فقيہ کي ولايت(۲)

0 1

 

ايک شرط اور لازم ھے  وہ ھے اسلامي سماج کو چلانے اور لوگوں کي رھبري کرنے کي صلاحيت اور طاقت يعني پلان ، پروگرام اور دور انديشي (Provident)کا ھونا ۔ دنيا اور سماج کے حالات کو اچھي طرح سے پھچاننا ، شجاع ھو نا اور اپنے زمانہ کے مسائل سے آگاہ ھو نا ۔ سياسي کفايت (Political Sufficiency)اور مديريت کا ھونا ۔

يہ بالکل روشن ھے کہ اگر ايک فقيہ اور مجتھد ديني مسائل ، زھد اور تقويٰ ميں بھت بلند درجہ رکھتا ھو ليکن وہ سماج اور دنيا کے حالات سے واقف نہ ھو ، دور انديشي اور مديريت کي صلاحيت نہ رکھتا ھو ، بزدل ھو ، تو ايسي صورت ميں يہ ممکن نھيں ھے کہ اتني بڑي اور فريبي دنيا ميں اتنے دشمنوں کي دشمني کے با وجود ، کروڑوں مسلمانوں کي باگڈور اسکے ھاتھوں ميں دے دي جائے  يعني خدا نے اس صورت ميں اس کے لئے اس حق اور ولايت کو قرار نھيں ديا ھے ۔ مسلمانوں کي رھبري ، ولايت اور سر پرستي ايک بڑي ذمہ داري ھے  جو شرعي مسائل اور مقلد کے سوالات کے جوابات  دينے سے کھيں بزرگ اور اھم ھے ۔ پھلے بھي اشارہ کيا جا چکا ھے کہ رھبر کو علمي اور اخلاقي صلاحيت رکھنے کے علاوہ ھوشيار ، دور انديش ، آگاہ اور اصولوں کا پختہ ھونا چاھئے ۔

” ولايت فقيہ “ زمانہ غيبت ميں اسلامي سماج کو چلانے کا سب سے ايڈوانس اور بھترين طريقہ ھے  يعني سب سے لائق ، عقلمند ، اسلام شناس اور فقيہ شخص خدا کے بندوں کي رھبري اور ولايت کي ذمہ داري اپنے دوش پرلے سکتا اور سماج کو دين خدا کے اصول اور بنيادوں پر چلاسکتاھے ۔ ھر عاقل شخص اس طريقے کو پسند اور قبول کرے گا ۔ يہ مينجمنٹ کا بھترين طريقہ ھے کہ ايک ادارہ  اور کمپني ميں کام کرنے والے کے لئے اس کي ذاتي شرافت اور پاکيزگي کے علاوہ اسکے علم ، مينجمنٹ اور کام کرنے کي صلاحيت کي طرف بھي نظر کي جاتي ھے ۔ اسي طرح رھبر کے انتخاب ميں بھي ان صفات کا خيال رکھا جاتا ھے ۔

مزید  تیسری شعبان کا دن

جو کچھ ” ولايت فقيہ “ کے عنوان سے بيان کيا گيا ھے، اس کا خلاصہ يہ ھے کہ سماج ايک ايسے شخص کے کنٹرول ميں ھونا چاھئے ، جو خدا وند متعال کے بنائے ھوئے قانون کا علم رکھتا ھو ، ساتھ ھي ، عدالت ، پاکيزگي ، لياقت اور سماج کے مينجمنٹ کا طريقہ بھي جانتا ھو  يہ  زمانہ غيبت  ميں ، فلسفہ  سياست اور مسلمانوں کي حکومت کے سلسلے ميں مکتب تشيع  کا نظريہ ھے ۔ جسے اصطلاح ميں ” ولايت فقيہ “ کھتے ھيں ۔

اس جگہ پر مناسب ھے کہ امام خميني (رہ ) کے قول کا ذکر کيا جائے ۔ آپ دو شرائط حاکم کے سلسلہ ميں بيان کرتے ھيں:” قانون کا علم “ اور” عدالت “ يہ باتيں ھمارے زمانہ کے بھت سے علماء ميں پائي جاتي ھيں ۔ : اگر ايک لائق اور با صلاحيت شخص ان دو صفات کو رکھتا ھو تو اسے حکومت کے لئے قدم بڑھا دينا چاھئے ۔ وھي ” ولايت “ جو رسول خدا  سماج کو چلانے کے لئے رکھتے تھے  يہ شخص بھي رکھتا ھے اور لوگوں پر واجب ھے کہ اس کي اطاعت کريں ۔ (1)

اب جب امام خميني (رہ) کا کلام ھمارے درميان آھي گيا ھے تو انکے اس کلام پر بھي غور کرتے چليں ۔

جس طرح پيغمبر اکرم  کواحکام الٰھي کے نفاذاور اسلامي نظام (Islamic System) کو برقرار کرنے کا حکم ديا گياتھا اور خدا وند متعال نے انکو مسلمانوں کا حاکم و رئيس مقرر کيا تھا اور لوگوں کے لئے انکي اطاعت کو واجب قرار ديا تھا اسي طرح سے عادل فقھا بھي رئيس اور حاکم ھو سکتے ھيں اور احکام کونافذکر سکتے ھيں اور اسلام کے اجتماعي نظام (Social System Of Islam) کي بنياد ڈال سکتے ھيں ۔(2)

مزید  کاش کوئی مجھے سمجھتا؟

 

حوا لے

1۔حکومت اسلامي ص ۶۳

2۔حکومت اسلامي ص ۹۲

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.