قبروں پر عمارت بنانا،مسلمانوں کی سیرت

0 0

قبروں سے مراد ، انبیاء، شہداء، ائمہ اور اولیاء الہی کی قبریں ہیں جن کا مقام مومنین کے دلوں میں بہت بلند و بالا ہے ۔ کیا ان قبروں پر عمارت بنانا جائز ہے یا نہیں؟

اس مسئلہ کا ارتباط اسلامی عقیدہ سے نہیں ہے جو توحید اور شرک کا معیار قرار پائے بلکہ یہ ایک فقہی مسئلہ ہے اور اس کا حکم ، مباح، مکروہ، مستحب یا ان میں سے کوئی ایک ہے ۔ ایک پڑھے لکھے مسلمان کیلئے صحیح نہیں ہے کہ وہ اس کو کفر اور شرک کا وسیلہ قرار دے ۔ بہت سے ایسے فقہی مسائل ہیں جن میں فقہاء کے اقول مختلف ہیں، جبکہ اس مسئلہ میں اہل سنت اور تشیع کے چاروں مذاہب کے فقہاء میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور ان شخصیات کی قبروں پر عمارت بنانے کے جواز پر ان کی دلیل مسلمانوں کی عملی سیرت ہے جو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ سے آج تک باقی و جاری ہے ۔

الف : مسلمانوں نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے جنازہ کو اسی چھت والے حجرہ میں دفن کیا اور اس حجرہ پر ایک خاص عنایت رکھتے تھے جس کے متعلق تاریخ مدینہ خصوصا سمہودی کی کتاب ”وفاء الوفاء“ میں ذکر ہوا ہے (۱) ۔

روضہ نبوی کی شاندار عمارت ۱۲۷۰ ہجری میں تعمیر ہوئی اورالحمد للہ آج بھی اپنی جگہ پر باقی ہے اور انشاء اللہ یہ عمارت ویرانی سے محفوظ رہے گی اگر قبروں پر عمارت بنانا حرام تھا تو پھر مسلمانوں کو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے جنازہ کو بغیر چھت کے کسی وسیع میدان میں دفن کرنا چاہئے تھا ۔

ب : قبروں پر عمارت بنانا ، صحابہ کے زمانہ سے لے کر آج تک مسلمانوں کی سیرت رہا ہے ۔ مدینہ میں جن قبروں پر قبہ تھے اور ان کے پتھروں پر ان کے نام لکھے ہوئے تھے وہ بہت سے سفرناموں میں بیان ہوئے ہیں ، ان میں سے بعض کو ہم یہاں پر بیان کریں گے:

۱۔ بقیع کے قبہ اور حرم کے متعلق مسعودی (متوفی ۴۴۵) نے لکھا ہے : بقیع کی قبروں کے اوپر ایک پتھر ہے جس پر لکھا ہوا ہے :

بسم اللہ الرحمن الرحیم ، تمام تعریفیں اس خدا کی ہیں جس نے امتوں کو موت دی اور پھر ان کی ہڈیوں کو زندہ کرے گا ۔ یہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ کی قبر ہے جو سیدة نساء العالمین ہیں، اور حسن بن علی، علی بن حسین، محمد بن علی اور جعفر بن محمد کی قبریں ہیں(۲) ۔

۲۔ سبط ابن جوزی (متوفی ۶۵۴) نے تذکرة الخواص کے صفحہ ۳۱۱ اسی کے مشابہ ایک عبارت لکھی ہے ۔

۳۔ چوتھی صدی میں تلمسانی مدینہ منورہ اور بقیع کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھا ہے :

جب تم اس کے دروازہ سے سامنے کی طرف جاؤ تو داہنی طرف حسن بن علی (علیہ السلام) کی قبر ہے جس کے اوپر لکھا ہوا ہے : یہ حسن بن علی کی قبر ہے جو اپنی والدہ فاطمہ (علیہا السلام) کے پاس دفن ہوئے ہیں(۳) ۔

۴۔ محمد بن محمود بن نجار (متوفی ۶۴۳ ھ) نے ”اخبار مدینة الرسول“ میں لکھا ہے : بقیع کے شروع میں ایک قدیمی اور بلند قبہ بنا ہے جس کے دو دروازے ہیں جن میں سے ایک دروازہ روزانہ زیارت کے لئے کھلتا ہے (۳) ۔

۵۔ دنیا کی سیر کرنے والے ابن جبیر (متوفی ۶۱۴ ھ) نے اپنے سفر نامہ میں بقیع کی تعرف اس طرح لکھی ہے : مالک کی قبر کے سامنے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بیٹے ابراہیم کی قبر ہے جس کے اوپر سفید قبہ بنا ہوا ہے اور اس کے داہنی طرف حضرت عمر بن خطاب کے بیٹے کی قبر ہے اور اس کے برابر عقیل بن ابی طالب ، عبداللہ بن جعفر اور اس کے سامنے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی بیویوں کے مقبرہ ہیں اور وہیں پر ایک چھوٹا سا بقعہ ہے جس میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے تین فرزند دفن ہیں ۔ اور عباس بن عبدالمطلب اور حسن بن علی (علیہ السلام) کا مقبرہ بلند ہے جو کہ بقیع کے نزدیک ہے ۔ اور ان دونوں کی قبریں زمین سے بلند ہیں اور خوبصورت پتھروں سے چھپی ہوئی ہیں ۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بیٹے ابراہیم کی قبر بھی ایسی ہی ہے ۔ اس قبہ کے نزدیک ایک حجرہ ہے جو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ سے منسوب ہے جو ”بیت الاحزان “ کے نام سے مشہور ہے ․․․ بقیع کے آخر میں عثمان ذو النورین کی قبر ہے جس کے اوپر چھوٹا اور مختصر قبہ ہے اور اس کے نزدیک حضرت علی (علیہ السلام) کی والدہ فاطمہ بنت اسد کی قبر ہے (۵) ۔

مزید  حرام مہینوں میں جنگ اورخدا کی راہ سے روکنا

۶۔ بلاذری نے روایت کی ہے : جب زینب بنت جحش کی بیسویں حجری میں انتقال ہوا تو حضرت عمر نے اس کے جنازہ پر نماز پڑھی ۔ اور ان کی قبر پر ایک خیمہ بنایا (۶) یہ خیمہ اس لئے نہیں بنایا تھا کہ گرمی کی وجہ سے دفن کرنے میں آسانی ہو بلکہ اس لئے بنایا تھا کہ ان کے خاندان والے اس کے سایہ میں بیٹھ کر ان کے لئے قرآن کریم پڑھیں اور دعاء کریں ۔

۷۔ سمہودی (متوفی ۹۱۱ ھ) نے بقیع کی تعریف میں لکھا ہے : بقیع میں بہت سے قبہ بنائے گئے ہیں، ان میں سے ایک قبہ عقیل بن ابی طالب اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی بیویوں سے منسوب ہے جس میں عباس، حسن بن علی․․․ کی قبریں ہیں اور ان کی قبروں پر ایک خوبصورت قبہ ہے ۔ ابن نجار نے کہا ہے : ․․․․ وہ بقعہ بہت بڑا، بلند اور قدیمی ہے ، اس کے دو دروازہ ہیں جن میں سے ایک دروازہ روزانہ کھلتا ہے ۔ مطری نے کہا ہے : اس قبہ کو خلیفہ ”ناصر احمد بن مستضیئی“ نے بنوایا تھا ۔ عباس اورحسن بن علی کی قبر زمین سے بلند ہے جو ایک خوبصورت پتھر سے چھپی ہوئی ہے جس کا رنگ زرد ہے (۷) ۔

قبروں پر عمارت بنانے کے جواز پرعلمائے اسلام کا یہ اتفاق اور اجماع ، بہترین دلیل ہے (۸) ۔

1 وفاء الوفا بأخبار دار المصطفى: ج2، ص458 فصل 9.

2 . مروج الذّهب: ج2، ص288.

3 . مجلة العرب، شماره 5 ـ 6، مورّخه 1393هـ .

4 . اخبار مدينة الرسول، به كوشش صالح محمد جمال، مكه مكرمه، سال 1366هـ.

5 . رحلة ابن جبير، چاپ بيروت، ابن جبير مدينه منوره را در سال 578 هـ ديدار كرده است.

6 . أنساب الأشراف: ج1، ص436.

7 . وفاء الوفا: ج3، ص916 ـ 929.

8-سيماى عقايد شيعه، ص119.

قبروں کے اوپر مسجد بنانا

سوال : کیا قبروں پر مسجد بنانے میں کوئی اشکال ہے؟

جواب : قبروں پر یا قبروں کے نزدیک مسجد بنانا اور ان میں نماز پرھنا ایک فقہی اور فرعی موضوع ہے اور اس کا عقاید سے کوئی ربط نہیں ہے ۔ اس طرح کے مسائل میں بھی لوگوں کو اپنے دینی رہبروں اور فقہاء کی طرف مراجعہ کرنا چاہئے جواس کے احکام کو کتاب و سنت سے استنباط کرتے ہیں اور دونوںفریقین جوجواز یا عدم جواز کے قائل ہیں ان میں سے کسی ایک پر بھی ہم کفر و فسق کا فتوی نہیں لگا سکتے ۔ بہت سے ایسے فقہی مسائل ہیں جن میں فقہاء کے نظریے مختلف ہیںاور ہم بھی اس مسئلہ کو کتاب و سنت کے سامنے پیش کرتے ہین تاکہ حکم کو معتبر فقہی کتابوں سے حاصل کرسکیں ۔

قرآن کریم بیان کرتا ہے کہ کس طرح لوگوں نے اصحاب کہف کی قبروں کو تلاش کیا اور ان کو حاصل کرنے کے بعد اس چیز میں اختلاف کیا کہ کس طرح ان کی یاد کو باقی رکھیں اور ان سے تبرک حاصل کریں ۔ ایک نے کہا : ان کی قبروں کے اوپر ایک ایسی عمارت بنائیں جس سے ہمیشہ ان کی یاد باقی رہے ۔ دوسرے نے کہا : اس کے اوپر ایسی مسجد بنائیں جس میں ہمیشہ لوگ نماز پڑھیں(۱) ۔ خداوند عالم دونوں کی پیشنہاد کو نقل کرتا ہے اور دونوں میں سے کسی ایک کی پیشنہاد کو غلط نہیں کہا ہے ۔

مفسرین کہتے ہیں : پہلی پیشنہاد ، ان لوگوں کی طرف سے تھی جو مسلمان نہیں تھے اور یہ بات اصحاب کہف کے متعلق کہی گئی ہے : ان کا پروردگارباخبر ہے (ربھم اعلم بھم)اس بات کی تائید کرتا ہے ۔

لیکن دوسرا قول اس بات پر گواہ ہے کہ پیشنہاد دینے والے مومن تھے جنہوں نے کہا ان کی قبروں پر مسجد بنائی جائے اور یہ پیشنہاد تبرک حاصل کرنے کیلئے تھی ۔

قرآن کریم نے اس پیش نہاد کو نقل کیا ہے اور اس پر تنقید نہیں کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کام خداوندعالم کے نزدیک مقبول ہے (۲) ۔

1. وَ كَذلِكَ أَعْثَرْنا عَلَيْهِمْ لِيَعْلَمُوا أَنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ… (كهف: 21).

2-سيماى عقايد شيعه، ص123.

قبروں پر مسجد بنانے سے منع کرنا

مزید  انسان کمال طلب ھے

سوال : انبیاء (علیہم السلام) کی قبروں پر مسجد بنانے سے منع کرنے والی روایتوں کی کس طرح توجیہ کی جاسکتی ہے؟

جواب : بعض روایات کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کی قبروں پر مسجد بنانا جائز نہیں ہے ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : خداوند عالم ، یہودیوں کو قتل کرے انہوں نے انبیاء کی قبروں کو مسجد قرار دیا ۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ خدا، یہودیوں اور عیسائیوں پر لعنت کرے کہ انہوں نے انبیاء کی قبروں کو مسجد قرار دیا ۔ تیسری روایت میں ہے کہ آگاہ ہوجاؤ جولوگ تم سے پہلے گذرے ہیں انہوں نے انبیاء اور صالحین کی قبروں کو مسجد قرار دیا ہے ، آگاہ ہوجاؤ تم قبروں کو مسجد قرار نہ دینا (۱) ۔

ان احادیث کے متعلق مختصر غور و فکر:یہودیوں کی تاریخ ان روایات کے ساتھ سازگار نہیں ہے ۔ ان کا طور طریقہ یہ تھا کہ انبیاء کو قتل کرتے، ان کو جلاوطن اور ان کے ساتھ مختلف طرح کی بدرفتاری کرتے تھے ، اپنی اس بات کو ثابت کرنے کیلئے خداوند عالم کے کلام کو پیش کرتے ہیں :

” لَقَدْ سَمِعَ اللَّہُ قَوْلَ الَّذینَ قالُوا إِنَّ اللَّہَ فَقیرٌ وَ نَحْنُ اٴَغْنِیاء ُ سَنَکْتُبُ ما قالُوا وَ قَتْلَہُمُ الْاٴَنْبِیاء َ بِغَیْرِ حَقٍّ وَ نَقُولُ ذُوقُوا عَذابَ الْحَریقِ“ (۲) ۔ اللہ نے ان کی بات کوبھی سن لیا ہے جن کا کہنا ہے کہ خدا فقیر ہے اور ہم مالدار ہیں- ہم ان کی اس مہمل بات کو اور ان کے انبیاء کے ناحق قتل کرنے کو لکھ رہے ہیں اور انجام کار ان سے کہیں گے کہ اب جہّنم کا مزا چکھو۔

”الَّذینَ قالُوا إِنَّ اللَّہَ عَہِدَ إِلَیْنا اٴَلاَّ نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّی یَاٴْتِیَنا بِقُرْبانٍ تَاٴْکُلُہُ النَّارُ قُلْ قَدْ جاء َکُمْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلی بِالْبَیِّناتِ وَ بِالَّذی قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوہُمْ إِنْ کُنْتُمْ صادِقینَ “(۳) ۔

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے ہم سے عہد لیا ہے کہ ہم اس وقت تک کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک وہ ایسی قربانی پیش نہ کرے جسے آسمانی آگ کھا جائے تو ان سے کہہ دیجئے کہ مجھ سے پہلے بہت سے رسول معجزات اور تمہاری فرمائش کے مطابق صداقت کی نشانی لے آئے پھر تم نے انہیں کیوں قتل کردیا اگر تم اپنی بات میں سچےّ ہو ۔

” فَبِما نَقْضِہِمْ میثاقَہُمْ وَ کُفْرِہِمْ بِآیاتِ اللَّہِ وَ قَتْلِہِمُ الْاٴَنْبِیاء َ بِغَیْرِ حَقٍّ وَ قَوْلِہِمْ قُلُوبُنا غُلْفٌ بَلْ طَبَعَ اللَّہُ عَلَیْہا بِکُفْرِہِمْ فَلا یُؤْمِنُونَ إِلاَّ قَلیلاً “(۴) ۔

پس ان کے عہد کو توڑ دینے ,آیات ہخدا کے انکار کرنے اور انبیاء کو ناحق قتل کر دینے اور یہ کہنے کی بنا پر کہ ہمارے دلوں پر فطرتا غلاف چڑھے ہوئے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ خدا نے ان کے کفر کی بنا پر ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے اور اب چند ایک کے علاوہ کوئی ایمان نہ لائے گا ۔

کیا یہ بات قبول کی جاسکتی ہے کہ جس قوم نے مختلف موقعوں پر اپنے انبیاء کو قتل کیا ہو وہ انبیاء کی تعظیم اورتکریم کے لئے ان کی قبروں پر مسجد بناسکتے ہیں ؟ فرض کرتے ہوئے اگر ان میں سے کسی نہ یہ کام کر بھی دیا ہو تو حدیث میں نماز پڑھنے اور صاحب قبر سے تبرک کرنے کے علاوہ دوسرے احتمال بھی دئیے گئے ہیں جیسے :

الف : قبروں کو قبلہ قرار دینا ۔

ب : تعظیم و تکریم کے عنوان سے قبر پر سجدہ کرنا ۔

ج: صاحب قبر کو سجدہ کرنا ۔

ان تینوں کی ایک صورت نکلتی ہے اور وہ یہ ہے کہ انہوں نے تبرک کے عنوان سے ان کی قبروں پر کوئی مسجد نہیں بنائی ۔

اس کی دلیل یہ ہے کہ بعض روایات کے مطابق پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ان کو بدترین قوم سے یاد کیا ہے ۔

صحیح مسلم میں بیان ہوا ہے : ام حبیبہ اور ام سلمہ نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے حبشہ میں ایک کنیسہ(یہودیوں کی عبادت گاہ) دیکھا جس پر رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی تصویر بنی ہوئی تھی ۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا : جب بھی اس قوم کے درمیان کوئی صالح انسان مرتا تھا تو وہ اس کی قبر پر مسجد بناکراس طرح کی تصویروں کو بناتے تھے ،قیامت کے روز یہ سب سے بری قوم ہوگی(۵) ۔

”بدترین قوم“ کی صفت ان کے کاموں کی حقیقت سے پردہ اٹھاتی ہے ، کیونکہ مشرک انسان کے علاوہ کسی دوسرے انسان کو مطلق شر سے متصف نہیں کیا جاتا، چاہے وہ ظاہر میں اہل کتاب ہی کیوں نہ ہو۔ خداوند عالم فرماتا ہے : ”إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّہِ الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذینَ لا یَعْقِلُونَ “۔

مزید  انسان سوزی سے قرآن سوزی تک

اللہ کے نزدیک بد ترین زمین پر چلنے والے وہ بہرے اور گونگے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے ہیں ۔

”إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّہِ الَّذینَ کَفَرُوا فَہُمْ لا یُؤْمِنُونَ “۔ زمین پر چلنے والوں میں بدترین افراد وہ ہیں جنہوں نے کفر اختیار کرلیا اور اب وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا کام صرف قبروں پر مسجد بنانااور قبروں کے پاس نمازپڑھنا نہیں تھا ، بلکہ ان کے کاموں میں شرک پایا جاتا تھا ، شرک کے مختلف قسمیں ہیں جیسے قبر پر سجدہ کرنا یا صاحب قبر کیلئے سجدہ کرنا یا اس کو قبلہ بنانا جس کی طرف نماز پڑھتے تھے ۔

قرطبی نے کہا ہے : قدماء نے بی مرثد غنوی سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا : میں نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : قبروں کی طرف نماز نہ پڑھو، اس کے اوپر نہ بیٹھو۔ مسلم کہتے ہیں : یعنی قبروں کو قبلہ قرار نہ دواور ان کی طرف رخ کرکے نماز نہ پڑھو۔ جیسا کہ یہودی اور نصاری کرتے تھے اور قبروں میں مدفوین مُردوں کی پرستش کرتے تھے (۸) ۔

رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قبر کے نزدیک تبرک کے عنوان سے نماز پڑھنا وہاں پر دفن ہونے والے کی وجہ سے ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے، خداوند عالم نے بھی حاجیوں کو حکم دیا ہے کہ ”مقام ابراہیم“ کو نماز کی جگہ قرار دو : ” وَ اتَّخِذُوا مِنْ مَقامِ إِبْراہیمَ مُصَلًّی“ ۔اور حکم دیا کہ مقام ابراہیم کو مصّلی بناؤ۔

انبیاء کی قبروں کے نزدیک نماز پڑھنا ،مقام ابراہیم کے نزدیک نماز پڑھنے کی طرح ہے ، کیونکہ حضرت ابراہیم کا بدن کئی مرتبہ اس جگہ سے مس ہوا ہے لیکن انبیاء کے مدفن میں ان کے اجسام ہیں جو کبھی بھی خراب نہیں ہوتے ، علماء اسلام نے نہی کرنے والی روایات کو انہی جیسی باتوں سے تفسیر کیا ہے ۔

بیضاوی نے کہا ہے : کیونکہ یہودی اورنصاری انبیاء کی قبروں پر احترام کے طور پر سجدہ کرتے تھے اور ان کو قبلہ قرار دیتے تھے جس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے اور قبروں کو بت قرار دیتے تھے ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ان پر لعنت کی ہے اور مسلمانوں کو ایسے کاموں سے منع کیا ہے ۔ لیکن اگر کوئی کسی صالح انسان کی قبر کے پاس مسجد بنائے اور اس سے نزدیک ہونے کی خاطر تبرک کا ارادہ کرے ، تعظیم وغیرہ کا قصد نہ کرے تو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی حدیث اس کے شامل حال نہیں ہوگی(۱۰) ۔

سنن نسائی کے شارح سندی نے کہا ہے : ان لوگوں نے انبیاء کی قبروں کو مسجد یعنی نماز کا قبلہ قرار دیا تھا اور ان کی طرف نماز پڑھتے تھے ۔ یا ایسی مسجدیں بنائی تھیں جن میںنماز پڑھتے تھے اور شاید کراہت کی دلیل یہ ہو کہ کبھی کبھی ایسے کام صاحب قبر کی عبادت شمار ہوتے ہیں، ․․․ اس کے بعد کہا ہے : پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اپنی امت کو اس کام سے منع کیا ہے کہ وہ آپ کی قبر کے ساتھ ایسا نہ کریں جیسا یہود اور نصاری اپنے انبیاء کی قبروں کے ساتھ کرتے تھے ۔ یعنی وہ قبروں کو مسجد قرار دیتے تھے، یا تعظیم کے طور پر ان کی طرف سجدہ کرتے تھے ، یا ان کی قبروں کو قبلہ قرار دیتے تھے اور اس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے (۱۱) ۔ (۱۲) ۔

1 . ر.ك: صحيح بخارى: ج2، ص111 كتاب الجنائز، سنن نسائى: ج2، ص871 كتاب الجنائز، صحيح مسلم: ج2، ص68 باب نهى از بناى مساجد بر قبور.

2 . آل عمران: 181.

3 . همان: 183.

4 . نساء: 155.

5 . صحيح مسلم: ج2، ص66، باب نهى از بناى مسجد بر قبور.

6 . انفال: 22.

7 . همان: 55.

8 . تفسير قرطبى: ج10، ص38.

9 . بقره: 125.

10 . فتح البارى فى شرح صحيح البخارى: ج1، ص525، طبع دار المعرفه. نزديك به اين معنى در «ارشاد السارى» ج2، ص437 باب بناى مساجد بر قبور، آمده است.

11 . سنن نسائى: ج2، ص41.

12-سيماى عقايد شيعه، ص127.

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.