فلسفه حیاء

0 2

 

اسلام میں اخلاقیات کا بهت بڑا مقام هے اور ارکان اسلام میں سے تیسرا رکن شمارهوتاهے اور انتهائی اهمیت اور ضرورت کا حامل هے. اخلاقی موضوعات میں سے حیاء بهت زیاده اهمیت کا حامل هے،اس کے باوجود اسلامی معاشرے میں اس بارے میں کم گفتگو هوئی هے، جبکه انسان ساز اخلاقی موضوعات میں سے اساسی ترین موضوع هے.

لهذا اس موضوع کا مرحله وار اور محققانه انداز میں جائزه لینے کی ضرورت هے.

حیاء کا لغوی معنی

ارباب لغت کی نظر میں حیاء ایک اصل اور مصدر هے .اس کے مادے اور اصل کے بارے میں تین نظریے پائے جاتے هیں کیونکه حیاء مصدر هے ،اس لئے جب تک اس کا اصل اور اده معلوم نه هو، اس کا معنی واضح نهیں هوگا.

پهلا نظریه: بعض علمائے لغت کا کهناهے که حیاء کا ریشه”حیو”هے.خلیل بن احمد فراهیدی کهتاهے :حیاءکا ریشه و ماده (ح ی و)هے. اس کےدومعانی هیں: ایک معنی اس کا شرم هے،جس کے مقابلے میں بے شرمی آتی هے.

دوسرا معنی: زندگی هے حوکه موت کے مقابلے میں هے.(1)

دوسرا نظریه: بعض علماء ادب فرماتے هیں که حیاء کاماده اور اصل (ح ،ی،ی) هے. ابن فارس کهتے هیں حیاء مصدرهے(ح،ی،ی)کا اور اس کے دو معنی هیں.حیاء کا پهلا معنی زندگی کے معنی میں هے،جس کے مقابلے میں موت هے.دوسرا معنی ،شرم هےف جس کے مقابلگ میں بی شرمی هے.(2)

تیسرا نظریه: فرماتے هیں که حیاء کےدو معانی هیں: ایک معنی حیات هے اور دوسرا معنی بارش هے.علت یه زکر کیا گیا هے که اگر مد کے ساتھ حیاء استعمال هوتو اس کا معنی شرم هے اور اگر مد کے بغیر هو تو بارش کے معنی میں هے.

حیاء اور شرم انسان کے قلب اور روح کو زنده کرتاهے. جس طرح بارش بنجر زمین کو زندگی بخشتی هے اس لئے دونوں معانی کا ریشه اور ماده حیات ،یعنی زندگی هے.(3)

مزید  کون سے بچے دماغی فالج کا زیادہ شکار ہوتے ہیں ؟

حیاء کا اصطلاحی معنی:

علماء اخلاق نے اخلاق کی متعدد تعریفیں بیان کی هیں.علامه محمد مهدی نراقی نے یه تعریف کی هے:

وهو انحصار النفس و انفعالها من ارتکاب المحرمات الشرعیة اولعقلیة والعادیة حذرا من الذم واللوم ، وهو اعم من التقوی.(4)

“اپنے نفس کو شرعی ،عقلی اور عرفی محرمات سے بچانے کانام حیاء هے تاکه لوگوں کی مذمت اور ملامت سے بچاجاسکے اور یه فضیلت کےدائرے کے اعتبار سے تقوا سے عام هے”.

زمخشری نےحیاء کی تعریف کی هے:

وهو التحیر والاضطراب من الحیاء.(5)

“حیاء اور تشویش هے”.

حقیقت میں انهوں نے حیاء کے مسبب کو بیان کرکے سبب کا اراده کیا هے.کیونکه حیاء کو پریشانی اور خوف سے تعبیر کیاهے.حالانکه حیاء کی وجه سے پریشانی اور اضطراب حاصل هوتاهے.جب هم احادیث معصومین علیهم السلام کا مطالعه کرتے هیں تو حیاء کامعنی مزید واضح هوجاتاهے.

حضرت رسول اکرمصلي اللہ عليہ وآلہ وسلم فرماتےهیں:

ان لکل دین خلقا و خلق الاسلام الحیاء .(6)

“یقیناَهر دین کےلئے اخلاق هوتاهے اسلام کا اخلاق ائور ضابطه حیات،حیاء اور شرم هے.”

ایک اور جگه پر حیاء کو اسلام کا پرده اور اس کے لباس سے تعبیر کیاهے.ان تعابیر سے بخوبی معلوم هوتاهے که حیاء ایک بهت بڑی فضیلت هے جو انسان کو کمال تک پهنچاتی هے.

حیاء کی ضرورت احادیث کی روشنی میں

رسول اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلمفرماتے هیں:

الحیاء شعبة من الایمان ،ولاایمان لمن لا حیاء له.(7)

“حیاء ایمان کا حصه هے جس کو حیاء نهیں اس کو ایمان بھی نهیں.”

پیغمبراکرمصلي اللہ عليہ وآلہ وسلمکی حدیث کی روشنی میں دیندار انسان کےلئے ،خواه وه مرد هو یا عورت،بچه هو یا جوان ،حیاء ایک ضرورت هے،اور حیاء انسانی زندگی میں اهمیت رکھتی هے.کیونکه حیاء نه هو تو انسان اپنے وظائف کو انجام دینے سے بھی قاصر رهتاهے.

رسول اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلمفرماتے هیں:

مزید  اسلام انسان کو کمال نہائی کی منزل عطا کرتا ہے

“انسان میں اگرحیاءت نه هوتی تو نه حقوق والدین اداکرتا،نه هی مهمان کا احترام کرتا.”

انسان شناسی کی روسے حیاء کا انسان سازی میں بهت بڑا کردار هے اخلاقیات میں پهلا مقام حاصل هے.حیاء اخلاقی فضائل میں سے ایک بهت بڑی فضیلت هے.احادیث میں،حیاءاورشرم ،تمام خوبیوں کی چابی سے تعبیر کیاگیاهے.اسی طرح بی شرمی تمام برائیوں کی چابی هے.لهذا دنیا میں جوبھی برائی هورهی هیں شرم وحیاء کے فقدان کی وجه سے هیں.یقیناَبےدین لوگ بے شرم هوتے هیں اور بے شرم لوگوں سے ،قتل ،غارت ،لوٹ مار،چوری،ظلم واستبداد… حدیث رسول اکرمصلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے مطابق ،سرزدهوتاهے.تاریخ اسلام گواه هے اور دنیا کی حالت آج کل ایسی هی بنی هوئی هے،سارے مظالم ،حیاء کی کمی یافقدان کی وجه سے هورهے هیں.

رسول گرامی اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم فرماتے هیں:

الاسلام عریان فلباسه الحیاء(8)

“اسلام عریان هے اور اس کا لباس حیاء هے.”

حدیث شریف کی روشنی میں جب تک انسان حیاء کالباس زیب تن نه کرے،اس سے هرقسم کی برائیوں کا سرزد هوناممکن هے.

امام علی عليہ السلام فرماتے هیں:

من کساه الحیاء ثوبه خفی عن الناس عیبه(9)

“جس شخص کو حیاء اپنا لباس پهنائے اس کے عیوب لوگوں پر پوشیده رهیں گے.”

ایک اور مقام پر امام علی عليہ السلامفرماتے هیں:

احسن ملابس الدین الحیاء(10)

“شرم وحیاء دین کے بهترین لباسوں میں سے هے.”

رسول اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلمفرماتے هیں:

قلة الحیاء کفر

“حیاء اور شرم میں کمی کفروبی دینی هے.”

امام علی عليہ السلام فرماتے هیں:

کثرة حیاء الرجل دلیل ایمانه (11)

“مرد میں حیاء اورشرم کازیاده هونا اس کے ایمان کی دلیل هے.”

احادیث کی روشنی میں شرم وحیاء کی اهمیت اور ضرورت واضح هوگئی که انسان کو دنیا میں آنے کے بعد سے مرتے دم تک حیاء کی ضرورت هے اور یه فضیلت ،انسان کودیندار بنانے کے علاوه انسان کے عیوب کو ڈاھانپ کر کمال تک پهنچاتی هے اور اگر شرم وحیاء نه هو تو پھر انسان کفر کی منزل تک پهنچتاهے.

مزید  مسلمان کوفہ، تنہا مسلم

امام صادق عليہ السلامفرماتے هیں:

الوفاحة صدر النفاق ،وصدر لانفاق الکفر.

“بے حیائی نفاق کی بنیادهے اور نفاق کی بنیاد کفر هے.”

شرم وحیاء کربلا کے آئینے میں

جنهوں نے کربلا میں امام حسینعليہ السلاماور آپ کے اصحاب بلکه ناموس مصطفیصلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور شیرخوار بچوں پر بھی رحم نهیں کئے اوربے دردی کے ساتھ شهید کئےامام حسینعليہ السلامکے سر اقدس کو نوک نیزے پر بلند کئے اور خیموں کو آگ لگادی،ناموس رسالت کوکوفه وشام کے بازاروں میں خوشیاں مناتے هوئے پھر ایا.اس شرمناک کر توت کا سبب شرم وحیاء کے نه هونے کے علاوه اور کیا هوسکتاهے؟امام حسینعليہ السلامحیاء کے پیکر تھے تبی تو امامعليہ السلامنے اشقیاء کے حیوانوں تک کو سیراب هونے کی اجازت دی.خداوند متعال سے حیوانوں کے بارے میں بھی حیاء محسوس کئے.خداوند متعال سے شرم وحیاء یه هے که انسان واجبات الهی پر عمل کرے اور محرمات الهی سے پرهیز کرے،امربه معروف اور نهی عن المنکر کا فریضه انجام دیں،جس کی خاطر امامعليہ السلامنے یه سب قربانی دی جیساکه ارشاد هے:

انی اریدان آمربالمعروف وانهی عن المنکر واسیر بسیرة جدی وابی علیهم اسلام.

دوسری جگه پر آپ نے اشقیاء سے مخاطب هوکر فرمایا:

“تمهارے پیٹ حرام سے بھرے هوئے هیں اس وجه سے تم پر میری باتوں کا اثر نهیں هورها.”

…………………………..

1- حلیل ابن احمد فراهیدی،العین ،ج3،ص317.

2- احمدبن فارس ،معجم مقابیس الغة،ج2ماده حیی.

3- تهذیب الاسماء والغات ،ج3نودی،ص79.

4- جامع السعادت،ج3،ص46.

5- اساس االبلاغه ،ص154.

6- علی طبرسی، مشکاة الانوار فی غررالاخبار،ص234.

7- کلینی ،کافی ،ج2،ص46.

8- آمدی ،غررالحکم،ج5،ص311.

9- میزان الحکمة،ری شرهی،ج2،ص563.

10- میزان الحکمة ،ری شهری،ج2،ص398.

11- مصباح الشریعه،ج1،ص569.

 

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.