قرآن اور چهرۂ منافق

0 0

حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ھوتا ھے كائنات كي ھر چيز اپني صلاحيت و ظرفيت كے مطابق اس سے فيض ياب ھوتي ھے حتي ننھے ننھے پودے اس كي كرنوں سے سبزي حاصل كرتے ھيں غنچہ و كلياں رنگ و نكھار پيدا كر ليتي ھيں تاريكياں كافور اور كوچہ وراہ اجالوں سے پرنور ھوجاتے ھيں۔

چنانچہ متمدن دنيا سے دور عرب كي سنگلاخ واديوں ميں قدرت كي فياضيوں سے جس وقت اسلام كا سورج طلوع ھوا، دنيا كي ھر فرد اور ھر قوم نے قوت و قابليت كے اعتبار سے فيض اٹھايا۔

اسلام كے مبلغ و مؤسس سرور كائنات حضرت محمد مصطفٰي صل اللہ عليہ وآلم وسلم غار حرا سے مشعل حق لے كر آئے اور علم و آگھي كي پياسي ايك دنيا كو چشمۂ حق و حقيقت سے سيراب كرديا، آپ كے تمام الہي پيغامات ايك ايك عقيدہ اور ايك ايك عمل، فطرت انساني سے ھم آھنگ ارتقاء بشريت كي ضرورت تھا۔

اس لئے تيئيس برس كے مختصر سے عرصے ميں ھي اسلام كي عالم تاب شعاعيں ھر طرف پھيل گئيں اور اس وقت دنيا پر حكمران ايران و روم كي قديم تھذيبيں اسلامي اقدار كے سامنے ماند پڑ گئيں، وہ تھذيبي اصنام صرف جو ديكھنے ميں اچھے لگتے ھيں اگر حركت و عمل سے عاري ھوں اور انسانيت كو سمت دينے كا حوصلہ ولولہ اور شعور نہ ركھتے ھوں تو مذاھب عقل و آگاھي سے رو برو ھونے كي توانائي كھو ديتے ھيں يہي وجہ ھے ايك چوتھائي صدي سے بھي كم مدت ميں اسلام نے تمام اديان و مذاھب اور تھذيب و روايات پر غلبہ حاصل كرليا۔

اگر چہ رسول اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي يہ گراں بھا ميراث كو جس كي اھلبيت عليہم السلام اور ان كے پيروؤں نے خود كو طوفاني خطرات سے گزار كر حفاظت و پاسباني كي ھے، وقت كے ہاتھوں خود فرندان اسلام كي بے توجھي اور ناقدري كے سبب ايك طويل عرصے كے لئے تنگنائيوں كا شكار ھوكر اپني عمومي افاديت كو عام كرنے سے محروم كردي گئي تھى، پھر بھي حكومت و سياست كے عتاب كي پروا كئے بغير مكتب اھل بيت عليہم السلام نے اپنا چشمۂ فيض جاري ركھا، چودہ سال كے عرصہ ميں بھت سے ايسے جليل القدر علماء اور دانشور دنيائے اسلام كو پيش كئے جنھوں نے بيروني افكار و نظريات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فكري و نظري موجوں كي زد پر اپني حق آگين تحريروں اور تقريروں سے مكتب اسلام كي پشت پناھي كي ھے ھر دور اور زمانہ ميں ھر قسم كے شكوك و شبھات كا ازالہ كيا ھے۔

خاص طور پر عصر حاضر ميں اسلامي انقلاب كي كاميابي كے بعد ساري دنيا كي نگاھيں ايك بار پھر اسلام و قرآن اور مكتب اھل بيت عليہم السلام كي طرف اٹھي اور گڑي ھوئي ھيں، دشمنان اسلام اس فكري و معنوي قوت و اقتدار كو توڑنے كے لئے اور دوستداران اسلام اس مذھبي اور ثقافتي موج كے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور كامياب و كامران زندگي حاصل كرنے كے لئے بے چين و بيتاب ھيں۔

يہ زمانہ علمي و فكري مقابلہ كا زمانہ ھے اور جو مكتب بھي تبليغ اور نشر و اشاعت كے بھتر طريقوں سے فائدہ اٹھاكر انساني عقل و شعور كو جذب كرنے والے افكار و نظريات دنيا تك پہنچائے گا وہ اس ميدان ميں آگے نكل جائے گا۔

مجمع جھاني اھل بيت عليہم السلام (عالمي اھل بيت كونسل) نے بھي مسلمانوں خاص طور پر اہل بيت عليہم السلام عصمت وطھارت كے پيروؤں كے درميان ھم فكري و يكجھتي كو فروغ دينا وقت كي ايك اھم ضرورت قرار ديتے ھوئے اس راہ ميں قدم اٹھايا ھے كہ اس نوراني تحريك ميں بھتر انداز سے اپنا فريضہ ادا كريں۔

موجودہ دنياء بشريت جو قرآن و عترت كے صاف و شفاف معارف كي پياسي ھے، زيادہ سے زيادہ عشق و معنويت سے سرشار اسلام كے اس مكتب عرفان و ولايت سے سيراب ھوسكے۔

ھميں يقين ھے، عقل و خرد پر استوار ماھرانہ انداز ميں اگر اھل بيت عصمت و طھارت كي ثقافت كو عام كيا جائے اور حريت و بيداري كے علم بردار خاندان نبوت و رسالت كي جاوداں ميراث، اپنے صحيح خدو خال ميں دنيا تك پہنچادي جائے تو اخلاق و انسانيت كي دشمن، انانيت كي شكار، سامرا جي خونخواروں كي نام نھاد تھذيب و ثقافت اور عصر حاضر كي ترقي يافتہ جھالت سے تھكي ماندي آدميت كو، امن و نجات كي دعوتوں كے ذريعہ امام عصر (عج) كي عالمي حكومت كے استقبال كے لئے تيار كيا جاسكتا ھے۔

ھم اس راہ ميں تمام علمي و تحقيقي كوششوں كے لئے محققين و مصنفين كے شكر گزار ھيں اور خود كو مؤلفين و مترجمين كا ادنٰي خدمت گار تصور كرتے ھيں۔

زير نظر كتاب، مكتب اھل بيت عليہم السلام كي ترويج و اشاعت اسي سلسلے كي ايك كڑي ھے فاضل علام حجۃ الاسلام و المسلمين “سيد احمد خاتمى” كي گراں قدر كتاب قرآن اور چھرہ نفاق كو فاضل جليل مولانا “سيد نوشاد علي نقوي خرم آبادى” نے اردو زبان ميں اپنے سے قلم آراستہ كيا ھے جس كے لئے ھم دونوں كے شكر گزار اور مزيد توفيقات كے آرزو مند ھيں۔

اس منزل ميں ھم اپنے ان تمام دوستوں اور معاونين كا بھي صميم قلب سے شكريہ ادا كرتے ھيں كہ جنھوں نے اس كتاب كے منظر عام تك آنے ميں كسي بھي عنوان سے زحمت اٹھائي ھے خدا كرے كہ ثقافتي ميدان ميں يہ ادنٰي جھاد رضائے مولٰي كا باعث قرار پائے۔ والسلام مع الكرام

مدير امور ثقافت: مجمع جھاني اھل بيت عليہم السلام

عرض مترجم

(( نٓ و القلم و ما يسطرون ))

ابراہيم زمن، شہنشاہيت شكن، حضرت امام خميني (رح) كي قيادت و رہبري ميں رونما ہونے والا عظيم اسلامي انقلاب جس نے افكار شرق اور سياست غرب كو تہ و بالا كر كے ركھ ديا، جس نے عالم اسلام كو نئي حيات و وقار عطا كيا، اس انقلاب كي كاميابي كے بعد، اسلامي تھذيب و تمدن، فرھنگ و ثقافت، افكار و اخلاق كو اھل جھاں تك پہونچانے كے لئے، جھاں اور اھم اسلامي ادارے وجود ميں آئے، مجمع جھاني اھل بيت عليہم السلام نے بھي صفحۂ ھستي پر قدم ركھا اس عالمي ادارہ كے بلند اغراض و مقاصد ميں سے ايك، معارف اھل بيت عليہم السلام كے تشنگان كو سيراب كرنا ھے، اس مقدس ھدف و مقصد كو پايہ تكميل تك پہنچانے كے لئے دنيا كي ھزاروں رائج زبانوں ميں اھل بيت اطھار عليہم السلام كے افكار و اخلاق، افعال و گفتار، رفتار و كردار كو تحريري شكل ميں پيش كيا جاتا ھے اسي رائج زبانوں ميں ايك اردو بھي ھے، اس عالمي ادارے كي طرف سے اردو زبان ميں اب تك قابل توجہ اعداد ميں كتب شائع ھوكر منظر عام پر آچكي ھيں۔

آپ كے پيش نظر كتاب “قرآن اور چھرہ نفاق” فارسي كتاب “سيماي نفاق در قرآن” كا اردو ترجمہ ھے، حقير نے تمام ھمت كے ساتھ كوشش كي ھے كہ مطلب و مفھوم كتاب كو سادے، آسان، عام فھم الفاظ ميں پيش كرے، غير مانوس اور ذھن گريز كلمات سے پرھيز كيا گيا ھے۔

يہ كتاب موضوع نفاق پر ايك جامع و كامل دستاويز ھے جو آپ كے ھاتھوں ميں ھے، يہ كتاب صاحبان ايمان كي خدمت ميں خصوصي ھديہ ھے اس لئے كہ ايمان اس وقت تك كامل نھيں ھوسكتا جب تك اجر رسالت كي ادائگي نہ ھو، اجر رسالت اس وقت تك ادا نھيں ھوسكتا جب تك اھل بيت اطھار عليہم السلام سے محبت و مودت نہ كي جائے1 ان حضرات سے محبت و مودت نھيں ھوسكتي جب تك كہ ان كے دشمنوں كي شناخت كرتے ھوئے ان سے اور ان كے افعال و كردار سے نفرت نہ كي جائے، اور يہ ممكن ھي نھيں جب تك نفاق كي آشنائي كا حصول نہ ھوجائے، اس لئے كہ نفاق كي شناخت اھل بيت اطھار عليہم السلام كے دشمنوں كي شناخت ھے۔

اگر يہ نفاق نہ ھوتا تو امير المؤمنين علي بن ابي طالب عليہ السلام كا حق غصب نہ كيا گيا ھوتا، ام ابيہا فاطمہ زھرا صلوات اللہ عليہا كے شكم و بازو پر جلتا ھوا دروازہ نہ گرايا گيا ھوتا، قرۃ عين رسول اللہ صلي اللہ عيہ وآلہ وسلم امام حسن مجتبيٰ عليہ السلام كے جنازے پر تيروں كي بارش نہ ھوتي اور كربلا كے ميدان ميں “حسين مني و انا من الحسين” كا تن تنھا مصداق تين دن كا تشنہ لب شھيد نہ كيا گيا ھوتا۔

اگر نفاق كے اقدامات نہ ھوتے تو آج كرۂ ارض كي وضعيت و كيفيت كچھ اور ھوتى، جھاني و عالمي معاشرے كا رنگ و روپ كچھ اور ھي ھوتا، آج عالم اسلامي كي ذلت و پستي كي شناخت اور اعدا اسلام كي پيش قدمي اس نفاق كے عملي اقدام كا نتيجہ ھے۔

شناخت نفاق كا ما حصل اھل بيت عليہم السلام كے دشمنوں كي شناخت ھے اور ان كے دشمنوں كي شناخت تبرّا كے قالب ميں جزء فروع دين ھے، فروع دين كے اجزا كي بجا آوري تكميل ايمان كا سبب ھے۔

لہذا استاد محترم حجۃ الاسلام و المسلمين سيد احمد خاتمى دام ظلہ العالي كي كتاب “قرآن اور چھرۂ نفاق”، ايمان كو جلا، فكر كو مستحكم، عمل كو قوى، دائرہ ايمان كو وسيع كرنے كے لئے معاون و مدد گار ثابت ھوگي استاد معظم نے دقيق مطالب، شائستہ انداز، زمان و مكان سے تطابق كرتے ھوئے جامع و كامل كتاب تحرير فرمائي ھے۔

آپ آشيانۂ آل محمد عليہم السلام، مركز تشيع، بستان علم، گلشن فقاھت، حوزہ علميہ قم جمھوري اسلامي ايران كے ستارہ فروزان ھيں آپ كو علوم اسلامي ميں تجرّ حاصل ھے، علم اصول و فقہ و تفسير قرآن كے ھزاروں تربيت كردہ آپ كے شاگرد خدمات اسلام و قرآن انجام دے رھے ھيں۔

بھر حال بندہ كے لئے باعث افتخار ھے كہ ايسے عظيم المرتبت گراں قدر عالم و فاضل و جليل كي كتاب كا ترجمہ آپ كي خدمت ميں پيش كر رھا ھوں، معاني و مفاھيم كو منتقل كرنے ميں كتنا كامياب رھا ھوں وہ تو قارئين ھي بتا سكتے ھيں البتہ اس كتاب كو ادبي محك سے نہ پركھا جائے كيوں كہ كسي اديب كے ذريعہ ترجمہ شدہ نھيں، لھذا خطا و غلطي كو دامن عفو ميں جگہ ديں گے۔

سيد نوشاد علي نقوي خرم آبادى

حوزہ علميہ قم المقدسہ

مقدمہ مصنف

بصيرت و نظر، ديني معاشرے كے لئے بنيادي ترين معيار رشد و كمال ھے، ديني معاشرہ ميں فضا سازى، طلاطم آفرينى، معركہ آرائى، سخن اوّل نھيں ھوتے بلكہ سخن اوّل بصيرت و نظر ھے، دعوت حق كے لئے، بصيرت لازم ترين شرط ھے، اللہ كي طرف دعوت دھندگان كو چاھئے كہ خود كو اس صفت سے آراستہ كريں :

( قل ھذہ سبيلي ادعوا الي اللہ علي بصيرۃ انا و من اتّبعني) 2

آپ كہہ ديجئے يھي ميرا راستہ ھے، ميں بصيرت كے ساتھ خدا كي طرف دعوت ديتا ھوں، اور ميرے ساتھ ميرا اتباع كرنے والا بھي ھے۔

بصيرت و دانائي كثير الجھت و مختلف زوايا كي حامل ھے، خدا، نبي (ص) و امام عليہ السلام كي معرفت، قيامت كي شناخت اور وظائف سے آشنائي وغيرہ ……

دشمن كي معرفت و، اھم ترين زاويہ بصيرت پر مشتمل ھے، اس لئے كہ قرآن ميں اكثر مقام پر خدا كي وحدانيت و عبوديت كي دعوت كے بعد يا اس كے قبل بلا فاصلہ، طاغوت سے انكار3 طاغوت سے پرھيز4 عبادت شيطان سے كنارہ كشى5 كي گفتگو ھے، كبھي دشمن شناختہ شدہ ھے، علي الاعلان، دشمني كے بيز كو اٹھائے ھوتا ھے، اس صورت ميں گرچہ دشمن سے ٹكرانے ميں بھت سي مشكلات و سختي كا سامنا ھے، ليكن فريب و اغوا كي صعوبتيں نھيں ھيں۔

ليكن كبھي دشمن ايسے لباس ايسے رسم و رواج ميں ظھور پذير ھوتا ھے، جسے سماج و معاشرہ، مقدس سمجھتا ھے، مخالفت دين كا پرچم اٹھائے نھيں ھوتا، بلكہ اپني منافقانہ رفتار و گفتار كے ذريعہ خود كو دين كا طرف دار و مروّج، دين كا پاسبان و نگھبان ظاھر كرتا ھے۔

اس حالت ميں دشمن سے مبارزہ و مقابلہ كي سختي و مشكلات كے علاوہ دوسري مشكلات و صعوبتيں بھي عالم وجود ميں آتي ھيں، جو اصل مقابلہ و مبارزہ سے كھيں زيادہ اور كئي برابر ھوتيں ھيں، اور وہ مشكلات عوام فريبى، اثر گذاري اپنے ھي فريق و دستہ پر ھوتي ھے۔ اسي بنا پر امير المؤمنين علي عليہ السلام كي ناكثين، قاسطين، مارقين سے حرب و جنگ، ان جنگوں كي بہ نسبت سخت ترين و مشكل ترين تھي جو پيامبر عظيم الشان نے بت پرستوں و مشركوں سے كي تھي۔

اس لئے كہ مرسل اعظم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے مد مقابل وہ گروہ تھے جن كا نعرہ تھا بت زندہ باد، ليكن امام علي عليہ السلام كا ان افراد سے مقابلہ تھا جن كو بھت سے جھادوں ميں پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے ھم ركاب جونے كا تمغہ حاصل تھا 6 اور جانباز اسلام كھلاتے تھے7 ان افراد سے مقابلہ تھا جن كے درخشاں ماضي كو ديكھتے ھوئے پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے تعريف و تمجيد كي تھي 8

ان افراد سے مقابلہ تھا جن كي پيشاني پر كثرت عبادت و شب زندہ داري كي وجہ سے نشان پڑ گئے تھے 9 ان افراد سے مقابلہ تھا جن كي رات گئے قرائت قرآن كي دلنشين آواز كا جادو كميل جيسي عظيم ھستي پر بھي اثر انداز ھوگيا تھا 10

حضرت علي عليہ السلام كا مقابلہ اس نوعيت كے دشمنوں سے تھا۔ ظاھر سي بات ھے ايسے دشمنوں سے معركہ آرائى، ان كے حقيقي چھرے كي شناسائي علوي نگاہ و بصيرت كا كام ھے، جيسا كہ خود آپ نے نھج البلاغہ ميں چند مقام پر اس كي تصريح بھي فرمائي ھے 11

اھم ترين زاويہ بصيرت ايسے دشمنوں كي شناخت ھے جسے قرآن كريم منافق كے نام سے ياد كرتا ھے۔

قرآن كريم ميں نفاق كے رخ كا تعارف كرانے كے سلسلے ميں كفر سے كھيں زيادہ اھتمام كيا گيا ھے، اس لئے كہ اسلامي معاشرہ كے لئے خطرات و نقصان كافروں سے كھيں زيادہ منافقوں سے ھے

خاص كر آج كے اسلامي و انقلابي معاشرہ كے لئے جس نے بحمد اللہ سر بلندي كے ساتھ اسلامي انقلاب كي چھبيس 26 بھاروں كا مشاھدہ كر چكا ھے اور اميد كي جاتي ھے كہ خدا كے فضل و كرم اور پيامبر عظيم الشان (ص) و اھل بيت اطھار عليہم السلام كي ارواح طيبہ كے تصدق ميں تمام مشكلات و زحمات كو حل كرتے ھوئے ديني حكومت و معاشرت كا ايك عالي ترين و كامياب ترين نمونہ و معيار ثابت ھوگا۔

آج بيروني دشمنوں كے ساتھ ساتھ اندروني دشمن (منافقين) تمام قدرت و طاقت كے ساتھ سعي لا حاصل ميں مصروف ھيں، كہ اسلامي معاشرے كو باور اور يقين كراديں كہ ديني حكومت و نظام ناكام ھے، تاكہ پوري دنيا كے وہ افراد جو قلباً اس انقلاب سے وابستہ ھيں ان كو نا اميد كرسكيں۔

 

اس سلسلہ ميں اپني تمام توانائي صرف كرچكے ھيں، جو كچھ قدرت و اختيار ميں تھا انجام دے چكے ھيں، اگر اب تك كسي كام كو انجام نھيں ديا ھے، اس كا مطلب يہ نھيں كہ انجام دينا نہ چاھتے ھوں بلكہ اس فعل كے عمل سے عاجز و ناتواں ھيں۔

عظيم الشان اسلامي انقلاب كي اوائل كاميابي سے ھي كفر كا متحد گروہ خالص محمدي (ص) اسلام كہ مقابل صف آرائي ميں مشغول ھے، اور اس گروہ كي عداوت ابھي تك جاري ھے۔

اس جماعت كا اسلامي انقلاب كے مقابلہ ميں صف آرا ھونے كا مطلب يہ نھيں كہ ان ميں اتحاد ھي اتحاد ھے، بلكہ يہ گروہ اختلاف و افتراق كا مركز ھے ليكن ان كا مشترك ھدف و مقصد اسلامي انقلاب سے مقابلہ كرنا ھے۔

احزاب كو اسلامي نظام سے ٹكرا دينا، بغير درك و فھم كے قتل و غارت گري كا بازار گرم كرنا، ايران كي مسلمان ملت پر جنگ مسلط كرنا، ان كے مشترك اھداف و مقاصد كے كچھ نمونہ ھيں۔

اسلامي انقلاب كے كينہ پرور دشمنوں كا آخري حربہ انقلاب كي اصالت و بنياد پر ثقافتي يورش كرنا ھے ليكن اب تك جس طريقہ سے ان كي سازشيں ناكام ھوتي رھي ھيں، خدا كے فضل و كرم سے يہ سازش بھي شرمندہ تعبير نہ ھوسكے گي۔

ان سازشوں كا ناكام بنانے كے سلسلہ ميں اھم ترين وسيلہ، نفاق و منافقين كي روش و طرزِ عمل كي شناخت ھے، خوش قسمتي سے قرآن مجيد اس سلسلہ ميں عميق، جامع، موزون مطالب و نكات كو پيش كر رھا ھے۔

خداوند عالم كے لطف و كرم سے اميد كرتا ھوں كے يہ ناچيز كتاب، اسلامي معاشرہ كے ليے ديني بصيرت و بينائي كے اضافہ كا سبب بنے گى، اشاء اللہ

( بشر المنافقين بانّ لھم عذاب اليماً) 12 آپ ان منافقين كو درد ناك عذاب كي بشارت دے ديں۔

سيد احمد خاتمى – حوزہ علميہ، قم المقدسہ

——————————————————————————–

1. سورہ شوريٰ/ 23۔ (قل لا اسئلكم عليہ اجراً الا المودۃ في القربي )

2. سورہ يوسف /108۔

3. سورہ بقرہ/ 256۔

4. سورہ نحل/ 36۔

5. سورہ يس/ 60۔

6. جناب زبير كے قتل كے بعد ان كي شمشير كو امام علي عليہ السلام كے پاس لايا گيا۔ امام نے فرمايا: “سيف طالما جلي الكرب عن وجہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم” يہ وہ شمشير ھے جس نے رسول خدا كے چھرہ سے ھزاروں غم كو دور كئے۔ (مروج الذھب۔ ج2۔ ص361۔ سفينۃ البحار كلمہ زبر) ۔

7. جناب طلحہ، اكثر معركے خصوصاً احد و خندق ميں پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے ھم ركاب و ھم كار زار تھے جنگ احد ميں سر پر ضرب لگنے سے شديد زخمي و مجروح بھي ھوئے تھے۔

8. جنگ خندق كےوقت جب پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے مشركوں كے حالات كي آگاھي كے لئے مجمع ميں اس بات كا اعلان كيا، قريش ميں سے كون ھے جو ان كي خبروں كو ھم تك پہنچائے جناب زبير كھڑے ھوئے اور اپني آمادگي كا اظھار كيا پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے يہ سوال تين مرتبہ تكرار كيا اور تينوں مرتبہ جناب زبير كھڑے ھوئے، آپ گئے اور مشركوں كے حالات كي آگاھي پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كو دى، آپ نے ان كي فدا كاري كو ديكھتے ھوئے فرمايا: ھر نبي كے لئے ناصر و مددگار ھيں اور ميرے ناصر و مددگار زبير ھيں (اسد الغابہ، ج2، ص250) ۔

9. امام علي عليہ السلام نے ابن عباس كو خوارج كي نصيحت كے لئے بھيجا آپ نے واپس آنے كے بعد خوارج كو ان الفاظ ميں توصيف كى: “لھم جباۃ قرحۃ لطول السجود و ايد كثفنات الابل عليھم قمص مرخصۃ وھم مشمرون”، ان كي پيشانيوں پر كثرت عبادت سے گھٹے پڑے ھوئے ھيں حق كے لئے گرم و خشك زمين پر ھاتھ پير ركھنے كي بنا پر اونٹ كے پير كے مثل سخت ھوگئے ھيں، پھٹے پرانے كپڑے پہنتے ھيں ليكن قاطع و با ارادہ انسان ھيں۔

10. بحار الانوار ج33 ص399، سفينۃ البحار كلمہ (كمل) ۔

11. نھج البلاغہ، خطبہ/ 10/ 137/ 93۔

12. سورہ نساء / 138۔

فصل اوّل؛ نفاق كي اجمالي شناخت   

1 ۔ نفاق شناسي كي ضرورت

2 ۔ نفاق كي لغوي و اصطلاحي معانى

3 ۔ اسلام ميں نفاق كے وجود آنے كي تاريخ

نفاق شناسي كي ضرورت

دشمن شناسي كي اھميت

صاحبان ايمان كے وظائف ميں سے ايك اھم وظيفہ خصوصاً اسلامي نظام و قانون ميں دشمن كي شناخت و معرفت ھے۔

اس ميں كوئي ترديد نھيں كہ اسلامي نظام كو برقرار ركھنے اور اس كے استحكام، پائداري كے لئے اندروني (داخلي) و بيروني (خارجي) دشمنوں نيز، ان كے حملہ ور وسائل كي شناخت لازم و ضروري ھے، دشمن اور ان كے مكر و فريب كو پہچانے بغير مبارزہ كا كوئي فائدہ نھيں، بعض اوقات دشمن كے سلسلہ ميں كافي بصيرت و ھوشياري نہ ھونے كے سبب، انسان دشمن سے رھائي حاصل كرنے كے بجائے دشمن ھي كي آغوش ميں پہنچ جاتا ھے۔

امام جعفر صادق عليہ السلام نے ھر اقدام سے پہلے بصيرت و ھوشياري كو بنيادي شرط بتايا ھے، آپ فرماتے ھيں :

(( العامل علي غير بصيرۃ كالسائر علي غير الطريق، لا يزيدہ سرعۃ السير الا بعداً عن الطريق)) 13

بغير بصيرت و آگاھي كے عمل كو انجام دينے ولا ايسا ھي ھے جيسے راستہ كو بغير پہچانے ھوئے چلنے والا، كہ اس صورت ميں اصل ھدف و مقصد اور راہ سے دور ھوتا چلا جاتا ھے۔

اسي ضرورت كي بنا پر قرآن ميں پندرہ سو آيات سے زيادہ دشمن كي شناخت كے سلسلہ ميں نازل ھوئي ھيں، خدا وند عالم ان آيات ميں، مومنين اور نظام اسلامي كے مختلف دشمنوں كي (جن و انس ميں سے) نشاندھي كي ھے نيز ان كي دشمني كے انواع و اقسام حربے اور ان سے مقابلہ كرنے كے طور و طريقہ كو بتايا ھے، اور اس بات كي مزيد تاكيد كي ھے كہ مسلمان ان سے دور رھيں اور برائت اختيار كريں :

( يا ايھا الذين آمنوا لا تتخذوا عدوي و عدوكم اولياء) 14

اے صاحبان ايمان اپنے اور ميرے دشمنوں كو دوست نہ بناؤ۔

آيات قرآن كي بنا پر مومنين كے دشمنوں كو بنيادي طور پر چار نوع و گروہ ميں تقسيم كيا جاسكتا ھے۔

نوع اوّل: شيطان اور اس كے اھل كار

( انّ الشيطان لكم عدو فاتخذوہ عدوا) 15

يقيناً شيطان تم سب كا دشمن ھے، تم بھي اسے دشمن بنائے ركھو۔

بعض قرآن كي آيات ميں، خداوند عالم نے انسان خصوصاً مومنين كے سلسلہ ميں شيطان كے آشكار كينے اور دشمني كو عدو مبين (آشكار دشمن) سے تعبير كيا ھے، اللہ انسان كو منحرف كرنے والے شيطان كے مكر و فريب، حيلے كو شمار كرتے ھوئے، مومنين سے چاھتا ھے كے وہ شيطان كے راستے پر نہ چليں۔

( يا ايھا الذين آمنوا لا تتبعوا خطوات الشيطان) 16

اے صاحبان ايمان شيطان كے قدم بہ قدم نہ چلو۔

نوع دوّم: كفار

قرآن كي نظر ميں مومنين كے دشمنوں ميں ايك دشمن كفار ھيں۔

( انّ الكافرين كانوا لكم عدوا مبينا) 17

كفار تمھارے آشكار و عياں دشمن ھيں۔

نوع سوم: بعض اھل كتاب

صاحبان ايمان و اسلام كے دشمنوں ميں بعض اھل كتاب خصوصاً يھودي دشمن ھيں، شھادت قرآن كے مطابق، صدر اسلام سے اب تك اسلام و مسلمان كے كينہ توز، عناد پسند دشمن يھودي رھے ھيں، قرآن ان سے دوستانہ روابط برقرار كرنے كو منع كرتا ھے۔

( لتجدنّ اشدّ الناس عداوة للذين آمنوا اليھود) 18

يقيناً آپ مومنين كے سلسلہ ميں شديد ترين دشمن يھود كو پائيں گے۔

نوع چھارم: منافقين

قرآن مجيد نے منافقين كے اصلي خدو خال اور خصوصيت نيز ان كي خطرناك حركتوں كو اجاگر كرنے كے سلسلہ ميں بھت زيادہ اھتمام اور بندوبست كيا ھے، تين سو سے زيادہ آيات ميں ان كے طرز عمل كو افشا كرتے ھوئے مقابلہ كرنے كي راہ اور طريقہ كو پيش كيا گيا ھے۔

يہ قرآني آيتيں جو تيرہ سوروں كے ذيل ميں بيان كي گئي ھيں بحث حاضر، قرآن ميں چھرۂ نفاق كا اصلي محور و موضوع ھيں۔

گرچہ اھل بيت اطھار عليہم السلام ارواحنا لھم الفداء كے زرين اقوال بھي روايات و احاديث كي شكل ميں تناسب مباحث كے اعتبار سے پيش كئے جائيں گے۔

قرآن ميں نفاق و منافقين

منافقين كي خصوصيت و صفات كي شناخت كے سلسلہ ميں، قرآن اكثر مقام پر جو تاكيد كر رھا ھے وہ تاكيد كفار كے سلسلہ ميں نظر نھيں آتى، اس كي وجہ يہ ھے كہ كفار علي الاعلان، مومنين كے مد مقابل ھيں، اور اپني عداوت خصوصيت كا اعلانيہ اظھار بھي كرتے ھيں، ليكن منافقين وہ دشمن ھيں جو دوستي كا لباس پھن كر اپني ھي صف ميں مستقر ھوتے ھيں، اور اس طريقہ سے وہ شديد ترين نقصان اسلام اور مسلمين پر وارد كرتے ھيں، منافقين كا مخفيانہ و شاطرانہ طرز عمل ايك طرف، ظواھر كي آراستگي دوسري طرف، اس بات كا موجب بنتي ھے كہ سب سے پہلے ان كي شناخت كے لئے خاص بينايي و بصيرت چاھئے، دوسرے ان كا خطرہ و خوف آشكار دشمن سے كھيں زيادہ ھوتا ھے۔

امير المومنين حضرت علي عليہ السلام فرماتے ھيں :

” كن للعدو المكاتم اشدّ حذر منك للعدو المبارز” 19

آشكار و ظاھر دشمن كي بہ نسبت باطن و مخفي دشمن سے بھت زيادہ ڈرو۔

آيت اللہ شھيد مطھرى، معاشرہ ميں نفاق كے شديد خطرے نيز نفاق شناسي كي اھميت كے سلسلہ ميں لكھتے ھيں۔

ميں نھيں سمجھتا كہ كوئي نفاق كے خطرے اور نقصان جو كفر كے خطرے اور ضرر سے كھيں زيادہ شديد تر ھے، ترديد كا شكار ھو، اس لئے كہ نفاق ايك قسم كا كفر ھي ھے، جو حجاب كے اندر ھے جب تك حجاب كي چلمن اٹھے اور اس كا مكروہ و زشت چھرہ عياں ھو، تب تك نہ جانے كتنے لوگ دھوكے و فريب كے شكار اور گمراہ ھوچكے ھوں گے، كيوں مولائے كائنات امير المومنين علي عليہ السلام كي پيش قدمي كي حالت، رسول اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے فرق ركھتي ھے، ھم شيعوں كے عقيدہ كے مطابق امير المومنين علي عليہ السلام كا طريقۂ كار، رسول اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے جدا نھيں ھے، كيوں پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي پيش قدمي اتني سريع ھے كہ ايك كے بعد ايك دشمن شكست سے دوچار ھوتے جارھے ھيں، ليكن جب مولائے كائنات امير المومنين علي عليہ السلام دشمنوں كے مد مقابل آتے ھيں، تو بھت ھي فشار و مشكلات ميں گرفتار ھوجاتے ھيں، ان كو رسول اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم جيسي پيش رفت حاصل نھيں ھوتى، صرف يہي نھيں بلكہ بعض مواقع پر آپ كو دشمنوں سے شكست كا بھي سامنا كرنا پڑتا ھے، ايسا كيوں ھے؟ !

صرف اس لئے كہ پيامبر عظيم الشان كا مقابلہ كافروں سے تھا اور امير المومنين عليہ السلام كا مقابلہ منافقين گروہ سے تھا20

سورۂ توبہ كي آيت نمبر 101 سے استفادہ ھوتا ھے كہ كبھي چھرۂ نفاق اس قدر غازۂ ايمان سے آراستہ ھوتا ھے كہ پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے لئے بھي عادي علم كے ذريعہ اس كي شناخت مشكل ھوجاتي ھے، اللہ ھے جو وحي كے وسليہ سے اس جماعت كا تعارف كراتا ھے۔

( وممّن حولكم من الاعراب منافقون و من اھل المدينۃ مردوا علي النفاق لا تعلمھم نحن نعلمھم سنعذّبھم مرّتين يردّون الي عذاب عظيم) 21

اور تمھارے گرد ديھاتيوں ميں بھي منافقين ھيں اور اھل مدينہ ميں تو وہ بھي ھيں جو نفاق ميں ماھر اور سركش ھيں تم ان كو نھيں جانتے ھو ليكن ھم خوب جانتے ھيں ھم عنقريب ان پر دھرا عذاب كريں گے اس كے بعد وہ عذاب عظيم كي طرف پلٹادئے جائيں گے۔

مولائے كائنات امير المومنين حضرت علي عليہ السلام، اسلامي معاشرہ ميں نفاق كے آفات و خطرات كا اظھار كرتے ھوئے نھج البلاغہ ميں فرماتے ھيں :

(( ولقد قال لي رسول اللہ: اني لا اخاف علي امتي مومنا ولا مشركا امّا المؤمن فيمنعہ اللہ بايمانہ و امّا المشرك فيقمعہ اللہ بشركہ ولكني اخاف عليكم كل منافق الجنان، عالم اللسان يقول ما تعرفون و يفعل ما تنكرون)) 22

رسول اكرم حضرت محمد مصطفيٰ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمايا ھے: ميں اپني امت كے سلسلہ ميں نہ كسي مومن سے خوف زدہ ھوں اور نہ مشرك سے، مومن كو اللہ اس كے ايمان كي بنا پر برائي سے روك دے گا اور مشرك كو اس كے شرك كي بنا پر مغلوب كر دے گا، سارا خطرہ ان لوگوں سے ھے جو زبان كے عالم اور دل كے منافق ھيں كھتے وھي ھيں، جو تم سب پہچانتے ھو اور كرتے وہ ھيں جسے تم برا سمجھتے ھو۔

اسي نفاق كے خدو خال كي پيچيدگي كي بنا پر حضرت علي عليہ السلام كي زمام داري كي پانچ سال كي مدت ميں دشمنوں سے جنگ كي مشكلات كھيں زيادہ پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ آلہ وسلم كي مشكلات و زحمات سے تھيں۔

پيامبر عظيم الشان ان افراد سے بر سر پيكار تھے جن كا نعرہ تھا بت زندہ باد ليكن امير المومنين حضرت علي عليہ السلام ان افراد سے مشغول مبارزہ و جنگ تھے جن كي پيشانيوں پر كثرت سجدہ كي بنا پر نشان پڑے ھوئے تھے۔

حضرت علي عليہ السلام ان افراد سے جنگ و جدال كر رھے تھے جن كي رات گئے تلاوت قرآن كي صداء دلسوز حضرت كميل جيسي فرد پر بھي اثر انداز ھوگئي تھى23

آپ كا مقابلہ ايسے صاحبان اجتھاد سے تھا جو قرآن سے استنباط كرتے ھوئے آپ سے لڑ رھے تھے24

وہ افراد جو راہ خدا ميں معركہ و جھاد كے اعتبار سے درخشاں ماضي ركھتے تھے يھاں تك كہ بعض كو تمغہ جانبازي و فدا كاري بھي حاصل تھا، ليكن دنيا پرستي نے ان صاحبان صفات و كردار كو حق كے مقابل لاكھڑا كيا۔

پيامبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے زبير كو (سابقہ، فداكاري و معركہ آرائي ديكھتے ھوئے) سيف الاسلام كے لقب سے نوازا تھا اور طلحہ جنگ احد كے جانباز و دلير تھے، ايسے رونما ھونے والے حالات و حادثات كا مقابلہ كرنا علوي بصيرت ھي كا كام ھے۔

قابل توجہ يہ ھے كہ مولائے كائنات نے نھج البلاغہ ميں ايسے افراد سے جنگ كرنے كي بصيرت و بينائي پر افتخار كرتے ھوئے فرماتے ھيں ميرے علاوہ كسي بھي فرد كے اندر يہ صلاحيت نہ تھي جو ان سے مقابلہ و مبارزہ كرتا۔

(( ايھا الناس اني فقات عين الفتنۃ ولم يكن ليجتري عليھا احد غيري)) 25

لوگو! ياد ركھو ميں نے فتنہ كي آنكھ كو پھوڑ ديا ھے اور يہ كام ميرے علاوہ كوئي دوسرا انجام نھيں دے سكتا ھے۔

قرآن مجيد حكم دے رھا ھے كے اپنے آشكار و مخفي دشمنوں كو خوفزدہ كرنے كے لئے پوري طاقت سے مستعدر ھو اور طاقت حاصل كرو تاكہ تمھاري قدرت و اقتداران كي خلاف ورزي روكنے كا ذريعہ ھوجائے۔

( واعدّوا لھم ما استتطعتم من قوۃ و من رباط الخيل ترھبون بہ عدّو اللہ و عدوكم آخرين من دونھم لا تعلمونھم اللہ يعلمھم) 26

اور تم سب ان كے مقابلہ كے لئے امكاني قوت اور گھوڑوں كي صف بندي كا انتظام كرو جس سے اللہ كے دشمن اپنے دشمن اور ان كے علاوہ جن كو تم نھيں جانتے ھو اور اللہ جانتا ھے (منافقين) سب كو خوفزدہ كردو۔

اس آيت سے استفادہ ھوتا ھے كہ اسلامي نظام ميں طاقت و قدرت كا حصول تجاوز و قانون كي خلاف ورزي روكنے كا وسيلہ ھے نہ تجاوز گري كا ذريعہ۔

منافقين ان افراد ميں سے ھيں جو ھميشہ اسلامي نظام و سر زمين پر تعرض و تجاوز كا خيال ركھتے ھيں لھذا نظامي و انتظامي اعتبار سے آمادگي اور معاشرہ كا صاحب بصارت و دانائي ھونا سبب ھوگا كہ وہ اپنے خيال خام سے باز رھيں، اس نكتہ كا بيان بھي ضروري ھے كہ قوت و قدرت كا حصول (آمادگي) صرف جنگ و معركہ آرائي پر منحصر نہ ھو اگر چہ جنگ ورزم ميں مستعد ھونا، اس كے ايك روشن و واضح مصاديق ميں سے ھے، ليكن دشمن كي خصوصيت، اس كے حملہ آور وسائل كي شناخت و پھچان كے لئے بصيرت كا وجود، حصول قدرت و اقتدار كے اركان ميں سے ھے۔

جب كہ منافقين كا شمار خطرناك ترين دشمنوں مں ھوتا ھے لھذا، نفاق اور اس كي خصوصيت و صفات كي شناخت ان چند ضرورتوں ميں سے ايك ھے جسے عالم اسلام ھميشہ قابل توجہ قرار دے۔

اس لئے كہ ممكن ھے ھزار چھرے والے دشمن (منافق) سے غفلت ورزى، شايد اسلامي نظام و مسلمانوں كے لئے ايسي كاري ضرب ثابت ھو جو التيام و بھبود كے قابل ھي نہ ھو۔

نفاق كے لغوي و اصطلاحي معانى

لفظ نفاق كا ريشہ اور اس كے اصل

لفظ نفاق كے معنى، كفر كو پوشيدہ، اور ايمان كا ظاھر كرنا ھے، نفاق كا استعمال اس معني ميں پہلي مرتبہ قرآن ميں ھوا ھے، عرب ميں اسلام سے قبل اس معني كا استعمال نھيں تھا، ابن اثير تحرير كرتے ھيں :

(( وھو اسم لم يعرفہ العرب بالمعني المخصوص وھو الذي يستر كفرہ و يظھرہ ايمانہ)) 27

لفظ نفاق كا اس خاص معني ميں استعمال لغت كے اعتبار سے چار احتمال ھوسكتا ھے :

پہلا احتمال: يہ ھے كہ نفاق بمعني اذھاب و اھلاك كے ھيں، جيسے (نفقت الدّابۃ) كہ حيوان كے برباد و ھلاك ھوجانے كے معني ميں ھے۔

نفاق كا اس معني سے تناسب يہ ھے كہ منافق اپنے نفاق كي بنا پر اس ميت كے مثل ھے جو برباد و تباہ ھوجاتي ھے۔

دوسرا احتمال: نفاق ذيل عبارت سے اخذ كيا گيا ھے :

(( نفقت لسلعۃ اذا راجت و كثرت طلابھا ))

وہ سامان جو بھت زيادہ رائج ھو اور اس كے طلب گار بھي زيادہ ھوں تو يہاں پر لفظ “نفق” كا استعمال ھوتا ھے، اس بنا پر اھل لغت كا اصطلاحي مفھوم سے مرتبط ھوتے ھوئے، نفاق يہ ھے كہ منافق ظاھر ميں اسلام كو رواج ديتا ھے، كيوں كہ اسلام كے طلب گار زيادہ ھوتے ھيں۔

تيسرا احتمال: نفاق، زمين دوز راستہ كے معني ميں استعمال ھوا ھے۔

(( النفق سرب في الارض لہ مخلص الي المكان ))

اس اصل كے مطابق منافق ان افراد كے مثل ھے جو خطرات كي بنا پر زمين دوز راستہ (سرنگ) ميں مخفي ھوجائے، يعني منافق بھي اسلام كے لباس كو زيب تن كركے خود كو محفوظ كرليتا ھے اگر چہ مسلمان نھيں ھوتا ھے۔

چوتھا احتمال: نفاق كا ريشہ “نافقاء” ھے، صحرائي چوھے اپنے گھر كے لئے دو راستہ بناتے ھيں ايك ظاھر و آشكار راستہ، اس كا نام “قاصعاء” ھے، دوسرا مخفي و پوشيدہ راستہ، اس كا نام “نافقاء” ھے، جب صحرائي چوھا خطرہ كا احساس كرتا ھے تو، قاصعاء سے داخل ھوكر نافقاء سے فرار كرتا ھے۔

اس احتمال كي بنا پر، منافق ھميشہ خروج كے لئے دو راستہ اپناتا ھے، ايمان پر كبھي بھي ثابت قدم نھيں رھتا اگر چہ اس كا حقيقي راستہ كفر ھے ليكن اسلام كا ظاھر كر كے اپنے كو خطرے سے بچا ليتا ھے۔

ابتدا ميں دو احتمال يعنى، نفاق بمعني ھلاك ھونے اور ترويج پانے كے سلسلے ميں علماء لغت كي طرف سے كوئي تائيد نھيں ملتي ھے، لھذا ان معاني سے اعراض كرنا چاھئے، ليكن تيسرے اور چوتھے احتمال ميں سے كون سا احتمال اساسي و بنيادي ھے اس كے لئے مزيد بحث و مباحثہ كي ضرورت ھے۔

تمام مجموعي احتمالات سے ايك نكتہ ضرور سامنے آتا ھے، وہ يہ كہ نفاق كے معاني ميں دو عنصر قطعاً موجود ھے، 1: عنصر دورخى، 2:عنصر پوشيدہ كارى

اس بنا پر نفاق كے معاني ميں دو رخي و پوشيدہ كاري كا بھي اضافہ كردينا چاھئے، منافق وہ ھے جو دو روئي كا حامل ھوتا ھے، اور اپني صفت كو پوشيدہ بھي ركھتا ھے۔

قرآن و احاديث ميں نفاق كے معانى

روايات و قرآن ميں نفاق دو معاني اور دو عنوان سے استعمال ھوا ھے :

1 ۔ اعتقادي نفاق

قرآن و حديث ميں نفاق كا پہلا عنوان اسلام كا ظاھر كرنا، اور باطن ميں كافر ھونا، اس نفاق كو اعتقادي نفاق سے تعبير كيا جاتا ھے۔

قرآن ميں جس مقام پر بھي نفاق كا لفظ استعمال ھوا ھے يہي معني منظور نظر ھے، يعني كسي فرد كا ظاھر ميں اسلام كا دم بھرنا، ليكن باطن ميں كفر كا شيدائي ھونا۔

سورہ منافق كي پہلي آيت اسي معني كو بيان كر رھي ھے۔

( اذا جاءك المنافقون قالوا نشھد انك لرسول اللہ واللہ يعلم انك لرسولہ واللہ يشھد ان المنافقون لكاذبون )

پيغمبر! يہ منافقين آپ كے پاس آتے ھيں، تو كھتے ھيں كہ ھم گواھي ديتے ھيں كہ آپ اللہ كے رسول ھيں، اور اللہ بھي جانتا ھے كہ آپ اس كے رسول ھيں ليكن اللہ گواھي ديتا ھے كے يہ منافقين اپنے قول ميں جھوٹے ھيں۔

سورہ نساء ميں منافقين كي باطني وضعيت اس طريقہ سے بيان كي گئي ھے۔

( و دّو لو تكفرون كما كفروا فتكونون سواء) 28

يہ منافقين چاھتے ھيں كہ تم بھي ان كي طرح كافر ھوجاؤ اور سب برابر ھوجائيں۔

اس بنياد پر امكان ھے كہ مسلمانوں ميں بعض افراد ايسے ھوں جو اسلام كا اظھار كرتے ھوں اور باطن ميں دين اور اس كي حقانيت پر اعتقاد نہ ركھتے ھوں۔

ليكن ان كے اس فعل كا محرك كيا ھے؟ اس كا ذكر تاريخ نفاق كي فصل ميں بيان ھوگا، اس نوعيت كے افراد كا فعل نفاق ھے اور ان كو منافق كھا جاتا ھے۔

يقيناً بعض افراد كا اسلام، جو فتح مكہ كے وقت مسلمان ھوئے تھے اسي زمرہ ميں آتا ھے، مثال كے طور پر ابوسفيان كا اسلام، پيامبر عظيم الشان كے بعد كے واقعات، خصوصاً عثمان كے دورہ خلافت ميں ظاھر ھوجاتا ھے كہ، ان كا اسلام چال بازي اور مكاري سے لبريز تھا، آھستہ آھستہ خلافتي ڈھانچے ميں اثر و رسوخ بڑھاتے ھوئے اسلام كے پردے ميں كفر ھي كي پيروي كرتے تھے، يھاں تك كہ عثمان كے عصر خلافت ميں ابوسفيان، سيد الشھدا حضرت حمزہ كي قبر كے پاس آكر كھتا ھے، اے حمزہ! كل جس اسلام كے لئے تم جنگ كر رھے تھے، آج وہ اسلام گيند كے مثل ميري اولاد ميں دست بدست ھو رھا ھے29

ابوسفيان، خلافت عثمان كے ابتدائي ايام ميں خاندان بني اميہ كے اجتماع ميں اپنے نفاق كا اظھار يوں كرتا ھے، خاندان تميم وعدي (ابوبكر و عمر كے بعد) خلافت تم كو نصيب ھوئي اس سے گيند كي طرح كھيلتے رھو اور اس گيند (خلافت) كے لئے قدم، بني اميہ سے انتخاب كرو، يہ خلافت صرف سلطنت و بشر كي سرداري ھے اور جان لو كہ ميں ھر گز جنت و جھنم پر ايمان نھيں ركھتا ھوں 30

جس وقت ابوبكر نے امور خلافت كو اپنے ھاتھ ميں ليا ابوسفيان چاھتا تھا كہ مسلمانوں كے درميان اختلاف و تفرقہ پيدا ھوجائے اور اسي غرض كے تحت مولائے كائنات علي ابن ابي طالب عليہ السلام سے حمايت و مساعدت كي پيشكش كرتا ھے ليكن حضرت علي عليہ السلام اس كو اچھے طريقہ سے پہچانتے تھے، پيشكش كو ٹھكراتے ھوئے فرمايا: تم اور حق كے طرفدار؟! تم تو روز اوّل ھي سے اسلام و مسلمان كے دشمن تھے آپ نے اس كي منافقانہ بيعت كے دراز شدہ دست كو رد كرتے ھوئے چھرہ كو موڑ ليا31

بھر حال اس ميں كوئي شك نھيں كہ ابوسفيان ان افراد ميں سے تھا جن كے جسم و روح، اسلام سے بيگانے تھے اور صرف اسلام كا اظھار كرتا تھا۔

2 ۔ اخلاقي نفاق

نفاق كا دوسرا عنوان اور معني جو بعض روايات ميں استعمال ھوا ھے اخلاقي نفاق ھے، يعني دينداري كا نعرہ بلند كرنا، ليكن دين كے قانون پر عمل نہ كرنا، اس كو اخلاقي نفاق سے تعبير كيا گيا ھے32

البتہ اخلاقي نفاق كبھي فردى اور كبھي اجتماعي پہلوؤں ميں رونما ھوتا ھے، وہ فرد جو اسلام كے فردى احكام و قوانين اور اس كي حيثيت كو پامال كر رھا ھو وہ فردى اخلاقي نفاق ميں مبتلا ھے اور وہ شخص جو معاشرے كے حقوق و اجتماعي احكام كو جيسا كہ اسلام نے حكم ديا ھے نہ بجالاتا ھو تو، وہ نفاق اخلاق اجتماعي سے دوچار ھے۔

فردى، نفاق اخلاق كي چند قسميں، ائمہ حضرات كي احاديث كے ذريعہ پيش كي جارھي ھيں، حضرت علي عليہ السلام فرماتے ھيں :

(( اظھر الناس نفاقاً من امر با لطاعۃ ولم يعمل بھا ونھي عن المعصيۃ ولم ينتہ عنھا)) 33 كسي فرد كا سب سے واضح و نماياں نفاق يہ ھے كہ اطاعت (خداوند متعال) كا حكم دے ليكن خود مطيع و فرمان بردار نہ ھو، گناہ و عصيان كو منع كرتا ھے ليكن خود كو اس سے باز نھيں ركھتا۔

حضرت امام صادق عليہ السلام مرسل اعظم سے نقل كرتے ھوئے فرماتے ھيں :

(( ما زاد خشوع الجسد علي ما في القلب فھو عندنا نفاق)) 34

جب كبھي جسم (ظاھر) كا خشوع، خشوع قلب (باطن) سے زيادہ ھو تو ايسي حالت ھمارے نزديك نفاق ھے۔

حضرت امام زين العابدين عليہ السلام اخلاقي نفاق كے سلسلہ ميں فرماتے ھيں :

(( ان المنافق ينھي ولا ينتھي و يامر بما لا ياتي …… يمسي وھمہ العشا وھو مفطر و يصبح وھمہ النوم ولم يسھر)) 35

يقيناً منافق وہ شخص ھے جو لوگوں كو منع كرتا ھے ليكن خود اس كام سے پرھيز نھيں كرتا ھے، اور ايسے كام كا حكم ديتا ھے جس كو خود انجام نھيں ديتا، اور جب شب ھوتي ھے تو سواء شام كے كھانے كے اسے كسي چيز كي فكر نھيں ھوتي حالانكہ وہ روزہ سے بھي نھيں ھوتا، اور جب صبح كو بيدار ھوتا ھے تو سونے كي فكر ميں رھتا ھے، حالانكہ شب بيداري بھي نھيں كرتا (يعني ھدف و مقصد صرف خواب و خوراك ھے) ۔

ذكر شدہ روايات اور اس كے علاوہ ديگر احاديث جو ان مضامين پر دلالت كرتي ھيں ان كي روشني ميں بے عمل عالم اور ريا كار شخص كا شمار انھيں لوگوں ميں سے ھے جو فردى اخلاقي نفاق سے دوچار ھوتے ھيں۔

نفاق اخلاقي اجتماعي كے سلسلہ ميں معصومين عليہ السلام سے بھت سي احاديث صادر ھوئي ھيں، چند عدد پيش كي جارھي ھيں۔

امام صادق عليہ السلام فرماتے ھيں :

(( ان المنافق…… ان حدثك كذبك و ان ائتمنہ خانك وان غبت اغتابك وان وعدك اخلفك)) 36

منافق جب تم سے گفتگو كرے تو جھوٹ بولتا ھے، اگر اس كے پاس امانت ركھو تو خيانت كرتا ھے، اگر اس كي نظروں سے اوجھل رھو تو غيبت كرتا ھے، اگر تم سے وعدہ كرے تو وفا نھيں كرتا ھے۔

پيامبر عظيم الشان (ص) نفاق اخلاقي كے صفات كو بيان كرتے ھوئے فرماتے ھيں :

(( اربع من كن فيہ فھو منافق وان كانت فيہ واحدة منھن كانت فيہ خصلۃ من النفاق من اذا حدّث كذب واذا وعد اخلف واذا عاھد غدر واذا خاصم فجر)) 37

چار چيزيں ايسي ھيں كہ اگر ان ميں سے ايك بھي كسي ميں پائي جائيں تو وہ منافق ھے، جب گفتگو كرے تو جھوٹ بولے، وعدہ كرے تو پورا نہ كرے، اگر عھد و پيمان كرے تو اس پر عمل نہ كرے، جب پيروز و كامياب ھوجائے تو برے اعمال كے ارتكاب سے پرھيز نہ كرے۔

امير المومنين حضرت علي عليہ السلام فرماتے ھيں :

(( كثرة الوفاق نفاق)) 38

كسي شخصي كا زيادہ ھي وفاقي اور سازگاري مزاج و طبيعت كا ھونا يہ اس كے نفاق كي علامت ھے۔

ظاھر سي بات ھے كہ صاحب ايمان ھميشہ حق كا طرف دار ھوتا ھے اور حق كا مزاج ركھنے والا كبھي بھي سب سے خاص كر ان لوگوں سے جو باطل پرست ھيں سازگار و ھمراہ نھيں ھوتا، دوسرے الفاظ ميں يوں كھا جائے، صاحب ايمان ابن الوقت نھيں ھوتا۔

نفاق اجتماعي كا آشكار ترين نمونہ اجتماعي زندگي و معاشرے ميں دور روئي اور دو زبان كا ھونا ھے، يعني انسان كا كسي كے حضور ميں تعريف و تمجيد كرنا ليكن پس پشت مذمت و برائي كرنا۔

صاف و شفاف گفتگو، حق و صداقت كي پرستارى، صاحب ايمان كے صفات ميں سے ھيں، صرف چند ايسے خاص مواقع ميں جھاں اھم حكمت اس بات كا اقتضا كرتي ھے جيسے جنگ اور اس كے اسرار كي حفاظت، افراد اور جماعت ميں صلح و مصالحت كي خاطر صدق گوئي سے اعراض كيا جاسكتا ھے39

پيامبر اكرم حضرت محمد مصطفے صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اس نوعيت كے نفاق كے انجام و نتيجہ كے سلسلہ ميں فرماتے ھيں :

(( من كان لہ وجھان في الدنيا كان لہ لسانان من نار يوم القيامۃ)) 40

جو شخص بھي دنيا ميں دو چھرے والا ھوگا، آخرت ميں اسے دو آتشي زبان دي جائے گي۔

امام حضرت محمد باقر عليہ السلام بھي اخلاقي نفاق كے خدو خال كي مذمت كرتے ھوئے فرماتے ھيں :

(( بئس العبد يكون ذاوجھين و ذالسانين يطري اخاہ شاھداً و يأكلہ غائباً ان اعطي حسدہ وان ابتلي خذلہ)) 41

بھت بدبخت و بد سرشت ھے، وہ بندہ جو دو چھرے اور دو زبان والا ھے، اپنے ديني بھائي كے سامنے تو تعريف و تمجيد كرتا ھے اور اس كي غيبت ميں اس كو ناسزا كھتا ھے، اگر اللہ اس كے ديني بھائي كو كچھ عطا كرتا ھے تو حسد كرتا ھے، اگر كسي مشكل ميں گرفتار ھوتا ھے تو اس كي اھانت كرتا ھے۔

 

اسلام ميں وجود نفاق كي تاريخ

مشھور نظريہ

مشھور و معروف نظريہ، نفاق كے وجود و آغاز كے سلسلہ ميں يہ ھے كہ نفاق كي بنياد مدينہ ميں پڑى، اس فكر و نظر كي دليل يہ ھے كہ مكہ ميں مسلمين بھت كم تعداد اور فشار ميں تھے، لھذا كم تعداد افراد سے مقابلے كے لئے، كفار كي طرف سے منافقانہ و مخفيانہ حركت كي كوئي ضرورت نھيں تھى، مكہ كے كفار ومشركين علي الاعلان آزار و اذيت، شكنجہ ديا كرتے تھے۔

عظيم الشان پيامبر اسلام حضرت محمد مصطفي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے مدينہ ھجرت كرنے كي بنا پر اسلام نے ايك نئي كروٹ لى، روز بروز اسلام كے اقتدار و طاقت، شان و شوكت ميں اضافہ ھونے لگا، لھذا اس موقع پر بعض اسلام كے دشمنوں نے اسلام كي نقاب اوڑھ كر دينداري كا اظھار كرتے ھوئے اسلام كو تباہ و نابود كرنے كي كوشش شروع كردى، اسلام كا اظھار اس لئے كرتے تھے تاكہ اسلام كي حكومت و طاقت سے محفوظ رہ سكيں، ليكن باطن ميں اسلام كے جگر خوار و جاني دشمن تھے، يہ نفاق كا نقطہ آغاز تھا، خاص كر ان افراد كے لئے جن كي علمداري اور سرداري كو شديد جھٹكا لگا تھا، وہ كچھ زيادہ ھي پيامبر اكرم اور ان كے مشن سے عناد و كينہ ركھنے لگے تھے۔

عبد اللہ ابن ابي انھي منافقين ميں سے تھا، رسول اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے مدينہ ھجرت كرنے سے قبل اوس و خزرج مدينہ كے دو طاقتور قبيلہ كي سرداري اسے نصيب ھوني تھى، ليكن بد نصيبي سے واقعۂ ھجرت پيش آنے كي بنا بر سرداري كے يہ تمام پروگرام خاكستر ھوكر رہ گئے، بعد ميں گر چہ اس نے ظاھراً اسلام قبول كرليا، ليكن رفتار و گفتار كے ذريعہ، اپنے بغض و كينہ، عناد و عداوت كا ھميشہ اظھار كرتا رھا، يہ مدينہ ميں جماعت نفاق كا رئيس و افسر تھا، قرآن مجيد كي بعض آيات ميں اس كي منافقانہ اعمال و حركات كي نشاندھي كي گئي ھے۔

جب پيامبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم مدينہ ميں وارد ھوئے۔ اس نے پيامبر عظيم الشان (ص) سے كھا: ھم فريب ميں پڑنے والے نھيں، ان كے پاس جاؤ جو تم كو يھاں لائے ھيں اور تم كو فريب ديا ھے، عبد اللہ ابن ابي كي اس ناسزا گفتگو كے فوراً بعد ھي سعد بن عبادہ رسول اسلام كي خدمت ميں حاضر ھوئے عرض كي آپ غمگين و رنجيدہ خاطر نہ ھوں، اوس و خزرج كا ارادہ تھا كہ اس كو اپنے اپنے قبيلہ كا سردار بنائيں گے، ليكن آپ كے آنے سے حالات يكسر تبديل ھوچكے ھيں، اس كي فرمان روائي سلب ھوچكي ھے، آپ ھمارے قبيلے خزرج ميں تشريف لائيں، ھم صاحب قدرت اور باوقار افراد ھيں42

اس ميں كوئي شك نھيں كہ نفاق كا مبدا ايك اجتماعي و معاشرتي پروگرام كے تحت مدينہ ھے، نفاقِ اجتماعي كے پروگرام كي شكل گيري كا اصل عامل حق كي حاكميت و حكومت ھے، جو پہلي مرتبہ مدينہ ميں تشكيل ھوئى، پيامبر عظيم الشان كا مدينہ ميں وارد ھونا و اسلام كا روز بروز قوي و مستحكم ھونا باعث ھوا كہ منافقين كي مرموز حركات وجود ميں آئيں، البتہ منافقين كي يہ خيانت كارانہ حركتيں پيامبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي جنگوں ميں زيادہ قابل لمس ھيں۔

قرآن مجيد ميں بطور صريح جنگ بدر، احد، بني نظير، خندق و تبوك نيز مسجد ضرار كے سلسلہ ميں منافقين كي سازشيں بيان كي گئي ھيں۔

مدينہ ميں جماعت نفاق كے منظّم و مرتب پروگرام كے نمونے، غزوہ تبوك كے سلسلہ ميں پيامبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے لئے مشكلات كھڑي كرنا، مسجد ضرار كي تعمير كے لئے، چال بازي و شعبدہ بازي كا استعمال كرنا۔

پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كا غزوۂ تبوك كے لئے اعلان كرنا تھا كہ منافقين كي حركات ميں شدت آگئى، غزوہ تبوك كے سلسلہ ميں منافقانہ حركتيں اپنے عروج پر پھنچ چكي تھيں، مدينہ سے تبوك كا فاصلہ تقريباً ايك ھزار كيلو ميٹر تھا، موسم بھي گرم تھا، محصول زراعت و باغات كے ايام تھے، اس جنگ ميں مسلمانوں كي مدّ مقابل روم كي سوپر پاور حكومت تھى، يہ تمام حالات منافقين كے فيور (موافق) ميں تھے، تاكہ زيادہ سے زيادہ افراد كو جنگ پر جانے سے روك سكيں، اور انھوں نے ايسا ھي كيا۔

منافقين كے ايك اجتماع ميں جو سويلم يھودي كے يھاں برپا ھوا تھا، جس ميں منافق جماعت كے بلند پايہ اركان موجود تھے، طے يہ ھوا كہ مسلمانوں كو روم كي طاقت و قوت كا خوف دلايا جائے، ان كے دلوں ميں روم كي ناقابل تسخير فوجي طاقت كا رعب بٹھايا جائے۔

مزید  کامیابی کاراز

اس جلسہ اور اھداف كي خبر پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كو پھنچى، آپ نے اسلام كے خلاف اس سازشي مركز كو ختم نيز دوسروں كي عبرت كے لئے حكم ديا، سويلم كے گھر كو جلاديا جائے آپ نے اس طريقہ سے ايك سازشي جلسہ نيز ان كے اركان كو متفرق كر كے ركھ ديا 43

مسجد ضرار كي تعمير كے سلسلہ ميں نقل كيا جاتا ھے كہ منافقين ميں سے كچھ افراد رسول اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي خدمت ميں حاضر ھوئے، ايك مسجد قبيلۂ بني سالم كے درميان مسجد قبا كے نزديك بنانے كي اجازت چاھى، تاكہ بوڑھے، بيمار اور وہ جو مسجد قبا جانے سے معذور ھيں خصوصاً باراني راتوں ميں، وہ اس مسجد ميں اسلامي فريضہ اور عبادت الھي كو انجام دے سكيں، ان لوگوں نے تعمير مسجد كي اجازت حاصل كرنے كے بعد رسول اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے افتتاح مسجد كي درخواست بھي كى، آپ نے فرمايا: ميں ابھي عازم تبوك ھوں واپسي پر انشاء اللہ اس كام كو انجام دوں گا، تبوك سے واپسي پر ابھي آپ مدينہ ميں داخل بھي نہ ھوئے تھے كہ منافقين آپ كي خدمت ميں حاضر ھوئے اور مسجد ميں نماز پڑھنے كي خواھش ظاھر كى، اس موقع پر وحي كا نزول ھوا44 جس نے ان كے افعال و اسرار كي پول كھول كر ركھدى، پيامبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے مسجد ميں نماز پڑھنے كے بجائے تخريب كا حكم ديا تخريب شدہ مكان كو شھر كے كوڑے اور گندگي ڈالنے كي جگہ قرار ديا۔

اگر اس جماعت كے فعل كي ظاھري صورت كا مشاھدہ كريں تو پيامبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے ايسے حكم سے حيرت ھوتي ھے ليكن جب اس قضيہ كے باطني مسئلہ كي تحقيق و جستجو كريں تو حقيقت سامنے آتي ھے، يہ مسجد جو خراب ھونے كے بعد مسجد ضرار كے نام سے مشھور ھوئى، ابو عامر كے حكم سے بنائي گئي تھى، يہ مسجد نھيں بلكہ جاسوسي اور سازشي مركز تھا، اسلام كے خلاف جاسوسي و تبليغ اور مسلمانوں كے درميان تفرقہ ايجاد كرنا اس كے اھداف و مقاصد تھے۔

ابو عامر مسيحي عالم تھا زمانۂ جاھليت ميں عبّاد و زھّاد ميں شمار ھوتا تھا اور قبيلۂ خزرج ميں وسيع عمل و دخل ركھتا تھا، جب مرسل اعظم نے مدينہ ھجرت فرمائي مسلمان آپ كے گرد جمع ھوگئے خصوصاً جنگ بدر ميں مسلمانوں كي مشركوں پر كاميابي كے بعد اسلام ترقي كرتا چلا گيا، ابو عامر جو پھلے ظھور پيامبر (ص) كا مژدہ سناتا تھا جب اس نے اپنے اطراف و جوانب كو خالي ھوتے ديكھا تو اسلام كے خلاف اقدام كرنا شروع كرديا، مدينہ سے بھاگ كر كفار مكہ اور ديگر قبائل عرب سے، پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے خلاف مدد حاصل كرني چاھى، جنگ احد ميں مسلمانوں كے خلاف پروگرام مرتب كرنے ميں اس كا بڑا ھاتھ تھا، دونوں لشكر كي صفوں كے درميان ميں خندق كے بنائے جانے كا حكم اسي كي طرف سے تھا، جس ميں پيامبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم گر پڑے آپ كي پيشاني مجروح ھوگئي دندان مبارك ٹوٹ گئے، جنگ احد كے تمام ھونے كے بعد، باوجود اس كے كہ مسلمان اس جنگ ميں كافي مشكلات و زحمات سے دوچار تھے، اسلام مزيد ارتقاء كي منزليں طے كرنے لگا صدائے اسلام پھلے سے كھيں زيادہ بلند ھونے لگي ابو عامر، يہ كاميابي و كامراني ديكھ كر مدينہ سے بادشاہ روم ھرقل كے پاس گيا تاكہ اس كي مدد سے اسلام كي پيش رفت كو روك سكے، ليكن موت نے فرصت نہ دي كہ اپني آرزو و خواھش كو عملي جامہ پھنا سكے، ليكن بعض كتب كے حوالہ سے كھا جاتا ھے، كہ وہ بادشاہ روم سے ملا اور اس نے حوصلہ افزا وعدے بھي كئے۔

اس نكتہ كو بيان كر دينا بھي ضروري ھے كہ اس كي تخريبي حركتيں اور عناد پسند طبيعت كي بنا پر پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اسے فاسد كا لقب دے ركھا تھا، بھر حال اس كے قبل كہ وہ واصل جھنم ھوا، ايك خط مدينہ كے منافقين كے نام تحرير كيا جس ميں لشكر روم كي آمد اور ايك ايسے مكان و مقام كي تعمير كا حكم تھا جو اسلام كے خلاف سازشي مركز ھو، ليكن چونكہ ايسا مركز منافقين كے بنانا چنداں آسان نھيں تھا لھذا انھوں نے مصلحتاً معذوروں، بيماروں، بوڑھوں كي آڑ ميں مسجد كي بنياد ڈال كر ابو عامر كے حكم كي تعميل كى، مركز نفاق مسجد كي شكل ميں بنايا گيا، مسجد كا امام جماعت ايك نيك سيرت جوان بنام مجمع بن حارثہ كو معين كيا گيا، تاكہ مسجد قبا كے نماز گزاروں كي توجہ اس مسجد كي طرف مبذول كي جاسكے، اور وہ اس ميں كسي حد تك كامياب بھي رھے، ليكن اس مسجد كے سلسلہ ميں آيات قرآن كے نزول كے بعد پيامبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اس مركز نفاق كو خراب كرنے كا حكم دے ديا 45،تاريخ كا يہ نمونہ جسے قرآن بھي ذكر كر رھا ھے منافقين كي مدينہ ميں منظّم كار كردگي كا واضح ثبوت ھے۔

مشھور نظريہ كي تحقيق

مشھور نظريہ كے مطابق نفاق كا آغاز مدينہ ھے، اور نفاق كا وجود، حكومت و قدرت سے خوف و ھراس كي بنا پر ھوتا ھے، اس لئے كہ مكہ كے مسلمانوں ميں قدرت و طاقت والے تھے ھي نھيں، لھذا وھاں نفاق كا وجود ميں آنا بے معني تھا، صرف مدينہ ميں مسلمان صاحب قدرت و حكومت تھے لھذا نفاق كا مبداء مدينہ ھے۔

ليكن نفاق كي بنياد صرف حكومت سے خوف و وحشت كي بنا پر جو اس كے لئے كوئي دليل نھيں ھے، بلكہ اسلام ميں منصب و قدرت كے حصول كي طمع بھي نفاق كے وجود ميں آنے كا عامل ھوسكتي ھے، لھذا، نفاق كي دو قسم ھوني چاھئے :

1 ۔ نفاقِ خوف: ان افراد كا نفاق جو اسلام كي قدرت و اقتدار سے خوف زدہ ھوكر اظھار اسلام كرتے ھوئے اسلام كے خلاف كام كيا كرتے تھے۔

2 ۔ نفاقِ طمع: ان افراد كا نفاق جو اس لالچ ميں اسلام كا دم بھرتے تھے كہ اگر ايك روز اسلام صاحب قدرت و سطوت ھوا، تو اس كي زعامت و مناصب پر قابض ھوجائيں يا اس كے حصّہ دار بن جائيں۔

نفاق بر بناء خوف كا سر چشمہ مدينہ ھے، اس لئے كہ اھل اسلام نے قدرت و اقتدار كي باگ ڈور مدينہ ميں حاصل كيا۔

ليكن نفق بر بناء طمع و حرص كا مبداء و عنصر مكہ ھونا چاھئے، عقل و فكر كي بنا پر بعيد نھيں ھے كہ بعض افراد روز بروز اسلام كي ترقى، اقتصادي اور سماجي بائيكاٹ كے باجود اسلام كي كاميابى، مكرر رسول اعظم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي طرف سے اسلام كے عالمي ھونے والي خوش خبري وغيرہ كو ديكھتے ھوئے دور انديش ھوں، كہ آج كا ضعيف اسلام كل قوت و طاقت ميں تبديل ھوجائے گا، اسي دور انديشي و طمع كي بنا پر اسلام لائے ھوں، تاكہ آئندہ اپنے اسلام كے ذريعہ اسلام كے منصب و قدرت كے حق دار بن جائيں۔

اس مطلب كا ذكر ضروري ھے كہ منافق طمع كے افعال و كاركردگي منافق خوف كي فعاليت و كاركردگي سے كافي جدا ھے، منافق خوف كي خصوصيت خراب كارى، كار شكنى، بيخ كنى، اذيت و تكليف سے دوچار كرنا ھے، جب كہ منافق طمع ايسا نھيں كرتا، بلكہ وہ ايك تحريك كي كاميابي كے سلسلہ ميں كوشش كرتے ھيں، تاكہ وہ تحريك ايك شكل و صورت ميں تبديل ھوجائے، اور يہ قدرت كي نبض اور دھڑكن كو اپنے ھاتھوں ميں لے سكيں، منافق طمع صرف وھاں تخريبي حركات كو انجام ديتے ھيں جھاں ان كے بنيادي منافع خطرے ميں پڑجائيں۔

اگر ھم نفاق طمع كے وجود كو مكہ قبول كريں، تو اس كي كوئي ضرورت نھيں كہ نفاق كا وجود اور اس كے آغاز كو مدينہ تسليم كيا جائے۔

جيسا كہ مفسر قرآن علامہ طباطبائي (رح) اس نظريہ كو پيش كرتے ھيں46، آپ ايك سوال كے ذريعہ كو مذكورہ مضمون كي تائيد كرتے ھوئے فرماتے ھيں، باوجوديكہ اس قدر منافقين كے سلسلہ ميں آيات، قرآن ميں موجود ھيں، كيوں پيامبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي وفات كے بعد منافقين كا چرچا نھيں ھوتا، منافقين كے بارے ميں كوئي گفتگو اور مذاكرات نھيں ھوتے، كيا وہ صفحہ ھستي سے محو ھوگئے تھے؟ كيا پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي وفات كي بنا پر منتشر اور پراكندہ ھوگئے تھے؟ يا اپنے نفاق سے توبہ كرلي تھى؟ يا اس كي وجہ يہ تھي كہ پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي وفات كے بعد صاحبان نفاق طمع، صاحبان نفاق خوف كا تال ميل ھوگيا تھا، اپني خواھشات و حكمت عملي كو جامۂ عمل پھنا چكے تھے، اسلام كي حكومت و ثروت پر قبضہ كر چكے تھے اور بہ بانگ دھل يہ شعر پڑھ رھے تھے :

(( لعبت ھاشم بالملك فلا خبر جاء ولا وحي نزل ))

خلاصۂ بحث يہ ھے كہ نفاق اجتماعي ايك منظّم تحريك كے عنوان سے مدينہ ميں ظھور پذير ھوا، ليكن نفاق فردى جو بر بناء طمع و حرص عالم وجود ميں آيا ھو اس كو انكار كرنے كي كوئي دليل نھيں، اس لئے كہ اس نوعيت كا نفاق مكہ ميں بھي ظاھر ھوسكتا تھا، وہ افراد جو پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے دستور و حكم سے سر پيچي كرتے تھے، ان ميں بعض وہ تھے جو مكہ ميں مسلمان ھوئے تھے، يہ وھي منافق تھے جو طمع و حرص كي بنا پر اسلام كا اظھار كرتے تھے۔

مرض نفاق اور اس كے آثار

نفاق، قلب اور دل كي بيماري ھے، قرآن كي آيات اس باريكي كي طرف توجہ دلاتي ھيں، پاكيزہ قلب خدا كا عرش اور اللہ كا حرم ھے47، اس ميں اللہ كے علاوہ كسي اور كا گذر نھيں ھے، ليكن مريض و عيب دار دل، غير خدا كي جگہ ھے ھوا و ھوس سے پر دل شيطان كا عرش ھے، قرآن مجيد صريح الفاظ ميں منافقين كو عيب دار اور مريض دل سمجھتا ھے 🙁 في قلوبھم مرض) 48

نفاق جيسي پُر خطر بيماري ميں مبتلا افراد، بزرگترين نقصان و ضرر سے دوچار ھوتے ھيں، اس لئے كہ آخرت ميں نجات صرف قلب سليم (پاكيزہ) كے ذريعہ ھي ميسر ھے، ھوا و ھوس سے پر، غير خدا كا محبّ و غير خدا سے وابستہ دل نجات كا سبب نھيں۔

( يوم لا ينفع مال ولا بنون الا من اتي اللہ بقلب سليم) 49

اس دن مال اور اولاد كام نھيں آئيں گے۔ مگر وہ جو قلب سليم كے ساتھ اللہ كي بارگاہ ميں حاضر ھو۔

قرآن مجيد اس مرض و بيماري كي شناخت و واقفيت كے سلسلہ ميں كچھ مفيد نكات كا ذكر كر رھا ھے، تمام مسلمانوں كو ان نكات كي طرف توجہ ديني چھاھئے تاكہ اپنے قلب و دل كي صحت و سلامتي و نيز مرض كو تشخيص دے سكيں، نيز ان نكات كے ذريعہ معاشرے كے غير سليم و نادرست قلوب كي شناسائي كرتے ھوئے ان كے مراكز فساد و فتنہ سے مبارزہ كرسكيں۔

ايك سرسري جائزہ ليتے ھوئے آياتِ قرآني جو منافقين كي شناخت ميں نازل ھوئي ھيں ان كو چند نوع ميں تقسيم كيا جاسكتا ھے۔

وہ آيات جو اسلامي معاشرے ميں منافقين كي سياسي و اجتماعي روش و طرز كو بيان كرتي ھيں، وہ آيات جو منافقين كي فردى خصوصيت نيز ان كي نفسياتي شخصيت و عادت كو رونما كرتي ھيں، وہ آيات جو منافقين كي ثقافتي روش و طرز عمل كو اجاگر كرتي ھيں، وہ آيات جو منافقين سے مبارزہ و رفتار كے طور و طريقہ كو پيش كرتي ھيں

پھلي نوع كي آيات ميں منافقين كي سياسي و معاشرتي اسلوب، اور دوسري نوع كي آيات ميں منافقين كي انفرادي و نفسياتي بيماري كي علامات كا ذكر ھے اور تيسري نوع كي آيات ميں منافقين كي كفر و نفاق كے مرض كو وسعت دينے نيز اسلام كو تباہ و برباد كرنے كے طريقے كو بيان كيا گيا ھے، چوتھي نوع كي آيات ميں منافقين كي كار كردگي كو بے اثر بنانے كے طريقۂ كار كو پيش كيا گيا ھے، اگر چہ قرآن ميں جو آيات منافقين كے سلسلہ ميں آئي ھيں وہ ان كي اعتقادي نفاق كو بيان كرتي ھيں، مگر جو آيات منافقين كي خصوصيت و صفات كو بيان كرتي ھيں وہ ان كي منافقانہ رفتار و گفتار كو پيش كر رھي ھيں خواہ اعتقادي ھوں يا نہ ھوں منافقين كے جو خصائص بيان كئے گئے ھيں، منافقانہ رفتار و گفتار كي شناخت كے لئے معيار و پيمانہ قرار دئے گئے ھيں، اس كے مطابق جو فرد يا جماعت بھي اس نوع و طرز كي رفتار و روش كي حامل ھوگي اس كا شمار منافقين ميں ھوگا۔

——————————————————————————–

13. اصول كافى، ج1، ص43۔

14. سورہ ممتحنہ/ 1۔

15. سورہ فاطر/ 6۔

16. سورہ نور/ 21۔

17. سورہ نساء/ 101۔

18. سورہ مائدہ/ 82۔

19. شرح نھج البلاغہ، ابن ابي الحديد، ج20 ص311۔

20. مسئلہ نفاق: بنابر نقل نفاق يا كفر پنھان، ص52۔

21. سورہ توبہ/ 101۔

22. نھج البلاغہ، نامہ27۔

23. بحار الانوار، ج33، ص399۔

24. سفينۃ البحار، ج1، ص380۔

25. نھج البلاغہ، خطبہ93۔

26. سورہ انفال/60۔

27. نھايۃ، ابن اثير، بحث “نفق” و نيز: لسان العرب، ج10، ص359۔

28. سورہ نساء/ 89۔

29. قاموس الرجال، ج10، ص89۔

30. الاصابہ، ج4، ص88۔

31. تفسير سورہ توبہ و منافقون۔

32. يقيناً اخلاق كي يہ حالتيں، رذائل كے اجزا ميں سے ھے ليكن يہ كہ عادت رذيلہ روايات ميں نفاق پر اطلاق ھوتي ھے يا نھيں يہ وہ موضوع ھے جسے اجاگر ھونا چاھئے علامہ مجلسي بحار الانوار ج72 ص108 ميں اس نظريہ كي تائيد كرتے ھيں كہ روايات ميں اسي معني ميں استعمال ھوا ھے، اصول كافى ج2 ميں ايك باب صفت النفاق و المنافق ھے اس باب كي اكثر احاديث انفرادي، اجتماعي اخلاقي نفاق كے سلسلہ ميں بيان كي گئي ھے يہ خود دليل ھے كہ نفاق روايات ميں اس خاص معني (نفاق اخلاقي) جس كا ميں نے اشارہ كيا ھے استعمال ھوا ھے۔

33. غرور الحكم، حديث 3214۔

34. اصول كافى، ج2، ص396۔

35. اصول كافى، ج2، ص396۔

36. المحجۃ البيضاء، ج5، ص282۔

37. خصال شيخ صدوق، ص254۔

38. ميزان الحكمت، ج8، ص3343۔

39. غيبت و كذب سے مستثنٰي موارد كے سلسلہ ميں اخلاقي و فقھي كتب جيسے جامع السعادات اور مكاسب كي طرف مراجعہ كريں۔

40. المحجۃ البيضاء، ج5، ص280۔

41. المحجۃ البيضاء، ج5، ص282۔

42. علام الورى، ص44، بحار الانوار، ج19 ص108۔

43. سيرت ابن حشام، ج2، ص517، منشور جاويد قرآن، ج4، ص112۔

44. سورہ توبہ، 107 كے بعد كي آيتيں۔

45. مجمع البيان، ج3، ص72۔

46. تفسير الميزان، ج19 ص287 تا 290، سورہ منافقون كي آيات 1/ 8 كے ذيل ميں۔

47. ” قلب المؤمن عرش الرحمن” بحار الانوار، ج58، ص39۔ “لقلب حرم اللہ فلا تسكن حرم اللہ غير اللہ” بحار الانوار، ج70، ص25۔

48. سورہ بقرہ/ 10، مائدہ/52 ، توبہ/ 125، محمد/ 20۔ 29: بعض آيات ميں (في قلوبھم مرض) كے ھمراہ منافقون كا بھي ذكر كيا گيا ھے، جيسے سورہ انفال كي آيت نمبر 49 و سورہ احزاب كي آيت نمبر 12 (اذا يقول المنافقون والذين في قلوبھم مرض) يھاں يہ سوال سامنے آتا ھے كہ بيمار دل والے منافق ھي ھيں يا ان كے علاوہ دوسرے افراد، علامہ طباطبائي (رح) تفسير الميزان، ج15، ص286، ج9، ص99، ميں ان دونوں كو الگ الگ شمار كرتے ھيں، آپ كا كھنا ھے كہ بيمار دل والوں سے مراد ضعيف الاعتقاد مسلمان ھيں، اور منافقين وہ ھيں جو ايمان و اسلام كا اظھار كرتے ھيں ليكن باطن ميں كافر ھيں، بعض مفسرين كي نظر ميں، بيمار دل صفت والے افراد منافق ھي ھيں، نفاق كے درجات ھيں، نفاق كا آغاز قلب و دل كي كجي اور روح كي بيماري سے شروع ھوتا ھے، اور آھستہ آھستہ پايۂ تكميل كو پھنچتا ھے، ليكن ميرے خيال ميں منافقون، و (والذين في قلوبھم مرض) دو مترادف الفاظ كے مثل ھيں جيسے فقير و مسكين، اگر يہ دو لفظ ساتھ ميں استعمال ھو تو ھر لفظ ايك مخصوص معني كا حامل ھوگا، ليكن اگر جدا استعمال ھوتو دونوں كے معني ايك ھي ھوں گے، اس بنا پر وہ آيات جس ميں لفظ منافقون و (في قلوبھم مرض) ايك ساتھ استعمال ھوئے ھيں، دونوں كے مستقل معني ھيں، منافقون يعني اسلام كا اظھار و كفر كا پوشيدہ ركھنا، و (في قلوبھم مرض) يعني ضعيف الايمان يا آغاز نفاق، ليكن جب (في قلوبھم مرض) كا استعمال جدا ھو تو اس سے مراد منافقين ھيں، كيوں كہ منافقين وھي ھيں جو (في قلوبھم مرض) كے مصداق ھيں،

49. سورہ شعراء/ 88 و 89۔

فصل دوّم؛ منافقين كي سياسي خصائص   

1 ۔ اغيار پرستى

2 ۔ ولايت ستيزى

3 ۔ منافقين كي دوسري سياسى خصوصيتيں

اغيار پرستى

اغيار سے سياسى روابط اور اس كے ضوابط و اصول

قرآن مجيد كے شديد منع كرنے كے باوجود منافقين كي سياسى رفتار كي اھم خصوصيت، اغيار سے دوستي و رابطہ كا ھونا ھے، اس بحث ميں وارد ھونے، اور ان آيات قرآني كي تحقيق كرنے سے قبل، جو منافقين كي اغيار پرستى و دوستي كو بر ملا كرتي ھيں ضروري ھے كہ ھم بطور اجمال اغيار سے سياسى رابطہ و رفتار كے اصول جو اسلام نے پيش كي ھيں، بيان كرديں، تاكہ اغيار سے رابطہ اور رفتار كے قوانين و نظريہ كي روشني ميں منافقين كے اعمال و رفتار كا تجزيہ كيا جاسكے۔

اصل اوّل: شناخت اغيار

جيسا كہ اس سے قبل عرض كيا جاچكا ھے نظام و حكومت اسلامي كے كاركنان كا اھم ترين وظيفہ دشمن كي شناخت و پھچان ھے، قرآن كي مكرر و دائمي نصيحت يہ ھے كہ اپنے دشمن كو پھچانو، ان كے مقاصد و اھداف كو سمجھو، تاكہ ان سے صحيح مقابلہ كرتے ھوئے ان كي كاميابي كے لئے سد راہ بن جاؤ۔

قرآن كريم كي بھت زيادہ آيتيں اغيار كي صفات و خواھشات كو بيان كر رھي ھيں، تاكہ صاحبان ايمان دشمن و اغيار كي شناخت كے لئے ايك معيار پيمانہ قائم كرسكيں، قرآن كريم اغيار كے سلسلہ ميں جو صفتيں اور علامتيں بيان كر رھا ھے، ايك خاص عصر و زمان سے مرتبط و محدود نھيں ھے، بلكہ ھر زمان و مكان ميں ان كي سيرت و كردار كو پركھنے كي كسوٹي ھے، قرآن كي روشني ميں بطور اختصار اغيار كي سات خصوصيتيں ذكر كي جارھي ھيں۔

1 ۔ رجعت و عقب نشيني كي آرزو ركھنا

اغيار كي خواھش مومنين كو رجعت يعني اسلام سے قبل كي ثقافت و كلچر كي طرف پلٹانے كي ھوتي ھے، دشمنان اسلام كي دلي تمنا ھوتي ھے كہ، مومنين شرك و كفر كے زمانہ كي طرف پلٹ جائيں، مومنين سے اسلامي تھذيب و اقدار كو چھين ليں :

( ودّوا لو تكفرون كما كفروا فتكونون سواء) 50

منافقين چاھتے ھيں كہ تم بھي ان كي طرح كافر ھوجاؤ اور سب برابر ھوجائيں۔

( ولا يزالون يقاتلونكم حتي يردّوكم عن دينكم ان استطاعوا) 51

يہ كفار برابر تم لوگوں سے جنگ كرتے رھيں گے، يہاں تك كہ ان كے بس ميں ھو تو تم كو تمھارے دين سے پلٹاديں۔

قرآن كي نظر ميں كفار اور بعض اھل كتاب مومنين سے عداوت و دشمني ركھتے ھوئے ان كو كفر و جاھليت كي طرف پلٹانا چاھتے ھيں :

( يا ايھا الذين آمنوا ان تطيعوا الذين كفروا يردّوكم علي اعقابكم فتنقلبوا خاسرين) 52

اے ايمان والو! اگر تم كفر اختيار كرنے والوں كي اطاعت كرو گے تو يہ تمھيں گزشتہ زمانہ كي طرف پلٹا لے جائيں گے، اور سر انجام تم خود ھي خسارہ و نقصان اٹھانے والوں ميں ھوگے۔

( ودّ كثير من اھل الكتاب لو يردّونكم من بعد ايمانكم كفار حسداً من عند انفسھم من بعد ما تبين لھم الحق) 53

بھت سے اھل كتاب حسد كي بنا پر يہ چاھتے ھيں كہ تمھيں ايمان كے بعد كافر بناديں حالانكہ حق ان پر بالكل واضح و آشكار ھوچكا ھے۔

2 ۔ اسلامي اصول و اقدار سے انحراف كي تمنا كرنا

دشمن كي ايك اھم خواھش يہ ھوتي ھے كہ اسلامي حكومت اور مومنين، اسلامي اصول و اقدار سے رو گرداں و منحرف ھوجائيں، مومنين سے اسلامي اصول اور اس كے اقدار پر سودا كرنے كے خواھش مند ھوتے ھيں :

( ودّوا لو تدھن فيہ ھنون) 54

يہ چاھتے ھيں كہ آپ تھوڑا نرم (حق كي راہ سے منحرف) ھوجائيں تاكہ وہ بھي نرم ھوجائيں۔

اسلامي حكومت ميں الھي سياست گزار كو صرف اپني شرعي ذمہ داري و فرائض كا خيال ركھنا ھوتا ھے، ان كے پروگرام ميں سر فھرست الھي مقاصد اور اصولوں كي حفاظت مقصود ھوتي ھے، ان كے طريقۂ كار ميں اصولي و بنيادي مسائل پر سودا گري اور ساز باز كا كوئي مفھوم نھيں ھوتا ھے۔

ليكن دنياوي اور مادہ پرست سياست گزار كا ھدف و مقصد صرف حكومت و استعماريت ھوتا ھے ان كي سياست كي بساط، اصول كي سودا گري و ساز و باز پر ھوتي ھے وھي سياست كہ جس كا معاويہ شيدائي تھا ليكن مولائے كائنات علي ابن ابي طالب عليہ السلام شدت سے مخالف تھے، آپ اس طريقۂ كار كو شيطنت و مكر و فريب سمجھتے تھے۔

حضرت علي عليہ السلام ايسي پست سياست و طرز عمل سے دور تھے، وہ لوگ جو معاويہ كي حركات كو زيركي و دانائي تصور كرتے تھے، امام علي عليہ السلام ان كے جواب ميں فرماتے ھيں:

(( و اللہ ما معاويۃ با دھٰي مني و لكنہ يغدر و يفجر ولو لا كراھيۃ الغدر لكنت منّي ادھيٰ الناس)) 55

خدا كي قسم! معاويہ مجھ سے زيادہ ھوشيار و صاحب ھنر نھيں ھے، ليكن وہ مكر و فريب اور فسق و فجور كا ارتكاب كرتا ھے، اگر مجھے مكر و فريب نا پسند نہ ھوتا تو مجھ سے زيادہ ھوشيار كوئي نھيں تھا۔

امير المومنين حضرت علي عليہ السلام اپني مختصر مدت حكومت و خلافت ميں بعض قريبي اصحاب كي نصيحت و مشورہ كے باوجود ھرگز اسلامي اصول سے انحراف و سودا گري كو قطعاً قبول نھيں كرتے تھے، بعض صاحبان تفسير ابن عباس سے نقل كرتے ھيں، يھودي مذھب كے بزرگان ايك نزاع كے سلسلہ ميں رسول اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كو اسلامي اصول سے منحرف كرنے كي غرض سے آپ كي خدمت ميں آئے، اور اپني آرزؤں كو اس انداز سے پيش كيا، ھم يھودي قوم و مذھب كے اشراف و عالم ھيں اگر ھم آپ پر ايمان لے آئيں گے، تو تمام يھودي ھم لوگ كي پيروي كرتے ھوئے آپ پر ايمان لے آئيں گے، ليكن ھمارے ايمان لانے كي شرط يہ ھے كہ آپ اس نزاع ميں ھمارے فائدے و حق ميں فيصلہ ديں، ليكن مرسل اعظم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے ان كي شرط اور ايمان لانے كي لالچ كو ٹھكراديا، اسلام كے اصول و اركان يعني عدالت سے ھرگز منحرف نھيں ھوئے، ذيل كي آيت اسي واقعہ كي بنا پر نازل ھوئي ھے :

( و ان احكم بينھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھوائھم و احذرھم ان يفتنوك عن بعض ما انزل اللہ اليك) 56

اور پيامبر آپ كے درميان تنزيل خدا كے مطابق فيصلہ كريں اور ان كي خواھشات كا اتباع نہ كريں، اور اس بات سے بچتے رھيں كہ يہ بعض احكام الھي سے جو تم پر نازل كيا جاچكا ھے منحرف كرديں۔

سورہ اسراء ميں پيامبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كو اصول سے منحرف كرنے كے لئے دشمنون كے شديد وسوسہ كا ذكر كيا گيا ھے خدا كا ارشاد ھو رھا ھے، اگر آپ كو عصمت اور وحي كي مساعدت نہ ھوتى، اگر آپ عام بشر كے مثل ھوتے تو ان كے دلدادہ ھوجاتے۔

( و ان كادوا ليفتنوك عن الذي اوحينا اليك لتفتري علينا غيرہ و اذاً لاتّخذوك خليلا ولولا ان ثبتناك لقد كدت تركن اليھم شيئا قليلا) 57

اور يہ ظالم اس بات كے كوشاں تھے كہ آپ كو ميري وحي سے ھٹا كر دوسري باتوں كي افترا پر آمادہ كرديں، اور اسي طرح يہ آپ كو اپنا دوست بنا ليتے اور اگر ھماري توفيق خاص نے آپ كو ثابت قدم نہ ركھا ھوتا تو آپ (بشري طور سے) كچھ نہ كچھ ان كي طرف ضرور مائل ھوجاتے۔

3 ۔ خير خواہ نہ ھونا

قرآن كريم نے اغيار كي شناخت كے سلسلہ ميں دوسري جو صفت بيان كي ھے وہ اغيار كا مسلمانوں كے سلسلہ ميں خير خواہ نہ ھونا ھے، وہ اپني بد خصلت اور پست فطرت خمير كي بنا پر ھميشہ اسلام كے افكار و نظام كے خلاف سازش كرتے رھتے ھيں وہ مومنين كے سلسلہ ميں صرف عدم خير خواھي پر اكتفا نھيں كرتے بلكہ صاحبان ايمان كي آسائش و آرام، امن و سكون، فتح و كامراني كو ايك لمحے كے لئے تحمل بھي نھيں كرسكتے۔

( ما يودّ الذين كرو من اھل الكتاب ولا المشركين ان ينزل عليكم من خير من ربكم) 58

كافر اھل كتاب (يھود و نصاريٰ) اور عام مشركين يہ نھيں چاھتے كہ تمھارے اوپر پروردگار كي طرف سے كوئي خير و بركت نازل ھو۔

وہ مومنين كے سلسلہ ميں صرف خير و بركت كے عدم نزول كي خواھش ھي نھيں ركھتے بلكہ مومنين كي سختي و پريشاني كو ديكھ كر خوشحال اور ايمان والوں كي خوشي كو ديكھ كر غمگين ھوتے ھيں۔

( ان تمسسكم حسنۃ تسؤھم وان تصبكم سيئۃ يفرحوا بھا) 59

اگر تمھيں ذرا بھي خير و نيكي ملے تو انھيں برا لگے گا اور اگر تمھيں تكليف پھونچےتو وہ خوش ھوں گے۔

4 ۔بغض و كينہ كا ركھنا

اغيار كي ايك اور اھم خصوصيت بغض اور كينہ پرستي ھے ان كا تمام وجود اسلام كے خلاف عداوت و نفرت سے بھرا ھوا ھے، يہ صفت رذائل فقط دل كي چھار ديواري تك محدود نھيں بلكہ عملي طور سے ان كے افعال و كردار ميں حسد و كينہ توزي كے آثار ھويدا ھيں، اپني اس كيفيت كو پوشيدہ و مخفي ركھے بغير اھل اسلام كے خلاف وسيع پيمانے پر معركہ و جنگ كي جد و جھد ميں مصروف رھتے ھيں۔

( لا يألونكم خبالا ودّوا ما عنتّم قد بدت البغضاء من افواھم وما تخفي صدوركم اكبر…… اذا لقوكم قالوا آمنا واذا خلوا عضو عليكم الأنامل من الغيظ قل موتوا بغيظكم) 60

يہ تمھيں نقصان پھونچانے ميں كوئي كوتاھي نھيں كريں گے، يہ صرف تمھاري مشقت و زحمت رنج و مصيبت كے خواھش مند ھيں ان كي عداوت و نفرت زبان سے بھي ظاھر ھے اور جو دل ميں پوشيدہ كر ركھا ھے وہ تو بھت زيادہ ھے اور جب تم سے ملتے ھيں تو كھتے ھيں كہ ھم ايمان لے آئے اور جب اكيلے ھوتے ھيں تو خشم و غصہ سے انگلياں كاٹتے ھيں، پيامبر آپ كہہ ديجئے كہ تم اسي غصہ ميں مرجاؤ۔

5 ۔ غفلت پذيري ميں مبتلا كرنا

دشمن و اغيار كا اپني كاميابي و موفقيت كے لئے مسلمانوں كو غفلت و بے خبري كے جال ميں پھنسائے ركھنا ھے، وہ چاھتے يہ ھيں كہ ايسي فضا و حالات وجود ميں لائے جائيں جس كي بنا پر صاحبان ايمان اپني قوت و طاقت كي صلاحيت و موقف سے غفلت ورزي كا شكار ھوجائيں تاكہ وہ ان پر قابض و كامران ھوسكيں، ان كي دائمي كوشش رھتي ھے كہ مسلمان كي نظر ميں ان كي اقتصادي طاقت فوجي قدرت، ثمرۂ وحدت اور دين و دنيا كي شان و شوكت كو بے وقعت پيش كيا جائے، تاكہ زيادہ سے زيادہ غفلت و بے خبري كے دام ميں الجھے رھيں جس كے نتيجہ ميں اغيار كي فتح و ظفر كي زمين ھموار ھوسكے۔

( ودّا لذين كفروا لو تغفلون عن اسلحتكم و امتعتكم فيميلون عليكم ميلۃ واحدة) 61

كفار كي خواھش يھي ھے كہ تم اپنے ساز و سامان اور اسلحہ سے غافل ھوجاؤ تو يہ يكبارگي تم پر حملہ كرديں۔

مذكورہ آيت ميں اگر چہ اسلحہ و ساز و سامان كا ذكر ھے ليكن آيت كي دلالت صرف اقتصادي ساز و سامان وجنگي اسلحہ جات پر منحصر نھيں ھے بلكہ تمام وہ وسائل و عوامل جو مسلمانوں كے لئے عزت و شرف قوت و طاقت كا باعث ھو آيت كي غرض وغايت ھے، اس لئے كہ دشمن كا ھدف ان وسائل سے غفلت و لاپرواھي ميں مبتلا كرنا ھے تاكہ تسلط كے مواقع فراھم ھوسكيں۔

امير المومنين حضرت علي عليہ السلام مالك اشتر كو خطاب كرتے ھوئے عھد نامہ ميں فرماتے ھيں :

(( الحذر كل الحذر من عدوك بعد صلحہ فان العدو ربما قارب ليتغفل فخذ با لحزم و اتھم في ذلك حسن الظن)) 62

صلح كے بعد دشمن كي طرف سے قطعاً مكمل طور پر ھوشيار رھنا كہ كبھي كبھي وہ تمہيں غفلت ميں ڈالنے كے لئے تم سے قربت اختيار كرنا چاھيں گے لھذا اس سلسلہ ميں مكمل ھوشيار رھنا، اور كسي حسن ظن سے كام نہ لينا۔

6 ۔ مومنين سے سخت و تند برتاؤ كرنا

قرآن كريم كي روشني ميں اغيار كي ايك دوسري صفت، مومنين كي ساتھ سخت طرز عمل و سلوك كا انجام دينا ھے، يہ عھد و پيمان كي پابندي اور دوستي كا اظھار كرتے ھوئے مومنين كو فريب دينا چاھتے ھيں، ان كے عھد و پيمان، قول و قرار پر اعتماد كرنا منطقي عمل نھيں، جب ناتواں اور كمزور ھوجاتے ھيں تو حقوق بشر اور اخلاق انساني كي بات كرتے ھيں، ليكن جب قوي و مسلط ھوجاتے ھيں، تمام حقوقِ اور انساني اخلاق كو پامال كرتے ھيں، عھد و پيمان، قول و قرار، حقوق و اصول بشريت، عظمت انسانيت، سب ھتكنڈے ھيں تاكہ اپنے منافع كو حاصل كرسكيں، منظور نظر منافع كے حصول كے بعد ان قوانين و عھد و پيمان كي كوئي وقعت نھيں رھتي ھے۔

( كيف وان يظھروا عليكم لا يرقبوا فيكم الّا ولا ذمّۃ يرضونكم بأفواھھم و تأبي قلوبھم و اكثرھم فاسقون) 63

ان كے ساتھ كس طرح رعايت كي جائے، جب كہ يہ تم پر غالب آجائيں گے تو نہ كسي ھمسايگي و قرابتداري كي رعايت كريں گے اور نہ ھي كسي عھد و پيمان كا لحاظ كريں گے يہ تو صرف زباني تم كو خوش كر رھے ھيں، ورنہ ان كا دل قطعي منكر ھے اور ان كي اكثريت فاسق و بد عھد ھے۔

7 ۔ خيانت كاري اور دشمني كا مستمر ھونا

اغيار كي ايك اور صفت، تجاوز گري و تخريب كاري ھے، جب تك ان كے اھداف پايہ تكميل كو نھيں پہنچتے فتنہ گرى و خراب كاري كا بازار گرم كئے رھتے ھيں۔

( لا يزالون يقاتلونكم حتي يردّوكم عن دينكم) 64

اور يہ كفار برابر تم لوگوں سے جنگ كرتے رھيں گے، يہاں تك كہ ان كے امكان ميں ھو تو وہ تم كو تمھارے دين سے پلٹاديں۔

اسي بنا پر دشمن كي عارضى، خاموشي و سكوت يا دوستي و محبت كا اظھار، دشمني كے پايان و اتمام كي علامت نھيں، يہ صرف دشمن كي بدلتي ھوئي طرز و روش ھے، برابر كچھ وقفہ كے بعد كوئي نہ كوئي خيانت كاري كا آشكار ھونا اس بات كي دليل ھے كہ جب تك اغيار و دشمن اپنے اھداف و مقاصد كو عملي جامہ نہ پہناليں تب تك وہ فتنہ گرى و دشمني سے دست بردار نھيں ھوں گے۔

( ولا تزال تطلع علي خائنۃ منھم) 65

آپ ان كي طرف سے خيانتوں پر مطلع ھوتے رھيں گے۔

اصل اوّل كا ماحصل، اسلام كے پيش نظر اغيار سے سياسى روابط و اصول اور اغيار كي شناخت ھے جس ميں ان كي چند خصائص كو بيان كيا گيا ھے كسي فرد يا گروہ ميں ايك خصوصيت كا بھي پايا جانا قرآن كي رو سے اس كا شمار اغيار ميں ھے، لھذا ان سے رابطہ كے سلسلہ ميں اسلام كے اغيار سے رابطہ و اصول كا لحاظ كيا جانا چاھئے۔

اصل دوّم: دشمن كے مقابلہ ميں ھوشياري اور اقتدار كا حصول

اسلام كے فردي و اجتماعي روابط ميں حسن ظن كي رعايت اسلام كے اصل دستورات ميں سے ھے ليكن اغيار سے روابط كے سلسلہ ميں اسلام كي تاكيد سوء ظن پر ھے، ھر زمان و مكان ميں ان سے بھترين اقتصادى، سياسى، ثقافتي روابط ھونے كے باوجود سوء ظن كي كيفيت باقي ركھتے ھوئے ھوشيار رھنا چاھئے۔ ان كي چھوٹي حركتيں اور ھلكے مناظر دشمني كو نظر انداز نھيں كرنا چاھئے۔

اسلام كي تاكيد يہ ھے كہ اسلامي نظام و حكومت اغيار كے مقابلہ ميں زيادہ سے زيادہ قدرت و طاقت كا حصول كريں، اس قدر قوي اور طاقتور ھوں كہ دشمن تجاوز كا خيال بھي دل ميں نہ لاسكے۔

( و اعدّوا لھم ما استطعتم من قوة و من رباط الخيل ترھبون بہ عدو اللہ و عدوكم) 66

اور تم سب ان كے مقابلہ كے لئے امكاني قوت اور گھوڑے كي صف بندي (سلاح) كا انتظام كرو جس سے اللہ كے دشمن اور اپنے دشمن سب كو خوف زدہ كردو۔

آيت قرآن سے استفادہ ھوتا ھے كہ دشمن كے مقابلہ ميں قوي و قدرت مند ھونا، جديد اسلحہ جات سے آراستہ ھونا ضروري ھے تاكہ اسلامي حكومت و نظام كا دفاع كيا جاسكے، (ما استطعتم) عبارت كا مفھوم وسيع ھے وسائل و سلاح، اطلاعاتي و نظامى، اقتصادي و سياسى، فرھنگي و ثقافتي آمادگى، سب پر منطبق ھوتا ھے، جيسا كہ ذيل كي آيت ميں كلمہ حذر كا مفھوم وسيع و عريض

ھے۔

( يا ايھا الذين آمنوا خذوا حذركم فانفرو اثبات او انفروا جميعا) 67

اے صاحبان ايمان! اپنے تحفظ كا سامان سنبھال لو اور گروہ در گروہ يا اكٹھا جيسا موقع ھو سب نكل پڑو۔

يہ آيت ايك جامع و كلي آئين و دستور ھر زمان و مكان كے مسلمانوں كو دے رھي ھے، اپني امنيت و سرحد كي حفاظت كے لئے ھر وقت آمادہ رھيں اجتماع و معاشرے ميں ايك قسم كي مادي و معنوي آمادگي كا ھميشہ وجود رھے۔

حذر كے معني اس قدر وسيع ھيں كہ ھر قسم كے مادي و معنوي وسائل پر اطلاق ھوتے ھيں۔

مسلمانوں كو چاھئے كہ مدام دشمن كي حركات و سكنات، سلاح كي نوعيت، جنگ كے اطوار پر نگاہ ركھے رھيں، اس لئے كہ يہ تمام موارد دشمن كے خطرات كو روكنے ميں مؤثر اور آيت حذر كے مفھوم كي نشان دھي ھے۔

آيت حذر كے دستور كے مطابق مسلمانوں كے چاھئے كہ اپنے تحفظ كے لئے زمان و مكان كے اعتبار سے انواع و اقسام كے وسائل كو فراھم كريں، نيز ان وسائل و سلاح سے بھترين استفادہ كے طور و طريقہ كو بھي حاصل كريں۔

اصل سوم: اغيار سے دوستي و صميميت كا ممنوع ھونا

اغيار سے سياسى رفتار و روابط كے سلسلہ ميں اسلام كي نظر كے مطابق ان سے دوستانہ روابط و صميم قلبي كو منع كيا گيا ھے، عداوت پسند افراد نيز وہ لوگ جو اسلامي مقدسات كي بے حرمتي كرتے ھيں ان سے سخت برتاؤ سے پيش آنا چاھئے۔

( يا ايھا الذين آمنوا لاتتخذوا الذين اتخذوا دينكم ھزوا ولعبا من الذين اوتوا الكتاب من قبلكم و الكفار اولياء واتقوا اللہ ان كنتم مؤمنين و اذا ناديتم الي الصلاة اتخذوھا ھزوا ولعبا ذلك بانھم قوم لا يعقلون) 68

اے ايمان والو! خبر دار اھل كتاب ميں جن لوگوں نے تمھارے دين كو مزاق و تماشا بنا ليا ھے اور ديگر كفار كو بھي اپنا ولي (دوست) و سرپرست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرو، اگر تم واقعي صاحب ايمان ھو اور تم جب نماز كے لئے اذان ديتے ھو تو يہ اس كو مذاق و كھيل بناليتے ھيں اس لئے كہ يہ بالكل بے عقل قوم ھيں۔

ھنر و تمسخر آميز گفتگو و حركات كو كھا جاتا ھے جو كسي چيز كي قدر و قيمت كو كم كرنے كے لئے استعمال ھوتا ھے۔

لعب، وہ افعال جب كے اھداف غلط يا بے ھدف ھوں ان پر اطلاق ھوتا ھے آيت كا مفھوم يہ ھے كہ مومنين كي حيا وغيرت كا تقاضا يہ ھے كہ وہ اسلامي مقدسات و ديني اقدار كو پامال كرنے والوں سے سخت اور تند برتاؤ كريں، اور ان كا يہ برتاؤ ديني تقوے كي ايك جھلك ھے، كيونكہ تقوا صرف فردي مسائل پر منحصر نھيں ھے۔

سورۂ ممتحنہ كي پہلي آيت ميں بھي صريحاً اغيار سے دوستانہ روابط برقرار كرنے كي ممانعت كي گئي ھے۔

( يا ايھا الذين آمنوا لا تتخذوا عدوي و عدوكم اولياء تلقون اليھم بالمودة وقد كفروا بما جاءكم من الحق )

اے ايمان والو خبردار ميرے اور اپنے دشمنوں كو دوست مت بنانا، كہ تم ان كي طرف دوستي كي پيش كش كرو جب كہ انھوں نے اس حق كا انكار كيا ھے، جو تمھارے پاس آچكا ھے۔

اس بنا پر تمام وہ افراد، جو دين اسلام اور اس كي شائستگي كے معتقد نھيں ھيں ان كا شمار اغيار و بيگانے ميں ھوتا ھے، لھذا ان سے دوستي و نشست و برخاست كو منع كيا گيا ھے، قرآن مجيد نے اغيار سے، خصوصاً جو اسلامي مقدسات كي بے حرمتي كرتے ھيں، فكري و ثقافتي قربت كو خسران و نقصان سے تعبير كيا ھے، كيونكہ رفت و آمد و دوستي كے اثرات انسان پر ضرور مرتب ھوتے ھيں اور اسي كے مثل بنا ديتے ھيں۔

( وقد نزّل عليكم في الكتاب ان اذا سمعتم آيات اللہ يكفر بھا و يستھز ٔبھا فلا تقعدوا معھم حتي يخوضوا في حديث غيرہ انكم اذا مثلھم) 69

اور اللہ نے كتاب ميں يہ بات نازل كردي ھے كہ جب آيات الھي كے بارے ميں يہ سنو كہ ان كا انكار اور استھزا ھورھا ھے تو خبردار ان كے ساتھ نشست و برخاست نہ كرو جب تك وہ دوسري باتوں ميں مصروف نہ ھوجائيں ورنہ تم انھيں كے مثل ھوجاؤ گے۔

بيان شدہ اصل سوم كا مفھوم يہ نھيں كہ ديگر مذاھب كے پيروكاروں كے ساتھ مسالمت آميز زندگي كي نفي كي جائے يا ان كے انساني حقوق كو ضائع كيا جائے غير اسلامي حكومتوں سے رابطہ نہ ركھا جائے70

بلكہ اصل سوم كا مفھوم يہ ھے كہ مسلمان دشمن سے دوستانہ وصميمي روابط سے پرھيز كريں اغيار كي اطاعت و اثر پذيري سے دور رھيں، ان كو فكري و سياسى اعتبار سے غير ھي سمجھيں، قرآن اغيار پرستى سے مبارزہ اور برائت كے سلسلہ ميں حضرت ابراھيم عليہ السلام اور آپ كے مقلدين كي سيرت كو بطور نمونہ پيش كر رھا ھے آپ اور آپ كے اصحاب اپني ھي قوم كي بت پرستي كو مشاھدہ كرنے كے بعد، باوجوديكہ ان كے قرابتدار بھي اس ميں شريك تھے ان كے افعال سے برائت كرتے ھيں۔

( قد كانت لكم اسوة حسنۃ في ابراھيم و الذين معہ اذ قالوا لقومھم انّا برآؤا منكم و مما تعبدون من دون اللہ كفرنا بكم و بدا بيننا وبينكم العداوة و البغضاء ابدا حتّي تؤمنوا باللہ وحدہ؛) 71

تمھارے لئے بھترين نمونہ عمل ابراھيم اور ان كے ساتھيوں ميں ھے، جب انھوں نے اپني قوم سے كہديا ھم تم سے اور تمھارے معبودوں سے بيزار ھيں ھم نے تمھارا انكار كرديا ھے اور ھمارے تمھارے درميان بغض اور عداوت بالكل واضح ھے يھاں تك كہ تم خدائے وحدہ لاشريك پر ايمان لے آؤ۔

اصل چھارم: غير حربي اغيار سے صلح آميز روابط ركھنا

اسلام كے سياسى نظريہ و اصول ميں اغيار و بيگانے كي دو قسم ھيں۔

1 ۔ حربى: وہ افراد اور حكومت جو اسلامي حكومت اور نظام سے برسر پيكار ھيں اور مدام سازشيں و خيانتيں كرتے رھتے ھيں۔

2 ۔ غير حربى: وہ كفار جو اپنے دين و مذھب پر عمل كرتے ھوئے اسلامي سر زمين پر اسلامي قانون كے تحت اسلامي حكومت كو جزيہ ديتے ھوئے زندگي گزارتے ھيں، يا وہ ممالك جو اسلامي حكومت سے پيمان صلح يا اس كے مثل عھد و پيمان ركھتے ھيں، اور اس عھد كے پابند بھي ھيں۔اگرچہ دونوں ھي دستہ كا فكري و ثقافتي اعتبار سے اغيار ميں شمار ھوتا ھے اور اصل سوم ميں شموليت ركھتے ھيں ليكن ان سے معاشرتي و سماجي رفتار و سلوك ميں فرق ھونا چاھئے۔

قرآن كريم ان سے رفتار و برتاؤ كي نوعيت كو بيان كر رھا ھے۔

( لا ينھا كم اللہ عن الذين لم يقاتلوكم في الدين ولم يخرجوكم من دياركم ان تبرّوھم و تقسطوا اليھم ان اللہ يحسب المقسطين انما ينھا كم اللہ عن الذين قاتلوكم في الدين و اخرجوكم من دياركم و ظاھرو اعلي اخراجكم ان تولّوھم و من يتولّھم فاولئك ھم الظالمون) 72

خدا تمھيں ان لوگوں كے بارے ميں جنھوں نے تم سے دين كے معاملہ ميں جنگ نھيں كي ھے اور تمھيں وطن سے نھيں نكالا ھے اس بات سے نھيں روكتا ھے كہ تم ان كے ساتھ نيكي اور انصاف كرو كہ خدا انصاف كرنے والوں كو دوست ركھتا ھے وہ تمھيں صرف ان لوگوں سے روكتا ھے جنھوں نے تم سے دين ميں جنگ كي ھے، اور تمھيں وطن سے نكال باھر كيا ھے اور تمھارے نكالنے پر دشمن كي مدد كي ھے كہ ان سے دوستي كرو اور جو ان سے دوستي كرے گا وہ يقيناً ظالم ھوگا۔

آيت مذكورہ سے استفادہ ھوتا ھے كہ وہ افراد يا حكومتيں جو مومنين كے حق ميں ظالمانہ رويہ اپناتي ھيں نيز اسلام اور مسلمانوں كے خلاف نا شائستہ عمل انجام ديتي ھيں اور اسلام كے دشمنوں كي مساعدت كرتي ھيں، اھل اسلام كے وظائف كا تقاضا يہ ھے كہ ان سے سخت و تند رفتار كا مظاھرہ كريں، ان سے ھر قسم كے سماجي و معاشرتي رابطہ كو منقطع كرديں، ليكن وہ افراد جو بے طرف رھے ھيں مسلمانوں كے خلاف سازش ميں ملوث نھيں رھے ھيں ان كے حقوق كي رعايت اور اسلامي حوكمت كي حمايت حاصل ھونا چاھئے، ان پر ظلم و تعدي شديد ممنوع ھے۔

پيامبر عظيم الشان (ص) فرماتے ھيں :

(( من ظلم معاھداً و تخلّف فوق طاقتہ فانا حجيجہ)) 73

جو شخص بھي معاھدہ پر ظلم كرے گا ميں روز قيامت اس سے باز پرس كروں گا۔

معاہد سے مراد وہ يھودي و نصراني ھيں جو جزيہ ديتے ھوئے اسلامي حكومت كے زير سايہ زندگي بسر كرتے ھيں، اسلامي فقہ ميں اغيار سے روابط كے تمام حقوقي جوانب توجّہ كے قابل ھيں، اگر اغيار و بيگانے سياسى و فكري اعتبار سے مسالمت آميز زندگي كي رعايت كريں مسلمانوں كے حقوق كا احترام كريں تو وہ اپنے تمام بنيادي اور جمھوري حقوق سے فيضياب ھوسكتے ھيں كسي كو ان سے مزاحمت كا حق نھيں، ذيل كا واقعہ اسلامي نظام اور حكومت ميں اغيار غير حربي كے بنيادي حقوق كي رعايت كا آشكار نمونہ ھے۔

امير المؤمنين حضرت علي عليہ السلام نے ايك نابينا بوڑھے آدمي كو ديكھا جو گدائي كر رھا تھا جب مولا نے اس كے احوال دريافت كئے تو معلوم ھوا وہ نصراني ھے علي عليہ السلام رنجيدہ خاطر ھوے، فرمايا: وہ تمہارے درميان ميں تھا اس سے كام ليا گيا، ليكن جب وہ بوڑھا ھوگيا تو اس كے حال پر چھوڑ ديا گيا، آپ نے اس كے مخارج بيت المال سے اداء كرنے كا حكم ديا 74

منافقين كا اغيار سے ارتباط اور ان كا طرز عمل

گزشتہ بحث ميں اغيار سے روابط اور اسلام كے كلي و جامع اصول پيش كئے جاچكے ھيں، اب اغيار كے سلسہ ميں منافقين كي روش اور طرز عمل كا مختصر تجزيہ پيش كيا جارھا ھے۔

قرآن كريم سے استفادہ ھوتا ھے كہ منافقين تمام دوستي و محبت اغيار اور بيگانوں پر نچھاور كرتے ھيں، يہ مسلمانوں كے ساتھ شرارت و خباثت سے پيش آتے ھيں، مومنين كو حقارت و ذلت كي نگاہ سے ديكھتے ھيں، تمسخر و نكتہ چيني ان كا مشغلہ ھے ان كي تمام سعي و كوشش اور جد و جھد يہ ھوتي ھے كہ اغيار سے قريب تر ھوجائيں اغيار سے صميميت و اخلاص اور دوستانہ رفتار و گفتار كے حامي ھيں۔

( الم تر الي الذين تولّوا قوما غضب اللہ عليھم ما ھم منكم ولا منھم و يحلفون علي الكذب وھم يعلمون) 75

كيا تم نے ان لوگوں كو نھيں ديكھا ھے جنھوں نے اس قوم سے دوستي كرلي ھے جس پر خدا نے عذاب نازل كيا ھے كہ يہ نہ تم ميں سے ھيں اور نہ ان ميں سے ھيں اور يہ جھوٹي قسميں كھاتے ھيں اور خود بھي اپنے جھوٹ سے باخبر ھيں۔

منافقين كے بيگانوں سے ارتباط كے جلووں ميں سے، مشترك كانفرنس كا انجام دينا، ان سے ھم آواز وھم نشين ھونا ھے، قرآن صريح الفاظ ميں كفار اور الھي دستور و آئين كا استھزا كرنے والوں كے ساتھ ھم نشيني كو منع كرتا ھے۔

( واذا رأيت الذين يخوضون في آياتنا فاعرض عنھم حتي يخوضوا في حديث غيرہ) 76

اور جب تم ديكھو كہ لوگ ھماري آيات كا استھزا و تمسخر كر رھے ھيں تو ان سے كنارہ كش ھوجاؤ يہاں تك كہ وہ دوسري باتوں ميں مصروف ھوجائيں۔

ليكن قرآن كے صريح دستور و حكم كے باوجود منافقين، مخفي طريقہ سے اغيار كے جلسات و نشست ميں شريك ھوا كرتے تھے لھذا سورہ نساء كي آيت نمبر 140 منافقين كو اس رفتار و طرز عمل پر سرزنش و توبيخ كر رھي ھے۔

منافقين كے اجنبي و غير پرستي كے مظاھر ميں سے ايك، ان كے لئے مطيع و فرمان بردار ھونا ھے سورۂ آل عمران كي آيت نمبر 149 منافقين كي اسي روش كو بيان كر رھي ھے اگر تم كفار كے مطيع و دوست ھوگے جيسا كہ بعض منافقين كا يہ طرز عمل ھے تو قديم و جاھلي اطوار كي طرف پلٹا ديئے جاؤ گے،

( يا ايھا الذين آمنوا ان تطيعوا الذين كفروا يردوكم علي اعقابكم) 77

اے ايمان لانے والو اگر تم كفر اختيار كرنے والوں كي اطاعت كرو گے تو يہ تمھيں گزشتہ طرز زندگي و عمل كي طرف پلٹالے جائيں گے۔

دشمنوں كي جماعت ميں مدام مومنين سے عداوت و دشمني ركھنے والے بعض يھودي ھيں خدا نے قرآن مجيد ميں دشمنوں كے عمومي و كلي اوصاف كو بيان كيا ھے ليكن اس عموميت كے باوجود بعض دشمنوں كے اوصاف كے ساتھ ان كے نام كا بھي ذكر كيا ھے كہ جس ميں يھودي سر فھرست ھيں۔

ھم جب عصر پيامبر عظيم الشان كے منافقين كي تاريخ كي تحقيق كرتے ھيں تو منافقين كے روابط كے شواھد يھودي كے تينوں گروہ بني قينقاع، بني نظير، بني قريظہ ميں پائے جاتے ھيں۔

اغيار سے منافقين كے روابط كا فلسفہ

 

وہ اھم نكتہ جس كي اس فصل ميں تحقيق ھوني چاھئے يہ كہ اغيار سے منافقين كے ارتباط كي حكمت كا پس منظر كيا ھے، وہ كن مضمرات كي بنا پر اس سياست كے پجاري ھيں، قرآن مجيد منافقين كے اغيار سے روابط كي ريشہ يابي كرتے ھوئے دو وجہ كو بيان كر رھا ھے :

1 ۔ تحصيل عزت

منافقين اپنے اس رويہ و طرز عمل كے ذريعہ محبوبيت و شھرت، عزت و منصب كے طلب گار ھيں، منافقين اغيار كے زير سايہ خواھشات نفساني كي تكميل كے آرزو مند ھيں، شرك كا آشكار ترين جلوہ، وقار و عزت كو كسب كرنے كے لئے غير (خدا) سے تمسك كرنا ھے۔

( و اتّخذوا من دون اللہ الھۃً ليكونوا لھم عزّا) 78

اور ان لوگوں نے خدا كو چھوڑ كر دوسرے خدا اختيار كر لئے ھيں تاكہ وہ ان كے لئے باعث عزت رھے (كيا خيام خيالي ھے!) ۔

اسي طريقہ سے منافقين جو باطن ميں مشرك ھيں، اغيار سے وابستگي و تعلقات كے ذريعہ عزت و آبرو كسب كرنا چاھتے ھيں۔

( الذين يتّخذون الكافرون اولياء من دون المؤمنين أيبتغون عندھم العزة فان العزّة للہ جميعا) 79

جو لوگ مومنين كو چھوڑ كر كفار كو ولي و سرپرست بناتے ھيں، كيا يہ ان كے پاس عزت تلاش كر رھے ھيں جب كہ ساري عزت صرف اللہ كے لئے ھے۔

خداوند تبارك و تعالي نے عزت كو اپنے لئے مخصوص كر ركھا ھے، پيامبر عظيم المرتبت (ص) اور صاحبان ايمان كي عزت كا سر چشمہ عزت الھي ھے، منافقين عدم ايمان كي بنا پر اس كو درك كرنے سے قاصر ھيں۔

( وللہ العزّة و لرسولہ و للمؤمنين ولكن المنافقين لا يعلمون) 80

ساري عزت اللہ، رسول، اور صاحبان ايمان كے لئے ھي ھے اور منافقين يہ جانتے بھي نھيں ھيں۔

قرآن كريم فقط اللہ تعالي كے وجود اقدس اور جھان كے حقيقي صاحب عزت (محبوب) سے تمسك كو عزت و عظمت كا سر چشمہ جانتا ھے۔

( من كان يريد العزّۃ فللّٰہ العزّۃ جميعا) 81

جو شخص بھي عزت كا طلب گار ھے وہ يہ سمجھ لے كہ عزت سب پروردگار كے لئے ھے۔

اسي ذيل كي آيت ميں پيامبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے نقل كيا گيا ھے كہ تحصيل عزت كا واحد راستہ خدا كي اطاعت و فرمان برداري ھے۔

(( ان اللہ يقول كلّ يوم انا ربّكم العزيز فمن اراد عزّ الدارين فليطع العزيز)) 82

خداوند عالم ھر روز اعلان كرتا ھے كہ ميں تمھارا عزت دار پروردگار ھوں جو شخص بھي آخرت و دنيا كي عزت كا خواھش مند ھے اسے چاھئے كہ حقيقي صاحب عزت كا مطيع و فرمانبردار ھو۔

شايد كوئي فرد خدا كي اطاعت كئے بغير كسي اور طريقہ سے عزت كا حصول كر لے، ليكن يہ عزت وقتي و كھوكھلي ھوتي ھے يھي عزت اس كے لئے ذلت كا سبب بن جاتي ھے۔

مزید  امام خمینی(ره) اور انتخابات کی آزادی

امير المومنين حضرت علي عليہ السلام فرماتے ھيں :

(( من اعتز بغير اللہ اھلكہ العز)) 83

جو شخص غير خدا سے عزت يافتہ ھے وہ عزت اس كو تباہ كردے گي۔

(( العزيز بغير اللہ ذليل)) 84

وہ عزت جو غير خدا كے ذريعہ حاصل ھوتي ھے ذلت ميں تبديل ھوجايا كرتي ھے۔

قرآن كي نظر ميں وہ عزت جو خدا كي طرف سے عطا نہ ھو وہ تار عنكبوت كے مانند ھے جس كا شمار غير مستحكم ترين گھروں ميں ھوتا ھے۔

( مثل الذين اتّخذوا من دون اللہ أولياء كمثل العنكبوت اتّخذت بيتاً و اِنّ اوھن البيوت لبيت العنكبوت لو كانوا يعلمون) 85

اور جن لوگوں نے خدا كو چھوڑ كر دوسرے سرپرست بنالئے ھيں ان كي مثال مكڑي جيسي ھے كہ اس نے گھر تو بنا ليا ليكن سب سے كمزور گھر مكڑي كا ھوتا ھے اگر ان لوگوں كے پاس علم و ادراك ھو (تو سمجھيں) ۔

يہ آيت منافقين كي وضعيت كو سليس و دلربا مفھوم، خوش گفتار تشبيہ، دقيق مثال كے ذريعہ ترسيم كر رھي ھے۔

عنكبوت كے آشيانے بھت ھي نازك تار كے ذريعہ بنے ھوتے ھيں، نہ ديوار ھوتي ھے نہ چھت، دروازے اور صحن كي بات ھي الگ ھے اس كے ميٹيريل اتنے كمزور ھوتے ھيں كہ كسي حادثہ كا مقابلہ كر ھي نھيں سكتے، بارش كے چند قطرےاس كو تباہ و برباد، آگ كے ھلكے شعلے اسے خاكستر، گرد و غبار كے خفيف جھٹكے اس اس كو صفحہ ھستي سے محو كرنے كے لئے كافي ھے كسي بھي مسئلہ ميں غير كدا پر اعتماد و اعتبار خصوصاً عزت و آبرو كسب كرنے كے ليے، يقيناً اسي نوعيت كے ھيں، بي ثبات و ناتواں، ناقابل بھروسہ، حوادث كے مقابلہ ميں غير مستحكم، غير خدا جو بھي اور جيسا بھي ھو عزت وعظمت كا حامل ھے ھي نھيں كہ عزت بخشش و نچھاور كرسكے۔

اگر ھزاروں مكر و فريب كے بعد ظاھري طاقت و قوت حاصل كر بھي لى، اور كسي شخص كو عزت و مقام دے كر قابل عزت بنا بھي ديا تو بھي يہ (عزت) قابل اعتماد نھيں ھوسكتي اس لئے كہ جس وقت بھي ان كے منافع اقتضا كريں گے وہ بے درنگ اپنے صميمي اتحادي گروہ كو ترك كرديں گے اور توانائي و قدرت حاصل ھونے كي صورت ميں وہ تمھيں خاك ذلت پر بيٹھا ديں گے۔

2 ۔ رعب وحشت

منافقين كا اغيار سے پيوستہ دوستانہ روابط كا ھونا، ان سے وحشت زدہ ھونے كي علامت ھے، ان كے خيال خام ميں يہ آئندہ اوضاع و احوال پر مسلّط نہ ھوجائيں، اس لئے ان سے خائف رھتے ھيں، يہ اس بنا پر بيگانوں سے دوستانہ روابط برقرار ركھتے ھيں كہ اگر ايك روز حكومت و طاقت ان كے ھاتھوں ميں آجائے تو اپني عزيز دنيا كو بچا سكيں، زندگي و حيات كا تحفظ كرسكيں، اسلام كے نظريہ كے مطابق وہ فرد جس كي روح و جان گوھر ايمان سے آراستہ ھوچكي ھے وہ صرف اللہ سے خائف رھتا ھے، غير اللہ سے ذرہ برابر بھي وحشت زدہ نھيں ھوتا، اللہ كي سفارش يہ ھے كہ خوف و خشيت اس كے لئے ھو، اور كسي قدرت و طاقت سے خوفزدہ نہ ھوا جائے يہ فقط ايمان ھي كي بنا پر عملي ھوسكتا ھے۔

قرآن مجيد انبياء عليھم السلام كي تعريف ان صفات كے ذريعہ كر رھا ھے :

( الذين يبلّغون رسالات اللہ و يخشونہ ولا يخشون احدا الا اللہ) 86

وہ لوگ جو اللہ كے پيغام كو پہنچاتے ھيں دل ميں اسي كا خوف ركھتے ھيں اور اللہ كے علاوہ كسي سے نھيں ڈرتے۔

پيغمبران الھي اور حقيقي صاحبان ايمان صرف يہي نھيں كہ غير اللہ كي قدرت و طاقت سے ھراساں نھيں ھوتے، بلكہ جس قدر ان كو خوفزدہ اور ھراساں كيا جاتا ھے اسي اعتبار سے ان كا ايمان و اعتماد خدا كي طاقت و قدرت پر زيادہ ھي ھوتا جاتا ھے۔

( الذين قال لھم الناس ان الناس قد جمعوا لكم فاخشوھم فزادھم ايمانا و قالوا حسبنا اللہ ونعم الوكيل) 87

يہ وہ ايمان والے ھيں كہ جب ان سے بعض لوگوں نے كھا كہ لوگوں نے تمھارے لئے عظيم لشكر جمع كرليا ھے لھذا ان سے ڈرو تو ان كے ايمان ميں اور اضافہ ھوگيا۔ اور انھوں نے كھا كہ ھمارے لئے خدا كافي ھے اور وھي ھمارا ذمہ دار ھے۔

مذكورہ آيت ميں زيادي ايمان اور خدا پر توكل، نيز خوف الھي اور دلوں ميں اس كي عظمت ايك فطري امر ھے۔

افراد جس قدر خدا كي عظمت، قدرت، شوكت، كو زيادہ سے زيادہ درك كريں اور خالص وحدانيت سے نزديك تر ھوں، تمام قدرت و اقتدار ان كي نظروں ميں پست سے پست نظر آئيں گے۔

امير المومنين حضرت علي عليہ السلام متقين كے صفات كے سلسلہ ميں فرماتے ھيں :

(( عظم الخائق في انفسھم فصغر ما دونہ في اعينھم)) 88

خالق ان كي نگاہ ميں اس قدر عظيم ھے كہ ساري دنيا نگاھوں سے گر گئي ھے۔

اگر انسان خدا سے ويسے ھي خائف رھے جيسا كہ خائف ھونے كا حق ھے اور محبت خدا سے اس كا قلب لبريز ھو تو سب كے سب اس كي عظمت كے معترف اور محبت كے قائل ھوجائيں گے ليكن اگر حريم پروردگار كہ جس كے لئے شائستہ و سزاوار ھے، رعايت نہ كى، تو ھر شي سے وہ خوف زدہ و مقھور رھتا ھے، مجاھدين راہ حقيقت و ھدايت كي صلابت و استقامت نيز راہ حق و ھدايت سے منحرفين كي دائمي تشويش اور اضطراب كا راز يہي ھے۔

حضرت امام صادق عليہ السلام فرماتے ھيں :

(( من خاف اللہ اخاف اللہ منہ كل شيء ومن لم يخف اللہ اخافہ اللہ من كل شيء))89

جو خدا سے خائف ھوتا ھے خدا ھر شي سے اس كے خوف كو ختم كر ديتا ھے اور جو خدا سے خائف نھيں ھوتا خدا اس كو ھر شي سے مرعوب كر ديتا ھے۔

وہ منافقين جو ادنيٰ درجہ كے ايمان سے خالي ھيں اور توحيد كے معاني درك كرنے سے قاصر، مادہ پرست طاقتوں كي وحشت و ھيبت اس قدر ان كے افكار پر طاري ھے كہ ان سے ايجاد روابط كے لئے كوشاں ھيں كہ آئندہ كھيں يہ تسلط پيدا نہ كرليں۔

( فتري الذين في قلوبھم مرض يسارعون فيھم يقولون نخشي ان تصيبنا دائرة فعصي اللہ ان يأتي بالفتح أو أمر من عندہ فيصبحوا علي ما اسروا في انفسھم نادمين) 90

پيامبر!آپ ديكھيں گے كہ جن كے دلوں ميں نفاق كي بيماري ھے وہ دوڑ دوڑ كر ان كي طرف (يھود و نصاريٰ) جا رھے ھيں اور يہ عذر بيان كرتے ھيں كہ ھميں گردش زمانہ كا خوف ھے پس عنقريب خدا اپني طرف سے فتح يا كوئي دوسرا امر لے آئے گا تو اپنے دل كے چھپائے ھوئے راز پر پشيمان ھوجائيں گے۔

بيگانوں و اغيار سے منافقين كے ايجاد روابط كا فلسفہ يہ ھے كہ اگر آئندہ اغيار مسلمانوں پر غالب ھوجائيں تو اپنے مخفي ارتباط كے صلہ ميں حيات اور اموال كا تحفظ كرسكيں، قرآن مجيد منافقين كے اس طرز فكر و منطق كا جواب مذكورہ آيت سے دے رھا ھے، قضيہ كے اس پھلو كي طرف بھي توجہ كرني چاھئے كہ اگر مسلمانوں كو فتح و كامراني ملي تو يہ صاحب قدرت و سطوت ھوں گے اس صورت ميں تمھارا كيا حال ھوگا؟ يقيناً اھل اسلام فاتح و كامياب ھوں گے اور تم (منافقين) اپني زشت حركات اور غلط افعال كي وجہ سے پشيمان و شرمندہ ھوگے۔

ولايت ستيزى

ولايت اور اسلام ميں ولايت پذيرى

منافقين كي سياسى رفتار و كردار كي دوسري خصوصيت و صفت، ولايت ستيزى ھے اس بحث كي تحقيق سے قبل، مقدمہ كے عنوان سے بہ طور اختصار، اسلام كي نگاہ ميں ولايت پذيرى اور ولايت كي منزلت و مقام كے سلسلہ ميں كچھ باتيں عرض كرنا ضروري ھے تاكہ منافقين كي ولايت ستيزى نيز رفتار و سياست كو قرآني شواھد كي روشني ميں تحقيق كي جاسكے۔

اسلام كي نگاہ ميں ولايت اور ولايت پذيرى، اصول اعتقادي و عملي دونوں ھي سے مرتبط ھے، اصول اعتقادي كي بنياد پر نبوت و امامت كا تعلق عقائد اور اصول دين سے ھے، اصول عملي كي بنياد پر ولي كي اطاعت كا واجب ھونا اثبات ولايت كا لازمہ ھے، يعني ولي كي اطاعت اور اس كے دستور و حكم كو قبول كرنا اسي وقت ھوگا جب اسے ھم اپنے اوپر حاكم قرار ديں۔

حضرت امام محمد باقر عليہ السلام ايك حديث ميں اسلام كے عملي عمود و ستون كا ذكر كرتے ھوئے ولايت كو اھم ترين ستون قرار ديتے ھيں۔

(( بني الاسلام علي خمس علي الصلوة و الزكاة و الصوم و الحج و الولايۃ ولم يناد بشيء ما نودي بالولايۃ)) 91

اسلام كي بنا پانچ (عملي ستون) پر واقع ھے نماز، زكاة، روزہ، حج، ولايت، كسي بھي موارد كى، ولايت كے مثل سفارش نھيں كي گئي ھے۔

قرآن كريم اور روايات ميں تولّا اور ولايت پذيرى، محبت اور قلبي لگاؤ كے مرتبے سے كھيں زيادہ بلند و بالا ھے، اسلام ميں مسئلہ ولايت كا پايا جانا، اسلام كے سياسى نظريہ كے اھم ترين مباني ميں سے ھے، ولايت، نظام اسلامي كے فقرات كے مثل ھے۔

اگر چہ قرآن ميں رسول اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم و حضرت علي عليہ السلام كي ولايت كي گفتگو ھے، ليكن يہ ولايت حاكميت كے معنا ميں ھے، ولايت پذيرى، يعني ولايت كے دستور و احكام كي عملي اطاعت اگر چہ اھل بيت اطھار عليہم السلام كي محبت و مودت كا ديني اقدار كي بنا پر ايك الگ ھي مقام ھے۔

( النبي اولٰي بالمؤمنين من انفسھم) 92

بے شك نبي (ص) تمام مومنين سے ان كے نفس كي بہ نسبت زيادہ اولي ھے۔

( انما وليكم اللہ ورسولہ و الذين آمنوا الذين يقيمون الصلاۃ و يؤتون الزكاۃ وھم راكعون)93

ايمان والو! پس تمھارا ولي اللہ ھے اور اس كا رسول اور وہ صاحبان ايمان جو نماز قائم كرتے ھيں اور حالت ركوع ميں زكٰوة ديتے ھيں۔

نبوت و امامت كا لازمہ حاكميت و ولايت كا وجود ھے، ان لوگوں كي ولايت كي مشروعيت (جواز) كا منشا وھي ھے جس نے ان كو رسالت اور امامت عطا كي ھے۔

( وما ارسلنا من رسول الا ليطاع باذن اللہ ) 94

اور ھم نے كسي رسول كو نھيں بھيجا ھے مگر صرف اس لئے كہ حكم خدا سے اس كي اطاعت كي جائے۔

ولايت پذيرى، كمال مطلق سے عشق و محبت كا جلوہ ھے اور الھي حاكميت كو قبول كرنے كا لازمہ ھے۔

وہ شخص جس كے وجود ميں توحيد خالص نيز كمال حقيقي كي محبت كي جڑيں مضبوط ھوں گي اور وہ محبوب الھي كا اشتياق مند ھوگا يقيناً وہ ولايت پذير ھوگا۔

( قل ان كنتم تحبون اللہ فاتبعوني يحببكم اللہ) 95

اي پيامبر! كہہ ديجئے كے اگر تم لوگ اللہ سے محبت كرتے ھو تو ميري پيروي كرو خدا بھي تم سے محبت كرے گا۔

اس اعتبار سے مومنين، حقيقي ولايت كو قبول كرنے والے ھيں قرآن كے صريح دستورات كي پيروي كرتے ھوئے خداوند عالم كي طرف سے نصب شدہ ولي كو قبول كرنا مومنين كے صفات ميں سے ھے،

( انما كان قول المؤمنين اذا دعوا الي اللہ و رسولہ ليحكم بينھم ان يقولوا سمعنا و اطعنا و اولئك ھم المفلحون) 96

مومنين كو تو خدا و رسول كي طرف بلايا جاتا ھے كہ وہ فيصلہ كريں تو ان كا قول صرف يہ ھوتا ھے كہ ھم نے سنا اور اطاعت كى، اور يھي لوگ در حقيقت فلاح پانے والے ھيں۔

قرآن كي روشني ميں سعادت كا يك و تنھا راستہ يھي ھے، اوليا حق كي محبت كے راستہ سے خارج ھونا باطل اور طاغوت كي آغوش ميں گر پڑنا ھے، اس لئے كہ حق كے بعد باطل كے علاوہ كچھ بھي نھيں 97

( و من يطع اللہ و رسولہ و يخش اللہ و يتقہ فاولئك ھم الفائزون) 98

اور جو بھي اللہ و رسول كي اطاعت كرے گا اور اس كے دل ميں خوف خدا ھوگا اور وہ پرھيز گاري اختيار كرے گا تو وھي كامياب كھا جائے گا۔

پيامبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم و ائمہ اطھار عليھم السلام كے بلند پايہ اور ممتاز اصحاب، ولايت پرستي كے بلند مقام پر فائز تھے اور اس پر افتخار كيا كرتے تھے، عبد اللہ بن ابي يعفور اس گروہ ميں سے ھيں وہ مفسر قرآن تھے اور كوفہ ميں درس تفسير ديا كرتے تھے، حضرت امام صادق عليہ السلام آپ سے بے حد محبت و احترام كرتے تھے، امام صادق عليہ السلام ان كے بارے ميں فرماتے ھيں :

(( ما وجدت احدا يقبل وصيتي ويطيع امري الا عبد اللہ بن ابي يعفور)) 99

كسي كو عبداللہ بن ابي يعفور جيسا نھيں پايا وہ ميرے دستورات و نصائح كو قبول كرتے ھيں اور ميرے حكم كے فرمان بردار ھيں۔

بغير قيد و شرط كے ولايت پذيرى ان كي ممتاز خصوصيت تھى، ايك دن امام صادق عليہ السلام سے عرض كيا: اگر آپ ايك انار دو حصے ميں تقسيم كريں، اس كے ايك حصے كو حلال دوسرے حصے كو حرام بتائيں، آپ كے حلال بتائے ھوئے حصے كو حلال اور حرام حصے كو حرام سمجھوں گا۔

حضرت امام صادق عليہ السلام نے ان كي اس ارادت و اطاعت كو ديكھتے ھوئے فرمايا: ((رحمك اللہ)) خدا تم كو مشمول رحمت قرار دے۔

ولايت كے مسئلہ ميں منافقين كي روش

قرآن كريم سے استفادہ ھوتا ھے كہ عميق و خالص نفاق كي علامت، عدم قبوليت ولايت اور ولايت ستيزى ھے۔

( و يقولون آمنّا باللہ و بالرسول و اطعنا ثم يتولّيٰ فريق منھم من بعد ذالك وما اولئك بالمؤمنين و اذا دعوا الي اللہ و رسولہ ليحكم بينھم اذا فريق منھم معرضون) 100

اور يہ لوگ كھتے ھيں كہ ھم اللہ اور اس كے رسول پر ايمان لے آئے ھيں، اور ان كي اطاعت كي ھے، اور اس كے بعد ان ميں سے ايك فريق منھ پھير ليتا ھے، يہ واقعاً صاحبان ايمان نھيں ھيں، اور جب انھيں خدا و رسول كي طرف بلايا جاتا ھے كہ وہ ان كے درميان فيصلہ كريں تو ان ميں سے ايك فريق كنارہ كش ھوجاتا ھے۔

مذكورہ آيت كے شان نزول كے سلسلہ ميں بيان كيا جاتا ھے كہ امير المومنين حضرت علي عليہ السلام اور ايك فرد كے درميان جس نے آپ سے زمين خريدي تھي اختلاف در پيش ھوا وہ مرد اس پتھر كي بنا پر جو زمين ميں تھے معيوب قرار دے رھا تھا اور معاملہ كو فسخ كرنا چاھتا تھا امام علي عليہ السلام نے قضاوت كے لئے رسول اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي پيش كش كى، ليكن حكم بن ابي العاص جس كا شمار منافقوں ميں ھوتا تھااس نے خريدار كو ور غلايا كہ اگر رسول اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے پاس جاؤ گے تو وہ حضرت علي عليہ السلام كے فائدہ ميں فيصلہ كريں گے كيونكہ علي عليہ السلام ان كے چچا زاد بھائي ھيں۔

يہ آيت اسي مناسبت سے نازل ھوئي اور حكم بن ابي العاص كي شدّت سے سرزنش كي اور اس بات كا اضافہ بھي كيا كہ، اگر حق ان كے ساتھ ھو اور فيصلہ ان كے حق ميں ھوتا ھے تو وہ دست بستہ رسول صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي خدمت ميں حاضر ھوتے ھيں ليكن اب جب كہ وہ جانتے ھيں كہ حق ان لوگوں كے ساتھ نھيں تو پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي قضاوت سے منھ موڑ ليتے ھيں101

منافقين، حق كي حكومت اور اسلامي نظام كي حاكميت كے دشمن ھونے كي بنا پر طاغوت كے قبضہ و دبدبہ كو وجود بخشنے كي فكر ميں رھتے ھيں، ھميشہ اسلامي نظام كے اھم ترين ركن، ولايت سے برسر پيكار رھے ھيں، مختلف اطوار سے اپنے اس كينہ و عداوت كو بروئے كار لاتے ھيں۔حقيقي ولايت پرستى، اور ولايت پرست ھونے كا نعرہ بلند كرنے ميں زمين و آسمان كا فرق ھے، منافقين نہ صرف يہ كہ زبان سے ولايت كو قبول نہ كرنے كا اظھار نھيں كرتے بلكہ ولايت پذيرى كے نعروں كے ذريعہ اپنے كو سب سے زيادہ ولايتي فرد بتاتے ھيں، ليكن پس پردہ ولايت ستيزى و ولايت كے خلاف عملي اقدام كي فكر و ذكر ميں مشغول رھتے ھيں۔

ولايت ستيزى كے عملي مناظر

جس طريقہ سے صاحبان ايمان كي ولايت پرستي اور ولايت پذيرى كے خاص عملي جلوے نظر آتے ھيں، منافقين كي بھي ولايت ستيزى كي جلوہ افروزي كم نھيں، ان جلوے اور مناظر كے ذريعہ، تحريك نفاق كي شناخت بخير و خوبي كي جاسكتي ھے قرآن مجيد منافقين كي ولايت سے برسر پيكار عملي جلوے و مناظر كے چند نمونے پيش كر رھا ھے۔

1 ۔ ديني حكومت و حاكميت كو قبول نہ كرنا

منافقين كي ولايت ستيزى كا ايك عملي نمونہ ان كا ديني حكومت و اسلامي نظام كي حاكميت كو قبول كرنے سے انكار كرنا ھے، اسلام كے سياسى نظريہ ميں ولايت، اسلامي نظام كا اھم ترين، ركن ھے بغير ولايت كے حكومت كا نظام ايك طاغوتي نظام ھے۔

قرآن كريم كے پيش نظر ايمان كا معيار و پيمانہ ولايت كے دستور و احكام كو از حيث قلب و عمل قبول و تسليم كرنا ھے۔

( فلا و ربّك لا يؤمنون حتي يحكّموك فيما شجر بينھم ثم لا يجدوا في انفسھم حرجا مما قضيت و يسلّموا تسليما) 102

پس آپ كے پروردگار كي قسم يہ ھرگز صاحبان ايمان نہ بن سكيں گے جب تك آپ كو اپنے اختلافات ميں حكم نہ بنائيں اور پھر جب آپ فيصلہ كرديں تو اپنے دل ميں كسي طرح كي تنگي كا احساس نہ كريں، اور آپ كے فيصلہ كے سامنے سراپا تسليم ھوجائيں۔

روايات ميں بھي اس نكتہ كي تصريح كي گئي ھے، اس عصر و زمان ميں جب كہ اسلامي نظام و حكومت قائم نھيں ھے، اھل بيت اطھار عليھم السلام كے افكار كے مقلدين كو طاغوت كي حاكميت قبول نھيں كرنا چاھئے، اس حالت ميں اسلامي نظام كي حاكميت كے عصر ميں ان كا وظيفہ بالكل عياں و آشكار ھے، حضرت امام صادق عليہ السلام فرماتے ھيں :

(( من تحاكم اليھم في حق او باطل فانما تحاكم الي الطاغوت وما يحكم لہ فانما ياخذ سحتا وان كان حقہ ثابتا لانہ اخذہ بحكم الطاغوت و قد امر اللہ ان يكفر بہ)) 103

كسي شخص كا اپنے اس حق كے لئے جو ضائع ھوگيا ھے يا باطل دعويٰ كے سلسلہ ميں ان (اھل باطل و ظالم) كے پاس جانا يعني محاكمہ كے لئے طاغوت كے پاس جانے كے مترادف ھے، اور جو كچھ ان كي حكميت كے ذريعہ حاصل كيا ھے وہ حرام ھے چاھے اس كا حق ھي كيوں نہ ھو اس لئے كہ اپنے حق كو طاغوت كے ذريعہ حاصل كيا ھے، حالانكہ خداوند عالم نے حكم ديا ھے كہ طاغوت كا انكار كريں۔

نفاق كي اھم خصوصيت، ديني حكومت كا انكار اور اغيار كي حكومت و حاكميت كا اقرار كيا ھے، منافقين پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور دين و مذھب كي حاكميت كو قبول نھيں كرتے ھيں، ليكن طاغوت كي حاكميت كو دل و جان سے تسليم كرتے ھيں۔

( الم تر الذين يزعمون انھم آمنوا بما انزل اليك وما انزل من قبلك يريدون ان يتحاكموا الي الطّاغوت و قد أمروا ان يكفروا بہ) 104

كيا آپ نے ان لوگوں كو نھيں ديكھا جن كا خيال يہ ھے كہ وہ آپ پر اور آپ كے پھلے نازل ھونے والي چيزوں پر ايمان لے آئيں ھيں اور پھر يہ چاھتے ھيں كہ سركش لوگوں كے پاس فيصلہ كرائيں جب كہ انھيں حكم ديا گيا ھے كہ طاغوت كا انكار كريں۔

تفاسير كي كتب ميں آيا ھے كہ ايك منافق كا يھودي فرد سے اختلاف ھوگيا يھودي شخص نے اس منافق كو پيامبر عظيم الشان (ص) كي قضاوت قبول كرنے كي عدوت دى، كھا تمھارے پيامبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم جو حكم بھي كريں گے اس كو قبول كرلوں گا، ليكن اس منافق نے رسول اعظم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي حكميت كو قبول كرنے سے انكار كرديا اور اسے كعب بن اشرف يھودي كي حكميت كي دعوت دى، مذكورہ آيت منافقت كي غلط سياست و رفتار كي سرزنش كے سلسلہ ميں نازل ھوئي ھے105

منافقين ھميشہ پيامبر عظيم الشان كے دستورات و احكام سے مقابلہ اور صف آرائي ميں مشغول رھتے تھے، نہ خود ھي حق و حقيقت كي اطاعت كرتے تھے اور نہ ھي دوسروں كو اس كي اجازت ديتے تھے۔

( اذا قيل لھم تعالوا الي ما انزل اللہ و الي الرسول رأيت المنافقين يصدون عنك صدودا)106

اور جب ان سے كھا جاتا ھے كہ حكم خدا اور اس كے رسول صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي طرف آؤ تو آپ منافقين كو ديكھيں گے كہ وہ شدت سے انكار كرتے ھيں۔

منافقين نہ صرف يہ كہ دين كي حاكميت كو قبول نھيں كرتے اور خود كو اس كے حوالہ نھيں كرتے، بلكہ مدام اسلامي نظام كي حاكميت اور دين و مذھب كي قدرت كي تضعيف و تحقير ميں مشغول رھتے ھيں۔

پيامبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي حاكميت كو ضعيف و كمزور كرنے كے لئے منافقين كے طريقۂ كار ميں سے ايك، اقتصادي ناكہ بندي اور مشكلات كي ايجاد، كا حربہ تھا جس كا استعمال ھميشہ دشمنوں نے كيا ھے اور آج بھي اسلامي نظام كي تضعيف كے لئے اس حربہ سے استفادہ ھورھا ھے۔

( ھم الذين يقولون لا تنفقوا علي من عند رسول اللہ حتي ينفضوا) 107

يھي وہ لوگ ھيں جو كھتے ھيں كہ رسول اللہ كے ساتھيوں پر كچھ خرچ نہ كرو تاكہ يہ لوگ منتشر ھوجائيں۔

پيامبر رحمت (ص) كے سلسلہ ميں عبد اللہ ابن ابي كي سازش يہ تھي كہ ھر قسم كا معاملہ اور خريد و فروخت، مھاجرين اور رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے شيدائي افراد سے ممنوع قرار ديا جائے تاكہ اقتصادي و معاشي كي بنا پر رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے شيدائي ان كے اطراف سے منتشر ھوجائيں۔

بالكل وھي پاليسي جو مشركين قريش نے مكہ ميں رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے ساتھ انجام دي تھى، قريش كے سر كردہ افراد نے ايك پيمان كو ترتيب ديا اور دستخط كے بعد خانۂ كعبہ كي ديوار پر آويزاں كرديا، اس عھد و پيمان كي بنا پر ھر قسم كے اقتصادي معاشرتي روابط مسلمانوں سے ممنوع تھے، كسي كو بھي حق نہ تھا كہ بني ھاشم، پيامبر، اور ان كے اصحاب سے رشتہ داري كے روابط برقرار كرے، نيز بني ھاشم سے ھر قسم كي دفاعي قرار داد كا انعقاد بھي ممنوع كرديا گيا تھا۔

اس سازش كو عملي جامہ پھنايا گيا ليكن وہ تمام صعوبت اور رنج و تكليف جو اس قرار اور پيمان كي بنا پر مسلمان شكار ھوئے، اھل اسلام كي استقامت و صبر كي بنا پر مشركين كے سارے پروگرام نقش بر آب ھوگئے، اور اسلام كي طاقت و اقتدار ميں اضافہ ھوتا رھا۔

تعجب آور ھے كہ رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے بعد يہي پروگرام آپ كے وصي و جانشين اور خليفہ برحق حضرت علي عليہ السلام پر جاري كيا گيا، حضرت زھرا سلام اللہ عليھا سے فدك غصب كرليا گيا تاكہ حضرت علي عليہ السلام كي اقتصادي در آمد كے وسيلہ كو ختم كرديا جائے۔

2 ۔ ولايت كے دستورات و احكام كي عملي مخالفت

منافقين كي ولايت كي عدم قبوليت كا ايك اور نمونہ، ولي كے فرامين كي عملي مخالفت ھے، سورہ نور كي آيت نمبر اكاون جو اس سے قبل پيش كي گئي ھے، ولايت كے اوامر كي سماعت اور اس كي اتباع، حقيقي صاحبان ايمان كے اوصاف و صفات ميں شمار كيا گيا ھے، ليكن منافق دين كي حكميت كو قبول نھيں كرتے ھيں، ظاھر ميں پيروي كا ادعا كرتے ھيں، مگر اعمال ميں ولي كے فرمان كي مخالفت كرتے ھيں۔

( ويقولون طاعۃ فاذا برزوا من عندك بيت طائفۃ منھم غير الذي تقول) 108

اور يہ لوگ پھلے اطاعت كي بات كرتے ھيں، پھر جب آپ كے پاس سے باھر بكلتے ھيں تو پھر ايك گروہ اپنے قول كے خلاف تدبيريں كرتا ھے۔

قرآن كريم نے ايمان اور نفاق كو جانچنے اور پركھنے كے لئے معاشرتي و سياسى ميدان ميں حضور كو، معيار و محك قرار ديا ھے، صرف پيامبر گرامي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي اجازت سے اس ميدان كو ترك كيا جاسكتا ھے۔

( انما المؤمنون الذين آمنوا باللہ و رسولہ و اذا كانوا معہ علي امر جامع لم يذھبوا حتي يستأذنوہ ان الذين يستأذنونك اولئك الذين يؤمنون باللہ ورسولہ) 109

مومنين صرف وہ افراد ھيں جو خدا اور رسول پر ايمان ركھتے ھوں اور جب اجتماعي كام ميں مصروف ھوں تو اس وقت تك كھيں نہ جائيں جب تك اجازت حاصل نہ ھوجائے، بے شك جو لوگ آپ سے اجازت حاصل كرتے ھيں وھي اللہ و رسول پر ايمان ركھتے ھيں۔

مذكورہ آيت كے مصاديق ميں سے ايك غسيل الملائہ (ملائكہ كے ذريعہ غسل دئے ھوئے) حنظلہ ھيں جناب حنظلہ كي شادي ھي كي شب، مسلمان احد كے لئے حركت كر رھے تھے، جناب حنظلہ نے رسول گرامي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے اجازت چاھي كہ ايك شب شريك حيات كے پاس گزار كر صبح كو احد ميں حاضر ھوجائيں گے، آپ نے اجازت بھي فرمادي جناب حنظلہ دوسرے روز احد پھونچ كر جنگ كے لئے آمادہ ھوئے اور اسي جنگ ميں درجۂ شھادت پر فائز بھي ھوئے، پيامبر گرامي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے شھادت كے بعد فرمايا: حنظلہ كو ملائكہ غسل دے رھے تھے۔

جناب حنظلہ كے عمل كے نقطۂ مقابل، جنگ خندق ميں منافقين كي حركت ھے، رسول اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اس جنگ ميں خندق بنانے كے لئے، دس دس افراد كا دستہ بنا كر ايك ايك حصہ ان كے حوالہ كرديا تھا جس وقت منافقين مسلمانوں كي چشم سے پوشيدہ ھوتے تو فريضہ سے سر ييچي كرتے اور جب مسلمان كي آھٹ پاتے تو مشغول ھوجاتے ذيل كي آيت منافقين كے زشت فعل كو بيان كررھي ھے۔

( قد يعلم اللہ الذين يتسلّلون منكم ولو اذاً فليحذر الذين يخالفون عن امرہ ان تصيبھم فتنہ او يصيبھم عذاب اليم ) 110

اللہ ان لوگوں كو خوب جانتا ھے جو تم ميں سے خاموشي سے الگ ھوجاتے ھيں لھذا جو لوگ حكم خدا كي مخالفت كرتے ھيں وہ اس امر سے ڈريں كھيں ان تك كوئي فتنہ پھونچ جائے يا كوئي درد ناك عذاب نازل ھوجائے۔

دوسري آيت جو منافقين كى، دستورات پيامبر (ص) سے عملي مخالفت كو بيان كر رھي ھے، سورہ توبہ كي آيت نمبر اكاسي ھے، خداوند عالم اس آيت اور بعد والي آيت ميں منافقين كے عمل كي شدت سے سرزنش و توبيخ كرتے ھوئے سخت عذاب كا وعدہ دے رھا ھے۔

( فرح المخلّفون بمقعدھم خلاف رسول اللہ و كرھوا أن يجاھدوا باموالھم وأنفسھم في سبيل اللہ وقالوا لا تنفروا في الحرّ قل نار جھنّم اشدّ حرّا لو كانوا يفقھون فليضحكوا قليلا و ليبكوا كثيرا جزاء بما كانوا يكسبون) 111

جو لوگ جنگ تبوك ميں نھيں گئے وہ رسول اللہ كے پيچھے بيٹھے رہ جانے پر خوشحال ھيں اور انھيں اپنے جان و مال سے راہ خدا ميں جھاد ناگوار معلوم ھوتا ھے اور يہ كھتے ھيں كہ تم لوگ گرمي ميں نہ نكلو تو اے پيامبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم! آپ كہہ ديجئے كہ آتش جھنم اس سے زيادہ گرم ھے اگر يہ لوگ كچھ سمجھنے والے ھيں اب يہ لوگ ھنسيں كم اور روئيں زيادہ كہ يہي ان كے كئے كي جزا ھے۔

جيسا كہ آيت كے لحن و طرز سے ظاھر ھے منافقين رسول اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے ساتھ جنگوں ميں شريك نھيں ھوتے تھے اور وہ اپنے اس زشت عمل سے نادم و پشيمان ھونے كے بجائے اس خلاف ورزي سے خوش حال اور مسرور بھي رھتے تھے، وہ صرف يھي نھيں كہ خود ميدان جنگ ميں شريك نہ ھوتے بلكہ اپني مغرضا نہ و معاندانہ تبليغ سے جھاد پر جانے والوں كو روكتے بھي تھے۔

3 ۔ ولايت كي حريم كو پامال كرنا

ولايت ستيزى كے زمرہ ميں منافقين كا ايك اور عملي شاھكار، حريم ولايت كي حرمت كو پامال كرنا ھے۔

قرآن مجيد نے ولايت كي حريم كو معين كر ديا ھے اور اس حريم كا تحفظ و احترام، اھل اسلام كا وظيفہ ھے، پھلي حريم يہ ھے كہ جب صاحب ولايت كي طرف سے كوئي حكم صادر ھو، بغير كسي چون و چرا كے اطاعت كي جائے اگر ولي يعني صاحب ولايت كي اطاعت نہ ھو تو اسلامي نظام كھيں كا نھيں رھے گا۔

( وما كان لمؤمن ولا مؤمنۃ اذا قضي اللہ و رسولہ امرا ان يكون لھم الخيرة من امرھم ومن يعص اللہ و رسولہ فقد ضلّ ضلالا مبينا) 112

اور كسي مومن مرد يا عورت كو اختيار نھيں ھے كہ جب خدا و رسول كسي امر كے بارے ميں فيصلہ كرديں تو وہ بھي اپنے امر كے بارے ميں صاحب اختيار بن جائے اور جو بھي خدا و رسول كي نافرماني كرے گا وہ بڑي كھلي ھوئي گمراہي ميں مبتلا ھوگا۔

صاحب ولايت كي طرف سے فرمان و حكم جاري ھوجانے كے بعد اظھار نظر، ذاتي سليقہ و روش، اشكال تراشي كي كوئي گنجائش نھيں منافقين صاحب ولايت كے فرامين كي مخالفت و رو گرداني سے ولايت كي حريم كو پامال كرنا چاھتے ھيں اور اپنے اس فعل كے ذريعہ دوسروں كو بھي نافرماني كي تشويق دلاتے ھيں۔

سورہ توبہ كي آيت نمبر اكاسي ميں پيامبر عظيم الشان (ع) كے فرمان كى، مخالفين كے ذريعہ رو گرداني و مخالفت، نيز ان كي خوشحالي و رضايت كا ذكر، صراحتاً ھوچكا ھے، البتہ فرامين كا بغير چون و چرا اجرا كرنے كا مطلب، مشورت و نصيحت نيز ياد دھاني كے متعارض نھيں ھے۔

جب تك منصب ولايت كي طرف سے كوئي حكم و دستور كا صدور نہ ھوا ھو، نہ صرف يہ كہ افراد نصيحت و مشورہ كا جواز ركھتے ھيں بلكہ “النصيحۃ لائمۃ المسلمين” كي بنا پر اپنے نظريات و خيالات كا صاحب ولايت كے محضر ميں بيان كرنا واجب ھے ليكن جب ولي نے كسي امر كي تصميم گيري كر لي ھے تو سب كا وظيفہ اطاعت و فرماں برداري ھے، حتي وہ افراد بھي جو مشورت كے مرحلے ميں اس تصميم و عمل كے مخالف نظر تھے يعني كوئي بھي فرد، مخالف نظر، كا عذر پيش كرتے ھوئے اطاعت سے رو گرداني نھيں كرسكتا ھے۔

ابن عباس، امير المومنين حضرت علي عليہ السلام كو مشورے ديتے ھيں كہ آپ معاويہ كو شام ميں رھنے ديں اور بصرہ و كوفہ كي امارت طلحہ و زبير كے سپرد كرديں حالات آرام ھوجانے كے بعد ان كو معزول كرديں، امام علي عليہ السلام نے ابن عباس كا مشورہ رد كرتے ھوئے فرمايا :

(( لا افسد ديني بدنيا غيري لك ان تشير علي و اريٰ فان عصيتك فأطعني)) 113

ميں اپنے دين كو دوسروں كي دنيا كے لئے تباہ و برباد نھيں كرسكتا، تمھيں مجھے مشورہ دينے كا حق حاصل ھے، اس كے بعد راي ميري ھے، لھذا اگر ميں تمھارے خلاف راي قائم كرلوں تو تمھارا فريضہ ھے كہ ميري اطاعت كرو۔

بھت زيادہ روايات، اسلامي معاشرے كے قائدين كي نصيحت و خير خواھي كے سلسلہ ميں آئي ھيں، نصيحت و خير خواھي ايك قيمتي شيء اور لوگوں كے لئے ايك فريضہ ھے حضرت امام علي عليہ السلام اشخاص پر رھبر و رھنما كے حقوق ميں ايك نصيحت و رھنمائي كو سمجھتے ھيں۔

(( و امام حقي عليكم…… النصيحۃ في المشھد والمغيب)) 114

ميرا حق تم پر يہ ھے كہ باطن و ظاھر ميں نصيحت و خير خواھي كو ھاتھ سے نہ جانے دو۔

اسي طريقہ سے حضرت علي عليہ السلام نے پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور اپنے نيك و ممتاز اصحاب كي تجليل و تكريم كے بعد، ان سے چاھتے ھيں كہ خالصانہ نصيحت سے ان كي مساعدت كريں۔

((…… فاعينوني بمنا صحۃ خليلۃ من الغش سليمۃ من الريب)) 115

مجھے خالصانہ و ھر قسم كے شك و ترديد سے جدا، نصيحت سے ميري مدد و نصرت كرو۔

نصيحت و خير خواھي سب كے لئے، خصوصاً معاشرہ كے افراد كي نصيحت اسلامي نظام كے رھبر كے لئے، ايك قيمتي شي اور فريضہ ھے، اس شرط كے ساتھ كہ واقعي مصداق نصيحت ھو، اس لئے كہ كينہ پروري كي بنا پر عيب كي تلاش، در حقيقت نصيحت نھيں ھے، معركہ آرائى، بے مورد اتھام، ايك طرفہ و شتاب زدہ فيصلہ وغيرہ نصايح نھيں ھيں۔

اس نكتہ كي طرف بھي توجہ مركوز ھوني چاھئے كہ، ولائي اوامر، ميں خواہ ولائي معصوم (ع) ، خواہ ولائي ولي فقيہ، ميں مطيع فرماں بردار ھونا چاھئے اور يہ وہ نكتہ ھے جسے قرآن كريم نے بھي بيان كيا ھے، اور علم فقہ ميں بھي (حاكم كے حكم كو دوسرے مجتھد كا نقض كرنا حرام ھے) كے تحت ذكر كيا گيا ھے۔

ليكن جھاں حكم، الھي و شرعي نہ ھو، ھر مسلمان كو نظر كے اظھار كا حق ھے، كبھي بھي پيامبر عظيم الشان صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اس نوع كے اظھار كو منع نھيں كرتے تھے بلكہ تعريف و تشويق بھي كرتے تھے۔

جنگ احزاب ميں رسول اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے حضرت سلمان (رض) كي خندق بنانے كي فكر و نظر اور خير خواھي كو قبول كرتے ھوئے مورد تاكيد بھي قرار ديا، حضرت سلمان (رض) نے پيامبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے عرض كيا، فارس علاقہ ميں جب بھي دشمن كا خطرہ ھوتا ھے شھر كے اطراف ميں خندق كھود كر دشمن كي پيش قدمي كو روكا جاتا ھے لھذا مدينہ كے اطراف ميں آسيب پذير علاقے جھاں دشمن وسائل جنگي كو آساني سے عبور دے سكتا ھے، وھاں خندق كھود كر ان كي پيش قدمي كو روك ديا جائے، اور خندق كے اطراف ميں سوراخ و برج بنا كر دشمن كي نقل و حركت پر نگاہ ركھتے ھوئے شھر كا دفاع كيا جائے، پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے حضرت سلمان (رض) كي نظر كو منظور كرتے ھوئے خندق كھودنے ميں مشغول ھوگئے116

 

ايك دوسري آيت تصريح كر رھي ھے كہ صاحب ولايت كے فرامين سے ھمراھي لازم ھے، اس كے اوامر پر سبقت ممنوع ھے۔

 

( يا ايھا الذين آمنوا لا تقدموا بين يدي اللہ ورسولہ) 117

 

اے ايمان والو! خبردار خدا و رسول كے سامنے اپني بات كو آگے نہ بڑھاؤ۔

 

خدا اور پيامبر سے سبقت لينا يعني خدا و پيامبر (ص) كے باصراحت دستور و حكم كے سامنے شخصي طور و طريقہ كو استعمال كرنا، يا كسي دوسرے نظريہ كو بيان كرنا، ولايت سے سبقت لينا يعني صاحب ولايت كي گفتار و اقوال كو كچھ اس طرح تفسير و تشريح كرنا كہ اپني پسند و خواھش كے مطابق ھو۔

 

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے اس نوعيت كي تاويل كو مورد لعنت قرار ديا ھے۔

 

(( قوم يزعمون اني اما مھم واللہ ما انا بامام لھم لعنھم اللہ كلما سترت سرا ھتكوہ اقول كذا وكذا فيقولون انما يعني كذا و كذا فيقولون انما يعني كذا و كذا انما انا امام من اطاعني)) 118

 

بعض خيال كرتے ھيں كہ ميں ان كا امام ھوں خدا كي قسم ميں ان لوگوں كا امام نھيں ھوں خدا ان لوگوں پر لعنت كرے، ميں جس راز كو مخفي ركھنا چاھتا ھوں وہ افشا كرتے ھيں، ميں كسي قول كو پيش كرتا ھوں، وہ لوگ كھتے ھيں كہ امام كا مقصد يہ ھے وہ ھے (تاويل كرتے ھيں) ميں صرف ان افراد كا امام ھوں جو ميرے اطاعت گزار و فرمان بردار ھيں۔

 

بھر حال ولايت كي حريم ميں سے ايك، بغير چون و چرا صاحب ولايت كے احكام و دستور كي پيروي و اطاعت كرنا ھے۔

 

منافقين كا طرز عمل پيامبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے فرمان و دستور كي خلاف ورزى، اور حضرت كے حريم كي حرمت شكني تھا، ليكن جيسا كہ وضاحت كي گئي كہ معاشرے كے قائدين كے لئے ناصح و خير خواہ كا لازم ھونا، چون و چرا كے بغير اطاعت گزار و فرمان بردار ھونے سے كوئي تعارض و تضاد نھيں ركھتا ھے۔

 

ولايت كے لئے دوسري حريم جو قرآن بيان كر رھا ھے، ولايت كے احترام كا لازم ھونا ھے، قرآن مجيد كا پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے حضور ميں صدا كو بلند نہ كرنے كا حكم دينا احترام ولايت كے مصاديق ميں سے ھے۔

 

( يا ايھا الذين آمنوا لا ترفعوا اصواتكم فوق صوت النّبي ولا تجھروا الہ بالقول كجھر بعضكم لبعض) 119

 

اے صاحبان ايمان خبردار! تم اپني آواز كو نبي كي آواز پر بلند نہ كرنا، اور ان سے اس طرح بلند آواز ميں بات نہ كرنا جس طرح آپس ميں ايك دوسرے كو پكارتے ھو۔

 

دوسري آيت ميں بھي اسي قسم كے مفھوم كو پيش كيا گيا ھے۔

 

( لا تجعلوا دعاء الرسول بينكم كدعاء بعضكم بعضاً) 120

 

مسلمانوں! خبردار رسول كو اس طرح نہ پكارو۔ جس طرح آپس ميں ايك دوسرے كو پكارتے ھو۔

 

فوق كي دونوں آيات صاحب ولايت سے مومنين كے صحيح برتاؤ و رفتار كو بيان كرتے ھوئے پيامبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے منافقين كے زشت برتاؤ و روش كو بھي بطور كنايہ پيش كر رھي ھے، صاحب ولايت كے احترام كو تباہ كرنے كے سلسلہ ميں منافقين كا ايك اور حربہ، صاحب ولايت (ولي) كو سادہ لوحي كا خطاب دينا ھے۔

 

( ومنھم الذين يوذون النبي و يقولون ھو اذن) 121

 

ان ميں سے وہ بھي ھيں جو پيامبر كو اذيت ديتے ھيں اور كھتے ھيں كہ وہ تو صرف كا ن والے خوش خيال و سادہ لوح) ھيں۔

 

ولايت كي حريم كو پامال كرنے كے لئے منافقين كي ايك دوسري روش صاحب ولايت (پيامبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) كے افعال و رفتار پر تنقيد كرنا تھا۔

 

حرقوص ابن زھير جو بعد ميں خوارج كا سرغنہ قرار پايا جنگ حنين كے غنائم كي تقسيم كے وقت رسول اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم پر اعتراض كرتے ھوئے كھا: عدالت سے تقسيم كريں حضرت نے فرمايا: مجھ سے عادل تر كون ھے؟ اس سوء ادب كي بنا پر ايك مسلمان نے اس كو ھلاك كرنا چاھا، پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا: اسے چھوڑدو اس كے كچھ مريد ھوں گے اور اتني عبادت كريں گے كہ تم لوگ اپني عبادت كو كم حيثيت سمجھو گے ليكن اس قدر عبادت كرنے كے باوجود دين سے خارج ھوجائيں گے122 حرقوص ابن زھير نھروان ميں امام علي عليہ السلام كے ھاتھوں واصل جھنم ھوا۔123

 

ذيل كي آيت حرقوص كي حركت كي مذمت ميں اور بعض منافقين كے لئے جو رسول اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كو قتل كرنا چاھتے تھے نازل ھوئي ھے۔

 

( ومنھم من يلمزك في الصدقات فان اعطوا منھا رضوا وان لم يعطوا منھا اذا ھم يسخطون) 124

 

اور ان ميں سے وہ بھي ھيں جو خيرات كے بارے ميں الزام لگاتے ھيں كہ انھيں كچھ مل جائے تو راضي ھوجائيں گے، اور نہ ديا جائے تو ناراض ھوجائيں گے۔

 

منافقين كي دوسري سياسى خصوصيتيں

 

موقع پرست ھونا

 

قرآن كي نظر كے مطابق منافقين كي سياسى خصائص ميں سے ايك موقع پرست ھونا ھے، ان كے لئے صرف اپنے منافع اھميت كے حامل ھوتے ھيں، نفاق كي طرف مائل ھونے كي وجہ بھي يھي ھے، موقع پرستي كا آشكار و ظاھر مصداق كہ جس كے چند مورد كي قرآن نے تصريح كي ھے۔

 

غنائم كو حاصل كرنے اور ميدان نبرد و جنگ سے فرار كرنے ميں موقع پرستي كے ماھر تھے، جس وقت مسلمين كامياب ھوتے تھے بلا فاصلہ خود كو مسلمانوں كي صف ميں پھنچا ديتے تھے تاكہ جنگ كے غنائم سے بھرہ مند ھوسكيں اور جس وقت مسلمان شكست وناكامي سے دوچار ھوتے تھے، فوراً اسلام كے دشمنوں سے كھتے تھے، كيا تم سے نھيں كھا تھا كہ اسلامي حكومت نام نھاد حكومت ھے، اور تم كامياب ھوگے، ھمارا حصہ حوالہ كردو، قرآن مجيد منافقين كي موقع پرستيں كو ان الفاظ ميں بيان كر رھا ھے۔

 

الذين يتربصون بكم فان كان لكم فتح من اللہ قالوا الم نكن معكم وان كان للكافرين نصيب قالوا الم نستحوذ عليكم و نمنعكم من المؤمنين فاللہ يحكم بينكم يوم القيامۃ و لن يجعل اللہ للكافرين علي المومنين سبيلا) 125

 

اور يہ منافقين تمھارے حالات كا انتظار كرتے رھتے ھيں كہ تمھيں خدا كي طرف سے فتح نصيب ھو تو كھيں كيا ھم تمھارے ساتھ نھيں تھے اور اگر كفار كو كوئي حصہ مل جائے گا تو ان سے كھيں گے كہ كيا ھم تم پر غالب نھيں آگئے تھے اور تمھيں مومنين سے بچا نھيں ليا تھا، تو اب خدا ھي قيامت كے دن تمھارے درميان فيصلہ كرے گا اور خدا كفار كے لئے صاحبان ايمان كے خلاف كوئي راہ نھيں دے سكتا۔

 

موقع پرست اشخاص مشكلات و رنج ميں ھمراہ نھيں ھوتے، ليكن فتح و ظفر كي علامت ظاھر ھوتے ھي ان كے چھرے نظر آنے لگتے ھيں اور اپنے سھم و حقوق كا مطالبہ ھونے لگتا ھے، ذيل كي آيت واضح طريقہ سے ان كي موقع پرستي كو بيان كر رھي ھے۔

 

( اشحّۃ عليكم فاذا جاء الخوف رأيتھم ينظرون اليك تدور اعينھم كالذي يغشي من الموت فاذا ذھب الخوف سلقو كم بألسنۃ حداد اشحۃ علي الخير) 126

 

يہ تم سے جان چراتے ھيں اور جب خوف سامنے آجائے گا تو آپ ديكھيں گے كہ آپ كي طرف اس طرح ديكھيں گے كہ جيسے ان كي آنكھيں يوں پھر رھي ھيں جيسے موت كي غشي طاري ھو اور جب خوف چلا جائے گا تو آپ پر تيز زبانوں كے ساتھ حملہ كريں گے اور انھيں مال غنيمت كي حرص ھوگي۔

 

سورۂ احزاب كي آيت نمبر بيس ميں بھي ان كے سخت، حساس، بحران زدہ لحظات سے فرار كو اچھے طرز سے بيان كيا گيا ھے۔

 

( يحسبون الأحزاب لم يذھبوا و ان يأت الأحزاب يودو لو أنھم بادون في الاعراب يسئلون عن انبائكم ولو كانوا فيكم ما قاتلوا الا قليلا )

 

يہ لوگ ابھي تك اس خيال ميں ھيں كہ كفار كے لشكر گئے نھيں ھيں اور اگر دوبارہ لشكر آجائيں تو يہ يھي چاھيں گے كہ كاش دھاتيوں كے ساتھ صحراؤں ميں آباد ھوگئے ھوتے اور وھاں سے تمھاري خبريں دريافت كرتے رھتے اور اگر تمھارے ساتھ ھوتے بھي تو بھت كم ھي جھاد كرتے۔

 

مذكورہ دونوں آيات (19، 20 سورہ احزاب) سے استفادہ ھوتا ھے كہ منافقين مسلمانوں كے حق ميں فوق العادہ بخيل ھيں، اھل اسلام كے لئے كسي قسم كي ھمراھي كرنے كے لئے حاضر نھيں، كسي بھي قسم كي مالى، جانى، فكري مساعدت سے گريز كرتے ھوئے بالكل غيرت برتتے ھيں جب ايثار و شھوت كي بات آتي ھے تو خلاف عادت بزدلي كا شكار ھوجاتے ھيں، قلب و دل كھو بيٹھنے كا امكان رھتا ھے ليكن جب خطرات دور ھوجاتے ھيں تو مال غنيمت كے لئے ميدان ميں حاضر ھوجاتے ھيں يہ چاھتے ھيں كہ ھميشہ حالات كا نظارہ كرتے رھيں دوسرے الفاظ ميں يوں كہا جائے كہ تالاب كے كنارہ بيٹھے رھتے رھيں اور حالات كا جائزہ ليتے رھيں اور قدم اس وقت ركھتے ھيں جب مطمئن ھوجائيں كہ خطرہ ٹل چكا ھے، ان كا ھم و غم مال غنيمت كا حصول ھے127

 

تاريخ سے نقل كيا جاتا ھے كہ پيامبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے جنگ خيبر كے موقع پر فرمايا: خيبر كے غنائم ان اشخاص كے لئے ھيں جو حديبيہ اور اس كے سخت شرائط ميں شريك تھے منافقين نے حديبيہ ميں شركت نھيں كي تھي وہ جنگ خيبر ميں اس فكر كے ساتھ كہ مال غنيمت زيادہ ملے گا شريك ھونا چاھتے تھے، پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اس فرمان كے ذريعہ، ان كي موقع پرستي كو بے آبرو كر كے ركھ ديا، اگر چہ منافقين نے پيامبر عظيم الشان و مسلمانوں پر نكتہ چيني و اعتراضات كرتے ھوئے حسادت ورزي كے الزام لگائے ذيل كي آيت اسي سلسلہ ميں نازل ھوئي ھے :

 

( سيقولون المخلفون اذا انطلقتم الي مغانم لتاخذوھا ذرونا نتبعكم يريدون ان يبدلوا كلام اللہ قل لن تتبعونا كذلكم قال من قبل فسيقولون بل تحسدوننا بل كانوا لا يفقھون الا قليلا) 128

 

عنقريب يہ پيچھے رہ جانے والے تم سے كھيں گے جب تم مال غنيمت لينے كے لئے جانے لگو گے كہ اجازت دو ھم بھي تمھارے ساتھ چل چليں يہ چاھتے ھيں كہ اللہ كے كلام كو تبديل كرديں تو تم كہدو كہ تم لوگ ھمارے ساتھ نھيں آسكتے ھو، اللہ نے يہ بات پہلے سے طے كردي ھے پھر يہ كہيں گے كہ تم لوگ ھم سے حسد ركھتے ھو، حالانكہ حقيقت يہ ھے كہ يہ لوگ بات كو بھت كم سمجھ پاتے ھيں۔

 

اگر ھم اوّل اسلام سے اب تك كي تاريخ كو ملاحظہ كريں تو اس نكتہ كي طرف ضرور متوجہ ھونگے كہ مسلمانوں كو اب تك جو ھزيمت اٹھاني پڑي ھے اس كے اسباب و علل، اھل اسلام كي صفوف ميں موقع پرست افراد كي در اندازي كا نتيجہ ھے۔

 

بني اميہ جس نے ايك ھزار سال، اسلامي مملكت پر حكومت كي اور اپنے ادوار حكومت ميں شرم آور ترين افعال اور قبيح و زشت كارنامے كے مرتكب ھوئے اسلام ميں موقع پرست اشخاص كے نفوذ كا نتيجہ تھا۔

 

ابو سفيان جس كے پاس فتح مكہ كے بعد اظھار اسلام كے علاوہ كوئي چارہ نہ تھا جس كے جسم و روح ميں اسلام نام كي كوئي شي نہ تھي وہ موقع پرستي كي بنا پر حكومت كے عالي منصب ميں نفوذ كرتا چلا گيا، يھاں تك كہ عثمان كے زمانے ميں بھت زيادہ ھي قدرت و اقتدار كا حامل تھا، بلكہ اس سے قبل ھي شام كي حكومت اس كے فرزندوں كے ھاتھ ميں تھي۔

 

بني عباس كي بھي موقع پرستى، انقلاب كے تمام طرفدار حضرات كے لئے ايك عبرت كا مقام ھے، بني عباس نے اھل بيت اطھار عليھم السلام كي محبوبيت و آل محمد عليھم السلام كي رضايت كے نام پر قيام كر كے لوگوں كو اپنے اطراف جمع كر ليا اور جب اپنے اس ھدف ميں كامياب ھوگئے تو اھل بيت اطھار پر ويسے ھي مظالم كئے جيسے بني اميہ كرتے تھے تقريباً شيعوں كے نصف ائمہ كي تعداد، بني اميہ اور نصف ائمہ، بني عباس كے ذريعہ شھيد كئے گئے۔

 

حضرت امام صادق عليہ السلام آغاز ھي سے اس موقع پرستي كي تحريك كو پھچانتے تھے جس وقت ابو مسلم نے آپ كے پاس خط لكھا كہ آپ تيار رھيے ھم خلافت آپ كے حوالہ كرنا چاھتے ھيں امام نے فرمايا :

 

(( ما انت من رجالي ولا الزمان زماني)) 129

 

نہ تم ميرے افراد ميں سے ھو اور نہ ھي زمانہ ميرا زمانہ ھے۔

 

جس وقت ابو سلمہ خلال، بني عباس كے طرفدار نے اس مضمون كا خط امام كے لئے بھيجا آپ نے نامہ جلاتے ھوئے فرمايا :

 

(( مالي و لأبي سلمۃ ھو شيعۃ لغيري)) 130

 

مجھے ابو سلمہ سے كيا كام؟ وہ تو كسي اور كا تابع اور پيرو ھے۔

 

تاريخ معاصر ميں بھي مشروطيت تحريك ميں موقع پرستوں كے نفوذ كي بنا پر تاريخ درد ناك حوادث كو اپنے دامن ميں لئے ھوئے ھے، مشروطيت تحريك اور قيام كو وجود ميں لانے والے وحيد خراسانى، شيخ فضل اللہ مازندراني و شيخ فضل اللہ نوري جيسے عظيم و ممتاز علماء تھے يہ علماء تھے جو سخت و مشكل مراحل ميں ميدان ميں حاضر اور تحريك كو كاميابي كي طرف لے جارھے تھے، جيسے ھي كاميابي كے آثار نماياں ھونے لگے مغرب زدہ افراد، آزادي اور عدم استبداد كا نعرہ بلند كرتے ھوئے موقع پر حاضر ھوگئے، علماء پر تمھت كي بارش كرتے ھوئے، مشروطيت كو اس كے صحيح راہ و روش سے منحرف كر بيٹھے، اس وقت حالات يہ ھوگئے كہ، ماحصل مشروطہ، استبداد سے لبريز پھلوي كي پچاس سالہ حكومت تھي۔

 

شيخ فضل اللہ نوري جو مشروطہ كے باني حضرات ميں سے تھے، مشروطہ كي مخالفت كے جرم ميں تختہ دار پر لٹكادئے گئے اور شھادت كے بعد ان كے بدن و جسم سے وہ بے حرمتي كي گئي جسے قلم بيان كرنے سے قاصر ھے131

 

آخوند خراساني اور انجمن كے ديگر قائدين مخفيانہ شھيد كر دئے گئے موقع پرست تحريك كو اصل ھدف و مقصد سے موڑ كر اپنے منافع كي خاطر تحريك پر قابض ھوگئے۔

 

صنعت پيٹروليم كو ملّي كرنے كي تحريك ميں مرحوم آيت اللہ كاشاني مبارزے كے ميدان ميں وارد عمل ھوئے ھم عصر بزرگ فقھاء جيسے آيت اللہ محمد تقي خوانسارى، آيت اللہ سيد محمد روحانى، سے فتاويٰ حاصل كركے، اس تحريك كے لئے معاشرہ كے افراد كي حمايت كو منظّم كيا، ليكن اس تحريك كي كاميابي كے بعد موقع پرست، تعصب قومي كے دلدادہ (مذھب و روحانيت كے مخالف) حاضر و آمادہ دستر خوان پر براجمان ھوگئے، شكر يہ سپاس گذاري كے بجائے نمك كھاكر، نمك حرامي كے مصاديق افعال انجام دينے لگے۔

مزید  فلسطین اور بیت المقدس

 

آيت اللہ كاشاني كے محضر ميں بدترين و بيھودہ ترين حركات انجام ديتے تھے، آپ كو گوشہ نشيني پر مجبور كرديا گيا، شھيد نواب صفوي اور آپ كے ھم ركاب جو اس تحريك كو كامياب بنانے ميں اھم رول ادا كئے تھے، مصدّق كے مسند قدرت پر تكيہ دينے كے بعد زندان كے حوالہ كر دئے گئے۔

 

آيت اللہ شھيد مطھري قدس سرہ نے مختلف تحريكوں ميں، موقع پرستوں كے نفوذ كے سلسلہ ميں عميق و كامل نكات كو عرض كيا ھے جس كو نقل كرنا بھت فائدہ مند ھے۔

ايك تحريك كے اندر، موقع پرست افراد كا نفوذ اور رخنہ اس تحريك كے لئے عظيم آفت و مصيبت ھے، تحريك كے اركان و قائدين كا اھم فريضہ ھے كہ اس قسم كے افراد كے نفوذ و رخنہ كے راستے كو مسدود كرديں، جو تحريك بھي اپنے اول مرحلہ كو طے كررھي ھوتي ھے اس كي مشكلات و دشواري وغيرہ صاحب ايمان اور اخلاص و فداكار افراد كے كاندھوں پر ھوتي ھے ليكن جيسے ھي اس تحريك كے ثمرہ دينے كا وقت آتا ھے يا اس كے آثار نماياں ھونے لگتے ھيں، گلستان تحريك كي كلياں كھلنے لگتي ھيں، موقع پرست افراد كے سرو گردن دكھائي دينے شروع ھوجاتے ھيں، جيسے جيسے دشواري ميں كمي آنے لگتي ھے اور ثمرے كے استفادہ كا وقت نزد يكتر ھوتا رھتا ھے موقع پرست و فرصت طلب پھلے سے كھيں زيادہ تحريك اور انجمن كے لئے سينہ چاك كر كے ميدان عمل ميں وارد ھوتے ھيں اور آھستہ آھستہ تحريك كے سابقين، انقلابى، فداكار مومن اور دل سوز كو ميدان سے بے دخل كرتے چلے جاتے ھيں، اس نوعيت كے اقدام اس طرح عام ھوچكے ھيں كہ مثل كے طور پر كھا جانے لگا ھے انقلاب فرزند خور ھے گويا انقلاب كي خاصيت يہ ھے كہ جيسے ھي كاميابي سے ھم كنار ھوا اپنے فرزند (ممبران) كو ايك ايك كر كے ختم كرديتا ھے، ليكن انقلاب فرزند خور نھيں ھے بلكہ موقع پرست افراد كے رخنہ و نفوذ سے غفلت ورزي ھے جو حادثہ كو وجود ميں لاتا ھے كھيں دور تلاش كرنے كي ضرورت نھيں، مشروطيت تحريك كے انقلاب كو كون سے افراد نے پايۂ تكميل تك پھنچايا؟ كاميابي دلانے كے بعد كيسے كيسے چھرے منصب اور مقام پر قابض ھوئے اور سر انجام كيا ھوا؟ آزادي طلب مجاھدين، قومي سر براہ و قائدين ايك گوشہ ميں ڈال دئے گئے فراموشي كے حوالے كردئے گئے اور آخركار گرسنگي و گمنامي كي حالت ميں سپرد خاك كردئے گئے ليكن وہ فلان الدولہ وغيرہ…… جو كل تك استبداد و ڈكٹير كے پرچم تلے انقلابى طاقتوں سے برسر پيكار تھے، نيز مشروطيت تحريك كے ممبران كي گردنوں ميں پھانسي كي رسي ڈال رھے تھے، وہ صدارت عظميٰ كے منصب پر فائز ھوگئے سر انجام مشروطيت تحريك ڈكٹير شپ ميں تبديل ھوكر رہ گئي۔

موقع پرستي كا منحوس اثر اسلام كي اول تاريخ ميں بھي آشكار ھوا عثمان كے دور خلافت ميں موقع پرست افراد نے صاحبان ايمان و اسلام كے مقام و مقاصد كو اپنے ھاتھوں ميں لے ليا، رسول كے ذريعہ مدينہ سے اخراج شدہ فرد وزير بن گئے اور كعب الاحبار كردار والے اشخاص مشاور، ابوذر و عمار صفت والے يا تو شھر بدر كردئے گئے يا خلافت كے قدموں تلے روند ڈالے گئے۔

كيوں قرآن فتح مكہ كے قبل كے جھاد، و انفاق ميں اور فتح مكہ كے بعد كے انفاق و جھاد ميں فرق قرار دے رھا ھے، در حقيقت قرآن فتح مكہ كے قبل كے مومن و منفق اور فتح مكہ كے بعد مومن منفق كے درميان تفريق كا قائل ھے۔

( لا يستوي منكم من انفق من قبل الفتح و قاتل اولئك اعظم درجۃ من الذين انفقوا من بعد و قاتلوا و كلا وعدا اللہ الحسنيٰ واللہ بما تعملون خبير) 132

اور تم ميں فتح مكہ سے پہلے انفاق كرنے والا اور جھاد كرنے والا اس شخص كے جيسا نھيں ھوسكتا ھے كہ جس نے فتح مكہ كے بعد انفاق اور جھاد كيا ھے پہلے جھاد كرنے والے كا درجہ بہت بلند ھے اگر چہ خدا نے سب سے نيكي كا وعدہ كيا ھے اور وہ تمھارے جملہ اعمال سے باخبر ھے۔

راز مطلب واضح ھے فتح مكہ جو كچھ بھي تھا دشوارى، مشكلات، مشقت كا تحمل ھي تھا فتح مكہ سے قبل ايمان، انفاق و جھاد، اخلاص ترو بے شائبہ تر تھا موقع پرستي كي روح و فكر سے بعيد تھا، برخلاف فتح مكہ كے بعد كے انفاق، ايمان و جھاد، ان ميں اخلاص بي شايبہ نہ تھا۔

تحريك كو ايك اصلاح طلب فرد آغاز كرتا ھے موقع پرست نھيں، اسي طريقہ سے تحريك كے مقاصد كو ايك اصلاح طلب مومن آگے بڑھا سكتا ھے نہ موقع پرست كہ ھميشہ اپنے منافع كے فكر و خيال ميں رھتا ھے۔

بھر حال موقع پرست افراد كے نفوذ و رخنہ سے مبارزہ و معركہ آرائى ھي (فريب دينے والے ظواھر كے باوجود) ايك بنيادي شرط ھے تاكہ ايك تحريك اپنے اصلي راستہ و ھدف پر گام زن رھے133

انقلاب اسلامي كے اصلي معمار حضرت امام خميني (رح) بھي اس خطرے كو محسوس كرتے ھوئے، نيز تاريخ ماضي سے عبرت حاصل كرتے ھوئے فرماتے ھيں :

ھميشہ موقع پرست اور سوء استفادہ كرنے والوں سے ھوشيار رھنا چاھئے، اور ان كو فرصت نھيں دينا چاھئے كہ كشتي انقلاب اور اس كے چھوٹے موٹے وسائل كي بھي باگ ڈور اپنے ھاتھوں ميں لے سكيں، آنے والي نسلوں كے لئے آپ كي وصيت و نصيحت يہ ھے كہ :

ميں تمھارے درميان ميں رھوں يا نہ رھوں تم سب لوگوں كو وصيت كر رھا ھوں كہ موقع و فرصت نہ دينا كہ اسلامي انقلاب نا اھل و نامحرم (غير) افراد كے ھاتھوں ميں چلا جائے134۔

امام خميني (رح) مشروطہ تحريك سے عبرت گيري كي ضرورت كو پيش كرتے ھوئے فرماتے ھيں :

اگر علماء، ملت، خطبا، دانشور، روشنفكر، صحافي اور متعھد حضرات سستي كريں اور مشروطہ كے واقعات سے عبرت حاصل نہ كريں تو انقلاب انھيں حالات سے دوچار ھوگا جس سے مشروطہ تحريك دوچار ھوئي تھى135

صاحبان غيرت ديني كي تحقير

ادوار تاريخ ميں انبياء كے دشمنوں كي سياسى رفتار كي ايك خصوصيت، متدين غيرت دار افراد كي تحقير ھے حضرت نوح كے دشمن نوح كي پيروي كرنے والے افراد كو پست، حقير، وكوتاہ فكر سمجھتے تھے۔

( وما نريك اتبعك الا الذين ھم ارا ذلنا بادي الراي) 136

اور تمھارے اتباع كرنے والوں كو ديكھتے ھيں كہ وہ ھمارے پست طبقہ كے سادہ لوح افراد ھيں۔

حضرت نوح عليہ السلام كے دشمن آپ كي پيروي نہ كرنے كي توجيہ و تاويل كرتے ھوئے يہ عذر پيش كرتے تھے كہ آپ كي پيروي كرنے والے پست انسان ھيں اور ھم ان كے ساتھ ھماھنگ معاسرت نھيں كرسكتے۔

( قالوا أنومن واتبعك الارذلون) 137

ان لوگوں نے كھا كہ ھم آپ پر كس طرح ايمان لے آئيں جب كہ آپ كے سارے پيروكار پست طبقہ سے تعلق ركھتے ھيں۔

پيامبر اسلام كي تاريخ ميں بھي اسي قسم كے واقعات ھميں دكھائي ديتے ھوئے نظر آتے ھيں قريش كے بزرگان اپنے جاھل افكار كي بنا پر مستضعف مومنين كے پہلو ميں بيٹھنے كو اپنے لئے ننگ و عار سمجھتے تھے، پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كو پيشكش كي كہ آپ ان افراد كو اپنے سے دور كرديں تو ھم آپ سے مل بيٹھيں گے اور آپ سے استفادہ كريں گے، كفار قريش كي اس پيشكش كے بعد ذيل كي آيت نازل ھوئي اور پيامبر اسلام كو حكم ديا گيا كہ بطور قاطع كافروں كي پيشكش كو ٹھكراديں۔

واصبر نفسك مع الذين يدعون ربھم بالغدٰوة والعشي يريدون وجھہ ولا تعد عيناك عنھم تريد زينۃ الحيوٰة الدنيا ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذكرنا واتبع ھواہ وكان امرہ فرطاً) 138

 

اور اپنے نفس كو ان لوگوں كے ساتھ صبر پر آمادہ كرو جو صبح و شام اپنے پروردگار كو پكارتے ھيں اور اسي كي مرضي كے طلبگار ھيں اور خبردار تمھاري نگاھيں ان كي طرف سے نہ پھر جائيں كہ نزندگاني دنيا كي زينت كے طلبگار بن جاؤ اور ھرگز اس كي اطاعت نہ كرنا جس كے قلب كو ھم نے اپني ياد سے محروم كرديا ھے اور وہ اپني خواھشات كا پيروكار ھے اور اس كا كام سراسر زيادتي كرنا ھے۔

تحقير اور سفاھت كي تھمت انبياء حضرات كے ماننے والوں تك محدود نھيں بلكہ خود انبياء حضرات بھي دشمنوں كي طرف سے سفاھت كي تھمت كے شكار ھوتے تھے، قوم عاد صرحتا اور تاكيد كے ساتھ حضرت ھود عليہ السلام كو سفيہ كھتي تھي۔

( قال الملاء الذين كفروا من قومہ انا لنراك في سفاھۃ) 139

قوم ميں سے كفر اختيار كرنے والے رؤسا نے كھا كہ ھم تم كو حماقت ميں مبتلا ديكھ رھے ھيں۔

انبياء و صاحبان ايمان كے دشمنوں ميں سے بعض دشمن منافق ھيں جو دونوں روش كا استعمال كرتے ھيں، رسول اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي بھي تحقير كرتے ھيں اور مومنين كي بھى، منافق پيامبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كو سادہ لوح اور خوش خيال (زود باور) كھتے تھے اور مومنين كو سفھاء ميں شمار كرتے تھے140

( واذا قيل لھم آمنوا كما آمن الناس قالوا انؤمن كما امن السفھاء الا انھم ھم السفھاء ولكن لا يعلمون) 141

جب ان سے كھا جاتا ھے كہ دوسرے مومنين كي طرح ايمان لے آؤ تو كھتے ھيں كيا ھم بيوقوفوں كي طرح ايمان اختيار كريں؟ حالانكہ اصل ميں يھي بيوقوف ھيں اور انھيں اس كي واقفيت بھي نھيں ھے۔

ليكن چونكہ منافقين، دين و ايمان كا اظھار كرتے تھے لھذا پيامبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي نبوت ميں زيادہ اعتراضات و تكذيب كي جرأت نھيں ركھتے تھے بلكہ حضرت كي رفتار و گفتار اور اخلاقي خصائص ميں عيب جوئي كيا كرتے تھے، اسي طريقہ سے مومنين كي تحقير و توھين ميں ان كي ديني و سياسى كار كردگي كو مورد تنقيد قرار ديتے تھے، تاكہ اس تنقيد كے ذريعہ ان كے اصل ايمان كا مضحكہ و تمسخر كيا جاسكے۔

وہ افراد جو جنگ كے سلسلہ ميں زيادہ خدمات انجام دے چكے تھے، ان كي تحقير كي نوعيت كچھ اور تھي اور وہ افراد جو اپني بے بضاعتي كي بنا پر كم خدمات انجام ديتے تھے ان كي دوسرے طريقہ سے توھين كرتے تھے۔

( الذين يلمزون المطوعين من المؤمنين في الصدقات والذين لا يجدون الا جھدھم فيسخرون منھم سخر اللہ منھم ولھم عذاب اليم) 142

جو لوگ صدقات ميں فراخ دلي سے حصہ لينے والے مومنين اور ان غريبوں پر جن كے پاس ان كي محنت كے علاوہ كچھ نھيں ھے الزام لگاتے ھيں اور پھر ان كا مزاق اڑاتے ھيں، خدا ان كا بھي مزاق بنادے گا اور اس كے پاس بڑا درد ناك عذاب ھے۔

صاحبان ايمان كي تحقير و توھين كرنے ميں منافقين كا اساسي ھدف يہ ھے كہ ان كي ديني غيرت و حيا كو سست كرتے ھوئے ديني فرائض كے انجام دينے كي حساسيت و اشتياق كو مومنين سے سلب كر ليا جائے، يہ بات سب كے لئے آشكار ھے كہ جب تك مسلمانوں ميں بے لوث دينداري كے جذبات، موجزن رھيں گے اسلامي اقدار كي توھين كے مقابلہ ميں عكس العمل كا اظھار كرتے رھيں گے، لھذا منافقين اپنے اصلي ھدف و مقصد ميں، جو كہ دين كي حاكميت كو پامال كرنا ھے، كامياب نھيں ھوسكتے منافقين، مومنين اور ان كے دينداري كے مظاھر كي تحقير و توھين كے ذريعہ كوشش كرتے ھيں كہ دين و مذھب كي حساسيت كو ختم يا كم كرديں، دين و اسلامي اقدار كو فردي و شخصي رفتار كے دائرہ ميں محدود كرديں تاكہ اس طريقۂ و زاويہ سے اسلامي حكومت كو تسخير اور دين كے چھرہ كو مسخ كرسكيں۔

اسي بنياد پر منافقين اغيار و بيگانہ سے روابط ركھے ھوئے ھيں اور دوستانہ سلوك كرتے ھيں، ليكن اپنوں اور مومنين سے غضب ناك ظلم و بربريت كا سلوك كرتے ھيں بالكل ان صفات كے مخالف ھيں جسے خداوند متعال مومنين كے لئے ترسيم كر رھا ھے، خدا مومنين كے لئے (رحماء بينھم و اشداء علي الكفار) تعريف كر رھا ھے ليكن منافقين كي بہ نسبت اشداء، اغيار كي بہ نسبت رحماء ھيں143

وحدت اور ھمبستگى

منافقين كي سياسى رفتار كي خصوصيت يہ ھے كہ اسلامي نظام كي حاكميت و اسلام پر ضرب لگانے كے لئے وہ ايك دوسرے سے مرتبط ھيں وہ لوگ اسلام كو آسيب پزير بنانے كے لئے اور ديني حاكميت كو ضعيف كرنے كے لئے اپنے داخلي اختلافات سے ھاتھ روك ركھے ھيں اور اسلام كے مقابلہ ميں متحد ھوجاتے ھيں۔

( المنافقون والمنافقات بعضھم من بعض) 144

منافق مرد اور منافق عورتيں آپس ميں سب ايك دوسرے سے ھيں۔

اس وحدت و يكجھتي كي آبياري كے لئے سازشي مركز بناتے ھيں اور اسلام كے خلاف كاركردگي كے لئے جلسات بھي تشكيل ديتے ھيں، ھر زمانہ كے سازشي مراكز اس عصر و زمان كے تناسب سے ھوتا ھے، اس كا ايك نمونہ مسجد ضرار كي تعمير ھے، كہ اس قضيہ كو بيان كيا جاچكا ھے، وہ لوگ چاھتے تھے كہ مسجد كے ذريعہ مومنين كے درميان تفرقہ كي ايجاد، اور دشمن كے لئے جاسوسي كريں اور مسلمين پر ضربہ وارد كرنے، نيز كفر كي ترويج كے لئے استفادہ كريں كہ رسوا و ذليل كردئے گئے، اس واقعہ سے استفادہ ھوتا ھے كہ منافقين اپنے منظّم پروگرام كے تحت دين كے خلاف ھر وسيلہ سے استفادہ كرتے ھيں، جھاں مناسب سمجھتے ھيں وھاں دين سے سوء استفادہ كرتے ھوئے حقيقي دين ھي كے خلاف استعمال كرتے ھيں، جيسے كہ ان كي خواھش تھي كہ مسجد بناكر، اس كے ذريعہ پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے جنگ كے لئے استعمال كريں، مختلف جلسات كي تشكيل و تنظيم، تاكہ اسلام كے خلاف پروگرام مرتب كيا جائے ان كي تشكيلاتي افعال ميں سے ھے۔

قرآن باصراحت اعلان كر رھا ھے كہ منافقين روز ميں پيامبر گرامي كي سخن و گفتگو سماعت كرتے تھے، ليكن شب ميں سازشي جلسہ كي تشكيل كر كے پيامبر گرامي (ص) كے رھنمود و گفتگو كے مقابلہ كي راھيں تلاش كرتے تھے۔

( ويقولون طاعۃ فاذا برزوا من عندك بيت طائفۃ منھم غير الذين تقول واللہ يكتب ما يبيتون) 145

يہ لوگ پہلے اطاعت كي بات كرتے ھيں پھر جب آپ كے پاس سے باھر نكلتے ھيں تو ايك گروہ اپنے قول كے خلاف تدبير كرتا ھے اور خدا ان كي باتوں كو لكھ رھا ھے۔

 

وہ جلسہ جو جنگ تبوك كے سلسلہ ميں سويلم يھودي كے گھر ميں تشكيل پايا تھا تاكہ لوگوں كو جنگ تبوك سے روكنے كے لئے راہ و روش كو پيدا كيا جاسكے، ان ھزاروں سازشي جلسے و پروگرام ميں سے ايك ھے جسے منافقين انجام ديتے تھے۔146

 

منافقين سے مقابلہ كرنے كے لئے، يكجھتي و اتحاد اور پروگرام مرتب كرنے كي ضرورت ھے يكجھتي ايسي ھو جس كا ھدف و مقصد فرائض كي انجام دھي اور سازش سے مقابلہ كرنا ھو، يكجھتي كے اھداف اسلامي معاشرے ميں وحدت و اتحاد كے لئے ميدان ھموار كرنا ھو، تاكہ دشمنوں كي سازش كو ناكام بنايا جاسكے، نہ كہ يكجھتي خود جديد اور ماڈرن بتوں ميں تبديل ھوجائے اور تفرقہ و اختلاف كے عوامل بن جائے147

 

اختلاف سلائق، كثرت آراء، اسلامي شايستگي و اقدار كے دائرے ميں ھي رشد و نمو پاتي ھيں ليكن اگر خود پرستى، اھانت نمائى، آبروريزي وتھمت زني وغيرہ…… خدا محورى، شرح صدر، تحمل و بردباري كي جگھيں لے ليں، تو صرف دشمن ھي اس سے فايدہ اٹھائيں گے جس كے نتيجہ ميں اسلامي معاشرہ نا قابل تلافي اور ضرر سے دوچار ھوگا، جيسے اختلاف و تشتت اور پراكندگي نيز اسلام كي حاكميت كي تضعيف وغيرہ…… كہ دشمنان اسلام كي ديرينہ و بنيادي آرزو بھي يھي ھے۔

 

حضرت علي عليہ السلام نے شھرانبار (عراق) ميں معاويہ كے جاسوس و كار گزار كي دخالت اور تجاوز، اور افراد كے تجاوز كو رفع و دفع كرنے كے سلسلہ ميں سستي برتنے كي بنا پر فرمايا :

 

(( فيا عجباو اللہ يميت القلب و يجلب الّھم من اجتماع ھولاء القوم عليٰ باطلھم و تفّرقكم عن حقكم)) 148

 

كس قدر حيرت انگيز و تعجب خيز صورت حال ھے خدا كي قسم يہ بات دل كو مردہ بنادينے والي ھے اور ھم و غم كو سميٹنے والي ھے كہ يہ لوگ اپنے باطل پر مجتمع اور متحدہ ھيں اور تم اپنے حق پر بھي متحد نھيں۔

اس نكتہ كي ياد آوري بھي ضروري ھے كہ منافقين كا اتحاد و وحدت وقتي اور مخصوص زمانہ كے لئے ھوتا ھے صرف اسلامي نظام كو ختم كرنے كے لئے ھے، ليكن جب اپنے مقاصد ميں كامياب ھوگئے يا صرف يہ كہ ابھي كاميابي كي خفيف علامت ھي سامنے آئى، تفرقہ و جدائي ميں گرفتار ھونے لگتے ھيں اس لئے كہ ان كے اتحاد كا محور و مركز باطل ھے اور ايسي وحدت كبھي بھي پائدار نھيں رہ سكتي ھے اس كا سبب يہ ھے كہ باطل ھميشہ كمزور و ناپائدار ھے، باقي رھنے والي شي صرف حق ھے اور بس۔

فتنہ پرورى

منافقين كي سياسى رفتار كي وہ خصوصيت جسے قرآن با صراحت بيان كر رھا ھے فتنہ پرورى ھے منافقين اسلامي معاشرہ ميں فتنہ و آشوب برپا كرنے كي فكر ميں رھتے ھيں اور اس وسيلہ سے اپنے شوم و نحس مقاصد تك پھنچنا چاھتے ھيں۔

كلمۂ فتنہ كے لئے چند معاني ذكر كئے گئے ھيں ليكن آيات ميں منافقين كي توصيف كرتے ھوئے جو قرائن استعمال كئے گئے ھيں، اس پر توجہ كرتے ھوئے، دو معاني منافقين كي فتنہ گرى كے مفھوم كو بيان كرنے والے ھوسكتے ھيں149

پھلا احتمال: يہ ھے كہ منافقين كي فتنہ پرورى كا ھدف اسلامي معاشرہ ميں اختلاف كي ايجاد اور مسلمانوں كے اندر فتنے و افتراق كا پيدا كرنا ھے۔

 

دوسرا احتمال: يہ ھے كہ ان كي فتنہ گرى كا مقصد شرك و بي ايماني كي ترويج كرنا ھے، ذيل كي آيت ميں فتنہ بہ معني شرك كا مشاھدہ ھوتا ھے۔

 

( وقاتلوھم حتي لا تكون فتنۃ ويكون الدين كلہ للہ) 150

 

اور تم لوگ ان كفار سے جھاد كرو يھاں تك كہ فتنہ كا وجود نہ رہ جائے۔

يہ آيت دو مرتبہ قرآن ميں نازل ھوئي ھے فتنہ ان آيات ميں شرك كے معني ميں استعمال ھوا ھے، صاحب ايمان حضرات كو حكم ديا گيا ھے كہ جھان ميں شرك و بت پرستي كے ريشہ كني تك مبارزہ و جنگ كرتے رھيں۔

اكثر مفسرين حضرات منافقين كے لئے فتنہ گرى كے معاني ميں پہلے احتمال كو قبول كرتے ھيں اور فتنہ گرى كے معاني كو (تفريق كلمہ) مسلمين كے درميان تشتت و افتراق كو سمجھتے ھيں ليكن ميري نظر ميں دونوں احتمال كو جمع كيا جاسكتا ھے، اس بيان كے ذريعہ كہ، منافقين ايجاد و اختلاف كے ذريعہ مسلمين كي وحدت اور اسلامي حاكميت كو تضعيف و سرنگوں كرتے ھوئے، شرك كے حامي اور طاغوتي حكومت كے خواستگار ھيں اس لئے كہ اسلام نيز حق كي حاكميت ختم ھوجانے كے بعد طاغوت و باطل كے سواء رہ ھي كيا جاتا ھے۔

( فماذا بعد الحق الّا الضلال) 151

حق كے بعد، گمراھي كے علاوہ كيا رہ گيا۔

بھر حال طول تاريخ ميں مشاھدہ ھوتا ھے كہ انبياء كے دشمنوں نيز استعمار گروں كا شيوۂ كار يہ رھا ھے كہ، اختلاف ڈالو اور حكومت كرو، جن لوگوں نے اس شيوہ طرز كا استعمال كيا ھے ان ميں سے ايك، فرعون بھي ھے۔

( ان فرعون علا في الارض و جعل اھلھا شيعا) 152

فرعون نے روئے زمين پر بلندي اختيار كي اور اس نے اھل زمين كو مختلف حصوں ميں تقسيم كرديا۔

منافقين بھي اس شيوہ، اختلاف ڈالو اور حكومت كرو كا استعمال كر كے فائدہ حاصل كرتے تھے، ھميشہ اختلاف ايجاد كرنے كي فكر ميں رھتے تھے تاكہ دوبارہ كفر كي حاكميت كو واپس لے آئيں۔

( لو خرجوا فيكم مازادوكم الا خبالا ولأ وضعوا خلالكم يبغونكم الفتنۃ وفيكم سمّاعون لھم واللہ عليم باالظالمين) 153

اگر يہ تمھارے درميان نكل پڑتے تو تمھاري وحشت ميں اضافہ ھي كرتے اور تمھارے درميان فتنہ كي تلاش ميں گھوڑے دوڑاتے اور تم ميں سے ايسے لوگ بھي تھے جو ان كي سننے والے بھي تھے، اور اللہ تو ظالمين كو خوب جاننے والا ھے۔

مذكورہ كي آيت سے استفادہ ھوتا ھے كہ جھاد كي صف ميں منافقين كا وجود، تفرقہ و ترديد اور قلوب كو ضعيف كرنے كا سبب ھے، يہ اپنے سريع حضور و شديد ھنگامہ آرائي كي بنا پر ان مسلمانوں كو جو عميق فكر نھيں ركھتے تھے اور منافق كے خطرات كو درك كرنے سے قاصر تھے فوراً تحت تاثير قرار ديتے تھے، تاكہ لشكر كے افراد ميں تفرقہ ايجاد كرسكيں۔

مسجد ضرار كے بنانے ميں بھى، ھنگامہ، فتنہ گرى، مومنين كے درميان ايجاد تفرقہ اور كفر كي ترويح جيسے امور ان كے اھداف و مقاصد تھے154

خداوند عالم سورہ توبہ كي آيت نمبر اڑتاليس جو منافقين كي جنگ تبوك ميں فتنہ انگيزي كے صورت حال كو بيان كرتي ھے اس ميں اس بات كي طرف اشارہ ھے كہ فتنہ انگيزي منافقين كي دائمي رفتار ھے اور اس ميدان ميں سبقت ركھتے ھيں منافقين جنگ احزاب (خندق) ميں بھي تفرقہ ايجاد كرنے كا ارادہ ركھتے تھے ليكن كامياب نھيں ھوسكے۔

( لقد ابتغوا الفتنۃ من قبل و قلبوا لك الامور حتي جاء الحق و ظھر امر اللہ وھم كارھون) 155

بے شك انھوں نے اس سے قبل بھي فتنہ كي كوشش كي تھي اور تمھارے امور كو الٹ پلٹ دينا چاھتے تھے يھاں تك كہ حق آگيا اور امر خدا واضح ھوگيا اگر چہ يہ لوگ اسے ناپسند كر رھے تھے۔

تاريخ ميں وافر شواھد موجود ھيں كہ منافقين، مومنين ميں ايجاد اختلاف اور وحدت كلمہ كو نيست و نابود كرنے كے لئے بھت زيادہ سعي و كوشش كيا كرتے تھے صرف دو مورد كو بيان كيا جارھا ھے :

1 ۔ جنگ احد ميں عبد اللہ ابن ابي جو منافقين كے اركان ميں سے تھا، تين سو افراد كو لے كر رسول اعظم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے لشكر سے جدا ھوكر، مدينہ پلٹنے كا ارادہ كر ليا، بعض اشخاص نے جيسے عبد اللہ جابر انصاري كے والد جو خزرج قبيلہ كے سرداروں ميں سے تھے كافي نصيحتيں كيں ليكن فائدہ بخش نہ رھى، عبد اللہ ابن ابي رسول اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي صفوں سے جدا ھونے كا بھانہ يہ كر رھا تھا كہ ھم جن افراد كي قدر و قيمت كے قائل نھيں، پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے ان كے مشورہ كو قبول كرتے ھوئے احد كي طرف حركت كي ھے، عبد اللہ ابن ابي اپنے ان الفاظ و حركات سے چاھتا تھا كہ قبيلہ كے سرداروں كو بھڑكائے اور احد ميں شريك ھونے سے منع كرسكے ليكن كامياب نہ ھوسكا 156

2 ۔ مھاجرين ميں سے ايك شخص بنام “جھجاة” اور ايك فرد انصار بنام “سنان” كا كنويں سے پاني لينے كے موقع پر اختلاف ھوگيا شخص مھاجر كے انصار كے منھ پر طمانچہ مار دينے كي وجہ سے، رسم جاھليت كي بنا پر دونوں طرف كے افراد اپنے قبيلہ و گروہ كي نصرت كے لئے ننگي تلواريں لے كر ميدان ميں اتر آئے، قريب تھا كہ طرفين ميں شديد جنگ شروع ھوجائے ليكن رسول اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي مداخلت سے ايسا نہ ھوسكا آپ نے فرمايا: اس طرح سے لڑنا اور مدد كا مانگنا شرم اور نفرت انگيز ھے منافق جماعت چاھتي تھي كہ اس موقعيت سے فائدہ اٹھائيں اور طرفين ميں قبيلہ كے تعصب كو بھڑكائيں اور فتنہ ايجاد كريں ليكن مرسل اعظم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي دخالت سے يہ سازش بھي ناكام رھى157

اس طرز كے مشابہ حوادث اور واقعات سے عبرت حاصل كرنا چاھئے اور اس نكتہ كي طرف متوجہ رھنا چاھئے كہ دشمن ھميشہ چاھتا يہ ھے كہ فضا كو كينہ عداوت اور اختلاف سے آلودہ كئے رھے تاكہ دوبارہ جاھليت كے رسم و رواج كو حاكميت بخش سكے، يہ رفتار و شيوہ فقط كل كے منافقين كا نھيں تھا بلكہ آج اور آئندہ كے منافقين كا بھي ايسا ھي طرز عمل رھے گا۔

حضرت امام علي افتراق كے نقصانات، منافقين كي فتنہ گرى كے خطرات كار گر ھونے كے سلسلہ ميں فرماتے ھيں :

(( و ايم اللہ ما ختلفت امۃ قط بعد نبيھا الاظھر اھل باطلھا علي اھل حقھا الا ما شاء اللہ )) 158

خدا كي قسم ھر امت ان كے پيامبر كے بعد اختلافات سے دوچار ھوئي ھے اور اھل باطل حق پر قابض ھوگئے ھيں مگر وھاں جھاں خدا نے نھيں چاھا ھے۔

اھل حق كا آپس ميں اختلاف و تفرقہ پيدا كرنے كا نتيجہ و ثمرہ، اھل باطل كا ابھرنا اور ان كے اقتدار و قبضہ كا وسيع ھونا ھے لھذا اسي دليل كي بنا پر منافق جماعت شدت سے كوشش كرتي ھے كہ اھل حق كے درميان اختلاف اور دو دلي ايجاد كرديں تاكہ اس كے ثمرہ سے فائدہ اٹھا سكيں۔

امير المومنين حضرت علي عليہ السلام كے دوران حكومت، معاويہ اور اس كے اھل كار امام كے لشكر اور افراد ميں فتنہ برپا كرنے اور اختلاف ڈالنے ميں كامياب ھوگئے اور جب آپ كے افراد اختلاف و تفرقہ كي بنا پر مختلف گروھوں ميں تقسيم ھوگئے، باوجوديكہ ان كا رھبر و قائد (امام علي عليہ السلام) جيسا بھترين فرد زمان و مكان تھا ليكن منافق جماعت اپنے ھدف ميں كامياب ھوگئي اور روز بروز امام علي عليہ السلام كي حكومت كا دائرہ تنگ سے تنگ تر كرنے لگي تھي۔

جب امام علي عليہ السلام كو يمن پر بسر بن ابي ارطاة كے مسلط ھونے، نيز اس كے حولناك مظالم كي خبر پائي كوفہ كے لوگوں كو مخاطب كر كے كھا: خدا كي قسم ميں جانتا تھا كہ تمھاري رفتار و اطوار اور آپسي اختلاف و تفرقہ كي بناء پر ايسا دن ضرور آئے گا۔

( اني واللہ لأظن ان ھولاء اقوم سيد الون منكم باجتماعھم علي باطلھم وتفرقكم عن حقكم) 159

 

خدا كي قسم ميرا خيال يہ ھے كہ عنقريب يہ لوگ تم پر مسلط و قابض ھوجائيں گے اس لئے كہ يہ اپنے باطل پر متحد اور تم اپنے حق پر متحد نھيں ھو۔

نفسياتي جنگ كي ايجاد

قرآن ميں منافقين كي سياسى رفتار كي خصوصيت ميں سے ايك نفسياني جنگ كي ايجاد ھے، متزلزل و مضطرب ماحول سازى، نا امن فضا كي جلوہ نمائى، غلط اور جھوٹ افواہ كي نشر و اشاعت، معاشرے ميں بے بنياد و مختلف تھمتوں كا وجود، معاشرہ ميں ايك نفسياتي جنگ كے عناصر ھيں وہ ھميشہ اس كوشش ميں رھتے ھيں كے نفسياتي جنگ كے ذريعہ معاشرے كو اضطراب كي طرف لے جاتے ھوئے عمومي حوصلہ كو ضعيف كرديں اور مايوسي و نااميدي كا شكار بناديں، تاكہ مومنين وقت پر صحيح اور ضروري اقدام كي صلاحيت كھو بيٹھيں، اور بر محل مناسب حركت كي قدرت بھي نہ ركھ سكيں۔

نفسياتي جنگ كي ايجاد كا دوسرا مقصد يہ ھے كہ معاشرے كو حالت ترديد كا مريض بناديں، تاكہ وہ ملك كي اطلاعات و اخبار كے سلسلہ ميں مشكوك ھوجائے، اسلامي نظام كے اركان اور كار گذاران نيز ممتاز شخصيت پر سے اعتماد سلب ھوجائے، جس كا ثمرہ معاشرے ميں اختلاف و تفرقہ اور اسلامي حكومت كي تصعيف ھے منافقين نفسياتي جنگ كو وجود ميں لانے كے لئے مختلف طريقہ كار و طرز عمل سے استفادہ كرتے ھيں۔

نفسياتي جنگ كے حربے اور وسائل

1) دشمن كے عظيم اور بزرگ ھونے كي جلوہ نمائي كرانا

نفسياتي جنگ كے سلسلہ ميں ان كے وسايل ميں سے ايك، دشمن كے عظيم و بزرگ ھونے كي جلوہ نمائي كرانا،اور مسلمانوں كي قوتوں كو پست و تحقير كرنا ھے، وہ دشمن كے افراد اور وسائل كو شمار كرتے ھوئے مسلمانوں كے لشكر كو بھت معمولي اور حقير پيش كرنے كي كوشش كرتے ھيں، كہ مومنين كے دلوں ميں خوف و رعب ڈال ديں تاكہ وہ دشمن كے مقابلہ ميں نہ ٹھر سكيں۔

( واذا قالت طائفۃ منھم يا اھل يثرب لا مقام لكم فارجعوا) 160

اور جب ان كے ايك گروہ نے كہديا كہ مدينہ والو اب يھاں ٹھكانہ نھيں ھے لھذا واپس اپنے گھر چلے جاؤ۔

منافقين دشمنوں كي كاميابي كو عظيم تصور كرتے ھيں، اور مومنين كي فتح و كاميابي كو حقير سمجھتے ھيں، مشركين كو مفتضحانہ شكست كو ناچيز اور لشكر اسلام پر وارد شدہ نقصان كو خوف ناك انداز سے بيان كرتے ھيں، كبھي بے محل كاميابي كي خبر سنا كر مومنين كو غرور كا شكار بناديتے ھيں اور كبھي بے وقت شكست و خطرات كي اطلاع دے كر مومنين كو رعب و وحشت سے دوچار كرديتے ھيں161

( واذا جاءھم أمر من الأمن او الخوف اذاعوا بہ ولو ردّوہ الي الرسول والي اولي الأمر منھم لعلمہ الذين يستنبطونہ منھم) 162

جب ان كے پاس امن يا خوف كي خبر آتي ھے تو فوراً نشر كرديتے ھيں حالانكہ اگر رسول اور صاحبان امر كي طرف پلٹا ديتے تو تو ان سے استفادہ كرنے والے حقيقت حال كا علم پيدا كر ليتے۔

مذكورہ آيت سے استفادہ ھوتا ھے كہ واصل شدہ خبريں، باوجوديكہ اس كي صحت و درستگي پر مطمئن ھي ھوں منتشر نھيں كرنا چاھئے، بلكہ اس كے نتائج و اثرات كي تحقيق كرتے ھوئے نيز ذمہ دار افراد سے مشورہ كرنے كے بعد اسے نشر كرنا چاھئے اس بات كي كوئي ضرورت نھيں كہ انسان كے علم ميں جو كچھ بھي ھے وہ بيان كردے۔

حضرت امام علي عليہ السلام فرماتے ھيں :

(( لاتقل كل ما تعلم فان اللہ فرض عليٰ جوارحك كلھا فرائض تحتج بھا عليك يوم القيامۃ)) 163

ھر وہ بات جسے تم جانتے ھو اسے مت بيان كرو اس لئے كہ اللہ نے ھر عضو بدن كے كچھ فرائض قرار دئے ھيں اور ان ھي كے ذريعہ حجت قائم كي جائے گي۔

مضمون حديث اس كي طرف اشارہ كر رھا ھے كہ بعض گفتگو و سخن كا اظھار مومنين يا اسلامي نظام كے اسرار كو افشا كرنے كے مترادف ھے يا فساد و فتنہ كا باعث ھے لھذا ايسي گفتگو كرنے والا كہ جس سے ايسے اثرات مرتب ھوں عدل الھي كے محضر ميں جوابدہ ھوگا لھذا كوئي بھي كلام و گفتگو زبان پر لانے سے قبل اس كے عواقب و نتائج كے بارے ميں بھي غور و فكر كرني چاھئے، ھر بات چاھے كتني ھي سچ كيوں نہ ھو بيان كرنے سے پرھيز كرنا چاھئے۔

2) مشتبہ خبروں كي ايجاد و تشھير

نفسياتي جنگ كا دوسرا وسيلہ مشتبہ خبروں كي ايجاد اور معاشرے ميں وسيع پيمانہ پر تشھير كرنا ھے، افواہ پھيلانے والوں كا مقصد افراد پر اثر انداز ھونا ھے خواہ تھوڑے ھي عرصہ كے لئے ھو، مشتبہ خبروں كو شائع كرنا منافقين كا طرز عمل تھا اور ھے، يہ رسول اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے زمانے ميں بحراني حالات ميں رونما ھوتے تھے اضطراب اور افواہ كو پھيلا كر اسلامي معاشرے كو مضطرب كيا كرتے تھے، يہ شيطاني حركات جنگ كے زمانے ميں زيادہ عروج پر پہونچ جاتي تھيں، دشمن كے وسائل اور تعداد كا مبالغہ آميز بيان يا پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے قتل كردئے جانے يا اسير ھوجانے كي خبر، افواہ كے اصل محور ھوا كرتے تھے۔

جنگ احزاب كے موقع پر مسلمانوں كي نفسياتي كيفيت كچھ زيادہ مناسب نھيں تھي اس لئے كہ اسلام كے تمام مخالف گروہ پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي حكومت كو صفحۂ ھستي سے محو كرنے كے لئے جمع ھوگئے تھے، اور مدينہ پر حملہ كرنے كا ارادہ ركھتے تھے، اس موقع پر منافقين افواہ پھيلا كر مسلمانوں كي روحي حالت كو زيادہ سے زيادہ كمزور كر رھے تھے۔

خداوند عالم ذيل كي آيت ميں منافقين كي حركات كو برملا كرتے ھوئے تھديد كررھا ھے كہ اگر اس بد رفتاري سے دست بردار نہ ھوئے تو ان كے ساتھ ايسا كيا جائے گا كہ يہ مدينہ ميں رہ ھي نھيں سكتے ھيں۔

( لئن لم ينتہ المنافقون والذين في قلوبھم مرض و المرجفون في المدينۃ لنغرينك بھم ثم لا يجاورونك فيھا الا قليلا) 164

پھر اگر يہ منافقين اور وہ لوگ كہ جن كے دلوں ميں بيماري ھے اور مدينہ ميں افواہ پھيلانے والے اپني حركتوں سے بعض نہ آئے تو ھم آپ ھي كو ان پر مسلط كرديں گے پھر تو يہ آپ كے ساتھ ميں چند ھي دن رہ پائيں گے۔

سماج اور معاشرے ميں مشتبہ خبروں كے رائج ھونے سے روكنے كا بھترين راستہ يہ ھے كہ :

الف) اشخاص و افراد ان اخبار يا افواہ كو سننے كے بعد، جن كے صحيح ھونے ميں شك و شبہ ركھتے ھيں اس كي تشھير سے پرھيز كريں، افواہ كي تكرار و تشھير دشمن كي ايك طرح سے مدد ھے اس لئے كہ وہ اس طرح سے اپنے شوم ارادہ اور مقصد ميں كامياب ھوجاتے ھيں اكثر مواقع پر اسلامي معاشرہ اس مصيبت ميں گرفتار ھوجاتا ھے۔

حضرت امام صادق عليہ السلام نے انسان كو ھر سماعت كردہ خبر نقل كرنے سے منع فرمايا ھے

(( كفي بالمرء كذبا ان يحدث بكل ما سمع)) 165

كسي انسان كے كاذب ھونے كے لئے يھي كافي ھے كہ جس چيز كو سماعت كرے زبان پر بھي لے آئے۔

ب) حقايق كو كشف كرنے، باطل كو حق سے جدا كرنے اور مشتبہ خبر كو الگ كرنے كے لئے قابل اطمينان منبع كي طرف رجوع كرنا چاھئے تاكہ وہ ابھام كو آشكار كرديں اور دشمن اپنے شوم و منحوس مقاصد يعني مسلمانوں كي روحي وضعيت كو ضعيف كرنے يا مسلمانوں كے ايك دوسرے بالخصوص كار گزاران سے اعتماد كو سلب كرنے ميں كامياب نہ ھوسكيں۔

3) افترا پردازي و الزام تراشى

تيسرا ذريعہ جو منافقين نفسياتي جنگ كو وجود ميں لانے كے لئے استعمال كرتے ھيں افتراء پردازي و الزام تراشي ھے، منافقين كي سياسى رفتار كے خصائص ميں سے ايك خصوصيت نفسياتي جنگ كي ايجاد ھے تا كہ اسلامي معاشرے كي حرمت و آبرو اور امنيت كو خطرہ ميں ڈال سكيں۔

اسلامي فرھنگ (كلچر) ميں اشخاص كي آبرو، عزت، جان و اموال قابل احترام ھيں كوئي كسي ايك پر بھي تعرض كا حق نھيں ركھتا، اسي وجہ سے قانون معاشرت، حدود و قصاص مرتب كئے گئے ھيں تاكہ معاشرے كي امنبيت مختلف زاويہ سے قائم رھے، ان تينوں يعني جان، اموال اور آبرو ميں سے حرمت و آبرو كا خاص مقام ھے پيامبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم فرماتے ھيں :

(( ان اللہ حرّم من المسلم دمہ و عرضہ وان يظن بہ ظن السوء)) 166

خداوند عالم مومن كي جان و آبرو كو محترم سمجھتا ھے، مومن كے سلسلہ ميں سوء ظن حرام ھے

اسلام كي نگاہ ميں آبرو، حرمت كا تحفظ اس قدر اھميت كا حامل ھے كہ زنا و لواط كے الزام لگانے كو اگر ثابت نہ كرسكے تو اسي كوڑے مارنے كا حكم ھے اسي طريقہ سے غير جنسي الزام لگانے پر حاكم شرع سزادے سكتا ھے، انبياء حضرات كے مخالفوں كا دائمي شيوۂ كار، پاكيزہ ھستيوں پر الزام و افتراء پردازي رھي ھے خصوصاً جنسي بھتان تراشى، يھاں تك كہ حضرات موسي عليہ السلام اور بعض پيامبران پر بھي يہ تھمت لگائي گئي۔

نقل كيا جاتا ھے كہ قارون صرف اس لئے كہ زكاة كے قانون كو قبول نہ كرے اور فقرا و غربا كے حقوق ادا نہ كرے، ايك سازش رچى، ايك بد كردار عورت كو حكم ديا كہ مجمع ميں اٹھ كھڑي ھو اور حضرت موسي عليہ السلام پر نا مشروع روابط كا الزام لگائے، خدا كے لطف كي بنا پر صرف يھي نھيں كہ قارون كي سازش ناكام رھي بلكہ اس عورت نے حضرت موسي عليہ السلام كي پاكيزگي كا اعلان كرتے ھوئے قارون كي سازش كا بھي اعلان كرديا۔

خداوند متعال اس واقعہ كي طرف اشارہ كرتے ھوئے مسلمانوں كو نصيحت كر رھا ھے كہ تم لوگ قارون جيسي صفت كے حامل نہ ھونا۔

( يا ايھا الذين آمنوا لا تكونوا كا الذين آذوا موسي فبرأہ اللہ مما قالوا وكان عند اللہ وجيھاً) 167

ايمان والو! خبردار ان كے جيسے نہ بن جاؤ جنھوں نے موسي كو اذيت دي تو خدا نے موسيٰ كو ان كے قول سے بري ثابت كرديا اور وہ اللہ كے نزديك ايك وجيہ انسان تھے

حضرت يوسف پر تھمت لگائي گئي كہ وہ زنا كا ارادہ كررھے تھے، حضرت داؤد عليہ السلام پر الزام لگايا گيا كہ وہ ايك سپاھي كي بيوي سے شادي كرنا چاھتے تھے لھذا اس كے شوھر كو محاذ جنگ پر بھيج كر قتل كراديا، تاكہ اس كي بيوي سے شادي كرسكيں حضرت مريم عذرا سلام اللہ عليھا پر نا مشروع روابط كي بھتان تراشي كي گئي۔

قرآن كريم كي آيتوں سے استفادہ ھوتا ھے كہ منافقين بھي اسلامي معاشرہ كے پاك طينت افراد كو اپني پليد فكر كا نشانہ بناتے رھے ھيں، افك كا واقعہ اسي طرز عمل كا ايك نمونہ ھے آيت افك كي شان نزول اور اصل واقعہ كو دو طريقہ سے بيان كيا گيا ھے۔

ليكن جو طرفين سے مسلم ھے وہ يہ ھے كہ ايك پاك دامن خاتون منافقين كي طرف سے مورد اتھام قرار دي گئي تھى، اسلامي معاشرے كے افراد اس كي عزت و آبرو كا دفاع كرنے كے بجائے اس افواہ كو وسعت دے رھے تھے خداوند عالم سورہ نور كي گيارھويں آيت سے لے كر سترھويں آيت تك كے ضمن ميں منافقين كي رفتار كي سرزنش اور مسلمانوں كے رد عمل كي توبيخ كرتے ھوئے، اس قسم كي افواہ و افتراء پردازي سے مبارزہ كرنے كے صحيح اصول و شيوہ كو بتا رھا ھے، آيات كا ترجمہ پيش كيا جارھا ھے :

بے شك جن لوگوں نے زنا كي تھمت لگائي وہ تم ھي ميں سے ايك گروہ تھا۔ تم اسے اپنے حق ميں شر نہ سمجھو يہ تمھارے حق ميں خير ھے اور ھر شخص كے لئے اتنا ھي گناہ ھے جو اس نے خود كمايا ھے اور ان ميں سے جس نے بڑا حصہ ليا ھے اس كے لئے بڑا عذاب ھے، آخر ايسا كيوں نہ ھوا كہ جب تم لوگوں نے اس تھمت كو سنا تھا تو مومنين و مومنات اپنے بارے ميں خير كا گمان كرتے اور كھتے كہ يہ تو كھلا ھوا بھتان ھے، پھر ايسا كيوں نہ ھوا پھر يہ چار گواہ بھي لے آتے اور جب گواہ نھيں لائے تو يہ اللہ كے نزديك بالكل جھوٹے ھيں اور خدا كا فضل دنيا و آخرت ميں اور اس كي رحمت نہ ھوتي تو جو چرچا تم نے كيا تھا اس سے تمھيں بڑا عذاب گرفت ميں لے ليتا، جب تم اپني زبان سے چرچا كر رھے تھے اور اپنے منھ سے وہ بات نكال رھے تھے جس كا تمھيں علم بھي نھيں تھا اور تم اسے بھت معمولي سمجھ رھے تھے حالانكہ اللہ كے نزديك وہ بھت بڑي بات تھى، اور كيوں نہ ايسا ھوا جب تم لوگوں نے اس بات كو سنا تھا تو كھتے كہ ھميں ايسي بات كھنے كا كوئي حق نھيں ھے، خدايا! تو پاك و بے نياز ھے اور يہ بھت بڑا بھتان ھے، اللہ تم كو نصيحت كرتا ھے كہ اگر تم صاحب ايمان ھو تو اب ايسي حركت دوبارہ ھرگز نہ كرنا۔

امير المومنين حضرت علي عليہ السلام كے خلاف معاويہ كي پرو پيگنڈا مشيزي بھت زيادہ فعّال تھى، موقع بہ موقع، بھتان تراشي و افترا پردازي سے كام ليتي رھتي تھى، معاويہ كے افتر و الزام ميں سے ايك عثمان كے قتل ميں آپ كي شركت كا پروپيگنڈا تھا، جب كہ آپ كي ذات ايسي حركات سے مبرا تھى، آپ كا تارك الصلاۃ ھونا ايك دوسري تھمت تھي جو معاويہ نے پورے شام ميں تشھير كرا ركھي تھي۔

ھاشم بن عتبہ كا بيان ھے كہ معاويہ كے لشكر ميں ايك جوان كو ديكھا جو بھت جوش ولولہ سے لڑرھا تھا اس سے اس جوش و خروش كي وجہ دريافت كى، اس نے كھا ميں اس كو قتل كرنا چاھتا ھوں جو نماز نھيں پڑھتا ھے اور عثمان كا قاتل ھے 168

امير المومنين حضرت علي عليہ السلام كے فرق مبارك پر مسجد ميں ضربت لگنے اور اس كے ذريعہ سے آپ كي شھادت واقع ھونے كي خبر جب شام ميں منتشر ھوئي تو بعض شامي تعجب سے كھتے تھے كيا علي عليہ السلام نماز پڑھتے تھے؟ !

حضرت علي عليہ السلام پر معاويہ كي طرف سے انتھائي دردناك و تكليف دہ الزامات و اتھام ميں سے ايك آپ كي طرف سے مرسل اعظم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كو قتل كرنے كے لئے سازش اور پروگرام مرتب كرنے كي تھمت تھى169

بھر حال منافقين كا طريقہ عمل، معاشرہ ميں تلاطم و اضطراب پيدا كرنے كے لئے اتھام و الزام كے حربے كا استعمال ھوتا ھے ان كے بعض مقاصد اس سلسلہ ميں بطور اجمال پيش كئے گئے ھيں۔

شخصيت كے مجروح اور افراد كو متھم كرنے كے سلسلہ ميں منافقين كے اھداف يہ ھوتے ھيں كہ اپنے امنيتي و حفاظتي دائرہ كو محكم اور اپني شخصيت كو مبرّہ قرار ديں كيونكہ اپني پوشيدہ حالت كے آشكار و عياں ھونے سے خوف زدہ رھتے ھيں، لھذا ديگر اشخاص پر افتراء پردازي و الزام تراشي سے ھنگامہ و اضطراب پيدا كرتے رھتے ھيں تاكہ صاحبان ايمان كي شخصيت اس سے مضمحل اور متأثر ھوتي رھے170

——————————————————————————–

50. سورہ نساء/ 89۔

51. سورہ بقرہ/ 217۔

52. سورہ آل عمران/ 149۔

53. سورہ بقرہ/ 109۔

54. سورہ قلم/ 9۔

55. نھج البلاغہ، خطبہ200۔

56. سورہ مائدہ/ 49۔

57. سورہ اسراء/ 73/ 74۔

58. سورہ بقرہ/ 105۔

59. سورہ آل عمران/ 120

60. سورہ آل عمران/ 118 و /119۔

61. سورہ نساء/ 102۔

62. نھج البلاغہ، نامہ/ 53۔

63. سورہ توبہ/ 8۔

64. سورہ بقرہ/ 217۔

65. سورہ مائدہ/ 13۔

66. سورہ انفال/ 60

67. سورہ نساء/ 71، بعض مفسرين نے كلمہ حذر كو اسلحہ سے تفسير كي ھے حالانكہ حذر كے معني وسيع ھيں وسائل جنگ سے مختص نھيں نساء كي آيت 102 حذر و اسلحہ كے تفاوت كو پيش كر رھي ھے اس آيت ميں دونوں لفظ كا استعمال ھوا ھے اور يہ تعدد معنا كي علامت ھے، (ان تصنعوا اسلحتكم و خذو احذركم)

68. سورہ مائدہ/ 57، 58۔

69. سورہ نساء/140۔

70. اس سلسلہ ميں بحث اصل چھارم ميں پيش كي جائے گي۔

71. سورہ ممتحنہ/ 4۔

72. سورہ ممتحنہ/ 8، 9۔

73. فتوح البلدان، ص67۔

74. وسائل الشيعہ، ج11، ص49۔

75. سورہ مجادلہ/14۔

76. سورہ انعام/ 68۔

77. سورہ آل عمران/ 149۔

78. سورہ مريم/ 81۔

79. سورہ نساء/ 139۔

80. سورہ منافقون/8۔

81. سورہ فاطر/ 10۔

82. الدرالمنصور، ص2، ص717۔

83. ميزان الحكمہ، ج6، ص298۔

84. بحار الانوار، ج78، ص10۔

85. سورہ عنكبوت/ 41۔

86. سورہ احزاب/ 39۔

87. سورہ آل عمران/ 173۔

88. نھج البلاغہ، خطبہ193۔

89. اصول كافى، ج2، ص68۔

90. سورہ مائدہ/ 52۔

91. وسائل الشيعہ، ج1، ص10۔

92. سورہ احزاب/6۔

93. سورہ مائدہ/ 55۔

94. سورہ نساء/ 64۔

95. سورہ آل عمران/ 31۔

96. سورہ نور/ 51۔

97. سورہ يونس/32، “فما ذا بعد الحق الا الضلال”۔

98. سورہ نور/ 52۔

99. قاموس الرجال، ج6، ص121۔

100. سورہ نور، 47، 48۔

101. سورہ نور/ 49۔

102. سورہ نساء/ 65۔

103. وسائل الشيعہ، ج18، ص3۔

104. سورہ نساء/60۔

105. مواھب الرحمٰن، ج8، ص253

106. سورہ نساء/61۔

107. سورہ منافقون/7۔

108. سورہ نساء/ 81۔

109. سورہ نور/62۔

110. سورہ نور/63۔

111. سورہ توبۂ/ 81، 82۔

112. سورہ احزاب/36۔

113. نھج البلاغہ، حكمت 321 و نيز تاريخ طبرى ض6، ص3089، مروج ذھب، ج2، ص365۔

114. نھج البلاغہ، خطبہ 34۔

115. نھج البلاغہ، 118

116. تاريخ طبرى، ج2، ص224۔ فروغ ابديت، ج2، ص535۔

117. سورہ حجرات/1۔

118. بحار الانوار، ج68، ص164۔

119. سورہ حجرات/2۔

120. سورہ نور/63۔ اس آيت كے لئے دو تفسير بيان كي گئي ھے، ايك وہ جو متن ميں موجود ھے دوسرے وہ جس كي علامہ طباطبائي تاكيد كرتے ھيں كہ يہ آيت پيامبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي دعوت كے سلسلہ ميں ھے اور مفھوم يہ ھے كہ جس وقت پيامبر (ص) تم كو كسي امر كے لئے بلائيں چونكہ دعوت الھي رھبر كي طرف سے ھے لھذا پيامبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي دعوت كو ايك معمولي و عادي دعوت نھيں سمجھنا چاھئے۔

121. سورہ توبہ/61۔

122. الدرالمنثور، ذيل آيت58 سورہ توبہ۔

123. اسد الغابہ، ص1، ص474۔

124. سورہ توبہ 58: لمز ونصح كے معني ميں فرق ھے لمز كينہ پروري كے بناء پر عيب يابي كے لئے ھوتا ھے تا كہ شخصيت كو نظروں سے گرا ديا جائے، كھا جاتا ھے۔

125. سورہ نساء/ 141، نكتہ قابل توجہ يہ ھے كہ اس آيت ميں مسلمانوں كي كاميابي كو فتح سے تعبير كيا گيا ھے جب كہ كفار كي كاميابي كو نصيب سے تعبير كيا گيا، اس بات كي طرف اشارہ ھے اگر كفار كو كاميابي ملے تو وہ وقتي اور محدود و پائدار نھيں ھے، ليكن دائمي فتح مومنين كے لئے ھے اس آيت كے ذيل ميں اسي نكتہ كي تصريح ھورھي ھے كہ كفار مومنين پر مسلط نھيں ھوسكتے۔

126. سورہ احزاب/ 19۔

127. ” سلقوكم، سلق” مادّہ سے ھے اس كے معنى، كسي چيز كو غصہ سے كھولنا ھے خواہ يہ كھولنا ھاتھ سے ھو يا زبان سے، يہ تعبير ان لوگوں كے لئے استعمال ھوئي ھے جو آمرانہ و طالبانہ طرز سے چيختے ھيں اور كسي چيز كو طلب كرتے ھيں۔ السنہ حداد تيز و طرار زبان خشن ھونے كے لئے كنايہ ھے۔

128. سورہ فتح/15۔

129. الامام الصادق و المذاھب الاربعہ، ج3 و 4، ص 312۔

130. ملل و نحل شھرستانى، ج1، ص241؛ الامام الصادق و المذاھب الاربعہ،ج3 و4، ص314۔

131. فضل اللہ نوري و مشروعيت: روياروئي دو انديشہ، ص251 و 255۔

132. سورہ حديد/10۔

133. نھضتھاي اسلامي در صد سال اخير، ص96۔99۔

135. كلمات قصار پند ھاو حكمتھا، ص176۔

136. سورہ ھود/ 27۔

137. سورہ شعراء/111۔

138. سورہ كھف/ 28۔

139. سورہ اعراف/66۔

140. سورہ توبہ/ 16۔

141. سورہ بقرہ/ 13۔

142. سورہ توبہ/ 79۔

143. سورہ فتح/ 29۔ (محمد رسول اللہ والذين معہ اشداء الكفار رحماء بينھم) محمد خدا كے فرستادہ ھيں اور وہ لوگ جوان كے ساتھ ھيں كفار كے مقابلہ ميں سخت اور اپنوں كے درميان مھربان ھيں۔

144. سورہ توبہ/67۔

145. سورہ نساء/ 81۔

146. اس جلسہ كي تشكيل اور اس كے افشاء ھونے كے سلسلہ ميں بيان كيا جاچكا ھے۔

147. سورہ روم/31، 32 (ولا تكون من المشركين من الذين فرقوا دينھم وكانوا شيعاً كل حزب بما لديھم فرحون) مشركوں ميں سے نہ ھوجانا، ان لوگوں ميں سے جنھوں نے دين ميں تفرقہ پيدا كيا ھے اور گروھوں ميں بٹ گئے ھيں پھر ھر گروہ جو كچھ اس كے پاس ھے اسي پر مست ومگن ھے۔

148. نھج البلاغہ، خطبہ27۔

149. اصل لغت ميں فتنہ، وھاں استعمال ھوتا ھے جھاں سونے كو خالص كرنے كے لئے آگ ميں قرار ديتے ھيں۔ قرآن ميں فتنہ سات معاني ميں استعمال ھوا ھے ان كا قدر مشترك (مشكل و سختي كا وجود ھے) ۔

150. سورہ انفال/39، سورہ بقرہ/193۔

151. سورہ يونس/32۔

152. سورہ قصص/4۔

153. سورہ توبہ/47۔ يھاں (سماع) سے مراد سادہ لوح اور تاثير پذيري ھے گرچہ بعض مفسرين نے جاسوس كے معني ميں ليا ھے ليكن جب منافقين خود ھي لشكر ميں ھوں تو جاسوسي كرنا لغو ھے۔

154. سورہ توبہ/107 (والذين اتخذوا مسجدا ضرارا وكفرا وتفريقا بين المومنين) ۔

155. سورہ توبہ/48۔

156. تفسير الميزان، ج10، ص238۔

157. سيرت ابن ھشام ج2، ص29۔ منشور جاويد قرآن، ج4، ص81، 82۔

158. شرح نھج البلاغہ، ابن ابي الحديد، ج5، ص181۔

159. نھج البلاغہ، خطبہ25۔

160. سورہ احزاب/13۔

161. اس نكتہ كو سورہ احزاب كي آيت نمبر 60 سے استفادہ كيا جاسكتا ھے۔

162. سورہ نساء/83۔

163. نھج البلاغہ، حكمت، 382۔

164. احزاب 60 اس آيت ميں جو تين عنوان ذكر كئے گئے ھيں 1: منافقين 2: مريض دل 3: مرجفون (افواہ پھيلانے والے) كيا يہ تينوں عنوان تين گروہ كے ھيں جو مدينہ ميں سازش كر رھے تھے يا يہ ايك ھي گروہ كے صفات ھيں؟ بعض نے فرمايا ھے كہ سازش كرنے والے تين گروہ تھے منافقين، مريض دل كہ جن كا شمار اراذل و اوباش ميں ھوتا تھا جو محاذ جنگ پر جانے كے بجائے مسلمانوں كے لئے اذيت و تكليف كے اسباب فراھم كرتے تھے، مرجفون افواہ پھيلانے والے ھيں، ليكن يہ بھي احتمال ھے كہ يہ تينوں عنوان منافقين كے لئے ھوں اس توضيح كے ساتھ كہ دوسرا اور تيسرا عنوان ان كي خصوصيت كو بيان كررھا ھے جس كو اصطلاح ميں ذكرالخاص بعدالعام كھا جا تا ھے۔

165. بحار الانوار، ج2، ص159۔

166. تفسير قرطبى، ج16، ص332۔

167. سورہ احزاب/96۔

168. تاريخ طبرى، ج6، ص2556۔

169. الغارات، ج2، ص581۔

170. اس نكتہ كو سورہ فتح كي آيت نمبر 15 سے استفادہ كيا جاسكتا ھے۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.