قرآن مجید و ازدواج

0 0

ازدواج اور نکاح ، مرد و عورت کے درمیان اتصال جس میں حدود شرعی کو مد نظر رکھتے ہوئے جسمانی و روحانی لذت کا حصول اورنسل انسانی کی بقاء مقصود ہوتی ہے۔

النکاح سنتی فمن رغب عن سنتی فلیس منی

فطری لذت بھی حاصل اور انسانیت کی بقاء بھی موجود۔ فرمان رسول اعظم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) المحجۃ البیضاء جلد نمبر  ۳ ص ۵۴ نکاح میری سنت ہے میری سنت سے روگردانی کرنے والا میرا نہیں ہو سکتا۔ نکاح کا ذکر قرآن مجید میں ۲۴ دفعہ آیا ہے۔ فطرت انسانی میں مرد بہ عنوان طالب اور  محب اور عورت پھول اور شمع کی حیثیت رکھتی ہے مرد۔ مائل جاتا ہے اور عورت اسکا مقصود بنتی ہے لہذا اسی فطرت کے مطابق خطبہ ازدواج کی خواہش مرد کی طرف سے ہوتی ہے، ناز و نعم میں پروردہ عورت کے لیے افتخار مرد کی بار بار آمد تاکہ قبولیت ہو جائے۔ مرد محبت خرید رہا ہے ، محبت اور چاہت رکھتا ہے اس بیوی کو اپنے گھر میں لانا چاہتا ہے اوراس شمع سے اپنے گھر کو روشن چاہتا ہے۔یہ ہے اظہار۔ محبت اسی میں عورت کا شرف اور عورت کی عظمت ہے۔ پھر برات مرد کی طرف سے جاتی ہے تاکہ عزت کے ساتھ اپنے گھر میں اس عظیم شخصیت اس محبوبہ کو لایا جاسکے تاکہ گھر میں رونق ہو گھر میں چہل پہل ہو مرد کیلئے سکون و اطمینان ہو۔ لیکن جب صیغہ نکاح پڑھا جاتا ہے تو عورت کی طرف سے ابتدا ہوتی ہے انشاء عورت کی طرف سے اور قبول مرد کی طرف سے یہ در حقیقت مرد کا استقبال ہے۔ اپنی طرف سے رضا مندی کا اظہار ہے تا کہ مرد سمجھ لے کہ اسکی محنت رائگاں نہیں گئی۔ مجھے محبت کا جواب محبت سے ملا ہے۔کتنی چاہت کے ساتھ کتنی خوشی کے ساتھ مرد اس عورت کو اپنے گھر لے جاتا ہے۔ جو گھر مرد کا تھا بنانے والے مرد کا تھا لیکن اب اس گھر کی سجاوٹ عورت ہے۔ گھر کی زینت عورت ہے، گھر میں روشنی عورت سے، گھر میں خوشبو عورت سے۔مرد گھر سے باہر ہوتے ہوئے بھی فورا گھر جانے کی خواہش رکھتا ہے تاکہ اپنے اس پھول کی خوشبو سے مستفید ہو۔ یہ ہے خدا کا عطیہ یہ ہے فطری ملاپ ۔ ملاپ بھی ایسا کہ ((تو من شدی من تو شدم)) کا مصداق ہیں۔ ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّ ” وہ تمہارے لباس اور تم ان کے لباس ہو۔” (بقرہ:۱۸۷) ارشا د رب العزت ہے:

وَمِنْ آیَاتِہ أَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِنْ أَنفُسِکُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْا إِلَیْہَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃ وَّرَحْمَۃ إِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَآیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَتَفَکَّرُوْنَ

“اور یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے۔ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے ازواج پید ا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور مہربانی پیدا کر دی۔ غور و فکر کرنے والوں کے لیے یقیناً ان میں(خدا کی) نشانیاں ہیں۔” (روم :۲۱) عورت کی طرف سے محبت اور پیار مرد کی طرف سے محبت کے ساتھ رحمت و مہربانی تاکہ باہمی ارتباط مضبوط سے مضبوط تر ہو جائے خد ا کرے یہ شادی یہ خوشی دائمی ہو ساری زندگی ہی نہیں بلکہ آخرت میں بھی ملاپ و صل و ارتباط ہو۔ ارشادِ رب العزت : ہُمْ وَأَزْوَاجُہُمْ فِیْ ظِلَالٍ عَلَی الْأَرَائِکِ مُتَّکِئُوْنَ “وہ اور انکی ازواج سا یوں میں مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔” (یٰسین:۵۶) انسانی فطرت میں اس محبت کو ودیعت کیا گیا ہے۔ صحیح محبت حدود شرعی میں رہتے ہوئے محبت فطری کہلائے گی۔ ارشاد رب العزت ہے:

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِیْنَ وَالْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَۃ مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃ وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَۃ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْث

” لوگوں کوان کی مرغوب چیزوں یعنی بیویوں، بیٹیوں ، سونے چاندی کے خزانے۔ عمدہ گھوڑوں اورمریشیوں اورکھیتوں کی الفت و زینت دکھا دی گئی ہے۔ ” (آل عمران:۱۴) لیکن یہ تو دنیا وی سامان ہے انجام و عاقبت میں بھی ازواج و عورت کی اہمیت واضح ہے۔ ارشاد رب العزت ہے :

قُلْ أَؤُنَبِّئُکُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِکُمْ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّہِمْ جَنَّاتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا وَأَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃ وَّرِضْوَانٌ مِّنَ اللہ وَاللہ بَصِیْرٌ بِالْعِبَادِ۔

“کہہ دیجیے کیا میں تمہیں ان چیزوں سے بہتر چیز نہ بتا دوں جو لوگ تقویٰ اختیار کرتے ہیں ان کے لیے ان کے رب کے پاس باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ نیز ان کے لیے پاکیزہ بیویاں ہیں اور اللہ کی خوشنودی ہو گی اور اللہ بندوں پر خوب نگاہ رکھنے والا ہے۔

انتخاب عورت

شادی سے پہلے انسان سعی و کوشش کر کے بہترین رشتہ تلاش کرے بہترین رشتہ حسن و زبیائی۔تعلیم و تربیت۔اخلاق و کردا رسے متصف ہو۔خاندان شریف۔ عورت عفیفہ پاک دامن۔ اور ولود(بچہ جننے والی) بانجھ عقیم سے اجتناب کیا جائے صرف مال و دولت اور خوبصورتی کافی نہیں ہے۔ بد کردار خاندانی لڑکی ایسے ہے جیسے کوڑا کرکٹ کے وسط میں پھول۔اس سے اجتناب ضروری ہے۔ ارشاد رب العزت ہے:

مزید  عقلمند بيوي اپنے شوہر کي معاون و مدد گار ہے

وَلَاتَنْکِحُوْا الْمُشْرِکَاتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ وَلَأَمَۃ مُّؤْمِنَۃ خَیْرٌ مِنْ مُشْرِکَۃ وَّلَوْ أَعْجَبَتْکُمْ وَلَاتُنْکِحُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَتّٰی یُؤْمِنُوْا وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُشْرِکٍ وَّلَوْ أَعْجَبَکُمْ أُوْلٰئِکَ یَدْعُونَ اِلٰی النَّارِ وَاللہ یَدْعُوْا إِلَی الْجَنَّۃ وَالْمَغْفِرَۃ بِإِذْنِہ وَیُبَیِّنُ آیَاتِہ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ.

“تم مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں چونکہ مومنہ کنیزاس مشرکہ عورت سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں زیادہ پسند ہو نیز (مومنہ عورتوں کو) مشرک مردوں کے عقد میں نہ دینا۔ خواہ وہ مشرک تمہیں پسند ہی ہو کیونکہ وہ جہنم کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ اپنے حکم سے جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے۔ اور اللہ اپنی نشانیوں کو لوگوں کے سامنے کھول کر پیش کر تا ہے۔شائد کہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ ارشادِ رب العزت ہے:

اَلْخَبِیْثَاتُ لِلْخَبِیثِیْنَ وَالْخَبِیْثُونَ لِلْخَبِیْثَاتِ وَالطَّیِّبَاتُ لِلطَّیِّبِینَ وَالطَّیِّبُونَ لِلطَّیِّبَاتِ أُوْلٰئِکَ مُبَرَّئُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُونَ لَہُمْ مَّغْفِرَۃ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ۔

 “خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کی لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں وہ ان باتوں سے پاک ہیں جو وہ لوگ بناتے ہیں انکے لیے مغفرت اور با عزت روزی ہے۔” (سورہ نور:۲۶) پیسہ دیکھ کر شادی عورت کی دولت کی وجہ سے اسکے ساتھ شادی، حسن کو مد نظر رکھتے ہوئے ترویج نہیں بلکہ اصل چیز شرافت دیانت اور اخلاق و کردار کی پاکیزگی ہے ،رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ إِنْ یَّکُوْنُوْا فُقَرَاءَ یُغْنِہِمْ اللہ مِنْ فَضْلِہ “اگر مرد نادار و فقیر ہے تو اسے اللہ اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ ” (سورہ نور : ۳۲)

حق مہر اور  قرآن

مہر ،اللہ کی طرف سے عورت کے لیے عطیہ ہے مہر دینا مرد کا احسان نہیں بلکہ عورت کا حق اور خدائی ہدیہ ہے۔ ارشاد رب العزت ہے:

وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِہِنَّ نِحْلَۃ فَإِنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْہُ نَفْسًا فَکُلُوْہُ ہَنِیئًا مَّرِیْئًا۔

“اور عورتوں کے مہر انکو خوشی سے دیا کرو اگر وہ کچھ حصہ اپنی مرضی سے معاف کر دیں تو اسے خوشگواری لے کر صرف سکتے ہو۔ ” (سورئہ نساء:۴) مہر کی مقدار حضرت علی علیہ السلام نے اپنی زرہ بیچ کر اسکی قیمت حضور کی خدمت میں پیش کی حضور نے اسی مہر کی رقم ۴۸۰ درہم سے جہیز خرید ا۔ چاند ی کی قیمت جس وقت ۴۵ روپے فی تولہ تھی اس وقت ۴۸۰ درہم یعنی ۱۴۵۵۵ روپے بنتے ہیں یہی مہر فاطمی ہے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو مہر فاطمی کے مطابق مہر ادا کرتے ہیں لیکن جہاں تک مہر شرعی کا تعلق ہے اس کی مقدار متعین نہیں بلکہ دونوں خانوادوں کی باہمی رضا مندی جس مقدار پر ہو جائے۔ وہ جائز ہے۔ ارشاد رب العزت ہے:

 وَإِنْ أَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّکَانَ زَوْجٍ وَّآتَیْتُمْ إِحْدَاہُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوْا مِنْہُ شَیْئًا أَتَأْخُذُوْنَہ بُہْتَانًا وَّإِثْمًا مُّبِیْنًا وَکَیْفَ تَأْخُذُوْنَہ وَقَدْ أَفْضٰی بَعْضُکُمْ إِلٰی بَعْضٍ وَّأَخَذْنَ مِنْکُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا

“اگر تم لوگ ایک زوجہ کی جگہ دوسری زوجہ لینا چاہو اور ایک کو بہت سا مال بھی دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لینا کیا تم بہتان اور صریح گناہ کے ذریعہ مال لینا چاہتے ہو اور دیا ہوا مال تم کیسے واپس لے سکتے ہو جب کہ تم اسکے ساتھ مباشرت کر چکے ہو اور وہ تم سے شدید عہد و قرار لے چکی ہیں۔ ” (سورہ نساء :۲۰۔۲۱) حضرت عمر ابن خطاب نے ایک دفعہ کہا حق مہر اگر زیادہ لیا گیا تو بحق سرکار ضبط کر لیا جائے گا ایک مخدرہ نے اٹھ کر یہ آیت پڑھی اور کہا جب اللہ نے زیادہ مہر لینے کا کہا تو آپ کیسے منع کرتے ہیں۔۔ظاہر ہے جب “پل ” کی مندرجہ رقم ہوئی تو کافی زیادہ ہو گی۔ بہر حال حق مہر عورت کا حق ہے عورت کے لیے اللہ کی طرف سے عطیہ ہے اور مرد کی محبت کا اظہار ہے۔ ادائیگی ضروری ہے

وہ عورتیں جن سے نکاح حرام ہے

ارشاد رب العزت ہے:

حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ أُمَّہَاتُکُمْ وَبَنَاتُکُمْ وَأَخَوَاتُکُمْ وَعَمَّاتُکُمْ وَخَالَاتُکُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّہَاتُکُمُ اللاَّ تِیْ أَرْضَعْنَکُمْ وَأَخَوَاتُکُمْ مِنَ الرَّضَاعَۃ وَأُمَّہَاتُ نِسَائِکُمْ وَرَبَائِبُکُمُ اللاَّ تِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ مِّنْ نِّسَائِکُمُ اللاَّ تِیْ دَخَلْتُمْ بِہِنَّ فَإِنْ لَّمْ تَکُونُوا دَخَلْتُمْ بِہِنَّ فَلاَجُنَاحَ عَلَیْکُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِکُمُ الَّذِیْنَ مِنْ أَصْلَابِکُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْأُخْتَیْنِ إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللہ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا وَّالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ کِتَابَ اللہ عَلَیْکُمْ وَأُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَاءَ ذٰلِکُمْ أَنْ تَبْتَغُوْا بِأَمْوَالِکُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسَافِحِیْنَ۔

“تم پر حرام ہیں تمہاری مائیں تمہاری بیٹیاں تمہاری بہنیں تمہاری وہ مائیں جو تمہیں دودھ پلا چکی ہیں تمہاری پھوپھیاں،تمہاری خالائیں، تمہاری بھتیجیاں، تمہاری بھانجیاں اور تمہاری دودھ شریک بہنیں تمہاری بیویوں کی مائیں اور جن بیویوں سے تم مقاربت کر چکے ہو ان کی وہ بیٹیاں جو تمہاری پرورش میں رہی ہوں۔ لیکن اگر ان سے تم نے صرف عقد کیا ہو مقاربت نہ کی ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔نیز تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں اور دو بہنوں کا باہم جمع کرنا مگر جو پہلے سے ہو چکا ہو بے شک اللہ بڑا بخشنے والا،رحم کرنے والا ہے اور شوہر دار عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر وہ جو تمہاری ملکیت میں آ جائیں یہ تم پر اللہ کا فرض ہے اور ان کے علاوہ باقی عورتیں تم پر حلال ہیں ان عورتوں کو تم مال خرچ کر کے اپنے عقد میں لاسکتے ہو۔ بشرطیکہ(نکاح کا مقصد) عفت قائم رکھنا ہو بے عفتی نہ ہو۔” ارشاد رب العزت ہے:

مزید  ظہور اور عقول کي ترقي

وَلَاتَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ آبَاؤُکُمْ مِّنْ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّہُ کَانَ فَاحِشَۃ وَّمَقْتًا وَسَاءَ سَبِیْلًا۔

“اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ دادا نکاح کر چکے ہیں مگر جو کچھ جو چکا ہے سو ہو چکا یہ ایک کھلی بے حیائی ہے اور ناپسندیدہ عمل اور برا طریقہ ہے۔” (سورہ نساء:۲۲)

کنیزوں سے نکاح

کافر عورتیں جو قید ہو کر آئیں ان سے بھی ان کی مالک کی اجازت سے نکاح کیا جاسکتا ہے۔ان کا حق مہر اور دوسری ضروریات آزاد عورت کی نسبت کم ہوتی ہیں۔ غلط کاری میں سزا بھی کم ہو تی ہے۔ لیکن کنیزوں سے ویسے مقاربت سے نا جائز ہے کسی کو حق نہیں کہ کنیز سے مجامعت کرے یہ کام حرام ہے البتہ نکاح جائز ہے۔ ارشادِ رب العزت ہے:

وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلًا أَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِنْ مَّا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ مِّنْ فَتَیَاتِکُمُ الْمُؤْمِنَاتِ وَاللہ أَعْلَمُ بِإِیْمَانِکُمْ بَعْضُکُمْ مِّنْ بَعْضٍ فَانْکِحُوْہُنَّ بِإِذْنِ أہْلِہِنَّ وَآتُوْہُنَّ أُجُوْرَہُنَّ بِالْمَعْرُوُفِ مُحْصَنَاتٍ غَیْرَ مُسَافِحَاتٍ وَّلَامُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَیْنَ بِفَاحِشَۃ فَعَلَیْہِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْکُمْ وَأَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ وَاللہ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔

“اگر تم میں سے کوئی مالی مشکلات کی وجہ سے آزاد عورتوں سے نکاح کی قدرت نہ رکھتا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ تمہاری مملوکہ مسلمان لونڈیوں سے نکاح کرے اللہ تمہارے ایمان کو اچھی طرح جانتا ہے۔ تم لوگ آپس میں ایک دوسرے کا حصہ ہو لہذا ان کے سرپر ستوں سے اجازت لے کر ان کے ساتھ نکاح کرو اور شائستہ طریقہ سے ان کا مہر ادا کرو کہ وہ نکاح کے تحفظ میں رہنے والی ہوں بد چلنی کا ارتکاب کرنے والی نہ ہوں۔نہ در پردہ آشنا رکھنے والی ہوں پھر نکاح میں آنے کے بعد بد کاری کا ارتکاب کریں تو ان کے لیے سزا کا نصف ہے جو آزاد عورتوں کیلیے مقرر ہے یہ اجازت اسے حاصل ہے جسے شادی نہ کرنے(سے) تکلیف و مشقت کا خطرہ حق ہو لیکن اگر صبر کرو تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے اور اللہ بڑا بخشنے والا ہے رحم کرنے والا ہے۔” (نساء:۲۵)

نکاح متعہ

نکاح کی دو قسمیں ہیں نکاح دائمی و  موقت۔ مذہب جعفریہ کے علماء کا اجماع ہے کہ نکاح متعہ جائز ہے۔ نکاح دائمی و متعہ میں چند چیز مشترک ہیں۔

 ۱) عورت عاقلہ بالغہ راشدہ اور تمام موانع سے خالی ہو۔

۲) آپس کی رضا کافی نہیں بلکہ صیغہ شرعی پڑھنا ضروری ہے۔

۳) نکاح سے جو چیزیں عورت پر حرام ہو جاتی ہیں ان میں دونوں شریک ہیں

۴) اولاد کے سلسلہ میں دونوں برابر دائمی کی طرح متعہ میں بھی اولاد شوہر کی ہوتی ہے

۵) مہر دونوں میں ضروری ہے متعہ میں مہر کا ذکر نہ ہو تو نکا ح نہیں ہو گا۔

۶) نکاح میں طلاق کے بعد اور متعہ میں مقررہ مدت کے اختتام کے بعد عدت ضروری ہے۔

عقدِ متعہ اور عقدِ نکاح میں فرق

 ۱) نکاح متعہ میں مدت کا ذکر کرنا ضروری ہے۔

۲) مہر۔ نکاح متعہ کا رکن ہے اس کے ذکر کے بغیر نکاح نہیں ہو گا

۳) نکاح دائمی میں نفقہ دینا واجب ہے اور نکاح متعہ میں اگر شرط کر لی جائے تو واجب ہے۔

۴) نکاح دائمی۔ طلاق کے بغیر ختم نہیں ہو تا متعہ۔مدت کے اختتام پر ختم ہو جاتا ہے۔ بہرَ حال دونوں ہی نکاح ہیں دونوں ہی شرعی ہیں دونوں کی حقیقت ایک ہے صرف چند امور میں فرق ہے۔ فقہاء اسلام سنی و شیعہ سب کا اتفاق ہے کہ نکاح متعہ اسلام میں مشروع۔ اور جائز قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد رب العزت ہے:

فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِہ مِنْہُنَّ فَآتُوْہُنَّ أُجُوْرَہُنَّ فَرِیْضَۃ وَلَاجُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا تَرَاضَیْتُمْ بِہ مِنْم بَعْدِ الْفَرِیْضَۃ إِنَّ اللہ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا

“پھر جن عورتوں سے تم نے متعہ کیا ہے ان کا طے شدہ مہر بطور فرض ادا کرو البتہ طے کرنے کے بعد آپس میں رضا مندی سے مہر میں کمی بیشی کرو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے یقیناً اللہ بڑا جاننے والا حکمت والا ہے۔” (سورہ نساء :۲۴)

متعہ کے جواز

مشروعیت میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں لہذا مفسر کبیر فخرالدین رازی کا قول ہے۔یہ واضح ہے اور ہم اس کے منکر نہیں کہ متعہ مباح تھا لیکن داعی ہیں کہ متعہ منسوخ ہو گیا ہے نسخ مشکوک۔جوازو اباحت یقینی۔ لہٰذا مباح ہی ہو گا۔ متعہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ابو بکر ، حضرت عمر ابن خطاب کے زمانہ تک جائز تھا، حضرت عمر نے منع کیا۔ ابو نَضرہ کہتے ہیں عہد کہتا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ،ابن زبیر متعہ ممنوع قرار دیتے ہیں۔ ابن عباس کے نزدیک جائز ہے جابر نے بتایا کہ ہم نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابوبکر حضرت عمر کے زمانہ میں متعہ کیا لیکن حضرت عمر نے کہا منع کیا۔ رسول اللہ وہی رسول ہیں۔ قرآن وہی قرآن ہے لیکن حضرت عمر نے کہا : متعتان  کانتا فی عہد رسول اللہ انا انہی عنہما واعاقب علیہا رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ میں دو متعہ جائز تھے میں ان کو ممنوع قرار دیتا ہوں اور جو ان کا مرتکب ہو گااسے سزادوں گا۔ (سنن بیہقی جلد ۷، ۲۰۶) رازی، بخاری، عسقلانی ، اور ابن حجر وغیرہ ذکر کرتے ہیں روایت عمران ابن حصین متعہ کے متعلق آیت نازل ہوئی کسی آیت میں نسخ کیا ،رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے فرمایا ، پھر منع نہیں فرمایا پھر ایک صاحب (عمر ابن خطاب)نے اپنی رائے کا اظہار کیا کہ ممنوع ہے۔ حضرت امیر کا فرمان ہے : لولا ان عمر رضی اللہ عنہ نھی عن المتعۃ ما زنی الا شقی (تفسیر کبیر جلد۵ ص۱۳) ابو سعید الخدری جابر ابن عبداللہ انصاری حضرت عمر کے نصف زمانہ تک متعہ ہو تا رہا پھر حضرت عمر نے منع کیا۔(عمدۃ القاری للعینی جلد۸ ص۳۱۰) خلاصہٴ کلام متعہ کا جواز متفق علیہ مشروعیت اجماعی ہے نسخ ہوا یا نہیں، شدیداختلاف ہے۔ کیوں اب نہیں ہورہا چونکہ حضرت عمر نے منع فرمایا۔ حضرت عمر کا فرمان سیاسی تھا کسی کی مرضی اس فرمان کو لے یا قرآن کے فرمان کو لے۔ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِہِ مِنْہُنَّ فَآتُوہُنَّ أُجُورَہُنَّ فَرِیضَۃ۔ پھر جن عورتوں سے تم نے عقد متعہ کیا ہے ان کا  طے شدہ مہر، بطور فرض ادا کرو۔(نساء ۲۴)

مزید  انقلاب اسلامی کے روحانی پہلو

ایک سے زیادہ زوجہ 

قبل از اسلام تعدد ازواج کا رواج تھا عام طور پر محبت یا بچوں کی کثرت ایک سے زیادہ ازواج کی سبب تھی۔ بعض اوقات یہ تصور بھی کہ خاندان میں عورتیں زیادہ اور مرد کم ہیں اور عورت کو تحفظ کی ضرورت ہے لہذا تعدد ازواج کا سلسلہ چل نکلا۔ اسمیں کوئی قید نہیں تھی، امراء مال دار لوگ بہت زیادہ شادیاں رچا لیتے تھے۔ جو عورت اچھی محسوس ہوتی اسے اپنے گھر لے آتے۔ اسلام نے فطرت کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک سے زیادہ نکاح کرنے کی اجازت دی ہے تاکہ عورت کو تحفظ حاصل ہو۔ جس سے محبت ہے زناکاری میں نہ پڑ جائے یا اس کی خواہش پوری ہو جائے لیکن اس کو محدود کر دیا…صرف چار میں۔ پھر با قاعدہ حکم و اجازت ایک شادی کی ہے، دوسری شادی مشروط بشرط ہے اور وہ ہے انکے مابین انصاف و عدالت۔ گویا تعداد کے لحاظ سے محدود۔ پھر عدالتسے بھی مشروط۔ تاکہ ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے دوسری شادی کر لی جائے لیکن انصاف کا دامن چھوٹنے نہ پاتے۔ایسا نہ ہو کہ یہاں پہلی بیوی کے حقوق غصب۔ اوردوسری راحت و عیش میں۔ نہیں نہیں انصاف و عدالت لازم اور پھر خدائی پرستش بھی ہو گی۔ ارشادِ رب العزت ہے:

فانکحوا اما طاب لکم من النساء امثنی و ثلاث و رباع فان خفتم الاقد لوا فواحدۃ او ما ملکت ایمانکم ذلک ادنیٰ ان لا تعولوا۔

جو دوسری عورتیں تم کو پسند آئیں ان میں سے دو یا تین یا چار سے نکاح کر لو۔ تمہیں خوف ہو کہ ان میں عدل نہ کر سکوگے کہ تو ایک ہی عورت یا لونڈی جس کے تم مالک ہو کافی ہے۔ یہ ناانصافی سے بچنے کی بہتر ین صورت ہے۔ (نساء،۳) جو رواج پہلے چل رہے تھے کہ لوگ کثرت سے شادیاں رچاتے تھے بعض تو سو سے بھی زیادہ شادیاں کر لیتے تھے۔اسلام نے اسے دو شرطوں سے مشروط کر دیا۔ ۱) صرف چار تک محدود کر دیا۔ اس سے زیادہ کی اجازت نہیں دی۔ ۲) عدالت و انصاف لازمی ہے عدم انصاف کا خوف ہو تو دوسری شادی جائز نہیں یہ سب کچھ کیوں۔بے سہارا عورت کو سہارا مل جائے۔کثرت سے عورتوں کا نکاح ہو جائے۔ کسی کی چاہت دل میں ہے تو غلط راستہ کی بجائے صحیح راستہ سے خواہش پوری ہو جائے۔آج مغرب کی حالت دیکھیں بعض ممالک میں ۳۵فیصدسے زیادہ حرام زادے موجو د ہیں۔ عورت کھلونا بن چکی ہے کمائی کا ذریعہ بن گئی ہے۔عورت کی بے چارگی اس قدر کہ اس کا کوئی سہارا نہیں چند دن اس کو ساتھ پھر ایا پھر چھوڑ دیا پھر کہیں اور …عظمت عورت کا تقاضا اچھے مرد کا ساتھ ہے جو عزت کا محافظ ،غیرت کا محافظ اور ضروریات زندگی کا ضامن ہو۔یہ ہے عورت کی شان!!

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.