فقیہ کی ولایت (۱)

0 0

اسلام ، انسانوں کو ھر طرح کي ذلت اور غلامي سے نجات دينے کے لئے اور انکے درميان عدالت بر قرار کرنے کے لئے آيا ھے ۔ ساتھ ھي ساتھ انکي مادي اور فطري ضرورتوں کو پورا کرنے کے علاوہ انکي روحي اور معنوي جنبوں سے بھي تربيت کرتا ھے تاکہ انساني سماج کي تعمير عدالت اور اخلاق کي بنيادوں پر ھو ۔ 

بات بالکل واضح  ھے کہ سماج ميں قانون کے اجرا اور حکومت کے بغير ھم اس مقصد تک نھيں پھونچ سکتے ۔ اسي لئے پيغمبر اسلام (ص) نے بھي مدينہ کي طرف ھجرت کرنے کے بعد سب سے پہلے حکومت تشکيل دي تھي ۔ ھمارے ائمہ معصومين(ع) بھي اسي کوشش ميں رھے کہ سماج کي رھبري کي باگڈور اپنے ھاتھوں ميں رکھيں ۔ حضرت علي (ع)نے جو خط مالک اشتر  کي حکومت کے لئے لکھا تھا ، اس ميں ذکر کئے گئے دستور العمل کے ذريعے مالک اشتر کو حکم ديا تھا کہ ايک ديني حکومت کے توسط سے عوام کي فکري ، اقتصادي اور سماجي حالت کو بھتر اور مستحکم کيا جائے اور ايک ايسا سماج وجود ميں لايا جائے جو ايک ايسا نمونہ ( ideal) ھو جسے خدا بھي پسند کرتا ھو ۔

ھميں ايک بارپھر اپنے دين کے مقاصد اور اسکے سياسي اھداف پر نظر ڈالني چاھئے تاکہ حقيقت سے اور قريب ھوجائيں اور اسکے لئے مندرجہ ذيل نکات پر توجہ ضروري ہے :

۱۔ آسماني اديان اور خدا کي طرف سے بھيجے گئے پيغمبران کے مقاصد ۔

۲۔ پيغمبر اور امام اجتماعي قدرت اور اسلامي حکومت کے لئے کوشش کرتے تھے تاکہ خدا کے احکام کو بھتر طريقے سے اجراء کر سکيں ۔

۳۔ پيغمبر اور ائمہ معصومين(ع) کي راہ انکے بعد بھي جاري رہ سکتي ھے ۔

۴۔ دين اسلام صرف پيغمبر (ص)،ائمہ معصومين (ع)اور انکے زمانہ کے لوگوں سے ہي مخصوص نھيں تھا ۔

۵۔ امام زمانہ (ع) کي غيبت کے زمانہ ميں بھي وھي راہ وروش اور پروگرام جاري رھنا چاھئے جو خود پيغمبر(ص) اور ائمہ معصومين (ع)کے زمانہ ميں جاري تھا ۔

ان نکات پر توجہ کرنے کے بعد اس ميں کوئي شک باقي نھيں رہ جاتا کہ ھمارے زمانہ ميں بھي اسلامي حکومت قائم ھوني چاھئے تاکہ خدا کا دين سماج ميں رواج پيدا کرسکے ۔ اس مسئلہ کو ثابت کرنے کے لئے کسي دليل کي ضرورت نھيں ھے ۔

خود اسلام کے احکام سے پتہ چلتا ھے کہ ان احکام کو جاري کرنے کے لئے حکومت اور رھبري کي ضرورت ھے ۔ اسکے بغير اسلام کے احکام کو سماج ميں اجرا نھيں کيا جا سکتا ھے ۔ اس سلسلے ميں امام خميني (رہ) کا يہ جملہ غور طلب ھے :

ولايت فقيہ ان موضوعات ميں سے ھے کہ جنکا تصور ھي ان  کي تصديق کرتا ھے اور کسي دليل و ثبوت کي ضرورت نھيں رکھتا ۔ اس طرح جو بھي اسلام کے احکام اور عقايد کو ذرا سا بھي قبول کرتا ھے تو جيسے ھي  وہ ولايت فقيہ (فقيہ کي ولايت) پر پھونچے گا اور اسکا تصور کرے گا تو فوراً ھي اسکي تصديق بھي کردے گا اور اسکو ضروري اور بديہي  سمجھے گا۔ (حکومت اسلامي، مقدمہ )

اسي وجہ سے وفات پيغمبر(ص) کے ساتھ اسلامي قوانين اور احکام معطل نھيں ھوگئے بلکہ صرف اتناھوا کہ امت اسلاميہ کي رھبري ائمہ معصومين (ع) کے دوش پر آگئي ۔ امام حسن عسکري(ع) کي شھادت کے بعد اور بارھويں امام کي غيبت کے زمانہ ميں بھي ، مسلمانوں کي ديني اور فکري ھدايت جاري ھے ۔ کيونکہ خدا وند متعال نے اس دين کو ساري دنيا کے لئے آخري و کامل دين اور قرآن کو آخري آسماني کتاب قرار ديا ھے  جو قيامت تک کے آنے والے انسانوں کي فردي  اور سماجي زندگي کے لئے رھنماھے ۔ سب سے بہتر اور عقلي راستہ يھي ھے کہ خد اکے قوانين اور احکام اسلامي حکومت کے ذريعہ جاري ھوں۔ اگر چہ لوگ دين کے بارے ميں علم رکھنے والے اور ديندار ھي کيوں نہ ھوں ، ليکن حکومت، غير اسلامي اور ظالم ھو گي تو اسلام کے احکام کو پوري طرح  پورے معاشرہ پر جاري کرنے کا امکان پيدا ھو  ھي نھيں سکتا ھے ۔

بھترين قانون بھي صرف اسي وقت اھميت رکھتا ھے جب اسکو جاري کيا جائے ورنہ صرف قانون کا بنا دينا کوئي اھميت نھيں رکھتا ۔ کسي قانون کو جاري کرنا ، اسکو جاري کرنے والوں اور سماج کو چلانے والوں کے ھاتھوں ميں ھوتا ھے ، نيزحکومت ھي قانون کے اجراء کے لئے ذمہ دار ھوتي ھے ۔

مزید  کیا لقب امیر المومنین صرف مولا علی(ع) کا ہے؟

مندرجہ بالا وضاحت سے يہ نتيجہ بخوبي نکلتا ھے کہ امام زمانہ (ع) کي غيبت کے زمانہ ميں بھي واحد اور صحيح راستہ يھي ھے کہ ايک اسلامي حکومت ھو جو خدا کے احکام و قوانين کو سماج ميں اجرا کرے ۔ جو اس حکومت ميں سب سے اعليٰ درجہ پر فائز ھوتا ھے اسے ” ولي امر مسلمين “ کھا جاتا ھے ۔ لوگ ھر زمانہ ميں ” ولي “” امام “ پيشوا اور رھبر کے ھاتھوں پر بيعت کرتے ھيں اور اسکے فرمان کو تسليم کرتے ھيں ۔ امام خميني(رہ) اس بارے ميں ، کہ امام زمانہ(ع) کي غيبت کے زمانہ ميں بھي حکومت تشکيل دينا ضروري ہے ، فرماتے ھيں :

” جو چيز حضرت رسول خدا (ص)کي زندگي اور حضرت علي (ع)کے زمانہ ميں لازم تھي وہ حکومت اور قوانين اسلامي کا اجرا کرنا تھا ۔ يھي چيز ا ن کے بعد ، ھمارے زمانہ ميں بھي ضروري ھے ” ۔

يہ پوري طرح روشن اور واضح ھو جانے کے بعد  کہ امام زمانہ (ع) کي غيبت کے زمانہ ميں بھي حکومت اور پيغمبر خدا (ص) اور ائمہ معصومين (ع) کي ولايت کا جاري رھنا ضروري ھے ، دعويٰ کياجاسکتاھے کہ اسکاسلسلہ فقھا پر جاکر ختم ھو گا ۔  ولايت فقيہ اس زمانہ ميں اس اھم اور بزرگ عھدے کا دوسرا نام ھے ۔ اس دعوے کو ثابت کرنے سے پھلے ضروري ھے کہ اس سے متعلق اصطلاحات) کو روشن اور واضح کر ديا جائے ۔

فقيہ کون ھے ؟ مجتھد کيسا ھوتا ھے ؟ کون مجتھد اور فقيہ ھو سکتا ھے ؟ کون ولي فقيہ  ھو سکتا ھے اور اس کے شرائط کيا ھيں ؟ ولي فقيہ اور رھبر کا انتخاب  کيسے ھو ناچاھئے ؟ وہ کن لوگوں کے ذريعہ اور کتني مدت کے لئے منتخب ھوتا ھے ؟ اسکے اختيارات کيا ھيں ؟ ولي فقيہ کس زمانہ تک ولايت رکھتا ھے؟ اس مسئلہ ميں عوام  کا کيا حصہ  ھوتا ھے ؟ يہ اور اس جيسے دوسرے سوالات کے جوابات دينا اور انھيں واضح کر دينا ضروري ھے ۔

جس طرح رسول خدا  (ص) نے اپنے بعد ، مسلمانوں کے لئے ان کا وظيفہ اور ذمہ داري روشن کر دي تھي اور اپنا جا نشين معين کر ديا تھا  اسي طرح پيغمبر  کے جانشين امام (ع) نے بھي زمانہ غيبت ميں جس ميں امام (ع) سے رابطہ قائم نھيں کيا جا سکتا  لوگوں کا وظيفہ اور ذمہ داري بيان کر دي ھے ۔ اس جانشيني کا اعلان کبھي ممکن ھے کہ نام اور صفات کے ذريعہ ھو ،  جيسے خود پيغمبر  اور انکے بعد ھر امام (ع) نے ، اپنے بعد آنے والے امام (ع) اور انکي صفتوں کو ذکر کيا يا کبھي ممکن ھے کہ خصوصيت اور شرطوں کو مختصر طور پر بيان کر ديا جائے کہ جو بھي ان صفات اور شرطوں کا حامل ھو  وہ لوگوں کي پيشوائي اور رھبري کے لئے سب سے بھتر ھے ۔ فقھا جو کہ امام (ع) کے جانشين ھيں ، کے سلسلے ميں دوسرا راستہ اختيار کيا جاتا ھے ۔

 کسي حديث اور روايت کي طرف رجوع کئے بغير  يہ بات پوري طرح سے واضح  ھے کہ اسلامي سماج ميں  خدا وند متعال کے احکام کا اجراء ھونا ضروري ھے اور چونکہ مسلمانوں کا سر پرست دين کے احکام کو جاري کرنے کا ذمہ دار ھے اور يہ ذمہ داري حکومت کو تشکيل دئے بغير پوري نھيں کي جا سکتي ھے  اس لئے جو بھي حکومت کے عھدے اور منصب پر فائز ھو ،اس ميں مندرجہ ذيل شرطيں پائي جانا ضروري  ھيں :

۱۔ فقاھت  يعني وہ اسلام اور احکام خداميں مھارت رکھتا ھو ۔

۲۔ عدالت  يعني اس ميں عدل اور تقويٰ پايا جاتا ھو ۔

۳۔  کفايت  يعني اس ميں رھبري کے لئے سياسي اور سماجي تدبر اور بصيرت پائي جاتي ھو ۔

فقيہ کون ھے ؟

فقيہ وہ ھوتا ھے، جو خدا کے احکام اور دين کے مسائل کو قرآن کي آيتوںاور روايات سے سمجھتے ھوئے ان سے استدلال کرے يعني دليل لائے اور جو بھي مسئلہ پيش آئے اس ميں دين اور مذھب کے نظريہ کو پھچان سکے اور اسے بيان کر سکے ۔ دين شناسي  کے اس مقام تک پھونچنے کے لئے ضروري ھے کہ ايک شخص ايک طولاني مدت تک حوزہ علميہ  ميں ان علوم کو حاصل کرے  جو دين کے مسائل ميں ماھر ھونے کے لئے اسکي مدد کر سکيں۔

مزید  انڈونيشيا میں الازہر كے جديد شعبے كا افتتاح

جو اس درجہ اور مقام تک پھونچ جاتا ھے کہ اسلامي مسائل کو عقلي و نقلي استدلال کے ذريعہ سمجھ جائے ، اسے مجتھد اور ” فقيہ “ کھتے ھيں اور علم اور فقہ کے اس درجہ اور مرتبہ کو ” اجتھاد “ کھتے ھيں ۔

عموماً ھر شخص کسي بھي مسئلہ ميں اس مسئلہ کا علم رکھنے والے اور ماھر شخص کي طرف رجوع کرتا ھے ۔ مثلاً بيماري ميں ڈاکٹر ، مکان کي تعمير ميں انجينير اور مستري اور مشينوں کے خراب ھوجانے کي صورت ميں ، اس کا علم اور مہارت رکھنے والے شخص کي طرف رجوع کيا جاتا ھے ۔ سامنے کي بات ھے کہ اگر انسان خود دين ميں ماھر نہ ھو اور اس کا علم نہ رکھتا ھو ، تو اپنا ديني وظيفہ جاننے اوراس پر عمل کرنے کے لئے فقھا کي طرف رجوع کرے اور ان سے سوال کرے ۔ شريعت کے مسائل ميں شرعي دليلوں کي بنياد پر مجتھد کي نظر کو فتويٰ کھتے ھيں اور لوگوں کے فقھا کي طرف رجوع کرنے اور انکے فتوے پر عمل کرنے کو ” تقليد “ کھتے ھيں ۔

جس طرح لوگ ايک دريا اور سمندر کے سفر ميں اپنے اختيارات کو جھاز کے کيپٹن کے حوالہ اور ھوائي جھاز کے سفر ميں اپنے اختيار کو پائيلٹ کے سپرد کر ديتے ھيں  اسي طرح ديني  مسائل اور شرعي فرائض ميں ھم اپنے فقھا کے فتوؤں پر عمل کرتے ھيں اور انکي تقليد کرتے ھيں ۔ فقھا شرعي مسائل ميں ھمارے ”مرجع “ ھيں يعني انکي طرف ھم سوال کے لئے جاتے ھيں  اسي لئے انھيں ”مرجع تقليد “ کھتے ھيں ۔

اس کے علاوہ جس طرح ايک شھر ميں بھت سے ڈاکٹر ھوتے ھيں ليکن ہم  کچھ ھي کے پاس علاج کے لئے جاتے ھيں ۔ اسي طرح شريعت کے مسائل ميں اھل نظر اور مجھتد بھي زيادہ ھو سکتے ھيں ممکن ھے کہ ايک ھي زمانہ ميں سينکڑوں  مجتھد يعني اھل نظر حضرات موجود ھوں  ليکن جنکي طرف لوگ رجوع کرتے ھيں انکي تعداد کم ھي ھوتي ھے ۔ اس لئے ھم کھہ سکتے ھيں کہ سبھي مجتھد ” مرجعيت“ کے درجہ اور مقام تک نھيں پھونچتے ھيں ۔

اس کے علاوہ عقلي اور واضح دليل يہ ھے کہ ائمہ معصومين (ع) کا مخصوص حکم اس بارے ميں موجود ھے کہ ھم ديني مسائل ميں فقھا کي طرف رجوع کريں ، انکي طرف جو ھماري روايات کا علم رکھتے ھيں اور خدا کے حلال اور حرام کو پھچانتے ھيںاور ھماري احاديث سے آشنا ھيں ۔ يہ لوگ ھماري طرف سے تم لوگوں پر حجت ھيں ۔

ھم چونکہ خدا وند متعال کے بندے اور مسلمان ھيں اس لئے ھم جس ديني وظيفہ کو اور ذمہ داري کو انجام ديں ، اسکے لئے ضروري ھے کہ خدا کے فرمان کے مطابق ھو ۔ ھم خدا کے حکم کو فقط قرآن ، پيغمبر  اور ائمہ معصومين (ع) کے اقوال کے ذريعہ سمجھ  سکتے ھيں ۔ علمائے دين بھي جو علم دين حاصل کرتے ھيں  وہ خدا ، پيغمبر  اور ائمہ معصومين (ع) کے اقوال اور احاديث کے ذريعہ ھي حاصل کرتے ھيں ۔ چونکہ ھم اس زمانہ ميں پيغمبر  اور امام معصوم (ع) تک براہ راست نھيں پھونچ سکتے اس لئے ، ائمہ معصومين (ع) نے ھماري رھنمائي فقھائے دين کي طرف کي ھے اور انکي نظر اور فتوے کو ھمارے لئے حجت قرار ديا ھے ۔ اس طرح   ھم مرجع تقليد کے فتوے پر عمل کرکے مطمئن ھو سکتے ھيں کہ ھم نے اپنے ديني وظيفہ کو انجام دے ديا ھے اور ھم اس سے سبکدوش ھو گئے ھيں  کيونکہ ھم ثبوت اور سند رکھتے ھيں ۔ ھماري حجت اور ثبوت ، فقھا کا فتويٰ ھے جو ائمہ معصومين (ع) کي جانب سے ھمارے لئے معتبر  قرار ديا گيا ھے ۔ احاديث کي کتابوں ميں ، ان روايات کو جو اس دستور العمل کو بيان کرتي ھيں ۔ ” مقبولہ عمر بن حنظلہ “ کھتے ھيں ۔

مزید  حضرت امام علی علیہ السلام کے حالات کا مختصر جائزہ

امام صادق (ع) سے روايت ھے کہ جو شخص بھي ميري حديث تم سے نقل کرے ، حلال اور حرام کا پابند ھو اور ھمارے احکام کي شناخت رکھتا ھو ، ميں نے اس شخص کو يقينا تمھارے اوپر حاکم قرار ديا ھے ۔ اس لئے جب بھي وہ ھمارے حکم کے مطابق حکم کرے اور کوئي شخص اسکے حکم پر عمل نہ کرے تو اس نے خدا وند متعال کے حکم کو سبک جانا اور ھمارا انکار کيا ھے اور جس نے ھمارا انکار کيا ، اس نے خدا وند متعال کا انکار کيا ھے (۱)

اس بات پر توجہ کرتے ھوئے کہ کبھي کبھي کوئي تازہ اور نيا مسئلہ بھي  پيش آجا تا ھے جس کا روايت ميں کوئي خاص حکم موجود نھيں ھوتا ، دين کے ماھر اور علم رکھنے والے فقھا ، اس تازہ اور نئے مسئلہ کے لئے لوگوں کا شرعي وظيفہ بيان کر تے ھيں اور يہ کہ انکي نظر اور فتويٰ ، نئے پيدا ھونے والے مسائل ميں بھي ھمارے لئے حجت ھے ، اس بارے ميں بھي ائمہ معصومين (ع) سے  روايت موجود  ھے ۔  امام زمانہ(ع) فرماتے ھيں : ” نئے واقعات اور تازہ مسائل ميں ھماري احاديث کو نقل کرنے والوں کي طرف رجوع کرو ، کيونکہ فقھا ميري طرف سے تمھارے اوپر حجت ھيں اور ھم انکے اوپر خدا کي طرف سے حجت ھيں “ (۲)

نئے پيدا ھونے والے مسائل کيا ھيں جن کا دائرہ بھت وسيع  ھے ۔ جو سياسي ، اقتصادي اور سياسي مسائل کو بھي اپنے اندر شامل کرتے ہيں ۔

امام زمانہ (ع) کي مراد توضيح المسائل ميں بيان کئے گئے شرعي مسائل اور ھمارے فردي مسائل و ذمہ دارياں ھي نھيں ھيں بلکہ انکي مراد اور منشاء اس سے کھيں وسيع تر ھے ۔

اس لئے کہ وھي غيبت کے زمانہ ميں ” ولايت “ رکھ سکتا ھے اور اسي کي طرف لوگ مختلف مسائل ميں رجوع کر سکتے ھيں  جو دين کے بارے ميں کافي آگاھي اور علم رکھتا ھو ۔ زمانہ غيبت ميں  مسلمانوں کے حاکم کے لئے علمي صلاحيت اور دين شناسي  کا ھونا ، اس منصب کي اھم صفات ميں سے ايک صفت ھے ، جس کا حامل ھونا اس کے لئے ضروريھے ۔ ان سب کے علاوہ ايک اھم شرط جو مسلمانوں کے پيشوا کے لئے لازم ھے وہ ” عدالت “ھے  يعني صرف عاقل ، عالم اور خدا کے احکام سے آگاھي ھونا ھي کافي نھيں ھے ۔ صرف وھي شخص بندگان خدا کي رھبري کي صلاحيت رکھتا ھے ، جو متقي ، خدا کا خوف رکھنے والا ، با ايمان ، پاکيزہ اور عادل ھو ۔ ان شرائط کو اخلاق اور تقويٰ کي شرطيں کھتے ھيں ۔

جو شخص دنيا پرست ھو ، اپني خواھيشات اور نفس کي پيروي کرتا ھو ، ريا کار اور بے تقويٰ ھو ،خدا کے احکام کي پابندي نہ کرتا ھو ، پرھيز گاري ، خلوص اور دينداري نہ رکھتا ھو ، تو ايسا شخص لوگوں کا مرجع ھونے کي صلاحيت نھيں رکھتا اور وہ مسلمانوں کا رھبر اور پيشوا بھي نھيں ھو سکتا ھے ۔ يہ مقام اور منصب اسي شخص کے لئے مناسب ھے جو اپني خواھشات اور نفس کي پيروي نہ کرتا ھو اور با تقويٰ ھو ، کيونکہ سماج اور لوگوں کے دين اور دنيا کا اختيار اسي کو ديا جاتا ھے ۔ اگرلوگوں کا پيشوا اور رھبر تقويٰ ، پاکدامني اور خلوص نھيں رکھتا ھو گا ، تو لوگوں کے دين اور دنيا دونوں ھي کو خطرہ لاحق ھو گا اور کبھي بھي جبران نہ ھونے والا خسارہ اور نقصان ھو جائے گا ۔ اس بارے ميں بھي امام حسن عسکري (ع) سے  حديث نقل ھوئي ھے آپ نے فرمايا ھے  : فقھا ميں جو اپنے دين کے نگھبان ھوں اور اپنے نفس کي پيروي نہ کرتے ھوں ، لوگوں کے لئے ضروري ھے کہ انھي ميں سے کسي کي تقليد کريں ۔ (۳)

حوا لے

۱۔وسائل الشيعہ ج ۱۸ ص ۹۹

۲۔وسائل الشيعہ ج ۱۸ ،ص ۱۰۱

۳۔وسائل الشيعہ ج ۱۸ ص ۹۴

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.