قرآن اور کتب آسمانی

ہمارا عقیدہ ہے کہ خداوند عالم نے انسانوں کی ہدایت کے لیے متعدد آسمانی کتابوںکو نازل کیا۔

خدا اور عبادت پروردگار میں خطا کا شکار ہوجاتا اور تقوی و اخلاق و تربیت کے اصولوں اور انسانی سماج کے قوانین سے بے بھرہ رہ جانا۔

یہ آسمانی کتابیں باران رحمت کی طرح صفحہ دل بر نازل ہوئیں اور تقوی و اخلاق و معرفت ت خدا و علم و حکمت کے بذر کو انسانی سرشت میں کاشت کرنے کے بعد انھیں پرورش دے کر ثمرہ تک پہچایا۔

آمن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمومنون کل آمن باللہ و ملائکتہ و کتبہ و رسلہ۔

ترجمہ: اے پیغمبر، جو کچھ اللہ کی طرف سے ان پر نازل ہوا، سب پر ایمان لائے اور تمام مومنین (بھی) خدا و ملائکہ اور تمام آسمانی کتب اور ان کے لانے والوں پر ایمان لائے۔(۱)

اگرچہ صد افسوس کہ زمانہ گزرنے اور جاہلوں اور نا اھلوں کی دخالت کی وجہ سے بہت سی آسمانی کتا تحریف کا شکار ہوگئیں اور ان میں باطل افکار مخلوط ہوگیے، مگر قرآن مجید بعض دلائل کی وجہ سے جن کا ذکر بعد میں آئے گا، تحریف سے محفوظ رہا اور آفتاب کی طرح ہر زمانہ اور صدی میں نور ا فشانی کرنا رہا اور قلوب کو منور کرتا رہا۔ 

قد جائکم من اللہ نور و کتاب مبین یھدی بہ اللہ من اتبع رضوانہ سبل السلام۔

خداوند عالم کی طرف سے نور اور کتاب مبین تمہارے پاس بھیجے گیے۔ پروردگار عالم اس کی برکت سے، ایسے لوگوں کو ،جو خوشی سے اس کی پیروی کرتے ہیں، راہ سلامت ( و سعادت ) کی طرف ہدایت کرتا ہے ۔

قرآن مجید، پیغمبر اسلام(ص) کاسب سے بڑا معجزہ ۔

۳۳۔ سنت آیمہ اھل بیت علیہم السلام ہمارا عقیدہ ہے کہ قرآن مجید، پیغمبر اسلام (ص)کے مہمترین معجزوں میں ہے، صرف فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے ہی نہیں بلکہ شیرینی بیان اور معانی کے بلیغ ہونے کے لحاظ سے بھی، ان کے علاوہ دوسرے مختلف جہات کے اعتبار سے بھی قرآن مجید اعجاز ی حیثیت رکھتاہے۔ جس کی شرح و تفصیل عقاید و کلام کی کتابوں میں موجود ہے۔

اسی دلیل کے سبب ہمارا عقیدہ ہے کہ کوئی قرآن کی مانند حتی اس کے ایک سورہ کی مثال نہیں لاسکتا ۔قرآن نے بارھا شک و تردید کرنے والوں کو دعوت مقابلہ دی مگر کسی میں اس کی نظیر لانے کی جرات پیدا نہ ہوسکی: 

قل لئن اجتمعت الانس والجن ولی ان یاتوا بمثل ھذا القرآن لا یاتون بمثلہ و لو کان بعضھم لبعض ظھیرا۔

اے بنی کہہ دیجئیے کہ اگر انسان و جنات مل کر اس قرآن کا جواب لانا چاہیں تو بھی اس کا جواب نہیں لاسکتے اگرچہ وہ ایک دوسرے کے شریک بن جائیں۔(2)

و ان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورة من مثلہ وادعوا شھداء کم من دون اللہ ان کنتم صادقین۔

جو کچھ ہم نے اپنے بندہ (محمد) پر نازل کیاہے اگر اس میں شک و تردید ہے تو (کم از کم) اس جیسا ایک سورہ لے آؤ اور اللہ کے سوا اس کام کے لیے اپنے گواہوں کو دعوت دو اگر تم سچے ہو۔(3)

اور ہمارا عقیدہ ہے کہ قرآن مجید، زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف یہ کہ کہنہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے اعجازی نکات اور زیادہ آشکار اور اس کی عظمت دنیا والوں پر روشن ہوتی جاتی ہے۔

امام صادق علیہ السلام ایک حدیث میں ارشاد فرماتے ہیں: 

ان اللہ تبارک و تعالی لم یجعلہ لزمان دوزمان و لناس دون ناس فھو فی کل زمان جدید و عند کل قوم غض الی یوم القیامة۔

خداوند متعال نے قرآن مجید کو ایک خاص زمانہ یا گروہ کے لیے قرار نہیں دیاہے۔ یہی سبب ہے کہ وہ ہر زمانہ میں تازہ اور ہر گروہ کے نزدیک قیامت تک کے لیے با طراوت رہے گا۔ (4) 

(۱)سورہ بقرہ آیہ ۲۸۵
(۲)سورہ اسراء آیہ ۸۸
(۳)سورہ بقرہ آیہ ۲۳ 
(۴)سورہ بقرہ آیہ 
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.