فلسطین کی سیاسی اور جغرافیائی اہمیت

0 0

فلسطین کا رقبہ ٢٧٠٢٤ مربع کلو میٹر ہے ۔ یہ سرزمین دنیا کے شمالی حصہ میں جنوب مغربی ایشیا میں واقع ہے ۔ اس کے مشرق میں بحر روم، شمال میں لبنان، شمال مشرق میں شام ، مشرق میں اردن اور جنوب میں مصر واقع ہے ۔

فلسطین کی طبیعی اہمیت:

الف : جغرافیہ: فلسطین کا رقبہ ٢٧٠٢٤ مربع کلو میٹر ہے ۔ یہ سرزمین دنیا کے شمالی حصہ میں جنوب مغربی ایشیا میں واقع ہے ۔ اس کے مشرق میں بحرروم، شمال میں لبنان، شمال مشرق میں شام ، مشرق میں اردن اور جنوب میں مصر واقع ہے ۔ اس کا شمار مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں ہوتا ہے ۔ فلسطین جنوب کی جانب سے بحراحمر اور مصر کے صحرائے سینا کی حدود میں واقع ہے ۔

فلسطین کے شمالی علاقے جو کہ لبنان اور شام کی سرحدوں سے ملتے ہیں، کوہستانی ہیں اور جس قدر شمال سے جنوب کی طرف جائیں تو پہاڑی سلسلے کا خاتمہ ہوتا چلا جاتا ہے ۔ یہاں تک کہ فلسطین کے جنوب میں ”نقب” نامی وسیع صحرا موجود ہے جو کہ صحرائے سینا سے متصل ہے ۔ فلسطین کے مشہور پہاڑ کا نام ”جرجوق” ہے جس کی بلندی ١٢٠٨ میٹر ہے ۔

فلسطین میں بہنے والی نہریں درج ذیل ہیں ۔

نہراردن : یہ شام کے شمالی علاقہ بانیاس سے شروع ہوتی ہے ۔ اس نہر کی لمبائی ٣٠٠ کلو میٹر ہے ۔

نہریر موک : اس کی لمبائی ٤٠ کلو میٹر ہے ۔

نہر المقطع : اس کی لمبائی ١٣ کلو میٹر ہے ۔

فلسطین میں چند ایک چھوٹے چھوٹے دریا بھی ہیں ۔ جیسے جنوب مشرقی فلسطین میں ١٠٥٠ مربع کلو میٹر پر محیط بحر ”ا لمیت” ،شمال میں ١٦٥ مربع کلو میٹر وسیع ”’طبریہ” ۔

مزید  ولایت کے بارے میں

بحرروم کے ساحلی علاقوں میں آب و ہوا معتدل ہے جب کہ مشرقی فلسطین کی جانب بتدریج ہوا میں نمی کا تناسب کم ہوتا چلا جاتا ہے ۔ فلسطین کا شمالی علاقہ پہاڑی اور برفانی ہے جب کہ جنوبی علاقہ انتہائی گرم ہے ۔

آبادی اور بڑے شہر :

اعداد و شمار کے مطابق ١٩٨٧ تک فلسطینیوں کی تعداد پوری دنیا میں ٥١ لاکھ افراد سے زیادہ ہے جو کہ مقبوضہ علاقوں کے علاوہ دنیا کے ١٣ مختلف ملکوں میں منتشر ہیں ۔ فلسطین میںغزہ، قدس، السامرہ اور حیفا نامی چار صوبے ہیں جبکہ مشہور شہر بیت المقدس، بیت اللحم، رام اللہ، غزہ، نابلس، حیفا، یافا اور طولکرم ہیں ۔

فلسطین کی اقتصادی اور جیو پولیٹیکل اہمیت :

فلسطین قدرتی ذخائر سے مالا مال علاقہ نہیں ہے ۔ معدنیات میں سے صرف پوٹا شیم ، مینگنیز، سوڈیم اور ”بحر ا لمیت” کا برومین قابل ذکر ہیں ۔

پوٹا شیم کے اعتبار سے یہ دنیا کا مالدار ملک ہے ۔ سرزمین فلسطین کا ایک تہائی حصہ قابل کاشت ہے اور یہاں کی اکثریت کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی ہی ہے ۔

عالمی اور علاقائی حکمت عملی (Strategy) کے اعتبار سے فلسطین کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔ یہ ملک ایشیاء کو افریقہ سے ملانے والا ایک پل ہے اور جزیرہ نمائے عرب کو بحرروم سے ملاتا ہے ۔ اس علاقہ کی اسی اہمیت کی وجہ سے استعمار نے دو اہم عرب علاقوں کے درمیان جدائی ڈالنے کا منصوبہ بنایا اور اس پر عمل کیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.