وہ مامور ہیں اسے انجام دیتے ہیں۔(٢)

سورۂ مریم میں اس سلسلہ میں کہ یہ کبھی انسانی شکل میں بھی ظاہر ہوتے ہیں فرماتا ہے :

(فارسلنا الیھا روحنا فتمثل لھا بشراً سویا٭ قالت انی اعوذبالرحمن منک ان کنت تقیاً٭ قال انما انا رسول ربک لأ ھب لک غلاماً زکیاً)

ہم نے اپنی روح اس کی طرف بھیجی وہ ایک انسانی شکل میں متعادل انداز سے ظاہر ہوا! مریم بہت ڈریں اور بولیں میں تیرے شر سے خدا وند رحمن کی پناہ چاہتی ہوں اگر پرہیزگار ہے! فرشتہ نے کہا: میں تمہارے پروردگار کا بھیجا ہوا ہوں، میں تمہیں ایک پاک و پاکیزہ فرزند عطا کرنے آیا ہوں!(٣)

سورۂ ہود میں قوم لوط پر عذاب نازل کرنے کے بارے میں فرشتوں کی انسانی شکل میں آمد کی خبر دی گئی ہے اور کہا گیا ہے :

(ولقد جاء  ت رسلنا ابراہیم بالبشریٰ قالوا سلاماً قال سلام  فما لبث ان جاء بعجلٍ حنیذ٭ فلما رأی ایدیھم لا تصل الیہ نکرھم و اَوجس منھم خیفة قالوا لا تخف انا ارسلنا الیٰ قوم لوط٭… ولما جاء ت رسلنا لوطاً سیئَ بہم وضاق بہم ذرعا و قال ھذا یوم عصیب٭… قالوا یا لوط انا رسول ربک لن یصلوا الیک…)

ہمارے نمائندوں نے ابراہیم کو بشارت دیتے ہوئے کہا: سلام! انہوںنے بھی جواب سلام دیا اور ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ بھنا ہوا گوسالہ لیکر حاضر ہوئے لیکن جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ وہاں تک نہیں پہنچ رہے ہیں اوروہ اسے کھا نہیں رہے ہیںتو انہیں اچھا نہیں لگا اور ان سے دل میں خوف کا احساس پیدا ہوا تو

(١)شوریٰ٥(٢)نحل٥٠(٣)مریم١٧۔١٩

انہوںنے کہا: نہ ڈرو! ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں …،جب ہمارے فرستادہ عذاب کے فرشتے قوم لوط کے پاس آئے تو وہ ان کی آمد سے ناخوش ہوئے اور دل مرجھا گیا اور بولے: آج کا دن بہت سخت دن ہے…، فرشتوں نے کہا اے لوط! ہم تمہارے پروردگار کے فرستادہ ہیں! وہ لوگ ہرگز تم تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے…۔(١)

اور سورۂ انفال میں فرشتوں کے متعلق اور اس سلسلے میں کہ کس طرح وہ جنگ بدر میں سپاہیوں کی صورت میں مسلمانوںکی مدد کے لئے آئے، فرماتا ہے :

(اذتستغیثون ربکم فاستجاب لکم اِنِّی ممدکم بالف من الملائکة مردفین)

اس وقت کو یاد کرو جب جنگ بدرمیں شدید تھکان کی وجہ سے خدا وند عالم سے مدد مانگ رہے تھے تو اس نے تمہاری بات رکھ لی اور فرمایا: میں تمہاری ایک ہزار فرشتوں کے ذریعہ جو یکے بعد دیگر اتریں گے مددکروں گا۔ (٢)

اس کے بعد فرماتا ہے :

(اذ یوحی ربک الیٰ الملائکة انی معکم فثبتوا الذین آمنوا سا لقی فی قلوب الذین کفروا الرعب فَاضْربوا فوق الاَعْناق و اضربوا منھم کل بنانٍ)

جب تمہارے پروردگار نے فرشتوںکو وحی کی: ”میں تمہارے ساتھ ہوں” جو لوگ ایمان لا چکے ہیں انہیں ثابت قدم رکھو! بہت جلدی ہم کافروںکے دلوں میں خوف و وحشت ڈال دیں گے؛ ان کی گردن کے اوپری حصہ پر وار کرو اور ان کی تمام انگلیاںکاٹ ڈالو۔(٣)

سورۂ آل عمران میں فرماتا ہے:

(اذ تقول للمؤمنین الن یکفیکم ان یمدکم ربکم بثلاثة آلاف من الملائکة منزلین، بلیٰ ان تصبروا و تتقوا و یا توکم من فورھم ھذا یمدد کم ربکم بخمسة آلافٍ من الملائکة مسومین)

جب تم مومنین سے کہہ رہے تھے: کیا تمہارے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ خدا وند عالم تین ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرے؟ یقینا اگر ثابت قدمی کا مظاہرہ کرو اور تقویٰ اختیار کرو. اور فی الفور دشمن تمہارے سراغ میں آ جائیں تو تمہارا خدا پانچ ہزار با علامت فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا۔(٤)

(١)ہود:٨١۔٦٩(٢) انفال، ٩(٣) انفال ١٢(٤)آل عمران١٢٤۔١٢٥

پیغام رسانی کے سلسلے میں فرشتوں کے انتخاب کے بارے میں فرماتا ہے :

(اللہ یصطفی من الملائکة رسلاً و من الناس)

خد اوند عالم فرشتوں میں سے نمائندوںکا انتخاب کرتا ہے اور انسانوںمیں سے بھی ۔(١)

پھر ان کے توسط سے وحی بھیجنے کے متعلق فرماتا ہے :

(انہ لقول رسول کریم٭ ذی قوة عند ذِی العرش مکین٭ مطاع ثم امین)

یہ بات عظیم المرتبتنمائندہ  ( جبرئیل) کی ہے جو صاحب قدرت اور خدا وند کے نزدیک عظیم منصب کا حامل ہے ؛ آسمان میںمطاع و امین ہے ۔(٢)

سورۂ بقرہ میں فرماتا ہے:

(قل من کان عدواً لجبریل فانہ نزَّلہ علیٰ قلبک ِبأِذن اللہ)

کہو! جو بھی جبرئیل کا دشمن ہے ( در حقیقت وہ خد ا کا دشمن ہے ) اس لئے کہ اس نے خدا کے حکمسے تم پر قرآن نازل کیا ہے ۔(٣)

سورۂ شعراء میں فرماتا ہے :

(و انہ لتنزیل رب العالمین، نزل بہ الروح الَٔامین٭ علیٰ قلبک لتکون من المنذرین)

یقیناً یہ قرآن پروردگار عالم کی طرف سے نازل ہوا ہے جسے روح الامین لے کر آئے ہیں اور تمہارے قلب پر نازل کیاہے تاکہ ڈرانے والوں میں رہو۔(٤)

سورۂ نحل میں فرماتا ہے:

(قل نزلہ روح القدس من ربک بالحق لیثبت الذین آمنوا و ھدیً و بشریٰ للمسلمین)

کہو: اس قرآن کو روح القدس نے خدا وند عالم کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کیا ہے تاکہ باایمان افراد کو ثابت قدم رکھے اور مسلمانوںکیلئے ہدایت اور بشارت کا سبب بنے۔(٥)

سورۂ بقرہ میں ارشاد ہے:

(و آتینا عیسیٰ ا بن مریم البینات و ایدناہ بروح القدس)

اورہم نے عیسیٰ بن مریم کو واضح دلائل عطا کئے اور ان کی روح القدس کے ذریعہ نصرت فرمائی۔(٦)

(١)حج٧٥(٢)تکویر١٩۔٢١سورۂ (٣)بقرہ٩٧(٤)شعراء ١٩٢۔٩٤(٥)نحل١٠٢(٦)بقرہ٨٧و ٢٥٣

فرشتہ شب قدر میں تقدیر امور کے لئے نازل ہوتے ہیں خدا وند عالم سورۂ  قدر میں فرماتا ہے :

(تنزل الملائکة  والروح فیہا بِأِذن ربہم من کل أَمر )

فرشتے اور روح شب قدر میں اپنے پروردگار کی اجازت سے ہر کام کی تقدیر کے لئے نازل ہوتے ہیں۔(١)

ان میں سے بعض انسانوںکے محافظ اور نگہبان ہیں جیسا کہ سورۂ ”ق ”میں فرماتاہے :

(ولقد خلقنا الانسان ونعلم ماتوسوس بہ نفسہ ونحن اقرب الیہ من حبل الورید٭اذ یتلقی المتلقیان عن الیمین وعن الشمال قعید٭ ما یلفظ من قولٍ الا لدیہ رقیب عتید)

ہم نے انسان کو پیدا کیا اورہم اس کے نفسانی و اندرونی وسوسے کو جانتے ہیں اور ہم اس کی شہ رگ گردن سے بھی نزدیک ہیں ،اس وقت جبکہ دو فرشتے اس کے دائیں اور بائیں محافظت کرتے ہوئے اس کے اعمال کا محاسبہ کرتے ہیں۔کوئی بات بھی زبان سے نہیں نکالتا ہے مگر یہ کہ وہی محافظ و نگہبان فرشتے اسی وقت لکھ لیتے ہیں۔(٢)

فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ”ملک الموت” ہے، خدا وند عالم فرماتا ہے :

(قل یتوفاکم ملک الموت الذی وکل بکم ثم الیٰ ربکم ترجعون)

کہو: موت کا فرشتہ جو تم پر مامور ہے وہ تمہاری روح قبض کر لے گا؛ پھر اپنے پروردگا رکی طرف لوٹائے جائو گے۔(٣)

ان میں سے بعض ملک الموت کے معاون ہیں جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:

(حتّی اذاجائَ احدکم  الموت توفتہ رسلناوھم لایفّرطون)

جب تم میں سے کسی کی موت آجائے ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کر لیتے ہیں وہ لوگ انجام وظیفہ میں کوتاہی نہیں کرتے ہیں۔(٤)

(الذین تتوفاھم الملائکة ظالمی انفسھم فالقوا السلم ما کنا نعمل من سوئٍ بلیٰ ان اللہ علیم بما کنتم تعملون، فادخلوا ابواب جہنم  خالدین فیھا….٭ الذین تتوفاھم الملائکة طیبین یقولون سلام علیکم ادخلوا الجنة بما کنتم تعملون)

 

(١)قدر٤(٢)ق١٦۔١٨(٣)سجدہ١١(٤)انعام٦١سورۂ نحل میں بھی ذکر ہوا ہے۔

جن لوگوں کی روح موت کے فرشتے قبض کرتے ہیںجبکہ وہ اپنے آپ پر ظلم کر چکے ہیں! ایسے موقع پر سراپا تسلیم ہوتے ہوئے کہتے ہیں:

ہم نے تو کوئی بر اکام نہیں کیا ہے ! ہاں جوکچھ تم نے کیا ہے خدا وند عالم آگاہ ہے! اب جہنم کے دروازوں سے داخل ہو جائو کہ اس میں ہمیشہ رہوگے…جن لوگوں کی روح موت کے فرشتے قبض کرتے ہیں جبکہ پاک و پاکیزہ ہوں،ان سے کہتے ہیں تم پر سلام ہو جنت میں داخل ہو جائو ان اعمال کی جزا میں جو تم نے انجام دئے ہیں۔(١)

خدا وند سبحان قیامت کے دن فرشتوں کے کام اور ان کی منزلت کے بارے میں فرماتا ہے:

(تعرج الملاکة و الروح الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنة)

فرشتے اور روح اس کی طرف اوپر جاتے ہیں، اس دن جس کی مقدار پچاس ہزارسال ہے ۔(٢)

سورۂ نبا میں ارشاد ہوتا ہے :

(یوم یقوم الروح و الملائکة صفاً لا یتکلمون الا من اذن لہ الرحمن و قال صواباً)

جس دن فرشتے اور روح ایک صف میں کھڑے ہوں گے اور کوئی شخص بھی بغیر خدا وند عالم کی اجازت کے گویا نہیں ہوگا اس وقت ٹھیک ٹھیک کہیں گے۔(٣)

خد اوند عالم نے ہم فرشتوںپر ایمان کو واجب کیا اور سورئہ بقرہ میں فرمایا:

(لیس البر ان تولوا وجوھکم قبل المشرق و المغرب ولکن البر من آمن باللہ و الیوم الآخر و الملائکة و الکتاب و النبیین)

نیکی صرف یہ نہیں ہے کہ ( نماز کے وقت)اپنا رخ مغرب یا مشرق کی طرف کرلو، بلکہ نیکی اور نیکو کار وہ شخص ہے جو خدا، روز قیامت، فرشتوں، آسمانی کتابوں اور نبیوں پر ایمان رکھتا ہے ۔(٤)

نیز اسی سورہ میں ارشاد فرماتا ہے :

(من کان عدواً للہ و ملائکتہ و رسلہ و جبریل و میکال فاِن اللہ عدو للکافرین)

(١) نحل٢٨۔٣٢ (٢)  معارج٤(٣)  نبأ٣٨(٤)بقرہ ١٧٧

جو بھی خدااور اس کے ملائکہ، رسول نیز جبرئیل اور میکائیل کا دشمن ہوگا تو خدا وند عالم کا فروںکا دشمن ہے۔(١)

کلمات کی تشریح

١۔ فاطر :   خالق اور ایجاد کرنے والا.

٢۔حنیذ :   کباب اور بریاں.

٣۔نکرھم :   ان سے ڈرے اور انھیں برا معلوم ہوا .

٤۔مردفین:   پے در پے، ملائکہ مردفین یعنی جھنڈ کے جھنڈ مسلسل، پے در پے آنے والے فرشتے ۔

٥۔ ثبتوا :       ان سے سستی کو دور کرو اور انہیں ثابت قدم رکھو.

٦۔مسومین: علامت والے، ”ملائکہ مسومین” یعنی وہ ملائکہ جو اپنے یا اپنے گھوڑوں پر علامت بنائے ہوتے تھے۔

٧۔مکین:     عظیم و برزگوار لیکن یہاں پر خدا وند عالم سے قریب اور اس کے نزدیک باعظمت ہونے کے معنی میں ہے۔

٨۔مطاع :جسکی اطاعت کی جائے ملائکہ میں سے مطاع یعنی فرشتوں کا سردار جس کی اس کے ما تحت فرشتے اطاعت کرتے ہیں۔

٩۔ بینات:  واضح و روشن ”آیات بینات” یعنی واضح و روشن نشانیاں

١٠۔حبل الورید:  شہ رگ، یہاں پر رسی سے تشبیہ دی گئی ہے

١١۔ متلقیان:  انسان کے محافظ اور نگہبان دو فرشتے یعنی جو کچھ بھی ان کی رفتار و گفتار کو دیکھتے ہیں، نامہ اعمال میں ثبت کر دیتے ہیں۔

١٢۔ رقیب:حافظ ونگہبان

١٣۔عتید: آمادہ و مہیا

(١)بقرہ٩٨

١٤۔ توفّیٰ:قبض کرنا اور مکمل دریافت کرنا ،خدا وند عالم یا فرشتے کہ انسان کووفات دیتے ہیں یعنی ان کی روح کو موت کے وقت بطور کامل قبض کر لیتے ہیں۔

١٥۔روح:  جس سے انسان کی حیات و زندگی وابستہ رہتی ہے اگر وہ انسان یا حیوان سے نکل جائے تو وہ مر جاتا ہے؛ روح کی اصل کنہ و حقیقت کی شناخت ہمارے لئے ممکن نہیں ہے جیسا کہ خداوند عالم نے سورۂ اسراء میں اس کی طرف اشارہ کیاہے اور فرمایاہے: تم سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں، تو ان سے کہو روح امر پروردگار سے ہے اور تمہیں تھوڑے علم کے علاوہ کچھ دیا بھی نہیں گیا ہے ۔

روح کی نسبت اور اضافت خد اوند عالم کی طرف یا تشریفی ہے ( کسب عظمت کی خاطر ہے) یعنی اس عظمت و شرافت کی وجہ سے ہے جواسکو خد اوند عالم کے نزدیک حاصل ہے، یا اضافت ملکی ہے یعنی چونکہ خداکی ملکیت ہے لہٰذا اس نے اپنی  طرف منسوب کیا ہے، جس طرح حضرت آدم کی خلقت سے متعلق سورۂ حجر میں ذکر ہوا ہے اور خدا وند عالم نے ملائکہ سے فرمایا:

(فاِذا سویتہ و نفخت فیہ من روحی فقعوا لہ ساجدین)(١)

جب میں تخلیق آدم کاکام تمام کر دوں اور اس میں اپنی روح سے پھونک دوں تو تم سب کے سب سجدہ میں گر پڑنا

اور حضرت عیسیٰ کی تخلیقی داستان میں سورۂ تحریم میں ارشاد ہوتا ہے:

(ومریم ابنة عمران التی احصنت فرجھا فنفخنا فیہ من روحنا)

مریم بنت عمران نے اپنی پاکدامنی کا مظاہرہ کیا اور ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔(٢)

اس طرح کے موارد میں روح کی خدا کی طرف نسبت دینا ویسے ہی ہے جیسے بیت کی نسبت اس کی طرف جیسا کہ سورۂ حج میں فرماتا ہے :

(و طھر بیتی للطائفین…)

یعنی ہمارے گھر کو طواف کرنے والوں کے لئے پاک و صاف رکھو، یہاں پر بیت اللہ الحرام کی نسبت خد اکی طرف تشریفی ہے ؛جو شرف اور خصوصیت دیگر جگہوں کی بہ نسبت بیت کو حاصل ہے خدا وند عالم نے اسی خصوصیت اور اہمیت خاص کے پیش نظر اسے مکرم جانتے ہوئے اپنی طرف نسبت دی اور فرمایا: میر اگھر! اسی طرح گز شتہ دو آیتوں میں روح کی نسبت خدا کی طرف ہے۔

(١)  حجر ٢٩(٢)  تحریم١٢

روح کے دوسرے معنی بھی ہیں کہ وہ نفوس کی ہدایت اور حیات کا سبب ہے جیسے: وحی، نبوت، شرائع الٰہی بالخصوص قرآن ، خد اوند عالم نے سورۂ نحل میں فرمایا:

(ینزل الملائکة بالروح من امرہ علیٰ من یشاء من عبادہ)

فرشتوں کو روح کے ہمراہ اپنے حکم سے اپنے جس بندہ کے پاس چاہتا ہے نازل کرتا ہے ۔(١)

اور سورۂ  شوری ٰ میں فرمایا ہے :

(وکذلک اَوحینا الیک روحاً من اَمرنا)

اسی طرح ( جس طرح ہم نے گز شتہ رسولوں پر وحی کی ہے) تم پر بھی روح کی اپنے حکم سے وحی کی  ۔(٢)

ان آیات میں مذکورہ روح کہ خد اوند عالم نے اپنے پیغمبرۖپر جس کی وحی کی ہے قرآن کریم ہے، یہ روح فرشتوں کے علاوہ ہے ، جیسا کہ خدا وند عالم نے سورۂ قدر میں اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے :

(تنزل الملاکة و الروح فیھا باِذن ربھم من کل أمر)

فرشتہ، روح اس شب میں پروردگارکی اجازت سے تمام امور کی تقدیر کے لئے نازل ہوتے ہیں۔(٣)

سورۂ معارج میں ارشاد ہوتا ہے :

(تعرج الملائکة و الروح الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنة)(٤)

فرشتے اور روح اس کی طرف اوپر جاتے ہیں اس دن جسکی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔

اس کی توضیح و تشریح حضرت امام علی کی گفتگو سے آئندہ صفحو ں میں پیش کی جائے گی۔

١٦۔ امین: ثقہ اور امانت دار کو کہتے ہیں جو وحی پہنچانے میں امانت داری کرے، خدا وند عالم نے روح نامی فرشتہ کو امین کہا ہے اور سورۂ شعرا ء میں ارشاد فرماتا ہے :

(نزل بہ الروح الاَمین علیٰ قلبک لتکون من المنذرین )(٥)

روح الامین نے اسے تمہارے قلب پر اُتارا تاکہ ڈرانے والوں میں سے ہو جائو۔

١٧۔ قدس:پاکیزگی، روح القدس یعنی: پاک و پاکیزہ روح ،خدا وند عالم نے فرشتۂ روح کو صفت قدس اور پاکیزگی سے بھی یاد کیا ہے اور سورۂ بقرہ میں ارشاد فرمایا:

(١) نحل٢(٢) شوری٥٢(٣)قدر٤.(٤)سورۂ معارج  ٤.(٥) سورۂ شعرا ء  ١٩٤ ١٩٣.

(و آتینا عیسیٰ ابن مریم البینات و اَیدناہ بروح القدس)(١)

ہم نے عیسیٰ بن مریم کو واضح و روشن نشانیاں دیں اور ان کی روح القدس کے ذریعہ مدد کی ہے ۔

سورۂ نحل میں خاتم الانبیاء سے خطاب کر کے فرماتا ہے :

(قل نزلہ روح القدس من ربک بالحق لیثبت الذین آمنوا و ھدی و بشریٰ للمسلمین)

کہو!اس قرآن کو تمہارے پروردگار کی جانب سے حق کے ہمراہ روح القدس لیکر آیا ہے تاکہ با ایمان افراد کو ثابت قدم رکھے ؛ نیز یہ مسلمانوںکیلئے ہدایت اور بشارت ہے ۔(٢)

١٨۔تعرج:بلندی کی طرف جاتا ہے : مادہ ٔعروج سے جو بلندی کی طرف تدریجاًجانے کے معنی میں ہے۔

عالم غیب کے خیالی تصورات

ان مباحث کے مانند اور بحثوں میں کہ جن میں عالم غیب کے بارے میں گفتگو ہو تی ہے عام طور سے ایسے افراد کی طرف سے بحثیں ہوتی ہیں جو مختلف سطح کی قوت درک و فہم رکھتے ہیں،وہ ان مسائل سے آشنائی کے لئے گونا گوں کو ششیں کرتے ہیں ،ان لوگوں کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ جو کچھ قرآن کریم اور احادیث شریف میں نا محسوس عوالم کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے اسے جس طرح عالم مادہ میںپاتے ہیں اسی طرح درک اور شناخت کریں ، اسی وجہ سے  عالم خیال کی سیر کرنے لگتے ہیںاور اپنے خیالات اور گمان کوعلم و معرفت سمجھ بیٹھتے ہیںاس کی توضیح و تشریح یہ ہے :

شناخت و معرفت کے وسائل

اشیاء کی شناخت اور معرفت کے لئے ہمارہے پاس گز شتہ میثاق کی بحث میں بیان کردہ عقلی نتائج کے علاوہ دو وسیلے ہیں:

١۔ حسی       ٢۔ نقلی

(١)بقرہ ٨٧اور ٢٥٣. (٢)نحل١٠٢.

(اول۔ حسی)ہمارے حواس اس لئے خلق کئے گئے ہیں کہ عالم مادہ کی موجودات کو تشخیص دیں لہٰذا  واضح ہے کہ عوالم غیر محسوس کے درک پر قادر نہیں ہو سکتے ہیں۔

(دوسرے نقلی )یعنی جو کچھ نقل و حکایت کی راہ سے پہنچانتے اور جانتے ہیں ، جیسے جو کچھ ہم ان دیکھے شہروں اور ملکوں کے حالات ،خبروں اور نقلوںکے ذریعہ جانتے ہیں ہماری اس طرح کی معلومات منقولات کے دائرے میں ہے اور اس سے حاصل شدہ  شناخت خبر اور خبر دینے والے کی صداقت اور درستگی سے مربوط ہے ۔

جو کچھ انبیاء اور پیغمبر ان الٰہی ؛ عالم غیب کی خبر دیتے ہیں،وہ دوسری قسم کی معرفت ہے ، یعنی ستاروں اور سیاروں کے مافوق آسمانوں کی شناخت، نیز جنوں اور فرشتوں کی دنیا کے بارے میں معلومات اور روز قیامت کا مشاہدہ وغیرہ ان سب کو ہم ان حضرات کے اخبار اور احادیث سے حاصل کرتے ہیں ، اس سے بھی بڑھ کر ان کی باتیں اور احادیث خدا وند سبحان کی صفات کے بارے میں ہیںکہ ہمارا علم (اس بات کے بعد کہ ان کی رسالت و نبوت کا صادق ہونا ہمارے لئے ثابت ہو چکا ہے)ان حضرات کے بیانات کے دائرے میں محدود ہے اور ہم اس کی قدرت نہیں رکھتے ہیںکہ ان کی باتوں کو جوان عوالم سے مربوط ہیںحس کے ذریعہ تشخیص دے کر عقل کے حوالے کریں تاکہ اس کی صحت و عدم صحت کا اندازہ ہو سکے۔

بحث کا خلاصہ

فرشتے خدا کی ایک طرح کی مخلوق ہیں اس کے سپاہی اور بندے ہیں،وہ ان کے پاس ”پر” ہیں،وہ زندگی گزارتے اور مرتے ہیں یہ ارادہ اور عقل کے مالک ہیں اور جب انجام فرمان خداوندی کے لئے ضرورت ہوتی ہے تو وہ انسانی شکل میں بھی ظاہر ہوتے ہیں؛ یہ لوگ مقام و منصب، فضل و شرف کے اعتبار سے مختلف درجوں کے حامل ہیں جیسے روح الامین، روح القدس وغیرہ؛ خدا وند عالم نے انہیں میں سے کچھ نمائندوںکو وحی پہنچانے اور مقدرات انسان کو شب قدر میں نازل کرنے کے لئے منتخب کیا ہے، انہیں میں سے دو فرشتے انسانوں پر مامور ہیں کہ ان کے اعمال کولکھیں اور ملک الموت اور ان کے ما تحت فرشتے یہ سب کے سب روز قیامت مبعوث کئے جائیں گے اور اطاعت خداوندی کے لئے آگے بڑھیں گے اور کبھی خدا کی نافرمانی نہیں کریں گے۔

ہماری شناخت اور معرفت کے دو ہی ذریعے ہیں:

١۔ حس اور حسی شناخت، یعنی جس سے اشیاء کی تشخیص اور شناخت کر سکیں۔

٢۔ نقل اور نقلی شناخت، یعنی جو کچھ مطمئن اور قابل اعتماد راوی کی خبر سے حاصل کرتے ہیں۔

چونکہ ملائکہ جن ، روح ، قیامت اور آغاز خلقت کے عالم ہمارے لئے نا محسوس اور غیر مرئی ہیں اور ہمارے پاس سوائے نقل کے کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں ہے یعنی انبیاء الٰہی کی نقل کے علاوہ ان کی شناخت کاہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے ایسے انبیاء جنکی صداقت اور درستگی رسالت خدا کی طرف سے ہم پر ثابت ہو چکی ہے ،لہٰذا جن لوگوں نے اپنے آپ کو صاحب نظر خیال کر کے ان عوالم کے متعلق زبان و قلم سے بات کی ہے اس کی وقعت و اہمیت، وہم و خیال سے زیادہ نہیں ہے اور وہم و گمان کبھی ہمیں حق سے بے نیاز نہیںکر سکتے۔

جو کچھ ”وکان عرشہ علیٰ المائ”(اس کا عرش پانی پر ہے) یا ”ثم استویٰ الیٰ السماء و ھی دخان”( پھر اس نے آسمان کی تخلیق شروع کی جبکہ وہ دھواں تھا )جیسی آیتوں میںآیا ہے اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ پانی اسی پانی کی طرح ہے جسے ہم اس وقت زمین پر دیکھ رہے ہیں اور ” ہائیڈروجن اور آکسیجن” کی ترکیب سے مناسب اندازے کے ساتھ وجود میں آیاہے یا دھواں وہی دھواں ہے کہ جو آگ سے نکلتا ہے! ہم عنقریب ربوبیت کی بحث میں عرش کے معنی بیان کریںگے نیز آئندہ بحث میں قرآن کریم میں مذکور سماء اور سماوات کے معنی تحقیق کے ساتھ بیان کریں گے۔

٢۔ السمٰوات و الارض و سماء الارض

پہلے۔ السماء والسمٰوات

الف: ۔سمائ

سماء اور اس کے معنی زبان عرب میں ارتفاع اور بلندی کے ہیں اورآسمان ہر چیز کا اوپری حصہ ہے یعنی جو چیز اوپر سے تم پر سایہ فگن ہواور ڈھانپ لے وہ سماء کہلاتی ہے:

٢۔ سماء اور اس کے معنی قرآن کریم میں : سماء قرآن کریم میں جہاں پر مفرد (واحد)استعمال ہوتا ہے کبھی زمین پر محیط اور اس سے متعلق فضا کے معنی میں ہے جیسے یہ آیتیں:

١۔(اَلم یروا الیٰ الطّیر مسخرات فی جو السمائ)

آیا وہ لوگ آسمانی فضا میں مسخر پرندوں کی طرف نہیں دیکھتے؟(١)

٢۔ (و اَنزل من السماء مائً فاَخرج بہ من الثمرات رزقاً لکم)

اور اس نےآسمان سے پانی برسایا اور اس سے میوے نکالے تاکہ تمہاری روزی مہیا ہو سکے۔(٢)

اس لئے کہ انسان غیر مسلح آنکھوں سے بھی پرندوں کو فضا کے اطراف میں اور زمین کے او پر پروازکرتے دیکھتا ہے نیز پانی کابرسنا بھی مسخر بادلوں سے آسمان پر مشاہدہ کرتا ہے ۔

انسان کبھی پہاڑ سے اوپر جاتا ہے جبکہ خورشیدکو اس سے اوپر آسمان میں نور افشانی کرتے دیکھتا ہے اور بادلوں کو پائوں کے نیچے اور اسی زمین و آسمان کے ما بین فضا میں یااس آسمان کے درمیان جو زمین کے اوپر محیط ہے دیکھتا ہے۔

(١)نحل ٧٩(٢)بقرہ٢٢

اور کبھی آسمان ان سب چیزوں کے معنی میں ہے جو زمین کے اوپر پائی جاتی ہیں جیسے ساتوں آسمان اور ستارے وغیرہ ،جیسا کہ فرماتا ہے :

١۔(ثم استویٰ الیٰ السماء فسواھن سبع سمٰوات)

پھر آسمان کی طرف توجہ کی پھر سات آسمان مرتب خلق کئے۔(١)

٢۔ (وما من غائبةٍ فی السماء و الارض الا فی کتابٍ مبین)

زمین و آسمان کے درمیان کوئی پوشیدہ  چیزنہیںمگر یہ کہ وہ کتاب مبین میں ثبت ہے ۔(٢)

٣۔ (یوم نطوی السماء کطی السجل للکتب)

جس دن ہم آسمان کو خطوں کے ایک طومار کی شکل میں لپیٹیں گے…۔(٣)

یہاں پر آسمان سے مراد تمام وہ چیزیں ہیں جو زمین سے اوپر ہیں اور زمین اس کے نیچے اور زیر قدم واقع ہوتی ہے۔ یعنی ساتوں آسمانوں اور ان کے علاوہ چیزیںجو زمین کے اوپر ہیں۔

ب: السمٰوات

قرآن کریم میں سمٰوات سے مراد ساتوں آسمان ہیں۔ جیسا کہ فرمایا:

(ھو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعاً ثم استویٰ الیٰ السماء فسواٰھن سبع سمٰوات و ھو بکل شیئٍ علیم)

وہ خداوہ ہے جس نے تمہارے لئے جو کچھ زمین میں ہے پیدا کیا ہے پھر آسمان کی طرف توجہ کی تو  انہیں سات آسمان کی شکل میں مرتب کیا وہ ہر چیز سے آگاہ ہے۔(٤)

 

دوسرے ۔  الارض

ارض: زمین ،قرآن کریم میں (٤٥١) مرتبہ مفرد اور ایک مرتبہ کلمہ سمٰوات کے ساتھ اور اس پر عطف کی صورت میں استعمال اس طرح سے ہوا ہے :

(اللہ خلق سبع سمٰوات و من الارض مثلھن… )

خدا وند عالم وہ ہے جس نے سات آسمانوں کو خلق کیا نیز انہیں کے مثل زمینوں کو بھی۔(٥)

(١)بقرہ ٢٩(٢)نمل٧٥(٣)انبیاء ١٠٤(٤)بقرہ٢٩(٥)طلاق١٢.

ہم اس آیت میںجو زمین و آسمان کے درمیان مشابہت دیکھتے ہیں اس سے یہ سمجھتے ہیں کہ خلقت کے اعتبار سے یہ دونوں ایک جیسے ہیں نہ یہ کہ تعداد میں اب اگر یہ کشف ہو جائے کہ زمین کے بھی سات طبقے ہیں تو اس سے زمین و آسمان کے طبقات کی تعداد میں مشابہت مراد ہوگی۔

تیسرے۔  سمٰوات و ارض کی خلقت

قرآن کریم کی بہت ساری آیات میں زمین و آسمان کی خلقت اور اس کے آغاز کی طرف اشارہ ہواہے ایسی آیتوں کی تفسیر کے لئے جن کا موضوع ہمارے حس وتجربہ کی دسترس سے باہر ہے لہٰذاصرف ہم اس کی طرف رجوع کریں جس کا خدا کی طرف سے قرآن کے مفسر اور مبین کی حیثیت سے تعارف ہواہے جس کے بارے میں خدا وند عالم فرماتا ہے:

(و انزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم)

ہم نے اس قرآن کو تم پر نازل کیا تاکہ لوگوں کو جو ان پر نازل ہواہے بیان کرو۔(١)

اس سلسلے میںاور ابتدائے خلقت کے بارے میں رسول خداۖ سے بہت ساری روایتیں موجود ہیں لیکن یہ احادیث چونکہ احادیث احکام جیسی نہیں ہیں کہ جن میں علماء فن کے ذریعہ سند و متن کی تحقیق کی گئی ہو نیز یہاں پر بھی ایسی تحقیق و بررسی کا موقع نہیںہے لہٰذاناچار ایسے حالات میں ہم ابتدائے خلقت کے متعلق اپنی تحقیق میں جو کچھ ظواہر آیات سے سمجھ میں آتا ہے اسی پر اکتفا کرتے ہیں، نیزان روایات کا بھی سہارا لیں گے جو صحت کے اعتبار سے اطمینان بخش اور ظن قوی کی مالک ہیں ،خدا وند عالم سے توفیق کی درخواست کرتے ہوئے کہتے ہیں:

آغاز خلقت

خداوند عالم نے آغاز خلقت و آفرینش نیز اس کے بعدکی کیفیت قرآن کریم میں اس طرح بیان فرمائی ہے:

١۔ (ھو الذی خلق السمٰوات و الارض فی ستة ایام و کان عرشہ علیٰ المائ)

وہ خداوہ ہے جس نے زمین و آسمان کوچھ دنوں یا چھ مراحل میں پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر قرار پایا۔(٢)

٢۔(ان ربکم اللہ الذی خلق السمٰوات و الارض فی ستة ایام ثم استویٰ علیٰ العرش یدبر الامر)

(١)نحل٤٤(٢)ہود٧.

یقینا تمہار ا رب اللہ ہے جس نے زمین و آسمان کو چھ دنوںمیں خلق کیا پھر وہ عرش قدرت پر مسلط ہو گیا اور وہی امور کی تدبیر کرتا ہے ۔(١)

٣۔(الذی خلق السمٰوات و الارض وما بینھما فی ستة ایام ثم استویٰ علیٰ العرش الرحمن فاسئل بہ خبیراً)

خدا وند عالم نے زمین و آسمان نیز اس کے ما بین چیزوں کو چھ دنوں میں خلق کیا پھر عرش قدرت پر مسلط ہو گیا جو چاہئیے اس سے مانگو کہ وہ تمام چیزوں سے آگاہ ہے۔(٢)

٤۔(اولم یر الذین کفروا ان السمٰوات و الارض کا نتا رتقا ففتقناھما و جعلنا من الماء کل شیء حی افلا یؤمنون)(٣)

کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ زمین و آسمان ایک دوسرے سے متصل اور جڑے ہوئے تھے اور ہم نے انہیں ایک دوسرے سے الگ کیا اور ہر زندہ شیء کو پانی سے بنایا؟! کیا وہ ایمان نہیں لائیں گے؟!

٥۔(ھو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعاً ثم استویٰ الیٰ السماء فسواھن سبع سمٰوات و ھوبکل شیء علیم)

وہ خدا وہ ہے جس نے تمہارے لئے زمین میں موجود تمام چیزوں کو پیدا کیا؛ پھر آسمان کی تخلیق شروع کی اور انہیں سات آسمان کی صورت میں ترتیب دیا؛ وہ تمام چیزوں سے آگاہ ہے ۔(٤)

٦۔ (قل ء أنکم لتکفرون بالذی خلق الارض فی یومین و تجعلون لہ انداداً ذلک رب العالمین٭ و جعل فیھا رواسی من فوقھا و بارک فیھا و قدر فیھا اقواتھا فی اربعة ایام سواء للسائلین٭ ثم استوی الیٰ السماء و ھی دخان فقال لھا و للارض ائتیا طوعاً و کرھاً قالتا اتینا طائعین٭ فقضاھن سبع سمٰوات فی یومین و اوحیٰ فی کل سماء امرھا و زینا السماء الدنیا بمصابیح و حفظاً ذلک تقدیر العزیز العلیم)

کہو: کیا تم لوگ اس ذات کا کہ جس نے زمین کو دو دن میں خلق کیا ہے انکار کرتے ہو اور اس کے لئے مثل و نظیرقرار دیتے ہو؟وہ ہر عالم کا پروردگار ہے ۔

اس نے زمین کے سینے پر استوار اور محکم پہاڑوں کو جگہ دی اور اس میں برکت اور زیادتی عطا کی اور

(١)یونس٣.(٢)فرقان٥٩.(٣)انبیائ٣٠.(٤)انبیائ٣٠۔

چار دن کی مدت میں خواہشمندوں کی ضرورت کے مطابق غذا کا انتظام کیا پھر آسمان کی تخلیق شروع کی جبکہ وہ دھویں کی شکل میں تھا؛ پھر اس کو اور زمین کو حکم دیا موجود ہو جائو چاہے بہ شوق و رغبت چاہے بہ جبر و اکراہ۔

انہوں نے کہا: ہم برضا و رغبت آتے ہیں اور شکل اختیار کرتے ہیں، پھر انہیں سات آسمان کی شکل میں دو دن کے اندر خلق کیا اور ہر آسمان سے متعلق اس کا کام وحی اورمعین کیا اور دنیاوی آسمان کو چراغوں سے زینت بخشی اور شیاطین کی رخنہ اندازی سے حفاظت کی یہ ہے خداوند دانا و توانا کی تقدیر!(١)

٧۔(اللہ الذی خلق سبع سمٰوات و من الارض مثلھن…)

خدا وہی ہے جس نے سات آسمان اور انہیں کے مانند زمین کو خلق کیا…۔(٢)

٨۔(ء انتم اشد خلقاً ام السماء بناھا٭ رفع سمکھا فسوھا٭ و اغطش لیلھا و اخرج ضحاٰھا٭ و الارض بعد ذلک دحاٰھا٭ و اخرج منھا مائھا و مرعاھا٭ و الجبال ارسٰاھا٭ متاعاً لکم و لانعامکم)

آیا تمہاری خلقت زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی کہ جس کی خدا وند عالم نے بنیاد ڈالی؟! اس کا شامیانہ تانا اور اسے منظم کیا اور راتوں کو تاریک اور دن کو روشن بنایا اس کے بعد زمین کا فرش بچھایا اور اس سے پانی نکالااور چراگاہیں پیدا کیں اور پہاڑوں کو ثابت و استوار کیا یہ تمام چیزیں تمہارے اور چوپایوں کے استفادہ کے لئے ہیں۔(٣)

٩۔( و السماء وما بنٰاھا، والارض وما طحاھا)

آسمان اور اس کے بنانے والے کی قسم، زمین اور اس کے بچھانے والے کی قسم۔(٤)

١٠۔(والارض مددناھا والقینا فیھا رواسی وانبتنا فیھا من کل شیء موزون٭ و جعلنا لکم فیھا معایش ومن لستم لہ برازقین)

ہم نے زمین کوپھیلا دیا اور اس میںاستوار و محکم پہاڑ قرار دئے اور اس میں معینہ مقدار کے مطابق اور مناسب نباتات اگائیں اور تمہارے لئے نیز ان لوگوں کے لئے جن کے تم رازق نہیں ہو انواع و اقسام کے سامان زندگی فراہم کیا۔(٥)

١١۔ (الذی جعل لکم الارض مہداً وسلک لکم فیھا سبلًا وانزل من السماء مائً

(١)فصلت٩۔١٢(٢)طلاق١٢(٣)نازعات٣٢۔٢٧(٤)شمس٥۔٦(٥)حجر١٩۔٢٠

فاخرجنا بہ ازواجاً من نبات شتیٰ،کلواوارعواانعامکم ان ذلک لآیات لاولی النھیٰ٭ منھا خلقناکم وفیھا نعیدکم ومنھا نخرجکم تارة اخریٰ)

جس خدا نے زمین کو تمہاری آسائش کی جگہ قرار دیا اور اس میں راستے پیدا کئے اور آسمان سے پانی برسایا اس سے گوناگوں نباتات اگائیں، کھائو اور اپنے چوپایوں کو کھلائو بیشک یہ صاحبان عقل کے لئے نشانیاں ہیں اور ہم نے تم کو زمین سے خلق کیا اور دوبارہ اس میں لوٹائیں گے پھر اس سے دوبارہ نکالیں گے۔(١)

١٢۔(الذی جعل لکم الارض فراشاً والسماء بنائً و انزل من السماء مائً فاخرج بہ من الثمرات رزقاً لکم فلا تجعلوا للہ انداداً وانتم تعلمون)

جس خدا نے زمین کو تمہارا بستر اور آسمان کو چھت قرار دیا اور آسمان سے پانی نازل کیا پھر اس سے پھل نکالے تمہارے رزق کے لئے لہٰذا خدا کا کسی کو شریک قرار نہ دو جبکہ (ان شریکوںکے خود  ساختہ ہونے کے بارے میں)تم آگاہ ہو۔(٢)

١٣۔ (الم تروا کیف خلق اللہ سبع سمٰوات طباقاً٭و اللہ جعل لکم الارض بساطاً٭ لتسلکوامنھا سبلاً فجاجاً)

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا وند عالم نے ایک پر ایک سات آسمانوں کو خلق کیا اور خدا نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا تاکہ اس کے راستوں اور دروں سے رفت و آمد کرو۔(٣)

١٤۔(افلا ینظرون الیٰ الابل کیف خلقت و الیٰ السماء کیف رفعت و الیٰ الجبال کیف نصبت و الیٰ الارض کیف سطحت)

آیا وہ لوگ اونٹ کی طرف نظر نہیں کرتے کہ کس طرح خلق ہوا ہے آسمان کی خلقت کی طرف نگاہ نہیں کرتے کہ اسے کیسے رفعت دی گئی ہے ؟ اور پہاڑ کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے نصب کیا گیا ہے اور زمین کی طرف مشاہدہ نہیں کرتے کہ اسے کیسے بچھائی گئی ہے؟(٤)

١٥۔(امن خلق السمٰوات و الارض و انزل لکم من السماء مائً فانبتنا بہ حدائق ذت بھجة ما کان لکم ان تنبتوا شجرھا ء الٰہ مع اللہ بل ھم قوم یعدلون٭ امن جعل الارض قراراً وجعل خلالھا انھاراً و جعل لھا رواسی و جعل بین النھرین حاجزاً ء اِلٰٰہ مع اللہ بل

(١)طہ٥٣۔٥٥(٢)بقرہ٢٢(٣)نوح١٥،١٩و٢٠(٤)غاشیہ١٧۔٢٠

اَکثرھم لا یعلمون)

کیا جس نے زمین و آسمان کو خلق کیا اور تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا کہ اس سے مسرت بخش اور خوشنما باغ اگائے، ایسے باغ کہ اس کے اگانے پر تم لوگ ہرگز قادر نہیں تھے، آیا خدا کے علاوہ بھی کوئی معبود ہے؟! نہیں بلکہ یہ حق پذیری سے روگردانی والی قوم ہے۔ یا جس نے زمین کو تمہاری رہائش اور آرام کی جگہ قرار دیا اور اس کے درمیان نہریں جاری کیں اور اس کے درمیان استوارو محکم پہاڑ قرار دئیے نیز دو دریا کے درمیان مانع قرار دیا آیا خدا کے علاوہ بھی کوئی معبود ہے؟! نہیں ، بلکہ اکثر نہیں جانتے۔(١)

١٦۔(وجعلنا فی الارض رواسی ان تمیدبھم و جعلنا فیھا فجاجاً سبلاً لعلھم یھتدون٭ وجعلنا السماء سقفاًمحفوظاً و ھم عن آیاتھا معرضون)

اور ہم نے زمین پر ثابت اور محکم پہاڑ بنائے تاکہ اسے زلزلہ اور لرزش سے محفوظ رکھیں نیز اس میں درّے اور راستے بنائے تاکہ ہدایت پائیں اور آسمان کو محفوظ چھت قرار دیا لیکن وہ لوگ اس کی نشانیوں سے رو گرداں ہیں۔(٢)

١٧۔(الم نجعل الارض کفاتاً٭ احیائً و امواتاً٭ وجعلنا فیھا رواسی شامخات)

کیا ہم نے زمین کو انسانوں کا مرکز نہیں بنایا؟ ان کی حیات اور موت دونوں حالتوںمیں؛اور اس میں مستحکم اور استوار و بلندپہاڑوں کو جگہ دی۔(٣)

١٨۔(ھو الذی جعل الشمس ضیائً و القمر نوراً و قدّرہ منازل لتعلموا عدد السنین و الحساب ما خلق اللہ ذالک الا بالحق یفصل الآیات لقوم یعلمون٭ ان فی اختلاف اللیل والنھاروما خلق اللہ فی السمٰوات والارض لآیات لقوم یتقون)

ترجمہ: وہ خداوہ ہے جس نے خورشید کوضیا ،قمر کو نور،عطا کیا اور اس کے لئے منزلیں قرار دیں تاکہ اس سے سالوں کی تعداد اور حساب معلوم ہو؛ خدا وند عالم نے انہیں حق کے سوا خلق نہیں کیا؛ اور وہ اہل دانش گروہ کے لئے نشانیوں کی تشریح کرتا ہے ، یقینا روز و شب کی آمد اور جو کچھ خد اوند عالم نے زمین و آسمان میں خلق کیا ہے وہ سب پرہیزگار وں کے لئے نشانیاں ہیں۔(٤)

(١)نمل٦٠۔٦١(٢)انبیائ٣١۔٣٢(٣)مرسلات٢٥۔٢٧(٤)  یونس٤۔٥

کلموں کی تشریح

١۔ یوم:دن ،طلوع فجر یا طلوع خورشید اورغروب آفتاب کے درمیان کے فاصلہ کو یوم کہتے ہیں؛ اسی طرح تاریخی حوادث، یادگار واقعات اور جنگ کے ایام کو بھی یوم کہتے ہیں اگر چہ مدت جنگ طولانی ہوجائے جیسے یوم خندق، یوم صفین کہ مراد جنگ خندق اورجنگ صفین ہے ۔

٢۔ثم:   پھر، یہ کلمہ اپنے ما قبل کے مابعدکے زمانی، مکانی اور رتبہ ای کے تاخر پر دلالت کرتا ہے ۔

ا  لف:   زمانی تاخر، جیسے:

(ولقد ارسلنا نوحاً و ابراھیم …ثم قفینا علیٰ آثارھم برسلنا و قفینا بعیسیٰ بن مریم )

یعنی ہم نے نوح و ابراہیم کو مبعوث کیا…، پھر اس کے بعد اپنے دیگر رسولوں کو بھیجا اور ان کے بعد عیسیٰ بن مریم کو بھیجا۔(١)

ب:   مکانی تاخر،جیسے: قم سے تہران اس کے بعد مشہد گئے۔

ج:  رتبی تاخر، جیسے جو کچھ پیغمبرۖکے جواب میں آیا ہے، ایک شخص نے سوال کیا کس کے ساتھ نیکی کروں؟ پیغمبر نے کہا: اپنی ماں کے ساتھ، پھر پوچھا اس کے بعد؟ کہا: اپنی ماں کے ساتھ ، پھر پوچھا: اس کے بعد؟کہا: اپنے باپ کے ساتھ۔

٣۔ دخان:دھواں ، یا وہ چیز جو آگ سے نکل کر اوپر جاتی ہے کبھی بھاپ اور اس کے مانند کو بھی ”دخان” کہتے ہیں۔

٤۔استویٰ، استوی علیہ، استولیٰ علیہ:یعنی اس پر مسلط ہو گیا، اس کی مزید وضاحت رحمن،عرش،

”سواہ”کے معنی کے ہمراہ صفات رب کی بحث میںآئے گی۔

٥۔رتق:  باندھنے اور ضمیمہ کرنے کو کہتے ہیں اور فتق کھولنے کے معنی میںآیا ہے ۔

٦۔ جعل: جعل قرآن کریم میں درج ذیل معانی میں استعمال ہو اہے ۔

الف  :   خلق و ایجاد کے معنی میں جیسے:

(اذکروا نعمة اللہ علیکم اذ جعل فیکم انبیائ)(٢)

(١)  سورۂ حدید ٢٧، ٢٦(٢)سورۂ مائدہ   ٢٠

اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو جب اس نے تمہارے درمیان انبیاء پیدا کئے۔

(وجعل لکم سرابیل تقیکم الحر)(١)

اور تمہارے لئے لباس پیدا کئے تاکہ گرمی سے تمہاری حفاظت کرے۔

ب  :   گرداننیکے معنی میں جیسے :

(الذی جعل لکم الارض فراشاً)(٢)

خدا نے زمین کو تمہارے لئے بستر قرار دیا۔

ج  :   حکم اوردستور اور قرار دینے کے معنی میں جیسے:

(لکل جعلنا منکم شرعةً ومنھاجاً)(٣)

تم میں سے ہر ایک کے لئے واضح آئین اور دستور قرار دیا۔

د  :    مسخر کرنے یعنی تسخیری ہدایت کے معنی میں جیسے:

(وجعلنا الانھار تجری من تحتھم)(٤)

ہم نے نہروں کو ان کے نیچے جاری کیا؛ یعنی ہم نے ہدایت تسخیری کے ذریعہ نہروں کو اس طرح قرار دیاکہ ان کے نیچے سے بہنے لگیں۔(٥)

٧۔ رواسی:ثابت و استوار پہاڑاور اس کا مفرد( واحد) راسی ہے ۔

٨۔ قضاھن: قضا یہاں پر تقدیر و اتمام خلقت کے معنی میں ہے یعنی آسمان کی خلقت دو دن میںطے ہوئی اور وہ مکمل ہو گیا۔

٩۔ (اوحیٰ فی کل سمائٍ امرھا):

یعنی ہر آسمان کے فرشتوں کا فریضہ انہیں بتا دیا اور سکھا دیا کہ وہ کیا کریں اور کس لئے پیدا کئے گئے ہیں اسی طرح تمام آسمانی مخلوقات کو بھی اس طرح رام و مسخر کیا تاکہ نظام تخلیقی کے تحت کام کریں۔

١٠۔سمک:چھت، نیچے سے اوپر کی جانب ہر چیز کے فاصلہ کو کہتے ہیں جس طرح عمق(گہرائی) اوپر سے نیچے کی طرف کے فاصلہ کو کہتے ہیں۔

(١)سورۂ نحل ١ ٨(٢)بقرہ  ٢٢(٣)مائدہ ٤٨(٤)انعام ٦ ۔

(٥) تسخیری ہدایت کے متعلق ہدایت کی چاروں اقسام کی بحث میں آئندہ بیان کریں گے ۔

١١۔ بناھا:بنا یعنی بنانا اور قائم کرنا ،آیت میں یعنی :آسمان کو میزان کے مطابق دقیق و محکم بنایا۔

١٢۔ سوی  : سواہ، یعنی اسے راہ کمال و استعداد میں مورد توجہ قرار دیا ہے ۔

١٣۔ اغطش:اظلم، اسے تاریک بنایا۔

١٤۔ضحی:خورشید اور اس کی روشنی اور دن کا نکلنا؛ اخرج ضحٰھا یعنی، دن کو ظاہر کیا۔

١٥۔دحاھا:بچھانااور ہموار کرنا؛ و الارض دحاھا، یعنی زمین کو بچھایا اور انسان کے استفادہ اور سکونت کے لئے اسے آمادہ کیا ۔

١٦۔طحاھا:بسطھا، یعنی اسے وسعت عطا کی ، اسے پھیلایا۔

١٧۔ مددناھا:مد، مسلسل و طویل ، و سعت اور پھیلاؤاور آیت میں یعنی: زمین کو زندگی کے لئے  پھیلایا اور ہموار کیا۔

١٨۔ موزون: وزن یعنی : اجسام کااسی کے مساوی کسی چیز سے اندازہ لگانا یعنی وزنی اور ہلکے ہونے کے لحاظ سے یا لمبائی اور چوڑائی کے لحاظ سے یا گرمی وسردی کے لحاظ سے….۔

(و انبتنا فیھا من کل شیء موزون )

یعنی ہر چیز کو زمین میں اسی کے خاص حالات کے مطابق، اس کے مقصد اور ہدف کے پیش نظر اس کی ضرورت بھر نیز اس کی حکمت مقتضی کے تحت خلق کیا۔

آیتوں کی تفسیر

جو کچھ آیتوں کے معنی ہم بیان کرتے ہیں الفاظ کے ظاہری معنی کے اعتبار سے ہے اور خدا زیادہ جانتا ہے ۔ خدا وند متعال نے زمین و آسمان کی خلقت سے پہلے ایک پانی جس کی حقیقت صرف خدا ہی جانتا ہے اور ہمارے لئے واضح نہیں ہے، خلق کیا،عرش خدا یعنی وہ فرشتے جو خدا کے حکم کے مطابق عمل کرتے ہیں اسی پانی پر تھے؛ اور جب حکمت اور مشیتالٰہی  کا تقاضا ہوا کہ دوسری چیز کو خلق کرے تو آسمان سے پہلے زمین کو خلق کیا پھر زمین کی گرمی اور بھاپ سے آسمان کی تخلیق کی ؛یہ بھاپ یا دھواں زمین سے اوپرجاتے تھے اسی طرح خدا وند عالم نے آسمان و زمین کو جو ایک دوسرے سے متصل تھے الگ کیا (اور خدا زیادہ جانتاہے) اور وہی زمین کا دھواں یا اس کی بھاپ آسمان بن گیا اس آسمان کو خدا نے کشادہ اور وسیع کیا اور اس کے سات طبقہ ایک پر ایک قرار دئے یہ تفسیر ،کلام حضرت علی میں اس طرح ملتی ہے ۔

مزید  اجتماعی عدالت امام خمینی(رح) کی نگاہ میں

خدا وند عالم نے موجزن اور متلاطم دریاکے پانی سے جامد خشکی( ٹھوس زمین )پیدا کی پھر اسی پانی  یا خشکی سے بہت سے طبقے پیدا کئے اور ایک دوسرے سے اتصال کے بعد انہیں  الگ الگ کردیااورسات  آسمانوںمیں تبدیل کر دیا۔(١)

خدا وند عالم نے زمین و آسمان کی خلقت ٦، دن یا عملی طور پر ٦ مراحل میں انجام دی جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے :

پہلے۔ زمین کی خلقت

خدا وند عالم نے زمین کو دو دن میں خلق کیا اور اس میں محکم اور استوار پہاڑوں کو جگہ دی اور چار دن میں آسمان کی فضا میں خورشید کو قرار دیا اور زمین پر پانی جاری کیا پھرروزی کو معین کیاخواہ وہ اگنے والی ہو یا نہ ہو یعنی پانی اور ہر زندہ موجود کی طبیعت کو اس طرح قرار دیا کہ پانی سے وجود میں آئے۔

پھر آسمان کی تخلیق کی یعنی زمین کی خلقت کے بعد آسمان کی خلقت کی جبکہ آسمان اس وقت دھواںاور اس حالت میںپانی بھاپ تھا ،یہ بھاپ اور گرمی زمین کے دریائوں یا تالابوں سے اٹھی تھی، خدا وند عالم نے زمین و آسمان کی اتصالی کیفیت کو جدا کیا اور آسمان کی بلندی کو زمین کے لئے چھت قرار دیا( خدا وند زیادہ جاننے والا ہے) پھر ان آسمان و زمین سے کہا: وجود میں آئو اور اپنی شکل اختیار کرو؛ خواہ برضا و رغبت خواہ بہ جبر و اکراہ، انہوں نے کہا: ہم برضا ور غبت شکل اختیار کرتے ہیں ،پھر آسمان تمام کہکشائوں، ستاروں اور اس کی دیگر موجودات کے ساتھ کہ جسکی تعداد اور مقدار صرف خدا ہی جانتا ہے وجود میں آ گیا: پھر زمین کافرش، آسمان سے دور ایک معین فاصلے پر بچھایا اور درختوں نیز تمام اگنے والی چیزوں کو اس میں قرار دیا اس کے بعد حیوانوں کو خلق کیا۔

پھر زمین سے جدا شدہ اس آسمان کو جو اس پر محیط تھاسات آسمانوںمیں تبدیل کر دیا اور ہر آسمان میںاسکی سیر و حرکت نیز تحفظ و بقا کے لئے ایک مناسب نظام قرار دیا اور آسمان کی دنیا کو فروزاں چراغوں سے آراستہ کیا اور انہیں ستاروں میںسے شہاب ثاقب کوخلق کیاکہ شیطان چوری چھپے آسمانی خبروںکو نہ سن سکے۔ کہ اس کی بحث آئندہ آئے گی خورشیدکو نور دینے والا اور چاند کوضوفشاں بنایا اور چاند کے راستے

(١) نہج البلاغہ : خطبہ ٢١١ ؛  تفسیر در منثور : ج ، ١ ، ص ٤٤؛ بحار : ج ٥٨ ، ص ١٠٤.

میںمنزلیں قرار دیں تاکہ ہر شب ایک منزل کو طے کرے اور خورشید سے کچھ دور قرار دیا تاکہ ایک مہینہ میں ایک چکر مکمل کر لے اور اس گردش سے سال اور مہینے ظاہر ہوں اور لوگ سال کا شمار اور حساب جان لیں اور زمین میں ہر چیز سے ضرورت کے مطابق خلق کی اور زمین کو انسانوں کی رہائش اور آرام کی جگہ قرا ر دی، تاکہ اسمیں زندہ اورمردہ جمع ہوں اور روز قیامت اس سے محشور ہوں۔

ہمارے مذکورہ بیان کی بنا پر گز شتہ آیتوں سے یہ استنباط ہوتا ہے کہ زمین زمانہ کے اعتبار سے آسمان سے اور رتبہ کے اعتبار سے اس پر پائی جانے والی تمام مخلوقات سے مقدم ہے اور خدا وند عالم نے آسمان و زمین کے درمیان تمام چیزوں کوزمین پر بسنے والے تمام انسانوں اوران کے درمیان پائے جانے والے اولیاء کے لئے خلق کیا ہے ارشاد ہو رہا ہے:

١۔( الم ترو ا ان اللہ سخرلکم ما فی السمٰوات وما فی الارض)(١)

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ زمین و آسمان کے درمیان موجود تمام چیزوں کو تمہارا تابع اور مسخر بنایا ہے ۔

اس کے علاوہ گزشتہ آیتوں سے یہ بھی استنباط کر سکتے ہیں کہ انسانی غذائیں جیسے پانی ، گوشت اور تمام نباتات خلقت انسان سے پہلے تھیں جیساکہ جن کی خلقت گرم اور جھلسا دینے والی آگ سے انسان کی خلقت سے پہلے ہوئی یہ بعض آیات کی صراحت سے واضح ہوتا ہے ، جس طرح فرشتے بھی انسانوں سے پہلے خلق ہوئے ہیں، خدا فرماتا ہے :

(ولقد خلقنا الانسان من صلصال من حمأٍ  مسنون٭ و الجان خلقناہ من قبل من نارالسموم٭ و اذ قال ربک للملائکة انی خالق بشرا من صلصال…)

میںنے انسان کو کھنکھناتی اور سیاہ رنگ نرم مٹی سے خلق کیا اور اس سے پہلے جنات کو گرم اور جھلسا دینے والی آگ سے پیدا کیا اور جب تمہارے پروردگار نے فرشوں سے کہا: میں کھنکھناتی اور سیاہی مائل نرم مٹی سے انسان پیدا کروں گا۔(٢)

دوسرے: ستاروں اور کہکشاؤںکی خلقت

خداوند عالم نے قرآن مجید میں برج، ستارے اور شہاب کی خبر دی ہے اور فرمایا:

(١)لقمان٢٠(٢)  حجر٢٦۔٢٨

١۔( ولقد جعلنا فی السماء بروجاً و زینا ھا للناظرین٭ و حفظناھا من کل شیطان رجیم٭ الا من استرق السمع فاتبعہ شھاب مبین)

ہم نے آسمان میںبرج قرار دئے اور اس کو ناظرین کے لئے آراستہ کیا اور اس کوہر راندہ درگاہ شیطان سے محفوظ رکھا؛ مگر یہ کہ کوئی استراق سمع کرے (چپکے سے سنے) کہ شہاب مبین اس کی تعقیب کرتا ہے۔(١)

٢۔ (انا زینا السماء الدنیا بزینة الکواکب٭ و حفظاً من کل شیطا ن مارد، لا یسمعون الیٰ الملاء الاعلیٰ و یقذفون من کل جانب٭ دحوراً و لھم عذاب وا صب الا من خطف الخطفة فاتبعہ شہاب ثاقب)

ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے آراستہ کیااور اسے ہر سرکش اور ملعون شیطان سے محفوظ رکھاوہ لوگ آسمان بالا کی باتوں کو نہیں سن سکتے ہیں اوران پر ہر طرف سے حملہ ہوتا ہے : اور شدت سے بھگائے جاتے ہیں؛ ان کے لئے دائمی سزا ہے ؛ اس کے علاوہ ان میں سے جو معمولی لحظہ کے لئے سر گوشی کی خاطر آسمان سے نزدیک ہو تو شہاب ثاقب ان کا پیچھا کرتا ہے ۔(٢)

٣۔ (تبارک الذی جعل فی السماء بروجاً و جعل فیھا سراجاً و قمراً منیراً)

مبارک ہے وہ خدا جس نے آسمان میں ستاروں کے لئے منزلیں قرار دیں اور آسمان کے درمیان آفتاب اور ماہ تاباں کی قندیلیں لگائیں۔(٣)

٤۔(ھو الذی جعل الشمس ضیائً و القمر نوراً و قدرہ منازل لتعلموا عدد السنین و الحساب)

وہ خدا وہ ہے جس نے سورج کو روشنی ، قمر کو نور عطا کیا اور اس کی منزلیں قرار دیں تاکہ سالوںکا حساب اور تعداد معلوم ہو سکے۔(٤)

٥۔ (وجعل القمر فیھن نوراً و جعل الشمس سراجاً)

آسمانوں کے درمیان چاند کو روشنی کا ذریعہ اور سورج کو فروزاں چراغ بنایا۔(٥)

٦۔ (ان عدة الشہور عند اللہ اثنا عشر شہراً فی کتاب اللہ یوم خلق السمٰوات و الارض منھا اربعة حرم ذلک الدین القیم فلا تظلموا فیھن انفسکم و قاتلوا المشرکین کافة

(١)  حجر١٦۔١٨(٢)صافات٦۔١٠(٣)فرقان٦١(٤)یونس٥(٥)نوح١٦

کما یقاتلونکم کافةً و اعلموا ان اﷲ مع المتقین)

خدا کے نزدیککتاب خدا وندی میںجس دن زمین وآسمان کی تخلیق ہوئی اسی دن سے، مہینوں کی تعداد بارہ ہے جس میں سے چارمہینہ حرمت والے ہیں یہ ایک ثابت اور اٹل قانون ہے ! اس بنا پران مہینوں میںاپنے اوپر ظلم نہ کرو؛ اور ایک ساتھ مل کر مشرکین سے جنگ کرو، جس طرح وہ لوگ تم سے متحد ہو کر جنگ کرتے ہیں اور یہ بھی جان لو کہ خد اوند عالم پرہیز گاروں کے ساتھ ہے ۔(١)

٧۔( و علامات وبالنجم ھم یھتدون)

اس نے علامتیں قرار دیں اور لوگ ستاروں کے ذریعہ راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔(٢)

٨۔(و ھو الذی جعل لکم النجوم لتھتدوا بھا فی ظلمات البر و البحر)

وہ خدا وہ ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ خشکی اور دریا کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کر سکو۔(٣)

کلموں کی تشریح

١۔بروج:  اس کامفرد برج ہے ، زمین میں قلعہ اورقصر کو کہتے ہیں لیکن آسمان میں ستاروںکے اس مجموعے کو کہتے ہیں جس کے سامنے سے سورج ، چاند اور دیگر سیارے عبور کرتے ہیں؛ یہ بعض آسمانی برج کچھ اس طرح ہیں کہ اگر ان کی شکل کاغذ پر بنائی جائے اور ستاروں کے درمیان کے فاصلوں کو خط کھینچ کر ایک دوسرے سے متصل کریں توکیکڑے، مرغ،بچھو وغیرہ کی شکل بنے گی ،عقرب(بچھو) چاند کی ایک منزل ہے اسی لئے اصطلاح قمر در عقرب مشہور ہے، جب کہ یہ چاند برج عقرب سے متصل ہوتا ہے ۔

ستارہ شناس افراد چاند کی حرکت کے راستوں کیلئے بارہ ]١٢[ برج کے قائل ہیں اور ہم اسی بحث کے اختتام پر قرآن کے مخاطبین سے جو کچھ چاند کے سلسلے میں ظاہر ہوتاہے، اس کے بارے میں گفتگو کریں گے ۔

٢۔رجیم:  راندۂ درگاہ، یعنی جو عرش والوں کی نیکیوں یا منزلت اوررحمت خداوندی سے محروم ہو گیا ہو۔

٣۔شہاب:  شعلہ، ایسا شعلہ جو آسمان سے نیچے کی طرف آرہا ہو اس کی جمع شُہُب آتی ہے اس کی مزید تشریح آئندہ جنات کی بحث میں آئے گی۔

٤۔ مارد:   مارد اور مرید یعنی وہ شیاطین جنات و انس جو نیکیوں اور بھلائیوں سے عاری ہیں اور گناہوں

(١)توبہ٣٦(٢)نحل١٦.(٣)انعام٩٧.

اور برائیوں میںڈوبے ہوئے ہیں۔

٥۔ دحور:   دور کرنا، بھگانا،ہنکانا.

٦۔ نجوم:   ان فروزاں ستاروں کو کہتے ہیں جو خورشید کی طرح نور افشانی کرتے ہیں۔

٧۔کواکب:ان اجسام کو کہتے ہیں جو نجوم اور ستاروں سے کسب نور کرتے ہیں ، آسمان کے تمام نورانی اجسام کو کواکب کہتے ہیں ، جیسا کہ خداوند متعال فرماتاہے :

(انا زینا السماء الدنیا بزینة الکواکب)

ہم نے آسمان ِدنیا کو کواکب سے زینت بخشی۔

٨۔واصب:ہمیشہ اور لازم

٩۔خطف،خطفة:تیزی سے اچک لیا اور بھاگ گیا یعنی یک بارگی اچک لیا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ شیاطین فرشتوں سے کوئی چیز سنتے ہیں اور اچک کرتیزی سے فرار کر جاتے ہیں۔

١٠۔ ثاقب:نفوذ کرنے والا، شگاف کرنے والا اور روشن، شہاب کو اس لئے ثاقب کہتے ہیں کہ تاریکیوں میں نفوذ کرتا ہے اورایسامعلوم ہوتا ہے کہ اپنے نور سے اسمیں شگاف پیدا کررہا ہے ۔

آیات کی تفسیر

آسمانوں اور ستاروں کی بحث میں مذکور آیات سے استفادہ ہوتا ہے کہ آسمان دنیا کی منزلت تمام کواکب اور ستاروں اور فروزاں کہکشانوں سے بالاتر ہے اور آسمان دوم اس سے بلند تر ہے ،آسمان سوم، آسمان دوم سے بلند تر اور اسی طرح ساتویں آسمان تک کہ اس کی رفعت سب سے زیادہ ہے۔ نیز ہر ایک کا ارتفاع دوسرے کی بہ نسبت ارتفاع مکانی ہے ، بر خلاف عرش کے کہ اس کی رفعت و بلندی معنوی ہے اس کی وضاحت اپنی جگہ آئے گی اس توضیح سے دو سوال پیدا ہوتے ہیں :

١۔ کیوں خدا وند عالم ستاروں کے فوائد اور خاصیتوں کو صرف انہیں امور میں بیان کرتا ہے جس سے تمام لوگ واقف ہیں جیسے: (جعل لکم النجوم لتھتدوا) ستاروںکو تمہاری ہدایت اور راہنمائی کے لئے بنایا۔(١)

کیوں ان آثار اور صفات کے بارے میں کچھ نہیں کہا جسے نزول قرآن کے بعد دانشوروں نے کشف کیاہے ؟

(١)انعام٩٧

٢۔ خداوند عالم نے سورۂ صافات میں فرمایا ہے : ( انا زینا السماء الدنیا بزینة الکواکب)ہم نے دنیاوی آسمان کو ستاروں سے زینت بخشی۔ (١)

سوال یہ ہے کہ اگر ستارے آسمان دنیا کی زینت ہیں تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ تمام ستاروں کی منزل آسمان دنیا کے نیچے ہو جبکہ ماضی کے ستارہ شناس اور دانشوروں(نجومیوں) کا کہنا ہے : اکثر ستاروںکی منزل دنیاوی آسمان کے اوپر ہے ؛ ہمارے زمانے کے علمی نظریات اس سلسلہ میں کیاہیں؟ ان دونوں سوالوں کے جواب میں ہم بہ فضل الٰہی یہ کہتے ہیں:

١۔  پہلے سوال کا جواب

خدا وند عالم نے خاتم الانبیاء کو قرآن کریم کے ساتھ اس لئے بھیجا تاکہ تمام لوگوں کو مقرر کردہ آئین کے مطابق ہدایت کریں، جیسا کہ خود ہی فرماتا ہے :

الف:( قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً…)

کہو : اے لوگو! میں تم سب کی طرف خدا کا (بھیجا  ہوا )رسول ہوں …۔(٢)

ب: ( واوحی الی ھذا القرآن لانذر کم بہ و من بلغ…)

یہ قرآن میری طرف وحی کیا گیا ہے تاکہ تم کو اور ان تمام افراد کو جن تک یہ پیغام پہونچے ڈرائوں۔

اسی لئے قرآن کریم اپنے کلام میں تمام لوگوں کو (یا ایھا الناس) کا  مخاطبقرار دیتا ہے اور چونکہ ہر صنف اور گروہ کے تمام لوگ مخاطب ہیں لہٰذا کلام تمام انسانوں کی فہم اور تقاضائے حال کے مطابق ہونا چاہئے تاکہ ہر زمان و مکان کے اعتبار سے تمام لوگ سمجھیں، جیسا کہ مقام استدلال و اقامہ برہان میں خالق کی وحدانیت اور معبود کی یکتائی ( توحید الوہیت) کے موضوع پر فرماتا ہے :

کیا وہ لوگ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ کیسے خلق ہوا ہے ؟

آسمان کی طرف نگاہ نہیں اٹھاتے کہ کیسے بلند کیا گیا ہے ؟

پہاڑوں کی طر ف نہیں دیکھتے کہ کیسے استوار اور اپنی جگہ پر محکم اور قائم ہے ؟

زمین کی طرف نہیں دیکھتے کہ کس طرح ہموار اور بچھائی گئی ہے ؟

(١)صافات٦(٢)اعراف١٥٨

لہٰذا یاد دلائو اس لئے کہ تم فقط یاد دلانے والے ہو، تم ان پر مسلط اور ان کومجبور کرنے والے نہیں ہو۔(١)

توحید ربوبیت کے سلسلہ میںمقام استدلال واقامہ ٔبرہان میں فرماتا ہے :

جو پانی پیتے ہو کیا اس کی طرف غور و خوض کرتے ہو؟! کیا اسے تم نے بادل سے نازل کیا ہے یا ہم اسے نیچے بھیجتے ہیں؟! ہم جب چاہیں ہر خوشگوار پانی کو تلخ اور کڑوا بنا دیںلہٰذا کیوں شکر نہیں کرتے؟(٢)…اب اگر ایسا ہے تو اپنے عظیم پروردگار کی تسبیح کرو اور اسے منزہ جانو۔

اب اگر خدا وند عالم اس کے علاوہ کوئی اور راہ اختیار کرتا اور مقام استدلال میں اربوں ستاروں اور کروڑوں آسمانی کہکشاؤں کے نظام حرکت و سکون کا تذکرہ کرتا، یا انسانون کی صرف آنکھ کو محور استدلال بناتا اور اس میں پوشیدہ لاکھوں باریک خطوط کا ذکر کرتا اور اس میں موجود خون کے سفید و سرخ ذرّات کے بارے میں کہتا،یا انسان کے مغزسراور اس کے لاکھوں پیچیدہ زاویوں سے پردہ اٹھاتا، یا اسباب قوت ہاضمہ یا انواع و اقسام کی بیماریوں اور اس کے علاج کا ذکر کرتا جیسا کہ بعض لوگ سوال کرتے ہیں:

کیوں خدا وند عالم نے جسم انسانی کہ جس کواس نے پیدا کیا ہے اس سے مربوط ہے علم و دانش کو قرآن میں کچھ نہیںبیان کیا؟آیااس طرح کے موارد قرآن میں نقص اور کمی کے مترادف نہیں ہیں؟

خدا کی پناہ ! آپ کیا فکر کرتے ہیں؟ اگر خصوصیات خلقت جن کا ذکر کیا گیا ،قرآن کریم میں بیان کی جائیں تو کون شخص ان کے کشف سے پہلے انہیں درک کر سکتا تھا؟ اور اگر انبیاء لوگوں سے مثلاً کہتے: جس زمین پر ہم لوگ زندگی گزار رہے ہیں وہ خورشیدکے ارد گرد چکر لگاتی ہے اور خورشید زمین سے ٢٣ ملین میل کے فاصلہ پر واقع ہے؛ یہ منظومہ شمسی راہ شیر نامی کہکشاں کے پہلو میں واقع ہے کہ اس کہکشاںمیں ٣٠ کروڑ ستارے ہیں اور ان ستاروں کی پشت پر سینکڑوں نامعلوم عوالم ہیں اور پیچیدہ گڑھے پائے جاتے ہیں وغیرہ۔

آپ کا کیا خیال ہے ؟ اگر امتیںاس طرح کی باتیں پیغمبروں سے سنتیں تو انبیاء کوکیا کہتیں؟ جبکہ وہ لوگ پیغمبروںکو صرف اس وجہ سے کہ وہ لوگوں کو خدا کی توحید اور یکتا پرستی کی دعوت دیتے تھے، دیوانہ کہتے تھے جیساکہ خدا وند عالم ان کے بارے میں فرماتا ہے:

(کذبت قبلھم قوم نوح فکذبوا عبدنا و قالوا مجنون)

(١)غاشیہ١٧۔٢٢(٢)واقعہ٧٠۔٦٨و٧٤

١۔اس سے پہلے قوم نوح نے ان کی تکذیب کی؛یہاں تک کہ ہمارے بندے نوح کو دروغگو سمجھااور دیوانہ کہا۔(١)

٢۔(کذلک ماا تی الذین من قبلھم من رسولٍ اِلاقالوا ساحراومجنون)

اس طرح سے ان سے قبل کوئی پیغمبر کسی قوم کی طرف مبعوث نہیں ہوا مگر یہ کہ انہوں نے اسے ساحر اور مجنون کہا۔(٢)

٣۔(ویقولون انہ لمجنون)

وہ (کفار و مشرکین)کہتے ہیں وہ (خاتم الانبیائ) دیوانہ ہے۔(٣)

اب ان خیالات اور حالات کے باوجود جو گز شتہ امتوں کے تھے اگر اس طرح کی باتیں بھی پیغمبروں سے سنتے تو کیا کہتے ؟اصولی طور رپر لوگوںکی قرآن کے مخاطب لوگوںکی کتنی تعداد تھی کہ ان علمی حقائق کو سمجھ سکتی ، ایسے حقائق جن کو دانشوروں نے اب تک کشف کیا ہے اور اس کے بعد بھی کشف کریں گے کس طرح ان کے لئے قابل فہم اور درک  ہوتے؟

اس کے علاوہ جن مسائل کو آج تک دانشوروں نے کشف کیا ہے کس حد تک علمی مجموعہ میں جگہ پاتے ہیں؟ جبکہ خدا وند عالم نے خاتم الانبیاء پر قرآن اس لئے نازل کیا تاکہ یہ کتاب لوگوں کے لئے ہدایت کا ذریعہ ہو۔ اور لوگوںکو اس بات کی تعلیم دے کہ وہ کس طرح اپنے خدا کی بندگی کریں؛ اوراس کے اوامر اور نواہی کے پابند ہوں اور کس طرح دیگر لوگوں سے معاملہ کریں، نیز جن چیزوں کو خدا نے ان کے لئے خلق کیا ہے اور ان کا تابع بنا یا ہے کس طرح راہ سعادت اور کمال میں ان سے استفادہ کریں۔

خدا وند عالم نے قرآن کریم اس لئے نازل نہیں کیاکہ آب و ہوا، زمین ، حیوان اور نبات کی خصوصیات سے لوگوں کو آگاہ کرے بلکہ یہ موضوع انسانی عقل کے فرائض میںقرار دیا یعنی ایسی عقل جسے خدا وند عالم نے عطا کی ہے۔ تاکہ ان تمام چیزوں کی طرف بوقت ضرورت، مختلف حالات اور مسائل میںانسانوں کی ہدایت کرے۔

ایسی عقل کے باوجود جو انسان کو خدا نے بخشی ہے انسان اس بات کا محتاج نہیں تھا کہ خدا وند عالم قرآن کریم میں مثلاً ”ایٹم” کے بارے میں تعلیم دے، بلکہ انسان کی واقعی ضرورت یہ ہے کہ خدا وند عالم اس طرح کی قوت سے استفادہ کرنے کے طور طریقے کی طرف متوجہ کرے تاکہ اسے کشف اور اس پر قابو پانے کے

(١)قمر٩(٢)ذاریات٥٢(٣)قلم٥١

بعداس کو انسانی فوائد کے لئے روبہ کار لائے ، نہ یہ کہ نوع بشر اور حیوانات کی ہلاکت اور نباتات کی نابودی کے لئے استعمال کرے۔

لہٰذا واقعی حکمت وہی ہے جو قرآن کریم نے ذکر کی ہے اور استدلال اور برہان کے موقع پر مخلوقات کی اقسام بیان کی ہے۔

البتہ یہ بات علمی حقائق کی جانب قرآن کریم کے اشارہ کرنے سے منافات نہیں رکھتی ہے ،وہ حقائق جو نزول قرآن کے بعد کشف ہوئے ہیں اور قرآن نے کشف سے پہلے ہی ان کی طرف اشارہ کیا ہے وہ اس بات کی واضح اور بین دلیل ہیں کہ قرآن کریم خالق ہستی اور پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے اور جس طرح خاتم الاوصیاء حضرت علی نے بیان کیا ہے کہ عجائب قرآن کی انتہا نہیں ہے ۔

یہ قرآ ن کے عجائب میں سے ہے کہ اس میں جہاں بھی مخلوقات کی خصوصیتیں بیان ہوئی ہیں وہ ان علمی حقائق سے کہ جو دانشوروں کے ذریعہ پوری تاریخ اور ہر زمانے میں کشف ہوئے ہیں، مخالف نہیں ہیں ۔

٢۔ د وسرے سوال کا جواب

بعض دانشور گروہ نے بعض ادوار میں قرآن کریم میں مذکور کچھ چیزوں کے بارے میں تاویل و توجیہ کی ہے اوران غلط و بے بنیاد نظریات سے جو ان کے زمانے میں علمی حقائق سمجھے جاتے تھے تطبیق دی ہے؛جیسے  ہفت گانہ آسمانوں کی توجیہ  ہفت گانہ افلاک سے کی ہے جو گز شتہ دانشوروں کے نزدیک مشہور نظر یہ تھا ، اور یہ ، بطلیموس جو تقریباً   ٩٠   ء سے ١٦٠ ء   کے زمانے میںگز را ہے اس کے نظریہ کے مطابق ہے :

بطلیموس کا نظریہ

آسمان اور زمین گیند کی شکل کے ہیں کہ بعض ان میں سے پیازکے تہہ بہ تہہ چھلکوں کے مانندہیں ان کرّات کا مرکز زمین ہے کہ جس کا ٣٤ حصہ پانی سے تشکیل پایا ہے ، زمین کا بالائی حصہ ہو ا ہے اور اس کے اوپر آگ ہے ان چار عنصر پانی ، مٹی، ہوا اور آگ کو عناصر اربعہ کہتے ہیں، ان کے اوپر فلک قمر ہے، جو فلک اول ہے ۔ اس کے بعد فلک عطارد، پھر فلک زہرہ، پھر خورشید پھر مر یخ اس کے بعد مشتری اور اس کے بعد زحل ہے ان افلاک کے ستاروںکو سیارات سبعہ کہتے ہیں،فلک ثوابت کہ جن کو بروج کہتے ہیں وہ ان پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اس کے بعد اطلس نامی فلک ہے جس میں کوئی ستارہ نہیں ہے ؛ ان دانشوروںنے ان ساتوں آسمانوںکی ہفت گانہ سیارات کے افلاک سے ،کرسی کی فلک بروج سے نیز عرش کی نویں فلک سے توجیہ و تاویل کی ہے ۔

ان لوگوں نے اسی طرح قرآن و حدیث میں مذکور بعض اسلامی اصطلاحات کی بے بنیادفلسفیانہ   نظریوں اور اپنے زمانے کے نجومی خیالوں سے توجیہ اور تاویل کی ہے اور چونکہ ان بعض نظریات میں ایسے مطالب پائے جاتے ہیں کہ جو قرآن کریم کی تصریح کے مخالف ہیں؛ انہوںنے کوشش کی ہے کہ قرآن کریم کے نظریات کو ان نظریوں کے ساتھ جمع کر دیں، مرحوم مجلسی نے اس روش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے:

جان لو! کہ یہاں پر ایک مشہور اعتراض ہے اور وہ یہ ہے کہ: علم ہیئت کے تمام ماہرین کا متفقہ فیصلہ ہے کہ آسمان اول پر چاند کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے اور تمام گردش کرنے والے ستارے ایک فلک میں گردش کر رہے ہیں اور ثابت ستارے آٹھویں فلک پر ہیں، جبکہ قرآن کریم کی آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ سارے کے سارے یا اکثر ،آسمان دنیا پر پائے جاتے ہیں (١)، اس کے بعد وہ دئے گئے جواب کو ذکر کرتے ہیں۔

اس بات کا لحاظ کرتے ہوئے کہ آیت اور اس کی تفسیر یکے بعد دیگرے ذکر کی جائے گی لہٰذا مرحوم مجلسی کی نقل کردہ دلیلوں سے یہاں پر صرف نظر کرتے ہیں۔ اور صرف اس زمانے کے عظیم فلسفی میرباقر داماد کی بات کو حدیث کی تاویل کے ضمن میں ذکر کررہے ہیں۔

ایک غیر صحیح تاویل اور بیان

سید داماد(میر باقر داماد) ”من لا یحضرہ الفقیہ” کے بعض تعلیقات میں لکھتے ہوئے فرماتے ہیں: عرش وہی فلک الافلاک ہے اور جو امام  نے اسے مربع (چوکور) جانا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ فلک کی دورانی حرکت کی وجہ سے اس میں ایک کمر بند اور دو قطب پید اہوتے ہیں؛ اور ہر بڑا دائرہ جو کرہ کے اردگرد کھینچا جاتا ہے اس کرہ کو نصف کر دیتا ہے اور فلک بھی کمر بندی اور دائرہ ای حرکت کی وجہ سے جوا ن دو قطب سے گزرتا ہے چار حصوں میں تقسیم ہوتا ہے ۔ اور عرش جو کہ دور ترین فلک ہے اور کرسی جو کہ ثابت ستاروں کا فلک ہے یہ دونوں بھی نصف النہار ،منطقة البروج اور قطبوں سے گزرتا ہے ، چار حصوں میں تقسیم ہوجاتے

ہیں . اور دائرہ افق جو فلک اعلی کی سطح پر ہے نصف النہار اور مشرق و مغرب کے دائرہ کی وجہ سے چار حصوں میں

(١) ولقد زینا السماء الدنیا بزینة الکواکب  ، صافات  ٦.

تقسیم ہوتا ہے اور اس کا ہر حصہ اس مجموعہ میں اس طرح واقع ہوتا ہے کہ چہار گانہ جہتوں( جنوب و شمال ، مشرق و مغرب) کو معین کر دیتا ہے ۔ فلسفیوں نے فلک کو انسان کے مانند فرض کیا ہے جو اپنی پشت کے بل سویا ہوا ہے اس کا سر شمال کی طرف، پائوں جنوب کی طرف داہنا ہاتھ مغرب اور بایاں ہاتھ مشرق کی طرف نیز تربیع اور تسدیس دائرہ کی ابتدائی شکلیں ہیںجو اپنی جگہ پر بیان کی گئی ہیںکہ تربیع ان دو قطروں سے جو خود ایک دوسرے پرقائم ہیں اور ایک دوسرے کو قطع کرتے ہیںحاصل ہوتی ہے اور تسدیس نصف قطر سے، اس لئے کہ٦١ ،کا نصف قطرکے برابر ہے اور ٤١ دور ایک مکمل قوس ہے اور جتنا ٤١سے کم ہوگا تو باقی بچا ہوا ٤١ کی حد تک پہنچنے تک اس کا کامل اور پورے ہونے کا باعث بنے گا۔

اور فلک اقصیٰ( آخری فلک) مادہ ، صورت اور عقل کا حامل ہے کہ وہی عقل اول ہے اور اسے عقل کل بھی کہاجاتا ہے اور نفس کا حامل ہے کہ وہی نفس اول ہے اور اسے نفس کل بھی کہتے ہیں او ریہ نفس،مربع ہے جو نظام ہستی کے مربعات میں سب سے پہلا مربع ہے ۔

یہاں پر دوسری جہتیںبھی پائی جاتی ہے جن کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں ہے اور جو چاہتا ہے کہ اسے سمجھے وہ مزید کوشش کرے؛ مرحوم مجلسی کہتے ہیں کہ ان توجیہات کا قوانین شرع اور اہل اسلام کی اصطلاحوں سے موافق نہ ہونا پوشیدہ نہیں ہے ۔(١)

اس کے علاوہ بعض دانشوروںنے قرآن کریم کی تفسیر اسرائیلیات سے کی ہے، بعض لوگوں نے

ان جھوٹی روایات سے جن کی نسبت پیغمبر کی طرف دی گئی ہے بغیر تحقیق و بررسی کے قرآن کی تفسیر کی ہے ؛اور یہی چیز باعث بنی کہ قرآن اور اسلامی اصطلاحات و الفاظ کا سمجھناقرآن و حدیث کی تلاوت کرنے والوں پر پوشیدہ اور مشتبہ ہو گیا ہے ہم نے بعض ان غلط فہمیوں کو کتاب ”قرآن کریم اوردو مکتب کی روایات ”  میں”قرآن رسول کے زمانے میں اور اس کے بعد ” کے حصہ میں ذکر کیا ہے ۔

بحث کا خلاصہ

اول: سماء : آسمان ، لغت میں اس چیز کو کہتے ہیں جو تمہیںاوپر سے ڈھانپ لے اور ہر چیز کا آسمان اس

کا اوپری حصہ اوراس کی چھت ہے اور قرآن کریم میں جہاں یہ لفظ مفرد استعمال ہوا ہے تو کبھی تو اس کے معنی

(١) بحار : ٥٨ ٥۔ ٦.

اس زمین کے ارد گرد فضا کے ہیں جیسے :

١۔(الم یروا الیٰ الطیر مسخرات فی جو  السمائ)

کیا انہوں نے فضا میں مسخر پرندوں کو نہیں دیکھا؟!(١)

٢۔ (و انزل من السماء مائً) اس نے  آسمان (فضا)سے پانی نازل کیا۔(٢)

اور کبھی اس سے مراد ستارے اور بالائی سات آسمان ہیں ، جیسے:

(ثم استویٰ الیٰ السماء فسواھن سبع سمٰوات)

پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اورترتیب سے سات آسمان بنا ئے۔(٣)

اور جہاں پر لفظ سماء جمع استعمال ہوا ہے اس سے مراد ساتوں آسمان ہیں جیسا کہ گز شتہ آیت میں ذکر ہوا ہے ۔

دوسرے: آغاز خلقت: خدا وند عالم خود خبر دیتا ہے کہ آسمان اور زمین کی خلقت سے پہلے پانی کی تخلیق کی اور گز شتہ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا وند عالم نے زمین کو اسی پانی سے خلق کیا ہے اور آسمان کو اس زمین کے پانی اور اس کی بھاپ سے خلق کیا ہے ۔ اور زمین و آسمان کے تخلیقی مراحل اور اس میں موجود بعض موجودات جس کے ضمن میں انسان کی ضروریات زندگی بھی شامل ہیںچھ دور میں کامل ہوئے ہیں؛ اور خداوند عالم نے تمام نورانی ستاروں کو آسمان دنیا کے نیچے قرار دیا ہے اور جو اخبار خلقت سے متعلق خدا وند عالم نے ہمیں دئے ہیں اتنے ہیں کہ لوگوں کی ہدایت کی لئے ضروری ہیں اور عقل انسانی اس سے زیادہ ابتدائے خلقت سے متعلق مسائل اور کہکشائوں اور سیاروں کی حقیقت کو درک نہیں کر سکتی ہے۔

بعض دانشوروںنے خود کو زحمت میں مبتلا کیا ہے اور قرآن میں آسمان اور ستاروں کی توصیف کے سلسلہ میں اپنے زمانے میں معلوم مسائل سے ان کو علمی تصور کرتے ہوئے توجیہ و تاویل کی ہے ؛ جیسے آسمانوںکے معنی کی تاویل ہفت گانہ آسمان سے کہ اسے قطعی اور یقینی مسائل خیال کرتے تھے، لیکن آج اس کا باطل ہونا واضح اور آشکار ہے ۔

اسی طرح بعض آیتوں کی اسرائیلی روایتوں سے تفسیر کی ہے ایسی رو ش اس وقت بھی مسلمانوں میں رائج ہے اور اس سے اسلامی معاشرے میں غلط نظریئے ظاہر ہوئے کہ ان میں سے بعض کی آئندہ بحثوں میں خدا وند عالم کی تائید سے تحقیق و بررسی کریں گے۔

 

(١)نحل٧٩(٢)بقرہ٢٢(٣)بقرہ٢٩

 

 

٣۔ چوپائے اور چلنے والی مخلوق

خدا وند عالم ان کی خلقت کے بارے میں فرماتا ہے :

١۔( واللہ خلق کل دابة من ماء فمنھم من یمشی علیٰ بطنہ و منھم من یمشی علیٰ رجلین و منھم من یمشی علیٰ اربع یخلق اللہ ما یشاء ان اللہ علیٰ کل شیء قدیر)

خدا وند عالم نے چلنے والی ہرمخلوق کو پانی سے خلق کیاہے ان میں سے بعض پیٹ کے بل چلتی ہیں اور کچھ دو پیر وںسے چلتی ہیں اورکچھ چار پیروں پر چلتی ہے ، خدا جو چاہتا ہے خلق کرتا ہے ، کیونکہ خدا وند عالم ہر چیز پر قادر اور توانا ہے ۔(١)

٢۔( وما من دابةٍ فی الارض ولا طائرٍ یطیر بجناحیہ الا امم امثالکم ما فرطنا فی الکتاب من شیء ثم الیٰ ربھم یحشرون)

زمین پر چلنے والی ہر مخلوق اور پرندہ جو اپنے دو پروں کے سہارے اڑتا ہے سبھی تمہاری جیسی امت ہیںہم نے اس کتاب میںکچھ بھی فروگز اشت نہیں کیا ہے، پھر سب کے سب اپنے پروردگار کی طرف محشور ہوں گے۔(٢)

٣۔(ولِلّٰہ یسجد ما فی السمٰوات وما فی الارض من دابة)

زمین و آسمان میں جتنے بھی چلنے والے ہیں خدا وند عالم کا سجدہ کرتے ہیں۔(٣)

کلمہ کی تشریح:

دابة:   جنبندہ، صنف حیوانات میںہر اس حیوان کو کہتے ہیں جو سکون و اطمینان کے ساتھ راہ چلتا ہے

(١)نور٤٥(٢)انعام٣٨(٣)نحل٤٩

اور قرآن کریم میں دابة سے مراد روئے زمین پر موجود تمام جاندار(ذی حیات)ہیں۔

آیات کی تفسیر

خدا وند عالم نے ہر چلنے والے جاندار کو پانی سے خلق کیا ہے، زمین میںکوئی زندہ موجود اور ہوا میں کوئیپرندہ ایسا نہیںہے جس کا گروہ اور جرگہ آدمیوںکے مانند نہ ہو، چیونٹی خود ایک امت ہے اپنے نظام زندگی کے ساتھ، جس طرح انسان ایک نظام حیات اور پروگرام کے تحت زندگی گز ارتا ہے ، اسی طرح پانی میں مچھلی اور زمین پر رینگنے والے اور اس کے اندر موجود حشرات ،کیڑے مکوڑے اور دوسرے جانورہیں انسانوں ہی کی طرح سب، امتیں ہیں کہ ہر ایک اپنے لئے ایک مخصوص نظام حیات کی مالک ہے ہم خداوندعالم کی تائید اور توفیق کے سہارے ”ہدایت رب العالمین” کی بحث میں اس طرح کی ہدایت کی کیفیت کو کہ اس نے تمام چلنے والی ( ذی روح )امتوں کے لئے ایک خاص نظام حیات معین فرمایا ہے؛ پیش کریں گے۔

٤۔ جن اور شیاطین

الف۔  جن ّو جانّ

جِنّ:. مستور اور پوشیدہ” جَنَّ الشیء   یا جَنَّ عَلیَ الشیئِ” ، یعنی اسے ڈھانپ دیا، چھپا دیا، پوشیدہ کر دیا، جیسا کہ خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے :

(فلما جن علیہ اللیل) جب اسے شب کے پردے نے ڈھانپ لیا۔(١)

لہٰذا جن ّو جانّ دونوں ہی درج ذیل تشریح کے لحاظ سے ناقابل دید اور پوشیدہ مخلوق ہیں۔

١۔ (وخلق الجان من مارج من نار)

جن کو آگ کے مخلوط اور متحرک شعلوں سے خلق کیا۔(٢)

٢۔ (والجان خلقناہ من قبل من نارالسموم)

اور ہم نے جن کو انسان سے پہلے گرم اور جھلسا دینے والی آگ سے خلق کیا۔(٣)

ب۔ اس سلسلے میں کہ یہ لوگ انسانوں کی طرح امتیں ہیں خدا وند عالم فرماتا ہے :

(فی اممٍ قد خلت من قبلھم من الجن والأِنس)

وہ لوگ ( جنات) اپنے سے پہلے جن و انس کی گمراہ امتوں کی سر نوشت اور ان کے انجام سے دوچار ہوگئے۔(٤)

ج۔ سلیمان نبی نے انہیں اپنی خدمت گزاری کے لئے مامور کیا ہے، اس سلسلے میںفرماتا ہے :

( و من الجن من یعمل بین یدیہ باِذن ربہ و من یزغ منھم عن امرنا نذقہ من

(١)انعام ٧٦(٢) الرحمن ١٥(٣) حجر ٢٧(٤)فصلت٢٥

عذاب السعیر یعملون لہ ما یشاء من محاریب و تماثیل و جفان کالجواب و قدور راسیاتٍ)

جنوں کا بعض گروہ سلیمان کے سامنے ان کے پروردگار کی اجازت سے کام کرتا تھا؛ اور ان میں سے جوبھیہمارے حکم کے برخلاف کرے گا ، اسے جھلسا دینے والی آگ کا مزہ چکھا ئیں گے؛ وہ لوگ سلیمان کے تابع فرمان تھے اور وہ جو چاہتے تھے وہ بناتے تھے جیسے ، عبادت خانے ، مجسمے ، کھانے کے بڑے بڑے ظروف جیسیحوض اور غیر منقول( اپنی جگہ سے منتقل نہ ہو نے والی) دیگیں وغیرہ۔(١)

د۔ سلیمان کے لشکر میںجن بھی شامل تھے اس سلسلے میں فرماتا ہے کہ وہ ایسے تھے کہ فلسطین اور یمن کے درمیان کے فاصلہ کوسلیمان نبی کے اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے ہی طے کر کے واپس آجایا کرتے تھے۔

خدا واند عالم ان میں سے ایک کی سلیمان سے گفتگو کی یوں حکایت کرتا ہے :

(قال عفریت من الجن انا آتیک بہ قبل ان تقوم من مقامک و انی علیہ لقوی امین)

جنوں میں سے ایک عفریت (دیو)نے کہا: میں اس تخت کوآپ کے پاس،آپ کے اٹھنے سے پہلے حاضر کر دوں گا اور میں اس کام کے لئے قوی اورامینہوں۔(٢)

ھ  ۔  جن غیب سے بے خبر اور ناآگاہ ہیں اس بابت فرماتا ہے۔

(فلما قضینا علیہ الموت مادلھم علیٰ موتہ الا دابة الارض تاکلمنسأتہ فلما خرَّ تبینت الجن ان لوکانوا یعلمون الغیب ما لبثوا فی العذاب المہین)

جب ہم نے سلیمان کو موت دی تو کسی نے ان کو مرنے کی خبر نہیں دی سوائے دیمک کے اس نے سلیمان نبی کے عصا کو کھا لیااور وہ ٹوٹ کر زمین پر گرگیا۔ لہٰذا جب زمین پر گر گئے تو جنوں نے سمجھا کہ اگر غیب کی خبر رکھتے تو ذلت و خواری کے عذاب میں مبتلا نہ ہوتے۔(٣)

و  ۔ اورحضرت خاتم الانبیاء کی بعثت سے پہلے ان کے عقائد اور کردار کو انہیں کی زبانی بیان فرماتا ہے :

١۔(و انہ کان یقول سفیھنا علٰی اللہ شططاً)

اور ہمارا احمق ( ابلیس) خدا وند عالم کے بارے میں ناروا باتیںکہتاتھا۔(٤)

٢۔ (و انھم ظنوا کما ظننتم ان لن یبعث اللہ احداً)

(١)سبا١٢۔١٣(٢)سورہ ٔ نمل : ٣٩.(٣)سبا١٤(٤)جن٤

بیشک ان لوگوں نے ویسے ہی خیال کیاجیسے تم خیال کرتے ہوکہ خدا وند عالم کسی کو مبعوث نہیں کرے گا۔(١)

٣۔( وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن فزادوھم رھقاً)

یقینا بعض انسانوںنے بعض جنوں کی پناہ چاہی اور وہ لوگ ان کی گمراہی اور طغیانی میں اضافہ کا باعث بنے۔(٢)

ز۔  خاتم الانبیا کی بعثت کے بعد ان کی سرقت سماعت( چوری چھپے بات اچکنے ) کے بارے میں خود انہیں کی زبانی فرماتا ہے :

١۔(وانا لمسنا السماء فوجدنا ھا ملئت حرساً شدیداً و شھباً)

اور ہم نے آسمان کی جستجو کی؛ تو سبھی کو قوی الجثہ محافظوں اور شہاب کے تیروں سے لبریز پایا۔(٣)

٢۔(واِنا کنا نقعد منھا مقاعد للسمع فمن یستمع الان یجد لہ شھاباً رصداً)

اور ہم اس سے پہلے خبریں چرانے کے لئے آسمانوں پربیٹھ جاتے تھے، لیکن اس وقت اگر کوئی بات چرانے کی کوشش کرتاہے تو وہ ایک شہاب کو اپنے کمین میں پاتاہے۔(٤)

ح۔  جنوںکے اسلام لانے کے بارے میں فرماتا ہے : ان لوگوںنے کہا:

١۔(و انا منا الصالحون و منا دون ذلک کنا طرائق قدداً)

اور ہمارے درمیان صالح اور غیر صالح افراد ہیں؛ اور ہم مختلف گروہ ہیں۔(٥)

٢۔ (و انا منا المسلمون و منا القاسطون فمن اسلم فاُولائک تحروا رشداً)

ہم میں سے بعض گروہ مسلمان ہے اوربعض ظالم ؛ جو اسلام قبول کرے وہ راہ راست کا سالک ہے۔(٦)

ب۔  شیطان

شیطان، انسان جنات اور حیوانات میں سے ہر سرکش، طاغی اور متکبر کو کہتے ہیں۔

خدا وند عالم نے فرمایا ہے:

١۔(ولقد جعلنا فی السماء بروجاً و زیناھا للناظرین٭ و حفظناھا من کل شیطان

(١)جن٣(٢)جن٦(٣)جن ٨(٤)جن٩(٥)جن١١(٦)جن١٤

رجیم٭ الا من استرق السمع فاتبعہ شھاب مبین)

اور ہم نے آسمان میں برج قرار دئیے اور اسے دیکھنے والوں کے لئے آراستہ کیا اور اسے ہر شیطان رجیم اور راندہ درگاہ سے محفوظ کیا؛ سوائے ان کے جواستراق سمع کرتے ہیں او رچوری چھپے باتوں کو سنتے ہیں تو شہاب مبین ان کا پیچھا کرتا ہے اور بھگاتا ہے ۔(١)

٢۔(انا زیّنا السماء الدنیا بزینة الکواکب٭ و حفظاً من کل شیطانٍ مارد ٭لا یسمعون الیٰ الملاء الأَعلیٰ و یقذفون من کل جانبٍ٭ دحوراً ولھم عذاب واصب٭ الا من خطف الخطفة فاتبعہ شہاب ثاقب)

ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے زینت بخشی تاکہ اسے ہرطرح کے شیطان رجیم سے محفوظ رکھیں وہ لوگ ملاء اعلیٰ کی باتیں نہیں سن سکتے اور ہر طرف سے حملہ کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ وہ لوگ شدت کے ساتھ الٹے پائوں بھگا دئے جاتے ہیں اور ان کیلئے ایک دائمی عذاب ہے ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایک لحظہ اور آن کے لئے استراق سمع کے لئے آسمان سے نزدیک ہو تے ہیں تو شہاب ثاقب ان کا پیچھا کرتا ہے۔(٢)

٣۔ (ولقد زیّنا السماء الدنیا بمصابیح و جعلنا ھا رجوماً للشیاطین واعتدنا لھم عذاب السعیر)(٣)

ہم نے آسمان دنیا کو روشن چراغوں سے زینت بخشی اور انہیں شیاطین کو دور کرنے کا تیر قرار دیا اور ان کے لئے ڈھیروں عذاب فراہم کئے۔

٤۔( وکذلک جعلنا لکل نبی عدواً شیاطین الانس و الجن یوحی بعضھم الیٰ بعض زحزف القول غروراً ولو شاء ربک ما فعلوہ فذرھم وما یفترون٭و لتصغیٰ الیہ افئدة الذین لا یؤمنون بالآخرة و لیرضوہ ولیقترفوا ما ھم مقترفون)

اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے شیاطین جن و انس میں سے دشمن قرار دیا، وہ لوگ خفیہ طور پر فریب آمیز اور بے بنیاد باتیں ایک دوسرے سے کہتے ہیں تاکہ لوگوں کو فریب دیں اور اگر پروردگار چاہتا تو وہ ایسا نہیں کرتے؛لہٰذا  انہیں ان کی تہمتوں کے ساتھ ان کے حال پر چھوڑ دو! نتیجہ یہ ہوگا کہ قیامت سے انکار کرنے والوں کے دل ان کی طرف مائل ہو جائیں گے اور ان سے راضی ہو جائیں گے؛اور جو چاہیںگے گناہ انجام دیں گے۔(٤)

(١)حجر١٦۔٨(٢)صافات٦۔١٠(٣)ملک٥(٤)انعام١١٢۔١١٣

٥۔( انا جعلنا الشیاطین اَولیاء للذین لا یؤمنون)

ہم نے شیطانوں کو ان کا سرپرست قرار دیا ہے جو بے ایمان ہیں۔(١)

٦۔(ان المبذرین کانوا اِخوان الشیاطین و کان الشیطان لربہ کفوراً)

اسراف کرنے والے شیاطین کے بھائی ہیں اور شیطان خدا وند عالم کابہت ناشکرا ہے۔(٢)

٧۔(ولا تتبعوا خطوات الشیطان انہ لکم عدو مبین، انما یامرکم بالسوء و الفحشاء و ان تقولوا علٰی اللہ ما لا تعلمون)

شیطان کا اتباع نہ کرو کیونکہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے ، وہ تمہیںصرف فحشا ء اور منکرات کا حکم دیتا ہے اور اس بات کا کہ جس کو تم نہیں جانتے ہو خدا کے بارے میں کہو۔(٣)

٨۔ (الشیطان یعدکم الفقر و یامرکم بالفحشاء واللہ یعدکم مغفرة منہ و فضلاً و اللہ واسع علیم)

شیطان تمہیں فقر اور تنگدستی کا وعدہ دیتا ہے اور فحشاء کا حکم دیتا ہے لیکن خدا تمہیں بخشش اور فضل کا وعدہ دیتا ہے، یقینا خدا صاحب وسعت و علم ہے ۔(٤)

٩۔(و من یتخذ الشیطان ولیاً من دون اللہ فقد خسر خسراناً مبینا٭ یعدھم و یمنیھم وما یعدھم الشیطان الا غروراً)

جو بھی خد اکے بجائے شیطان کو اپنا ولی قرار دیتا ہے ، تووہ کھلے ہوئے (سراسر) گھاٹے میں ہے، وہ انہیںوعدہ دلاتا اور آرزو مندبناتاہے جبکہ اس کا وعدہ فریب اور دھوکہ دھڑی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔(٥)

١٠۔(انما یرید الشیطان ان یوقع بینکم العداوة و البغضاء فی الخمر و المیسر و یصدکم عن ذکر اللہ وعن الصلوة فھل انتم منتھون)

شیطان تمہارے درمیان شراب، قمار بازی کے ذریعہ صرفبغض و عداوت ایجاد کرنا چاہتا ہے اور ذکر خدا اور نماز سے روکنا چاہتا ہے ، آیا تم لورک جاؤ گے؟(٦)

١١۔(یا بنی آدم لایفتننکم الشیطان کما اخرج ابویکم من الجنة ینزع عنھما لبا سھما

(١)اعراف٢٧(٢)اسرائ٢٧(٣)بقرہ١٦٨۔١٦٩(٤)بقرہ  ٢٦٨.(٥)نسائ١١٩۔١٢٠(٦)مائدہ٩١

لیریھما سوء اتھما انہ یراکم ھو وقبیلہ من حیث لا ترونہم)(١)

اے آدم کے فرزندو! شیطان تمہیں دھوکہ نہ دے ، جس طرح تمہارے والدین کو جنت سے باہر نکالا اور ان کے جسم سے لباس اتروا دیا تاکہ ان کی شرمگاہ کوانہیں دکھلائے ، کیونکہ وہ اور اس کے ہمنوا ایسی جگہ سے تمہیں دیکھتے ہیں اس طرح کہ تم انہیں نہیں دیکھتے۔

ج۔ ابلیس

الف۔ ابلیس لغت میں اس شخص کے معنی میں ہے جو حزن و ملال، غم و اندوہ، حیرت اور ناامیدی کی وجہ سے خاموشی پر مجبور؛ اور دلیل و برہان سے عاجز ہو۔

خدا وند عالم قرآن کریم میں فرماتا ہے :

(ویوم تقوم الساعة یبلس المجرمون)

جب قیامت آئے گی تو گناہگار اور مجرم افراد غم و اندوہ ، یاس اور نامیدی کے دریا میں ڈوب جائیں گے۔(٢)

ب۔ قرآن کریم میں ابلیس اس بڑے شیطان کا” اسم علم” ہے جس نے تکبر کیا اور سجدہ آدم سے سرپیچی کی؛ قرآن کریم میں لفظ شیطان جہاں بھی مفرد اور الف و لام کے ساتھ استعمال ہوا ہے اس سے مراد یہی ابلیس ہے ۔

ابلیس کی داستان اسی نام سے قرآن کریم کی درج ذیل آیات میں ذکر ہوئی ہے:

١۔(اِذ قلنا للملائکة اسجدو لآدم فسجدوا الا ابلیس کان من الجن ففسق عن امر ربہ افتتخذونہ و ذریتہ اولیاء من دونی و ھم لکم عدوبئس للظالمین بدلاً)

جب ہم نے فرشتوں سے کہا: آدم کا سجدہ کرو! تو ان سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے جوقوم جن سے تھا اور حکم الٰہی سے خارج ہو گیا ! آیا اسے اور اس کی اولاد کو میری جگہ پر اپنے اولیاء منتخب کرتے ہو جب کہ وہ لوگ تمہارے دشمن ہیں؟ ستمگروں کے لئے کتنا برابدل ہے ۔(٣)

٢۔(ولقد صدق علیھم ابلیس ظنہ فأتبعوہ الا فریقاً من المؤمنین وما کان لہ علیہم من

(١)اعراف٢٧(٢)روم١٢(٣)کہف٥٠

سلطانٍ…)

یقینا ابلیس نے اپنے گمان کو ان کے لئے سچ کر دکھایا اور سب نے اس کی پیروی کی سواء کچھ مومنین کے کیونکہ وہ ان پر ذرہ برابر بھی تسلط نہیں رکھتا۔(١)

اس کی داستان دوسری آیات میں شیطان کے نام سے اس طرح ہے :

١۔(فوسوس لھما الشیطان لیبدی لھما ما ووری عنھما من سوأتھما…و ناداھما ربھما الم انھکما عن تلکما الشجرة واقل لکما ان الشیطان لکما عدو مبین)

مزید  مشخصات امام زین العابدین علیہ السلام

پھر شیطان نے ان دونوں کو ورغلایا تاکہ ان کے جسم سے جو کچھ پوشیدہ تھا ظاہر کرے اور ان کے رب نے انہیں آواز دی کہ کیا تمہیں میں نے اس درخت سے منع نہیں کیا تھا؟! اور میں نے نہیں کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے ؟!(٢)

٢۔(الم اعھد الیکم یا بنی آدم ان لا تعبدوا الشیطان انہ لکم عدو مبین)

اے آدم کے فرزندو! کیا میں نے تم سے عہد نہیںلیا کہ تم لوگ شیطان کی پیروی نہ کروکیونکہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے؟!(٣)

٣۔(ان الشیطان لکم عدو فاتخذوہ عدواً انما یدعوا حزبہ لیکونوا من اصحاب السعیر) (٤)

یقینا شیطان تمہارا دشمن ہے لہٰذا اسے دشمن سمجھو وہ صرف اپنے گروہ کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ اہل نار ہوں!

کلموںکی تشریح

١۔ مارج: مرج مخلو ط ہونے کے معنی میں ہے اور مارج اس شعلہ کو کہتے ہیں جو سیاہی آتش سے مخلوط ہو۔

٢۔ سموم:  دو پہر کی نہایت گرم ہوا کو کہتے ہیں، اس وجہ سے کہ زہر کے مانند جسم کے سوراخوں  کے اندر اثر کرتی ہے ۔

٣۔ یزغ  : منحرف ہوتا ہے ، و من یزغ منھم عن امرنا، یعنی تمام ایسے لوگ جو راہ خدا سے

(١)سبا٢٠۔٢١(٢)اعراف٢٠۔٢٢(٣)یس٦٠(٤)فاطر  ٦.

منحرف ہوتے ہیں۔

٤۔ محاریب: جمع محراب، صدر مجلس یا اس کی بہترین جگہ کے میں ہے یعنی ایسی جگہ جو بادشاہ کو دوسرے افراد سے ممتاز کرتی ہے وہ حجرہ جو عبادت گاہ کے سامنے ہوتا ہے ، یاوہ مسجدیںجہاں عبادت ہوتی ہے ۔

٥۔ جفان         :  جفنہ کی جمع ہے ،کھانا کھانے کا ظرف اور برتن۔

٦۔ جواب:کھانا کھانے کے بڑے بڑے ظروف کو کہتے ہیں جو وسعت اور بزرگی کے لحاظ سے حوض کے مانند ہوں۔

٧۔ راسیات:راسیہ کی جمع ہے ثابت اور پایدار چیز کو کہتے ہیں۔

٨۔ عفریت: (دیو)جنوںمیں سب سے مضبوط اور خبیث جن کو کہتے ہیں۔

٩۔ رصد : گھات میں بیٹھنا، مراقبت کرنا، راصد و رصد یعنی پاسدار و نگہبان ”رصدا” آیت میں کمین کے عنوان سے محافظ کے لئے استعمال ہوا ہے ۔

١٠۔ طرائق:  طریقہ کی جمع ہے یعنی راہ، روش اور حالت خواہ اچھی ہو یا بری۔

قدداً:  قدة کی جمع ہے جو ایسے گروہ اور جماعت کے معنی میں ہے جس کے خیالات جدا جدا ہوں اور طرائق قدداً یعنی ایسی پارٹی اور گروہ جس کے نظریات الگ الگ ہوں اور سلیقے فرق کرتے ہوں۔

١١۔ قاسطون:قاسط کی جمع ہے اور ظالم کے معنی میں ہے ، قاسطان جن ،ان ستمگروں کو کہا جاتا ہے جنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا ہے ۔

١٢۔ رشد:  درستگی اورپائداری ؛ضلالت و گمراہی سے دوری۔

١٣۔سفیہ:  جو دین کے اعتبار سے جاہل ہو؛ یابے وقوف اوربے عقل ہو۔

١٤۔ شطط: افراط اور زیادہ روی؛ حق سے دوررہ کر افراط اور زیادہ روی کو کہتے ہیں۔(وقلنا علیٰ اللہ شططاً) یعنی حق سے دور باتوں کے کہنے اور خدا کی طرف ظالمانہ نسبت کے دینے میں ہم نے افراط سے کام لیا۔

١٥۔ یعو ذون:پناہ مانگتے ہیں، یعوذبہ ، اس کی پناہ چاہتے ہیں اور خود کو اس سے منسلک کرتے ہیں۔

١٦۔ رھقاً:طغیاناً و سفھاً ”زادوھم رھقا”یعنی ان کی سرکشی ، بیوقوفی اورذلت و خواری میں اضافہ ہوا۔

١٧۔ دابةالارض:زمین پر چلنے والی شۓ ، دابة تمام ذی روح کا نام ہے خواہ نر ہوں یا مادہ، عاقل ہوں یا غیر عاقل لیکن زیادہ تر غیر عاقل ہی کے لئے استعمال ہوتا ہے اور یہاں پر ”دابة الارض” سے مراددیمک ہے جو لکڑی کو کھا جاتی ہے ۔

١٨۔ منساتہ:اس کا عصا، عرب جس لکڑی سے جانوروںکو ہنکاتے ہیں اس کو منساة کہتے ہیں۔

١٩۔ غیب:غیر محسوس، یعنی ایسی چیز جو حواس کے ذریعہ قابل درک نہ ہو اور حس کی دسترس سے باہر ہو یا پوشیدہ ہو؛ جیسے : خدا وند خالق اور پروردگار کہ جس تک انسان اپنی عقل اور تدبیرکے سہارے اسباب و مسببات میں غور و فکر کر کے پہنچتا ہے اور اسے پہچانتا ہے نہ کہ حواس کے ذریعہ اس لئے کہ نگاہیں اسے دیکھ نہیں  سکتیں اس کی بے مثال ذات حس کی دسترس سے باہر اور حواس اس کے درک سے عاجز اور بے بس ہیں، نیز جو چیزیں پوشیدہ اور مستور ہیں جیسے وہ حوادث جو آئندہ وجود میں آئیں گے یا ابھی بھی ہیں لیکن ہم سے پوشیدہ ہیں اور ہمارے حواس سے دور ہیں، یا جو کچھ انبیاء کی خبروں سے ہم تک پہنچا ہے ،یہ دونوں قسمیں یعنی : وہ غیب جس تک رسائی ممکن نہیں ہے اور حواس کے دائرہ سے باہر ہیں،یاوہ غیب جوزمان اور مکان کے اعتبار سے پوشیدہ ہے یا وہ خبریں جو دورو دراز کے لوگوں سے ہم تک پہنچتی ہیں ساری کی ساری ہم سے غائب اور پوشیدہ ہیں۔

٢٠۔ رجوم: رجم اور رُجْم کی جمع ہے یعنی بھگانے اور دور کرنے کا ذریعہ

٢١۔زخرف:زینت، زخرف القول: باتوںکو جھوٹ سے سجانا اور آراستہ کرنا۔

٢٢۔ یوحی : یوسوس، ایحاء یہاں پر وسوسہ کرنے کے معنی میں استعمال ہواہے ۔

٢٣۔ غرور: باطل راستہ سے دھوکہ میں ڈالنا اور غلط خواہش پیدا کرنا۔

٢٤۔ یقترف  ومقترفون: یقترف الحسنة او السیئة، یعنی حاصل کرتا ہے نیکی یا برائی، مقترف ، یعنی : کسب کرنے اور عمل کرنے والا۔

٢٥۔مبذرین :  برباد کرنے والے ، یعنی جو لوگ اپنے مال کو اسراف کے ساتھ عیش و عشرت میں صرف کرتے ہیں۔ اور اسے اس کے مصرف کے علاوہ میں خرچ کرتے ہیں۔

٢٦۔ خطوات الشیطان: شیطان کے قدم، خطوہ یعنی ایک قدم، ولا تتبعوا خطوات الشیطان یعنی شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو اور اس کے وسوسوں کی جانب توجہ نہ کرو۔

٢٧۔ فحشائ:زشت اور بری رفتار و گفتار اور اسلامی اصطلاح میںنہایت برے گناہوں کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔

٢٨۔ مَیْسِر:قمار ( جوا) زمانہ جاہلیت میں عربوں کا قمار”ازلام” اور ”قداح”کے ذریعہ تھا۔

ازلام : زَلَم کی جمع، تیر کے مانند لکڑی کے ایک ٹکڑے کو کہتے ہیں کہ ان میں سے کسی ایک پر لکھتے تھے: میرے پروردگار نے مجھے حکم دیا ہے اور دوسرے پر لکھتے تھے کہ میرے پروردگار نے نہی کی ہے  اور تیسرے کو بدون کتابت چھوڑ دیتے تھے اور ایک ظرف میں ڈال دیتے تھے اگر امر و نہی میں سے کوئی ایک باہرآتا تھا تو اس پر عمل کرتے تھے۔ اوراگر غیر مکتوب نکلتا تھا تو دوبارہ تیروں کو ظرف میں ڈال کر تکرار کرتے تھے، ازلام کو قریش ایام جاہلیت میں کعبہ میں قرار دیتے تھے تاکہ خدام اور مجاورین قرعہ کشی کا فریضہ انجام دیں۔

قِداح: قدح کی جمع ہے لکڑی کے اس ٹکڑے کو کہتے ہیں جو طول میں دس سے ١٥ سینٹی میٹر اور عرض میں کم، وہ صاف اور سیدھا ہوتا ہے کہ ایک پر ”ہاں” اور دوسرے پر ”نہیں” اور تیسرے کو بدون کتابت چھوڑ دیتے تھے اور اس کے ذریعہ جوا اور قرعہ انجام دیتے تھے۔

٢٩۔ سوأئتھما: عوراتھما، ان دونوں کی شرمگاہیں۔

٣٠۔قبیل:ایک جیسا گروہ اور صنف، ماننے والوں کی جماعت کہ آیہ میں : انہ یراکم ھو و قبیلہ اس سے مراد شیطان کے ہم خیال اور ماننے والے ہیں۔

٣١۔ فَسَقَ       فسق، لغت میں حد سے تجاوز کرنے اور خارج ہونے کو کہتے ہیں۔ اور اسلامی اصطلاح میں حدود شرع اور اطاعت خداوندی سے فاحش اور واضح دوری کو کہتے ہیںیعنی بدرفتاری اور زشت کرداری کے گندے گڑھے میںگر جانے کو کہتے ہیں؛ فسق کفر، نفاق اورگمراہی سے اعم چیز ہے ۔ جیسا کہ خداوند سبحان فرماتا ہے :

١۔(وما یکفر بھا الا الفاسقون)

فاسقوں کے علاوہ کوئی بھی میری آیتوں کا انکار نہیں کرتا۔(١)

٢۔(ان المنافقین ھم الفاسقون) یقینا منافقین ہی فاسق ہیں۔(٢)

(١)بقرہ٩١(٢)توبہ٦٧

٣۔ (فمنھم مہتدٍ و کثیر منھم فاسقون)

ان میں سے بعض ہدایت یافتہ ہیں اور بہت سارے  فاسقہیں۔(١)

فسق ایمان کے مقابل ہے جیسا کہ ارشادہوتاہے:

(منھم المؤمنون واکثرھم الفاسقون)

ان میں سے بعض مومن ہیں اور زیادہ تر فاسق ہیں۔(٢)

د۔ روائی تفسیر میں جن کی حقیقت

سیوطی نے سورۂ جن کی تفسیر میں ذکر کیا ہے :

جنات حضرت عیسیٰ اور حضرت محمدۖ کے درمیان فاصلہ کے دوران آزاد تھے اور آسمانوں پر جاتے تھے،جب خداوند عالم نے حضرت محمدۖ کو مبعوث کیا تو آسمان دنیا میں ان کا جانا ممنوع ہو گیا اور ان کاشہاب ثاقب کے ذریعہ پیچھا کیا جاتا تھا اور بھگا دیا جاتا تھا۔ جنات نے ابلیس کے پاس اجتماع کیا تو اس نے ان سے کہا: زمین میں کوئی حادثہ رونما ہوا ہے جائو گردش کرو اور اس کا پتہ لگائو اور مجھے اس واقعہ سے باخبر کرو کہ وہ حادثہ کیا ہے ؟ پھر اکابر جنوں کے ایک گروہ کو یمن اور تہامہ کی طرف روانہ کیا ۔ تو ان لوگوں نے پیغمبر اکرمۖ کو نمازصبح کی ادائیگی میں مشغول پایا جو ایک خرمہ کے درخت کے کنارے قرآن پڑھ رہے تھے؛ جب ان کے قریب گئے تو آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے: خاموش رہو،آپ ۖجب نماز سے فارغ ہوئے تو وہ سب کے سب اپنی قوم کی طرف واپس ہوئے اور انذار میں مشغول ہو گئے کیونکہ ایمان لا چکے تھے پیغمبر بھی ان کی طرف اس آیت کے نزول سے پہلے متوجہ نہیں ہوئے تھے ۔

(قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن)

کہو!مجھے وحی کی گئی ہے کہ کچھ جنوںنے میری بات پر کان دھرا.

کہاجاتا ہے کہ یہ گروہ اہل نصیبین کے سات لوگوں کا تھا۔(٣)

جو کچھ بیان ہوا ہے جن، شیاطین اور ابلیس کے مختصر حالات تھے جو قرآن کریم میں ذکر ہوئے ہیں لیکن جو کچھ روایات میں ذکر ہوا ہے وہ در ج ذیل ہے :

 

(١)حدید٢٦(٢)آل عمران١١٠(٣) تفسیر الدر المنثور ج٦ ص ٢٧٠.

١۔ امام باقر نے سلیمان کے سلسلے میں فرمایا: سلیمان بن داؤد نے ایک دن اپنے ساتھیوں سے کہا: خداوند عالم نے مجھے ایسی بادشاہی عطا کی ہے کہ اس سے پہلے کسی کو عطا نہیں ہوئی ہے ، ہوا کو میرے قبضہ میں قرار دیا اور انسان و جن،وحوش و طیور کو میر امطیع اور فرمانبردار بنایا مجھے پرندوں سے بات کرنے کا سلیقہ دیا حتیٰ سب کچھ مجھے دیا ہے ، لیکن ان تمام نعمتوں اور بادشاہی کے باوجود ایک دن بھی خوشی نصیب نہیں ہوئی لیکن کل اپنے قصرمیں داخل ہونا چاہتا ہوںتاکہ اس کی بلندی پر جا کر اپنے تحت فرمان ز مینوں کا نظارہ کروں گا لہٰذا کسی کو میرے پاس آنے کی اجازت نہ دینا تاکہ میں آسودہ خاطر رہوں اور کوئی ایسی چیز سننا نہیں چاہتا جو آج کے دن کو بد مزہ اور مکدر بنا دے ان لوگو ں نے کہا: جی ہاں ، ایسا ہی ہوگا۔

آنے والے کل کو اپنا عصا ہاتھ میں لیا اور اپنے قصر کی بلند ترین جگہ پر گئے اور اپنے عصا پر ٹیک لگا کر  خوش و خرم اپنی سر زمین کا تماشہ کرنے لگے اور جو کچھ انہیں عطا ہوا تھا اس پرخوش حال ہوئے۔

اچانک ایک خوبرو، خوش پوشاک جوان پر نظر پڑ گئی، جوقصر کے ایک زاوئیے سے ان کی طرف آرہا تھا۔سلیمان نے اس سے پوچھا : کس نے تم کو اس قصر میں داخل کیا ہے جب کہمیں نے طے کیا تھا  کہ آج قصر میں تنہا رہوں ؟ بتائو تاکہ میں بھی جانوں کہ کس کی اجازت سے داخل ہوئے ہو؟ اس جوان نے کہا: اس قصر کا پروردگار مجھے یہاں لایا ہے اور میں اس کی اجازت سے داخل ہوا ہوں؟ سلیمان نے کہا: قصر کا پروردگار اس کے لئے مجھ سے زیادہ سزاوار ہے ، تم کون ہو؟ کہا: میں موت کا فرشتہ ہوں، سلیمان  نے کہا: کس لئے آئے ہو؟ کہا : آپ کی روح قبض کرنے آیا ہوں؛ کہا: جس بات کا تمہیں حکم دیا گیا ہے وہ انجام دو اس لئے کہ آج کا دن میری خوشی کا دن ہے خدا وند عالم اپنی ملاقات کے علاوہ کوئی اور خوشی میرے لئے نہیں چاہتا! پھر ملک الموت نے سلیمان کی روح اسی حال میں کہ اپنے عصا پرتکیہ کئے ہوئے تھے قبض کر لی۔

سلیمان مدتوں اپنے عصا پر تکیہ دئے کھڑے رہے لوگ انہیں دیکھ کر زندہ خیال کر رہے تھے، پھر اختلاف اور فتنہ میں مبتلا ہوگئے ان میںسے بعض نے کہا: سلیمان اتنی مدت تک بغیر سوئے ، تھکے ، کھائے، پئے اپنے عصا کے سہارے کھڑے رہے لہٰذا یہی ہمارے پروردگار ہیں لہٰذ ا ان ہی کی عبادت کرنی چاہئے، دوسرے گروہ نے کہا: سلیمان نے جادو کیا ہے وہ جادو کے ذریعے ایسا دکھار ہے ہیں کہ کھڑے ہوئے ہیں اور اپنے عصا پر ٹیک لگائے ہیں، جبکہ ایسا نہیں ہے ۔ مومنوں نے کہا: سلیمان نبی ہیں اور خدا کے بندے ہیں ، خدا جس طرح چاہے انہیں نمایاںکرے۔

اس اختلاف کے بعد، خدا وند عالم نے دیمکوںکو بھیجا تاکہ سلیمان کے عصا کو چاٹ جائیں، عصا ٹوٹا اور سلیمان اپنے قصر سے گر پڑے، یہ خدا وند عالم کا ارشاد ہے :

(فلما خرَّ تبینت الجن ان لو کانوا یعلمون الغیب ما لبثوا فی العذاب المہین)

جب زمین پر گرے تو جنوں نے سمجھا کہ اگر غیب سے آگاہ ہوتے تو خوار کنندہ عذاب میںمبتلا نہیںہوتے۔(١)

٢۔ امام صادق سے سوال ہوا :خدا وند عالم نے کس لئے آدم کو بغیر ماں باپ کے پیدا کیا اور عیسیٰ کو بغیر باپ کے خلق کیا اور باقی لوگوں کو ماں باپ دونوں سے؟ تو امام نے جواب دیا: اس لئے کہ لوگ خدا وند عالم کی قدرت کی تمامیت اور کمال کو جانیں اور سمجھیں کہ جس طرح وہ اس بات پر قادر ہے کہ کسی موجود کوفقط مادہ سے بغیر نر کے خلق کرے اسی طرح وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ موجود کو بغیر نر و مادہ کے خلق کرے۔ خداوندعالم نے ایسا کیا تاکہ اندازہ ہو کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ (٢)

قصص الانبیاء میں ذکر ہوا ہے :

خدا وند عالم نے ابلیس کو حکم دیا تاکہ آدم کا سجدہ کرے، ابلیس نے کہا: پروردگارا تیری عزت کی قسم! اگر مجھے آدم کے سجدہ سے معاف کر دے تو میں تیری ایسی عبادت کروں گا کہ کسی نے ویسی تیری عبادت نہیں کی ہوگی، خدا وند عالم نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ میری خواہش کے مطابق میری اطاعت ہو..۔(٣)

آپ سے ابلیس کے بارے میں پوچھا گیا: آیا ابلیس فرشتوں میں سے تھا یا جنوں میں سے ؟ فرمایا: فرشتے اسے اپنوں میں شمار کرتے تھے اور صرف خدا جانتا تھاکہ ابلیس ان میں سے نہیں ہے ۔ پھر جب سجدہ کا حکم دیا گیا تو اس نے اپنی حقیقت ظاہر کر دی۔

آپ سے بہشت آدم کے بارے میں سوال کیا گیا: آپ نے فرمایا: دنیاوی باغوں میں سے ایک باغ تھا جس پر ماہ وخورشید کی روشنی پڑتی تھی ، کیونکہ اگر وہ جاویدانی باغوں میں سے ایک باغ ہوتا تو ہرگز وہاں سے باہر نہیں کئے جاتے۔(٤)

خدا وند عالم کے کلام (فبدت لھما سؤائتھما)برائیاں ان پر واضح ہوگئیں ۔ (٥) کے بارے میں

(١)سورہ ٔ سبا ء  ١٤.اور بحار الانوار : ج ١٤، ص ١٣٦ ، ١٣٧، بحوالہ ٔ علل الشرائع و عیون اخبار الرضا   ـ.(٢)  بحار الانوار  :ج ١١، ص ١٠٨.

(٣) بحار الانوار  : ج١١، ص٤٤ا.(٤) بحار الانوار  : ج١١، ص١٤٣.(٥)سورہ ٔ طہ:آیت ١٢١.

سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ان دونوں کی شرمگاہیں ناقابل دید تھیں پھر اس کے بعد آشکار ہو گئیں۔(١)

ایک کافر اور زندیق نے امام صادق سے سوال کیا:

کہانت: (ستارہ شناسی، غیب گوئی )کس طرح اور کس راہ سے وجود میں آئی؟ اور کاہن کہاں سے لوگوں کو حوادث کی خبر دیتے تھے؟ امام نے فرمایا: کہانت زمانہ جاہلیت اور انبیاء کی فترت کے دور میں وجود میں آئی ہے ، کاہن قاضی اور فیصلہ کرنے والوں کی طرح ہوتا تھا اور لوگ جن مسائل میں مشکوک ہوتے تھے انکی طرف رجوع کرتے تھے اور وہ لوگوںکو حوادث اور واقعات کی خبر دیتے تھے یہ خبر دینا بھی مختلف راہوں سے تھا جیسے ذکاوت،ہوشیاری، وسوسہ نفس اور روح کی زیر کی اسی ساتھ شیطان بہت سی باتیں کاہن کے دل میں القاء کردیتا تھا، اس لئے کہ شیطان ان مطالب کو جانتا تھا اور انہیں کاہن تک پہنچاتا تھا اور اسے اطراف و جوانب کے حوادث اور روداد سے با خبر کرتا تھا۔

رہا سوال آسمانی خبروں کا: جب تک شیاطین شہاب کے ذریعہ آسمان سے بھگائے نہیںجاتے تھے اور آسمانی اخبار کے سننے، کے لئے کوئی حجاب اور مانع نہیں تھا وہ مختلف جگہوں پر چوری چھپے بات سننے کے لئے گھات لگا کر بیٹھ جاتے تھے اور ان اخبار کو سنتے تھے، ان لوگوں کی چوری چھپے سننے سے ممانعت کی وجہ بھی یہ تھی کہ زمین پر وحی آسمانی کے مانندکوئی ایسی چیز وجود میں نہ آئے جو لوگوں کو شک و تردید میں مبتلا کردے اور وحی خداوندی کی حقیقت ان سے مخفی رکھے وحی جسے خدا وند عالم حجت ثابت کرنے اور شبہوں کو بر طرف کرنے کے لئے بھیجتا ہے اسی جیسی کوئی دوسری چیز نہیں ہونی چاہئے۔

ایک شیطان استراق سمع کے ذریعہ اخبار آسمانی سے ایک کلمہ حوادث زمین کے بارے میں سن کر اچک لیتا تھا اور اسے زمین پر لاکر کاہن کو القا کر دیتا تھا کاہن بھی اپنی طرف سے چند اس پرکلموں کااضافہ کر تا اور حق و باطل کو ملا دیتاتھا۔

لہٰذا جو کچھ کاہن کی پیشین گوئی درست ہوتی تھی وہ وہی چیز تھی جسے شیطان نے سن کر اس تک پہونچائی تھی اور جو غلط اور نادرست ہو جاتی تھی وہ اس کی اپنی طرف سے اضافی اور باطل باتیں ہوتی تھیں اور جب شیاطین استراق سمع سے روک دیئے گئے تو کہا نت کا بھی خاتمہ ہو گیا۔

آج کل شیاطین صرف لوگوں کی خبریں کا ہنوں تک پہنچاتے ہیں،لوگ جن چیزوں سے متعلق بات کرتے

(١) بحار الانوار   :  ج١١، ص١٤٥.

ہیں اور جو کام کرنا چاہتے ہیں شیاطین حوادث و روداد خواہ قریب کے ہوں یا دور کے جیسے چوری، قتل اور لوگوں کا گم ہو جانا ،دوسرے شیاطین تک پہنچادیتے ہیں،یہ لوگ بھی انسانوں کی طرح جھوٹے اور سچے ہیں۔

اس زندیق نے امام سے کہا: شیاطین کس طرح آسمان پر جاتے تھے جبکہ وہ بھی دیگرانسانوںکی طرح غلیظ  پُر اوربھاری بدن رکھتے ہیں اور سلیمان بن داؤد کے لئے ایسی عمارتیں بنائی کہ بنی آدم کے بس کی بات نہیں تھی؟

امام  نے فرمایا: جس وقت وہ جناب سلیمان نبی کے لئے مسخر ہوئے اسی وقت وہ سنگین، غلیظ اورپُر وزن ہو گئے ورنہ وہ تو نرم و نازک مخلوق ہیں ان کی غذا سونگھنا ہے اس کی دلیل ان کا آسمان پر استراق سمع کے لئے جانا ہے ، بھاری بھرکم اور وزنی جسم اوپر جانے کی صلاحیت نہیں رکھتا مگر یہ کہ زینہ ہو یا کوئی اور ذریعہ۔(١)

ابلیس کے بارے میں کئے گئے سوال کے جواب میں کہ: کیا ابلیس فرشتوں میں سے ہے ؟ اورکیا وہ آسمانی امور میں دخالت رکھتا ہے ؟ فرمایا:ابلیس نہ تو فرشتوں میں سے تھا اور نہ ہی اس کا آسمانی امور میں کوئی دخل تھا وہ فرشتوں کے ساتھ تھا اور ملائکہ اسے اپنوں ہی میں خیال کرتے تھے یہ تو صرف خدا جانتا تھا کہ وہ ان میں سے نہیں ہے ، جب اسے آدم کے سجدہ کا حکم دیا گیا تو وہ چیز اس سے ظاہر ہو گئی جو اس کے اندر تھی ۔(٢)

جن ، شیاطین اور ابلیس کے بارے میں بحث کا خلاصہ

١۔  جن:  ایک پوشیدہ مخلوق ہے جو قابل دید نہیں ہے خدا وند عالم نے قرآن کریم میں جنوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ جنوںکو آگ کے سیاہی مائل شعلوں سے خلق کیا ہے ۔

٢۔ شیطان :  انسان ، جنات اور حیوان میں سے ہر سر کش اور متکبر شخص کو کہتے ہیں ، اس بحث میں شیطان سے مراد شیاطین جن ہیں ۔

٣۔ ابلیس: محزون، حیرت زدہ اور دلیل و برہان سے ناامید اورخاموش، محل بحث ابلیس وہی جنی مخلوق ہے جو آدم کے سجدے کا منکر ہوا۔

خدا وند عالم نے جناتوں کی داستان اور ان کا سلیمان نبی کے تابع فرمان ہونا اور ان کے لئے مجسمے ، محراب بڑے بڑے ظروف بنانے اور یہ کہ ان کے درمیان کوئی ایسا تھا جو سلیمان کے اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے ہی تخت بلقیس یمن سے شام لے آئے ان تمام چیزوں کی خبر دی ہے، اسی طرح جناب سلیمان کا ان پر تسلط جب کہ عصا

(١)  خصال شیخ صدوق : ج ١، ص ١٥٢. (٢)بحار : ج ١١، ص ١١٩.

کے سہارے کھڑے تھے اور خدا وند عالم ان کی روح قبض کر چکا تھا؛ نیز یہ بھی کہ مدتوں بعد تک اپنی جگہ پر باقی رہے یہاں تک کہ دیمکوں نے عصا کے اندر داخل ہو کر پورے عصا کو چاٹ ڈالا اور سلیمان گر پڑے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر جنوںکو اس کی خبر ہوتی اور غیب جانتے ہوتے تو اتنی مدت تک اپنے کاموں میں ثابت قدمی کا مظاہرہ نہ کرتے اور سختی برداشت نہ کرتے۔

خدا وند عالم نے ان تمام چیزوں کو قرآن کریم میں ہمارے لئے بیان کیا ہے ۔

خدا وند عالم نے فرمایا: شیاطین جنوں میں سے ہے، وہ لوگ مختلف جگہوں پر استراق سمع کے لئے کمین کرتے تھے تاکہ فرشتوں کی باتیں چرالائیں لہٰذا خاتم الانبیاء ۖ کی بعثت کے بعد خدا وند عالم نے انہیں اس کام سے روک دیا اور فرشتوں سے کہا کہ انہیں آتشی شہاب کے ذریعہ بھگا کر جلا ڈالو، اسی طرح ابلیس کی داستان اور آدم و حوا کے بہکانے اور بہشت سے خارج کرنے تک کا واقعہ قرآن کریم میں بیان ہوا ہے ، اس کی تفصیل آئندہ بحث میں آئے گی۔

٥۔ انسان

خدا وند عالم نے انسان کی خلقت اور اس کے آغاز کو قرآن کریم میں بیان کر تے ہوئے فرمایا ہے :

١۔(انا خلقناہم  من طین لازبٍ)

ہم نے انسانوں کو لس دار(چپکنے والی) مٹی سے پیدا کیا ہے۔(١)

٢۔(خلق الانسان من صلصال کالفخار)

ہم نے انسانوں کو ٹھیکرے جیسی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے ۔(٢)

٣۔(ولقد خلقنا الاِنسان من صلصالٍ من حمأٍ مسنون)

ہم نے انسان کو ایک ایسی خشک مٹی سے خلق کیا جو بدبودار اور گاڑھے رنگ کی مٹی سے ماخوذ تھی۔(٣)

٤۔(الذی احسن کل شیء خلقہ و بدأ خلق الانسان من طین٭ ثم جعل نسلہ من سلالة من مائٍ مہین٭ ثم سواہ و نفخ فیہ من روحہ و جعل لکم السمع و الابصار و الافئدة قلیلاً ما تشکرون)

خدا ند عالم نے جو چیز بھی خلق کی ہے بہترین خلق کی ہے اور انسان کی خلقت کا آغاز مٹی سے کیا ہے، پھر اس کی نسل کو ناچیز اور بے حیثیت پانی کے نچوڑسے خلق کیا پھر اس کو مناسب اور استواربنایا اور اس میں اپنی روح ڈال دی ؛ اور تمہارے لئے کان ، آنکھ اور دل بنائے مگر بہت کم ہیں جو اس کی نعمتوںکا شکر ادا کرتے ہیں۔(٤)

٥۔(یا اَیھا الناس ان کنتم فی ریبٍ من البعث فانا خلقنا کم من تراب ثم من نطفة ثم من علقة ثم من مضغة مخلقة و غیر مخلقة لنبین لکم و نقر فی الارحام ما نشاء الیٰ اجل

(١)صافات١١.(٢)رحمن١٤.(٣)حجر٢٦.(٤) سجدہ : ٩۔ ٧.

مسمی ثم نخرجکم طفلا ثم لتبلغوا اشدکم و منکم من یتوفی و منکم من یرد الیٰ ارذل العمر لکیلا یعلم  من بعد علم شیئا)

اے لوگو! اگر تم لوگ روز قیامت کے بارے میں مشکوک ہو تو (غور کرو کہ) ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ، پھر نطفہ سے اور اس کے بعد جمے ہوئے خون سے ، پھر ”مضغہ ” ( گوشت کے لوتھڑے) سے کہ جس میں سے بعض شکل و صورت اور خلقت کے اعتبار سے مکمل ہوجا  تا ہے اور بعض ناقص ہی رہ جاتا ہے ، تا کہ تمہیں بتائیں کہ ہم ہر چیز پر قادر ہیں؛ اور جنین کو جب تک چاہتے ہیں مدت معین کیلئے رحم مادر میں رکھتے ہیں پھر تم کو بصورت طفل رحم مادر سے باہر لاتے ہیں تاکہ حد بلوغ و رشد تک پہونچو اس کے بعد ان میں سے بعض مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ اتنی عمر پاتے ہیں کہ زندگی کے بدترین مرحلہ تک پہنچ جاتے ہیں اس درجہ کہ وہ علم و آگہی کے باوجود بھی کچھ نہیں جانتے۔(١)

٦۔ (ولقد خلقنا الانسان من سلالة من طین٭ ثم جعلناہ نطفة فی قرار مکین٭ ثم خلقنا النطفة علقة فخلقنا العلقة مضغة فخلقنا المضغة عظاماً فکسونا العظام لحما ثم انشاناہ خلقاً آخر فتبارک اللہ احسن الخالقین٭ثم انکم بعد ذلک لمیتون٭ ثم انکم یوم القیامة تبعثون)

ہم نے انسان کو مٹی کے عصارہ سے خلق کیا، پھر اسے ایک نطفہ کے عنوان سے پر امن جگہ میں قرار  دیا، پھر نطفہ کو علقہ کی صورت میں اور علقہ کو مضغہ کی صورت میں اور مضغہ کو ہڈیوں کی شکل میں بنایا اور ان ہڈیوں پر گوشت چڑھایا؛ پھر اسے ایک نئی خلقت عطا کی ؛تو بابرکت ہے وہ خدا جوسب سے بہترین خلق کرنے والاہے ، پھر تم لوگ اس کے بعد مر جائو گے اور پھرروز قیامت اٹھائے جائوگے۔(٢)

٧۔(ھو الذی خلقکم من تراب ثم من نطفة ثم من علقة ثم یخرجکم طفلاً ثم لتبلغوا اشدکم ثم لتکونوا شیوخاًمنکم من یتوفی من قبل و لتبلغوا اجلا مسمیٰ و لعلکم تعقلون)

وہ ذات وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے خلق کیا پھر نطفہ سے پھر علقہ سے پھر تمہیں ایک بچہ کی شکل میں (رحم مادرسے) باہر لاتا ہے اس کے بعدتم کمال قوت کو پہنچتے ہو اور پھر بوڑھے ہوجاتے ہو، تم میں سے بعض لوگ اس مرحلہ تک پہنچنے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں اور آخر کار تم اپنی عمر کی انتہاء کو پہنچتے ہو شاید غور و فکر کرو۔(٣)

٨۔( فلینظر الانسان مم خلق٭ خلق من ماء دافق٭ یخرج من بین الصلب و الترائب)

(١) حج ٥(٢)مومنون١٢۔١٦(١)مومن٦٨

انسان کو غور کرنا چاہئے کہ وہ کس چیز سے خلق ہواہے؛ وہ ایک اچھلتے ہوئے پانی سے خلق ہو اہے جوپیٹھ اورسینہ کی ہڈیوں کے درمیان سے خارج ہوتا ہے ۔(١)

٩۔( خلقکم من نفس واحدةٍ ثم جعل منھا زوجھا)

اس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کیا ہے پھر اس سے اس کا جوڑ ا خلق کیا۔(٢)

١٠۔ (ھو الذی انشاء کم من نفس واحدة فمستقر و مستودع)

وہ ایسی ذات ہے جس نے تمہیں ایک نفس سے خلق کیا لہٰذا تم میں سے بعض پائدار ہیں اور بعض ناپائدار ۔

١١۔(ولقد عہدنا الیٰ آدم من قبل فنسی ولم نجد لہ عزما٭و اذ قلنا للملائکةاسجدوا لآدم فسجدو ا الا ابلیس اَبیٰ٭ فقلنا یا آدم ان ھذا عدولک و  لزوجک فلا یخرجنکما من الجنة فتشقیٰ٭ ان لک الا تجوع فیھا ولا تعریٰ، و انک لا تظمؤا فیھا ولا تضحیٰ٭ فوسوس الیہ الشیطان قال یا آدم ھل ادلک علیٰ شجرة الخلد، و ملک لا یبلیٰ٭ فاکلا منھا فبدت لھما سو أ تھما و طفقا یخصفان علیھما من ورق الجنة و عصی آدم ربہ فغویٰ٭ ثم اجتبٰہ ربہ فتاب علیہ و ھدی قال اھبطا منھا جمیعا بعضکم  لبعض عدو فاِمَّا یا تینکم منی ھدی فمن اتبع ھدای فلا یضل و لا یشقیٰ، و من اعرض عن ذکری فان لہ معشیة ضنکا و نحشرہ یوم القیامة اعمیٰ)

ہم نے اس سے پہلے آدم سے عہد و پیمان لیا تھا لیکن انہوں نے بھلا دیا اورہم نے ان میںعزم محکم کی کمی پائی اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا: ”آدم کا سجدہ کرو” تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے کہ اس نے انکار کیا! پھر ہم نے کہا اے آدم! یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے! کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں بہشت سے باہر کر دے جس کی بنا پر زحمت و رنج میں مبتلا ہو جائو؛ تم جنت میں کبھی بھوکے اور ننگے نہیں رہوگے؛ اور ہرگز پیاس اور شدید گرمی سے دوچار نہیں ہوگے لیکن شیطان نے انہیں ورغلایا اور کہا: اے آدم! کیا تم چاہتے ہو کہ تمہیں دائمی زندگی کے درخت اور لا زوال ملک کی راہنمائی کروں؟ پھر تو ان دونوں نے اس میں سے کچھ نوش فرمایا اور ان کی شرمگاہیں ظاہر ہو گئیں تو اپنی پوشش کے لئے جنتی پتوں کا سہارا لیاہاں آدم نے اپنے

(١)طارق٥۔٧(٢)انعام٩٨

پروردگار کی نافرمانی کی اور اس کی جزا سے محروم ہو گئے۔

پھر ان کے رب نے ان کاانتخاب کیا اور ان کی توبہ قبول کی اور راہنمائی کی اور فرمایا: تم دونوں ہی نیچے اثرجائو تم میں بعض ، بعض کادشمن ہے، لیکن جب تمہاری سمت میری ہدایت آئے گی اور اس ہدایت کی پیروی کروگے تو نہ گمراہ ہوگے اور نہ ہی کسی رنج و مصیبت میں گرفتار ! اور جو بھی میری یاد سے غافل ہو جائے گا وہ سخت اور دشوار زندگی سے دوچار ہوگا اور قیامت کے دن اسے ہم اندھا محشور کریں گے۔(١)

١٢۔(ولقد خلقنا کم ثم صورناکم ثم قلنا للملائکة اسجدوا لآدم فسجدوا الا ابلیس لم یکن من الساجدین٭ قال ما منعک الا تسجد اذ اَمرتک قال انا خیر منہ خلقتنی من نار و خلقتہ من طین٭ قال فاھبط منھا فما یکون لک ان تتکبر فیھا فاخرج انک من الصاغرین٭ قال انظرنی الیٰ یوم یبعثون٭ قال انک من المنظرین٭قال فبمااغویتنی لاقعدن لھم صراطک المستقیم٭ ثم لا تینھم من بین ایدیھم و من خلفھم و عن ایمانھم و عن شمائلھم و لا تجد اکثر ھم شاکرین٭قال اخرج منہا مذئوما مدحورا لمن تبعک منھم لا ملئن جھنم منکم اجمعین ٭ و یا آدم اسکن انت و زوجک الجنة فکلا من حیث شئتما و لا تقربا ھذہ الشجرة فتکونا من الظالمین٭ فوسوس لھما الشیطان لیبدی لھما ما ووری عنھما من سوء اْ تھما و قال ما نھاکما ربکما عن ھذہ الشجرة الاا ن تکونا ملکین او تکونا من الخالدین٭وقاسمھما انی لکما لمن الناصحین٭ فدلھما بغرور فلما ذاقا الشجرة بدت لھما سوئاتھما و طفقا یخصفانِ علیھما من ورق الجنة ونادھما ربھما الم انھکما عن تلکما الشجرة و اقل لکما ان الشیطان لکما عدو مبین٭ قالا ربنا ظلمنا انفسنا و ان لم تغفرلنا و ترحمنا لنکونن من الخاسرین٭ قال اھبطوا بعضکم لبعض عدو و لکم فی الارض مستقر و متاع الیٰ حین٭ قال فیھا تحیون و فیھا تموتون و منھا تخرجون)

ہم نے تمہیں خلق کیا پھر شکل و صورت دی؛ اس کے بعد فرشتوں سے کہا: ”آدم کا سجدہ کرو” وہ سب کے سب سجدہ میں گر پڑے ؛ سوا ابلیس کے کہ وہ سجدہ گزاروں میں سے نہیں تھا خدا وندعالم نے اس سے کہا: ”جب میں نے تجھے حکم دیا تو کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے بازرکھا؟” کہا: ”میں اس سے بہتر ہوں؛

(١)طہ١١٥۔١٢٤

مجھے تونے آگ سے خلق کیا ہے اور اسے مٹی سے !” فرمایا: اس منزل سے نیچے اترجائو تجھے حق نہیں ہے کہ اس جگہ تکبر سے کام لے! بھاگ جا اس لئے کہ تو پست اور ذلیل ہے کہا: مجھے روز قیامت تک کی مہلت دے دے فرمایا :تو مہلت والوں میں سے ہے۔

بولا: اس وقت تونے بے راہ کر دیا ہے ؛ تو میں تیری راہ مستقیم پر ان لوگوں کے لئے گھات لگا کر بیٹھوں گا پھر انہیں سامنے ، پیچھے ، دائیں اور بائیں سے بہکائوں گا؛ اور ان میں سے اکثر کو شکر گز ار نہیں پائے گا! فرمایا: اس مقام سے ذلت و خواری اور ننگ و عارکے ساتھ نکل جا یقینا جو بھی تیری پیروی کرے گامیں تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا! اور اے آدم! تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چاہو کھائو لیکن اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ اپنے اوپر ظلم کرنے والوں میں سے ہو جائوگے! پھر شیطان نے ان دونوںکو وسوسہ میں ڈالاتاکہ جو کچھ ان کے اندرپوشیدہ تھا آشکار کر دے اور کہا: تمہارے رب نے اس درخت سے اس لئے منع کیا ہے کہ کھا کے فرشتہ نہ بن جائو گے، یا ہمیشہ رہنے والے بن جائو گے؛ اور ان کے اطمینان کے لئے قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔

اس طرح سے انہیں فریب دیا اور جیسے اس درخت کو چکھا تو ان کی شرمگاہیں ان پر آشکار ہو گئیں: اور جنتی پتے اپنے آپ کو چھپانے کے لئے سینے لگے؛ ان کے پروردگار نے آواز دی کہ: کیا میں نے تم لوگوںکو اس درخت سے منع نہیں کیا تھا؟ اورنہیں کہاتھا کہ شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے ؟!

ان لوگوں نے کہا: خدایا !ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا! اگر تو ہمیں معاف نہیں کرے گا اور ہم پر رحم نہیں کھائے گا تو ہم گھاٹا اٹھانے والوں میں قرار پا ئیں گے! فرمایا: اپنی منزل سے نیچے اتر جا ، جبکہ تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہوںگے! اور تمہارے لئے زمین میں معین مدت تک کے لئے استفادہ کا موقع اور ٹھکانہ ہے؛ فرمایا: اس میں زندہ ہو گے، مرو گے : اور اسی سے نکالے جائو گے ۔(١)

١٣۔(قال أ اسجد لمن خلقت طینا٭ قال ارئیتک ھذا الذی کرمت علی لئن أخرتن الیٰ یوم القیٰمة لاحتنکن ذریتہ الا قلیلا٭قال اذھب فمن تبعک منھم فان جھنم جزاؤکم جزا ئً موفورا٭واستفزز من استطعت منھم بصوتک و اجلب علیھم بخیلک و رجلک و شارکھم فی الاموال و الاولاد و عد ھم و ما یعد ھم الشیطان الا غروراً٭ ان عبادی لیس لک علیھم سلطان و کفیٰ بربک وکیلاً)

 

(١)اعراف١١۔٢٥

ابلیس نے کہا: آیا میں اس کا سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے خلق کیاہے ؟ پھر کہا: بتاجس کو تونے مجھ پر فوقیت دی ہے (کس دلیل سے ایسا کیا ہے ؟) اگر مجھے قیامت تک زندہ رہنے دے تو اس کی تمام اولاد جز معدودے چند کے سب کوگمراہ اور تباہ کر دوں گا۔ فرمایا: جا! ان میں سے جو تیری پیروی کرے گا تو تم سب کے لئیجہنم  زبردست عذاب ہے ۔

ان میں سے جسے چاہے اپنی آواز سے گمراہ کر! پیادہ اور سوار(گمراہ کرنے والی) فوج کوان کی طرف روانہ کرنیز ان کی ثروت اور اولاد میں شریک ہو جا؛اور انہیں وعدوں میں مشغول رکھ! لیکن شیطان دھوکہ، فریب کے علاوہ کوئی وعدہ نہیں دیتا، تجھے کبھی میرے بندوں پر تسلط حاصل نہیں ہوگا؛ اوران کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ان کا محافظ اور نگہبان تیرا رب ہے ۔(١)

١٤۔(قال رب بما اغویتنی لا زینن لھم فی الارض ولا غوینھم اجمعین٭ الا عبادک منھم المخلصین ٭ قال ھذا صراط علیّ مستقیم٭ ان عبادی لیس لک علیھم سلطان الا من اتبعک من الغآوین٭ و ان جھنم لموعدھم اجمعین )

ابلیس نے کہا: خدایا! اب جب کہ تونے مجھے گمراہ کر دیا، میں بھی زمین میںان کی زینت کا سامان فراہم کروں گا؛ اور سب کو گمراہ کردوں گا سوائے تیرے مخلص بندوں کے، فرمایا: یہ مستقیم راہ ہے جس کا ذمہ دار میں ہوں تو میرے بندوں پرمسلط نہیں ہو پائے گا مگر ایسے گمراہ جو کہ تیری پیروی کریں گے یقینا جہنم ان سب کا وعدہ گا ہ ہے ۔(٢)

کلمات کی تشریح

١۔ لازب:  سخت اور آپس میں چپکنے والی مٹی کو کہتے ہیں۔

٢۔ صلصال: حرارت کے بغیر خشک شدہ مٹی کو کہتے ہیں۔

٣۔ حمائ: سیاہ بدبودار مٹی

٤۔ مسنون: صاف اور شکل دار مٹی کو کہتے ہیں۔

٥۔ مخلقة : مکمل صورت کے حامل جنین کو کہتے ہیں۔

(١)اسرائ٦١۔٦٥(٢)حجر٣٩۔٤٣

٦۔ صلب و الترائب: صلب مرد کی ریڑھ کی ہڈیوں اور اس کے نطفہ کی نالیوں کو کہتے ہیں، و ترائب زن (لغت دانوںکی نظر کے مطابق ) عورت کے سینہ کی اوپری ہڈیوں کو کہتے ہیں۔

٧۔ وسوسہ :کسی کام کے لئے بغیر آواز کے کان میں کہنا، حدیث نفس، یعنی جو کچھ ضمیر اور دل کے اندر گزرتا ہے انسان کا فریب کھانا اور اس کا برائی کی طرف مائل ہونا شیطان کی طرف سے، اس کلمہ کی تفسیر خدا کے کلام میں بھی آئی ہے ؛ جیساکہ فرمایا ہے :

(و زین لھم الشیطان ما کانوا یعملون)(١)

جو کام بھی وہ انجام دیتے تھے شیطان نے اسے ان کی نگاہ میں زینت دی ہے ۔

اور فرمایا:(زین لھم الشیطان اعمالھم)شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نگاہوںمیں مزین کر دیا۔(٢)

٨۔ سوأة: ایسی چیزجس کا ظاہر کرنا قبیح اور چھپانا لازم ہے ۔

٩۔ عزماً: صبر اور شکیبائی کے معنی میں ہے ، کوشاں ہونا، نیز کسی کام کے لئے قطعی فیصلہ کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے ۔

١٠۔ جنة: درخت سے بھرے ہر ا س باغ کو کہتے ہیں جس میں درختوںکی کثرت کی وجہ سے زمین چھپ جائے، خدا وند عالم کے کلام میں بھی جنت اسی معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ جیساکہ  فرمایا ہے :

الف۔(قالوا لن نؤمن لک حتیٰ تفجرلنا من الارض ینبوعاً٭ او تکون لک جنة من نخیل و عنب )(٣)

ا ن لوگوں نے کہا: ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے مگر یہ کہ تم ہمارے لئے اس زمین سے جوش مارتا چشمہ جاری کرو؛ یا کھجور اور انگور کا کوئی باغ تمہارے پاس ہو۔

ب۔ (لقد کان لسبأ فی مسکنھم آیة جنتان عن یمین و شمالٍ کلوا من رزق ربکم و اشکرو ا لہ… فاعرضوا فأَرسلنا علیھم سیل العرم و بدلنا ھم بجنتیھم جنتین ذواتی اکل خمط وَ أَ ثْلٍ  وشیء من سدر قلیل)

قوم سبا کے لئے ان کی جائے سکونت میں خدا کی قدرت کی نشانیاں تھیں: دو ”باغ” (عظیم اور وسیع)

(١)انعام  ٤٣.(٢)انفال  ٤٨۔ نحل  ٦٣. نمل  ٢٤. اور عنکبوت  ٣٨.(٣)اسراء . آیت ٩٢ ٩٠.

دائیں اور بائیں ( ان سے ہم نے کہا) اپنے پروردگار کا رزق کھائو اور اس کا شکر ادا کرو …لیکن وہ لوگ روگرداں ہوگئے، تو ہم نے ان کی طرف تباہ کن سیلاب روانہ کر دیا اور بابرکت دو باغ کو (بے قیمت اور معمولی) تلخ میوئوں اورکڑوے درختوں میں تبدیل کر دیا اور کچھ کو بیرکے درختوں میں تبدیل کر دیا۔(١)

١١۔ خمط: ایسی اگنے والی چیزیں جنکا مزہ تلخ اور کڑوا یا کھٹاس مائل ہو۔

١٢۔ ا ثل:سیدھے ، بلند، اچھی لکڑی والے درخت، جس میں شاخیں کثرت سے ہوں اور اگرہیں زیادہ، پتے لمبے اور نازک اور اس کے میوے  سرخ دانہ کے مانند ہوں اور کھانے کے قابل نہ ہوں۔

اس کی وضاحت : بہشت آخرت کو جنت اور باغ سے موسوم کیاجانازمین کے باغوں سے مشابہت کی وجہ سے ہے اگر چہ ان دونوں کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے اور بہشت جاوداں کے نام سے یاد کی گئی ہے ، اس لئے کہ اس میں داخل ہونے والا جاوید ہے ۔ اسی لئے خدا وند عالم نے جنتیوںکی توصیف لفظ ”خالدون”سے کی ہے ۔

اور فرمایا ہے :

الف۔( قل اذٰلک خیر أَم جنة الخلد التی وعد المتقون…٭ لھم فیھا ما یشاء ون خالدین )

کہو!آیا یہ (جہنم) بہتر ہے یا بہشت جاوید جس کامتقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے ؟ جو کچھ چاہیں گے وہاں ان کے لئے فراہم ہے اورہمیشہ اس میں زندگی گز اریں گے۔(٢)

ب۔(والذین آمنوا وعملوا الصالحات اولائک اصحاب الجنة ھم فیھا خالدون)

جو لوگ ایمان لائے اور عمل صالح انجام دیا وہ لوگ اہل بہشت ہیں اور وہ لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

لہٰذا قرآن کریم میں جنت کادونوں معنوںمیں استعمال ہوا ہے ۔

رہی وہ جنت اور باغ کہ جس میں خدا وند عالم نے آدم کو جگہ دی تھی پھر ان کو درخت ممنوعہ سے کھانے کے بعد وہاں سے زمین پر بھیج دیا وہ دنیاوی باغوں میں سے ایک باغ تھا، ہم اس کے بعد، ”حضرت آدم کی بہشت کہاں ہے” ؟ کی بحث میں اسے بیان کریں گے۔

(١)سبا ء  ١٦ ١٥.(٢)فرقان  ١٦ ١٥.

١٣۔تضحی: ضحی الرجل ، یعنی خورشید کی حرارت نے اسے نقصان پہنچایا؛ ولا تضحی یعنی : تم  خورشید کی حرارت اور سوزش آمیز گرمی کا احساس نہیں کروگے ۔

١٤۔ غویٰ: غوی کے ایک معنی زندگی کو تباہ کرنا بھی ہے اور آیت کی مراد یہی ہے ، یعنی آدم نے درخت ممنوعہ سے کھاکراپنی رفاہی زندگی تباہ کر لی ۔

١٥۔ طفقا: کسی کام میں مشغول ہو جانا۔

١٦۔ یخصفان: خصف چپکانے اور رکھنے کے معنی میں ہے یعنی پتوں کو اپنے جسموں پر چپکانا شروع کر دیا۔

١٧۔ ضنکا: یعنی سخت اوردشوار زندگی اور تنگی میں واقع ہونا۔

١٨۔ ووری: پوشیدہ اور پنہاں ہو گیا۔

١٩۔ دلاھما: ان دونوں کو اپنی مرضی کے مطابق دھوکہ دیا اور راستہ سے کنویں میں ڈھکیل دیا یعنی بہشت سے نکال دیا ۔

٢٠۔ لاحتنکن: میں اس پر لگام لگائوں گا، یعنی تمام اولاد آدم پرو سوسہ کی لگام لگائوں گا اور زینت دیکر  اپنے پیچھے کھینچتا رہوں گا۔

٢١۔ اھبطوا: نیچے اتر جائو۔ ھبوط انسان کے لئے  استخفاف کے طور پر استعمال ہوا ہے ، بر خلاف انزال کے کہ خدا وند عالم نے اس کوشرف اور منزلت کی بلندی کی جگہ استعمال کیا ہے جیسے زمین پر فرشتوںاور بارش اور قرآن کریم کا نزول  ۔

جب کہا جائے: ھبط فی الشر، یعنی برائی میں مبتلا ہو گیا، و ھبط فلاں ، یعنی ذلیل اور پست ہو گیا و ھبط من منزلہ ، یعنی اپنی منزل سے گر گیا ۔

٢٢۔ استفززبصوتک: اپنے وسوسہ سے ابھار اور برانگیختہ کر، یعنی جس طرح اولاد آدم کو گناہ پر مجبور کر سکتا ہو کر!

٢٣۔ ”و اجلب علیہم ”: بلند آواز سے انہیں ہنکاؤ ۔

٢٤۔ بخیلک و رجلک: یعنی اپنے سواروں اور پیادوں سے ، یعنی جتنا حیلہ، بہانہ، مکر و فریب دے سکتا ہو استعمال کر۔

٢٥۔(و شارکھم فی الاموال و الاولاد): بذریعہ حرام حاصل شدہ اموال اور زنا زادہ بچوں میں ان کے شریک ہو جا۔

٢٦ عدھم: انہیں باطل وعدے دے اور انہیں روز قیامت کے واقع نہونے اور اس کے عدم سے مطمئن کر دے

مزید  قرآن مجید اللہ تعالی کی طرف سے ایک عظیم تحفہ

٢٧۔ سلطان: حاکمانہ اور قدرت مندانہ تسلط اور قابو کو کہتے ہیں ،سلطان دلیل و برہان کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے ؛ جیسا کہ خدا وند عالم نے فرمایا ہے ۔ (اتجادلوننی فی أسماء سمیتموھا انتم و آباء کم ، ما انزل اللہ بھا من سلطانٍ)

کیا ان اسماء کے بارے میں مجھ سے مجادلہ کرتے ہو جنہیں تم اور تمہارے آبائو اجداد نے (بتوںپر) رکھا ہے ؛جبکہ خدا وندعالم نے ان کے بارے میں کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے ؟!

لہٰذا( ان عبادی لیس لک علیھم سلطان) کے معنی یہ ہوں گے :تو میرے بندوں پر تسلط نہیں پائے گا یعنی تجھ کو ان پر کسی طرح قابو نہیں ہوگا اور توان پر غلبہ حاصل نہیں کر سکتا۔

آیات کی تفسیر

خدا وند عالم نے گز شتہ آیتوں میں انسان اول کی خلقت کے آغاز کی خبر دیتے ہوئے فرمایا: اسے بدبودار، سیاہ ،لس دار ، کھنکھناتی ہوئی مٹی سے جو سختی اور صلابت کے اعتبار سے کنکر کے مانند ہے خلق کیا ہے  پھر اس کی نسل کو معمولی اور پست پانی سے جو صلب اور ترائب کے درمیان سے باہر آتا ہے خلق کیا ؛پھر اسے علقہ اور علقہ کو مضغہ اور مضغہ کو ہڈیوں میں تبدیل کر دیا پھر ان ہڈیوں پر گوشت چڑھایا، پھر اس کے بعد ایک دوسری تخلیق سے نوازا اور اس میں اپنی روح ڈال دی اور اسے آنکھ، کان اور دل عطا کئے۔ اس لئے بلند وبالا ہے وہ خدا جو بہترین خالق ہے ؛پھر اسے ایک بچے کی شکل میں رحم مادر سے باہر نکالا تاکہ بلوغ و رشد کے مرحلہ کو پہنچے اور خلقت کے وقت اسی پانی کے نچوڑ اور ایک انسانی نفس سے نرومادہ کی تخلیق کی؛ تاکہ ہر ایک اپنی دنیاوی زندگی میں اپنے اپنے وظیفہ کے پابند ہوںیہاں تک کہ بڑھاپے اور ضعیفی کے سن کو پہنچیں پھر انہیں موت دیکر زمین میں جگہ دی، اس کے بعد قیامت کے دن زمین سے باہر نکالے گا اور میدان محشر میں لائے گا تاکہ اپنے کرتوت اور اعمال کی جزا اور سزاعزیز اور عالم خدا کی حکمت کے مطابق پائیں۔

با شعور مخلوقات سے خدا کا امتحان

اول؛ فرشتے اور ابلیس: خدا وند عالم نے فرشتوں کو کہ ابلیس بھی انہیں میں شامل تھا زمین پر اپنے خلیفہ آدم  کے سجدہ کے ذریعہ آزمایا، فرشتوں کی باتوں سے نتیجہ نکلتا ہے کہ انہوںنے سمجھ لیا تھا کہ زمینی مخلوق خونریز اور سفا ک ہے ، اس لئے کہ زمین کی گز شتہ مخلوقات سے ایسا مشاہدہ کیا تھا اور خداوند عالم نے بھی جیسا کہ روایات (١)میں مذکور ہے ان کی نابودی کا فرشتوںکو حکم دیا تھا۔

جب خدا وند عالم نے فرشتوں کو آدم کے علم و دانش سے آگاہ کیا اور انہیں آدم کے سجدہ کا حکم دیا تو فرشتوں نے آدم کو سجدہ کیا لیکن ابلیس نے سجدہ سے انکار کرتے ہوئے دلیل پیش کی کہ تونے اسے مٹی سے خلق کیا ہے اور مجھے آگ سے وہ اس امتحان میں ناکام ہوگیا۔

دوسرے ؛ آدم اور حوا : خد اوند عالم نے آدم کے لئے ان کی زوجہ حوا کی تخلیق کی اور ان دونوں کو غیر جاوید بہشت میں جگہ دی اور ان سے فرمایا: جو چاہو اس بہشت سے کھائو لیکن اس درخت کے قریب نہ جاناورنہ ستمگروں میں ہو جائو گے ، آدم کو آگاہ کیا کہ اس بہشت میں نہ گرسنہ ہوں گے اور نہ برہنہ؛ نیز انہیں ابلیس سے محتاط رہنے کو کہا: یہ شخص تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے ، ہوشیار رہنا کہیں تمہیں بہشت سے باہر نہ کر دے کہ جس کی وجہ سے زحمت میں پڑ جائو؛ شیطان نے درخت ممنوعہ سے کھانے کوخوبصورت انداز میں بیان کیا تاکہ ان کی پوشیدہ شرمگاہیں آشکار ہو جائیں، اس نے آدم و حوا کو فریب دیا اور اس بات کا ان کے اندر خیال پیدا کر دیا کہ اگر اس درخت ممنوعہ سے کھالیں تو فرشتوں کی طرح جاوداں ہو جائیں گے اور ان دونوں کے اطمینان کی خاطر خدا وند سبحان کی قسم کھائی، آدم و حوا نے خیال کیا کہ کوئی بھی خدا کی قسم جھوٹی نہیں کھائے گا اس کے فریب میں آ گئے اور اس کے دام باطل میں پھنس گئے اور اس ممنوعہ درخت سے کھا لیاجس کے نتیجہ میں ان کی شرمگاہیں نمایاںہو گئیں تو ان لوگوں نے بہشتی درختوں کے پتوں سے چھپانا شروع کر دیا تو ان کے رب نے آواز دی، کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت کے قریب جا نے سے منع نہیں کیا تھا؟ اور تم سے نہیں کہا تھا کہ شیطان نرا کھلا ہوا دشمن ہے ؟ ان لوگوں نے کہا: خدایا! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اورہم کو اپنی رحمت کے سایہ میں نہیں لے گا تو ہم خسارہ اٹھانے والوںمیںسے ہو جائیں گے۔

(١)ان کی طرف ” اوصیاء کی خلقت  کے آغاز” کے متعلق روایات میں اشارہ کیا جائے گا ۔

آدم کی جنت کہاں تھی

خداوند عالم نے فرمایا: اس زمین میں ایک خلیفہ بنایا اور جس مٹی سے آدم کو خلق کیاتھا وہ اسی سرزمین کی مخلوط مٹی تھی ، اسی طرح اس زمین پر فرشتوں کو آدم کے سجدہ کا حکم دیا تو ابلیس نے آدم کے سجدہ سے انکار کیااور اسی طرح آدم کو زمین پر موجود بہشت میں داخل کر دیا اور انہیں خلقت کے بعد اس زمین سے کسی اور جگہ منجملہ بہشت جاوید میں منتقل نہیں کیا، تاکہ بہشت جاوید سے زمین کی طرف اخراج لازم آئے۔

اس مدعی پر ظہور آیات کے علاوہ ہماری دلیل یہ ہے کہ :جو بھی بہشت جاوید میں داخل ہو جائے وہ دائمی اور ابدی ہوگا اور کبھی اس سے باہر نہیں آئے گا، جیسا کہ اس کی تصریح روایات بھی کرتی ہیں۔(١)

ہم ا س طرح خیال کرتے ہیں کہ یہ بہشت عراق اورکسی عربی جزیرہ میں تھی اور جو کچھ ”قاموس کتاب مقدس” کے مولف نے بہت سارے دانشوروں سے نقل کیا ہے کہ یہ بہشت فرات کی سر زمین پر تھی، صحیح ہے ۔(٢)

اس بات کی تائید صراحت کے ساتھ توریت کی عبارت سے بھی ہوتی ہے:دریائے بہشت حضرت آدم علیہ السلام چار حصوںمیں تقسیم ہوتا ہے جن سے مراد فرات، دجلہ، جیحون اور فیشون ہیں ۔(٣)

کتاب قاموس مقدس میں مذکور ہے کہ بعض محققین نے احتمال دیا ہے کہ جیحون اور فیشون بابل شہر (عراق)  میںہیں۔(٤)

اس لئے جیحون سے مراد معروف دریائے جیحون نہیں ہے ، یعنی وہ ندی جو خوارزم (آرال ) سے نزدیک ایک دریامیں گرتی ہے ، یاقوت حموی نے اسے اپنی معجم البلدان میں ذکر کیا ہے ۔

(١) میخی اور ہیرو گلیفی کی پیروی کرتے ہیں اس کے علاوہ جغرافیائی حقیقی تحقیق اور نہر فرات کی فرعی ندیوں ان کے اسماء کی اسلامی سرزمینوں میں بھی تاکید کرتے ہیں ۔(٢) قاموس کتاب مقدس، مادہ عدن۔

(٣)کتاب عہدعتیق ( توریت ) : طبع ریچرڈ واٹس ،لندن ، ١٨٣٩  ء ، سفر تکوین ، باب دوم ، شمارہ : ١٤۔ ١٠.

(٤) قاموس کتاب مقدس ،مادہ : جیحون اور فیشون عظیم دانشور محقق استاد سامی البدری حضرت آدم کی بہشت کے بارے میں غیر مطبوعہ ایک بحث ہمارے تحریر فرمایا ہے : وہ چہار گانہ ندیاں فرات کی شاخ ہیں اور انہوں نے اس بات کاذکرکیا ہے کہ وہ اس لئے ترجمہ میں آرامی عبری توریت اور سامری سے استناد کرتے ہیں اور فرات کی شاخوں اور ان کے راستوں میں واقع شہروں سے متعلق اپنے خطی آثارمیں میخی اور ہیرو گلیفی کی پیروی کرتے ہیں ۔

جب حضرت آدم  بہشت سے نیچے آئے تو بابل فرات کے علاقے میں ساکن ہوئے اور جب فوت کر گئے تو آپ کے فرزند شیث نے کوہ ابو قبیس مکہ کے ایک غار میں انہیں دفن کر دیا پھر اس کے بعد حضرت نوح نے ان کی ہڈیوں کو اپنی کشتی میں رکھا اور کشتی سے نیچے اتر نے کے بعد نجف میں دفن کر دیا۔

لہٰذا جیسا کہ ہم مشاہدہ کر رہے ہیں حضرت آدم  کا اس بہشت سے نکلنا تھا جو عراق میں تھی اور جب وہاں سے باہر آئے تو عراق میں اسی سے نزدیک سر زمین کی طرف گئے۔

انہوں نے اس باغ کے درختوں اورپھلوںسے پودوں اور بیجوںکولیا ، تاکہ خدا وند عالم کی ہدایت کے مطابق اسے لگائیں اور دانہ اگائیں جیسا کہ روایات صریحاً اس بات کی وضاحت کرتی ہیں۔

ان کے عراق میں سکونت کے بارے میں ”بابلیون” کے مادہ میں معجم البلدان میں ذکر ہوا ہے کہ اہل توریت نے کہا ہے : آدم کی منزل بابل میں تھی اور بابل فرات اور دجلہ کے درمیان ایک سر زمین ہے۔ نیز مادہ بابل میں قاموس کتاب مقدس میں جو ذکر ہے اس کا خلاصہ یوںہے :

فرات اور دجلہ کے پانی ان تمام علاقوں میں جاری ہوتے تھے، اسی لئے وہاں کی زمینیں زر خیز اور بابرکت مشہور تھیں اور انواع و اقسام کے میوے اور دانے وہاں فراہم تھے؛ اس کا قدیم نام شنعار تھا۔

معجم البلدان میں مادہ بابل کے ذیل میں ذکر ہوا ہے کہ، بعض اہل توریت نے کہا ہے : بابل وہی کوفہ ہے اور نوح کشتی سے نیچے اترنے کے بعد اپنی جائے سکونت اور جائے پناہ کی تلاش کی تو بابل میں رہائش اختیار کی اور نوح کے بعداس میں وسعت ہو گئی۔

مکتب خلفاء کی روایات میںحضرت آدم کے دفن سے متعلق ذکر ہوا ہے کہ، نوح نے انہیں بیت المقدس میں دفن کیا ہے اور مکتب اہل بیت کی روایتوں میں مذکور ہے کہ نوح نے حضرت آدم کو نجف میں اسی مقام پر جہاں حضرت علی  دفن ہوئے ہیں دفن کیا ہے اور نوح بھی اسی جگہ دفن ہوئے ہیں، حضرت آدم کی عراق میں رہائش کی تائید جو کچھ روایات میں ذکر ہو ا ہے اس سے ہوتی ہے ۔

پہلے : آدم مکہ گئے اور عرفات ، مشعر اور منیٰ میں قیام کیا، ان کی توبہ عرفات میں قبول ہوئی ، پھر اس کے بعد مکہ میں حضرت حوا  سے ملاقات کی، خدا وند عالم نے انہیں بیت اللہ کی تعمیر پرمامور کیا، بعید ہے کہ آدم دور دراز ملک جیسے ہند سے حج کے لئے مامور ہوئے ہوں، جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے جن کا میرے نزدیک صحیح ہونا ثابت نہیں ہے  ۔

دوسرے:  دیگر روایات میں مذکور ہے کہ ، حضرت آدم نجف کے علاقہ غری میں دفن ہوئے ہیں۔ اور خاتم الانبیاء کے دفن سے متعلق روایت میں ہے : ہر پیغمبر جہاں اس کی روح قبض ہوتی ہے وہیں دفن ہوتاہے ۔

مذکورہ بالا بیان سے نتیجہ نکلتا ہے : حضرت آدم کی بہشت فرات کی زمینوں میں تھی اور جب حضرت آدم اس سے باہر آئے تو اس کے نزدیک ہی اترے، خد اوند عالم نے اس باغ کو خشک کر دیا اور روئے زمین سے اٹھا لیا، تو حضرت آدم نے دوسری جگہ کو درختوں سمیت کشت و کار کے ذریعہ زندہ اور آباد کیا، خدا وند عالم بہتر جانتا ہے ۔

الٰہی امتحان اور حالات کی تبدیلی

اول  ؛  فرشتے اور ابلیس:  تمام فرشتے  اور ابلیس جوکہ ان کے ساتھ تھا، خدا کی عبادت کرتے تھے اور جو بھی خدا انہیں حکم دیتا تھاآسمانوں اور زمینوں میں وہ اس کی اطاعت کرتے تھے اورمعمولی نافرمانی اور خلاف ورزی کے بھی مرتکب نہیں ہوتے تھے یہاں تک کہ خدا وند عالم نے انہیں خبر دی کہ میں زمیں پر خلیفہ بنانا چاہتا ہوں، تو ان لوگوںنے اس خلقت کی حکمتجاننا چاہی اور جب خدا نے اس کی حکمت سے انہیں باخبر کیا اور فرمایا کہ اس کوسجدہ کریں( جس طرح کہ وہ تمام مواقع پر مطیع اور فرمانبردار تھے) سوائے ابلیس کے سب نے اطاعت کی، اس ( ابلیس) نے ان تمام خداوندی احکام اور دستورات کی مخالفت نہیںکی جو اس کی نفسانی خواہشات اور تکبر سے ٹکراتے نہیں تھے لیکن آدم  کے سجدہ سے متعلق حکم میں اس نے اپنی خواہشات کا اتباع کیا اور حکم خداوندی کی مخالفت کی اسی لئے جو اس نے راہ اختیار کی تھی فرشتوں کے مقام و منزلت نیز ان لوگوں کے درجہ سے (جنہوں نے خدا کے حکم کی نافرمانی نہیں کی تھی اور ہمیشہ اس کے حکم کے پابند تھے) نیچے آگیا اور عصیان و نافرمانی اور خواہشات کی پیروی کا مرتکب ہو گیااور خداوندعالم نے اس سے کہا: اس منزل سے نیچے اتر جا، تجھے کوئی حق نہیں ہے کہ اس جگہ تکبر اور کبریائی کا اظہار کرے۔

ابلیس ایسی حالت کے باوجود بھی خدا وند عالم کے سامنے نادم اور پشیمان نہ ہوا اور خدا سے توبہ نہ کی اور اس سے معذرت اور بخشش کی درخواست نہیں کی؛ بلکہ اپنی بدبختی کے لئے مزید خدا سے درخواست کی؛ اور بولا: مجھے قیامت تک کی مہلت دیدے! خداوند عالم نے کہا: تجھے مہلت دی گئی۔

اس ملعون نے وعدہ الٰہی دریافت کرنے اور اپنی مراد کو پہنچنے کے بعد بے جھجھک خدا کے مقابل اپنے موقف کا اظہار کر دیا اور کہا: جس کوتونے مجھ پر فوقیت اور برتری دی ہے میں اس سے انتقام لوں گا۔ اور اس کی نسل و ذریت کولگام لگاکر اپنے پیچھے گھمائوں گا اور سامنے ، پیچھے، دائیں اور بائیںسے داخل ہوں گا اور ان کے برے اعمال اور رفتار کو ان کی نظرمیں خوبصورت بنائوں گا؛یہاں تک کہ تو ان میں اکثریت کو ناشکر گزار پائے گا۔ خداوند عالم نے فرمایا:

(اذھب فمن تبعک منھم فان جہنم جزاؤکم جزاء موفوراً)(١)

جا! ان میں سے جو بھی تیری پیروی کرے، جہنم تم لوگوں کی سزا ہے جو بہت سنگین سزا ہے۔

ہاں ابلیس صرف اس راہ کے انتخاب سے معصوم فرشتوں کے منصب سے گرکر خدا کے نافرمان بندوں کی صف میں شامل ہو گیا ۔ اور اس منزل پر آنے کے باوجودنادم اورپشیمان ہوکر خدا کی بارگاہ میں توبہ اور انابت بھی نہیں کی، بلکہ اپنے اختیار سے ذلت، خواری کے پست درجہ میں پڑا رہا، یعنی ان لوگوں کی منزل میں جو گمراہ ہیںاور ہمیشہ گمراہی پر اصرار کرتے ہیں۔

دوسرے : آدم و حوا

خدا وند عالم نے آدم کی تخلیق کے بعد فرشتوں کو ان کے سجدہ کا حکم دیا اور حوا کی تخلیق کی اور دونوں کو اس بہشت میں جگہ دی یعنی وہ بہشت جسے اس روئے زمین پر ہونا چاہئے، اس لئے کہ خدا وند عالم نے حضرت آدم کو اسی زمین کی مٹی سے خلق کیا ہے اور انہیں اسی زمین پر زندگی کرنے کے لئے آمادہ کیا ( اور کتاب و سنت میں اس بات کی تصریح نہیں ملتی کہ خداوند عالم نے آدم کو خلقت کے بعد اس زمین سے اُس بہشت میں کو جو کسی دوسرے ستارے میں تھی منتقل کیا اور دوبارہ انہیں اس زمین کی طرف لوٹایا) لہٰذا ناچار اس بہشت کو جیسا کہ بیان کیا گیا ہے اسی زمین پرہونا چاہئے سوائے یہ کہ یہ بہشت جیسا کہ معلوم ہوتا ہے اپنی آپ مثا ل اور بے نظیر تھی ہو اور آدم و حوا کی خلقت کے مراحل میں سے ایک مرحلہ تھی اور ا س کا وجود خلقت کے اس مرحلہ کے تمام ہونے پر ختم  ہوگیاہے اور خدا بہتر جانتا ہے ۔

اس بہشت کی خصوصیات اور امتیازات میں خداوند عالم نے بعض کی طرف اشارہ کیا ہے منجملہ حضرت آدم سے فرمایا: تم اس بہشت میں نہ بھوکے رہوگے نہ پیاسے اور نہ برہنہ اور نہ ہی آفتاب کی گرمی سے کوئی تکلیف ہوگی نیز ان سے اور حوا سے فرمایا:

(١)اسراء ٦٣

اس باغ سے جو چاہو کھائو، لیکن اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ ستمگروں میں سے ہو جائوگے۔

اور آدم کے گوش گز ار کیا کہ شیطان تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے ہوشیار رہنا کہیں تمہیں وہ اس بہشت سے باہر نہ کر دے۔

حضرت آدم شیطان کے باربار خدا کی قسم کھانے اور اس کے یہ کہنے سے کہ میں تمہارا خیر خواہ اور ہمدرد ہوں اپنے اختیار سے حو اکے ساتھ شیطان کے وسوسے کا شکار ہو گئے اور خدا وند عالم کے فرمان کے مطابق اپنی اطمیان بخش اور مضبوط حالت سے نیچے آگئے اور وسوسہسے متاثرہوگئے؛ اس کی سزا بھی اطمینان بخش بہشت رحمت سے دنیائے زحمت میں قدم رکھنا تھا، ایسی دنیا جو کہ رنج و مشقت ، درد و تکلیف اور اس عالم جاوید کا پیش خیمہ ہے ،کہ جس میں بہشتی نعمتیں ہیں یا جہنمی عذاب۔

اس طرح سے انسان نے امانت کا با ر قبول کیا ایسی امانت جس کے بارے میں خدا وند عالم نے خبر دیتے ہوئے فرمایا:

(انا عرضنا الامانة  علیٰ السمٰوات  و الارض و الجبال فأَبین ان یحملنھا و وأشفقن منھا و حملھا الانسان انہ کان ظلوما جھولاً، لیعذب اللہ المنافقین و المنافقات و المشرکین و المشرکات و یتوب اللہ علیٰ المؤمنین و المؤمنات و کان اللہ غفوراً رحیماً)(١)

ہم نے بارامانت (تعہد و تکلیف) کوآسمان، زمین اور پہاڑوںکے سامنے پیش کیاانہوں نے اس کا بار اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے خوفزدہ ہوئے ، لیکن انسان نے اسے اپنے دوش پر اٹھا لیا، وہ بہت جاہل اور ظالم تھا، ہدف یہ تھا کہ خد اوند عالم منافق اور مشرک مردوں اور عورتوں کو عذاب دے اور با ایمان مردوں و عورتوں پر اپنی رحمت نازل کرے، خدا وند عالم ہمیشہ بخشنے والا اور رحیم ہے ۔

امانت سے اس آیت میں مراد(خداوند عالم بہتر جانتا ہے) الٰہی تکالیف اور وہ چیزیں ہیںجو انسان کو انسانیت کے زیور سے آراستہ کرتی ہیں۔

آسمان و زمین پر پیش کرنے سے مراد مخلوقات میں غیر مکلف افراد پر پیش کرنا ہے ، یہ پیشکش اور قبولیت انتخاب الٰہی کامقدمہ تھی تاکہ مخلص اور خالص افراد کو جدا کر دے ۔

اس لحاظ سے آدم کا گناہ بار امانت اٹھانے میں تھا، ایسی امانت جس کے آثار میں سے وسوسۂ شیطانی

(١)احزاب ٧٢۔٧٣

سے متاثر ہونا ہے ۔ یہ تمام پروگرام حضرت آدم کی آفرینش سے متعلق ایک مرحلہ میں تھے جو کہ ان کی آخری خاکی زندگی سے کسی طرح مشابہ نہیں ہیں نیز عالم تکوین و ایجاد میں تھے قبل اس کے کہ اس خاص بہشت سے ان کا معنوی ہبوط ہوا اور اس سے خارج ہو کر اس زمین مین تشریف لائے  ۔

کیونکہ انبیاء اس عالم میں معصوم اور گناہ سے مبرا ہیںاور حضرت آدم اپنے اختیار اورانتخاب سے جس عالم کے لئے خلق کئے گے تھے اس میں تشریف لائے،اس اعتبار سے حضرت آدم کا عصیان اس معنوی امر سے تنزل ہے (خدا وند عالم بہتر جانتا ہے) ۔

 

 

آیات کی شرح اور روایات میں ان کی تفسیر

 

پہلے۔ پیغمبر اکرمۖ سے منقول روایات:

١۔ احمد بن حنبل، ابن سعد، ابو دائوداور ترمذی نے اپنی سندوں سے رسول خداۖ سے نقل کیا ہے: آپ نے فرمایا: خدا وند عالم نے آدم کو ایک مشت مٹی جوزمین کے تمام اطراف سے لی تھی خلق کیا؛ اسی وجہ سے بنی آدم زمین کے ہم رنگ ہیں بعض سرخ، بعض سفید، بعض سیاہ اور کچھ لوگ انہیں گروہوںمیں میانہ رنگ کے مالک ہیں…۔(١)

٢۔ ابن سعد نے رسول خداۖ سے روایت نقل کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے :

جب حضرت آدم سے یہ خطا سرزد ہوئی تو ان کی شرمگاہ ظاہر ہو گئی جبکہ اس سے پہلے ان کے لئے نمایاںنہیں تھی۔(٢)

٣۔ شیخ صدوق نے اپنی سند کے ساتھ خصال میں رسول خداۖ سے ذکر کیا ہے :

آدم و حوا کا قیام اس بہشت میں ان کے خارج ہونے تک دنیاوی دنوں کے لحاظ سے صرف سات گھنٹہ تھا یہاں تک کہ خدا وند عالم نے اسی دن بہشت سے نیچے بھیج دیا۔(٣)

(١)سنن ترمذی ، ج ١١، ص ١٦، سنن ابی داؤد ج ، ٤، ص ٢٢٢، حدیث ٤٦٩٣،مسند احمد ج ، ٤، ص ٤٠٠، طبقات ابن سعد ، طبع یورپ ، ج ١، حصہ اول ص٥۔ ٦ .(٢) طبقات ابن سعد ، ج ، ١حصہ اول ، طبع یورپ ، ص ١٠.

(٣)نقل از بحار الا نوار ج ١١، ص ١٤٢.

دوسرے۔ حضرت امام علی سے مروی روایات

الف:۔ فرشتوںکی خلقت کے بارے میں

کتاب بحار الانوار میں مذکور ہے کہ امیر المؤمنین حضرت علی  ـ خدا وند عالم سے عرض کرتے ہیں:

….جن فرشتوں کو تونے خلق کیا اور انہیں اپنے آسمان میں جگہ دی ان میں کسی طرح کی کوتاہی اور سستی نہیں ہے؛ نیز ان کے یہاں نسیان وفراموشی کا گز ر نہیں ہے اور عصیان و نافرمانی ان کے اندر نہیں ہے وہ لوگ تیری مخلوقات کے با شعور اور دانا ترین افراد ہیں؛ وہ تجھ سے سب سے زیادہ خوف رکھتے اورتجھ سے نزدیک ترین اور تیری مخلوقات میں سب سے زیادہ اطاعت گزاراورفرمانبردارہیں؛ انہیں نیند نہیں آتی ، عقلی غلط فہمیاں ان کے یہاں نہیں پائی جاتی، جسموں میں سستی نہیں آتی، وہ لوگ باپ کے صلب اور ماں کے رحم سے وجود میں نہیں آئے ہیں نیز بے حیثیت پانی (منی) سے پیدا نہیںہوئے ہیں؛ تونے ان لوگوںکو جیسا ہونا چاہئے تھا خلق کیا ہے اور اپنے آسمانوں میں انہیں جگہ دی ہے اور اپنے نزدیک انہیں عزیز و مکرم بنایا ہے اور اپنی وحی پر امین قرار دیا آفات و بلیات سے دور اور محفوظ رکھ کر گناہوں سے پاک کیا اگرتونے انہیں قوت نہ دی ہوتی تو وہ قوی نہ ہوتے؛ اگر تونے انہیںثبات و استقلال نہ دیا ہوتا تو وہ ثابت و پائدار نہ ہوتے۔

اگر تیری رحمت ان کے شامل حال نہ ہوتی تو وہ اطاعت نہیں کرتے اورا گر تو نہ ہوتا تو وہ بھی نہوتے، وہ لوگ جو تجھ سے قرابت رکھتے ہیں اور تیری اطاعت کرتے اور تیرے نزدیک جو اپنا مخصوص مقام رکھتے ہیں اور ذرہ برابر بھی تیرے حکم کی مخالفت نہیں کرتے ان سب کے باوجود اگر نگاہوں سے تیرا پوشیدہ مرتبہ مشاہدہ کرتے ہیں تو اپنے اعمال کو معمولی سمجھ کراپنی ملامت و سرزنش کرتے ہیں اور راہ صداقت اپناتے ہوئے کہتے ہیں کہ تیری عبادت کا جو حق تھا ویسی ہم نے عبادت نہیں کی ؛اے خالق و معبود! تو پاک و منزہ ہے تیرا امتحان و انتخاب مخلوقات کے نزدیک کس قدر حسین وخوبصورت اور باعظمت ہے ۔(١)

ب:۔آغاز آفرینش

خلقت کی پیدائش کے بارے میں  حضرت امام علی  ـ کے کلام کا خلاصہ  یہ ہے:

(١) بحار الانوار ج ٥٩ ، ص ١٧٥، ١٧٦.

خدا وند عالم نے فضائوں کو خلق کیا، اس کی بلندی پر موجزن اور متلاطم پانی کی تخلیق کی، سرکش اور تھپیڑے کھاتا ہوا پانی؛ بلند موجوں کے ساتھ کہ جس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے پھر اسے تیز و تند اور سخت ہلا دینے والی ہوا کی پشت پر قرار دیاجس نے اپنے شدید جھونکوںسے (جس طرح دہی اور دودھ کو متھا جاتا ہے اس کو متھتے اور حرکت دیتے ہیں؛اور اس سے مکھن اور بالائی نکالتے ہیں اور اس کا جھاگ اوپر آجاتا ہے) ان جھاگوں کو پراکندہ کر دیا پھر وہ جھاگ کھلی فضا اور وسیع ہوا میں بلندی کی طرف چلے گئے تو خدا وند عالم نے ان سے سات آسمان خلق کئے اور اس کی نچلی سطح کو سیلاب سے عاری موج اور اس کے اوپری حصہ کو ایک محفوظ چھت قرار دیا، بغیر اس کے کہ کوئی ستون ہو اور وسائل و آلات سے مل کر ایک دوسرے سے متصل و مرتبط ہوں؛ آسمان دنیا کو ستاروں سے زینت بخشی پھر فوقانی آسمانوں کے درمیان جو کہ آسمان دنیا کے اوپر واقع ہے ،شگاف کیا پھر انہیں انواع و اقسام کے فرشتوں سے بھر دیا، ان میں سے بعض دائمی سجدہ کی حالت میں ہیںجو کبھی سجدے سے سر نہیںاٹھاتے تو بعض رکوع دائم کی حالت میں ہیں جو کبھی قیام نہیں کرتے، بعض بالکل سیدھے منظم صفوف کی صورت میں مستقیم اورثابت قدم ہیں اور حرکت نہیں کرتے؛ خدا کی تسبیح کرتے ہوئے کبھی تھکاوٹ کا احساس نہیں کرتے، انہیںخواب آنکھوں میں عقلوں کی غفلت ، جسموں میں سستی، فراموشی، بے توجہی اور بے اعتنائی لاحق نہیں ہوتی، بعض وحی خداوندی کے امین ہیں اور رسولوں تک پیغام رسانی کے لئے اس کی زبان اور حکم خداوندی پہنچانے کے لئے ہمیشہ رفت و آمد رکھتے ہیں، بعض اس کے بندوں کے محافظ اور بہشت کے دروازوں کے نگہبان ہیں، ان میں سے بعض ایسے ہیں جن کے قدم پست سر زمینوں پر ہیں اور سر آسمان سے بھی اوپر ہیں… وہ لوگ اپنے پروردگار؛ کی توہم و خیال کے ذریعہ تصویر کشی نہیں کرتے، خدا کی خلق کردہ مخلوقات کے اوصاف کو خدا کی طرف نسبت نہیں دیتے اسے مکان کے دائرہ میں محدود نہیں کرتے اور امثال و نظائر کے ذریعہ اس کی طرف اشارہ نہیں کرتے۔

ج:۔ انسان کی خلقت

امام نے فرمایا: خدا نے پھر زمین کے سخت و نرم ، نمکین اور شیرین مختلف حصوں سے کچھ مٹی لی؛ پھر اسے پانی میں مخلوط کیا تاکہ خالص ہو جائے، پھر اسے دوبارہ گیلا کر کے جلادی اور صیقل کیا ، پھر اس سے شکل و  صورت جس میں اعضا ء وجوارح والی خلق کی اور اسے خشک کیا پھر اسے استحکام بخشا تاکہ محکم و مضبوط ہو جائے روز معین و معلوم کے لئے۔

پھر اس میں اپنی روح پھونکی، تو ایک ہوشیار انسان کی شکل میں ظاہر ہوا؛ اور حرکت کرتے ہوئے اپنے ،دل و دماغ؛ عقل و شعور اور دیگر اعضاء کا استعمال کرتاہے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ قابل انتقال آلات سے استفادہ کرتاہے حق و باطل میں فرق قائم کرتاہے نیز چکھنے، سونگھنے اور دیکھنے والے حواس کا مالک ہے وہ رنگا رنگ سرشت اور طبیعت اور مختلف عناصر کاایک ایسا معجون ہے جن میں سے بعض ایک دوسرے کی ضد ہیں اور ان میں سے بعض متبائن اور ایک دوسرے سے علٰحدہ ہیں جیسے گرمی، سردی، خشکی، رطوبت، بدحالی اور خوش حالی۔(١)

د:۔جن، شیطان اورابلیس کی خلقت

حضرت امام علی فرماتے ہیں: خدا وند عالم نے جن اور نسناس کے سات ہزار سال روئے زمین پر زندگی بسر کرنے کے بعد جب چاہا کہ اپنے دست قدرت سے ایک مخلوق پیداکرے اور وہ مخلوق آدمی ہونا چاہے کہ جن کے لئے آسمان و زمین کی تقدیر و تدبیر کی گئی ہے تو آسمانوںکے طبقوں کا پردہ اٹھا کر فرشتوں سے فرمایا: میری (جن اور نسناس )مخلوقات کا زمین میں مشاہدہ کرو۔

جب ان لوگوں نے اہل زمین کی غیر عادلانہ رفتار اورظالمانہ اور سفاکانہ انداز دیکھے تو ان پرگراں گز را  اور خدا کے لئے ناراض ہوئے اور اہل زمین پر افسوس کیا اور اپنے غیظ و غضب پر قابو نہ پا کر بول پڑے: پروردگارا! تو عزیز، قادر، جبار، عظیم و قہار عظیم الشان ہے اور یہ تیری ناتواں اور حقیر مخلوق ہے کہ جو تیرے قبضہ قدرت میں جابجا ہوکر،تیر ا ہی رزق کھاتی ہے اور تیری عفو و بخشش کے سہارے زندہ ہے اور اپنے سنگین گناہوں کے ذریعہ تیری نافرمانی کرتی ہے جبکہ تو نہ ان پر ناراض ہوتاہے اور نہ ہی ان پر اپنا غضب ڈھاتا ہے اور نہ ہی جو کچھ ان سے سنتا اور دیکھتاہے اس کاانتقام لیتا ہے ، یہ بات ہم پر بہت ہی گراں ہے اور ان تمام باتوںکو تیرے سلسلہ میں ہم عظیم شمار کرتے ہیں۔ جب خدا وند عالم نے فرشتوں کی یہ باتیں سنیں تو فرمایا: ”میں روئے زمین پر ایک خلیفہ بنانے والا ہوں” تاکہ میری مخلوق پر حجت اور میرا جانشین ہو، فرشتوںنے کہا: تو منزہ اور پاک ہے ”آیا زمین پر ایسے کوخلیفہ بنائے گا جو فساد و خونریزی کرے جبکہ ہم تیر ی تسبیح اور حمد بجالاتے ہیں اور تیری تقدیس کرتے اور پاکیزگی کا گن گاتے ہیں۔” اور کہا: اس جانشینی کو ہمارے درمیان

(١) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید : ج ١، ص ٣٢.

قرار دے کہ نہ تو ہم فساد کرتے ہیں اور نہ ہی خونریزی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

خداوند عالم نے فرمایا: میرے فرشتو! میںجن حقائق کو جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے ، میرا ارادہ ہے کہ ایک مخلوق اپنے دستِ قدرت سے بنائوں اور اس کی نسل و ذریت کو مرسل ،پیغمبراور صالح بندے اورہدایت یافتہ امام قرار دوں نیز ان کو اپنی مخلوقات کے درمیان اپنا زمینی جانشین بنائوں، تاکہ لوگوں کو گناہوں سے روکیں اور میرے عذاب سے ڈرائیں، میری اطاعت و بندگی کی ہدایت کریں اور میری راہ کو اپنائیں نیز انہیں آگہی بخش برہان اور اپنے عذر کی دلیل قرار دوں، نسناس (١)کو اپنی زمین سے دور کرکے ان کے ناپاک وجود سے اسے پاک کر دوں.اور طاغی و سرکش جنوںکو اپنی مخلوقات کے درمیان سے نکال کر انہیں ہوااور دور دراز جگہوں پر منتقل کر دوں تاکہ نسل آدم کے جوار سے دوررہیں اور ان سے انس و الفت حاصل نہ کریں اور ان کی معاشرت اختیار نہ کریں، لہٰذا جو شخص ہماری اس مخلوق کی نسل سے جس کو میں نے خود ہی انتخاب کیا ہے میری نافرمانی کرے گا اسے سر کشوں اور طاغیوں کے ٹھکانوں پر پہنچا دوں گااور کوئی اہمیت نہیں دوںگا۔ فرشتوں نے کہا: خدایا! جو مرضی ہو وہ انجام دے: ہم تیری تعلیم کردہ چیزوں کے علاوہ کچھ نہیں جانتے ، تو دانا اور حکیم ہے …(٢)

ھ۔ روح: حضرت امام علی نے روح کے بارے میںجو بیان کیا ہے اس کا خلاصہ درج ذیل ہے :

جبریل روح نہیں ہیں، جبرئیل فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے اور روح جبریل کے علاوہ ایک دوسری مخلوق ہے، اس لئے کہ خدا وند عالم نے اپنے پیغمبرۖ سے فرمایا:

(تنزل الملائکة بالروح من امرہ علیٰ من یشاء من عبادہ)

فرشتوں کو اپنے فرمان سے روح کے ساتھ اپنے جس بندہ پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے ۔ لہٰذا روح فرشتوں کے علاوہ چیز ہے۔(٣)

نیز فرمایا:

(لیلة القدر خیر من الف شہر٭ تنزل الملائکة و الروح فیھا بِأِذن ربھم)(٤)

شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے فرشتے اور روح اس شب میں اپنے پروردگار کے اذن سے نازل ہوتے ہیں۔ نیز فرماتا ہے :

(١) نسناس کی حقیقت ہم پرواضح نہیں ہے ، بحار الانوار میں ایسا ہی مذکور ہے ۔

(٢)بحار الانوار ج٦٣ص٨٢۔٨٣، علل الشرائع سے منقول.(٣)نحل٢(٤)قدر٣۔٤

(یوم یقوم الروح و الملائکة صفاً)(١)

جس دن روح اور فرشتے ایک صف میں کھڑے ہوں گے۔

اور حضرت آدم کے بارے میں جبرائیل سمیت تمام فرشتوں سے فرمایا:

( انی خالق بشراً من الطین فأِذا سوّیتہ و نفخت فیہ من روحی فقعوا لہ ساجدین)

میں مٹی سے ایک انسان بنائوں گا اور جب اسے منظم کر دوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں، تو اس کے سجدہ کے لئے سر جھکا دینا! تو جبریل نے تمام فرشتوں کے ہمراہ اس روح کا سجدہ (٢)کیا۔

اور مریم کے بارے میں ارشاد ہوا:

(فأَرسلنا الیھا روحنا فتمثّل لھا بشراً سویاً)(٣)

ہم نے اپنی روح اس کی طرف بھیجی اور وہ ایک مکمل انسان کی شکل میں مریم پر ظاہر ہوا اور پیغمبر ۖ سے فرمایا:

(نزل بہ الروح الامین٭ علیٰ قلبک )

تمہارے قلب پر اسے روح الامین نے نازل کیا ہے ۔

پھر فرمایا:

(لتکون من المنذرین، بلسانٍ عربیٍ مبین )(٤)

تاکہ واضح عربی زبان میں ڈرانے والے رہو۔

لہٰذا روح گوناگوں اور مختلف شکل و صورت میں ایک حقیقت ہے۔ (٥)

امام کی گفتگو کا خاتمہ۔

اس بنا پر روح (خد ابہتر جانتا ہے) وہ چیز ہے جو آدم میں پھونکی گئی ، نیز وہ چیز ہے کہ جو مریم کی طرف بھیجی گئی نیز وہ چیز ہے جو حامل وحی فرشتہ اپنے ہمراہ پیغمبر کے پاس لاتا تھا ؛ اور کبھی اس فرشتہ کو جو وحی پیغمبر کا حامل ہوتا تھا اسے بھی روح الامین کہتے ہیں، اس طرح روح وہی روح القدس ہے جس کے ذریعہ خدا وند عالم نے حضرت عیسیٰ کی تائید کی تھی اور قیامت کے دن خود روح فرشتوں کے ہمراہ ایک صف میں کھڑی ہوگی۔

(١)نبأ٣٨(٢)ص٧١۔٧٢(٣)مریم١٧(٤)شعرائ١٩٤۔١٩٥(٥)الغارات ثقفی تحقیق اسناد جلال الدین حسینی ارموی ” محدث ”جلد اول ص ١٨٤۔١٨٥

یہ وہی روح ہے جس کے بارے میں خدا وند عالم فرماتا ہے :

( و یسئلونک عن الروح قل الروح من امر ربی)(١)

تم سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں توتم ان سے کہہ دو روح امر پروردگار ہے ۔

خدا وندا! ہم کو سمجھنے میں خطا سے اور گفتار میں لغز ش سے محفوظ رکھ۔

و۔  فرشتوں کے حضرت آدم کا سجدہ کرنے کے معنی

امام علی کی اس سلسلے میں گفتگو کا خلاصہ یہ ہے :

فرشتوں کا آدم کے لئے سجدہ؛ اطاعت اور بندگی کا سجدہ نہیں تھا فرشتوں نے اس سجدہ سے ، غیر اللہ، یعنی آدم کی عبادت اور بندگی نہیں کی ہے ، بلکہ حضرت آدم کی فضیلت اور ان کیلئے خداداد فضل و رحمت کا اعتراف کیا ہے ۔

امام علی  کے کلام کی تشریح:

امام نے گز شتہ بیان میں فرشتوں کو چار گروہ میں تقسیم کیا ہے :

پہلا گروہ: عبادت کرنے والے ، بعض رکوع کی حالت میں ہیں، بعض سجدہ کی حالت میں ہیں تو بعض قیام کی حالت میں ہیں تو بعض تسبیح میں مشغول ہیں۔

دوسرا گروہ: پیغمبروں تک وحی پہنچانے میں وحی خداوندی کے امین ہیں اور رسولوں کے دہن میں گویا زبان؛ نیز بندوں کے امور سے متعلق کہ خداوند عالم ان کے ذریعہ خلق کا انتظام کرتا ہے رفت و آمد کرنے والے ہیں۔

تیسرا گروہ: بندوں کے محافظ و نگہبان، انسان کے جسم و جان میں ایک امانت اور ذخیرہ کی قوتوں کے مانند کہ جن کے ذریعہ خدا وند عالم بندوں کو ، ہلاکت اور مفاسد سے محفوظ رکھتا ہے ، اگر ایسا نہ ہوتا تو ہلاکت اور مفسدہ ؛امن و امان اور حفاظت و سلامتی سے زیادہ انسان کو پہنچے، ان میں سے بعض جنت کے خدام یعنی نگہبان اور خدمت گز ار بھی ہیں۔

چوتھا گروہ: حاملان عرش کا ہے : شاید یہی لوگ ہیںجو امور عالم کی تدبیر پر مامور کئے گئے ہیں جیسے بارش نازل کرنا ،نباتات اور اس جیسی چیزوںکا اگانا اور اس کے مانند  ایسے امور جو پروردگار عالم کی ربوبیت

(١)اسرائ٨٥

سے متعلق ہیں اور مخلوقات عالم کے لئے ان کی تدبیر کی گئی ہے ۔

تیسرے۔ امام محمد باقرسے مروی روایات

امام باقر نے (ونفخت فیہ من روحی ) کے معنی میں ارشاد فرمایا:

یہ روح وہ روح ہے جسے خدا وند عالم نے خودہی انتخاب کیا، خود ہی اسے خلق کیا اور اسے اپنی طرف نسبت دی اور تمام ارواح پر فوقیت و برتری عطا کی ہے ۔(١)

اور دوسری روایت میں آپ نے فرمایا ہے :

خدا وند عالم نے اس روح کو صرف اس لئے اپنی طرف نسبت دی ہے کہ اسے تمام ارواح پر برتری عطا کی ہے ،جس طرح اس نے گھروں میں سے ایک گھر کو اپنے لئے اختیار فرمایا:

میرا گھر! اور پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر سے کہا:میرا خلیل ( میرے دوست) یہ سب ،مخلوق ، مصنوع، محدَّث ، مربوب اور مدبَّر ہیں۔(٢)

یعنی ان کی خد اکی طرف اضافت اور نسبت تشریفی ہے ۔

دوسری روایت میں راوی کہتا ہے :

امام باقر سے میں نے سوال کیا: جو روح حضرت آدم اور حضرت عیسیٰ میں ہے وہ کیا ہے ؟

فرمایا: دو خلق شدہ روحیں ہیں خد اوند عالم نے انہیں اختیار کیاا ور منتخب کیا: حضرت آدم اور حضرت عیسی  ـ کی روح کو۔(٣)

چوتھے۔ امام صادق سے مروی روایات

حضرت امام صادق نے خدا وند عالم کے حضرت آدمۖ و حوا سے متعلق کلام( فبدت لھما سو ء اتھما) ”ان کی شرمگاہیں ہویدا ہو گئیں” کے بارے میں فرمایا:

ان کی شرمگاہیں ناپیدا تھیں ظاہر ہو گئیں یعنی اس سے قبل اندر مخفی تھیں۔(٤)

امام نے حضرت آدم  سے حضرت جبریل کی گفتگو کے بارے میں فرمایا:

(١)بحار الانوار ، ج٤ ص ١٢، بنا بر نقل معانی الاخبار اورتوحید صدوق(٢) بحار الانوار ج٤ ،ص١٢، بحوالہ ٔ نقل از معانی الاخبارو توحید صدوق.(٣)  بحار الانوار ج٤ ،ص ١٣(٤)  بحار الانوار ج١١ ص ١٦٠، نقل از تفسیر قمی ص ٢٣١

جب حضرت آدم جنت سے باہر ہوئے تو ان کے پاس جبرئیل نے آکر کہا: اے آدم! کیا ایسا نہیں ہے کہ آ پ کو خدا وند عالم نے خود اپنے دست قدرت سے خلق کیا اورآپ میں اپنی روح پھونکی اور فرشتوں کو آپ کے  سجدہ کا حکم دیا اور اپنی کنیز حوا کوآ پ کی زوجیت کے لئے منتخب کیا، بہشت میں جگہ دی اور اسے تمہارے لئے حلا ل اور جائز بنایا اور بالمشافہہ آپ کونہی کی : اس درخت سے نہ کھانا! لیکن آپ نے اس سے کھایا اور خدا کی نافرمانی کی، آدم نے کہا: اے جبرئیل! ابلیس نے میرے اطمینان کے لئے خدا کی قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔ اور میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ خدا وند عالم کی کوئی مخلوق خدا کی جھوٹی قسم کھا سکتی ہے۔(١)

امام نے حضرت آدم کی توبہ کے بارے میں فرمایا:

جب خدا وند عالم نے آدم کو معاف کرنا چاہا تو جبرئیل کو ان کی طرف بھیجا، جبرئیل نے ان سے کہا: آپپر سلام ہو اے اپنی مصیبت پر صابر آدم اور اپنی خطا سے توبہ کرنے والے !خدا وند عالم نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ ایسے مناسک آپ کو تعلیم دوں جن کے ذریعہآ پ کی  توبہ قبول کرلے! جبرئیل نے ان کا ہاتھ پکڑا اور بیت کی طرف روانہ ہو گئے اسی اثناء میں آسمان پر ایک بادل نمودار ہوا، جبرئیل نے ان سے کہا جہاں پر یہ بادل آپ پر سایہ فگن ہو جائے اپنے قدم سے خط کھیچ دیجئے ، پھر انہیںلیکر منیٰ چلے گئے اور مسجد منیٰ کی جگہ انہیں بتائی اور اس کے حدود پر خط کھینچا، محل بیت کو معین کرنے اور حدود حرم کی نشاندہی کرنے کے بعد عرفات لے گئے اور اس کی بلندی پر کھڑے ہوئے اور ان سے کہا: جب خورشید غروب ہو جائے تو سات بار اپنے گناہ کا اعتراف کیجئے آدم  نے ایسا ہی کیا۔(٢)

پانچویں۔ امام رضا سے مروی روایات

امام رضا نے خدا وند عالم کے کلام ”خلقت بیدی” کے معنی کے بارے میں فرمایا : یعنی اسے میں نے اپنی قوت اور قدرت سے خلق فرمایا:(٣)

آپ سے عصمت انبیاء  سے متعلق مامون نے سوال کیا:

اے رسول خداۖ کے فرزند! کیا ایسا نہیں ہے کہ آپ کہتے ہیں انبیاء معصوم ہیں؟

 

(١ )  بحار الانوار ج١١ ص ١٦٧.(١) تفسیر نور الثقلین ج٤ ص ٤٧٢ بہ نقل عیون اخبار الرضا(٢)بحار الانوار ج١١ص ١٦٧

امام نے فرمایا: ہاں، بولا! پھر جو خدا وند عالم نے فرمایا (فعصی آدم ربہ فغویٰ)اس کے معنی کیا ہیں؟

فرمایا: خدا وند عالم نے آدم سے فرمایا: ”تم اور تمہاری زوجہ جنت میں سکونت اختیار کرو اور اس میں جو دل چاہے کھائو لیکن اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ ستمگروں میں سے ہو جائو گے” اور گندم کے درخت کا انہیں تعارف کرایا۔ خدا وند عالم نے ان سے یہ نہیں فرمایاکہ: اس درخت اور جو بھی اس درخت کی جنس سے ہونہ کھانا لہٰذاآدم و حوا اس درخت سے نزدیک نہیں ہوئے یہ دونوں شیطان کے ورغلانے اور اس کے یہ کہنے پر کہ خداوندعالم نے تمہیں اس درخت سے نہیں روکا ہے بلکہ اس کے علاوہ کے قریب جانے سے منع کیا ہے ،تمہیں اسکے کھانے سے ا س لئے نہی کی ہے کہ کہیں تم دونوں فرشتہ نہ بن جائو  اوران لوگوں میں سے ہو جائو جو حیات جاودانی کے مالک ہیں اس کے بعد ان دونوں کے اطمینان کے لئے قسم کھائی کہ ”میں تمہارا خیر خوا ہ ہوں” آدم و حوا نے اس سے پہلے کبھی یہ نہیں دیکھا تھا کہ کوئی خدا وند عالم کی جھوٹی قسم کھائے گا، فریب کھا گئے اور خدا کی کھائی ہوئی قسم پر اعتماد کرتے ہوئے اس درخت سے کھا لیا؛ لیکن یہ کام حضرت آدم کی نبوت سے پہلے کاتھا(١)، آغاز خلقت سے مربوط باقی روایتوں کو انشاء اللہ کتاب کے خاتمہ پر ملحقات کے ضمن میں عرض کریں گا۔

بحث کا خلاصہ

اس بحث کی پہلی فصل میں مذکورہ مخلوقات درج ذیل چار قسموں میں تقسیم ہوتی ہیں۔

١۔ جو لوگ موت، زندگی، ارادہ اور کامل ادراک کے مالک ہیں اور ان کے پاس نفس امارہ بالسوء نہیں ہوتا وہ لوگ خدا کے سپاہی اورفرشتے ہیں۔

٢۔ جولوگ، موت ، زندگی، ارادہ؛ درک کرنے والا نفس اور نفس امارہ کے مالک ہیں یہ گروہ دو قسم کا ہے:

الف۔  جن کی خلقت مٹی سے ہوئی ہے وہ حضرت آدم کی اولاد ؛تمام انسان ہیں.

ب۔  جن کی خلقت  جھلسا دینے والی آگ سے ہوئی ہے وہ جنات ہیں.

٣۔ جو موت، زندگی اور ارادہ رکھتے ہیں لیکن درک کرنے والا نفس نہیں رکھتے اور غور و خوض کی صلاحیت نہیں رکھتے  وہ حیوانات ہیں۔

(١)بحار الانوار ج١١، ص ١٦٤، بہ نقل عیون اخبار الرضا

٤۔جو حیوانی زندگی نیز ادراک و ارادہ بھی نہیں رکھتے ، جیسے: نباتات ، پانی کی اقسام ، ماہ و خورشید اور ستارے۔

ہم ان تمام مخلوقات کی انواع و اصناف میں غور و فکر کرتے ہیں تو ہر ایک کی زندگی میںایک دقیق اور متقن نظام حیات پوشیدہ و مضمر پاتے ہیں جو ہر ایک کو اس کے کمال و جودی کے اعلیٰ درجہ تک پہنچاتا ہے ؛اب ہم سوال کرتے ہیں: جس نے ان انواع و اقسام اور رنگا رنگ مخلوقات کے لئے منظم نظام حیات بنایاوہ کون ہے ؟ اور اس کا نام کیا ہے ؟

یہ وہ بات ہے جس کے متعلق ہم خدا کی توفیق سے ربوبیت کی بحث میں تحقیق کے ساتھ بیان کریں گے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.