فيض نبوت و ولايت کي بقاء کا الوہي نظام

0 0

حضرت ابراہيم عليہ السلام نے دو دعائيں مانگي تھيں ايک يہ کہ باري تعاليٰ ميري ذريت سے خاتم الانبياء پيدا فرما۔ دوسرے ميري ذريت کو منصب امامت عطا کر چنانچہ حضرت محمد مصطفيٰ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي شکل ميں نبي آخر الزماں تشريف لے آئے، حضور صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم پر نبوت ختم ہو جانے کے بعد اب يہ لازمي تقاضا تھا کہ حضور رحمت کونين صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي نبوت کا فيض اب امامت و ولايت کي شکل ميں آگے چلے، حضرت ابراہيم عليہ السلام کي ذريت ميں ولايت بھي آ گئي، حضور صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کا اپنا صلبي بيٹا نہ تھا۔ سو اب نبوت مصطفيٰ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کا فيض اور امامت و ولايت مصطفوي کا مظہر تھا اسلئے ضروري تھا کہ يہ کسي مقدس اور محترم خاندان سے چلے۔ ايسے افراد سے چلے جو حضور رحمت عالم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کا صلبي بيٹا تو نہ ہو مگر ہو بھي جگر گوشہء رسول، چنانچہ اس منصب عظيم کے لئے حضرت علي کرم اللہ وجہہ اور حضور صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي لاڈلي بيٹي خاتون جنت سيدہ فاطمتہ الزہرا رضي اللہ عنہا پر قدرت کي نگاہ انتخاب پڑي۔
حضرت علي (ع) اور حضرت سيدہ فاطمہ رضي اللہ عنہ کي شادي کا آسماني فيصلہ
اللہ تعاليٰ اور اس کے رسول صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي خوشنودي رضا اور مشعيت سے يہ مقدس ہستياں رشتہ ازدواج ميں منسلک ہوئيں۔ حديث پاک ميں ہے :
عن عبدالله بن مسعود عن رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم قال ان الله امرني ان ازوج فاطمة من علي رضي الله عنهما
حضرت عبداللہ بن مسعود رضي اللہ عنہ سے مروي ہے کہ نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا کہ بے شک اللہ تعالي نے مجھے حضرت فاطمہ رضي اللہ عنہ کا حضرت علي (ع) سے نکاح کرنے کا حکم ديا۔
(
المعجم الکبير للطبراني، 10 : 156، ح : 10305)

مزید  مہدویت ایک عالمگیر نظریہ
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.