قرآن اور عترت کو ثقلین کہے جانے کی وجہ تسمیہ

0 2

ابن ابی الحدید کہتے ہیں: جب پیغمبر اکرم  (ص) نے خود کو جوار رحمت پروردگار کی طرف انتقال ہونے کے قریب پایا جیسے ایک مسافر ایک منزل سے دوسری منزل کی طرف منتقل ہوتا ہے، تو کتاب خدا (قرآن) اور عترت کو اپنی متاعِ حیات اور جاہ و حشم کی جگہ قرار دیا اس لیے کہ وہ آنحضرت  (ص) کی مخصوص ترین اشیاء تھیں اسی لیے امت کو ان کی سفارش اور وصیت کی۔

صاحب منھاج البراعة کہتے ہیں: اظہر یہ ہے کہ ”ثقل“ عمدہ سامان کا معنی کیا جائے کیونکہ جلالت و منزلت کے لحاظ سے عظیم اور گراں قدر ہے۔

یہاں مناسب یہ ہے کہ نہج البلاغہ کے خطبات میں سے ایک خطبہ کی طرف اشارہ کیا جائے وہ خطبہ جس کا آغاز اس عبارت سے ہوتا ہے:

۲۱۔ ”عِبٰادَ اللّٰہِ اِنَّ مِنْ اَحَبِّ عِبٰادَ اللّٰہِ اِلَیْہِ عَبْدٌ اَعٰانہَ ُاللّٰہُ عَلٰی نَفْسِہِ ․․․“ ”بندگان خدا ! اللہ کی نگاہ میں سب سے محبوب بندہ وہ ہے جس کی خدا نے اس کے نفس کے خلاف مدد کی ہے ․․․“ خطبہ کے آخری حصے میں رسول اکرم  (ص) کے قول پر عمل کرنے کی لوگوں کو یاد دہانی کراتے ہوئے فرمایا:

”اِنَّہُ یَمْوتُ مَنْ مٰاتَ مِنّا وَلَیْسَ بِمَیِّتٍ (۱) وَیَبلٰی مَنْ بَلِیَ مِنّا وَلَیْسَ بِبٰالٍ “

”فَلاٰ تَقُولُوا بِمٰا لاٰ تَعْرِفُونَ ، فَاِنَّ اَکْثَرَ الْحَقِّ فیِمٰا تُنْکِرُونَ وَاَعْذِرُوا مَنَ لاٰ حُجَّةَ لَکُمْ عَلَیْہِ وَاَنَا ھُوَ“․

”اٴَلَمْ اَعْمَلْ فیکُمْ بِالثَّقَلِ الْاکْبَرِ وَاٴَتْرُکْ فیِکُمُ الثَّقَلَ الْاَصْغَرِ ، قَدْ رَکَزْتُ فیِکُمْ رٰایَةَ الاِیمٰانِ وَوَقَفْتُکُمْ عَلٰی حُدُودِ الْحَلاٰلِ وَالْحَرٰامِ “․ (۲)

یعنی ”اے لوگو! پیغمبر خاتم النبین  (ص) کے اس قول کو ان کی اولاد طاہرین کے بارے میں قبول کرو، کیا گمان کرتے ہو کہ ہمارا مرنے والا میت ہوتا ہے حالانکہ ہم میں سے کوئی مرور زمانہ سے مردہ نہیں ہوتا اور اس طرح کیا خیال کرتے ہو کہ ہم میں سے جانے والا بوسیدہ ہوجاتا ہے حالانکہ ہم میں سے کوئی بھی مرور زمانہ سے بوسیدہ نہیں ہوتا“۔

”اے لوگو! جو تم نہیں جانتے ہو وہ نہ کہو، اس لیے کہ بسا اوقات حق اسی میں ہوتا ہے جسے تم نہیں پہچانتے ہو اور جس کے خلاف تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، لہٰذا اس کے عذر کو قبول کرلو اور اس کی مذمت نہ کرو جس کے بارے میں تمہیں کوئی دلیل نہ ملی ہو۔ اور وہ میں ہوں، میں نے تمہیں راہ راست

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ آیہٴ کریمہکی طرف اشارہ ہے۔ ”اور خبردار راہ خدا میں قتل ہونے والوں کو مردہ خیال نہ کرنا وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے یہاں رزق پارہے ہیں۔ آل عمران، ۱۶۹

(۲)۔ نہج البلاغہ، خطبہ نمبر ۸۷۔

کی طرف ہدایت کی اور میں نے تمہارے لیے عذر کی کوئی راہ نہیں چھوڑی لیکن تم نے میری پیروی نہیں کی۔ کیا میں نے تمہارے درمیان ثقل اکبر (قرآن مجید) پر عمل نہیں کیا ہے اور کیا ثقل اصغر اپنے اہل بیت کو تمہارے درمیان نہیں رکھا ہے، میں نے تمہارے درمیان ایمان کے پرچم کو نصب کردیا ہے اور تمہیں حلال و حرام کے حدود سے آگاہ کردیا ہے “۔

شیعہ امامیہ کے اعتقاد کے مطابق عترت قرآن سے افضل ہے، اور وہ لوگ قرآن کے محافظ و سرپرست ہیں لیکن قرآن کا اکبر ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن اصل ہے اور تمام لوگ اس کی پیروی اور اقتدا کرتے ہیں ۔ (۱)

علامہ خوئی رحمة اللہ علیہ شارح نہج البلاغہ رقم طراز ہیں: ”عترت بھی اصل ہے اور اس کی تمام لوگ پیروی اور اقتدا کرتے ہیں“۔

اور یہ احتمال بھی پایا جاتا ہے کہ قرآن کا اکبر سے متصف ہونا اس جہت سے ہے کہ معجزہ رسالت اور رسالت و ولایت کی سند شرع مبین اور دین اسلام کی اصل و اساس ہے اگر قرآن نہ ہوتا تو نہ رسالت ہوتی نہ ہی شریعت اور ولایت، نہ ہی امن و ایمان ثابت ہوتا لہٰذا بڑے ہونے سے قرآن توصیف کیا گیا ہے۔

ممکن ہے کہ عظیم صحابی (ابو سعید خدری) کی روایت سے بھی اس بات کا استظہار کیا جائے وہ بیان کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم  (ص) نے فرمایا:

۲۲۔ ” اِنِّي تٰارکٌ فیکُمُ الثَّقَلَیْن اَحَدُھُمٰا اَکْبَرُ مِنَ الْآخَرِ کِتٰابَ اللّٰہِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمٰآءِ اِلَی الْاَرْضِ وَعِتْرَتی اَھْلَ بَیْتی ، لَنْ یَفْتَرِقٰا حَتّیٰ یَرِدٰا عَلَیَّ الْحَوْضَ“: (۲)

”یقینا میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں ان میں سے ایک، دوسر ی سے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ شرح نہج البلاغہ ابن میثم، ج۲، ص ۳۰۳۔

(۲)۔ ینابیع المودة، ج۱، ص ۴۶۰، غایة المرام، ج۲، ص ۳۱۴۔

بڑی ہے، (جو بڑی ہے) وہ کتاب خدا قرآن مجید ہے جو ایسی رسی ہے کہ زمین سے آسمان تک کھنچی ہوئی ہے (اور جو چھوٹی ہے) میری عترت جو میرے اہل بیت ہیں۔ یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر وارد ہوں گے“۔

اس سے زیادہ واضح امام محمد باقر   – کی روایت ہے جسے جابر ابن عبد اللہ نے بیان کیا ہے کہ حضرت رسول خدا  (ص) نے فرمایا:

۲۳۔ ”یٰا اَیُّھَا النّٰاسُ اِنّی تٰارِکٌ فیکُمُ الثَّقَلَیْنِ ، الثَّقَلُ اَلْاَکْبَر وَالثَّقَلُ الْاَصْغَر، اِنْ تَمسَّکْتُمْ بِھِمٰا لَنْ تَضِلُّوا وَلَنْ تُبَدِّلوُا ، فَاِنّی سَاٴَلْتُ اللّٰہَ اللَّطیٖفَ الْخَبیٖرَ لاٰ یَفْتَرِقٰانِ حَتّیٰ یَرِدٰا عَلَیَّ الْحَوْضَ فَاُعْطیتُ “․

”فَقیلَ : فَمَا الثَّقَلُ الْاکْبَرُ وَمَا الثَّقَلُ الْاٴصَغَرُ ؟ فَقٰالَ: اَلثَّقَلُ الْاَکْبَرُ کِتٰابُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ، سَبَبٌ طَرَفُہُ بِیَدِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَطَرَفٌ بِاَیْدیکُمْ وَالثَّقَلُ الْاٴصْغَرُ عِتْرَتي اَھْلُ بَیْتي “ : (۱)

”اے لوگو! یقینا میں تمہارے درمیان دو گراں قدر امانتیں چھوڑ رہا ہوں، جب بھی ان سے متمسک رہو گے اور مضبوطی سے پکڑے رہو گے، گمراہ نہ ہوگے اور ان کو دوسری چیز سے تبدیل نہ کرو لہٰذا میں نے مہربان خدائے لطیف و خیبر سے درخواست کی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر وارد ہوں ، پس خداوند متعال نے مجھے عطا فرمایا“۔

سوال کیا گیا: وہ بڑی امانت کون سی ہے اور چھوٹی امانت کیا ہے؟ فرمایا: ”بڑی امانت کتاب خدا قرآن مجید ہے جو ایسا وسیلہ ہے کہ اس کا ایک سرا خداوند متعال کے دست قدرت میں ہے اور دوسرا سرا تم لوگوں کے ہاتھ میں ہے اور چھوٹی امانت میری عترت اور میرے اہل بیت ہیں“۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔مختصر البصائر، ص ۹۰، غایة المرام، ج۲، ص ۳۳۹۔

۲۴۔ جو کچھ تفسیر علی ابن ابراہیم قمی میں انہوں نے اپنے باپ سے، صفوا ن ابن یحییٰ سے، ابی جارود سے، عمران ابن میثم سے، مالک ابن حمزہ سے انہوں نے ابوذر سے روایت کی ہے، وہ جابر کی روایت کی مزید وضاحت بیان کرتی ہے۔ ابوذر کہتے ہیں: جب آیت (۱) ”قیامت کے دن جب بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض چہرے سیاہ ہوں گے“ نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم  (ص) نے فرمایا:

” تَرِدُ عَلَیَّ اُمَّتي یَوْمَ الْقِیٰامَةِ عَلیٰ خَمْسِ رٰایٰاتٍ :

فَرٰایَةٌ مَعَ عِجْلِ ھٰذِہِ الْاُمَّةِ فَاَسْاٴْلُھُم مٰا فَعَلْتُم بِالثَّقَلَیْنِ مِنْ بَعْدِی ؟ فَیَقُولُونَ اَمّا الْاکْبَرُ فَحَرَّفْنٰاہُ وَ نَبَذْنٰاہُ وَرٰآء ظُھُورِنٰا ، وَاَمَّا الْاَصْغَرُ فَعٰادَیْنٰاہُ وَاَبْغَضْنٰاہُ وَظَلَمْنٰاہُ ، فَاَقُولُ: رُدُّوا اِلَی النّٰارِ ضَمْآءَ مُضِمِئیٖنَ مُسْوَدَّةً وُجُوھُکُمْ ․

ثّمَُ تَرِدُ عَلَیَّ رٰایَةٌ مَعَ فِرْعَوْنِ ھٰذِہِ الْاُمَّةِ فَاَقُولُ لَھُمْ : مٰا فَعَلْتُمْ  بِالثَّقَلَیْنِ ، مِنْ بعْدی؟

فَیَقُولُونَ : اَمَّا الْا کْبَرُ فَحرَّفْنٰاہُ وَمَزَّقْنٰا ہُ وَخٰالَفْنٰاہُ، وَاَمَّا الْاَصْغَرُ فَعٰادَیْنٰاہُ وَقٰاتَلْنٰاہُ ، فَاَقُولُ رُدُّوا اِلَی النّٰار ضَمْآءَ مُضْمِئینَ مُسْوَدَّةً وُجُوھُکُمْ ․

ثُمَّ تَرِدُ عَلَیَّ رٰایَةٌ مَعَ سٰامِرِیِّ ھٰذِہِ الْاُمَّةِ فَاَقُولُ لَھُمْ : مٰا فَعَلْتُمْ بِالثَّقَلَیْنِ مِنْ بَعْدِي ؟

فَیَقُولُونَ : اَمَّا الْاکْبَرُ فَعَصَیْنٰاہُ وَ تَرَکْنٰاہُ وَاَمَّا الٴَاصْغَرُ فَخَذَلْنٰاہُ وَضَیَّعْنٰاہُ فَاَقُولُ رُدُّوا اِلَی النَّارِ ضَمْآءَ مُضْمِئینَ مُسْوَدَّةً وُجُوھُکُمْ ․

ثُمَّ تَرِدُ عَلَیَّ رٰایَةٌ ذِی الثَّ دیَةِ مَعَ اَوَّلَ الْخَوٰارِجِ وَآخِرِھِمْ وَاَسْئَلُھُمْ مٰا فَعَلْتُمْ بِالثَّقَلَیْنِ مِنْ بَعْدی فَیَقُولُونَ اَمَّا الْاکْبَرْ فَمَزَقْنٰاہُ وَ بَرِئْنٰا مِنْہُ وَاَمَّا الاٴَصْغَرُ فَقٰاتَلْنٰاہُ وَ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔سورہ آل عمران، آیت ۱۰۶۔

قَتَلْنٰاہُ فَ اَقْولُ رُدُّوا اِلَی النّٰارِ ضَمْآءَ مُضْمِئینَ مُسْوَدَّةً وُجُوھُکُمْ ․

ثُمَّ تَرِدُ عَلَیَّ رٰایَةٌ مَعَ اِمٰامِ الْمُتَّقینَ وَ سَیِّدِ الْمُسْلِمینَ وَ قٰائِدِ الْغُرِّ الْمُحَجَّلینَ وَوَصِیِّ رَسُولِ رَبِّ الْعٰالَمینَ ، فَاَقُولُ لَھُمْ مٰا فَعَلْتُمْ بِالثَّقَلَیْنِ مِنْ بَعْدِی ؟

فَیَقُولُونَ: اَمَّا الْاکْبَرُ فَاتَّبَعْنٰاہُ وَاَطَعْنٰاہُ ، وَاَمَّا الْاَصْغَرُ فَاَحْبَبْنٰاہُ و وٰالَیْنٰاہُ وَزُرْنٰاہُ وَ نَصَرْنٰاہُ حَتّیٰ اُھْریقَتْ فیھِمْ دِمٰائُنا ، فَاَقُولُ رُدُّوا اِلَی الْجَنَّةِ رَوّٰآءَ مَرْوِیّینَ مُبْیَضَّةً وُجُوھَکُمْ ․

ثُمَّ تَلیٰ رَسُولُ اللّٰہِ  (ص) “ ․ (۱)

جب سورئہ آل عمران کی آیت نمبر ۱۰۶ نازل ہوئی تو حضرت رسول اکرم  (ص) نے فرمایا:

میری امت بروز محشر پانچ علم لے کر میرے پاس پہنچے گی:

۱) پہلا عَلم میری اس امت کے گوسالہ (بچھڑے) کا ہوگا ان سے دو گراں قدر امانتوں کے بارے میں سوال کروں گا؟ تو وہ کہیں گے: لیکن جوان میں سے بڑی امانت کتاب خدا تھی اس کی ہم نے تحریف کی تھی اور اس کو پس پشت ڈال دیا تھا (اس پر عمل نہیں کیا) لیکن جو چھوٹی امانت عترت تھی اس کو اپنی دشمنی اور بغض و حسد کا نشانہ بنایا اور اس پر ظلم و ستم کیا تھا، لہٰذا میں کہوں گا : روسیاہ اور پیاسے ہوکر جہنم کی طرف چلے جاؤ۔

۲) پھر میرے پاس میری اس امت کے فرعون کا دوسرا علم وارد ہوگا، پھر ان سے دو گراں قدر امانت کے بارے میں سوال کروں گا کہ تم نے میرے بعد ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟ تو وہ کہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔تفسیر قمی، ج۱، ص ۱۰۹، تفسیر برہان، ج۱، ص ۴۷۴، غایة المرام، ج۲، ص ۳۴۶۔

گے: لیکن جو ان میں سے بڑی امانت کتاب خدا تھی اسے ہم نے بدل ڈالا اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کرکے اس کے برخلاف عمل کیا، لیکن جو چھوٹی امانت عترت تھی اس سے لڑائی اور دشمنی کی تھی، تو میں ان سے کہوں گا: روسیاہ اور نہایت تشنگی کے عالم میں جہنم کی طرف چلے جاؤ۔

۳) اس کے بعد میرے پاس میری اس امت کے سامری کا تیسرا علم وارد ہوگا، پھر میں ان سے سوال کروں گا کہ تم نے ان دونوں گراں قدر امانتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ وہ لوگ کہیں گے: لیکن جوان میں سے بڑی امانت (قرآن) تھی اس کی نافرمانی کی تھی اسے پس پشت ڈال دیا تھا اسے چھوڑ دیا تھا اور جو چھوٹی امانت (عترت) تھی اس کو ذلیل و رسوا کیا تھا اسے ضایع کردیا تھا پھر انہیں بھی روسیاہ اور تشنگی کے عالم میں جہنم کی طرف بھیجوں گا۔

۴) اس کے بعد میرے پاس اس امت کا چوتھا علم تمام خوارج کی ہمراہی میں وارد ہوگا ان میں اول سے آخر تک کی ہر ایک فرد سے دریافت کروں گا: تم نے میرے بعد ان دو گراں قدر امانتوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟ وہ کہیں گے: لیکن جو ان میں سے بڑی امانت کتاب خدا تھی اس کو ٹکڑے ٹکڑے کیا اس سے بیزار ہوگئے تھے کنارہ کشی کی تھی لیکن ان میں سے جو چھوٹی امانت (عترت) تھی ان سے لڑے اور ان سب کو قتل کیا تھا پھر انہیں بھی روسیاہی اور تشنگی کے عالم میں جہنم کی طرف بھیجوں گا۔

مزید  شعب ابی طالب سے غزہ تک

۵) پھر (سب سے آخر میں) امام المتقین، سید الوصیین قائد غرّ المحجلین حضرت علی ابن ابی طالب- کا پرچم وارد ہوگا، پھر ان سے بھی سوال کروں گا کہ میرے بعد ان دونوں گراں قدر امانتوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟ وہ کہیں گے: لیکن جو ان میں سے بڑی امانت کتاب خدا تھی اس کی پیروی کی اور اس کے احکام پر عمل کیا اس کی اطاعت کی تھی لیکن جو ان میں سے چھوٹی امانت (عترت) تھی ان سے محبت کرتے تھے ان کو اپنا سرپرست قرار دیا، ان کی زیارت کی ان کی نصرت و مدد کی یہاں تک کہ ہم نے اپنے خون کا آخری قطرہ ان کی نصرت میں قربان کردیا تھا، پھر میں ان سے کہوں گا:حوض کوثر سے سیراب ہوکر نورانی اور سفید چہروں  کے ساتھ جنت میں چلے جاؤ۔

اس کے بعد حضرت رسول اکرم  (ص) نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی: ”قیامت کے دن بعض چہرے سفید اور نورانی ہوں گے“۔

ان روایات سے نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ :ریسمان الٰہی سے متمسک رہنا خواہ وہ قرآن مجید ہو یا اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام ہوں اختلافات رفع کرنے کے لیے بہت قوی عامل ہیں جو دنیا میں ملتوں کے درمیان اور امتوں کے مابین مادی، معنوی، اعتقادی، اخلاقی دنیا اور آخرت کے متعلق رونما ہوتے ہیں۔ اب اس سلسلے میں چند آیات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

۱) : (۱)

”اور ہم نے آپ پر کتاب (قرآن کریم) صرف اس لیے نازل کی ہے کہ آپ ان مسائل کی وضاحت کردیں جن میں یہ اختلاف کیے ہوئے ہیں (وہ امور جو مبداٴ و معاد، حلال و حرام سے مربوط ہیں) اور یہ کتاب صاحبان ایمان کے لیے مجسمہ ہدایت اور رحمت ہے“۔

۲) : (۲)

”اور تم لوگ کس طرح کافر ہوجاؤ گے جب کہ تمہارے سامنے آیات الٰہیہ کی تلاوت ہورہی ہے اور تمہارے درمیان رسول (پیغمبر اکرم  (ص)) موجود ہے اور جو خدا سے وابستہ ہوجائے سمجھو کہ اسے سیدھے راستہ کی ہدایت کردی گئی“۔

انکار اور اظہار تعجب ان کے کفر کی وجہ سے ہے حالانکہ ان کے لیے تمام مقتضی ایمان کے اسباب اور کفر کے مواقع جمع ہوگئے تھے۔ خداوند متعال کی آیات اور نشانیاں اللہ کی معرفت کے لیے قوی ترین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔سورہ نحل، آیت ۶۴۔

(۲)۔سورہ آل عمران، آیت ۱۰۱۔

عامل ہے، اس کے علاوہ پیغمبر اکرم  (ص) کا مقدس وجود جو تمام کا تمام نور اور ہدایت کا حامل ہے ان کے درمیان موجود تھا، اس بنا پر جو شخص ان کے دین سے متمسک ہو اور تمام امور میں ان سے التجا کرے تو یقینا وہ راہ راست کی طرف ہدایت پاگیا ہے۔

جملہٴ اس بات کو گوش گزار کر رہا ہے کہ تمہیں کتاب الٰہی کی تلاوت اور اس میں تدبر و تفکر کی طاقت موجود تھی اور ان امور میں جو تم پر مخفی تھے رسول خدا  کی طرف رجوع کرنے یا ان امور میں بھی جو یہودی لوگ تمہیں یاد دلاتے تھے،

اور سے مراد: وہی راستہ ہے کہ جس میں اختلاف نہیں ہے اور نہ ہی اختلاف ہوسکتا ہے اور اس وادی پر چلنے والے افراد کبھی بھی گمراہ نہیں ہوں گے۔ (۱)

۳) (۲)

”اور یقینا ہم نے موسی کو کتاب دی تو اس میں بھی اختلاف پیدا کردیا گیا اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے بات نہ ہوگئی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا اور یہ لوگ اس عذاب کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے ہیں“۔

جملہ :

یعنی: جس وقت ہم نے حضرت موسیٰ   – کو کتاب (توریت) دی تو ان کی قوم کے درمیان اختلاف ہوگیا تھا، بعض ایمان لائے اور بعض نے کفر اختیار کیا، جس طرح ان لوگوں نے قرآن میں بھی اختلاف ایجاد کیا۔

۲۵۔ روضہ کافی میں امام محمد باقر   -سے روایت ہوئی ہے کہ حضرت نے فرمایا:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔تفسیر المیزان، ج۳، ص ۳۶۵۔

(۲)۔ سورئہ ہود، آیت ۱۱۰۔

”اِخْتَلَفُوا کَمَا اخْتَلَفَ ھٰذِہِ الْاُمَّةُ

 فی الْکِتٰابِ وَسَیَخْتَلِفُونَ فی الْکِتٰابِ الَّذی مَع الْقٰائِمِ علیہ لسلام  الَّذی یَاٴتیھِمْ  بِہِ حَتّیٰ یُنْکِرُہُ  نٰاسٌ مِنْھُمْ  فَیُقَدِّمُھُمْ  فَیَضْرِبُ اَعْنٰاقَھُمْ “ :

” ( یہودیوں نے)اختلاف کیا جس طرح اس امت نے کتاب ”قرآن“ میں اختلاف کیا اور عنقریب اس قرآن میں بھی اختلاف کریں گے جب حضرت قائم آل محمد  – اسے لے کر آئیں گے، یہاں تک کہ اس کا بعض لوگ انکار کریں گے پھر حضرت (اتمام حجّت کے بعد) ان کی گردنوں کو کاٹ دیں گے“۔

آیہٴ کریمہ کے اس فقرہ میں موسی  – کے بعد توریت میں یہودیوں کے اختلاف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے لوگوں کے دنیوی امور میں اختلاف کو متعدد مرتبہ ذکر کیا ہے جو ایک فطری امر ہے لیکن ان کا اختلاف جو ظلم اور تجاوز کے علاوہ ہے وہ بھی علم و یقین کی وجہ سے تھا اس کا کوئی منشا نہیں پایا جاتا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (۱) (سارے انسان فطرتاً ایک امت تھے پھر سب آپس میں الگ الگ ہوگئے)۔ فرماتا ہے: (۲) (اور اہل کتاب نے علم آنے کے بعد ہی جھگڑا شروع کیا ہے صرف آپس کی شرارتوں کی بنا پر) فرماتا ہے: (۳)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورئہ یونس، آیت ۱۹۔

(۲)۔ سورئہ آل عمران، آیت ۱۹۔                                    

(۳)۔ سورئہ بقرہ، آیت ۲۱۳۔

(فطری اعتبار سے) (سارے انسان ایک قوم تھے پھر اللہ نے بشارت دینے والے اور ڈرانے والے انبیاء بھیجے اور ان کے ساتھ برحق کتاب نازل کی تاکہ لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کریں اور اصل اختلاف انہیں لوگوں نے کیا ہے جنہیں کتاب مل گئی ہے اور ان پر آیات واضح ہوگئیں صرف بغاوت اور تعدی و تجاوز کی بنا پر)۔

مذکورہ آیات سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ : جنہوں نے اختلاف ایجاد کیا باوجودیکہ انبیائے الٰہی نے ان کے لیے دین کو واضح و روشن طور پر بیان فرما دیا ہے، جان بوجھ کر تعدی اور ظلم و ستم کی وجہ سے اختلاف کیا ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسا مقدر فرمایا ہے کہ ہر وہ عمل جو لوگ انجام دیتے ہیں اس کا انہیں اجر و ثواب عطا کرے اور یہی تقاضا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں اسی اختلاف میں حکم اور فیصلہ کرے لیکن حکمت الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ بھی روئے زمین پر لطف اندوز ہوں تاکہ قیامت اور ان کی دنیا آباد ہو اور اپنے لیے زاد آخرت مہیا کریں، جیسا کہ فرمایا: (۱) ”زمین میں تمہارے لیے ایک مدت تک ٹھکانا اور سامان زندگانی ہے“۔

ان دونوں قضاو قدر کا تقاضا یہ ہے کہ جن لوگوں نے دین الٰہی اور کتاب خدا (قرآن) میں تعدی اور ظلم و ستم کی وجہ سے اختلاف ایجاد کیا ہے ان کا عذاب قیامت کے دن تک ملتوی کردیا جائے۔ (۲)

۴) (۳)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورئہ اعراف، آیت ۲۴۔

(۲)۔ المیزان، ج۱، ص ۴۵۔

(۳)۔ سورئہ نساء، آیت ۶۵۔

”پس آپ کے پروردگار کی قسم! کہ یہ ہرگز صاحبِ ایمان نہ بن سکیں گے جب تک آپ کو اپنے اختلافات میں حَکَم نہ بنائیں اور پھر جب آپ فیصلہ کردیں تو اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی کا احساس نہ کریں اور آپ کے فیصلہ کے سامنے سراپا تسلیم ہوجائیں “۔

۲۶) کافی میں حضرت امام محمد باقر   – سے روایت نقل ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا: یقینا خداوند متعال نے امیر المومنین  – کو اپنی کتاب کی اس آیت میں مورد خطاب قرار دیا قٰالَ : فیمٰا تَعٰاقدُوا عَلَیْہِ لَئِنْ اٴَمٰاتَ اللّٰہُ مُحَمَّداً  (ص) لاٰ یَرُدُّوا ھٰذَا الْاَمْرَ فی بنی ہاشمٍ ثُمَّ لاٰ یَجِدُوا فی اَنْفُسِھِمْ حَرَجاً فیمٰا قَضَیْتُ عَلَیْھِمْ مِنَ الْقَتْلِ اَوِ الْعَفْوِ وَیُسِلِّمُو ا تَسْلیماً “(۱)

”فرمایا: جو کچھ اس کے بارے میں عہد و پیمان کیا تھا یہ تھا اگر اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو مار دے تو اس امر (رسالت و امامت کو بنی ہاشم میں نہ آنے دیں گے پھر اس سے اپنے نفسوں میں کوئی تنگی نہ پائیں گے اس امر میں کہ جو تو نے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا ہے قتل یا عفو کرنے کا اور یہ کہ تیرے حکم کو مکمل طور پر تسلیم کریں“۔

و قولہ تعالیٰ : ․ (۲)

”اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو رسول اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو جو تمہیں میں سے ہیں پھر اگر آپس میں کسی بات میں اختلاف ہوجائے تو اسے خدا اور رسول کی طرف پلٹادو اگر تم اللہ اور روز آخرت (قیامت) پر ایمان رکھنے والے ہو یہی تمہارے حق میں خیر اور انجام کے اعتبار سے بہترین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔اصول کافی، ج۱، ص ۳۹۱، تفسیر برہان، ج۲، ص ۱۵۸۔

(۲)۔ سورئہ نساء، آیت ۵۹۔

بات ہے“۔

یہ آیہٴ کریمہ اور چند بعد والی دوسری آیات ایک اہم ترین اسلامی مسائل میں سے یعنی مسئلہ قیامت اور واقعی اماموں کی راہ کو مختلف دینی اور سماجی مسائل کے بارے میں معین کرتی ہے۔

سب سے پہلے جو لوگ ایمان لائے انہیں حکم دیتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت کریں یہ ظاہر ہے کہ ایک باایمان فرد کے لیے تمام اطاعتیں اطاعت پروردگار تک اختتام پذیر ہوں اور ہر قسم کی رہبری اور قیادت اس کی ذات پاک سے نشاٴة پاتی ہو اور اسی کے تابع فرماں ہو چونکہ جہان ہستی کا حاکم اور تکوینی (تخلیقی) مالک خداوند سبحان ہے اور ہر طرح کی حاکمیت اور مالکیت بھی اسی کے حکم سے ہونی چاہیے: ․ (۱)

بعد والے مرحلے میں پیغمبر اکرم  (ص) کی پیروی کا حکم دیتا ہے وہ پیغمبر  (ص) جو معصوم ہے اور کبھی بھی ہوا و ہوس کی بنا پر کلام نہیں کرتا۔ ایسا پیغمبر جو لوگوں کے درمیان خدا کا نمائندہ ہے اور اس کا قول خدا کا قول ہے : ․ (۲) اس موقعیت اور منصب کو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کیا ہے اس بنا پر خداوند متعال کی اطاعت اس کی خالقیت اور حاکمیت کی ذات کے تقاضے کے مطابق ہے، لیکن پیغمبر اکرم  (ص) کی اطاعت اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے۔ دوسری تعبیر میں یوں کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ واجب الاطاعت بالذات ہے پیغمبر واجب الاطاعت بالغیر ہیں اور شاید اس آیت میں ”اطیعوا“ کی تکرار اسی موضوع کی طرف اشارہ ہو کہ فرمایا:․

مزید  خو شبوئے حیات حضرت امام محمد باقر علیہ السلام

تیسرے مرحلے میں اولو الامر کی اطاعت کا حکم دیتا ہے جو اسلامی معاشرہ کے درمیان سے نکلا اور لوگوں کے دین و دنیاکا محافظ ہے۔ (۳)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورئہ نساء، آیت ۵۹۔

(۱)۔سورئہ نجم، آیت ۵۔                                             

(۲)۔ تفسیر نمونہ، ج۳، ص ۴۳۵۔

اس سلسلے میں کہ اولو الامر کون لوگ ہیں؟ مفسرین کے درمیان بہت سے مختلف نظریات پائے جاتے ہیں، ان سب کی وضاحت کو اگر مدّنظر رکھا جائے تو اس کتاب کے دائرہ سے خارج ہے، ہم اولو الامر کو معادن وحی و قرآن سے ذکر ہونے والی آیات و روایات جو سب کے لیے تسکین بخش اور مومنین کے قلوب کو نورانی بنانے والی ہے۔

۲۷۔ تفسیر عیاشی میں جابر جعفی سے روایت نقل ہوئی ہے کہ انہوں نے امام محمد باقر   – سے آیہٴ کے متعلق دریافت کیا، تو فرمایا:

”اس سے مراد اوصیاء ہیں“۔ (۱)

۲۸۔ ابن شہر آشوب نے حسن ابن صالح سے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق   – سے اس مذکورہ آیت کے بارے میں ، میں نے دریافت کیا تو فرمایا: ”الائِمَّةُ مِنْ اھِل بَیت رسولِ اللّٰہِ  (ص) “ (۲)  ”اہل بیت رسول خدا  (ص) کے ائمہ مراد ہیں۔“

شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے اس جیسی حدیث ابو بصیر سے امام محمد باقر   – سے نقل کی ہے اور وہاں یہ فقرہ ذکر ہوا ہے کہ حضرت نے فرمایا: ”الاٴئِمَّةُ مِنْ وُلدِ عَلِیٍّ وَفٰاطِمَةَ اِلیٰ اَن تَقُومَ السّاعَةُ“ :

”اس سے روز قیامت تک اولاد علی و فاطمہ علیہما السلام سے ائمہ مراد ہیں“۔ (۳)

۲۹۔ مشہور و معروف اسلامی مفسر ابو حیان اندلسی مغربی (متوفی ۷۵۶ئھ ق) تفسیر بحر المحیط میں رقم طراز ہیں کہ یہ آیت علی  – اور ائمہٴ اہل بیت  کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ (۴)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ تفسیر عیاشی، ج۱، ص ۴۰۷ (حدیث ۱۶۹) تفسیر برہان، ج۳، ص ۱۴۵ (حدیث ۱۱۷) بحار ج۲۳، ص ۳۰۰ (حدیث ۵۲) ۔

(۲)۔ مناقب ابن شہر آشوب ج۳، ص ۲۰۔

(۳)۔ کمال الدین، ج۱، ص ۲۲ (حدیث ۸) تفسیر البرہان، ج۳، ص ۱۴۱ (حدیث ۱۰)

(۴)۔تفسیر بحر المحیط۔

۳۰۔ تفسیر برہان میں شیخ صدوق نے اپنے اسناد کے ساتھ جابر ابن عبداللہ انصاری سے روایت کی ہے کہ جب خداوند متعال نے اپنے پیغمبر حضرت محمد   (ص) پر آیہٴ  نازل فرمائی تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! خدا اور اس کے رسول کی معرفت حاصل کرلی، پس اولو الامر کون سے افراد ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اطاعت کو آپ کی اطاعت کے ساتھ قرار دیا ہے؟ تو آنحضرت نے فرمایا:

”ھُمْ خُلفائی یا جابِر وائمَّةُ المسْلمینَ مِن بَعدی : اَوَّلُھُم عَلیُّ بن ابی طالِبٍ ، ثُمَّ الحَسَنُ، ثُمَّ الْحُسَیْنُ ، ثُمَّ عَلیِّ بنُ الْحُسَیْنُ ، ثُمَّ محمَّدُ بنُ علیٍ المعروُفُ فی التّوراة  بِالباقِر، ستدرکُہُ یا جابِرُ ، فَاِذا لقیٖتَہُ فاقراٴہ مِنّی السَّلامَ ، ثُمَّ الصادقُ جعفرُ بن محمّدٍ ، ثُمَّ موُسیٰ بن جَعفرٍ ، ثُمَّ عَلی بنُ موُسیٰ، ثُمَّ محمَّدٌ بنُ عَلیٍ ، ثُمَّ عَلیٌّ بنُ محمَّدٍ ، ثُمَّ الْحَسَنُ بنُ عَلیٍّ ، ثُمَّ سَمیّیٖ (محمّدٌ) وَکَنِیّیٖ حجة اللّٰہ فی ارضِہِ وَبقیَّتُہُ فی عِبادِہِ ، ابنُ الحَسَن بن عَلیٍ ، ذاکَ الذی یَفتَحُ اللّٰہَ تعالیٰ ذکرُہُ عَلیٰ یَدَیہِ مشارِقَ الارضِ وَمغارِبھا ، ذاکَ الَّذی یَغیبُ عَن شیعتِہِ وَاَولیآئہِ غیبَةً لا یثبتُ فیہِ عَلَی القولِ بامامَتِہِ الا مَن اِمتحَنَ اللّٰہ قَلبہُ للایمانِ “․

قال جابر: فَقُلتُ لَہُ یا رَسُولَ اللّٰہِ فَھَل یَقَعُ لِشیعتِہِ الِانتِفاع بِہِ فی غیبتِہِ ؟فَقالَ ”ای وَالَّذی بَعَثنی بِالنّبوةِ انّھم یستَضیئوُنَ بِنورِہِ وَینتفعوُنَ بِوِلایتِہِ فی غیبتہِ کانتفاعِ النّاسِ بالشَّمسِ وَان تجَلاّٰھا سَحابٌ ، یا جابُر ھذا مِن مَکنوُنِ سرِّ اللّٰہِ ، وَمخزونِ عِلمِ اللّٰہِ  فاکتمہُ الاَّعَن اہلِہِ “ : (۱)

”اے جابر ! وہ میرے خلفاء و اوصیاء اور مسلمانوں کے امام ہوں گے، ان میں سے اول علی ابن ابی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ کمال الدین، ج۱، ص ۲۵۳ (حدیث، ۳) تفسیر برہان، ج۳، ص ۱۳۴۔

طالب ، پھر حسن، پھر حسین، پھر علی ابن الحسین، پھر محمد ابن علی کہ جن کا نام توریت میں باقر مشہور ہے، اے جابر! تم عنقریب ان کو پاؤ گے جب تم ان سے ملاقات کرنا تو ان کو میرا سلام کہنا، پھر جعفر ابن محمد

الصادق، پھر موسی ابن جعفر، پھر علی ابن موسی، پھر محمد ابن علی، پھر علی ابن محمد، پھر حسن ابن علی ہوں گے، ان کے بعد میرے ہم نام (محمد) اور میری ہم کنیت حجّت خدا ، بقیة اللہ روئے زمین میں اللہ کے بندوں کے درمیان حسن ابن علی علیہم السلام کے فرزند ہوں گے۔

وہ ایسی فرد ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے دست مبارک سے زمین کے تمام مشرق و مغرب کو کامیابی و کامرانی عطا فرمائے گا۔

وہ وہی بزرگوار ہیں جو اپنے شیعوں اور چاہنے والوں کی نظروں سے ایک عرصہ تک غائب ہوجائیں گے آپ کی امت میں سے وہ لوگ اپنے عقیدہٴ امامت پر ثابت قدم رہیں گے کہ جس کے قلب کا امتحان اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ذریعے لے لیا ہوگا۔

جابر نے عرض کیا: اے رسول خدا! کیا حضرت کے شیعوں کو ان کی غیبت کے زمانہ میں کوئی فائدہ حاصل ہوگا؟ تو آنحضرت  (ص) نے فرمایا: ہاں ”قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے نبوت (و رسالت) کے ساتھ مبعوث کیا! وہ لوگ آپ کی غیبت میں آپ کی ولایت کے نور کی ضو سے اسی طرح فائدہ اٹھائیں گے جس طرح سورج بادل کو چھپالیتا ہے تو لوگ سورج کی روشنی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

اے جابر! یہ بات اللہ تعالیٰ کے راز میں پوشیدہ ہے، علم الٰہی کے خزانہ میں مخفی ہے، لہٰذا (اس راز کو) اس کے اہل کے سوا دوسروں سے پوشیدہ رکھو“۔

۳۱۔ اہل سنت کے مشہور و معروف علماء میں سے شیخ سلیمان حنفی قندوزی نے اپنی کتاب ینابیع المودة میں کتاب مناقب سے سلیم ابن قیس ھلالی سے روایت نقل کی ہے کہ ایک دن ایک شخص امیر المومنین حضرت علی  – کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا: وہ کون سی مختصر شے ہے کہ جس کی وجہ سے بندہ مومنین میں شامل ہوجاتا ہے؟ اور وہ کون سی مختصر شے ہے کہ جس کی وجہ سے بندہ کافروں یا گمراہوں میں شامل ہوجاتا ہے؟ تو امام علی  – نے فرمایا: جب تم نے سوال کر ہی لیا ہے تو جواب کو سنواور سمجھو:

” امّا اٴدنٰی مایکَوُنُ بِہِ الْعَبْدُ موٴمِناً اٴن یُعَرِّفَہُ اللّٰہ تبارکَ وَ تَعالیٰ نَفسہ فَیُقِرَّلَہُ بِالطّاعَةِ وَ یُعَرِّفَہُ نَبِیَّہُ   (ص) فَیُقِرَّلَہُ بِالطّاعَةِ ویُعَرِّفَہُ اِمامَہُ وَحجتہُ فی ارضِہِ وَشاھِدَہُ عَلیٰ خَلقِہِ فَیُقِرَّلَہُ بِالطّاعَةِ ․

قُلتُ: یا امیر الموٴمنین وَانِ جَھِلَ جَمیع الاٴشیاءِ اِلاّ ما وَصَفَت ؟

قالَ: نَعَم اِذا اَمَرَ اطاعَ وَاِذا نَھی انتَھی ․

وَادنی مایکوُنُ العَبدُ بِہِ کافِراً مَن زَعَمَ انَّ شَیئاً نَھَی اللّٰہ عَنْہُ انَّ اللّٰہ امَرَہُ بِہِ وَنصبہُ دیناً یتَوَلّی عَلَیہِ ، وَیَزعُم انَّہُ یَعبد اللّٰہ الذی امرَہُ بہِ وَما یعبُدُ الاَّ الشیطانَ․

وَامّا ما یکَوُنُ العبد بہ ضالاً اَن لا یعرِف حجَة اللّٰہ تبارکَ و تعالٰی وَ شاہِدَہُ عَلیٰ عِبادہِ الَّذی اَمَرَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ عِبادَہُ بِطاعَتِہ وَ فَرضَ ولایتَہُ ․

قُلت: یا اَمیرَ الموٴمنینِ صِفھُم لی ․

قالَ: الذینَ قَرنہُ اللّٰہ تعالیٰ بنفِسِہ وَنَبیّہ فقال:

فَقلت لَہُ: جَعَلَنی اللّٰہ فَداکَ اَوْضِحْ لی ․

فَقالَ: الَّذینَ قالَ رَسوُلُ اللّٰہِ (ص) فی مَواضِعَ وَفی آخِر خُطَبةٍ یَومَ قبضَہُ اللّٰہ عزوَجَلَّ اِلیہِ – اِنّی تَرَکتُ فیکُم اَمْرینِ لَن تَضِلّوا بعدی اِن تَمَسَّکْتُمْ  بھِمٰا ، کِتٰابَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَ عِتْرَتی ، اَھْلُ بَیْتی ، فَانَّ اللَّطیفَ الخَبیر ، قَدَ عَھدَ اِلَیَّ اَنَّھُما لَنْ تَفْرقٰا حَتّی یردا عَلَیّ الحوضَ کھاتینِ ، وَجَمَعَ مسبحتَیہِ ، وَلا اقولُ کَھاتَین ، وَجَمَعَ مَسبحَتَہ والوُسطی فَتَمسکَوَا بِھِمٰا وَلا تقدَّموُھم فتضِلّوا “ (۱)

”وہ مختصر سی شے جس کی وجہ سے بندہ مومنین میں شامل ہوجاتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کو اپنی معرفت عطا کرتا ہے پھر وہ اس کی اطاعت کا اقرار کرتا ہے اور اپنے نبی کی اس کو معرفت عطا کرتا ہے۔پھر وہ ان کی اطاعت کا اقرار کرتا ہے نیز اس کو اپنے امام کی معرفت عطا کرتا ہے جو روئے زمین پر اس کی حجّت اور مخلوق پر گواہ ہے پھر وہ اس اطاعت کا اقرار کرتا ہے۔

میں نے عرض کیا: یا امیر المومنین ! جو اوصاف آپ نے بیان فرمائے ہیں اگر ان سب سے ناواقف ہو تو؟ فرمایا: ہاں! اگر اس کو حکم دیا جائے تو وہ اطاعت کرے اور جب اسے منع کیا جائے تو وہ اس سے باز آجائے اور وہ کم ترین شے جس کی وجہ سے بندہ کافروں میں شامل ہوجاتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان نے کسی چیز کے بارے میں محض یہ خیال کیا کہ اس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے جس کا اس نے حکم دیا ہے لہٰذا اسے اس کے اپنے لیے ایک دین کی شکل دے دی اور اس کی اطاعت اور ولایت کو اپنے لیے لازم بنالیا اور اس نے اپنے خیال میں یہ گمان کیا کہ وہ اللہ کی عبادت کر رہا ہے حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتا بلکہ شیطان کی عبادت کرتا ہے۔

لیکن وہ کم ترین شے جس کی وجہ سے بندہ گمراہوں میں شامل ہوجاتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ شخص حجّت خدا کی محبت اور اس کے بندوں کے گواہ کی معرفت نہیں رکھتا کہ جس کی اطاعت اور ولایت کو (اپنے بندوں پر) فرض قرار دیا ہے۔

 اس شخص نے عرض کیا: یا امیر المومنین ! ان حضرات کی توصیف سے ہمیں آگاہ فرمائیے تو امام علی  – نے فرمایا:

یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور اپنے نبی کی ذات کے ساتھ ذکر کیا اور فرمایا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ ینابیع المودة، ج۱، ص ۳۴۹۔

 

اس شخص نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے ذرا مجھے وضاحت سے بیان فرمائیے، تو حضرت علی  – نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کا ذکر رسول خدا  (ص) نے متعدد مقامات پر فرمایا ہے منجملہ ان میں سے اپنی عمر کے آخری خطبہ میں بھی جن کا ذکر کیا اور فرمایا ہے: ”انی ترکت فیکم امرین لن تضلّوا بعدی ان تمسکتم بھما، کتاب اللّٰہ وعترتی اہل بیتی“ میں تم میں دو چیزیں بطور یادگار چھوڑے جارہا ہوں اگر ان کے دامن سے متمسک رہوگے تو میرے بعد ہرگز ہرگز گمراہ نہ ہوگے ایک کتاب خدا ہے اور دوسرے میرے عترت جو میرے اہل بیت ہیں۔

مزید  مكہ مكرمہ كے اعمال

خدائے لطیف و خبیر نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ یہ دونوں ہرگز ہرگز جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر وارد ہوں گے۔

اللہ ہمیں اور تمام مومنین کو اس رزق سے نوازے انشاء اللہ۔

۳۲۔ کافی میں بطور مسند ابو مسروق نے امام جعفر صادق   – سے روایت کی ہے کہ میں نے حضرت سے عرض کیا کہ ہم علمائے علم کلام سے گفتگو کرتے ہیں اور آیت (۱) کے ذریعہ ان سے احتجاج کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں: یہ مومنین کے بارے میں نازل ہوئی اور آیہٴ مودت (۲) سے احتجاج کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں : یہ عام مومنین کے اقرباء سے محبت کرنے کے لیے نازل ہوئی ہے۔

راوی کابیان ہے: جو کچھ مجھے یاد تھا اسی طرح احتجاج کے طور پر ذکر کرتا رہا اور کوئی چیز فروگزار نہیں کی اور سب کو میں نے ذکر کیا پھر بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا تو حضرت نے فرمایا:

”اِذا کانَ ذلِکَ فادعُھُم اِلَی الْمُبٰاھَلَةِ ، قُلتُ: وَکَیفَ اٴصنَعُ ؟ فَقالَ: اٴصْلحْ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورہ نساء، آیت ۵۹۔

 

(۲)۔ سورئہ شوریٰ، آیت ۲۳۔

نَفْسَکَ ثَلاٰثاً واٴظنّہ قال: صُمْ وا غتسلِ وابرز اٴنت وھو الی الجبّان ، فشبّک اٴصابعک من یدک الْیُمْنیٰ فی اٴصابعہ ، فابدء بنفسک فقل: اللّھُم رَبَّ السَّمواتِ السَّبع وَ ربَّ الاٴرَضینَ السَّبعِ، عالِمَ الغَیبِ وَالشَّھادةِ الرَّحمٰنَ الرَّحیمُ اِن کانَ اَبوُ مَسروُق جَحدَ حَقّاً وَادَّعیٰ باطِلاً فاٴنِزل عَلَیہِ حُسباناً مِنَ السَّماءِ اوْ عذاباً الیماً ، ثُمّ ردَّ الدَّعوة علیْہِ فَقُل وَاِنْ کان فُلاٰنٌ جَحَدَ حَقّاً وَادَّعیٰ باطِلاً فاٴنزل عَلَیہِ حُسباناً مِنَ السَّمآء او عذاباً الیماً “․

ثُمَّ قالَ لی: ”فَاِنَّکَ لا تَلبثُ اٴن تَریٰ ذلِکَ فیہِ ، فَوَا للّٰہِ ما وجدت خلقاً یجیبُنی علیہِ “ (۱)

”جب ایسی صورت درپیش ہوتو ان کو مباہلہ کی دعوت دینا میں نے دریافت کیا: کیسے مباہلہ کروں، فرمایا: پہلے تین دن اپنے پاکیزگی نفس اور اصلاح کو عبادت کے ذریعہ انجام دو اور روزہ رکھو، غسل انجام دو اور اس کے بعد تم اور تمہارا مخالف دونوں ایک پہاڑ پر جاؤ اس کے بعد اپنے داہنے ہاتھ کی انگلیاں اس کی انگلیوں میں ڈال دو پھر انصاف سے کام لو یعنی پہلے اپنی طرف سے آغاز کرو اور کہو: اے خدا! اے سات آسمان اور سات زمین کے پروردگار! اے ظاہر و غائب کے جاننے والے! اے رحمن و رحیم! اگر ابو مسروق نے حق سے انکار کیا ہے اور باطل کا مدعی ہے تو اس کے لیے آسمان سے بلائے عظیم اور دردناک عذاب نازل فرما پھر یہی الفاظ اپنے مخالف سے کہلواؤ ، اگر (فلاں شخص نے) حق سے انکار کیا اور باطل کا مدعی ہے تو اس کے لیے آسمان سے بلائے عظیم اور دردناک عذاب نازل فرما“۔

۳۳۔ عیاشی نے ابو بصیر سے امام محمد باقر   – سے روایت کی ہے کہ حضرت  – نے فرمایا: آیہٴ حضرت علی ابن ابی طالب  – کے حق میں نازل ہوئی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ کافی، ج۲، ص ۵۱۳، وسائل الشیعہ، ج۷، ص ۱۳۔

میں نے عرض کیا: وہ لوگ کہتے ہیں: کون سی رکاوٹ تھی کہ اللہ تعالیٰ حضرت علی  – اور اہل بیت علیہم السلام کا نام اپنی کتاب میں ذکر کرتا؟

تو امام محمد باقر   – نے فرمایا:

” قوُلوُا لَھُمْ اِنَّ اللّٰہ  انزَلَ عَلیٰ رَسوُلِہِ الصَّلاة وَلَم یُسَمّ بہ ثلاثاً وَلا اربعَاً حَتّیٰ کانَ رَسوُل اللّٰہ   (ص) ھُوَ الَّذی فَسَّرَ ذَلِکَ لَھُم ․ وَانزَلَ الحجّ وَلَم یُنزِل طوُفوا اُسبُوعاً حَتّیٰ فَسَّرَ ذَلِکَ لَھُم رَسوُلُ اللّٰہ  (ص) وَاٴنزَلَ  فنَزلَت فی عَلیٍ والحَسَنَ والحُسینِ  علیہم السلام ․

وَقالَ فی عَلِیٍ مَن کُنتُ مَولاہُ  فَعَلیٌ مَولاہُ ،

وَقالَ رَسوُل اللّٰہ   (ص) اوُصیکُم بِکِتاب اللّٰہ واھلِ بیتی ، انّی سَاٴَلتُ اللّٰہ ان لا یفرِّقَ بینَھما حَتی یوردَھُما عَلَیَّ الحوضَ ، فَاَعُطانی ذلِکَ ، وَقالَ فَلا تُعَلِّمُوھُم فَاِنَّھُم اٴعلَمُ مِنکُم ، اِنَّھُم لَن یُخرجوُکُم مِن بابِ ھُدیً وَلَن یُدخِلوُکُم فی باب ضَلالٍ،

وَلَو سَکَتَ رَسول اللّٰہِ وَلَم یُبَیِّن اھلَھا لا دعٰاھٰا آل عبّاسٍ وَآل عقیلٍ وآل فُلانٍ وَلکِنْ انزَلَ اللّٰہ فی کتابِہِ ،(۱)

فکانَ عَلیٌ والحَسنُ والحسیَنُ وَ فاطِمَةُ علیہم السلام  تَاٴویلُ ہذہِ ِالآیة ، فاٴخذَ رَسوُل اللّٰہ  (ص) بِیَدِ عَلیٍّ وَفاطِمَةَ والحَسَنِ والحسیَنِ صَلَوات اللّٰہ علَیہم ، فاٴدخَلَھُم تحتَ الکِساءِ فی بَیتِ اُمِّ سَلَمةَ وقالَ: اللّھُم اِنَّ لِکُلِّ نبیٍّ ثقلاً واھلاً ،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورئہ احزاب، آیت ۳۳۔

فَھولٓاء ثقلی وَاَھْلی ․

وَقالَت: اُمُّ سَلَمةَ : الستُ مِن اھلِکَ ؟ قالَ اِنَّکِ اِلٰی خیرٍ، وَلٰکِن ھٰوٴُلاٰءِ ثِقلی وَاَھْلی “ (۱)

”تم ان سے کہو: اللہ تعالیٰ نے نماز کو حضرت رسول خدا  (ص) پر نازل کیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ تین رکعت یا چار رکعت یہاں تک کہ اُس کی تفسیر و توضیح رسول خدا  (ص) نے بیا ن کی، اللہ تعالیٰ نے آیہٴ حج نازل کی لیکن یہ نہیں بتایا کہ سات طواف کرو یہاں تک کہ رسول خدا  (ص) نے اس کی تفسیر و تشریح کی اور اللہ تعالیٰ نے آیہٴ علی، حسن اور حسین علیہم السلام کے حق میں نازل فرمائی۔

اور حضرت علی  – کے بارے میں فرمایا: اے لوگو! جس جس کا میں مولا اور سرپرست ہوں یہ علی بھی اس کے مولا اور سرپرست ہیں۔

اور رسول خدا   (ص) نے فرمایا: اے لوگو! میں تم میں اللہ کی کتاب اور اپنے اہل بیت کے بارے میں وصیت کرتا ہوں میں نے خدا سے دعا کی تھی کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے کبھی بھی جدا نہ ہوں یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس وارد ہوں اللہ تعالیٰ نے میری یہ حاجت قبول کی۔

مزید فرمایا: تم ان کو تعلیم نہ دو کیونکہ وہ تم سے زیادہ جاننے والے ہیں اور وہ تم کو باب ہدایت سے نہیں نکلنے دیں گے اور کبھی بھی تمہارے لیے گمراہی کا راستہ ہموار نہیں کریں گے۔

اگر رسول خدا  (ص)خاموش ہوجاتے اور اپنے اہل بیت کو نہ بتاتے تو یقینا آل عباس، آل عقیل اور فلاں خاندان والے اہل بیت ہونے کا دعویٰ کر بیٹھتے، لیکن اللہ تعالیٰ نے خود اپنی کتاب میں ان کے بارے میں آیہٴ تطہیر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ تفسیر عیاشی، ج۱، ص ۴۰۸ (حدیث ۱۷۰) اصول کافی، ج۱ ، ص ۲۸۶ (حدیث ۱) تفسیر فرات، ج۱، ص ۱۱۰ (حدیث ۱۱۲)۔

تَطْہِیرًا> نازل فرمائی کہ: اللہ کا ارادہ یہ ہے اے اہل بیت! ہر قسم کے رجس کو تم سے دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔ لہٰذا علی ، حسن ، حسین، اور فاطمہ علیہم السلام اس آیت کے مصداق ہیں۔

پھر رسول خدا  (ص) نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام کا دست مبارک پکڑا اور خانہٴ ام سلمہ میں چادر کے اندر داخل کرکے فرمایا: بار الٰہا! (اے میرے پروردگار!) ہر نبی کے کچھ اہل اور گراں قدر ذاتیں اور اہل بیت ہوا کرتے ہیں میرے اہل بیت اور گراں قدر عزیز یہ ہیں۔ ام سلمہ نے عرض کیا: کیا میں آپ کے اہل بیت میں شامل نہیں ہوں؟ تو حضرت نے فرمایا: تم ہمیشہ خیر پر ہو لیکن میرے گراں قدر عزیز اور اہل بیت یہ ہیں۔

۳۴۔ تفسیر صافی میں امام جعفر صادق   – سے روایت نقل ہوئی ہے کہ حضرت  – سے دریافت کیا گیا کہ اسلام کی بنیاد یں کن چیزوں پر قائم ہےں کہ اگر انسان انہیں حاصل کرلے تو اس کا عمل پاک و پاکیزہ ہوجائے گا اور اس کے علاوہ جہل نقصان نہیں پہنچا سکتا ؟ حضرت نے فرمایا:

”  شَہادَةُ  ان  لا  اِلہ اِلاَّ اللّٰہُ وانَّ محمَّد اً رَسوُل اللّٰہ وَالاٴقِرار بما جآءَ بِہِ مِن عِندِ اللّٰہِ وَحَقٌ فی  الاٴموالِ الزکاة ، والوِلایةُ الَّتی امَرَ اللّٰہ بِھا وِلایة آل محمَّدٍ  فَانَّ رَسوُلَ اللّٰہ  (ص) قال : مَن ماتَ وَلَم یَعرِف امامَہُ ماتَ میتةً جاھِلیةً  قال اللّٰہ تعالیٰ  فکانَ عَلیٌ علیہ السلام  ثُم صارَ مِن بَعدِہِ الحَسَنُ، ثُم مِن بَعدِہِ الحُسینُ ، ثُمّ مِن بَعدِہِ عَلیُّ بنُ الحُسینُ ، ثُم مِن بَعدِہِ مُحمدٌ بنُ علیٍ ،ثُمَّ ھکَذا یَکُون الامرْ ، اِنَّ الارضَ لا تُصلحُ اِلاَّ بِامِامٍ “ (۱)

 اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان تمام

(۱)۔ تفسیر صافی، ج۱، ص ۴۲۸۔

باتوں کا اقرار کرنا جو آنحضرت  (ص) خدا کی طرف سے لائے اور اپنے مال میں زکوٰة کا ہونا حق ہے اور وہ ولایت کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے وہ آل محمد ہے اور رسول خدا  (ص) نے فرمایا: جو شخص مرگیا اور اس نے اپنے امام کو نہ پہچانا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور صاحبان امر کی جو تم میں سے ہوں لہٰذا وہ علی (علیہ السلام) ہیں پھر ان کے بعد حسن پھر حسین پھر علی ابن الحسین پھر محمد ابن علی، پھر اسی طرح یہ امر جاری رہے گا، روئے زمین کی اصلاح نہیں ہوسکتی مگر امام کے ذریعہ۔

 ۳۵۔ سلیم ابن قیس ہلالی نقل کرتے ہیں: حضرت امیر المومنین  – سے دریافت کیا گیا: کم ترین شے جو انسان کو گمراہ کرتی ہے وہ کیا ہے؟ فرمایا:

 ”اَن لا یَعرِفَ مَن امَرَ اللّٰہ بِطاعَتِہِ وَفرَضَ ولایَتَہُ وَجَعَلَ حُجَّتَہُ فی ارضِہِ وَشاہِدَہُ عَلیٰ خَلقہِ ، قالَ ومَنْ ھُم یا امیر الموٴمنینَ ؟ قالَ: الَّذین قَرَنَھُمْ اللّٰہ بِنَفسِہِ وَنَبیّہِ فَقالَ :․

 قالَ: فَقَبَّلتُ رَاٴسَہُ وَقُلت: اوضَحتَ لی وَفَرَّجتَ عَنّی واذھَبت کُل شَیٍ کانَ فی قَلبی “․ (۱)

 یہ ہے کہ وہ انسان حجّت خدا کی محبت اور اس کے بندوں کے گواہ کی معرفت نہیں رکھتا کہ جس کی اطاعت اور ولایت کو اپنے بندوں پر فرض قرار دیا ہے۔

 میں نے عرض کیا: اے امیر المومنین ! وہ کون افراد ہیں؟ فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور اپنے نبی کی ذات کے ساتھ کیا ذکر کیا اور فرمایا: ’(اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو ، رسول کی اطاعت کرو اور صاحبان امر کی اطاعت کرو جو تم میں سے ہیں“۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سلیم ابن قیس، ص ۵۹، تفسیر صافی، ج۱، ص ۴۲۹۔

راوی کا بیان ہے : میں نے حضرت کے سر مبارک کا بوسہ دیا اور عرض کیا: میرے لیے آپ نے مسئلہ واضح کردیا اور میرے دل کے تمام ہم ّ و غم کو ختم کردیا۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.