غير مسلم مفکرين کي نظر ميں حضرت امام علي عليہ السلام کے فضائل

“‌اگر يہ بے مثال اور عظيم خطيب (علي عليہ السلام) آج بھي منبر کوفہ پر آکر خطبہ ديں تو مسجد کوفہ اپني تمام تر وسعت کے باوجود يورپ کے تمام رہبران او رعلماء سے کھچا کھچ بھرجائے گي- يہ رہبراور علماء اس لئے آئيں گے کہ وہ اپنے علم کي پياس اس در شہر علم کے بيکراں سمندر سے بجھا سکيں”-

حوالہ کتاب”‌داستان غدير”،نقل از کتاب”‌ماہونہج البلاغہ”،صفحہ3-

سليمان کتاني (ايک عيسائي لبناني دانشور)

“‌مہاجرين کي اوّلين شخصيات ميں سے علي عليہ ا لسلام سب سے زيادہ معروف تھے- انہوں نے بہت سي جنگوں اور معرکوں ميں فتح حاصل کرکے اپنے نام کا سکہ بٹھاديا تھا- ليکن ان کاميابيوں سے بھي قيمتي چيز يہ تھي کہ انہوں نے پيغمبر اسلام کے دل ميں ايک مقام بناليا تھا- وہ پيغمبر اسلام ہي کے تربيت يافتہ تھے- وہ اُن کے دوست بھي تھے- ايسے ساتھي بھي تھے جو کبھي جدا نہ ہوئے- وہ (حضرت علي عليہ السلام) پيغمبر اسلام کي بيٹي سيدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا کے ہمسر بھي تھے- پيغمبر اسلام کي عظيم بيٹي جو اپنے والد کو سب سے زيادہ عزيز تھي، وہ(علي عليہ السلام) حسن و حسين کے والد بزرگوار بھي تھے جن سے نسل پيغمبر چلي- وہ سب سے پہلے ايمان لانے والے تھے- وہ دين کے سب سے طاقتور محافظ ، شجاع ترين حامي اور مستحکم جنگجو تھے- وہ سب سے زيادہ عقلمند،حالات کي نزاکت کو سمجھنے والے رہبر، بے نظيرمقرر اور دين کا بہترين دفاع کرنے والے تھے-ان تمام حقيقتوں کو ديکھتے ہوئے پيغمبر اسلام خدا سے دعا کرتے ہيں:

‘پروردگار! ہرکوئي جو علي کو دوست رکھے، تو بھي اُسے دوست رکھ اور جو اُس سے دشمني رکھے، تو بھي اُس سے دشمني رکھ- علي مجھ سے ہے اور ميں علي سے ہوں- علي قرآن سے ہے اور قرآن علي سے ہے‘

حوالہ کتاب’امام علي ، مشعلي و د ژي‘، مصنف:سليمان کتاني، ترجمہ جلال الدين فارسي،

صفحہ34-

 

“‌جتنے بھي فضائل و خصائل علي عليہ السلام ميں اکٹھے ہو گئے تھے، وہ جب منظر عام پر آئے تو انسان کي عظمت بلند ہوئي اور يہ علي عليہ السلام ہي کي مرہون منت ہے——-“-

حوالہ

کتاب’امام علي ، مشعلي و ژري‘ مصنف:سليمان کتاني،ترجمہ جلال الدين فارسي،

صفحہ87-

—–

“‌حضرت علي ابن ابي طالب عليہ السلام نے جس وقت سے اسلام کو پايا، اسلام (کے اصولوں) پر ہي زندگي بسر کي اور تمام مشکلات و زحمات جو اس راہ ميں آئيں، اُن کو بخوشي قبول کيا- تمام مشکلات و مصائب کو ثابت قدمي اوردليري سے گلے لگايا———“-

حوالہ

کتاب’امام علي ، مشعلي و ژري‘، مصنف:سليمان کتاني، ترجمہ جلال الدين فارسي،

صفحہ26-

—–

“‌جس وقت علي عليہ السلام خلافت(ظاہري) پر پہنچے ،انہوں نے اپنا وظيفہ اور فرض سمجھا کہ دو محاذوں پر مقابلہ کيا جائے- پہلا محاذ لوگوں کو انساني بلندي و عظمت سے آگاہ کرنا تھا اور دوسرا فتوحات جنگي کو اسلامي اصولوں کے تحت استوار کرنا تھا- يہي نکات تھے جو سرداران عرب کو ناپسند تھے اور انہوں نے بغاوت کے علم اٹھالئے——–“-

حوالہ

کتاب”‌امام علي مشعلي و ژري”، مصنف:سليمان کتاني، ترجمہ جلال الدين فارسي،

صفحہ134-

—–

“‌کونسي ايسي چيز ہے جو نہج البلاغہ(حضرت علي عليہ السلام کے ارشادات و خطبات پر کتاب) ميں بيان کي گئي ہے اور وہ اُس چيز کي روح اصلي کي عکاسي نہ کرتي ہو- ايسا لگتا ہے جيسے آفتاب کا تمام نور سمٹ کر تن علي ابن ابي طالب عليہ السلام ميں سماگيا ہو-

کونسا ايسا کام ہے جو علي عليہ السلام نے اپني زندگي ميں انجام ديا ہو اور اُس کي تعبير(انجام) انتہائي اعليٰ نہ ہوئي ہو اور جس کي علت، اعليٰ اقدار انساني يا فطرت فرشتگان آسماني کے خلاف ہو——“-

حوالہ

کتاب”‌امام علي مشعلي و ژري”، مصنف:سليمان کتاني، ترجمہ جلال الدين فارسي،

صفحہ213-

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More