فیمینزم (حقوق نسواں) کا اسلامی فلسفہ

0 0

فلسفہ اسلامی میں عقل نظری خصوصاً اپنے میٹا فیزک (معنوی) اور متعالی پہلووں اور ایسے ہی عقل عملی اپنے عمیق پہلووں میں تمام صُوری اور مادّی تعلّقات اور جنسی عناصر سے عاری ہوتی ہے اور جنسی عناصر  ان کے افعال ورفتار میں اثر انداز نہیں ہوتے ۔

عقل اور جنسیت کا رابطہ

مُقدّمہ

فیمینیزم اپنی پہلی تقسیم بندی میں نظری اور عملی بنیاد پر قابل تفکیک ہے، نظری بنیاد پر ایک نظریہ کی صورت میں یا آئیڈلوجی کے قالب میں یادینی تبیین یا اسی کے مانند دوسری روشوں کے اعتبار سے پیش کی جاتی ہے اور عملی پہلو کی نظر سے ایک اجتماعی حادثہ کی صورت میں بیان کی جاتی ہے اور یہ دونوں پہلو اپنے درمیان تفاوتوں کے علیٰ رغم ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، اجتماعی حادثات کے حوالے سے فیمینیزم کا رشتہ تاریخی عوامل اور اقتصادی ڈھانچے منجملہ شناخت ومعرفت سے مربوط ہے کہ جس نے معاشرے کی شناخت میں اپنے آپ کو حاضر کیا ہے اور نظری حوالے سے اجتماعی زمینہ سے متاثر ہونے کے علاوہ اپنے سے مربوط فلسفی بنیادوں اور معرفتی ڈھانچوں سے بھی فائدہ اٹھاتی ہے ۔

فیمینیزم، تاریخی لحاظ سے کئی ادوار پر مشتمل ہے اور ہر ایک دور میں ایک طرح کی نظری اور عملی خصوصیات سے مختص رہی ہے ۔ خیال ہے کہ اس میں سب سے زیادہ موٴثر عوامل خصوصاً اس کے نظری پہلو سے مربوط، معرفت شناختی اور فلسفی مبانی ہیں، اس وضاخت کے ساتھ بہت سے فلسفی اور معرفت شناختی حادثات نے فیمینیزم میں جدید فکری تحریک کو جنم دیا ہے اور یہ تحریک اپنی نوبت میں فیمینیزم کے معاشرتی نتائج میں اثر انداز ہوئی ہے، اس تاثیر کا واضح نمونہ فیمینیزم کی تیسری موج میں بخوبی دیکھا جاسکتا ہے، فیمینیزم نے تیسری موج کے اعتبار سے ایک ماڈرن لیکن پست نظریہ کے قالب میں ایک فلسفی روپ اختیار کرلیا ہے اور اپنی مدعیات کے دامن کو وسیع کردیا ہے اور یہ امر سب سے زیادہ معرفت شناختی کے تغیّر وتبدل میں ریشہ دوان ہے، جب تک علم کا پوزیئوسٹی نظریہ ماڈرن معاشر کے اوپر حاکم رہا فیمینیزم نظریہ اپنے دامن کو علم کے قلمرو میں داخل نہ کرسکا، پوزیئوسٹی کی نظر میں علم کی معرفت کا حلقہ ایک ایسا حلقہ ہے کہ جو اپنے اندرونی ڈھانچے میں دوسرے معرفتی مراکز سے مستقل شمار ہوتا ہے، ایک عالم اس حلقہ میں داخل ہوتے وقت اپنے تمام ثقافتی تعلّقات کو ایک طرف رکھ دیتا ہے، اس نظریہ کے مطابق علم حاصل کرنے کا مرکز ایک آزمائشگاہ (لیبارٹی) کی مانند ہے کہ جس میں وہیں سے مخصوص لباس درکار ہوتا ہے، ایک محقّق اس کی حدود میں داخل ہوتے وقت اپنے مخصوص لباس منجملہ جنسیت کے لباس کو اتاردیتا ہے اور آزمائشگاہ کے مخصوص لباس کو کہ جو عالموں سے مخصوص ہے زیب تن کرلیتا ہے ۔

بیسویں صدی کی تیسری دہائی سے ادھر جو گفتگوئیں (حلقہٴ دین) کے سلسلے میں ہوئی ہیں انھوں نے علمی معرفت کے متعلق مذکورہ نظریہ کو شک وتردید میں ڈال دیا ہے، انتہا یہ کہ فلسفہٴ علم نے علمی معرفت کو ایک معارفی مجموعہ پر موقوف پایا کہ جو دیگر ثقافتی عرصوں میں تیار ہوتا یا تقسیم ہوتا تھا اور اس نظریہ نے فیمینیزم نظریہ کے حامیوں کو یہ موقع فراہم کردیا کہ وہ جنسیت کو بنیاد بناکر علمی معرفت میں ساجھے داری کا اعلان کرسکیں اور اس طرح وہ علمی مراکز کے جانبی مباحث سے آگے بڑھ کر علم کے اندرونی ڈھانچے میں داخل ہوگئے ۔

بلاشبہ فیمینیزم ایسا ریڈیکل ماڈرن لیکن پست نظریہ ہے کہ جو معرفت شناختی کے مبنا سے استفادہ کئے بغیر اپنے وجود کو نہیں منوا سکتا ۔

ہم اس مقالہ میں اس بات کی جستجو میں ہیں کہ اسلامی دائرہ میں جنسیت کی فلسفی اور شناختی بنیادوں کی تحقیق کریں اور اس نظریہ (فیمینیزم) پر جنس وجنسیت کی جو تشریح اور تفسیر ہوسکتی ہے بیان کریں ۔

بحث میں داخل ہونے سے پہلے دو نکتوں کی یاد آوری ضروری ہے:

نکتہٴ اوّل: اس مقالہ میں اسلامی دنیا کے پیش نظر، فلسفی اور معرفتی پہلو مدنظر ہے، نہ کہ معرفت شناسوں اور فلسفیوں کا نظریہ یعنی ہم اس مقالہ میں اسلامی منطق اور فلسفہ کے معرفت شناسی کے وہ نتائج جو اسلامی فلسفہ کے متناسب ہے ان کو جنس وجنسیت کی نسبت سے بیان کریں گے ، نہ کہ فلسفیوں کے شخصی نظریہ سے، کیونکہ فلسفی حضرات خصوصاً اجتماعی اعمال ورفتار کے متعلق، کبھی کبھی ایسی باتیں کرجاتے یا ایسے مواضع اختیار کرلیتے ہیں کہ جو اُن کے فلسفی یا معرفت شناسی مبانی سے وجود میں نہیں آتے بلکہ وہ ان کے مبانی کے بالکل برخلاف ہوتے ہیں ۔

دوسرا نکتہ: اسلامی دنیا میں فلسفہ، مختلف نظریات اور متعدد فکری مکاتب میں پبش کیا گیا ہے، جیسے حکمت مَشَّا، حکمت اشراق اور حکمت متعالیہ، یہ نظریات اپنے درمیان اختلاف کے باوجود ، ثقافت اور تمدّن اسلامی کے دائرہ میں اور برہانی روش کی اساس پر بہت سے مشترکات سے برخوردار ہیں، ہم اس مقالہ میں نظریاتی اختلافات سے صرف نظر، معرفت اور فلسفہ اسلامی کے مشترکات کا قدر تفصیلی جائزہ لیں گے ۔

پہلا حصّہ: فلسفی بنیادیں

مادّہ اورصورت: مادّہ اور صورت کی بحث فلسفہ کی اُن بحثوں میں سے ہے کہ جو جنسیت کی وضاحت اور انسان کے ساتھ اس کی نسبت میں اثر انداز ہے، یہ بحث فلسفہ کی تاریخ کے جدّی مسائل میں سے ہے، تاریخ گذشتہ اور ایام سالفہ میں علوم طبیعی اور تجربی (سائنس) غالباً ان دونوں اصطلاحوں سے دامن گیر رہے ہیںاور انھیں کی بنیاد پر طبیعی موجودات کی مادّی اور صوری علم کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے، ماڈرن علم کے صاحبان بھی اپنی جدید فلسفی بنیادوں کی اتباع میں صوری اور مادّی علوم کی جدا ئی کو گذشتہ فلسفی حضرات کی علمی میراث کی روش سے علیحدہ جانتے ہوئے اور اپنی تحقیقات وتتبّعات کو اس مبنا سے صرف نظر کرتے ہوئے، صُوَرِ طبیعی کے میزان میں محدود اور مقیّد جانتے ہیں ۔

وہ موجودات جن میں تدریجی تغیّر وتحوّل پایاجاتا ہے، مادّی اور صوری حصّوں سے قابل اثبات ہیں، وہ چیز جو ہمیشہ حرکت اور تغیّر میں ہے، تغیّر کے وقت وہ چیز جدید صورت اختیار کرلیتی ہے اسی لئے تغیّر سے پہلے اس میں جدید صورت کو حاصل کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے اور مادّہ وہ حصّہ ہے کہ جو اس کے علاوہ زمانہٴ تغیّر میں متحرک کی وحدت کی حفاظت بھی کرتا ہے اگر ایک مادّی حصّے میں حرکت نہ پائی جائے تاکہ وہ آنے والی صورت کے ساتھ جمع ہوجائے تو سابق اور لاحق شےٴ کی وحدت منتفی ہوجائے گی، کیونکہ اگر پہلی والی چیز بالکل ختم ہوجائے اور ایک نئی صورت پیدا ہوجائے او ران دونوں میں کوئی مشترک عنصر نہ ہو تو دو بیگانہ چیزوں کی حرکت کے روبرو ہونا پڑے گا اور اس صورت میں شیٴ جدید کی طرف شیٴ سابق کا انتساب اور ان دونوں کے درمیان کا امتداد نیز اصلی حرکت منتفی ہوجائے گی مادّہ اور اس کا صورت کے ساتھ ارتباط کے متعلق بہت سی بحثیں پائی جاتیہیں، بہت سے فسلفی حضرات ان دونوں کی ترکیب کو اتحادی اور بہت سے انضمامی مانتے ہیں ۔

وہ صورت جس کو مادّہ قبول کرتا ہے اس میں چند قول ہیں:  مشّاء کی حکمت کے طرفدار صُوَر کی تبدیلی کو کون وفساد کے باب سے جانتے ہیں اس معنی کے ساتھ جدید صورت کے آنے سے سابقہ صورت منعدم ہوجاتی ہے اور حکمت متعالیہ حرکت جوہری کی بنیاد پر لبس بعد از لبس کی قائل ہے اور جدید صورت کو سابقہ صورت کا برتر اور اکمل رتبہ جانتی ہے ۔

اسعتداد کے حامل کے سلسلے میں بھی حکمت اشراق کا حکمت مشّاء اور حکمت متعالیہ سے اختلاف ہے،، شیخ اشراق، صورت جسمیہ کو جدید صورت کی استعداد کا حامل جانتے ہیں لیکن حکمت مشّا اور حکمت متعالیہ استعداد کے حامل کو ایک جوہری حقیقت جانتے ہیں کہ جو قبول کے علاوہ ہر طرح کی فعلیت سے فاقد ہے اور اس حکمت کے طرفدار اس جوہر کو کہ جو کبھی بھی ایک بالفعل صورتِ جوہر کی ہمراہی کے بغیر وجود میں نہیں آسکتی، ہیولیٰ مادّہٴ اوّلی کے عنوان سے یاد کرتے ہیں اور اُن مجموعوں کو کہ جو اس کی اور صورت جسمیہ یا بعد والی صورت کی ترکیب سے وجود میں آتے ہیں اُن کو مادّہٴ ثانیہ کے عنوان سے جانتےہیں، حکمت اشراق میں مادّہٴ اوّلیہ کے رول کو صورت جسمیہ کو دیا جاتا ہے ۔

ان تمام اختلافات کے باوجود جو مادّہٴ صورت اور ان دونوں کی ترکیب میں پائے جاتے ہیں، سب فلاسفہ اس قول پر متفق ہیں کہ متحرک اپنی پہلی وضعیت میں اپنے کردار کو  بعد والی اور جدید صورت کے قبول کرنے میں ادا کرتا ہے اور اسی قبول کرنے کی ہمراہی سے حرکت وجود میںآتی ہے ۔

مزید  بر صيصائے عابد

جدید صورت کی شناخت کی راہ:

جدید صورت کہ جو علت فاعلی کے راستے مادّہ پر عارض ہوتی ہے اور مادّہ کو قابل افاضہ بناتی ہے غالباً صورت کے خواص اور آثار سے پہچانی جاتی ہے اور جب بھی جسم کے اندر ایسے خواص اور آثار کا مشاہدہ کیا جائے کہ جو گذشتہ وضعیت اور سابقہ صورت کی طرف قابل استناد نہ ہو تو یہ اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ اس نے جدید صورت نوعیہ اختیار کرلی ہے ۔

سب سے سادہ اور سب سے پہلا جوہر کہ جو جدید صورتوں کو قبول کرتا ہے وہ حکمت مشّاء میں وہ ہی مادہٴ اوّلیہ ہے ۔ مادّہٴ اوّلیہ جو قابل محض ہے وہ جسمیہ صورت کو کہ جو تین امتداد (طول وعرض وعمق) کی حامل ہے، قبول کرتا ہے اور کبھی بھی اس کے بغیر موجود نہیں ہوسکتا، اسی لئے مادّہ اور صورت جسمیہ کی جدائی فقط ایک ذہنی جدائی ہے اور خارج میں ہمیشہ یہ دونوں جوہر ایک دوسرے کے ہمراہ اور قرین ہیں ۔

مجموعاً مادّہ اور صورت جسمیہ کی ترکیب، بعد والی صورت کے لئے مادّہ کے حکم میں ہے اور بعد والی صورت وہ ہی صورت عنصری ہے اور عنصری صورت کی آمد سبب ہوتی ہے کہ جسم بھی کہ جس میںتین جہتوں سے امتداد کی خاصیت پائی جاتی ہے عُنصری خواص اختیار کرلے، قدیم طبیعات چار عنصروں کے قائل تھے لیکن جدید فیزکس سو (۱۰۰) سے زیادہ عنصروں کی معتقد ہے، مختلف عناصر اپنے باہمی اختلاط کی وجہ سے جدید صورت کے پیدا ہونے کی زمینہ سازی کرتے ہیں صورت جدید کا حضور اس وقت کشف ہوتا ہے جب صُوَرِ عنصری کی طرف ارجاع دینے کے قابل نہ ہو۔ نباتی صورت ایک جدید وحدت اور شخصیت کی حامل ہے کہ جو صورت عنصری میں تقلیل کی قابلیت نہیں رکھتی، یہ شخصیت کچھ آثار جیسے تغذیہ، نمو اور تناسل کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے ۔

نباتی صورت اور نر اور مادہ کی پیدائش:

نبات ایک زندہ ارگانیزم کے عنوان سے تغذیہ اور نمو کے سبباپنی وحدت شخصی کی حفاظت کرتی ہے اور تناسل کی وجہ سے اپنی نوع کے استمرار اور رورم کو ممکن بناتی ہے، نبات، تغذیہ اور نمو کے لئے کچھ اعضاء جیسے جڑ، تنہ اور پتّے رکھتی ہے کہ جواس کے لئے اپنے وظیفہ کو انجام دیتے ہیں اور تناسل کے لئے کچھ اجزاء جیسے پھول، نطفہاور تخم سے استفادہ کرتی ہے اور نر و مادہ کا مسئلہ بھی اسی جگہ سے سامنے آتا ہے اور بعض نباتوں میں کام کی یہ تقسیم شخص واحد کے ارگانیزم کی حدود سے نکل کر اس نوع کی دوصنفوں کے ذمّہ آجاتی ہے اور اسی جگہ سے نوع واحد کے افراد دو صنفوں یعنی مذکر اور موٴنث میں تقسیم ہوجاتے ہیں ۔

حیوانی اور انسانی صورت:

جیسا کہ صورت جسمیہ اس مادہ کے حکم میں ہے کہ جو صورت عنصری کو قبول کرتا ہے یا یہ کہیں کہ عناصر اسی مادہ کے حکم ہیں کہ جو نباتی صورت کو قبول کرتے ہیں لہٰذا موجود نباتی بھی اپنی جگہ صورت حیوانی کا مادّہ ہے اور صورت حیوانی کی خصوصیت احساس اور حرکت ہے جس طرح صورت نبات، نباتی عناصر کی ترکیب سے وجود میں آتی ہے اسی طرح صورت حیوانی اور نباتی مادّہ کی ترکیب سے حیوان وجود میں آتا ہے ۔ نبات اور حیوانات میں سے ہر ایک اپنی مخصوص خصوصیت کی شہادات کی بناپر، نبات یا حیوان کی ایک خاص نوع سے متعلق ہوتے ہیں ۔

وہ موجود جس میں حیوانی کمال پایا جاتا ہے وہ ایک خاص حالات میں دوسری صورت نوعیہ کو کہ جو کمال میں اس سے برتر ہے قبول کرسکتی ہے اور وہ صورت نوعیہ انسانی صورت ہے، انسان کی مخصوص صفت حقائق کلی اور عقلی کا ادراک ہے کہ جس کو نطق کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے، کیونکہ نطق سے مراد فقط الفاظ کا بیان یا جرئی اور خاص ادراک نہیں ہے بلکہ مفاہیم کلی اور معانی کو نمودار کرنا ہے ۔ وہ مراتب جن کو موجودات طبیعی تغیرات میں حاصل کرتے ہیں اور مذکورہ نظریہ کے مطابق مادہ اوّلیہ اور صورت جسمیہ سے لے کر انسانی صورت تک طے کرتے ہیں اور ایسے ہی وہ مراحل جو مستقبل میں انسان کو درپیش ہوتے ہیں ان کو مولانا روم اس طرح بیان کرتے ہیں:

از جمادی مردم ونامی شدم

وز نما مردم بہ حیوان سرزدم

”جمادی موت سے نباتی زندگی پائی بناتی موت سے حیوانی زندگی عطا ہوئی “

انسان کی ذات اور حقیقت اس کی صورت نوعیہ میں یعنی اس کے نفس ناطقہ اور نفس مجرّد میں مضمر ہے اور اس ذات کو وجود بخشنے والے فاعل کے لئے ضروری ہے کہ مجرّد اور غیر مادّی ہو اور یہ غیر مادی اور مجرد فاعل، ایک ایسی علّت کا محتا ج ہوتا ہے جو مادّی اور قابلی ہوتی ہے اور اس کی علت مادّی وہ موجود ہے کہ جو جسمانی، عنصری اور حیوانی کمالات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور نفس ناطقہ کے حاصل کرنے کی قابلیت رکھتا ہے، مادی موجود اپنے مراحل اور ادوار میں جب سے وہ بصورت غذا انسان کے بدن کو جزء بنتا ہے اور نطفہ علقہ اور جنین کے مراحل کو طے کرنے کے بعد نباتی اور حیوانی کمالات یکے بعد دیگر حاصل کرتا ہے اور جب اس کو روح افاضہ ہوتی ہے ایک جدید صورت اختیار کرلیتا ہے اور اس وقت یہ مادّیصورت، مادّے سے بڑھکر ایک عقلانی اور فوق مادّہ ذات اور ہویّت بن جاتی ہے، مسلم فلاسفہ آیات قرآنی کے زیر اثر اپنے کلام کو اُن آیات کے مطابق قرار دیتے ہیں جو خلقت انسانی کے باب میں وارد ہوئی ہیں (سورہٴ مومنون، آیت۱۲۔۱۴)

”ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا، پھر اس کو نطفہ بنایا اور ایک محکم جگہ پر رکھا پھر نطفہ کو خون بستہ کی صورت عطا کی اس کے بعد خون کو گوشت کے لوتھڑے میں تبدیل کیا پھر گوشت کی ہڈیاں بنائی پھر ہڈیوں کو گوشت سے ڈھانپ دیا اس کے بعد ایک جدید خلق کی صورت عطا کردی پس بابرکت ہے وہ ذات جو سب سے اچھا خلق کرنے والا ہے“۔

انسانی صورت کی اس کے مادّی اور جنسی پہلووٴں سے نسبت:

انسان کی حقیقت اس کی عقلی صورت ہے جمادی، نباتی اور حیوانی صورتیں تو اس کی پیدائش کی مادی علتیں ہیں اور چونکہ یہ صورتیں آدمی کی حقیقت میں دخیل نہیں ہیں لہٰذا ان سے مربوط لوازم بھی انسان کی حقیقت میں کوئی دخالت نہیں رکھتے، اس بیان سے معلوم ہوگیا کہ موٴنّث یا مذکّر ہونا حیوانی مرحلے سے مربوط ہے بلکہ اس تشریح کے مطابق جو مذکور ہوگئی ہے تناسل کے لوازمات، یعنی نباتی مادّہ کے لوازم میں سے ہے یہ لوازم اس کی ذات اور نوعی حقیقت سے مربوط نہیں ہے بلکہ ایک صورت کے لوازم میں سے ہے کہ جو اس کے مادّہ میں ماٴخوذ  ہے ۔

انسان کو وجود دینے والی شیٴ اس کا ادراک اور تعقّل ہے اگرچہ زمانی لحاظ سے ادراک اورتعقّل اس کے مادّی وجود کے بعد وجود میں آتا ہے لیکن اس کی مادّی پہلو سے جدا ایک ممتاز اور مستقل حقیقت ہے ۔

انسانی صورت نوعیہ کا اس کے مادّی پہلووٴں کی نسبت مستقل ہونے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اس کا مادّی پہلووٴں سے رابطہ قطع ہوجاتا ہے، اسلامی فلاسفہ کی تحلیل کی بنیاد پر جدید صورت نوعیہ اپنے نئے وجود کے بعد اپنے سلسلہٴ علل فاعلی اور مادّی مراتب کے وجود میں مستقر ہوجاتا ہے اور جیسا کہ اس سے پہلے بھی بیان ہوچکا ہے کہ وہ ان کی تدبیر اور تنظیم میں بھی موٴثر ہے، لہٰذا جب انسانی نفس عاقلہ حادث ہوجاتاہے تو نفس اپنی قوّت وقدرت کے تناسب سے انسان کے مادّی حصّے میں یعنی اپنے حیوانی اور نباتی پہلووٴں، منجملہ انوثت اور ذکورت سے مربوط مسائل میں اثر انداز ہوتا ہے ۔ انسان عاقل کی جسمانی رفتار اور کردار بھی عاقلانہ ہوتے ہیں، جو کلام یاسخن لب پر لاتا ہے باوجود اس کے کہ یہ ایک مادّی کام ہے کہ جو اس کے صوتی تاروں سے ہوا میں پراکندہ ہوتا ہے لیکن یہ موج اس طرح ہونا چاہیے  کہ جو اس کے پیغام اور روحانی ونفسانی معنی کو منتقل کرے ۔نیز انسان جو کچھ آنکھ، کان اور دیگر حواس اور حافظہ سے حاصل کرتا اور اپنے خیال وخاطرمیں محفوظ کرتا ہے یہ سب عقل کے سامنے پیش ہوتے ہیں اور پھر عقلی اور کلّی تصورات وتصدیقات کی صورت اختیار کرلیتے ہیں ۔

نفس اپنی عقلی آرزووں کی بنیاد پر بدن میں تصرف کرتا ہے اور اس کو حرکت دیتا ہے اور اسی راستے سے اپنی نیات اور مقاصد کو طبعی محیط میں عملی جامہ پہناتا ہے ۔

مزید  انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھرکم تطھیرا

اس صورت میں جب نفس دیگر مراتب کمال کو حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا کرلیتا ہے (جیسا کہ مولوی کے اشعار میں اس طرف اشارہ ہوا ہے) تو جسمانی پہلو اور مراتب مادی پراس کا اثر قوی ہوتا ہے، ایسا ہوتا ہے کہ تدریجاً وجود نفس کے ملکوتی احکام غالب آنے شروع ہوجاتے ہیں اور بدن ان کے آثار کو اظہار کرتا ہے، امام صادق   – سے روایت ہوئی ہے: ”ما ضَعُفَ بدن عما قویت علیہ النیة“ وہ ارادہ ونیت جو بدن پر حاوی ہوتا ہے بدن احساس ضعف نہیں کرتا، حضرت علی علیہ السلام باب خیبر کو اکھاڑنے اور اس کو چالیس ہاتھ دور پھینکنے کے بارے میں فرماتے ہیں: ”میں نے باب خیبر کو جسمانی قوت سے نہیں اکھاڑا بلکہ اس نفس سے اکھاڑا جس پر نور الٰہی چمکا تھا ۔

جنس وجنسیت کا امتیاز:

نفسجو اثر بدن اور اجزاء بدن پر ڈالتا ہے اس کا دامن بہت وسیع اور تعجب خیز ہے اور ان تاثیرات میں غور وفکر کرنا نفس کی پہچان کے  باب میں دنیا ئے اسلام کی فلسفی ادبیات کا ایک بہت بڑا حصّہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔

اس کے باوجود کہ ذکورت اور انوثت انسان کے وجود مادّی کے پہلو کے لوازمات میں سے ہیں اور اس کے نباتی پہلو کی طرف نہیں پلٹتے، نفس کا حضور اور اس کا اس حصّے کی تدبیر کرنا سبب ہوتا ہے کہ جنسیت کا مسئلہ بھی اس کے دیگر مادّی وجود کے پہلووں کی طرح انسانی صورت پیدا کرلے اور عقلانی چہرہ اختیار کرلے، یہی وجہ ہے کہ انسان کا اپنی غریزہ جنسی کے ساتھ رفتار کا طریقہ حیوان کی غریزہ جنسی کے طریقے سے جدا ہوتا ہے ۔

انسان اپنی عقل سے استفادہ کے تناسب سے اپنی معرفت کو تقویت کرتا اور اس کو شکل دیتا ہے اور اسی تنساب سے اپنے معرفت کے فرہنگ کو سروسامان دیتا اور اپنی جنسی غریزہ کے ساتھ اسی فرہنگ کے قالب میں سیر کرتا ہے ۔

اصل میں جنسی غریزہ وجود آدمی کی طبیعی مانیزم سے مربوط ہے اور حیات حیوانی بلکہ حیات نباتی کا مرتبہٴ کمال ہے لیکن اس سے برخورد کا طریقہ اور اجتماعی اور فرہنگی ساخت وساز اس کے حاشیہ میں واقع ہوتی ہے وہ انسانی کام اور فعالیت کے دائرہ میں آتی ہے یعنی یہ طریقہ اگرچہ اس ذات انسانی سے جو عقلانی ہویّت کا مالک ہے مربوط نہیں ہے لیکن انسان کے قلمرو کار میں داخل ہے ۔

گذشتہ بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ فرق جو جنس وجنسیت میں قرار دیا جاتا ہے اس کو فلسفہ اسلامی کی نظریات سے قبول کیا جاسکتا ہے اس خصوصیت کے ساتھ کہ اس نظریہ کے مطابق کوئی جنس وجنسیت حقیقت انسانی سے مربوط نہیں ہے اور اس کی صورت نوعیہ اور حقیقت میں داخل نہیں ہے ۔

مذکر اور موٴنث کی اس تقسیم بندی میں ، جنس آدمی کی غریزی مکانیزم اور طبیعی پہلو پر ناظر ہے اور جنسیت آدمی کے ثقافتی اور رفتاری دائرہ میں واقع ہوتی ہے لیکن ذات انسان وہ ہی حقیقت عقلی ہے کہ جو اپنی انسانی اور اجتماعی رفتار وکردار کی تدبیر ونظیم سے ایک ثقافت اور ایک فرہنگ کو وجود میں لاتی ہے ۔

دوسرا حصّہ : معرفتی بنیادیں

عقل اور نفس : عقل کہ جو مسلمان فلاسفہ کی تعریف کے مطابق انسانی حقیقت اوراس کی صورت نوعیہ میں ماخوذ ہے اس کے چند مرتبے اور انواع ہیں اس کے بہت سے مرتبے مجرّد تام ہیں اور اپنی ذات اور فعل کے لحاظ سے مادے سے عاری ہیں عقل کے یہ معنی عالم کے ایک خاص حصّے یا موجودات طبیعی سے تدبیری ارتباط کے نہیں ہیں بلکہ اس کی تاثیر تمام اجزاء طبیعت کی نسبت یکساں ہے ۔

وہ عقل جو تجرد تام کی مالک ہے، نفس انسان کی تعریف اور ہویّت میں داخل نہیں ہے، وہ عقل جو نفس انسان میں ماخوذ ہے ایسی موجود ہے کہ جو بحسب ذات خود مجرد ہے لیکن اپنے فعل اور تدبیر میں مادہ کی محتاج ہے اور عقل اس معنی میں پہلے تو دو حصوں یعنی عملی اور نظری میں تقسیم ہوتی ہے اور پھر قوہ وفعل کے اعتبار سے اس کے چند مرتبے ہیں ۔

عقل نظری حقائق کا ادراک کرتی ہے اور عقل عملی تدبیر یا عزم اور جزم اور اعمال سے متعلق ہے ۔

آدمی کا ارادہ اور اس کا میلان کبھی تو محسوس اور مادّی حقائق اور امور کی طرف متوجہ ہوتا ہے یا وہم وخیال سے متعلق ہوتا ہے، وہ جاذبہ اور دافعہ جو حس وخیال کے دائرہ میں واقع ہوتا ہے وہ غضب اور شہوت کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے اور کبھی آدمی کا ارادہ وعزم کچھ اپنے اہداف اور آرزوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے کہ جو عقل نظری کے واسطہ سے پہچانے جاتے اور موٴیَّد ہوتے ہیں، اس طریقے کے ارادے اور کشش عقل عملی کے دائرے ہمیں واقع ہوتے ہیں، بہت سے افراد بہت قوی عقل نظری کے مالک ہوتے ہیں لیکن ان کی عملی عقل ضعیف ہوتی ہے، بہت سے اس کے برعکس ہوتے ہیں بہت سے افراد کی دونوں عقلیں ضعیف ہوتی ہیں، آخری گروہ وہ ہے جو دونوں عقلوں کے اعتبار سے قوی اور توانا ہوتے ہیں، شیخ اشراق اس گروہ کو فیلسوف کا مل جانتے ہیں ۔

عقل انسانی کے مراتب:

آدمی کی عقل، مراتب کے اعتبار سے چار قسموں پر تقسیم ہوتی ہے:

۱۔ عقل بالقوّہ ۔

۲۔ عقل بالملکہ ۔

۳۔ عقل بالفعل ۔

۴۔ عقل مستفاد ۔

عقل بالقوہ:  انسان اور حیوان کے درمیان سرحد ہوتی ہے، عقل بالقوہ رکھنے والا ایسے نفس کا مالک ہوتا ہے کہ جس میں علوم مختلفہ کے حصول کی صلاحیت ہوتی اور ان کے مطابق عمل کرنے کا امکان بھی ہوتا ہے، آدمی کے نوزاد اور دوسری نوع کے نوزاد میں فرق، عقل بالقوہ کے ذریعہ ہوتا ہے کیونکہ اُن کانفس معقولات کے حاصل کرنے پر قادر نہیں ہوتا ۔

عقل بالملکہ:  وہ عقل ہے جس کا مرتبہ عقل بالقوہ سے برتر ہوتا ہے اور مفاہیم، معانی اور قضایای اولیّہ بدیہیّہ کو درک کرتی ہے، عقل بالملکہ کا مالک ترتیب، استدلال اور مجہولات کی نظری کی طرف حرکت پر قادر ہوتا ہے ۔

عقل بالفعل: وہ عقل ہے جو اُن بدیہیات اور معارف کے ذریعہ جو عقل بالملکہ میں ہیں معارف نظری کی طرف حرکت کرتی ہے اور اُن میں سے کچھ کو فعلیت تک پہنچاتی ہے، عقل بالفعل کا دامن معقولات متنوع سے نسبةً وسیع ہوتا ہے اور ہر انسان جس قدر بھی معلومات سے بہرہ مند ہوتا ہے اسی قدر عقل بالفعل کا مالک ہوتا ہے ۔

جس شخص کی عقل نظری بالفعل ہوتی ہے اور عقل عملی میں بھی قوی اور توانا ہوتا ہے وہ اُس عقل یا ان عقول سے کہ جو مجرّد تام ہوتی ہیں ایک بلاواسطہ ارتباط کی وجہ سے نظری مسائل کے سمجھنے میں مقدمات کو ترتیب دینے کا محتاج نہیں ہوتا ۔

وہ تمام معلومات کو ایک ساتھ وبنحو جمع اپنے ملکہ عملی میں رکھتا ہے اس طرح کہ جب بھی ان میں سے کسی ایک کا ارادہ کرے بغیر اس کے کہ جدید استدلال کا محتاج ہو، بلاواسطہ معلوم کو حاصل کرلیتا ہے جو کوئی عقل کے اس مرتبہ سے بہترہ مند ہوتا ہے وہ عقل مستفاد کا مالک ہوتا ہے ۔

عقل نظری بھی اپنے مورد نظر موضوعات کی مناسبت سے چند قسموں پر تقسیم ہوتی ہے ، اگر اس کے مورد نظر موضوعات اصل ہستی اور موجودات کے مبادی عالیہ سے مربوط ہوں تو ان کو عقل میٹاقیرک کہا جاتا ہے اور اگر اس کے مورد نظر موضوعات طبیعی اور مادی امور ہوں اور ان کا کام تجربی موجودات اور ان کے درمیان نسبتوں میں مقید ہو تو اس کو عقل ابزاری یا عقل جزئی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔

عقل انسانی کا تجرّد:

اگرچہ عقل، افق طبیعت پر نفس کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے لیکن اس کا حضور علل مادی اور قابلی کا معلول نہیں ہے، مادی اور قابلی علل فقط اس کے حضور اور افاضہ کا زمینہ فراہم کرتی ہیں، عقل کے چاروں مرتبوں ، عقل بالقوہ، عقل بالملکہ، عقل بالفعل، عقل مستفاد، اس کی ایجادی اور فاعلی علت، وہ یا عقول ہیں کہ جو مجرّد تام ہیں، حکماء مشّاء اُس عقل کو کہ جو نفوس مجرّدہ کو موجودات مادّی کو ان کے کمال کے مراتب میں عطا کرتی، یا وہ عقل کہ جو نفوس کو بالملکہ ، بالفعل یا مستفاد کو اپنے افاضات کے پرتو میں گردش دیتی ہے اس کو عقل فعّال کہتے ہیں اور اس کو وہ ہی موجود جانتے ہیں جو شریعت کی زبان میں روح القدس کہلاتی اور اذن الٰہی کے ذریعہ انسان کی تعلیم کا وظیفہ انجام دیتی ہے اور حکماء اشراق افاضہ صور کو عقول مجرّدہ کا کام جانتے ہیں اور ان کو مَثَل کے عنوان سے یاد کرتے ہیں ۔

مزید  حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا کی شخصیت کی تجلّیاں

فلسفہ اسلامی کے مبنا کے مطاق نفس انسانی ایسی حقیقت واحدہ ہے جو افق جنس وجنسیت سے بالا ہے، یہ نفس اپنے تجرد ذاتی کی وجہ سے کسی بھی ایسی خصوصیت سے جو زمان ومکان کی قید میں آئے متصف نہیں ہوتی، زمان اور مکان مادّہ کے احکام ہیں کہ جو قبولیت کا ظرف ہے، ولادت کے بعد اگر نفس اپنی تکوینی آزادی اور اختیار کو بروئے کار لائے تو اپنے تکامل وتعالی کے راستہ کو طے کرسکتا ہے اور اپنے رابطہ کو عالم مجردات سے قوی بناسکتا ہے اور مولانا روم کی تعبیر کے مطابق وہ مبادی عالیہ اور فرشتوں کی صفوں میں کھڑا ہوسکتا ہے بلکہ ان سے بھی بالا مراحل کو طے کرسکتا ہے ۔

جس نفس نے عالی راستے کو طے کریا ہو وہ عملی پہلو میں بھی اپنے وجود کے مادّی پہلووں کی تنظیم وتدبیر میں مشغول ہوجاتا ہے اور اس صورت میں حالانکہ اس کی تدبیر زمان ومکان کی قید میں واقع ہوتی ہے ایسی معرفت سے فیضیاب ہوتا ہے کہ جن کو حقائق اور عقلانی مبادی سے حاصل کیا ہوتا ہے ۔

فلسفہٴ اسلامی کی رو سے مرد اور عورت اس کے باوجود کہ وہ اپنے وجود کے مادّی حالات کے لحاظ سے متفاوت ہیں اور اس کے علیٰ رغم کے علیحدہ علیحدہ مقام کے مالک لیکن اپنے مادّی اور طبیعی اعمال میں ایک دوسرے کے لئے مکمِّل ہیں، ادراک واحد سے فیضیاب ہوسکتے ہیں، اگر ان کے درمیان کوئی فرق پیش آئے تو وہ ان کی ذاتی توانائی کی طرف اس حیثیت سے کہ وہ انسان ہیں، نہیں پلٹتا، بلکہ ان کے شخصی ارادہ اور ضعف یا خارجی موانع کی طرف پلٹتا ہے کہ ان کے اوپر غیر عقلائی ثقافتی حالات تھوپے ہوئے ہوتے ہیں ۔

جنسیت کے عقل پر غلبہ کے شرائط:

اگر نفس اپنی تکوینی آزادی اور اختیار کو بروئے کار نہ لاکر اپنے تکامل اور تعالی کے راستے کو طے نہ کرے اور اپنے امکانات اور توانائی کو اپنے وجود کے مادّی اور پست مراتب سے مربوط اہداف اور آرزووں کی برآوری میں صرف کرے، اس وقت اگر نظری پہلو میں توانائیوں کو بھی حاصل کرچکا ہو اور حقائق کو بھی سمجھ گیا ہو تو تدبیر کے مقام میں اپنے وجود کی مادّی خواہشات کے اعتبار سے عمل کرے گا، ان حالات میں ایک جاہلانہ اور غیر عقلی ثقافت وجود میں آئے گی جس سے بعید نہیں ہے کہ جنسی غریزہ اور خواہشات بھی روابط اجتماعی اور مناسبات کی تدبیر وتنظیم میں دخل انداز ہوں اور نتیجةً جنسیت کا عنصر محوری اور مرکزی عنصر کا عنوان پیدا کرلے ۔

فلسفہٴ اسلامی کے مبنا کے مطابق جو راستہ معاصر فیمینیزم جنسیت کو محور قرار دے کر طے کررہے ہیں اسی مبنا کے مطابق یعنی آدمی کے عقلانی ہویّت اور معرفت عقلی کے قلمرو کے استقلال سے غفلت برتتے ہوئے فیمینیزم کا نظریہ انسان کے مادّی وجود کی حیثیت سے قابل استمرار ہے ۔

فلسفہٴ اسلامی کے مطابق عقل نظری خصوصاً اپنے میٹافیزک اور متعالی پہلووں میں اور اسی طرح اپنی عمیق تہوں اور پہلووں میں تمام تر مادی اور دنیوی تعلقات سے مبّراء ہے اور جنسیت کے عنصر کو ان کے حصول اور ان سے مربوط اعمال میں تاثیر گذاری کی مجال نہیں ہے، نفس انسان مبادی عالیہ سے بلاواسطہ ارتباط کی وجہ سے مبادی عالیہ سے مربوط حقائق کو حاصل کرتا ہے اور وجود انسانی کے مادّی تعلقات کا ان حقائق کی اندرونی عمارت کی تعمیر میں کوئی کردار نہیں ہے لیکن عقل جزئی اور ابزاری کو کہ جو مادّی جہان اور اس سے مربوط اجزاء سے تعلّق رکھتی ہے، وجود انسانی کے مادّی پہلووں سے دو جہت سے اثر قبول کرسکتی ہے ۔

پہلی جہت: اس کے وجود کی کیفیت سے مربوط ہے ۔ عقل ابزاری اور جزئی جیسا کہ میٹافیزکی عقل کے احکام وقواعد سے ہدایت حاصل کرتی ہے،  حس اور تجربہ سے بے نیاز نہیں ہے، حس اور خیال، حکمت مشّاء کے مروّجہ مبنا کے مطابق مادّی وجود ہے اسی بناپر انسان کی مادّی اور جسمانی خصوصیات منجملہ جنسیت سے مربوط خصوصیات اس امر میں دہالت رکھ سکتی ہیں، البتہ حکمت اشراق اور حکمت متعالیہ کے نظریہ کے مطاق حس وخیال وجود کے لحاظ سے تجرّد برزخی رکھتے ہیں لیکن یہ مبنا بھی مسئلہ میں اثر گذار نہیں ہوسکتا کیونکہ حس اور خیال اگر غیر مادّی اور مجرّد بھی ہوں تب بھی اپنے ادراک میں شدّت کے ساتھ بدن سے وابستہ اور جود انسان کے جسمانی پہلووں میں شمار ہوتے ہیں اسی وجہ سے اس حصّے سے ان کی تاثیر پذیری زیادہ ہے ۔

دوسری جہت: عقل ابزاری اور جزئی کا انسان کے مادّی پہلووں سے متاٴثر ہونا معرفت کی اس نوع کے کارآمد پہلو سے مربوط ہے اور ایسے ہی اس کی ضرورتیں متکثر اور جدا جدا ہیں کہ جو زندگی کے مختلف حالات اور اشخاص اور انسانوں کی صلاحیتوں کے ایک جیسی نہ ہونے کی بنیاد پر اجتماعی کام کی تقسیم کے نتیجے میں پیش آتی ہیں، یہ امور سبب ہوتے ہیں تاکہ بعض موارد میں اپنی مختلف ضرورتوں اور جسمانی خصوصیتوں اور شرائط کے اعتبار سے بہت سے علوم وفنون یا بہت سی مناسب مہارتوں کی طرف گامزن ہوں اور نتیجے میں خصوصی آگاہیوں اور مہارت سے فیضیاب ہوجائیں منجملہ ان محصولات میں جو چیز مفید ثابت ہوسکتی ہے وہ عنصر جنسیت ہے ۔

عقل اپنے عالی مراحل میں جس قدر آدمی کے قلمرو ذاتی کی طرف برگشت کرتی ہے اور وجود انسان کے مادی پہلو اور وسائل سے مستقل ہے، اسی قدر انسان کے وجود کے بنیادی اور حیاتی مسائل اور سوالات پر بھی ناظر ہے اور سعادت، اہداف ، آرزووں اور زندگی پر حاکم اقدار کی برآوری میں موٴثر اور دخیل ہے، اسی وجہ سے تمام انسان عقل کے اس حصّے کا فعّال اور نتیجہ خیز ہونے میں اس کے مادی وجود کے پہلووں سے قطع نظر ایک جیسے محتاج ہیں ۔

عقل کے اس حصّے کی فعالیت میں انسان کے وجود کے مادّی پہلو اور عوامل کی تاٴثیر بہت کم ہے اور ثقافتی اور اجتماعی عوامل کی تاثیر بھی فقط تربیتی اور تعلیمی زمینہ فراہم ہونے کی حد تک ہے یعنی اجتماع، انسان کی ہر قشر کے لئے تاٴمّل وتفکر اور فرصت کے مواقع یکساں طور پر فراہم نہیں کرسکتا، یا ان سے دریغ کرتا ہے ۔

عقل اور جنسیت کے رابطہ پر تنقیدی نظریہ:

گذشتہ بیان سے معلوم ہوگیا کہ مسلمان فلاسفہ کا عقل وجنسیت کے درمیان رابطہ کا معرفتی نظریہ ایک انتقادی نظریہ ہے، یعنی وہ لوگ اس کے ضمن میں کہ اشخاص کے جسمانی اور مادّی وجود کے اوضاع واحوال مختلف ہیں اور عقل کے مراتب بھی متفاوت ہیں رابطہ کی مختلف صورتوں کو قبول کرتے ہوئے ثقافتی، تاریخی اور اجتماعی عوامل کے لئے بھی عظیم تاثیر کے قائل ہیں ۔

ان سب کے باوجود تمام اشخاص کے لئے اعتبار واقدار کی متصوَّر صورتوں کے یکساں طور پر قائل نہیں ہیں اور ان میں سے بعض صورتوں کو انسان کی اپنی ذات اور ہویّت سے انحراف کا نتیجہ جانتے ہیں اورثقافتی اور تاریخی عوامل کو کہ جو انسانی پیدا وار ہیں اس میں داخل جانتے ہیں بعبارت دیگر اسلامی فلسفہ رابطہ کی مختلف صورتوں کی وضاحت کرتے ہوئے پہلے یہ کہ ثقافت کے انسانی عامل کو بہت سی ان صورتوں کی تکوین وفعلیت میں دخیل جانتا ہے دوسرے یہ کہ رابطہ کی مطلوب صورت کی بھی تصویر کشی کرتا ہے، لہٰذا یہ دو امر باعث ہوئے کہ اسلامی فلسفہ، موجودہ رابطہ پر ایک تنقیدی نظر ڈالے اور اس تنقید کے ساتھ اپنے مطلوبہ نظریہ کی بھی توجیہ کرے ۔

اسلامی فلسفہ کی نظر سے عقل اپنے عالی مرتبہ میں جسمانی اور جنسی پہلووں سے خالی ہے اور عورت اور مرد اپنی سعادت کے لئے یکساں طور پر ہدایت ہوتے اور اس سے یکساں طور پر استفادہ کے محتاج ہیں ۔ وہ اجتماعی مناسبتیں اور روابط کہ جو انسانی ثقافت کے دائرہ میں تشکیل پاتی ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ افراد کے لئے یکساں طور پر اس کے فعلی ہونے کا زمینہ بھی فراہم کریں ۔

لیکن وجودی لحاظ سے بھی عقل جزئی اور ابزاری انسان کے مادی وجود کے پہلووں سے زیادہ متاثر ہوتی ہے اور استفادہ اور احتیاجات کی جہت سے تمام افراد کے لئے یکساں بھی نہیں ہے بلکہ زندگی کے مختلف شعبوں میں تقسیم کار کے اعتبار سے دونوں کے وظیفہ کا الگ الگ ہیں لیکن اجتماع کے مختلف شعبوں میں ان کا متعادل ہونا نہایت ضروری ہے، اس تقسیم کے مراتب میں جنس وجنسیت کے عنصر کے لئے ایک عادلانہ حصّہ منظور کیا جاسکتا ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.