قرآن مجید کی نظر میں علم وجہل

0 4

 

قرآن مجید میں  علم ودانش کی جو تعریف اور غور و حوض کی جو تشویق کی گئی ہے ،وہ کسی اور آسمانی کتاب میں  پائی نہیں جاتی ۔اسی طرح جہل ونادانی کی جو سرزنش کی گئی ہے وہ بھی قرآن مجید کے خصوصیات میں  سے ہے ۔قرآن مجید نے علم ودانش کو زندگی اورجہل ونادانی کو موت سے تعبیر کیا ہے۔اور اسلام سے قبل فساد سے بھرے ماحول کو (جاہلیت) کا ماحول کہا ہے چنانچہ فرماتا ہے :

(۔۔۔ہل یستوی الّذین یعلمون والّذین لا یعلمون۔۔)  (زمر٩)

”کیا وہ لوگ جو جانتے ہیں ان کے برابر ہو جائیں گے جو نہیں جانتے ؟”

(اومن کان میتا فاحیینہ وجعلنا  لہ نورا یمشی بہ فی الناس کمن مثلہ فی الظّلمات لیس بخارج منہا۔۔۔)  (انعام ١٢٢)

” جوشخص مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندہ کیا اوراس کے لئے ایک نور قراردیاجس کے سہارے وہ لوگوں کے درمیان چلتا ہے اس کی مثال اس شخص کی سی ہوسکتی ہے جوتاریکیوں میں  ہواوران سے نکل بھی نہ سکتا ہو ”۔

(۔۔۔۔فانہا لا تعمی الابصار ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور)  (حج ٤٦)

  ”…در حقیقت آنکھیں اندھی نہیں ہوتی ہیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جوسینوں کے اندر پائے جاتے ہیں ”

(۔۔۔لہم قلوب لا یفقہون بہا و لہم اعین لا یبصرون بہا ولہم آذان لا یسمعون۔..)   ( اعراف١٧٩)

”…ان کے پاس دل ہیں مگر سمجھتے نہیں ہیں اورآنکھیں ہیں دیکھتے نہیں ہیں اور کان ہیں سنتے نہیں ہیں ۔یہ چوپایوں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں …”

(ومایستوی الاعمی والبصیر٭ولا الظلمات ولا النور٭ولا الظل ولاالحرور ٭ ومایستوی الاحیاء     ولا الاموات.۔۔)  (فاطر٢٢١٩)

مزید  قرآن کی روشنی میں منافقین کے ثقافتی صفات

”اور اندھے اور بینا برابر نہیں ہوسکتے اور تاریکیاں اور نوردونوں برابر نہیں ہوسکتے اور سایہ اوردھوپ دونوں بربر نہیں ہو سکتے اورزندہ اور مردے برابر نہیں ہو سکتے…”

خدائے متعال اپنے کلام پاک کی بہت سی آیتوں میں ،انسان کوغوروفکر،اورتدبر کی ترغیب اور تشویق فرماتا ہے اور اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ آسمانوں ،زمین اور ان میں  موجود گوناگون مخلوق کی خلقت کے بارے میں  غورو فکر کریں ، بالخصوص انسان کی خلقت کے بارے میں غور و فکر سے کام لیںگزشتہ ملتوں اور امتوں کی تاریخ ،آثار ،رسو مات ،عادات اور طور طریقوں،جو حقیقت میں  مختلف علوم وفنون انسانی ہیں ،مطالعہ کی تاکید کرتا ہے اور ان مطالعات کے ذریعہ اپنی حقیقی سعادت حاصل کریں۔اور جان لینا چاہئے کہ فنی  نظریات اور علمی مسائل کی چھان بین کرنا اس دنیا کی چند روزہ محدود زندگی کی فلاح وبہبود کے لئے نہیں ہے بلکہ علمی مطالعات کی بنیاد پر جاودانی حیات کی سعادت وآسائش حاصل کر نے ہونا چاہئے ۔

ماخوذ از کتاب “دینی تعلیم ”  علامہ طباطبائی،مرتبہ: سید مہدی آیت اللہی ۔مترجم،سید قلبی حسین

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.