قاصد امام حسین عہ : قیس بن مسہر

0 0

قیس بن مسھر خالد بن جندب کا بیٹا اور اس کے دادا کا نام منقذ بن عمرو  تھا ۔ قیس کا تعلق قبیلے (صیدا) جو وہی بنی اسد ہے ۔(۱) قیس شجاع شریف اور محبت اہل بیت میں خالص تھا

قیس بن مسھر کی امام حسین (ع) کی جانب حرکت

ابو مخنف کہتا ہے کہ معاویہ کی موت کے بعد شیعیان سلیمان بن صرد خزاعی کے گھر جمع ہوئے اور امام حسین(ع) کے لئے نامہ لکھا جس میں امام دعوت دی گئی کہ آپ ہاتھ پے بیعت کرینگے ، یہ نامہ عبداللہ بن سبع اور عبداللہ بن وال کے ذریعے امام کی جانب بھیجا گیا ، دو دن بھی نہیں گذرے کے ایک اور نامہ قیس بن مسھر صیداوی اور عبدالرحمن بن عبداللہ ارحبی کے ہاتھوں امام حسین(ع) کو بھیجا گیا ۔ پھر دو دن تحمل کرنے کے بعد ایک اور نامہ امام کو لکھا جو سعید بن عبداللہ اور ہانی بن ہانی لیکر گئے ۔ اس خط کا مضمون اس طرح تھا کے :

“للحسين بن علی (ع) من شیعتہ من المومنین اما بعد : فحھیلا ، فان الناس ینظرونک ، لا رای لھم فی غر تک ، فالعجل العجل والسلام”

شیعیان مومنین کی طرف سے حسین بن علی (ع) کے نام، دوڑ کر آئیے لوگ آپ کے انتظار میں ہیں ان رای فقط آپ کے ساتھ ہے ، بس جلد آجائیے والسلام (۲)

قیس کا حضرت مسلم(ع) کے ساتھ کوفے جانا

اس نامہ کے بعد امام حسین(ع) نےحضرت مسلم بن عقیل(ع) کو بلایا اور کوفہ کی وضعیت معلوم کرنے کے لئے ان کو کوفے روانہ کیا ۔ ان کے ساتھ قیس بن مسھر اور عبدالرحمن بن عبداللہ ارحبی کو بھی بھیجا ۔ راستے میں بطن جنت کے مقام پر حضرت مسلم نے راستے کی مشکلات اور اپنی وضعیت بتانے کے لئے ایک نامہ قیس کے ہاتھوں امام حسین(ع) کو بھیجا ، امام نے جواب میں نامہ لکھ کر قیس کو حضرت مسلم(ع) کی جانب بھیجا ۔

مزید  دعا کی تعریف (دعا کسے کہتے ہیں)

ابو مخنف لکھتا ہے کہ جب حضرت مسلم نے دیکھا کے لوگ کوفے میں امام حسین(ع) کے بارے میں اس کے ہاتھ پر بیعت کر رہے ہیں تو انھوں نے کوفے اور لوگوں کی وضعیت بیان کرنے کے لئے امام حسین(ع) کو خط لکھا جو حضرت قیس لیکر امام (ع) کی خدمت میں آئے ۔ (۳)

کوفے والوں کے لئے امام حسین(ع) کا خط لےجانا

ابو مخنف کہتا ہے جب امام حسین(ع) حاجز کے مقام پر پھچے تو ایک خط حضرت مسلم(ع) اور کوفے کے مومنین کے نام لکھ کر حضرت قیس کو دیا ۔

تاریخ الامم و الملوک میں آیا ہے کے امام(ع) کے خط کا مضمون کچھ اس طرح تھا :

حسین بن علی(ع) کی جانب سے مومن اور مسلمان بھایوں کو السلام علیکم ، اس خدا کا شکر ادا کرتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اما بعد؛ مسلم کا خط میرے پاس پہچا ہے جس میں اس نے تمہارے حسن نظر سے اور تم لوگ ہماری مدد اور حق کو طلب کرنے کے لئے جمع ہوئے ہو ( ان تمام باتوں) سے مجھےآگاہ کیا ہے ، بس خدا سے یہ چاہتا ہوں کہ ہمارے لئے اچھا چاہے اور تم کو اچھا اجر عطا کرے ۔ میں منگل کے دن 8 ذی الحجہ کو مکہ سے تمھاری جانب حرکت کرہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ تم پر رحمت و برکت خدا ہو ۔ (۴)

قیس وہ خط لیکر کوفے کی طرف روانہ ہوا لیکن قیس کو حصین بن تمیم نے راستے میں پکڑ لیا ، یہ وہ وقت تھا جب حضرت مسلم شھید ہوچکے تھے اور عبیداللہ نے سپاہ کو منظم کر دیا تھا اس لئے حضرت قیس اسیر ہوگئے ۔

مزید  تاريخ ميں عورت کي حيثيت اور تبديلياں

جام شھادت پینا

حصین نے حضرت قیس کو اسیر کرکے عبیداللہ بن زیاد کے پاس بھیجا ، عبیداللہ نے حضرت قیس سے اس خط کے بارے میں پوچھا اس پر حضرت قیس نے کہا وہ میں نے پھاڑ کر ختم کردیا، ابن زیاد نے پوچھا کیوں ؟ حضرت قیس نے فرمایا : تاکہ تم کو پتا نہ چلے کے اس میں کیا تھا ؟

ابن زیاد نے کہا کے اگر مجھے نہیں بتاتے تو بس منبر پر جاؤ کذاب بن کذاب پر لعنت بھیجو ، اس ملعون کا اشارہ معاذاللہ امام حسین(ع) کی جانب تھا ۔

اس کے بعد حضرت قیس منبر پر گئے کہا : ای لوگو بیشک حسین بن علی(ع) خدا کی سب سے بہترین مخلوق ہے اور وہ فاطمہ بنت رسول اللہ (ع)کا فرزند ہے اس نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے بس اس کو لبیک کہو ۔

اس کے بعد عبیداللہ بن زیاد اور اس کے باپ پر لعنت کی اور علی امیرالمؤمنین (ع) پر درود بھیجا ۔

ابن زیاد نے حکم دیا کہ قیس کو دارالامارہ نیچے پھینکا جائے ۔

اس طرح اس امام حسین(ع) کےسچے سپاہی نے امام کو آخری سلام کیا جام شھادت پی لیا ۔

حضرت قیس کی شھادت کی خبر امام(ع) کو ملی

جب حضرت امام حسین(ع) کو حضرت قیس کی شھادت کی خبر ملی تو امام(ع) نے قرآن کی اس آیۃ کی تلاوت کی (5) فَمِنْهُم مَّن قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ بس کچھ ایسے ہیں جو جان دے چکے اور کچھ منتظر ہیں۔ (۶)

حوالہ جات

1۔ ابصارالعین، ص 112

2۔ تاریخ الامم والملوک ج 5 ، ص 252۔253

مزید  امام رضا علیہ السلام اور علم و حکمت 

3۔ ابصارالعین، ص 112

۴۔تاریخ الامم والملوک ج 5 ، ص 353

۵ ۔سورۃ احزاب ، آیہ 23

6۔ تاریخ الامم والملوک ج 5 ، ص 395

آ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.