قبر قران مجید

0 0

اور (اے رسول!) تم اس (منافق) کی قبر پر مت کھڑے ہونا حدیث شریف: یقین جانو کہ قبر آخرت کی منازل میں پہلی منزل ہے آگر انسان اس سے نجات پا گیا تو اس کے بعد تمام مراحل اس کے لئے آسان ہوں گے اور آگر نجات نہ پا سکا تو اس کے بعد کے مراحل اس سے کم نہیں ہوں گے(حضرت رسول اکرم) بحار الانوار جلد 6 ص 242  آخرت میں سب سے پہلے عدل قبریں ہیں جن میں امیر و غریب کی پہچان نہیں ہوتی  (حضرت رسول اکرم) مستدرک الوسائل جلد اول ص 841  ان قبروں کی طرف دیکھو جو گھروں کے دالانوں میں سطروں کی صورت میں ہیں, اپنے خطوں کے اعتبار سے ایک دوسرے کے نزدیک ہیں, زیارت کے لحاظ سے ایک دوسرے کے قریب ہیں, لیکن ملاقات کی حیثیت سے ایک دوسرے سے دور ہیں, آباد ہو جانے کے بعد برباد ہو چکی ہیں لوگ مانوس ہو جانے کے بعد ایک دوسرے سے لاتعلق ہیں, اور بسنے کے بعد اٹھا دیئے گئے ہیں اور آباد رہنے کے بعد کوچ کر گئے ہیں (امام محمد باقر علیہ السلام) بحارالانوار جلد 87 ص171  قبر پر جو  بھی ( نیا) دن آتا  ہے تو اس دن وہ کہتی ہے:

“میں غربت (پردیس) کا گھر ہوں, میں تنہائی کا گھر ہوں, میں مٹی کا گھر ہوں اور میں کیڑوں (مکوڑوں) کا گھر ہوں”

 جب کوئی مومن اس میں دفن کیا جاتا ہے تو اسے خوش آمدید کہتی ہے اور جب کوئی (فاسق و) فاجر اور کافر اس میں دفن کیا جاتا ہے وہ اسے خوش آمدید نہیں کہتی (حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہٌ وسلم) الترغیب والترہیب جلد 4 ص 732 قبر ہر روز کہتی ہے: “میں غربت (پردیس) کا گھر ہوں, میں وحشت کا گھر ہوں, میں کیڑوں (مکوڑوں) کا گھر ہوں, میں جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہوں یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہوں”(حضرت امام جعفر صادق علیھ السّلام) بحار الانوار جلد 6 ص 762 اے اہل عقل و خرد اور اے صاحبان فہم و ذکاَ! ذرا اپنے آباؤ اجداد کی اموات کو تو یاد کرو! اپنے آپ کو یوں سمجھو گویا تمہاری جانیں تم سے لے لی گئی ہیں, تمہارے جسموں سے کپڑے آتار لئے گئے ہیں اور تمہارے مال تقسیم کئے جا چکے ہیں پس اے ناز و نخرے کرنے والے! اور اے ہیبت و دہشت کے مالک! اور اے حسن و جمال کے پیکر! اب پرآگندہ حال منزل اور غبارالود مقام کی طرف منتقل ہو چکے ہو, اپنے رخسار کے بل آپنی لحد میں سو رہے ہو جو ایسی جگہ ہے جہاں ملنے والے بہت کم آتے ہیں اور کام کرنے والے دل تنگ ہو جآتے ہیں یہ کیفیت اس وقت تک جاری رہے گی جب قبریں شگافتہ ہو جائیں گی اور حشر و نشر کے لئے سب کو دوبارہ اٹھا دیا جاۓ گا   (حضرت علی علیہ السلام) بحار الانوار جلد 77 ص 173 میں نے جو بھی (بھیانک) منظر دیکھا ہے, قبر کا منظر اس سے کہیں زیادہ بھیانک ہے(حضرت رسول اکرم) تنبیہ الخواطر ص 832 جب کسی دشمنِ خدا (کے جنازہ) کو اٹھا کر اس کی قبر کی طرف لے جایا جاتا ہے تو وہ اپنے پیچھے انے والوں کو آواز دے کر کہتا ہے: “بھائیو! جس کیفیت میں میں مبتلا ہورہا تم اس سے بچ کر رہنا میں تم سے دنیا کی شکایت کرتا ہوں کہ اس نے مجھے فریب میں مبتلا رکھا جب میں نے اس پر مکمل بھروسہ کر لیا تو اس نے مجھے پچھاڑ کر فنا کر دیا میں خواہشاتِ نفسانی کے پیروکار دوستوں کی بھی تم سے شکایت کرتا ہوں جو مجھے خوش کرتے رہے, پھر جب میں ان کے ساتھ ان کا شریکِ کار ہو گیا تو وہ مجھ سے دور ہو گئے اور مجھے اکیلا چھوڑ دیا ”  (حضرت رسول اکرم ) تنبیہ الخواطر ص 254  قبروں کی ہمسائیگی اختیار کرو کہ عبرت حاصل کرو گے (حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم قبر قریب ترین رشتہ دار ہے (حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم فخر و سربلندی کو چھوڑو, تکبر و غرور کو مٹاؤ اور آپنی قبر کو یاد رکھو کیونکہ یہی (عالمِ آخرت کی طرف) تمہاری گزرگاہ ہے (حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ 351 حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے بارے میں ہے کہ آپ نے ایک قبر کے پاس رک کر فرمایا: “یہ ایسی چیز ہے جس کا آخر اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے اول کے بارے میں زہد اختیار کیا جاۓ اور جس کا اول اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے آخر سے ڈرا جاۓ”بحارالانوار جلد 37 ص 301 جلد 87 ص 023 قبر کا سوال  پھر جب مشایعت کرنے والے اور مصیبت زدہ (عزیز و اقارب) پلٹ آۓ تو اسے قبر کے گڑھے میں اٹھا کر بٹھا دیا گیا , فرشتوں کے سوال و جواب کے واسطے سوال کی دہشتوں اور امتحان کی ٹھوکریں کھانے کے لئے (حضرت علی علیہ السلام) شرح نہج البلاغہ جلد 6 ص 072 نہج البلاغہ خطبہ 38 اللہ تعالیٰ کے اس قول “یثبت اللہ الذین امنوا بالقول الثابت فی الحیواة الدنیا و فی الآخرة” , یعنی جو لوگ پکی بات (کلمہ توحید) پر (صدق دل سے) ایمان لا چکے ان کو اللہ تعالیٰ دنیا کی زندگی میں (بھی) ثابت قدم رکھتا ہے اور آخرت میں بھی ثابت قدم رکھے گا” (ابراہیم/72) کے متعلق ارشاد فرمایا کہ آخرت سے مراد ہے جب مردوں سے قبر میں سوال کیا جاۓ گا قبر میں کیا پوچھا جاۓ گا؟ یوں سمجھو گویا تمہاری زندگی کے دن پورے ہو چکے ہیں, ملک الموت نے تمہاری روح قبض کر لی ہے اور تم (قبر کی) منزل میں تنہا پہنچ چکے ہو اس میں پھر تمہاری روح کو پلٹا دیا گیا ہے اور وہاں اچانک دو فرشتے تمہارے پاس ا پہنچے ہیں ایک کا نام منکر اور دوسرے کا نام نکیر ہے وہ تم سے سوال کریں گے اور بڑی سختی کے ساتھ تمہارا امتحان لیں گے پس یاد رکھو کہ سب سے پہلا سوال جو تم سے کیا جاۓ گا وہ تمہارے اس رب کے متعلق ہو گا جس کی تم عبادت کیا کرتے تھے, تمہارے رسول کے بارے میں ہو گا جو تمہاری طرف بھیجے گئے, دین کے بارے میں ہو گا جس کی تم پابندی اختیار کرتے تھے, کتاب کے بارے میں ہو گا جس کی تم تلاوت کیا کرتے تھے اور امام کے بارے میں ہو گا جس کی ولایت کو قبول کئے ہوئے تھے پھر تمہاری عمر کے بارے میں سوال ہو گا کہ اسے کہاں ختم کیا, مال کے بارے میں سوال ہو گا کہ کہاں سے کمایا تھا اور کہاں خرچ کیا؟ لہٰذا ابھی سے اس کی تیاری کر لو اور اپنے بارے میں غور و فکر سے کام لے کر امتحان, سوال اور ازمائش سے پہلے جواب کو تیار کر لو (امام زین العابدین علیہ السلام) بحار الانوار جلد 87 ص 341 تحف العقول ص 081 جب مومن اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو ستر ہزار فرشتے قبر تک اس کی مشایعت کرتے ہیں, پھر جب اسے قبر میں دفن کر دیا جاتا ہے تو منکر و نکیر دو فرشتے اس کے پاس آ کر اسے اٹھا کر بٹھا دیتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں “تیرا رب کون ہے, تیرا دین کیا ہے اور تیرا نبی کون ہے؟” وہ جواب میں کہتا ہے: “اللہ میرا رب ہے, محمد میرے پیغمبر ہیں اور اسلام میرا دین ہے!” اس پر وہ اس کی قبر کو اس کی نگاہوں کی حدود تک کشادہ کر دیتے ہیں, اس کے پاس کھانا لے آتے ہیں اور اسے فراخی اور آرام پہنچاتے ہیں    (امام جعفر صادق علیہ السلام) بحار الانوار جلد 6 ص 222  ہمارے علماء کا کہنا ہے کہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے ابنِ ابی حمزہ کی موت کے بعد فرمایا! “اسے قبر میں اٹھا کر بٹھا دیا گیا اور اس سے ائمہ علیھ السّلام کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے سب ائمہ کے نام باری باری بتا دیئے لیکن جب میرے نام پر پہنچا تو سوال کرنے پر اس نے خاموشی اختیار کر لی جس کی وجہ سے اس کے سر پر ایسی ضرب لگائی گئی کہ اس کی قبر آگ سے بھر گئی” بحارالانوار جلد 6 ص 242 یونس کہتے ہیں کہ میں حضرت امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ علیھ السّلام نے مجھ سے پوچھا: “کیا علی بن ابی حمزہ مر گیا؟” میں نے عرض کیا: “جی ہاں! “امام علیھ السّلام نے فرمایا: “وہ جہنم میں پہنچ چکا ہے!” (راوی کہتا ہے کہ یہ سن کر) میں ڈر گیا, امام علیھ السّلام نے فرمایا: “اس سے ائمہ کے بارے میں سوال کیا گیا اور جب اس نے میرے والد موسیٰ کاظم علیھ السّلام کا نام بھی بتا دیا, اس کے بعد اس سے ان کے بعد والے امام کے بارے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں ہے! اس پر اسے کہا گیا کہ “کیا تم نہیں جانتے؟ ” پھر اس کی قبر میں ایسی ضرب لگائی گئی جس سے آگ کے شعلے بھڑک اٹھے  (بحارالانوار) جلد 6 ص 242 جب بندہ کو قبر میں دفن کر دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اس سے جدا ہو کر واپس جانے لگتے ہیں تو وہ پلٹتے وقت ان کے جوتوں کی آواز کو سنتا ہے پھر اس کے پاس دو فرشتے آ جاتے ہیں جو اسے اٹھا کر بٹھا دیتے ہیں اور پوچھتے ہیں: “اس پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہٌ وسلم کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟” آگر وہ مومن ہوتا ہے تو کہتا ہے: “میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کا بندہ اور اس کے رسول ہیں” اس پر اسے کہا جاتا ہے کہ جہنم میں مقررکردہ اپنے مقام کو دیکھو جسے اللہ تعالیٰ نے بہشت میں تبدیل کر دیا ہے” پیغمبرِ خدا فرماتے ہیں: “اس پر وہ دونوں مقاموں کو دیکھ لیتا ہے اور اگر وہ کافر یا منافق ہوتا ہے تو کہتا ہے: “مجھے معلوم نہیں میں تو ان کے بارے میں وہی کچھ کہتا تھا جو دوسرے لوگ کہا کرتے تھے ” (حضرت رسول اکرم) الترغیب و الترہیب جلد 4 ص 263 اسے بخاری اور مسلم نے بھی روایت کیا ہے, اور الفاظ اسی کے ہیں ایک اور روایت میں ہے کہ اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے اٹھا کر بٹھا دیتے ہیں پھر اس سے پوچھتے ہیں: “تیرا رب کون ہے؟” وہ کہتا ہے: “میرا رب اللہ ہے” وہ کہتے ہیں: “تیرا دین کیا ہے؟” وہ کہتا ہے, “میرا دین اسلام ہے!” پھر وہ کہتے ہیں: “جو شخص تمہاری جانب اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ہے, اس کے بارے میں کیا کہتے  ہو؟” وہ کہتا ہے: “وہ اللہ کا رسول ہے!” اس سے وہ فرشتے سوال کرتے ہیں: “تمہیں کیونکر معلوم ہوا؟” وہ کہتا ہے میں نے اللہ کی کتاب پڑھی, اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی ”    (حضرت رسول اکرم) الترغیب و الترہیب جلد 4 ص 563 میت سے قبر میں پانچ چیزوں کے بارے پوچھا جاۓ گا: نماز, زکوة, حج, روزہ اور ہم اہلبیت(ع) سے اس کی ولایت, جس پر قبر کے ایک گوشے میں موجود “ولایت” ان مذکورہ چاروں چیزوں سے کہے گی: “تم ہٹ جاؤ! میں اس کی ساری کمی کو پوری کر دوں گی” (امام جعفر صادق علیہ السلام) بحار الانوار جلد 6 ص 662(قولِ مولف: ملاحظہ ہو! بحارالانوار جلد 6 ص 142 حدیث 06) قبر میں کن لوگوں سے سوال ہو گا؟ ابوبکر حضرمی حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: “قبر میں یا تو خالص الایمان لوگوں سے سوال کیا جاۓ گا یا پھر خالص الکفر لوگوں سے” میں نے عرض کیا: “دوسرے لوگوں کا کیا بنے گا؟ ” آپ علیھ السّلام نے فرمایا: “انہیں رہنے دیا جاۓ گا”بحارالانوار جلد 6 ص 532 حدیث 062 حدیث 99, ص 262 قبر میں صرف خالص الایمان یا صرف خالص الکفر لوگوں سے سوال کیا جاۓ گا (امام جعفر صادق علیھ السّلام) بحارالانوار جلد 6 ص 062 حدیث 001حدیث 89 حدیث 79 فروع کافی جلد 3 ص 632 قول مولف: ملاحظہ ہو: “گناہ 11 باب “گناہوں کے کفارے” قبر میں فائدہ مند اعمال جب مومن کو قبر میں داخل کیا جاتا ہے تو نماز اس کے دائیں اور زکوٰة اس کے بائیں طرف آ جآتے ہیں, اور اس کی نیکی اس پر سایہ فگن ہو جاتی ہے , اور صبر اس سے ہٹ کر ایک کونے میں چلا جاتا ہے پھر جب دو فرشتے اس کے پاس سوال و جواب کے لئے آ جآتے ہیں تو صبر نماز, زکوٰة اور نیکی سے کہتا ہے: “اپنے ساتھی کا خیال رکھو اگر تم اس کے کام نہیں آ سکو گے تو میں حاضر ہو جاؤں گا!”(امام جعفر صادق علیہ السلام ) بحار الانوار جلد 17 ص 37 حضرت رسولِ خدا کا ایک قبر کے پاس سے گزر ہوا جس میں گزشتہ روز ایک مردہ کو دفن کیا گیا تھا اور اس کے ورثاء اس پر رو رہے تھے اس پر آپ نے ان سے فرمایا: “تمہاری مختصر سی دو رکعت نماز, جسے تم حقیر سمجھتے ہو, اس قبر والے کے لئے تمہاری تمام دولت سے بہتر ہے”   تنبیہ الخواطر ص 354قول مولف: ملاحظہ ہو: “دوست” باب 4″ 9122 “انسان کے تین دوست ہیں “نیز:

مزید  امام خمینی(رح)تاریخ ساز شخصیت

 “عمل” باب 1692 “

اعمال کا مجسم ہونا” “عمل” باب 8392 “عمل ایسا ساتھی ہے جو انسان سے جدا نہیں ہوتا” عنوان “وقف” ملاحظہ ہو “جہنم” باب ” آخرت میں ہر شخص کے دو گھر ہیں” قبر کا عذاب اے خدا کے بندو! جس کی بخشش نہیں ہو گی اس کے لئے موت کے بعد کے حالات موت سے شدید تر ہوں گے, (مثلاً) قبر ہے تو اس کی تنگی, گھٹن, تاریکی اور تنہائی سے ڈرو, اللہ تعالیٰ نے قرانِ مجید میں جس تنگی, گھٹن کا شکار زندگی سے قران میں اپنے دشمن کو صرحذر کیا ہے وہ قبر کا عذاب ہی تو ہے (حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد 77ص 883شرح ابن ابی الحدید جلد 6ص 96 جب حضرت رسول خدا کی (ربیہ ) بیٹی جناب رقیہ  کا انتقال ہو گیا تو رسول پاک نے ان سے کہا: “ہمارے سلفِ صالح عثمان بن مظعون اور ان کے ساتھیوں سے جا ملو” راوی کا بیان ہے کہ اس وقت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا قبر کے کنارے کھڑی رو رہی تھیں اور ان کے آنسو قبر پر گر رہے تھے آنحضرت اپنا کپڑا ہلآتے ہوئے کھڑے ہو کر دعا مانگ رہے تھے, پھر فرمایا: “میں اس بچی کی کمزوری و ناتوانی کو جانتا ہوں اور اللہ سے میری دعا ہے کہ اسے قبر کے فشار سے محفوظ رکھے”  (امام محمد باقر و امام جعفر صادق علیہما السلام) فروغ کافی جلد 3 ص 142

 جن چیزوں کو تمہارے مرنے والوں نے دیکھا ہے اگر تم بھی دیکھ لیتے تو گھبرا جاتے, سراسیمہ و مضطرب ہو جآتے اور (حق کی) بات سنتے اور اس پر عمل کرتے لیکن جو انہوں نے دیکھا ہے وہ ابھی تم سے پوشیدہ ہے اور قریب ہے کہ وہ پردہ اٹھا دیا جاۓ (حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ 02 ابن ابی الحدید کہتے ہیں: “حضرت کا یہ کلام اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ عذابِ قبر کے بارے میں بیان ہونے والے اقوال صحیح ہیں, اور ہمارے علماء کا بھی یہی نظریہ ہے اگرچہ اشاعرہ اور ان کے دوسرے مخالفین اس بات کا انکار کرکے ان پر اعتراض کرتے ہیں   شرح ابن ابی الحدید جلد اول ص 892قولِ مولف: ملاحظہ ہو عنوان “عذاب”  نیز: “خلق” باب “بداخلاقی”  فروعِ کافی جلد 3 ص 532 باب “قبر کا سوال”

مزید  حضرت باب الحوائج امام موسی کاظم علیہ السلام 

قبر سے متعلق متفرق احادیث

 جب تمہاری نگاہ قبر پر پڑے تو کہو: “خداوندا! اسے جنت کے باغات میں سے ایک باغ قرار دے” اور جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا قرار نہ دے”(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحار الانوار جلد 28 ص 35

جو شخص نماز میں رکوع مکمل طور پر بجا لآتا ہے اسے قبر کی وحشت کا کوئی خطرہ نہیں ہو گا(امام محمد باقر علیہ السلام) بحار الانوار جلد 58 ص 701

جو شخص کسی مومن کی کوئی تکلیف دور کرے گا, اللہ تعالیٰ اس سے آخرت کی تکلیفیں رفع فرما دے گا اور وہ قبر سے ٹھنڈے کلیجے کے ساتھ باہر نکلے گا   (امام جعفر صادق علیہ السلام) بحار الانوار جلد 47 ص 683

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.