غیبت کا راز اور اس کے فوائد

حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی غیبت کے فائدوں اور اس کی مصلحت کے بارے میں گفتگو کرنے سے پہلے ہمیں یہ دھیان رکھنا چاہئے کہ انسان نے عام طریقوں سے اب تک جو بھی معلومات حاصل کی ہیں ان کے با وجودوہ موجودات دنیا کے تمام رازوں کو نہیں سمجھ پایا اور اگر علم ہزاروں نہیں بلکہ کروڑوں سال اور ترقی کر لے تب بھی انسان کی معلومات کی تعداد اسکے مجہولات کے مقابلہ میں بہت ہی مختصر اور نا چیز ہوگی اور ایک بڑے دانشورکے بقول”یہ ایک نا متناہی چیز کے مقابلہ میں بالکل نہ ہونے کے مثل ہے“ اور یہ بھی اُس صورت میں ہے کہ جب ہم تمام انسانوں کے علم کا حساب کریں لیکن اگر صرف ایک عالم اور دانشور کے علم پر نظر رکھیں تو پھر ابھی تک کشف اور واضح ہونے والے رازوں سے اسکا موازنہ کرنا کسی مضحکہ سے کم نہیں ہے اور اسے جہالت و نادانی کے علاوہ کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔

جب حضرت علی کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہیں: 

”سبحانک ما اعظم ما نری من خلقک وما اصغر عظیمَہا فی جنب ماغاب عنا من قدرتک “

پاک و پاکیزہ ہے تو ،تیری وہ مخلوق کتنی عظیم ہے جو ہماری نگاہوں کے سامنے ہے اور اس کی عظمت کتنی چھوٹی ہے تیری اس قدرت کے مقابلہ میں جو ہماری نظروں سے پوشیدہ ہے۔

تو پھر دوسروں کا حال تو خودبخود معلوم ہے !

لہٰذا کسی کے اندر یہ مجال نہیں ہے کہ وہ اس عظیم کائنات کی کسی بھی خلقت کا راز معلوم نہ ہونے کی وجہ سے اسکے وجود کے بارے میں اعتراض شروع کردے یا اس کائنات کے بعض نظاموں اور اسکے قوانین کو فضول سمجھنے لگے ۔

کوئی شخص بھی یقینی طور پر یہ دعویٰ نہیں کر سکتا ہے کہ دنیا کی چھوٹی سے چھوٹی چیزمیں کوئی راز یا نکتہ پوشیدہ نہیں ہے جس طرح کوئی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اسے دنیا کے تمام اسرار معلوم ہیں قدیم اور جدید علماء وفلاسفہ اوردانشوروں نے صرف اسی ادراک کو اپنے لئے باعث فخر قرار دیا ہے کہ :

 

ہر گز دل م-ن ز ع-ل-م م-ح-روم نش-د 

 

کم ماند ز اسرار کہ مفہوم نشد 

میرا دل علم سے ہر گز محروم نہیں رہا 

 

وہ راز کم ہیں جو میرے لئے واضح نہ ہو گئے ہوں 

ہفتاد و دو سال جہد کردم شب وروز

 

معلومم شدکہ ھیچ معلوم نشد 

۷۲ سال تک میں نے دن رات محنت کی ہے 

 

اور صرف اتنا معلوم ہو سکا کہ کچھ معلوم نہیں ہے 

بہ جائی رسیدہ دانش من

 

کہ بدانم ھنوز نادانم 

میرایہ علم صرف وہاں تک پہونچ سکا 

 

کہ یہ جان سکوں کہ ابھی نادان ہوں 

عرب کا ایک دانش مند اور حکیم شاعر کہتا ہے : 

 

ما للتراب و للعلوم و ا نمّا 

 

یسعیٰ لیعلم انہ لا یعلم 

مٹی اور علوم کے درمیان کیا رابطہ بلکہ وہ تویہ 

 

کوشش کرتا ہے کہ یہ جا ن لے کہ و ہ جانتانہیں ہے 

مشہور ہے کہ ایک عورت نے مشہور حکیم” بزرگ مہر“ سے کوئی سوال پوچھا حکیم نے اسے جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیں ہے ۔

عورت نے کہا اے حکیم صاحب: بادشاہ سلامت تمہیںہر مہینے صرف اس لئے تنخواہ دیتے ہیں تاکہ تم اپنے علم و حکمت کے ذریعہ لوگوں کی مشکلات کو حل کر سکو !کیا تمہیں شرم نہیں آتی کہ میرے سوال کے جواب میں تم اپنی جہالت اور نادانی کا اقرار کر رہے ہو ؟

حکیم نے کہا : بادشاہ مجھے جو کچھ دیتا ہے وہ میری معلومات کے اعتبار سے دیتا ہے لیکن اگر وہ میرے مجہولات (جو چیزیں مجھے معلوم نہیں ہیں ان)کے اعتبارسے مجھے دینا چاہے تو وہ اپنا پورا خزانہ بھی خالی کر دے گا تب بھی میرے لئے کم رہے گا ۔

لہٰذا ہمیں مجہولات کو کشف کرنے اور اسرار کائنات کو جاننے کے لئے ہر دم کوشش کرتے رہنا چاہئے اور اگر کسی جگہ پر ہماری تحقیق اور جستجوکا کوئی نتیجہ برا ٓمد نہ ہو سکا تو اسے اسکے موجود نہ ہونے کی دلیل قرار نہ دینا چاہئے ۔

مثلاً جب انسان کی آنکھیں طاقتورٹیلسکوپ اور میکروسکوپ سے مسلح نہیں تھیں تو اسے یہ حق نہیں تھا کہ وہ ذرہ کے برابر موجودات ،یا ان لاکھوں کرات کا انکار کر دے جو اس سے پہلے کشف نہیں ہوئے تھے ۔

جس طرح وہ حیوانات جو ہر رنگ نہیں دیکھ پاتے یا انہیں صرف ایک رنگ دکھائی دیتا ہے وہ ان رنگوں کا انکار نہیں کر سکتے جو انسان کو مختلف انداز سے دکھائی دیتے ہیں ،جس طرح کوئی سنی جانے والی اور نہ سنی جانے والی آوازوں اور ان کی امواج کا انکار نہیں کر سکتا ہے ۔ 

یہ قاعدہ تکوینی دنیا اور شرعی دنیا دونوں ہی جگہ جاری ہے دنیائے شریعت میں بھی بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن کے فلسفہ و حکمت تک ہماری عقل نہیں پہونچ پاتی ہے اور ایسے احکام شریعت کا حال بھی بالکل بقیہ کائنات (عالم تکوین)کی طرح ہے لہٰذا جس طرح ہمیں کائنات کے بارے میں اس قسم کے اعتراض کا حق نہیں ہے اسی طرح شرعی مسائل میں بھی اعتراض کا حق نہیں ہے ۔

اگر ان دونوں مقامات (شریعت اور تکوین (کائنات))پر ہمیں کوئی ایسا مسئلہ دکھائی دے کہ صحیح عقل اور برہان اسکے خیرنہ ہونے یا شر (مضر)ہونے کا فیصلہ کر دیں تو ہمیں ناراض ہونے کا حق ہے ،لیکن آج تک شریعت اور کائنات میں ہمیں ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی اور نہ کبھی آئندہ نظرآئے گی۔

اس مقدمہ کے بعد ہم کہتے ہیں : کہ امام زمانہ کی غیبت پر ایمان رکھنے کے لئے اسکا فلسفہ جاننا ہر گز ضروری نہیں ہے اور اگر بالفرض ہمیں اسکا کوئی راز معلوم نہ ہو سکا تب بھی ہمیں اسکا پختہ یقین رہے گا ، ہمیں اجمالا ًیہ معلوم ہے کہ اس غیبت میں بہت اہم فائدہ اور مصلحت پوشیدہ ہے ،لیکن ہمارے جاننے یا نہ جاننے سے اسکے ہونے یا نہ ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے جیسا کہ اگر ہم اصل مسئلہ غیبت کو ہی نہ جانتے ہوں تب بھی اس کا کوئی ضرر نہ ہوگا ۔

حضرت کی غیبت ایک انجام یافتہ امر الٰہی ہے جسکی اطلاع معتبر احادیث سے ہم تک پہونچی ہے اور اس مدت میں بہت سے بزرگوں نے آپ کی زیارت کا شرف حاصل کیا ہے۔

لہٰذااگر غیبت کے نہ جاننے اور اس کے واقع ہونے کے درمیان کسی قسم کا کوئی ربط نہیں ہے توہم یہ کہتے ہیں کہ ہمیں غیبت کا راز معلوم نہیں ہے اس کے باوجود ہمیں امام زمانہ کے وجود پر مکمل ایمان ہے بالکل اسی طرح جس طرح ہم بہت ساری چیزوں کا فائدہ نہیں جانتے ہیں مگر ان کے موجود ہونے کا ہمیں علم ہے۔

واضح رہے کہ غیبت کے اسرار کے بارے میں سوالات کا آغاز ہمارے ہی زمانہ سے نہیں ہوا ہے اور اسکا تعلق صرف اِسی دور سے نہیں ہے بلکہ جب آپ کی غیبت شروع نہیںہوئی تھی حتی کہ آپ کی ولادت سے بہت پہلے جب پیغمبر اکرم اور ائمہ معصومین نے حضرت مہدی کے ظہور کی خبر دی تھی اسی وقت یہ سوالات سامنے آگئے تھے۔ 

آپ غیبت کیوں اختیار کرینگے ؟ اس غیبت کا فائدہ کیا ہے ؟

آپ کی غیبت کے دور میں آپ کے وجودسے کس طرح فائدہ اٹھایا جائے گا؟

معصومین نے حضرت مہدی کے ظہور کی بشارت دینے کے ساتھ ہمیں ان سوالات کے جوابات سے بھی آگاہ کر دیا ہے جن میں سے بعض جوابات کو مختصر طور سے اس مقام پر ذکر کیا جا رہا ہے ۔

۱۔آپ کے ظہور کاسب سے اہم راز اور سب سے بڑی وجہ آپ کے ظہور کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی جیسا کہ جب جناب موسیٰ (علی نبینا و آلہ و علیہ السلام) جناب خضر کے ساتھ گئے تھے تو ان کے کاموں کی حکمت اور راز اس وقت تک معلوم نہ ہو سکے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو گئے ۔

یا بالکل اسی طرح جیسے ہر موجود کی خلقت کا فائدہ چاہے وہ جمادات ہوں یا نباتات اور یا انسان اور حیوان ہوں ان کا فائدہ کئی مہینے یا کئی سال گذرنے کے بعد ظاہر ہو پاتا ہے ۔

۲۔اس غیبت کے کچھ اسرار معلوم ہیں جیسے یہ بندوں کا امتحان ہے کیونکہ غیبت کی وجہ سے خاص طور سے جبکہ اسکا راز معلوم نہ ہو تو لوگوں کے ایمان کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ تقدیر الٰہی کے بارے میں انکا ایمان کتنا قوی ہے ان کی زبان میں کتنی سچائی پائی جاتی ہے اس طرح غیبت کے زمانہ میں رونما ہونے والے حادثات میں تمام لوگ شدید ترین امتحانات میں مبتلا ہوتے ہیں جن کی تفصیل بیان کرنے کافی الحال امکان نہیں ہے ۔

انہیں اسرار میں سے ایک رازیہ ہے کہ غیبت کے زمانہ میں دنیا کی تمام قومیں آہستہ آستہ علمی اخلاقی اور عملی طور پر اس مصلح حقیقی اور بشریت کے حالات کو سدھارنے والے کے ظہور کےلئے تیار ہو جائیں کیونکہ حضرت کا ظہور دوسرے تمام انبیاء کی طرح نہیں ہے جسکا دار و مدار ظاہری اور عام اسباب کے اوپر ہو بلکہ دنیا کی قیادت میں آپ کا طریقہ کار حقیقتوں پر مبنی ہوگا اور اصل حق کے مطابق حکم کریں گے اسکے علاوہ تقیہ سے پرہیز، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں سختی، تمام کارندوں اورذمہ داروں سے سخت مواخذہ (بازپرس)اور انکے کاموں کی کڑی نگرانی کرنا بھی آپ کی حکومت کا اہم حصہ ہے اور ان کاموں کی انجام دہی کے لئے علوم و معارف کے ارتقاء اور بشریت کی فکری اور اخلاقی ترقی بے حد ضروری ہے تاکہ اسلامی تعلیمات کے دنیا میں چھا جانے اور قرآنی احکامات کی عالمی حکومت کے لئے و سائل فراہم رہیں۔

آخر میں لازم ہے کہ اپنے قارئین محترم کی مزید واقفیت کے لئے مسئلہ غیبت سے متعلق کچھ اہم کتابوں کی طرف اشارہ کر دیا جائے جیسے ”غیبت نعمانی“ غیبت شیخ طوسی اور ”کمال الدین وتمام النعمہ“ کیونکہ غیبت کے بعض اسرار کو سمجھنے کے لئے انکا مطالعہ نہایت مفید ہے۔

امید ہے کہ خدا وند عالم اپنے فضل و کرم سے حضرت ولی عصرعجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور کو نزدیک فرمائے اور ہماری آنکھوں کو انکے بے مثال جمال کے نور سے روشن کرے ، پوری دنیا میں ایک اسلامی حکومت قائم ہو اور دنیا کوجاہ طلب لوگوں کے ظلم و ستم اور متصادم سیاستوں کے نقصانات سے نجات عطا فرمائے ۔

بحق محمد و آلہ الطاہرین علیہم السلام 

منبع: کتاب نوید امن و امان

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

شش + 12 =

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More