فدک کے دینے کا طریقہ

0 1

ممکن ہے کہ جناب رسول خدا (ص) نے فدک فاطمہ (ع) کو دو طریقوں میں سے ایک دیا ہو ۔ پہلا فدک کی آراضی کو آپ کا شخص مال قرار دیدیا ہو ۔ دوسرا طریقہ یہ کہ اسے علی (ع) اور فاطمہ (ع) کے خانوادے پر جو مسلمانوں کی رہبری اور امامت کا گھر تھا وقف کردیا ہو کہ یہ بھی ایک دائمی صدقہ اور وقف ہو جو کہ ان کے اختیار میں دیدیا ہو۔ اخبار اور احادیث کا ظاہر پہلے طریقے کی تائید کرتا ہے لیکن دوسرا طریقہ بھی بعید قرار دیا گیا بلکہ بعض روایات میں اس پر نص موجود ہے جیسے ابان بن تغلب کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق (ع) سے سوال کیا کہ کیا رسول خدا (ص) نے فدک جناب فاطمہ (ع) کو بخش دیا تھا آپ نے فرمایا کہ پیغمبر (ص) نے فدک وقف کیا اور پھر آیت ذالقربی کے مطابق وہ آپ کے اخبیار میں دیدیا میں نے عرض کی کہ رسول خدا (ص) نے فدک فاطمہ ( ع) کو دیدیا آپ نے فرمایا بلکہ خدا نے وہ فاطمہ (ع) کو دیا ۔ (بحارالانوار ، ج96 ص 213) امام زین العابدین (ع) نے فرمایا کہ رسول (ص) نے فاطمہ (ع) کو بطور قطعہ دیا ۔ (کشف الغمہ ج 2 ص 102) ام ہانی نے روایت کی ہے کہ جناب فاطمہ (ع) جناب ابوبکر کے پاس آئیں اور ان سے کہا کہ جب تو مرے گا تو تیرا وارث کون ہوگا ؟ جناب ابوبکر نے کہا میری آل و اولاد ، جناب فاطمہ (ع) نے فرمایا پس تم کس طرح رسول اللہ کے ہمارے سوا وارث ہوگۓ ہو ، جناب ابوبکر نے کہا اۓ رسول اللہ کی بیٹی خدا کی قسم میں رسول اللہ کا سونے ، چاندی وغیرہ کا وارث نہیں ہوا ہوں جناب فاطمہ (ع) نے کہا ہمارا خیبر کا حصہ اور صدقہ فدک کہاں گیا ؟ انہوں نے کہا اۓ بنت رسول (ص) میں نے رسول اللہ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ یہ تو ایک طمعہ تھا جو اللہ نے مجھے دیا تھا جب میرا انتقال ہوجاۓ تو یہ مسلمانوں کا ہوگا (فتوح البلدان ص 44) جیسا کہ آپ ملاحظہ کررہے ہیں کہ ایک حدیث میں امام جعفر صادق (ع) تصریح فرماتے ہیں کہ فدک وقف تھا ، دوسری حدیث میں امام زین العابدین (ع) نے اسے قطعہ سے تعبیر کیا ہے کہ جس کے معنی صرف منافع کا اسلامی اور حکومتی زمین سے حاصل کرنا ہوتا ہے ، احتجاج میں حضرت زہرا (ع) نے ابوبکر سے بعنوان صدقہ کے تعبیر کیا ہے ۔ ایک اور حدیث میں جو پہلے گزر چکی ہے امام جعفر صادق (ع) نے فرمایا ہے کہ رسول خدا (ص) نے حسن (ع) و حسین (ع) اور فاطمہ (ع) کو بلایا اور فدک انہیں دیدیا ۔ اس قسم کی احادیث سے استفادہ ہوتا ہے کہ رسول خدا (ص) نے فدک کو خانوادہ فاطمہ (ع) و علی (ع) پر جو ولایت اور رہبری کا خانوادہ تھا اور اس کے منافع کو انہیں کے ساتھ مخصوص کردیا تھا ۔ لیکن جن روایات میں وقف وغیرہ کی تعبیر آئی ہے وہ ان روایات کے مقابل کہ جن میں بخش دینا آیا ہے بہت معمولی بلکہ ضعیف بھی شمار کی جاتی ہیں لہذا صحیح نظریہ یہی ہے کہ فدک جناب فاطمہ (ع) کی شخصی اور ذاتی ملک تھا جو بعد میں ان کی اولاد کا ارث تھا ، صاحب کتاب اس قسم کی کوشش صرف ایک غرض کے ما تحت فرمارہے ہیں اور یہ غرض اہل علم پر کہ جنہوں نے نہج البلاغہ کی موجودہ زمانے میں جو شرح کی گئی ہے کا مطالعہ کیا ہے مخفی نہیں ہے لیکن شارح بھی حق پر نہیں ہے اور ان کی تصحیح کی کوشش بھی درست نہیں ہے۔ (مترجم ) فدک کے واقعہ میں قضاوت دیکھنا یہ چاہئیے کہ اس واقعہ میں حق جناب فاطمہ (ع) کے ساتھ ہے یا ابوبکر کے ساتھ ؟مورخین نے لکھا ہے کہ رسول خدا (ص) کی وفات کے دس دن کے بعد جناب ابوبکر نے اپنے آدمی بھیجے اور فدک پر قبضہ کرلیا ۔ (شرح ابن ابی الحدید ج 16 ، ص 263 )

مزید  ہاں یہ وہی ساجد علیہ السلام تھا
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.