قرآن سے ایک نمونہ

0 2

یعنی جس وقت کہ (اے رسول(ص)) تم نے (سنگریزے) پھینکے تو وہ تم نے نھیں پھینکے ھیں بلکہ خدا نے پھینکے ھیں۔

اس آیت میں ھم دیکھتے ھیں کہ جملہٴ ”مَارَمَیْتَ“ آنحضرت(ص) سے پھینکنے کی نسبت کی نفی کرتا ھے اور جملہٴ ”اللّٰہ رمیٰ “ عیناً اسی پھینکنے کی نسبت کو خدا کے لئے ثابت کرتا ھے، یعنی انسان عین اثبات ”فاعلیت“ میں ”استقلال“ کی نفی کی ھے اور پھر اسی ”فعل“ میں خدا کو فاعل ”مستقل اور بالذات“ قرار دیا ھے۔

اسی طرح قرآن نے ”قبض روح“ کے سلسلہ میں بھی اس کی نسبت خدا کی طرف دی ھے فرماتا ھے:

”اللّٰہُ یَتَوفَّی الْاٴَنْفُسَ حِیْنَ مَوتِھَا۔۔۔“

”خدا موت کے وقت (انسانوں) کی جانوں کو لے لیتا ھے۔

اور دوسری جگہ پر اسی کام کو ”ملک الموت“ کی طرف نسبت دیتا ھے کہ ارشاد ھوتاھے:قُلْ یَتَوفّٰکُمْ مَّلَکٴُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُکِّلَ بکُمْ ۔۔۔“

”اے میرے رسول کہہ دیجئے:  ملک الموت جو تم پر موکّل ھے تمھاری جانوں کو لے لیتا ھے۔

دوسری جگہ ارشاد ھے: 

”حَتّٰی اِذٰا جَآءَ اٴَحَدُکُمُ المُوتُ توفَّتْہُ رُسُلُنٰا“

”جیسے ھی تم میں سے کسی ایک کو موت آتی ھے تو ھمارے رسول اس کی جان اور روح قبض کرلیتے ھیں“

 اور کبھی فرماتا ھے:یُدبّرُ الْاَمْرَ مِنَ السّمٰآء اِلیٰ الْاٴرضِ ۔۔۔۔“

”تمام امور کی تدبیر خدا کرتا ھے اور پھر آسمان سے زمین کی طرف نازل کرتا ھے“

اور دوسری جگہ ارشادھوتا ھے:

”فالْمُدَبّراتِ اَمْراً“

”قسم ھے ان فرشتوں کی جو تدبیر کرنے والے ھیں“

ایک جگہ ”وحی“ لانے اور قرآن نازل کرنے کو حضرت ”روح الامین“ کی طرف نسبت دے کر فرماتا ھے:

”نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْامِیْنُ عَلٰی قَلْبِکٴَ ۔۔۔۔“

”قرآن کو روح الاْمین نے تمھارے قلب پر نازل کیا ھے“۔

اور دوسری جگہ خدا کی ذات اقدس کی طرف نسبت دیکر فرماتا ھے:

”إنَّانَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْکَٴ الْقُرْآنَ تَنْزِیْلاً“

”حقیقت یہ ھے کہ قرآن کو ھم نے تم پر نازل کیا ھے“۔

سرّ مطلب وھی ھے کہ جوھم نے بیان کیا یعنی خدا کا ”فعل“ اور اس سے اشیاء کا صادر ھونا، جریان میں ایک منظّم تشکیلات اور ”نظام“ کی صورت سے ھے اور اس نظام کے داخل میں جو کام انجام دیاجاتا ھے، خالق کل جھان، خدا کی وھی عین فاعلیت ھے کہ جس کو قرآن میں”اِذْنُ اللہ“ سے تعبیر کیا جاتا ھے ارشاد ھوتا ھے:مَنْ ذَا الَّذِی یَشْفَعُ عِنْدَہُ إلاَّبِاِذْنِہِ“

کون ھے جو اس کے نزدیک (اس کے نظام خلق میں) شفاعت کرے (اپنی طرف سے کوئی اثر وجود میں لائے) سوائے اس کی اجازت (کی طاقت) کے؟

”ھَلْ مِنْ خالِقٍ غَیْرُاللّٰہِ“

”آیا خدا کے علاوہ کوئی پیدا کرنے والا ھے؟“

”قُلِ اللّٰہ ُ خَالِقُ کُلِّ شَيءٍ وَھُوَالوَاحِدُ القَھَّارِ“

”کہہ دو!  ھر چیز کا پیدا کرنے والا صرف خدا ھے جو واحد قھار ھے“(کہ اس کی قدرت کا سایہ، پورے جھانِ ھستی پر پھیلا ھوا ھے اور تمام موجودات کو اپنی قاھر تدبیر و ارادہ کے تحت لے رکھا ھے،

لیکن یہ ”خلق “ یہ ”ارادہ“ اور یہ ”تدبیر“ ایک خاص نظام کے تحت انجام پاتا ھے اور ھر ایک ”معلول“ اپنی خاص ”علت“ کے تحت وجود پاتا ھے۔

ھاں یہ خدا ھی ھے جو ” لوگوں کو مارتا“ اور ان کی روحوں کو قبض کرتا ھے لیکن ”عزرائیل“ اور اس کے اعوان و انصارکے ذریعہ، اور یہ خدا ھی ھے جو تمام روزی خواروں کو روزی دیتا ھے:

”وَمَا مِنْ دَابّةٍ فِی الْاَرْضِ إلَّاعَلٰی اللّٰہِ رِزْقُھٰا“

کوئی جانور اور جنبذہ روی زمین پرنھیں ھے مگر یہ کہ اس کا رزق خدا کے ذمّہ ھے،(لیکن میکائیل اور اس کے مددگاروں کے ذریعہ اسے رزق ملتا ھے۔

یہ خدا ھی ھے جو انبیاء علیھم السلام کے قلوب پر ”وحی“ نازل کرتا ھے لیکن جبرئیل اور اس کے پیروکاروں کے ذریعہ، اور خداھی ھے جو بارش برساتا ھے اور ھوائیں چلاتا ھے اور زمین کو زندہ کر کے گھاس اُگاتا ھے لیکن ایک مخصوص انداز میں سورج کی روشنی، نور اور حرارت کے وجود کے ذریعہ، نیز قرآن حکیم فرماتا ھے:اَللّٰہَ خَالِقُ کُلِّ شَيءٍ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَيءٍ وَّکِیْلٌ “

”خدا ھر چیز کا خالق ھے اور وھی ھر چیز پر مدّبر و کارساز ھے۔“

”إنَّ اللّٰہَ ھُوَ الرَّزَّاقُ ذُوْالقُوَّةِ المَتِیْنُ“

 ”روزی دینے والا وھی خدا ھے جو صاحب قدرت و توانا ھے“۔

مزید  اربعین حسینی اور ہم

دوسری جگہ ارشادھوتا ھے:

”وَقُلْ الْحَمْدُلِلّٰہِ الذِّیْ لَمْ یَتّخِذْ وَلَداً وَلَمْ یَکُِنْ لَّہُ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِٴ وَلَمْ یَکُنْ لَہْ وَلِیٌّ مِنَ الذُّلِّ وَ کَبّرہُ تَکْبِیْراً“

”اورکھوکہ ھر طرح کی تعریف اسی خدا (کو سزا وار )ھے جو نہ تو کوئی اولاد رکھتا ھے اور نہ (سارے جھاں کی) سلطنت میں اس کا کوئی ساجھے دار ھے،  او رنہ  اسے طرح کی کمزوری ھے، نہ کوئی اس کا سرپرست ھے اور اس کی بڑائی اچھے طرح    کیا کرو“

حضرت امام صادق علیہ السلام اسماعیل بن عبدالعزیز (جو آپ کے بارے میں غلو آمیز عقیدہ رکھتا تھا)سے فرماتے ھیں کہ :

”یَا إسْمَاعِیْلُ لاَترْفَعِ البِنَاءَ فَوقَ طَاقَتِہِ فَیَنْھَدِمُ ، إجْعَلُونَا مَخْلُوقِیْنَ۔۔۔“

اے اسماعیل !  عمارت کو اس کے پایوں کی طاقت سے زیادہ اُونچا نہ کرو ورنہ وہ عمارت منھدم ھوجائے گی، ھم کو مخلوق سمجھو! “یعنی ھمارا وجودِ ”امکانی“ اس بات کی طاقت نھیں رکھتا ھے تم ھماری طرف ”خلاّقیت ، رزّاقیت اور فعالیت میں استقلال “ کی نسبت دو کہ جو خدا وندعالم کے کاموں میں سے ھے،بلکہ جو ھمارے وجود کے مرتبہ کی مناسبت اور شائستہ ھے وہ یہ ھے کہ ھم کو خدا ئے ربّ العالمین کی نسبت مخلوقیت و مربوبیّت کی حدوں سے دور رکھو اور اگر کسی وقت ھم سے کوئی چیز صادر ھو تو سمجھو وہ فاعلیتِ ”بالْاِذْن“ کی شئونات میں سے خدائے ”بالّذات“ کی فعالیت پر متکی ھے۔

پس جو فعل کسی سبب اور علت کے ذریعہ صادر ھوتا ھو وہ اولاً و بالذّات خدا سے صادر ھوتا ھے اور ثانیاً و بالعرض اس کی نسبت علل و اسباب اور وسائط کی طرف دی جاتی ھے کہ ایک سکنڈ کے لئے اگر خدا کا ”فیض“ منقطع ھو جائے تو تمام چیزیں نیست ونابود ھوجائیں گی۔

لیکن جن فاعلوں کا وجود، وجود حق کے سائے میں ھو تو طبیعی طور پر ان کی فاعلیت بھی حضرت حق کی فاعلیت کا سایہ ھوگی۔

این ھمہ عکس می و نقش مخالف کہ نمود

یک فروغ رخ ساقی است کہ درجام افتاد

 اس وجہ سے ، خدا اور موجوداتِ جھاں کے درمیان علل و اسباب کا وجود، خدا کی مستقل فاعلیتِ و خالقیت کے ساتھ کوئی منافات نھیں رکھتا ھے، اور جو اصل مسلّم ھے وہ یہ کہ:لٰاخَاِلقَ إلاّاللّٰہ ُ، وَلٰا رَازِقَ إلاّاللّٰہ ُ ،وَ لٰا مُدَبَّرَ فِی الْخَلْقِ وَاْلاَمرِ إلاّ اللّٰہ ، لٰامُحْیٖي وَلَامُمِیْتَ إلاّ اللّٰہُ  وَ لاََمٴوثّرَفِی الُوجُودِ إِلّااللّٰہ“

”سوائے خدا کے کوئی خالق نھیں، سوائے خدا کے کوئی رازق نھیں، امور مملکت اور خلق میں سوائے خدا کے کوئی مدبّر نھیں، سوائے خدا کے کوئی مارنے اور جلانے والا نھیں اور خلاصہ یہ ھے کہ وجود میں سوائے خدا کے کوئی موٴثر(اثر دکھانے والا) نھیں ھے،“ یہ کمال اتفاق اور اپنی حالت میں باقی اور ثابت ھے۔

کیونکہ تمام عالم میں فاعل ”مستقل اور بالذّات“ خدا ھے اور تمام موجودات جتنے بھی ھیں وہ سب عمومی طور پر فاعل ”بالاِذْن“ ھیں، اور ان میں سے ھر ایک خدا کی امداد کے مطابق اور خداوندعالم کی عطا کی حدود میں کسی کام کی انجام دھی میں ماٴذون ھیں اور اپنی مخلوقیّت کے اقتضاء میں ان میں سے کوئی ایک بھی پلک جھپکنے کے برابر بھی وجود اور اپنے پاس سے ایجاد میں ”استقلال“ نھیں رکھتے، اور نہ ھی اپنے پیروں پر کھڑے ھوسکتے ھیں۔

جبکہ عقل سلیم کے حکم سے ”ممکن الوجود“ اپنی ذات کی حد تک عدم اور فاقد وجود ھے، لہٰذا محال ھے کہ ایسا وجود، مبداء ھستی ھو اور ”ایجاد، فنا اور مارنا و جلانا وغیرہ اس سے صادر ھوں، بلکہ موجود ”ممکن“ (کہ سوائے خدا کے جو بھی ھے وہ موجود ممکن میں شمار ھے) حدوثاً، بقاء اً، وجوداً، ایجاداً ذاتاً و فعلاً خدا کی ذات پر متکی اور ”قیومیت“ کا محتاج ھے۔

 ایک ناقص مثال  :

ھر وہ فعل جو انسان کے ظاھری و باطنی اعضاء مثلاً آنکھ، کان، ھاتھ، پیر، زبان وغیرہ سے صادر ھوتا ھے در حالیکہ انسان کی طرف منسوب ھوتی ھے وھاں انسان کے اعضاء کی طرف بھی نسبت دی جاتا ھے۔

لہٰذا ھم کہتے ھیں:  میں نے دیکھا، میں نے سنا اور میں نے لکھا (اور یہ بھی ھم کہتے ھیں:  ھاتھ نے لکھا اور آنکھ نے دیکھا وغیرہ اور ان دو نسبتوں کی گفتگو کا راز یہ ھے کہ انسان کی فعّال قوتیں، انسان کے ناطقہ نفس کے ”طول“ میں قرار پاتے ھیں اور مجریان فرمان نفس بھی ھیں اور دوسرے لفظوں میں مظاھر فعالیّت نفس ھوتے ھیں۔

مزید  فلسفہ عبادات

اور یہ افعال اولاً و بالذات، نفس سے صادر ھوتے ھیں اور ثانیاً و بالعرض انسان کی طرف منسوب ھوتے ھیں، یہ نفس ناطقہ اور خود انسان ھے جو آنکھ کے ذریعہ دیکھتا ھے، کان کے ذریعہ سنتا ھے اور ھاتھ کے ذریعہ لکھتا ھے، لہٰذا قرآن میں ارشاد ھے:”وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَاتَعْمَلُونَ“[26]

”تمھیں اور جو کچھ تم انجام دیتے ھو (یا جو بت تم تراش کر کے بناتے ھو) خدا نے پیدا کیا ھے“۔

”درحالیکہ یہ انسان کے اعمال (منجملہ ان کے وھی تراشے ھوئے جو بت پرستوں کے ھاتھ سے بنائے ھوئے ھیں اور آیتوں کے سیاق کے حکم کے مطابق اس آیہٴ شریفہ کے مورد توجہ ھیں) کو خود ان کی طرف نسبت دی ھے جیسا کہ ارشاد ھوتا ھے :”وما تعملون“ (تم جو عمل کرتے ھو) لیکن اس کے باوجود ان کی ایجاد و آفرنیش کو قرآن نے خدا کی طرف منسوب کیا ھے جھاں فرماتا ھے: ”واللّٰہ خلقکم وما۔۔۔۔“  یعنی تم سے صادرہ افعال کو بھی تمھاری طرح خدا نے پیدا کیا ھے۔

 ایک تذکر  :

 ارباب نظر پر یہ بات پوشیدہ نھیں ھے کہ آیت میں (ماتعملون)  ”ما“ کا موصولہ یا مصدر یہ ھونا، مذکورہ مطلب اخذ کرنے میں کوئی زیادہ فرق نھیں کرتا ھے، ضمناً آیت شریف کا پھلی والی آیت کے مقابلہ میںتعلیلی مقام رکھنا، انسان کے تمام اعمال کی نسبت شمولِ اطلاقی کی تائید کرتا ھے اور بالخصوص ”اصنام“ کو مراد لینے کی قید سے باھر لاتا ھے (دقت کریں)، یھی وجہ ھے کہ آیات:اللّٰہ یَتَوَفّیٰ الانفس“ و ”یتوفیٰکم ملکٴ الموت“  اور ”توفّتہُ رُسُلنا“

 ایک دوسرے کے ساتھ منافات نھیں رکھتی ھیں، اسلئے کہ حقیقت میں تمام آیات ایک ھی ”فعل“ اور ایک ھی ”مستقل فاعلیّت“ کی طرف اشارہ کرتی ھیں، جو اس ”نظام“ میں ”طولی فاعل“ کے ذریعہ انجام پاتاھے۔

اور وہ مستقل فاعل واحد، صرف خدا ئے تعالیٰ کی ذات اقدس ھے کہ اس کا فعل واحد، افعال کثیرہ کی صورت میں ایسے پے در پے فاعلوں کے ذریعہ انجام پاتے ھیں جو ایک دوسرے کے بعد ھیں ،منجلی ھوتا ھے۔

 اور یہ تمام خدا وندعالم کے فیض والھام اور امر تکوینی کے ذریعہ انجام دیتے ھیں اور وظیفہ کرتے ھیں اور ایک منٹ کے لئے بھی اس کے فیض ”نورالسمٰوات والارض“ سے بے نیازنھیں ھوتے   لہٰذا نتیجہ وھی ھے کہ:لاَمُوٴثر فی الوجود الااللہ، ولا حول ولا قوّہَ الّا باللہ “

 ( موجودات میں سوائے خدا کے کوئی موٴثر نھیں ھے، اور کوئی حرکت اور کوئی قوت نھیںھوتی مگر خدا کے ذریعہ)بے شک خدا کو و اسطوںکی کوئی ضرورت نھیں ھے۔

یہ ایک طرح کی فکری ضلالت و رسوائی ھے کہ کوئی یہ وھم کرے کہ خدا وند متعال سے صدور اشیاء کے لئے ایک منظّم تشکیلات اور نظام کا وجود خدا وندعالم کی مطلقہ قدرت میں، عجز و محدودیت لازم آتی ھے اور بے نیاز ذات  فرشتوں اور غیر فرشتوں کے وسائط اور اسباب کی محتاج ھو !  ”نعوذباللہ من ھِذہ الضلالة و الْوھم۔“ھرگز نھیں!  وہ ذات جو سبوح ٌاور قدوس ٌھے اس کی ذات وصفات سے تمام اشیاء اور اس کے تمام افعال، اس کے امرتکوینی اور فعلی ارادے ھی ھیں     ”گرنازی کند از ھم فرو ریزند و قالبھا“کیسے تصور کیا جاسکتاھے کہ خداوند عالم اپنی آفرنیش و فاعلیت میں ان کا محتاج ھو اور اس کی مخلوقات (نعوذباللہ) اس کے ”ولی’‘ من الذّل“ اور ”شریک’‘ فی الملک“ ھو !!   تعالیٰ اللّٰہ عمّا یتوھمُہَ الجاھلونَ علّوا کبیراً۔(خدا جاھلوں کے ان تمام توھمات سے پاک وپاکیزہ ھے )

بلکہ یہ اشیاء کاضعیف مرتبہٴ وجودی ھے جس نے ان کو مستقیم کسب فیض کی قابلیت سے محروم کیا ھے اور ناچار ھوگئے ھیں کہ وہ مجرای فیض حق میں خلقت کے تمام مراتب عالیہ کے وجود کی پناہ میں قرار پائیں اور اپنے وجودی مرتبہٴ خاص میں، مبدٴاء فیاض کی بے دریغ رحمت سے فیض حاصل کریں۔

ایک دوسری مثال  :

خدا وندعالم کی ذات ایسی مقدس ھے جو زمین اور زمین والوں کو زندہ کرتا ھے اور گھاس کو اُگاتا ھے اور کرّات منظومہٴ شمسی کو ایک دقیق اور منظّم حساب کے ذریعہ چلاتا ھے لیکن اس میں کوئی شک نھیں ھے کہ یہ تمام برکات ”سورج“ کے پر فیض دامن سے زمین اور اس پر موجود تمام چیزوں اور دوسرے کرّات تک پھنچتا ھے کہ اگر اس درمیان سورج نہ ھو تو منظومہٴ شمسی کا پورا نظام اپنی تمام چیزوں کے ساتھ درھم وبرھم اور نابود ھو جائے گا۔

مزید  پیغمبر اعظم(ص) کی بعثت کے اہداف و مقاصد

تو اب کیا ”سورج“ نعوذباللہ خدا کے لئے ”ولی الذّلّ“ اور ”شریک فی الملک“ ھے اور خداوند عالم سورج کی وساطت کے بغیر گھاس اور نباتات کو اُگانے اور احیاء اموات کوئی قدم نھیں اٹھاسکتا ھے۔

یا نھیں!  یہ زمین، گھاس اور دیگر دوسری چیزوں کا تقاضا ھے کہ وہ سورج کی تابش اور بارش کی وساطت کے بغیرخداوندعالم کے فیض سے فیضیاب نھیں ھوسکتے۔

جی ھاں ایک طرف تو خداوندعالم کی قدوسیّت، لامتناھی کبریائی اور علوذات، اور دوسری طرف اشیاء کے وجودمیں شدت و ضعف کے مراتب میں فرق اس طرح کا تقاضا کرتا ھے کہ ”وجود“ کا فیض اور اس کی برکات کی اقسام، عالی اور پست”مراتب“ سے بنے”نظام“ کے تحت جاری ھوکر ”وسائط“ اسباب اور علل کے مجراء سے عبور کرتے ھوئے جھان کے تمام موجودات اور اشیاء تک پھنچتی ھیں، کہ نہ خلقت کے پست اور ”دانیہ“ مراتب اس کی توانائی رکھتے ھیں کہ اس کے ”عالیہ“ مراتب کے توسط کے بغیر ”ربوبی“ اعلیٰ مقام سے کسب فیض کریں ،نہ ھی ”ربُوبی“ مقام اقدس اس کا تقاضا کرتا ھے کہ علل و اسباب کی وساطت کے بغیر خلقت کے دانی مراتب کے ذریعہ فیضیاب کرسکے۔

”وَاِنْ مِنْ شَيءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُہُ وَمَا نُنَزّلُہُ اِلَّا بِقَدرٍ مَعْلُومٍ“[27]

کوئی چیز نھیں ھے مگر یہ کہ اس کے خزینے ھمارے پاس ھیں اور ھم ان کو دکھاتے (نازل کرتے) نھیں ھیں مگر ایک مشخص اور معلوم مقدار میں“

شاعر کہتا ھے:

ھر کسی راگر بُدی آن چشم و زور           کہ گرفتی ز آفتاب چرخ نور

کی ستارہ جاجنستی ای ذلیل             کہ بود برنور خورشید او دلیل

ھیچ ماہ و اختری حاجت  نبود                         کہ بود بر آفتاب حق شھود

ماہ می گوید بہ ابر و خاک و                   فی من بشر باشم ولی یُوحیٰ اِلّی

چون شما تاریک بودم از نھاد                 وَحْی خورشیدم چنین نوری بداد

ظلمتی دارم بہ نسبت باشموس           نور دارم بھر ظلمَات نفوس

زان ضعیفم تاتوتابی آوری                   کہ نہ مَردِ آفتاب اٴنوری

ترجمہ اشعار:

” اگر کسی شخص کے پاس تھوڑی بھی قوت وبصیرت ھوتو وہ سورج کے نور سے نور کسب کرسکتا ھے۔

ستاروں کو کب خواہش ھوتی ھے کہ وہ نور خورشید پر دلیل وحجت جتائیں۔

کبھی بھی چاند وستاروں کو خواہش نھیں ھوتی کہ وہ اپنے نور کے سبب سورج کی حقیقی روشنی پر شھادت کا حق جتائیں۔

بلکہ چاند تو زمین وآسمان سے یھی کہتا ھے کہ میں باوفا ایسا بشر ھوں جس کی طرف نوروحی کیا جاتا ھے۔

ورنہ فطرتاََ میں بھی تمھاری طرح ھوں تاریکی میں غرق تھا یہ تو مجھے خورشید کی وحی نے مجھے نورانی بنادیا ھے۔

لہٰذا میںسورج کی نسبت جھل وتاریکی رکھتا ھوں البتہ نفوس کی نسبت نوروروشنی رکھتا ھوں۔

اس اعتبار سے میں تیرے مقابلہ میں ضعیف ھوں اور آفتاب انوری کی طرح مرد نھیں ھوں۔“

اس نورانی جملہ پر جو اس سے پھلے بھی حضرت فاطمہ صدیقہٴ طاھرہ سلام اللہ علیھا سے نقل ھوچکا ھے دقت کریں:

”واَحْمِدُوا اللّٰہ َ الذی لِعَظَمَتہِ و نُورہ یَبْتغی مَن فی السمٰواتِ و الاَرْض الیہ الْوسلیةوَنَحْنُ و سیُلتُہُ فی خلقہِ۔۔۔۔“

”حمد وثناکریں اس خدا کی جس کا نور و عظمت تقاضا کرتا ھے کہ اھل آسمان و زمین (اس سے قربت حاصل کرنے کے لئے) وسیلہ تلاش کریں اور ھم اس کی مخلوقات میں اس کا وسیلہ ھیں“[28]

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.