فلسطین پر قبضه کی روش

0 0

دشمن کے دسیوں اقدامات پر مشتمل ایک تاریخی عمل کے نتیجے میں فلسطین، صیہونیوں کی بلا شرکت غیرے ملکیت بن گیا ہے۔ دنیا کے کچھ طاقتور یہودیوں کو یہودی آبادی کے لئے ایک الگ ملک کی تشکیل کا خیال پیدا ہوا۔ البتہ پہلے سے ہی وہ اس فکر میں تھے کہ یوگانڈا چلے جائیں اور وہاں اپنا ملک قائم کریں۔ کچھ دنوں تک وہ اس بارے میں غور کرتے رہے کہ لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کا رخ کریں لہذا انہوں نے جاکر اطالوی حکومت سے بات کی کیونکہ اس وقت طرابلس اسی کے قبضے میں تھا لیکن اطالویوں نے نفی میں جواب دیا۔ سرانجام برطانیہ سے ان کا معاہدہ طے پا گیا۔

 اس زمانے میں مشرق وسطی میں برطانیہ کے بہت اہم سامراجی اہداف تھے۔ اس نے سوچا کہ چلو اچھا ہے، یہ لوگ اس علاقے میں آ جائیں گے ( تو ان کے ذریعے) وہ اپنا مشکل ہدف بھی پورا کر لے گا۔ اس سرزمین پر قبضہ ایک کثیر المقاصد اور پیچیدہ منصوبے کے تحت کیا گيا جس کا ہدف مسلمانوں کو متحد ہونے سے روکنا اور دوبارہ طاقتور مسلمان حکومتوں کی تشکیل نہ ہونے دینا تھا۔

 ایسے ثبوت موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ جرمن نازیو‌ں سے صیہونیوں کے بڑے قریبی روابط تھے اور یہودیوں کے قتل عام کے مبالغہ آمیز اعداد و شمار در حقیقت رائے عام کی ہمدردیاں حاصل کرنے، فلسطین پر قبضے اور صیہونیوں کے جرائم کی پردہ پوشی کا حربہ تھا۔ اس کے بھی ثبوت ہیں کہ مشرقی یورپ کے کچھ غیر یہودی اوباشوں کو یہودیوں کی حیثیت سے ہجرت کراکے فلسطین لایا گيا تاکہ نسل پرستی کی قربانی بننے والوں کے پسماندگان کی حمایت کے نام پر قلب عالم اسلام میں ایک اسلام دشمن حکومت کا قیام عمل میں لایا جا سکے اور تیرہ صدیوں کے بعد عالم اسلام کے مغربی و مشرقی حصوں کو دو لخت اور ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے۔ شروعات میں تو مسلمان مات کھا گئے چونکہ صیہونیوں اور ان کے مغربی حامیوں کی سازش کی حقیقت سے واقف نہیں تھے۔ حکومت عثمانیہ کو شکست ہوئی۔ فاتح طاقتوں کے درمیان سائکس- پیکو کے نام سے مشرق وسطی کے مسلم علاقوں کی تقسیم کا خفیہ معادہ طے پایا۔ لیگ آف نیشنز نے فلسطین کو برطانیہ کی نگرانی میں دے دیا۔ برطانیہ نے صیہونیوں سے مدد و تعاون کا وعدہ کر لیا اور طے شدہ منصوبوں کے مطابق یہودیوں کو فلسطین لایا گيا اور مسلمانوں کو ان کے گھر بار سے نکال دیا گیا۔

طے یہ پایا تھا کہ یہودی ابتدا میں تو ایک اقلیت کے طور پر وارد ہوں اور بعد میں بتدریج اپنا دائرہ بڑھائیں اور ایک گوشے کو جو انتہائی حساس گوشہ ہے یعنی فلسطینی ریاست جو حساس علاقے میں واقع ہے، اپنے قبضے میں کر لیں پھر وہاں حکومت بنائیں اور برطانیہ کے اتحادی بنے رہیں اور اس علاقے میں عالم اسلام بالخصوص عرب دنیا کا کوئی اتحادی باقی نہ رہنے دیں۔ جس دشمن کو باہر سے اس طرح کی حمایت حاصل ہو وہ جاسوسی اور دیگر حربوں سے اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے اور اس نے ایسا ہی کیا۔ کسی سے نزدیک ہو گیا، کسی پر ضرب لگا دی، کسی کو کچل دیا اور کسی سے سختی کا برتاؤ کیا۔

 بنابریں سب سے پہلے درجے میں برطانیہ کی مدد ملی اور پھر بعض دیگر مغربی ممالک نے تعاون کیا۔ بعد میں یہ لوگ برطانیہ سے رفتہ رفتہ دور اور امریکا کے قریب ہوتے گئے۔ امریکا آج تک صیہونیوں کو اپنے سائے میں پناہ دئے ہوئے ہے۔ اس طرح ان لوگوں نے ایک ملک بنایا اور فلسطین پر قبضہ کیا۔ قبضے کا انداز یہ تھا کہ پہلے جنگ کا راستہ اختیار نہیں کیا، پہلے مکر و حیلے سے کام لیا۔ پہلے جاکر فلسطینیوں کی بڑی زمینوں کو جس پر عرب کسان زراعت کیا کرتے تھے اور جو بہت سرسبز و زرخیز تھیں اور جن کے اصلی مالک یورپ اور امریکا میں رہتے تھے، ان کی اصلی قیمت سے کئی گنا زیادہ قیمت پر خرید لیا اور پھر ان زمینوں کو یہودیوں کے ہاتھوں فروخت کر دیا۔ ان کے پاس اس کے کچھ اچھے ذرائع بھی تھے جن میں سے ایک “سید ضیا” (سید ضیاء الدین طباطبائی) تھا جو انیس سو بیس کے آس پاس ہونے والی بغاوت میں رضا خان کا شریک کار تھا، اس نے فلسطین جاکر وہاں مسلمانوں سے زمین خرید کر یہودیوں اور اسرائیلیوں کو فروخت کرنے کی دلالی شروع کر دی۔ زمینوں کو خریدا گیا۔ جو زمینیں ان کی ملکیت میں آئیں ان کو بڑی سنگدلی اور درندگی کے ساتھ ان کسانوں سے خالی کرایا جانے لگا جو اس پر کھیتی کرتے تھے۔ کہیں بھی جاکر مار پیٹ کرتے تھے، لوگوں کو قتل کرتے دیتے تھے اور ساتھ ہی ساتھ عالمی رائے عامہ کی ہمدردیاں بھی بٹورنے کی کوششیں جاری رکھتے تھے۔

برعکس حقیقت:

عالمی سطح پر جاری تشہیراتی مہم میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ جن یہودیوں نے آکر فلسطین میں اپنے گھر بنائے ہیں وہ مظلوم و ستم رسیدہ اور ظلم و جارحیت سے پسے ہوئے لوگ ہیں جبکہ وہ عرب جو اپنے گھر واپس لینے کی کوششیں کر رہے ہیں بڑے جبرپسند اور تند مزاج لوگ ہیں جو کسی بھی اصول و قانون کے پابند نہیں۔ جب روسی یہودیوں اور صیہونیوں نے فلسطین کی جانب ہجرت شروع کی تو اس وقت وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ یہ غاصب ہیں، یہ فلسطین کے رہنے والے نہیں ہیں جو وہاں جا رہے ہیں، یہ روس، یوکرین، یورپی ممالک اور امریکا کے رہنے والے ہیں جن میں ہر ایک کے پاس اپنے وطن میں زمینیں، رہائش گاہیں، دولت و ثروت اور مال و منال ہے، اس سب کے باوجود وہ فلسطین جا رہے ہیں تاکہ فلسطینیوں کا حق غصب کریں اور ان سے اپنے گھر بسانے کا حق چھین لیں۔ ان باتوں کو زبان پر نہیں لاتے تھے! علاوہ ازیں صیہونی اور امریکی عناصر اپنے ذرائع ابلاغ میں کچھ تھکی ہاری اور خستہ حال یہودی عورتوں اور بچوں کی تصاویر دکھاتے تھے تاکہ دنیا والے کہیں کہ “بڑی عجیب بات ہے! یہ عرب ان بیچارے مظلوموں کے ساتھ یہ برتاؤ کیوں کر رہے ہیں؟!”

فلسطین پر قبضے کے تین مراحل:

فلسطین پر صیہونیوں کے غاصبانہ قبضے کے تین مراحل ہیں: ایک مرحلہ عربوں سے قسی القلبی کے برتاؤ کا ہے، فلسطین کے اصلی و حقیقی باسیوں کے ساتھ صیہونیوں کا برتاؤ بڑا سنگدلانہ اور تشدد پسندانہ تھا۔ ان کے ساتھ کسی طرح کی رو رعایت نہیں کی جاتی تھی۔

دوسرا مرحلہ: عالمی رائے عامہ کے سامنے جھوٹ بولنے اور دروغ گوئی کا تھا۔ عالمی رائے عامہ سے دروغ گوئی ان کے حیرتناک حربوں میں سے ایک ہے۔ یہودیوں کے قبضے والے صیہونی ذرائع ابلاغ کے ذریعے انہوں نے عالمی رائے عامہ سے بے پناہ جھوٹ بولے، قبضے سے پہلے بھی اور قبضے کے بعد بھی۔ اسی جھوٹ کے سہارے یہودی سرمایہ داروں کو شیشے میں اتارا گیا! بہتوں کو ان کے جھوٹ پر یقین بھی آ گيا۔ حتی وہ فرانسیسی فلسفی و مصنف جان پال سارٹر تک کو فریب دینے میں کامیاب ہو گئے۔ اسی جان پال سارٹر نے ایک کتاب بھی لکھی جس کا میں نے تقریبا تیس سال قبل مطالعہ کیا۔ اس نے لکھا کہ” بغیر سرزمین کے عوام اور بغیر عوام کی سرزمین” یعنی یہودی وہ لوگ تھے جن کے پاس کوئی زمین نہ تھی، وہ فلسطین آئے جو باشندوں سے خالی سرزمین تھی، انسانوں سے خالی ویران علاقہ تھا۔ یہ کیا بات ہوئی کہ انسانوں سے خالی علاقہ تھا؟ جناب وہاں پوری ایک قوم آباد تھی جو کھیتوں میں کام کرتی تھی۔ اس کے ثبوتوں کی کمی نہیں ہے۔ ایک غیر ملکی مصنف کہتا ہے کہ پوری سرزمین فلسطین میں گندم کے کھیت ہی کھیت تھے اور تا حد نگاہ انہی کھیتوں کی ہریالی نظر آتی تھی۔ دنیا کو یہ بتایا گيا کہ فلسطین ایک ویران اور متروک علاقہ تھا، ہم نے آکر اسے آباد کیا۔

 پوری رائے عامہ سے دروغ گوئی! ہمیشہ خود کو مظلوم ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی۔ کسی یہودی خاندان کے ساتھ کوئی معمولی سا واقعہ بھی پیش آ جاتا تو ٹائم اور نیوز ویک جیسے امریکی جریدوں میں مہلوک کی تصویر، عمر، دیگر تفصیلات اور اس کے بچوں کی مظلومیت کی مفصل داستان شائع ہوتی لیکن فلسطینی نوجوانوں، لڑکوں، خاندانوں، بچوں اور عورتوں پر مقبوضہ فلسطین کے اندر اور لبنان میں مظالم کے جو پہاڑے توڑے جاتے ہیں ان کی جانب اشارہ تک نہیں کیا جاتا!

تیسرا مرحلہ: ساز باز کا ہے۔ یعنی فلاں حکومت سے بات کرو، فلاں شخصیت سے رابطہ کرو، فلاں سیاستداں کو اپنے ساتھ ملاؤ، فلاں دانشور سے ملو، فلاں مصنف اور فلاں شاعر سے ساز باز کرلو! ان کی کوششیں ان تین مراحل میں جاری رہی ہیں اور وہ اس طرح ایک ملک کو فریب اور دھوکے سے ہڑپنے میں کامیاب رہے ہیں۔ انہیں بیرونی ممالک کی حمایت بھی حاصل رہی ہے جن میں سب سے پیش پیش برطانیہ تھا۔

 اقوام متحدہ اور اس سے قبل لیگ آف نیشنز نے بھی جنہیں جنگ ہو جانے کے بعد امن کے قیام کے نام پر تشکیل دیا گيا تھا، سوائے چند مواقع کے ہمیشہ ان کی حمایت کی۔ انیس سو اڑتالیس میں اقوام متحدہ نے ایک قرارداد منظور کی اور فلسطین کو بغیر کسی معقول وجہ کے تقسیم کر دیا۔ اس قرارداد میں کہا گيا کہ فلسطینی سرزمین کا ستاون فیصدی حصہ یہودیوں کا ہے جبکہ اس سے قبل تک محض پانچ فیصدی زمین ہی ان کے پاس تھی! پھر کیا تھا یہودیوں نے ایک حکومت قائم کر لی جس کے بعد گاؤوں، شہروں اور گھروں پر حملے اور دوسری حرکتیں شروع ہو گئیں۔ البتہ عرب حکومتوں نے بھی کوتاہیاں کیں۔ کئی جنگیں ہوئیں۔ انیس سو سڑسٹھ میں اسرائیلیوں نے امریکا اور کچھ دیگر حکومتوں کی مدد سے مصر، شام اور اردن کے کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد انیس سو تہتر کی جنگ میں جو انہوں نے شروع کی بڑی طاقتوں کی مدد سے جنگ کے نتائج کو اپنے حق میں موڑ لیا اور مزید کچھ علاقے ہڑپ لئے۔

دوسرا باب: فلسطین کی اہمیت

مسئلہ فلسطین کی اہمیت:

حقیقت میں اس وقت مسلمانوں کی زندگی اور اسلامی علاقوں کا کوئی بھی مسئلہ اتنا بڑا اور اہم نہیں ہے جتنا کہ مسئلہ فلسطین۔ برسوں سے رفتہ رفتہ مسلمانوں کو اس کا عادی بنا دیا گیا کہ ان کے گھر کا ایک حصہ اغیار کے قبضے میں رہے۔ البتہ بات مسلمانوں کے گھروں کے ایک حصے پر غاصبانہ قبضے تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اسی حصے کو مسلمانوں کی صفوں پر حملے کرنے اور ان کی خواہشات اور آرزؤں کو کچلنے کے لئے محاذ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

مسئلہ فلسطین کے سلسلے میں سب سے اہم ہدف و مقصد سرزمین فلسطین کو نجات دلانا ہے یعنی فلسطینی حکومت کو محو و نابود کرنا اور اس سلسلے میں انیس سو سڑسٹھ سے قبل اور بعد کے علاقوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ سرزمین فلسطین کا ایک بالشت حصہ بھی فلسطینیوں کے گھر کا ایک بالشت حصہ ہے۔ فلسطینی ریاست پر فلسطینی عوام اور مسلمانوں کی حکومت کے علاوہ کوئی بھی اقتدار غاصبانہ اقتدار ہوگا۔ بنابریں بنیادی بات وہی ہے جو امام خمینی نے فرمائی: “اسرائیل کو نابود ہو جانا چاہئے” فلسطین کے یہودی اگر اسلامی حکومت کو تسلیم کرتے ہیں تو وہاں شوق سے زندگی گزاریں۔ یہودیوں سے دشمنی برتنے کی بات نہیں ہے۔ مسئلہ مسلمانوں کے گھروں پر غاصبانہ قبضے کا ہے۔ مسلمان عمائدین اور زعما اگر بڑی عالمی طاقتوں کے زیر اثر اور ان کے دباؤ میں نہ ہوتے تو یہ مہم سر کر سکتے تھے لیکن افسوس انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

بیت المقدس کی اہمیت:

مسئلہ فلسطین کے ساتھ ہی بیت المقدس کا مسئلہ بھی بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اس وقت اس مقدس شہر کو غصب کر لینے اور ہضم کر جانے اور شہر کے اسلامی آثار کو محو کر دینے کی گوناگوں صیہونی سازشیں چل رہی ہیں۔ اس شہر کا تعلق تمام مسلمانوں سے ہے۔ پورا بیت المقدس پورے فلسطین کا دارالحکومت ہے۔ مسلمان ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ دشمنوں کی ناپاک سازشیں عملی جامہ پہنیں، وہ ان سازشوں کا مقابلہ کریں گے۔

فلسطین کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف:

اسلامی نقطہ نگاہ سے: مسئلہ فلسطین اسلامی لحاظ سے تمام مسلمانوں کے لئے بنیادی اور حیاتی مسئلہ ہے۔ تمام قدیم شیعہ سنی علما نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اگر اسلامی سرزمین کا کوئی ٹکڑا دشمنان اسلام کے قبضے میں چلا جائے تو سب کا فریضہ یہ ہے کہ دفاع کے لئے اٹھ کھڑے ہوں یہاں تک کہ مقبوضہ علاقے کو آزاد کرا لیا جائے۔ مسئلہ فلسطین کے سلسلے میں ہر شخص کی توانائی اور امکان کے مطابق اس کی ذمہ داریاں اور فرائض ہیں۔ سب سے پہلے مرحلے میں اسلامی لحاظ سے ان کا فرض بنتا ہے۔ کیونکہ یہ زمین اسلامی سرزمین ہے، دشمنان اسلام کے قبضے میں ہے، اسے بازیاب کرایا جانا چاہئے۔

دوسرے مرحلے میں یہ کہ اسی لاکھ مسلمانوں کی بات ہے۔ ان میں بہت سے بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ بہتوں کا عالم یہ ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے اندر پناہ گزینوں سے بھی ابتر حالت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ معمول کی آمد و رفت تک سے گھبراتے ہیں اور ڈرتے ہیں، اپنے دل کی بات آزادانہ بیان نہیں کر سکتے۔ ملک کے نظم و نسق کے لئے کوئی نمائندہ منتخب کرنے کی انہیں اجازت نہیں ہے۔ بسا اوقات تو انہیں نماز پڑھنے تک سے روک دیا جاتا ہے۔ مسجد الاقصی کو جو مسلمانوں کا قبلہ اول ہے خطرے میں ڈال دیا گيا ہے، برسوں قبل ایک دن اسے آگ بھی لگا دی گئی۔ اس کے بعد وہاں کھدائی کا کام شروع کر دیا اور غیر قانونی حرکتیں انجام دی گئیں۔ وہ مسجد الاقصی کو مسلمانوں کے قبلہ اول کو اسلامی تشخص سے محروم کر دینا چاہتے ہیں۔

انسانی نقطہ نگاہ سے: فلسطینی خاندانوں کی مظلومیت سے ہر انسان کے دوش پر کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں، ان لوگوں کی مظلومیت سے جو فلسطین کے اندر ہیں۔ ان پر ظلم کے کیسے کیسے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ بڑی حیرت کی بات یہ ہے کہ انسانی حقوق کی یہ تنظیمیں بھی نہیں معلوم کہاں مر گئی ہیں! یہ امریکی اور یہ مغرب والے جو یہ دعوے کرتے ہیں کہ دنیا میں جمہوریت کا فروغ ان کا فریضہ ہے، اس مسئلے میں بڑی بے آبروئی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ نظروں کے سامنے ایک ایسی قوم ہے جسے اپنے ملک کے کسی بھی معاملے میں کوئی کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے، جس کا کہیں کوئی اثر نہیں ہے اور جس کی کہیں کوئی بات نہیں کی جاتی، یہی ملت فلسطین ہے۔ انسانی زاویہ نگاہ سے دیکھا جائے تو ایک طرف یہ مظلوم لوگ اس نسل پرست ظالم حکومت کا سامنا کر رہے ہیں اور دوسری طرف امریکا اور عالمی تنظیموں اور نام نہاد مغربی دانشور ہیں جو جمہوریت کی حمایت کے جھوٹے دعوے کرتے ہیں۔ امن و سلامتی کے نقطہ نگاہ سے: اسرائیل،

امن و سلامتی کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے، پورے علاقے کی سلامتی کے لئے کیونکہ اسکے پاس ایٹمی ذخیرہ ہے اور وہ مزید اسلحے بنا رہا ہے! اقوام متحدہ بھی کئی بار انتباہ دے چکی ہے لیکن اسرائيل نے کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ اس کی اہم وجہ امریکا کی پشتپناہی اور حمایت ہے۔ یعنی صیہونیوں اور غاصب صیہونی حکومت کے جرائم بڑی حد تک امریکی حکومت کی گردن پر ہیں۔ ان دسیوں سال کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسرائیل کے خلاف تیس سے زائد قراردادیں منظور کی ہیں لیکن امریکا نے سب کو ویٹو کر دیا۔

اقتصادی لحاظ سے: اسرائیل علاقے کے لئے خطرہ ہے۔ فلسطین پر حکمفرما صیہونیوں نے جدید مشرق وسطی کے نام سے ایک نیا شوشہ چھوڑا ہے۔ جدید مشرق وسطی یعنی چہ؟ یعنی یہ کہ مشرق وسطی اسرائیل کی محوریت میں ترتیب پائے اور اسرائیل رفتہ رفتہ عرب ممالک، علاقے کے ممالک اور خلیج فارس کے تیل کی دولت سے مالامال علاقوں پر اقتصادی تسلط حاصل کر لے! اسرائیلیوں کا ہدف یہ ہے۔ بعض حکومتیں غفلت کی نیند سو رہی ہیں۔ جب ان پر اعتراض ہوتا ہے تو کہتی ہیں کہ اسرائیل سے ہمارے روابط نہیں ہیں، ہم نے تو صرف ان کے تاجروں کو اپنے ہاں آنے کی اجازت دے دی ہے! اسرائیل کی تو دلی مراد یہی تھی۔ ان (تاجروں) کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ اسرائیل امریکا کی حمایت اور اپنے خطرناک اسلحہ خانے کی مدد سے بعض کمزور حکومتوں کی غفلت اور کمزوری کا فائدہ اٹھائے اور ان کے اندر قدم جما لے، ان کے اقتصادی و مالیاتی ذخائر پر قابض ہو جائے۔ یہ علاقے کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ یہ سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اللہ کبھی وہ دن نہ دکھائے اور انشاء اللہ نہیں دکھائے گا۔ مسلمان ہرگز اجازت نہیں دیں گے کہ ایسا ہو۔ ان تاجروں کا منصوبہ یہی ہے کہ معاشی طاقت کے سہارے ان ملکوں میں طاقت کے تمام مراکز کو اپنے کنٹرول میں لے لیں۔ بنابریں اسلامی نقطہ نگاہ سے، انسانی نقطہ نگاہ سے، اقتصادی نقطہ نگاہ سے، سکیورٹی کے نقطہ نگاہ سے اور سیاسی نقطہ نگاہ سے اس وقت اسرائیل کا وجود، علاقے کی قوموں اور ملکوں کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے۔

مزید  حج کی قسمیں

مسئلہ فلسطین اور امام خمینی رحمت اللہ علیہ:

اسلامی تحریک کے آغاز سے اور انیس سو باسٹھ سے ہی جب ایران میں مسئلہ فلسطین ہنوز خواص کے درمیان بھی عام نہیں ہوا تھا، امام خمینی کا موقف یہ تھا کہ اسرائیلی تسلط کی بابت سب کو محتاط اور ہوشیار ہو جانا چاہئے، سب کو چاہئے کہ اٹھ کھڑے ہوں اور مقابلہ کریں۔ اس کے بعد بھی آپ کا یہ موقف برقرار رہا۔ اس مرد الہی کا یہ اہم نعرہ رہا۔ امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی تحریک سے مسئلہ فلسطین کے پیکر میں ایک نئی جان پڑ گئی اور اسے اسلامی ایمان کا سہارا ملا جو ہمیشہ فداکارانہ جہاد کے ہمراہ ہوتا ہے۔ امام خمینی نے کبھی بھی دنیا کی استبدادی طاقتوں سے گھبرا کر مظلوموں کی حمایت بند نہیں کی۔ پورے وقت آپ مسئلہ فلسطین کو بنیادی مسئلہ ہی قرار دیتے رہے۔ امام خمینی نے اپنے وصیت نامے اور بیانوں میں مظلوم قوموں کی ” آواز استغاثہ” پر لبیک کہے جانے کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے۔ مظلوموں کے حقوق کا صریحی دفاع، ملت فلسطین کے حقوق کے دفاع میں صریحی موقف اور دیگر مظلوموں کی حمایت، یہ امام (خمینی رہ) کی راہ و روش ہے۔ یہی آپ کا شیوہ اور یہی آپ کی وصیت ہے۔

ایک فلسطینی مسلم نوجوان کہتا ہے: اس وقت مقبوضہ فلسطین کی جیلوں میں بند قیدی امام (خمینی رہ) کے عشق میں اور اسلامی انقلاب کے عظیم الشان بانی کی شان میں اشعار پڑھتے ہیں۔ ان کالی کوٹھریوں کے اندر تک انقلاب، امام (خمینی رہ) اور ملت ایران کی مجاہدت کا تذکرہ ہے۔

تیسرا باب: فلسطین کی حمایت

امت مسلمہ میں اختلاف و انتشار کے نتائج:

اگر آج مسلمانوں کے درمیان اتحاد ہوتا اور اگر وہ اسلام کی روحانیت و معنویت پر تکیہ کرتے تو دشمن اس طرح کھلے عام فلسطینی قوم کے اس کے گھر کے اندر نہ کچل پاتا۔ فلسطین کے واقعات ہر غیرت مند انسان کے دل کو خواہ وہ بہت زیادہ دیندار نہ بھی ہو، خون کر دیتے ہیں اور اس کا چین و سکون چھین لیتے ہیں۔

فلسطینی قوم کے دفاع اور حمایت کا فریضہ:

مظلوم فلسطینی قوم اور اس کے شجاعانہ و مظلومانہ قیام کا دفاع ہم سب کا اسلامی فریضہ ہے۔ آج ایک مسلم قوم بیچ میدان کارزار سے، خون آلود چہرے کے ساتھ، مسلم امہ کو مدد کے لئے پکار رہی ہے۔ مجھ سے اس فلسطینی خاتون کی فریاد کبھی نہیں بھولتی جو نامہ نگار کے کیمرے کے سامنے رندھی ہوئی آواز میں “اے مسلمانو اے مسلمانو!” پکار رہی تھی۔

تمام مسلمانوں اور عربوں کو چاہئے کہ فلسطینی عوام کے حق دفاع و مزاحمت کی حمایت کریں۔ عالمی اداروں کی سطح پر اس نکتے پر زور دیا جائے کہ بے سہارا عوام جن کے حقوق سلب کر لئے گئے ہیں اور جو غاصبانہ قبضے میں دبے ہوئے ہاتھ پیر مار رہے ہیں، ان کو اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے جد و جہد اور مزاحمت کا حق ہے۔ لہذا انتفاضہ کا تسلسل اور فلسطینی عوام کی استقامت و مزاحمت ان کا قانونی حق ہے جسے عالمی قوانین میں بھی قابل احترام قرار دیا گيا ہے۔ حالانکہ عموما سامراج اور بڑی طاقتوں کے مفادات کے مطابق ان قوانین کی تفسیر کی جاتی ہے۔

اب مزید یہ نہیں ہو سکتا کہ مسلمان، فلسطینی قوم کی سرکوبی کا نظارہ کریں اور خاموش بیٹھے رہیں۔ اسرائیل کو فہمائش کر دی جانی چاہئے کہ فلسطینی عوام اور فلسطینی نشین علاقوں پر حملوں کا تسلسل تمام مسلمانوں اور عربوں کی جانب سے شدید، سنجیدہ اور عملی رد عمل کا موجب بنے گا۔

مسئلہ فلسطین اور عالم اسلام

عالم اسلام کی جانب سے فلسطین کی حمایت:

مسئلہ فلسطین عالمی سطح پر اولیں اسلامی مسئلہ ہے۔ حقیقت میں اس وقت مسلمانوں کی زندگی اور اسلامی علاقوں کا کوئی بھی مسئلہ اتنا بڑا اور اہم نہیں ہے جتنا کہ مسئلہ فلسطین۔ یہ ایک قوم کے رنج و الم، مظلومیت اور نقل مکانی کا مسئلہ ہے۔ ایک ملک کو غصب کر لئے جانے کا مسئلہ ہے۔ یہ اسلامی ممالک کے قلب اور اس جگہ کو سرطان میں مبتلا کر دینے کا معاملہ ہے جہاں عالم اسلام کے مشرق و مغرب ملتے ہیں۔ یہ بلا وقفہ جاری ظلم کا مسئلہ ہے جو پے در پے دو فلسطینی نسلوں پر سایہ فگن رہا۔ آج سرزمین فلسطین میں عوامی طاقت پر استوار خونیں اسلامی تحریک، بے ضمیر، انسانیت سے بے بہرہ اور جرائم کے خوگر غاصبوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بن گئی ہے۔ دشمن کی چالیں ہمیشہ سے زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہو گئی ہیں۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کو چاہئے کہ اس مسئلے کو اب ہمیشہ سے زیادہ سنجیدگی سے لیں اور اس کے بارے میں غور و فکر اور کوئی اقدام کریں۔

بنیادی طور پر یہودی حکومت کی تشکیل یا بہتر الفاظ میں یوں کہا جائے کہ صیہونی حکومت کی تشکیل وہ بھی عالم اسلام کے اس حصے میں دراز مدتی اور طویل المیعاد سامراجی عزائم کے تحت عمل میں آئی ہے۔ در حقیقت اس حساس علاقے میں ایک حکومت کا قیام، جو قلب عالم اسلام کا درجہ رکھتا ہے یعنی مغربی اسلامی دنیا یعنی افریقا کو مشرقی اسلامی دنیا یعنی مشرق وسطی اور مشرقی ایشیا سے متصل کرتا ہے اور جو ایشیا، افریقا اور یورپ کے لئے ایک تراہے کی حیثیت رکھتا ہے، اس ہدف کے تحت عمل میں لایا گیا کہ دراز مدت تک اس وقت کے سامراجیوں کا جن میں برطانوی حکومت سب سے پیش پیش تھی، اسلامی دنیا پر تسلط قائم رہے۔

غاصب حکومت کے مقابلے کا صحیح راستہ وہی ہے جسے آج فلسطینیوں نے اختیار کر رکھا ہے اور جس پر وہ مضبوط قدموں کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ تمام مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ اس مقدس جد و جہد میں ان کی مدد کریں۔ اس وقت مسئلہ فلسطین کے سلسلے مسلمان حکومتوں کی بے توجہی کا کوئی بھی بہانہ اور عذر قابل قبول نہیں ہے۔ غاصب حکومت نے بربریت اور وحشی پنے کی حد کر دی ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے خطرناک توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لئے کسی بھی جرم کا ارتکاب کر سکتی ہے۔ فلسطینی قوم کی اسلامی تحریک نے بھی سب پر حجت تمام کر دی ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ دشمن کے بھاری دباؤ اور دوستی کے دعویداروں کی خیانت کے باوجود استقامت و مزاحمت کا پودا خشک نہیں ہوا بلکہ اس کی جڑیں اور بھی گہرائیوں میں اترتی جا رہی ہیں اور یہ بارآور ہوتا جا رہا ہے۔ لہذا تمام حکومتوں اور قوموں کے لئے لازمی ہے کہ فلسطین کے اسلامی مسئلے کو اولیں اور سب سے بڑا مسئلہ سمجھیں اور اپنی بساط بھر مدد اور تعاون کی کوشش کریں۔

اسلامی مکاتب فکر میں اس سلسلے میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے اور تمام علمائے دین اس پر متفق ہیں کہ اگر دشمنان اسلام اسلامی سرزمین کے کسی ٹکڑے کو اس سے الگ کر دیں اور اس ٹکڑے پر دشمنان اسلام کی حکومت قائم ہو جائے تو ہر ممکن جد و جہد اور سعی و کوشش کے ذریعے اس ٹکڑے کو اسلامی سرزمین سے دوبارہ جوڑنا ہر کسی کا فریضہ سمجھا جانا چاہئے۔

ملت فلسطین کو بھی جس کی جانب عالم اسلام کی توجہات مرکوز ہیں، یاد رکھنا چاہئے کہ مسلم امہ کے دلوں سے اس کے لئے دعائیں اور تعریفی کلمات نکل رہے ہیں، اگر امداد بھیجنے کا راستہ اس وقت کھلا ہوتا تو مسلم امہ امداد بھیجتی۔ خواہ حکومتیں اس سے راضی ہوتیں یا نہ ہوتیں۔ مسلم امہ فلسطین سے دستبردار نہیں ہو سکتی، فلسطینی قوم کو تنہا نہیں چھوڑ سکتی، فلسطینی نوجوانوں سے چشم پوشی نہیں کر سکتی۔

مسلم حکومتوں کی جانب سے فلسطین کی حمایت:

مسلم حکومتوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ اس قوم کو اپنے دفاع کے لئے ضروری وسائل فراہم کرائیں اور اسی طرح دنیا میں صیہونیوں کے مفادات کی حفاظت کرنے والوں پر سیاسی دباؤ ڈالیں۔ وہ باہمی اور دو طرفہ روابط، عالمی اداروں، عمومی تقاریر اور خصوصی مذاکرات میں یہ کام کر سکتی ہیں۔ اب جبکہ جارح اپنے جرائم سے دستبردار ہونے پر تیار نہیں ہے تو فلسطینی قوم کو جو حق پر ہے اور جو اپنے حقوق کا دفاع کر رہی ہے، یہ توانائی ملنی چاہئے کہ اپنا دفاع کر سکے۔

ملت ایران کی جانب سے فلسطینی قوم کی حمایت:

ایرانی قوم سامراج کی چکی میں پسنے والی مظلوم قوموں کی ہمیشہ سے حامی رہی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔ ایرانی عوام نے ہمیشہ جرائم پیشہ صیہونیوں کے خلاف فلسطین کی مجاہد و دانشمند قوم کا ساتھ دیا ہے اور ساتھ دیتی رہیں گے، وہ اپنے فلسطینی بھائیوں سے کہتے ہیں کہ راہ خدا پر پیش قدمی یعنی غاصب دشمن اور اس کے حامیوں سے جنگ کو اللہ تعالی کی ذات پر توکل اور اعتماد کے ساتھ غاصب صیہونی حکومت کے خاتمے تک جاری رکھیں۔ ایران کی عظیم قوم اور با ایمان رضاکار فورس فلسطینی قوم کے دفاع کو دینی فریضہ سمجھتی ہے اور اللہ تعالی کی راہ پر چلتے ہوئے کسی بھی ہدف کو دسترسی سے باہر نہیں مانتی۔

فلسطین کی حمایت میں تشہیراتی مہم سے استفادہ:

دوسری عالمی جنگ کے بعد یہودیوں نے پوری دنیا میں اپنی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹنے کے لئے سیکڑوں بلکہ ہزاروں فلمیں بنا ڈالیں تاکہ انہیں مظلوم اور ان کے مد مقابل کھڑے افراد کو ظالم و ستمگر سمجھا جائے۔ آج ملت فلسطین پر جو مظالم ہو رہے ہیں کبھی بھی کسی قوم کے ساتھ نہیں ہوئے جبکہ عالمی رائے عامہ کو اس کی اطلاع بھی نہیں ہے۔ اسے صحیح طور پر منظر عام پر لانا چاہئے۔ فلمیں بنائی جانی چاہئے، فن و ہنرے کا سہارا لیکر عالمی رائے عامہ کو حالات سے واقف کرایا جانا چاہئے۔

چوتھا باب: مسئلہ فلسطین کا حل

مسئلہ فلسطین کا سفارتی حل:

مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کے لئے ہمیشہ سے دو طریقوں کی تجویز دی گئی جن میں ایک صحیح راہ حل ہے اور دوسری غلط۔۔ غلط راہ حل یہ ہے کہ اسی غاصب حکومت کے ساتھ، جو نہ تو انسانی اقدار کو خاطر میں لاتی ہے اور نہ ہی عالمی قوانین کو در خور اعتنا سمجھتی ہے، جس کی نظر میں عالمی اداروں کی قراردادوں کی بھی کوئی وقعت نہیں ہے، مذاکرات کئے جائیں اور مل جل کر کسی ایک نتیجے پر پہنچا جائے۔ یہ راہ حل جس شکل میں بھی سامنے آئے غلط ہے۔ اسرائیل نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے کسی بھی دستخط کا پابند نہیں ہے۔ اگر انہوں نے اتفاق رائے بھی کر لیا ہے اور اس پر دستخط بھی کر دئے ہیں تب بھی وہ اس کے پابند نہیں رہتے۔ یہ کہ جارح کے منہ میں ایک اور لقمہ ڈالا جائے تاکہ وہ اور طاقتور ہوکر اگلا قدم اٹھا سکے، راہ حل نہیں ہے۔ یہ فلسطین کا ساٹھ سالہ تجربہ ہے۔ اقوام متحدہ میں قرارداد منظور ہوئی۔ امریکا نے بھی جو صیہونیوں کی حمایت کرتا رہا ہے اس پر دستخط کئے تاہم یہ غاصب حکومت ان قراردادوں پر عمل کرنے سے مکر گئی۔

منطقی راہ حل یہ ہے کہ جسے دنیا کے سارے بیدار ضمیر افراد اور وہ لوگ جو عصری اصولوں سے واقف ہیں، تسلیم کرتے ہیں بلکہ وہ اسے تسلیم کرنے پر مجبور ہیں، وہ ہے خود فلسطینی عوام کی رائے لینا ان تمام لوگوں سے جو فلسطین سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے، البتہ وہ لوگ جو اپنی سرزمین اور اپنے گھروں کو لوٹنے پر مائل ہیں۔ یہ ایک منطقی بات ہے۔ یہ لوگ جو لبنان، اردن، کویت، مصر اور دیگر عرب ممالک میں سرگرداں ہیں وہ اپنے ملک اور اپنے گھر لوٹیں۔ انیس سو اڑتالیس سے قبل جو لوگ بھی فلسطین میں آباد تھے خواہ وہ مسلمان ہوں، عیسائی ہوں یا یہودی، سب کی خواہش معلوم کی جائے۔ یہ لوگ ایک ریفرنڈم میں شرکت کرکے فلسطینی سرزمین کے لئے حکومت کا تعین کریں۔ یہ جمہوری عمل بھی ہے۔ ساری دنیا کے لئے جمہوریت اچھی ہے تو فلسطینی عوام کے لئے کیوں اچھی نہیں ہے؟! کیوں دنیا بھر کے عوام کو اپنی تقدیر اور مستقبل کے فیصلے میں دخیل ہونے کا حق ہے اور فلسطینی عوام کو یہ حق نہیں؟! آج فلسطین میں جو حکومت قائم ہے اس کے بارے میں کسی کو ذرہ برابر شک و شبہہ نہیں ہے کہ طاقت کے زور پر اور مکر و حیلے کے ذریعے اس کا قیام عمل میں آیا ہے، اس میں کسی کو کوئی شک و شبہہ نہیں ہے۔ صیہونی امن و آشتی کے طریقے سے اقتدار میں نہیں آئے ہیں۔ کچھ تو مکر و فریب کے ذریعے اور کچھ دیگر اسلحے کے زور پر اقتدار میں پہنچے ہیں۔ بنابریں یہ ایک مسلط کردہ حکومت ہے۔ فلسطینی مجتمع ہوں، ووٹ دیں اور یہ فیصلہ کریں کہ ان کے ملک میں کیسی حکومت تشکیل پائے۔ پھر ویسی ہی حکومت قائم ہو اور انیس سو اڑتالیس کے بعد سرزمین فلسطین میں آکر بسنے والوں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے۔ پھر وہ جو بھی فیصلہ کریں۔ اگر یہ فیصلہ کیا گيا کہ یہ لوگ یہیں باقی رہیں تو وہ باقی رہیں اور اگر فیصلہ کیا گيا کہ یہ لوگ یہاں سے واپس جائیں تو واپس جائیں۔ یہ عوامی فیصلہ بھی ہوگا اور جمہوری عمل کا تقاضا بھی اس سے پورا ہوگا، یہ انسانی حقوق کی پاسداری بھی ہوگی اور دنیا کے عصری اصولوں پر عمل آوری بھی۔

صیہونی حکومت پر دباؤ:

جب غاصب میٹھی زبان سے منطقی و معقول راہ حل کو تسلیم نہ کرے تو پھر معاملے کے تمام فریق اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی سمجھیں اور محسوس کریں۔ عرب حکومتیں بھی، اسلامی حکومتیں بھی، دنیا بھر کی مسلمان قومیں بھی، خود ملت فلسطین بھی اور عالمی ادارے بھی۔ ہر ایک کی ذمہ داری ہے کہ اس منطقی راہ حل کو عملی جامہ پہنانے پر اصرار کرے۔ کچھ لوگ یہ خیال نہ کریں کہ یہ سب خیالی باتیں ہیں، عملی طور پر ایسا کرنا ناممکن ہے۔ جی نہیں! ایسا ہو بھی سکتا ہے۔ بحر بالٹک کے ممالک چالیس سال تک سابق سویت یونین کا جز بنے رہنے کے بعد دوبارہ آزاد ہو گئے۔ قفقاز کے علاقے کے ممالک سویت یونین کی تشکیل سے تقریبا سو سال قبل روس کے زار حکمرانوں کے زیر نگیں تھے، وہ بھی آزاد ہو گئے۔ اس وقت قزاقستان، آذربائیجان، جارجیا، اور دیگر ممالک آزاد و خود مختار ممالک بن چکے ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہ ممکن ہے۔ لیکن اس کے لئے عزم و ارادے اور جرئت و دلیری ضروری ہے۔ قومیں دلیر بھی ہیں، وہ کسی سے نہیں ڈرتیں، وہ آمادہ بھی ہیں تو ایسے میں اب باری ہے حکومتوں کے فریضے کی انجام دہی کی۔ ان میں بھی سب سے پہلے عرب حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ آج عرب حکومتیں آگے بڑھ کر مسئلہ فلسطین میں اپنے عوام کی بھرپور حمایت حاصل کر سکتی ہیں، اپنی مقبولیت بڑھا سکتی ہیں۔ اگر کسی حکومت کو اپنے عوام اور قوم کی حمایت و تائيد حاصل ہو تو امریکا اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ پھر آپ کو امریکا سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، پھر اسے امریکا کے اشارہ ابرو پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

تیل کا بطور حربہ کا استعمال:

جو بڑے قدم عرب حکومتیں اٹھا سکتی ہیں ان میں ایک یہ ہے کہ تیل برآمد کرنے والے ممالک تیل کے ہتھیار کو استعمال کریں۔ مغرب والوں نے دنیا بھر میں یہ جو واویلا مچا رکھا ہے کہ تیل کو اسلحے کے طور پر استعمال نہ کیا جائے، درست نہیں ہے۔ تیل قوموں کی دولت ہے اور اسے ان کے مفادات کے لئے استعمال کیا جانا چاہئے۔ امریکی تو گندم اور دیگر غذائی اشیاء تک کو اسلحے کے طور پر استعمال کر چکے ہیں اور کچھ جگہوں پر آج بھی کر رہے ہیں تو پھر عرب اور مسلمان ملکوں کو یہ حق کیوں نہیں ہے؟ علامتی اقدام کے طور پر ملت فلسطین کی حمایت میں صرف ایک مہینے کے لئے ان ممالک کو تیل کی برآمد روک دیں جن کے اسرائیل سے دوستانہ تعلقات ہیں۔ آج دنیا کے پاس حرکت، روشنی اور انرجی، زندگی کے تین اہم عنصر ہیں اور وہ ان تینوں کو مسلم ممالک کے تیل سے حاصل کرتی ہے۔ اگر انہیں تیل نہ دیا جائے تو کارخانوں کی حرکت، روشنی اور حرارت کا سلسلہ منقطع ہو جائے گا۔

ملت فلسطین کی مالی امداد:

فلسطینیوں کی مالی مدد صرف حکومتوں سے مخصوص نہیں ہے کہ کسی حکومت کے اس اعلان کا انتظار کیا جائے کہ “جناب ہم نے دس ملین ڈالر، بیس ملین ڈالر یا پچاس ملین ڈالر دے دئے ہیں” جس کے بارے میں یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ رقم کہاں دی گئی ہے، کس طرح دی گئی ہے، کس کو دی گئی ہے۔ آج فلسطینی قوم غذائی اشیاء کی محتاج ہے، دوا کی محتاج ہے۔ فلسطینی قوم کوئی فقیر قوم نہیں ہے۔ عظیم قوم ہے لیکن دشمن کے تسلط میں جکڑی ہوئی ہے۔ سب کا فریضہ ہے کہ اس کی مدد کریں۔ فرض کیجئے کہ اگر پورے عالم اسلام میں، ایران اور دیگر ممالک میں ہر شخص ہزار تومان (ایک ڈالر سے کچھ زیادہ) فلسطینی عوام کو بطور امداد دے تو آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ کیا ہوگا؟! ایک ہزار ارب تومان (ایک ارب ڈالر) کا فلسطینی عوام اور ان کی زندگی پر کیا اثر ہوگا؟! ان کے لئے آذوقہ، دوائيں، وسائل اور استقامت و مزاحمت کے لئے ضروری تمام اشیاء مہیا کی جانی چاہئے۔

مزید  قرآن مجید کی مشرکین کو مناظرہ کی دعوت

فلسطین کی نجات کا راستہ:

گزشتہ چند عشروں کے دوران غاصب حکومت کی جانب سے فلسطینی ریاست اور عوام پر مصیبتوں کا جو بوجھ لاد دیا گيا ہے وہ اس نتیجے تک پہنچنے کے لئے کافی ہے کہ دنیا کی تسلط پسند طاقتوں اور علاقے میں ان کے اتحادیوں کی مدد سے فلسطین کی نجات کی کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔

ایران کے عظیم اسلامی انقلاب نے ثابت کر دیا ہے کہ بڑی مشکلات کے حل کی کنجی خود قوموں کے پاس ہے۔ یہ انسانوں کا ارادہ ہے جو اللہ تعالی پر توکل اور وعدہ الہی پر اعتماد کی صورت میں دنیا کی تسلط پسند طاقتوں کی تدابیر اور خواہشات پر غالب آ جائے گا۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں رونما ہونے والے واقعات سے قوموں کے کردار کی اہمیت و افادیت پہلے سے زیادہ آشکارا ہو گئی ہے۔ فلسطین پر غاصبانہ قبضہ کرنے والی درندہ صفت صیہونی حکومت کے مقابلے میں فلسطینی قوم کا عزم محکم ہی ٹک سکتا ہے اور شجاعانہ مزاحمت کے ذریعے ہی دشمن کو پسپائی اختیار کرنے اور شکست تسلیم کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ عرب سربراہان مملکت کی کانفرنسوں اور اجلاسوں سے فلسطینی قوم اپنی آزادی و مسلمہ حقوق کی بحالی کی امیدیں وابستہ نہ کرے اور وہ کر بھی نہیں سکتی۔ یہ نشست و برخاست فلسطینیوں کے لئے اگر شوم اور زیاں آور نہیں تو بے فائدہ اور لاحاصل ضرور ہے۔

فلسطینی قوم کی نجات کا واحد راستہ، مزاحمت و استقامت:

اقوام متحدہ، تسلط پسند طاقتوں اور خاص طور پر صیہونی حکومت کی خوش آمد کرکے فلسطین کو نجات نہیں دلائی جا سکتی۔ نجات کا واحد راستہ استقامت و مزاحمت ہے۔ فلسطینیوں کا اتحاد اور کلمہ توحید ہی، جو جہادی تحریکوں کا بیکراں ذخیرہ ہے، کارساز ہے۔

اس مزاحمت کے ستون ایک طرف فلسطین کی مجاہد جماعتیں، با ایمان عوام ہیں جو فلسطین کے اندر اور باہر سرگرم عمل ہیں اور دوسری طرف دنیا بھر کی مسلمان اور عرب حکومتیں بالخصوص علمائے دین، دانشور، سیاستداں اور یونیورسٹی سے وابستہ حلقے ہیں۔ اگر یہ دونوں مستحکم ستون اپنے اپنے مقام پر کھڑے ہو جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ بیدار ضمیر و دل و اذہان جو سامراج اور صیہونزم کی ابلاغیاتی شہنشاہیت کے افسوں سے مسحور نہیں ہوئے ہیں، دنیا کے ہر گوشے میں صاحب حق اور مظلوم کی مدد کے لئے دوڑ نہ پڑیں اور سامراجی نظام پر افکار و جذبات و عملی اقدامات کے سیلاب کی یلغار نہ ہو جائے۔ فلسطینی عوام اور مجاہدین کا صبر اور ان کی استقامت اور پورے عالم اسلام سے ان کی ہمہ جہتی حمایت سے فلسطین پر غاصبانہ قبضے کے شیطانی طلسم کو توڑا جا سکتا ہے۔ امت مسلمہ کی عظیم توانائیاں فوری حل طلب مسئلہ فلسطین سمیت عالم اسلام کے تمام مسائل کو حل کر سکتی ہیں۔

ملت فلسطین کی بیداری:

خوش قسمتی سے ملت فلسطین کی اسلامی بیداری سے بہت حد تک مستقبل کے افق واضح اور نمایاں ہو گئے ہیں۔ آج نئی فلسطینی نسل قوت ایمانی کے سہارے اور اللہ تعالی کا نام لیکر جد و جہد کر رہی ہے۔ یہ بڑا امید افزا جہاد ہے۔ یہ بات بالکل نمایاں ہو گئی ہے کہ دشمن خواہ وہ صیہونی حکام ہوں، امریکا ہو، اسرائیل کے دیگر حامی ہوں یا علاقائی خائن عناصر اس نئی لہر سے سراسیمہ اور دہشت زدہ ہو گئے ہیں۔ وہ تحریک کی حقیقی سمت پر پردہ ڈالنے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ دین ہی فلسطین کو نجات دلا سکتا ہے۔ اسلام فلسطین کو جارحوں کے چنگل سے چھڑا سکتا ہے۔

فلسطین کی نئی نسل کو اس حقیقت کا ادراک ہو گیا ہے کہ اگر وہ اپنے اوپر مسلط کر دی جانے والی ذلت و رسوائی اور زبوں حالی و شدید دباؤ سے نجات حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے مزاحمت و استقامت کے راستے پر چلنا ہوگا۔ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا کارساز نہیں ہے۔ مذاکرات کاروں کو اب تک کچھ بھی ہاتھ نہیں لگ سکا ہے۔

عرب نیشنلزم اور مسئلہ فلسطین

کبھی کبھار سننے میں آتا ہے کہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ فلسطین عربوں کا مسئلہ ہے۔ اس سے کیا مراد ہے؟ اگر یہ مقصود ہے کہ عربوں میں اس مسئلے کے تعلق سے قوی قومی جذبہ پایا جاتا ہے اور وہ زیادہ خدمت اور جد و جہد کرنے کے لئے آمادہ ہیں تو یہ اچھی اور پسندیدہ چیز ہے۔ لیکن اگر اس سے یہ مراد ہے کہ بعض عرب ممالک کے حاکم فلسطینی عوام کی آواز استغاثہ پر ذرہ برابر توجہ نہ دیں اور غزہ کے المئے جیسے اہم ترین معاملات میں غاصب و ظالم دشمن سے تعاون کریں اور ان افراد پر تیوریاں سکوڑیں جو فرض شناسی کے جذبے کے باعث ہر لمحہ مضطرب ہیں، ان سے کہیں کہ آپ کو غزہ کی امداد کی کیا پڑی ہے؟ تو اس صورت میں کوئی بھی مسلمان اور کوئی بھی غیور اور با ضمیر عرب اس بات کو قبول نہیں کرے گا اور ایسی بات کرنے والے کی مذمت اور سرزنش کئے بغیر نہیں رہے گا۔

 پانچواں باب: آشتی و ساز باز

آشتی کا حربہ:

اس وقت صیہونیوں اور ان کے حامیوں کا جن میں سب سے پیش پیش امریکی حکومت ہے، ایک اہم حربہ یہ ہے کہ صلح و مفاہمت کے دلکش لفظ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آشتی و صلح اچھی چیز ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کہاں اور کس سے آشتی ہو؟! ایک آدمی آپ کے گھر میں درانہ گھس آیا ہے، اس نے طاقت لگا کر آپ کے گھر کا دروازہ توڑ دیا ہے، اس نے آپ سے مار پیٹ کی ہے، آپ کی اولاد اور ناموس پر حملہ کیا ہے، اس نے آپ کے تین کمروں میں سے دو کمروں اور تیسرے کمرے کے نصف حصے پر قبضہ کر لیا ہے، اس پر بھی ستم بالائے ستم یہ کہ اسے اس پر اعتراض ہے کہ آپ لوگوں سے اس کی شکایت کیوں کر رہے ہیں، آپ مسلسل جھگڑا کیوں کر رہے ہیں، تنازعہ کیوں کھڑا کر رہے ہیں، آئیے آپس میں مفاہمت کر لیتے ہیں۔ اسے مفاہمت کہتے ہیں؟! جارحیت اس حکومت کی ماہمیت و سرشت میں شامل ہے۔ صیہونی حکومت کی تو تشکیل ہی تشدد، قسی القلبی اور طاقت کے استعمال کی بنیاد پر ہوئی ہے اور اسی بنیاد پر وہ آگے بڑھ رہی ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور طریقے سے اس نے کوئی پیشرفت کی ہے نہ کر پائے گی۔

مطالبہ یہ ہے کہ اس حکومت سے آشتی و مفاہمت کر لیجئے! اگر وہ اپنے حق پر قناعت کر لیں، یعنی فلسطین کو جو فلسطینیوں کا خانہ و آشیانہ ہے ان کے حوالے کریں اور اپنا راستہ لیں یا فلسطینی حکومت سے اجازت لیں کہ ہم میں سے کچھ یا ہم سب یہیں رہ جائيں تو ان سے کوئی جنگ نہیں کرے گا۔ جنگ تو تب ہوتی ہے جب غاصب دوسروں کے گھروں میں داخل ہو جاتے ہیں، انہیں ان کے گھروں سے باہر نکال دیتے ہیں اور اس کے بعد بھی ان پر مظالم کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس وقت وہ علاقے کے تمام ممالک پر ظلم کر رہے ہیں اور پورے علاقے کے لئے ایک خطرے میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ بنابریں یہ آشتی بھی کرتے ہیں تو وہ آئندہ کی جارحیت کی تیاری اور مقدمہ ہوتی ہے۔ اگر انہوں نے مفاہمت کر لی ہے تو یہ در حقیقت آگے چل کر کسی اور انداز سے کسی درسری جارحیت کا مقدمہ بنے گی۔

اسرائیل سے فلسطین کی مفاہمت کا منصوبہ:

ایک اہم ایشو جو آج کل اٹھایا جا رہا ہے اور جس کا مقصد یہ ہے کہ مسئلہ فلسطین کو فراموش کر دیا جائے اور عالم اسلام کی رائے عامہ کو اسے موضوع بحث بنانے سے روکا جا سکے، یہی نام نہاد امن مذاکرات ہیں جو ایک فلسطینی گروہ اور اسرائیلیوں کے ما بین جاری ہیں، یعنی ساز باز کا مسئلہ یعنی نام نہاد خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کا مسئلہ ہے۔ یہ بھی اسرائیلیوں کا ایک مذموم حربہ اور جال ہے جس میں بد قسمتی سے کچھ مسلمان بلکہ کچھ فلسطینی بھی گرفتار ہو گئے ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ ان لوگوں کے مذاکرات کے تمام تر مفروضے اور اسرائيلیوں کے وعدے عملی جامہ پہن لیں تب بھی اس فلسطینی گروہ کو جو حاصل ہوگا وہ چار فیصدی سے کچھ زیادہ زمین ہے! یعنی اس فلسطینی سرزمین سے جو فلسطینیوں کا حق اور ملکیت ہے جس کے مالک فلسطینی ہیں اس کا محض چار فیصدی ان کو ملے گا۔ یہ چار فیصدی بھی کیسا؟! یہ چار فیصدی بھی اکٹھا نہیں بلکہ پراکندہ ٹکڑوں کی شکل میں ہے۔ جن لوگوں سے اسرائیلیوں نے کہا بھی ہے کہ آپ آئیے اور اپنی حکومت تشکیل دیجئے انہیں بھی ہرگز اجازت نہیں دی ہے کہ ایک حکومت کی طرح کام کر سکیں۔ ان سے کہا ہے کہ آپ فلاں جگہ موجود رہئے اور اس بات کا خیال رکھئے کہ وہاں کے فلسطینی اسرائیل کے خلاف سرگرمیاں انجام نہ دے سکیں! یعنی پراکندہ علاقوں کو جس کا نظم و نسق چلانا انتہائی مشکل ہے، ایک آدھے ادھورے ملک کی حیثیت سے ان کے حوالے کر دیا! اس کے بدلے اس فلسطینی گروہ کو کیا کرنا ہے۔ یہ کرنا ہے کہ فلسطین کے سکیورٹی اداروں کے ساتھ ہی وہ بھی مجاہد فلسطینیوں کے خلاف کاروائیاں کرے! فلسطینیوں کے نام پر یہ حرکتیں کرنے والوں کی خیانت دوسری سبھی خیانتوں سے، جو اب تک فلسطینیوں کے ساتھ ہوئی ہے، زیادہ مذموم اور بھیانک ہے! انہوں نے عوام کے لئے نہ کوئی کام کیا ہے اور نہ کر سکتے ہیں۔

عرب اسرائیل مفاہمت کا فلسفہ:

عرب حکومتیں کہتی تھیں کہ ہم فلسطینیوں سے زیادہ فلسطینی تو نہیں بن سکتے! جو وہ چاہتے ہیں وہی ہونا چاہئے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ مسئلہ فلسطین، عالم اسلام کا مسئلہ ہے۔ اس میں سیاسی، اقتصادی اور سیکورٹی کے پہلوؤں کے ساتھ ہی الہی و اسلامی فرائض کا پہلو بھی ہے۔ جو شخص اللہ تعالی پر ایمان و ایقان نہیں رکھتا وہ اگر صرف فلسطینی عوام کے لئے کام کرنا چاہتا ہے تو اسے دیکھنا چاہئے کہ فلسطینی عوام کیا کہتے ہیں۔ آج ملت فلسطین کو دیکھنا ہے تو ان افراد کو دیکھئے جو گرفتار ہونے کے بعد غاصب حکومت کی جیلوں میں قید ہیں اور ان کے دسیوں گنا افراد سڑکوں، مسجد الاقصی، بازاروں اور پوری سرزمین فلسطین میں صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں، کاروائیاں کر رہ ہیں۔ ایک چھوٹی سی اقلیت جس نے لالچ میں آکر ساز باز کر لی ہے، اسے ملت فلسطین کا نام نہیں دیا جا سکتا کہ یہ کہا جائے کہ ہم فلسطینیوں سے زیادہ تو فلسطینی نہیں ہیں۔

پہلی تحریک انتفاضہ کی ناکامی کے اسباب:

انتفاضہ اول کے زمانے میں ساز باز اور مفاہمت کا ماحول علاقے پر چھایا ہوا تھا۔ کچھ لوگ امریکا کے دام میں اسیر تھے اور کچھ دیگر کا یہ خیال تھا کہ اتنے بڑے پیمانے پر عالمی سیاسی دباؤ اور پروپیگنڈے کا سامنا نہیں کیا جا سکتا اور مفاہمت کی راہ کو وہ بھی امریکا اور اسرائیل کے شرائط پر قبول کر لینے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ اس وقت علاقے میں جو تبدیلیاں ہوئیں اس سے اس خیال کی تقویت کی زمین فراہم ہو گئی۔

اس وقت یعنی انتفاضہ اول کے موقع پر اسرائیل کے سلسلے میں دو طرح کے طرز عمل کی بات کی جاتی تھی: ایک تو یہ کہ عرب افواج اسرائیل کے مقابلے پر ڈٹ جائیں لیکن اس چیز کے تمام تجربات ناکام ثابت ہو چکے ہیں، دوسرا طرز عمل وہ تھا جس سے اسرائیل کی خواہشات پر امن طریقے سے پوری ہوتی تھیں اور اس کے بدلے اسے مقبوضہ علاقے کے ایک چھوٹے سے حصے سے عقب نشینی کرنا پڑتی جیسا کہ کیمپ ڈیوڈ میں ہوا۔ اس زمانے میں مزاحمت و استقامت کا موضوع زیادہ مقبول نہیں تھا اور یہی کہا جاتا تھا کہ اسے عوامی حمایت حاصل نہیں ہو پائے گی۔

اوسلو معاہدے کے نتائج:

فلسطینی عوام کو پچھلی تحریک انتفاضہ میں بہت بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں اسلامی سرزمین کی آزادی اور اسلام کی راہ میں بڑی تعداد میں شہدا کی قربانی دینا پڑی اور سرانجام اوسلو مذاکرات نے اس سب پر پانی پھیر دیا۔ آج عالم یہ ہے کہ اوسلو معاہدے کے نظریہ پرداز اور اس کی حمایت کرنے والے بھی اس پر بات کرنے سے کتراتے ہیں کیونکہ انہیں علم ہو گیا ہے کہ اسرائیل صرف اپنی مشکل حل کرنا چاہتا تھا۔ یعنی سنگ بدست مجاہدین سے نجات حاصل کرنا چاہتا تھا اور اپنی کمزوریاں دور کرنے کی فکر میں تھا۔ اس نے مراعات کے نام پر معمولی ترین چیز جو فلسطینیوں کو دی اس کا واحد مقصد تحریک انتفاضہ کے شعلے کو خاموش کرنا اور اپنی کمزوریوں کو دور کرنا تھا۔ جیسے ہی اسے اپنے حالات معمول پر نظر آئے اور اسے یہ غلط فہمی ہوئی کہ فلسطینی عوام میں اب دوبارہ تحریک انتفاضہ شروع کرنے اور اس سے ٹکرانے یا مزاحمتی کاروائیاں کرنے کی توانائی نہیں رہ گئی ہے اس نے وہ معمولی ریاعتیں دینا بھی بند کر دیا اور اپنی توسیع پسندانہ ماہیت کو آشکارا کر دیا۔ اوسلو معاہدے کے عمل نے فلسطینی عوام کو ایسی حالت میں پہنچا دیا کہ انہیں پوری طرح احساس ہو گیا کہ قیام کرنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔

فلسطینی اہداف اور امنگوں سے غداری:

کوشش یہ ہو رہی ہے کہ فلسطین نام کی کوئی چیز ہی کسی کے ذہن میں باقی نہ رہے۔ گویا فلسطین نام کی کوئی سرزمین تھی اور نہ ہی اس سرزمین کی مالک کوئی قوم! اس طرح کی تیاریاں کی گئی ہیں۔ انسان حیرت و افسوس کے سمندر میں غوطے لگاتا ہے جب یہ دیکھتا ہے کہ بعض لوگ اس چیز کو تسلیم بھی کر رہے ہیں، یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا کہ دنیا میں کہیں کوئی ایسا شخص ملے گا جو اتنی عجیب و غریب، سراسر ظالمانہ و ابلہانہ چیز کو قبول کر لے، لیکن ایسا دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایک نام نہاد فلسطینی گروہ کو لاکر عظیم سرزمین فلسطین کے چھوٹے سے حصے میں جو اس کا چار فیصدی ہے اسے ایک جھوٹا اور ناقص اقتدار دے رہے ہیں اور اس کے بدلے اس سے جو مطالبہ ہے وہ یہ ہے کہ مسئلہ فلسطین، سرزمین اور قوم کا مسئلہ پوری طرح فراموش کر دیا جائے۔ اگر کوئی شخص فلسطینی قوم، فلسطینی ریاست یا فلسطین کی تاریخ کی بات زبان پر لائے تو یہی گروہ جس نے یہ خسارت بار معاہدہ کیا ہے اس شخص کی سرکوبی کرے۔

فلسطین سے عرب حکام کی غداری:

صیہونی حکومت، اس کے حامیوں اور ان میں سر فہرست امریکا نے مفاہمت و آشتی کے نعرے کے ذریعے جس کا مقصد صرف اور صرف فلسطین پر غاصبانہ قبضے کو مستحکم تر بنانا ہے، اپنے حریفوں سے جہاں تک ممکن تھا اپنی پیروی کرائی۔ بعض مسلم حکومتوں نے ہراول دستے کی حیثیت رکھنے والے ملکوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا! اکثر عرب حکام کی حمایت آمیز خاموشی جو کہیں کہیں صریحی خیانت کا مظہر بھی رہی ہے علاوہ ازیں ملت فلسطین کی قیادت کے دعویداروں کے ذلت و خیانت آمیز موقف، ظلم و جارحیت و خیانت کی زنجیر کی ایک کڑی ہے جس کا مقصد اسلامی سرزمین فلسطین کو ہمیشہ غاصبانہ قبضے میں اور یہاں بسنے والی مظلوم قوم کو ہمیشہ قید و بند کی صعوبتوں میں باقی رکھنا ہے۔

بہت سی عرب حکومتوں کی غدارانہ خاموشی اور ساز باز اور ان میں بعض حکومتوں کا مسئلہ فلسطین اور فلسطین کے انجام اور مستقبل کے سلسلے میں لا تعلقی اور بے حسی کا مظاہرہ باعث بنا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت برسوں کی پردہ پوشی حتی انکار کے بعد اب دوبارہ وسیع اسرائیل کی خواہش زبان پر لانے لگی ہے اور بڑی بے حیائی اور بھونڈے پن کے ساتھ اسلامی سرزمینوں کے کسی اور حصے پر قبضہ کرنے کی اپنی پلید نیت کا اظہار کر رہی ہے۔

 چھٹا باب: مزاحمت و استقامت

قوموں کی طاقت:

سامراج کو یہ علم نہیں کہ ایک ایسی طاقت بھی موجود ہے جو ان کے ہتھیاروں کی طاقت سے بالاتر ہے اور وہ ہے قوموں کی طاقت، انسانوں کی طاقت۔ جو قوم بھی فکری بنیاد، عزم راسخ اور منطقی اصولوں کی حامل ہوگی اور اپنے منطقی اصولوں کے لئے عزم راسخ کے ساتھ ڈٹ جائے گی اسے ایٹمی طاقت ہو یا اس سے بھی بڑی اور چھوٹی کوئی دوسری طاقت، مغلوب نہیں کر سکتی۔ ان لوگوں نے قوموں کی طاقت کو اور خدائے قدیر کی قوت کو جو قوموں کے عزم و ارادے اور جرئت عمل کی پشتپناہ ہوتی ہے، معمولی سمجھ لیا ہے۔ (کلا نمد ھولاء و ھولاء) جو جماعت بھی ان اہداف کے لئے جس پر اس کا عقیدہ ہے کام کرتی ہے اللہ تعالی اس کی نصرت و مدد کرتا ہے۔ اور اگر وہ جماعت اور قوم اللہ تعالی پر ایمان رکھتی ہو تو پھر اس سے ٹکرانا اور اسے شکست دینا دس گنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔

مزید  تفرقے کے علل و اسباب

شجاع ملت فلسطین کا جہاد:

اس وقت ملت فلسطین نے جو جد و جہد شروع کی ہے وہ دو فوجوں کے مابین ہونے والی جنگ نہیں ہے کہ کہا جائے کہ فلاں فوج کے پاس دس ٹینک ہیں اور دوسری کے پاس اس تعداد میں ٹینک ہیں۔ پہلی کے پاس زیادہ ہیں یا دوسری کے پاس زیادہ ہیں۔ یہ تو ان افراد کے جسم و جان کے ذریعے لڑی جانے والی جنگ ہے جو موت بزیچہ اطفال سمجھتے ہیں۔ غاصب صیہونی حکومت کی فوج کے مقابلے پر آنے والا ایک فداکار و جاں نثار جوان اس پر پورے ایک لشکر کا خوف طاری کر دیتا ہے۔ اس جوان کا جواب نہ ٹینک و میزائل سے دیا جا سکتا ہے اور نہ طیارے اور آپاچی ہیلی کاپٹر سے۔ جب کوئی انسان خواہ وہ تن تنہا ہو، موت سے نہ ڈرے اور خود کو اللہ تعالی اور اپنے فریضے کی راہ میں فداکاری و جاں نثاری کے لئے آمادہ کر لے تو وہ بے انصاف دنیاداروں کے لئے بہت بڑا خطرہ بن جاتا ہے۔

یہ شہادت پسندانہ کاروائیاں محض جذباتی کاروائیاں نہیں ہیں۔ ان کا سرچشمہ اسلام، یوم قیامت اور موت کے بعد کی زندگی پر ایمان ہے۔ جہاں بھی اسلام اپنے حقیقی معنی میں موجود ہے، سامراج کے خلاف یہ خطرہ وہاں ضرور پایا جائے گا۔ فلسطین پر قبضہ کرنے کے لئے سامراج، اسلام سے جنگ کرنے پر مجبور ہے اور اس جنگ سے اسے کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں ہے۔

واقع امر یہ ہے کہ ایک قوم کو اس کے گھربار اور خانہ و کاشانے سے محروم کر دیا گيا ہے، اس قوم کو پورا حق ہے کہ واپس جائے اور اپنا گھر واپس لے۔ یہ حق کے لئے لڑی جانے والی جنگ ہے۔ امریکا اس جد و جہد کو دہشت گردی کا نام دیتا ہے لیکن فلسطینی مجاہدین کے خلاف جاری صیہونی خباثتوں کو دہشت گردی نہیں مانتا۔

ملت فلسطین وہ مظلوم قوم ہے جو مظلومیت کے ساتھ ہی شجاعت کا مظہر بھی ہے۔ یہ قوم عالم غربت میں خالی ہاتھ بھی بڑی شجاعانہ جنگ کر رہی ہے اور اس نے دنیا کی مادی طاقتوں کو جو سرکوبی اور قتل عام کے تمام تر وسائل سے لیس ہیں بے دست و پا کرکے رکھ دیا ہے۔

صیہونی حکومت سے جنگ کے بنیادی محور:

غاصب صیہونی حکومت سے جنگ کی بنیادی روش یہ ہونا چاہئے:

– مقبوضہ علاقے کی حدود کے اندر غاصب حکومت کو قیدی بنا دینا، اس کے لئے سیاسی و اقتصادی عرصہ حیات تنگ کر دینا اور اطراف سے اس کا رابطہ منقطع کر دینا۔

– حتمی کامیابی مل جانے تک فلسطینی قوم کا ملک کے اندر اپنی مزاحمت و استقامت کو جاری رکھنا انہیں ہر ضروری امداد بہم پہنچانا۔

فلسطینی مجاہدین کے لئے نمونہ عمل:

کئی سال سے فلسطین غاصبانہ قبضے میں ہے۔ کئی سال قبل بھی فلسطینی قوم میں جوان تھے۔ یہ جوان جو آج اس طرح میدان عمل میں نکل آئے ہیں انہوں نے کس کو اپنا نمونہ عمل بنایا ہے؟ ان نوجوانوں کا نمونہ عمل با ایمان و با اخلاص لبنانی نوجوان ہے۔ غزہ پٹی اور دریائے اردن کے مغربی ساحل پر جو فلسطینی نشین علاقہ ہے جب مظاہرے ہوتے ہیں تو مظاہرین حزب اللہ لبنان کے قائد سید حسن نصر اللہ کی تصاویر اپنے ہاتھوں میں لئے آگے بڑھتے ہیں۔ انہوں نے حزب اللہ لبنان کا پرچم مسجد الاقصی کے گنبد پر نصب کیا۔ البتہ صیہونیوں نے اسے وہاں نہیں رہنے دیا لیکن بہرحال انہوں نے جاکر وہاں نصب تو کر ہی دیا۔ بنابریں وہ (لبنانی نوجوان) فلسطینی نوجوان کے لئے نمونہ عمل بن گیا۔ حزب اللہ لبنان کے ٹی وی چینل المنار کے سب سے زیادہ ناظرین مقبوضہ فلسطین میں ہیں! جو نہ صرف یہ کہ اس کے پروگراموں کو دیکھتے ہیں بلکہ کسی پیاسے کی مانند اسے آب شیریں کی طرح ایک ایک گھونٹ کرکے اپنے وجود میں اتارتے ہیں۔

جہاد، امت مسلمہ کا فریضہ:

فقہائے اسلام کے درمیان اس سلسلے میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے کہ اگر دشمن، مسلمانوں کی سرزمین پر قبضہ کر لے اور کسی ملک میں پیکر اسلامی خطرے میں پڑ جائے تو تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ ایک ہمہ گیر اور وسیع جہاد کے ذریعے اس دشمن کو پسپا کریں، اسے اسلامی سرزمین سے نکالیں اور اسے اس کی سزا دیں۔ امت مسلمہ اگر ہوش میں آ جائے تو اسے صاف محسوس ہوگا کہ مسلمانوں پر حالیہ ادوار میں نازل ہونے والی مصیبتوں میں یہ سب سے بڑی بلا ہے۔ اس مسئلے کے سلسلے میں اسلامی حکم بالکل واضح ہے۔ مسئلہ فلسطین کے سلسلے میں اسلامی حکم کے بارے میں کسی بھی مسلمان کو کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ یہ وہ مسئلہ ہے جو فقہ کی ان تمام کتابوں میں مذکور جن میں جہاد کی بحث کی گئی ہے۔ اگر کفار آکر مسلمانوں کے ملک پر قبضہ یا اس کا محاصرہ لیں تو اس صورت میں جہاد کے واجب عینی ہونے کے بارے میں جدید و قدیم مسلم علما کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ تمام اسلامی مکاتب فکر اس سلسلے میں ایک ہی نظرئے کے حامل ہیں۔ وہ جہاد جو جنگ کے آغاز کے طور پر کیا جائے واجب کفائی ہے لیکن دوسرے مواقع پر جب جہاد دفاعی ہو، جو جہاد کا واضح ترین مصداق ہے، تو وہ واجب عینی ہو جاتا ہے۔

انتفاضہ مسجد الاقصی:

پہلی تحریک انتفاضہ، صیہونیوں اور ان کے حامیوں کی تلقینوں اور افواہوں، فلسطینیوں کو پر امن طریقے سے مراعات دینے کے وعدوں، ساز باز کرنے والوں کے نفوذ اور امریکا اور دیگر مغربی ممالک کے دباؤ کے نتیجے میں متوقف ہو گئی۔ لیکن دس سال گزرتے گزرتے واضح ہو گیا کہ اسرائیل کو نجات دلانے کے لئے دنیا میں صیہونزم کے حامیوں کی تمام کوششیں مسلمانوں کے جد و جہد ان کی سراسیمگی کا نتیجہ تھیں اور جو وعدے فلسطینیوں سے کئے گئے تھے وہ صرف اور صرف ایک سراب تھا۔

انتفاضہ مسجد الاقصی، فلسطینی عوام کی جد و جہد میں بہت اہم باب ہے۔ فلسطینیوں کی جد و جہد متعدد نشیب و فراز سے گزری ہے، انواع و اقسام کی سازشوں سے نمٹتی رہی ہے، بڑی سخت آزمائشوں سے گزری ہے، گوناگوں اسلحے کی جھنکاروں، جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی گھن گرج کو سنتی رہی ہے۔ آج اسے بخوبی علم ہو چکا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر اور ان کے حامیوں کے چنگل سے نجات کا واحد راستہ جہاد اور سعی پیہم ہے جس کی تائید مسلم رائے عامہ بھی کرتی ہے۔ صیہونیوں نے اپنی اسٹریٹیجی ملت فلسطین کی تحقیر اور تذلیل کی بنیاد پر وضع کی تھی لیکن فلسطینیوں نے اس اسٹریٹیجی کے خلاف اور صیہونی حکومت سے ہونے والے ذلت آمیز معاہدوں، امریکا کے تسلط پسندانہ نظام اور اس کے ساتھ ساز باز کرنے والے عناصر کے خلاف قیام شروع کر دیا اور اپنے لئے عز و شرف کے راستے کا انتخاب کیا۔ جرائم پیشہ اسرائیلی حکومت کو اندرونی سطح پر متعدد بحرانوں اور سرحدوں پر تحریک انتفاضہ سے روبرو کر دیا۔ انتفاضہ اقصی کا محور بیت المقدس ہے۔ یعنی وہ چنگاری جو فلسطینی عوام کے غیظ و غضب کے آتشفشاں میں تبدیل ہو گئی وہ صیہونیوں کے ہاتھوں مسجد الاقصی کی بے حرمتی کے باعث وجود میں آئی۔ فلسطینی عوام نے مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک مقام کی حفاظت کے سلسلے میں اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے میدان میں قدم رکھا اور ایثار و قربانی کی شاندار مثال پیش کرتے ہوئے غاصب صیہونیوں کے خلاف جنگ اور مقدس جد و جہد کو شعلہ ور کیا۔ ساز باز اور مفاہمت کی روش بلکہ واضح طور پر یوں کہا جائے کہ اوسلو معاہدے کے نتیجے میں فلسطینیوں میں اختلافات پیدا ہو گئے تھے، اس با برکت تحریک انتفاضہ سے فلسطین میں قومی اتحاد دوبارہ بحال ہوا۔ اس جد و جہد میں سارے عوام شامل ہیں اور اسلامی تنظیمیں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں۔

انتفاضہ مسجد اقصی کا سبب:

فلسطینی عوام کے قیام اور ان کی تحریک کا سبب اسلامی جمہوریہ ایران اور لبنانی عوام نہیں ہیں۔ فلسطینی تحریک اور جد و جہد کا بنیادی عنصر خود فلسطینی ہیں۔ فلسطینی تحریک انتفاضہ کا سبب اس نوجوان نسل کے دلوں میں جمع ہو جانے والے رنج و غم تھے جو پوری امید و نشاط کے ساتھ میدان عمل میں موجود ہے۔ بے شک ایرانی قوم ان کی مداح ہے اور انہیں اپنے جیسا سمجھتی ہے۔ فلسطین، پیکر اسلام کا جز ہے اور ملت ایران فلسطینی قوم کے تعلق سے جذبہ اخوت و برادری رکھتی ہے البتہ تحریک انتفاضہ کو وہی (فلسطینی) آگے بڑھا رہے ہیں۔

فلسطین، اسلامی بیداری کی تحریک کا محور:

گزشتہ عشروں میں ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی اور امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی تحریک کے ظہور پذیر ہو جانے کے بعد اسلامی تحریک اور دسرے لفظوں میں کہا جائے اسلامی بیداری کی تحریک پوری آب و تاب کے ساتھ علاقے اور عالم اسلام کی سطح پر نمایاں ہو گئی ہے۔ اس وقت اس تحریک کا محور مسئلہ فلسطین ہے۔ فلسطین کی تحریک انتفاضہ فلسطین کی جغرافیائی سرحدوں اور فلسطینی قوم کے باہر بھی عام مسلمانوں اور عربوں کو میدان میں لانے میں کامیاب رہی ہے۔ (مسجد الاقصی کی تحریک انتفاضہ کی حمایت میں) عالم اسلام کے مشرق سے مغرب تک مسلمان قوموں کے شاندار مظاہرے اور ان میں دسیوں لاکھ کی تعداد میں شرکت سے ثابت ہو گيا ہے کہ فلسطینی عوام ان قوموں کی حمایت پر بھروسہ کر سکتے ہیں اور مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد قائم کرنے کے سلسلے میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

جس وقت لبنان میں اسلامی مزاحمت لبنانی بہادروں کے حوصلہ و ہمت اور امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی حمایت و ہدایت کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی اس وقت لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیل کا قبضہ تھا اور اس ملک کے سیاسی امور اور فیصلے اس کی مٹھی میں تھے۔ اس دن اسلامی مزاحمت نے “زحفا زحفا نحو القدس” رفتہ رفتہ قدس کی سمت پیش قدمی کا نعرہ بلند کیا۔ کچھ ناواقف لوگوں نے انہیں سادہ لوح کہا اور ان پر طنز کئے کہ آپ لبنانی اپنے ملک کے دارالحکومت میں داخل ہونے تک سے عاجز و قاصر ہیں اور اوپر سے آپ قدس کی جانب پیش قدمی کا نعرہ لگاتے ہیں۔ اس دن سے لیکر اسرائیل کے خلاف اسلامی مزاحمت کی فتح تک صرف اٹھارہ سال کا وقت لگا۔ قوموں کی جد و جہد کی تاریخ میں اٹھارہ سال کوئی زیادہ عرصہ نہیں ہے۔

استقامت، نجات کا راستہ:

انتفاضہ مسجد الاقصی ایک عوامی تحریک ہے جس نے ثابت کر دیا کہ فلسطینی عوام مفاہمتی کوششوں سے ناامید ہوکر یہ سمجھ چکے ہیں کہ کامیابی کا واحد راستہ استقامت و مزاحمت ہے۔ استقامت و مزاحمت وہ واحد راستہ ہے جسے اختیار کرکے مسلمانوں نے پہلی بار اسرائیل کو بغیر کوئی سہولیت دئے مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرانے میں کامیابی حاصل کی اور اس عرب ملک یعنی لبنان کے دارالحکومت میں اپنا پرچم چھوڑ جانے کی صیہونی حکومت کی خواہش کو زندہ در گور کر دیا۔ کیمپ ڈیوڈ میں اسرائیل کی عقب نشینی کے بدلے میں یہ شرط رکھی گئی تھی کہ اسرائیل اپنی فوجیں شمالی صحرائے سینا میں تعینات نہ کرے لیکن جنوبی لبنان میں حالت یہ ہوئی کہ یہی اسرائیل اسلامی مزاحمت و استقامت کے باعث لرزہ بر اندام ہوکر خود التجا کرنے لگا کہ فلسطین اور لبنان کی سرحد پر لبنانی فوج تعینات ہو۔ یعنی اسلامی مزاحمت کی یہ بہت بڑی کامیابی تھی کہ اس نے جنوبی لبنان اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں لبنان کے قومی اقتدار اعلی کو بحال کیا۔

ساتواں باب: فلسطین کی تقدیر اور مستقبل

 بقائے فلسطین و نابودی اسرائیل:

اب غاصب حکومت کے عمائدین جو ایک اسلامی ملک فلسطین پر قابض ہیں اور ان کے امریکی حامی جو بڑے ہی احمقانہ و ابلہانہ انداز میں ان کی ہمہ جہت حمایت کر رہے ہیں، اس کوشش میں لگ گئے ہیں کہ فلسطین کا نام تاریخ اور عوام کی یاد داشت سے پوری طرح مٹا دیں تاکہ عوام کے ذہنوں میں فلسطین نام کی کوئی چیز ہی باقی نہ رہے۔ انیس سو سینتالیس، اڑتالیس میں جب فلسطین پر پوری طرح قبضہ کر لیا گیا اور صیہونی حکومت کی تشکیل عمل میں آ گئی اس وقت سے اب تک وہ یہ کام نہیں کر سکے اور آئندہ بھی عشروں تک وہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔ وہ فلسطین کا نام مٹانے کی خواہش پوری نہیں کر سکیں گے بلکہ اسی کوشش میں وہ خود ہی صفحہ ہستی اور تاریخ کے اوراق سے ناپید ہو جائیں گے۔ جبکہ فلسطین اور فلسطینی عوام کو جاویدانی ملے گی۔ یہ اس زعم میں ہیں کہ فلسطین اور فلسطینی قوم کو مٹا لے جائیں گے۔ لیکن فلسطینی قوم ہمیشہ باقی رہے گی اور فلسطین بھی باقی رہے گا اور فلسطینی و لبنانی جیالوں کی بلند ہمتی کے نتیجے میں ایک دن پرچم فلسطین بھی لہرائے گا۔

صیہونزم اور فلسطین میں غاصب و جعلی صیہونی حکومت کا مقدر فنا ہے۔ فلسطینی عوام کو چاہئے کہ اللہ تعالی سے نصرت و مدد کی دعا کریں اور اس کی ذات پر توکل کریں۔ فلسطینی جوان، لبنانی جوان، تمام عالم اسلام کے جوان اور سبھی دانشور اسی سمت میں آگے بڑھیں۔

غاصب و ظالم صیہونیوں کی سمجھ میں یہ بات آ جانا چاہئے کہ لبنان و فلسطین کی زیور ایمان سے آراستہ یہ نوجوان نسل ناقابل تسخیر ہے۔ فلسطینی قوم کے جذبہ ایمانی و قوت صبر پر استوار جہاد کو سیاسی سازباز، فوجی دباؤ، سکیورٹی کی چالوں اور تشہیراتی ہلڑ ہنگاموں سے روکا نہیں جا سکتا۔ بالکل اسی طرح جیسے عظیم الشان ملت ایران کی قوت مزاحمت اور بے مثال استقامت کو ان فرسودہ اور ناکارہ حربوں سے مغلوب نہیں کیا جا سکا جنہیں گزشتہ برسوں کے دوران صیہونیوں اور ان کے حامیوں نے جی بھر کے استعمال کیا ہے۔

یقینی مستقبل:

فلسطین کی موجودہ صورت اس یقینی انجام اور مستقبل کی نوید دے رہی ہے جس کا وعدہ اللہ تعالی نے صادق و ثابت قدم مجاہدین سے کیا ہے، وہ وعدہ جس کا پورا ہونا یقینی ہے۔ بے رحم و ظالم صیہونی حکومت اور اس کے پس پشت امریکا اور عالمی صیہونزم کو یہ زعم ہے کہ مجرمانہ اقدامات اور غیر انسانی حرکتوں سے ملت فلسطین کو مغلوب کر لے جائیں گے اور اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے۔ یہ بہت بڑی بھول ہے، اس بھول میں پڑنے والوں کو آگے چل کر بہت بڑی چپت لگنے والی ہے۔

فلسطین، فلسطینی قوم کا ہے، جلد یا کچھ دیر میں غاصب حکومت کو سرانجام اس حقیقت کے سامنے سر جھکانا ہوگا۔ اس وقت فلسطین کے مسلمان مجاہدین کے دوش پر یہ عظیم اور تاریخی ذمہ داری ہے۔ انہیں چاہئے کہ حتمی وعدہ الہی پر بھروسہ کریں اور اللہ تعالی کی نصرت و مدد سے آس لگائیں اور اپنی امید و جذبہ ایمانی اور جہاد کے ذریعے اپنی قوم اور اپنے ملک کو اپنا عظیم تحفہ پیش کریں۔ فلسطین کے مسلمانوں کی مزاحمت و استقامت کے جاری رہنے اور عالم اسلام کی جانب سے ان کی بلا وقفہ حمایت کے نتیجے میں فلسطین بفضل الہی ایک دن آزآد ہو جائے گا اور بیت المقدس، مسجد الاقصی اور اس اسلامی سرزمین کا گوشہ گوشہ دوبارہ عالم اسلام کی آغوش میں آ جائے گا۔

شمشیر پر خون کی فتح:

عالم اسلام کی رائے عامہ بھی یہ جان لے کہ امریکا اور دیگر سامراجی طاقتیں کبھی بھی اسلامی ممالک کے معاملات میں صدق دل اور خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ ثالثی کا رول ادا نہیں کریں گی۔ ان کا موقف اور رخ ظالم و جارح کی حمایت کا معاندانہ رخ ہے۔ مسلمانوں کا فریضہ ابھی پورا نہیں ہوا ہے۔ یہ فریضہ ہمیشہ باقی رہنے والا ہے اور اس سے کوئی بھی خود کو سبکدوش نہ سمجھے۔ سب مل کر فلسطینی قوم کی مدد کریں، اسے ضرورت کی چیزیں اور وسائل فراہم کریں، اس کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ اپنا شجاعانہ جہاد اسی انداز سے جاری رکھ سکے۔ آج ملت فلسطین اپنی استقامت و پائیداری کے ذریعے، بے مثال شجاعت و بہادری کے ذریعے یہ بات ثابت کر چکی ہے کہ خون، شمشیر کا مقابلہ کرنے کی طاقت و توانائی رکھتا ہے اور ایک دن دنیا دیکھ لے گی کہ خون کو شمشیر پر فتح کیسے ملتی ہے؟!(بشکریه از:الطمش لشکزپوزی کلکته)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.