غدیر ھمارا پاک و پا کیزہ عقیدہ

0 0

خطبه غدیر سے حضرت علی علیه السلام کی امامت پر استدلال

”غدیر “یہ مقدس اورپاک و پا کیزہ نام ھما رے عقیدہ کا عنوان اورھما رے دین کی بنیاد ھے

غدیر خلقت کا ما حصل ،تمام ادیان الٰھی کا نچوڑ اور مکتب وحی کا خلا صہ ھے ۔

غدیر ھمارا عقیدہ ھے صرف ایک تا ریخی واقعہ نھیں ھے ۔

غدیر،نبوت کا ثمر اور رسالت کا میوہ ھے ۔

غدیر،قیامت تک مسلمانوں کے گامزن رہنے کے لئے راستے کو معین کر نے کا نام ھے ۔

غدیر ،کوئی بھلادینے والی یا پرا نی هو نے والی چیز نھیں ھے ۔

غدیر ،وہ پانی ھے جس سے گلستان توحید کے تمام درختوںاورغنچوں کواپنے رشد و نمو کےلئے سیراب هونے کی ضرورت ھے ۔

غدیرپل صراط ھے اورغدیر پر ایمان رکھ کر ھی اس صراط سے گذرا جا سکتا ھے ورنہ اس شمشیر کی ایسی تیز دھار ھے جس سے ھر منافق اور ملحد دو ٹکڑے هو جا ئے گا ۔

غدیر ،اسلام کی تاریخ کا سب سے حساس موڑھے جس نے ابتداء ھی میںدین خدا کو دشمنوں کی طرف تمام اندرونی اور بیرونی یقینی خطرات سے فکری اور معنوی اعتبار سے نجات دی ۔

غدیر، اسلام کے ماضی کا محا فظ اور مستقبل کا ضامن ھے ،جس کا منصوبہ بنانے والا خداوند عالم، اعلان کر نے والے رسول خدا (ص) اورجامہٴ عمل بنانے والے بارہ امام علیھم السلام ھیں ۔

غدیر پوری انسانیت کی عید ھے ۔اس د ن انسانی تخلیق کا آخری مقصد بیان هو ااور انسانیت کا مقصد معین هوا ۔جنھوں نے اس دن کو برباد کیا انھوں نے حق انسانیت کو پا ئمال کر دیا اور ار بوں انسانوں کے حق کو نظرانداز کیا ھے ۔

غدیر ھما ری روح اور ھما ری سرشت ھے ۔ھم غدیر کے ذریعہ ھی اس دنیا میں آئے ھیں ،اور ھم اسی کے ساتھ اپنے پر وردگار سے ملاقات کریں گے ۔

غدیرفکر کا مقام ھے اس لئے کہ اس کا تعلق انسان کی حقیقت سے ھے ،اور انسان کے وجود میں مختلف جہتوں سے مو ٴثر ھے اور دنیا و آخرت میں اس کی ذمہ داریوں کو معین کر تا ھے ۔

چودہ سو سال سے شیعہ غدیر کے بابرکت نتھرے پانی کو ولایت کے درختوں کی جڑوں پر چھڑ کتے ھیں ،اور اس خشک بیابان سے ، عقائد سے ھرے بھرے پودوں اور محبت کے خوبصورت پھولوں کو پروان چڑھا تے ھیں حضرت علی علیہ السلام سے کینہ و بغض و حسد رکھنے والوں سے برائت اور ان پر لعنت کرکے ان کی بنیادوں کو اکھاڑ پھینکتے ھیں اور رسول اسلام(ص) کی عطا کی هو ئی محکم و مضبوط حجت کے ذریعہ غدیر کی سرحدوں کو مخالفین غدیر کےلئے بند کرکے ان سے ھمت دکھانے کی طاقت و قوت چھین لی ھے ۔غدیر کے  شھیدوں نے چودہ سو سال کے عرصہ میں غدیر کے نام پر شھید هونے والے ،غدیرکے سب سے پھلے شھداء حضرت فا طمہ زھرا سلام اللہ علیھا اور حضرت محسن علیہ السلام کے نقش قدم پر چلنے والے اور کربلا میںاس کے با عظمت شھدا کے پیروکار ھیں ۔عاشورا مولود غدیر اور اس کا محا فظ ھے اور ٹھیک سقیفہ کے مد مقابل مو رچہ بنائے هوئے ھے ۔

غدیر میں پیغمبر اکرم(ص) کی چشم مبارک بہت دور کا نظارہ کر رھی تھیں جو کشتیٴ اسلام کا بیڑا پار لگا ئے اور اس کے آخری ھدف کو آشکار کرے ،مستقبل کا نظارہ بھی کر رھی تھیں بھیڑیا دھسان عقیدہ رکھنے والے اسلام کو اندر سے کھوکھلا کرنے کی کوشش میں لگے ھیں ۔

اسی سبب کے مد نظر پیغمبر اسلام(ص) نے حضرت علی علیہ السلام کے ھاتھ کو اپنے دست مبارک میں لیکر بلند کیا اور تاریخ کی تمام نسلوں کو دکھلایا اور ان کا اپنے جا نشین کے عنوان سے تعا رف کرایا ۔

ھمارے پاس غدیر کی میراث کے وارث ھیں اور ھمارا وجود اسی کی عظمت کامرهون منت ھے آج غدیر دشمنوں کی آنکھوں کو خیرہ کرنے والا وہ آفتاب ھے جو پوری دنیا کو ضوفشاں کررھا ھے اور اس کی طاقتور کشتی کو وسیع و عریض گیتی میں کھے رھا ھے اور چودہ سو سال سے سقیفہ کے فتنہ میں غرق هو نے والوں کو گرمی پہنچا رھا ھے اور اس کوکفر و گمراھی کے گردابوں سے بچاکر اس کی روح کو نئی زندگی عطا کررھا ھے ۔

اے صاحب غدیر

غدیر والے آپ کو اوج غدیریت سے سلام عرض کرتے ھیں ،تعظیم کرتے ھیں ،آپ کے دست مبارک، پیر اورآپ کی خاک پا کو چو متے ھیں آپ (ع)  کے بلند و بالا مقام کے با لمقابل خود کو بہت چھو ٹا سمجھتے ھیں !۔۔۔اگر آپ(ع)  ان کی اس خا کساری کو قبول فر ما ئیں ۔!؟

انتظار سے لبریز آنسو کے قطرہ کا ۔۔۔سلام !

اس کتاب کو تحریر کرنے کی وجہ

غدیر سر نوشت ساز واقعات کا مجموعہ ھے کہ ’خطبہٴ غدیر “ان کی سب سے آشکار اور سب سے زندہ سند ھے ۔یہ خطبہ اسلام کا بنیادی دستور اور اسلام کی ابدی عزت ھے جس کا خلاصہ جملہ ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ“”جس کا میں مو لا هوں اس کے علی مو لا ھیں“اور اس کا نتیجہ ”امیر المو منین علیہ السلام کی   ولا یت “ھے ۔

غدیر کا ایک چھوٹے جملہ یا ایک تفصیلی تقریر میں خلا صہ نھیں کیا جا سکتا ھے اس خطبہ کے ذیل میںبہت سے مطالب اور واقعات ھیں جن کو واقعہٴ غدیر کے مجمو عہ کے عنوان سے یاد کیا جا سکتا ھے اور اس کی مکمل نقشہ کشی کی جا سکتی ھے ۔

غدیر خم کے خطبہ کے ذیل میں جو کچھ رونما هوااس سے اس عظیم واقعہ میں پوشیدہ حقائق کو درک کرنے یھاں تک کہ خطبہ ٴ غدیر کے بعض جملوں اور عبارتوں کو سمجھنے کے اسباب فر ا ھم کرتا ھے ۔

اگر ھم کو غدیر کے واقعات کا الگ الگ علم هوجائے لیکن ھم پر ان کا ایک دو سرے سے رابطہ واضح نہ هو تو ھم پر ایسی حقیقتیں مخفی رہ جا ئیں گی جن کا ایک مسلمان کے عقیدے سے براہ راست تعلق ھے اور ان کے مد نظر اکثر مسلمانوں کے حضرت امیرالمو منین علیہ السلام کی ولایت و امامت سے منحرف هو نے کے علل واسباب سے پردہ اٹھ جا ئےگا ۔

مزید  سانحہ نلتر پر علامہ ساجد علی نقوی کا اظہار افسوس

تا ریخ کے ان فقروں کی جمع آوری ،ان کی تنظیم اور ان کے رابطہ کو درک کرنا ایک مسلمان کو یہ سمجھا تا ھے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے ان مخصوص حالات میں (مسلمانوں کوائمہ معصومین علیھم السلام کے راستہ پر متحد رہنے کے لئے یہ مفصل خطبہ ایک بڑے شان و شوکت والے پروگرام میں ارشاد فر مایا اور     قیا مت تک کےلئے اپنے جا نشینوں کاباقاعدہ تعارف کرایا ۔ان تمام باتوں کے با وجود مسلمان ایک دوسرے کیوںمتفرق ھیں اور پیغمبر اکرم(ص) کے معین و مشخص فر ما ئے هو ئے جانشینوں کے ایک دل و زبان سے پیرو کار کیوں نھیں ھیں ؟

اس مقام پر پیغمبر اکرم(ص) مسلمانوں سے سوال فر ما سکتے ھیں ۔ھر مسلمان کاضمیراپنے آپ کواس خطبہ کے بالمقابل دیکھتا ھے تو وہ واقعہٴ غدیر کا دقت سے مطالعہ کرنے پرمجبور هوجاتاھے۔

اسی سبب کے مد نظر ھم نے یہ کتاب تا لیف کی ھے اور اسی سبب نے ھمیں موضوع ”غدیر “کے تمام جزئیات کو جمع کرنے اور موجودہ کتاب کی صورت میں قا رئین کرام کی خدمت میں پیش کرنے کا شوق دلایا ھے ۔

کتاب کے اغراض و مقاصد

اب جبکہ حدیث غدیر کی سند اور متن کے سلسلہ میں علامہ مجلسی ،علا مہ میر حا مد حسین ہندی، علا مہ امینی اور دو سرے علماء اعلام کے ذریعہ علمی بحثیں با لکل مکمل اور صاف طور پر بیان هو چکی ھیں تو ان حضرات کی کا وشوں اور زحمتوں کو مد نظررکھتے هوئے خطبہٴ غدیر پر مفصل نظر ڈالنا ضروری ھے ،او ر یہ خطبہ جس کو      خا تم الانبیاء نے سب سے اھم اور آخری پیغام کی شکل میں ایک دائمی منشور کے عنوان سے مسلمانوں کےلئے بیان فرمایا ھے لہٰذا اس کامخصوص حالات کے ساتھ جائزہ لینا ضروری ھے ۔

اس اھم مسئلہ کےلئے ھمیں سب سے پھلے اُس وقت کے اسلامی معا شرہ پر حاکم فضا کا مطالعہ اور واقعہ ٴ غدیر کی اھمیت کی مختلف جھات کا جا ئزہ لیناهوگا ھم نے کتاب کا پھلا حصہ اسی مطلب سے مخصوص کیا ھے ۔

اس کے بعد واقعہٴ غدیر کے رونما هو نے کے تمام جزئیات کو مد نظر رکھیںگے جن کا آغاز پیغمبر اکرم(ص) کے مدینہ سے سفر کرنے سے هو تا ھے یھاں تک کہ جو کچھ پیغمبر اکرم(ص) نے مکہ مکرمہ اور مراسم حج انجام دیتے وقت غدیر کے سلسلہ میں بیان فر مایا ھے ۔لوگوں کے غدیر میں حاضر هو نے کی دعوت ، حاجیوں کا ایک ساتھ نکلنا اور ان کا غدیر کے بیابان میں حاضر هونا ،غدیر خم کے ظاھری اور رو حی اسباب کا  فرا ھم کرنا ،خطابت کا طریقہ ،خطیب ،مخا طبین اور جو کچھ اس مقدس مقام پر تین دن کے عرصہ میںوقوع پذیر هوا جس میں بیعت ،مبارک بادی ،جبرئیل کا ظاھر هونا اور معجزہ الٰھی شامل ھے یہ سب کتاب کے دوسرے حصہ میں بیان کیا گیا ھے ۔

یہ بات بھی جان لینا ضروری ھے کہ پیغمبر اکرم(ص) کے اس عظیم اقدام کے وقت منافقین اور دشمنان اسلام منصوبے بنانے اور خیانت کر نے میں مشغول تھے اور اسلام کے خلاف اپنے پروگرام تشکیل دے رھے تھے، اور آنحضرت کو قتل کرنے کا منصوبہ بنارھے تھے ۔پیغمبر اکرم(ص) ان کے ان تمام منصوبوں سے آگاہ تھے اور معاشرہ کے اجتماعی حالات کو مد نظر رکھتے هوئے ان کے تمام منصوبوںپر پانی پھیر دیتے تھے تیسرے حصہ میں اسی موضوع کو بیان کیا گیا ھے ۔

اس کے بعد چوتھے حصہ میں اس بات کی نوبت آگئی ھے کہ خطبہٴ غدیر کے مطالب کا مو ضوعی اعتبار سے مطالعہ کیا جا ئے تا کہ یہ معلوم هو سکے کہ اسلام کا یہ دائمی منشور کن پیغامات کا حامل ھے اس طرح خطبہ کے عربی متن اور اردو ترجمہ کا دقت سے مطالعہ کیا جائے گا ۔

حدیث غدیر کی سند اور متن کے علمی اور استدلالی ابحاث کے سلسلہ میںکتاب کے پانچویں حصہ میں اشارہ کیا گیا ھے ۔

چھٹے حصہ میں خطبہٴ غدیر کے عربی متن کا نو نسخوں سے مقابلہ کرکے منظم و مرتب صورت اور اعراب گذاری کے ساتھ قارئین کرام کی خدمت میں پیش کیا گیا ھے اور حاشیہ میں نسخوں کے اختلاف اور ضروری توضیحات درج کی گئی ھیں ۔

ساتویں حصہ میں خطبہ کا مکمل اردو ترجمہ اس کے عربی متن سے مطابقت کے ساتھ نقل کیا گیا ھے

خطبہ ٴ  غدیر سے نتائج اخذ کرنا اور اس کی تفسیر آٹھویں حصہ میں تحریر کی گئی ھے ۔

نویں حصہ میں ”عید اور جشن غدیر “،اھمیت غدیر ،اورعید غدیر کس طرح منائی جا ئے کے متعلق مطالب تحریر کئے گئے ھیں تا کہ ھم اسلام کے اس بزرگ شعار کو زندہ کرکے اپنے ائمہ سے تجدید بیعت کرسکیں۔

دسویں حصہ میں تاریخچہٴ غدیر اور چودہ صدیوں میں اس کے تاریخ اسلام پر هو نے والے اثرات سے متعلق بحث کی گئی ھے جو اس بات کا ثبوت ھے کہ پیغمبر اکرم(ص) کے اس حساس موڑ پر اقدامات کتنے دقیق تھے جو اتنے طولانی زمانہ تک مسلمانوں کےلئے موٴثر اور کارساز واقع هوئے ھیں ۔

اس تالیف میں انھیں اغراض و مقاصد کو مد نظر رکھا گیا ھے انشاء اللہ ان سب کو اس کتاب میں الگ الگ عنوان سے بیان کیا جائے گا ۔جو نتائج آپ حضرات کی خدمت میں پیش کئے جا ئیں گے وہ سب اھل تشیع کے بڑے بڑے علماء کی علمی کاوشوں کا نتیجہ ھیں جنھوں نے ھمارے لئے ان اسناد و مدارک کی حفاظت کی ھے اور ان کے حدیثی اور تا ریخی متون کا جائزہ لیا گیاھے ۔

مزید  قرآن و حدیث اہل سنت کی نظر میں

اس بات کا بیان کر دینا بھی لازم و ضروری ھے کہ ھم نے جو کچھ بھی واقعہ ٴ  غدیر کو بیان کرنے میں محنت و کوشش کی ھے ان میں فقط مدارک کے اسناد اور متون کی عبارتوں کے جزئیات پر بہت زیادہ غوروفکرکی ھے اور اندازہ ،خیالی اور گڑھی هو ئی داستانوں کو نقل کرنے سے گریز کیا گیا ھے ۔

کتاب کے منابع و مصادر

غدیر کے سلسلہ میں شیعہ اور سنّی منابع و مصادر کی کتابوں کی دقیق اور جا مع فھرست کتاب کے آخر میں ھر مورد کے سلسلہ میں دقیق حوالہ کے ساتھ درج کی گئی ھے ۔

علاّمہ شیخ حر عاملی ،علامہ مجلسی،علامہ بحرانی اور علامہ امینی رضوان اللہ علیھم نے چا ر کتابوں       ” اثبات الھدات جلد/۲،بحارالانوار جلد /۳۷،عوالم العلوم جلد/۱۵/۳اور الغدیر جلد /۱میں غدیر سے متعلق بطور کامل اور جامع مطالب بیان کئے ھیںان بزرگوں کی زحمتوں کے مد نظر آسانی سے متعلقہ اسناد و مطالب تک رسائی کی جا سکتی ھے۔

اس کتاب کی تالیف کے بعد پچاس سے زیادہ اھم کتابوں ”جو مستقل طور پر غدیر کے سلسلہ میں تالیف کی گئی ھیں“ کا مطالعہ کیا گیا اور ان سے استفادہ کیا گیا ھے ۔

یہ کتاب پھلی مرتبہ غدیر کے چودہ سو پانچویں  ۱۴۱۵  ھ مطابق ۱۳۷۴ ھ ش سالگرہ کے موقع پر اور  دوسری ،تیسری اور چو تھی مرتبہ  ۱۴۱۷ ھ ،۱۴۱۸ ھ ،اور ۱۴۲۰   ھ میں طبع هوئی ھے اب یہ چوتھا ایڈیشن مندرجہ ذیل نکات کے اضافہ کے ساتھ پیش کیا جا رھا ھے :

۱۔نو حصوں سے اخذ شدہ نتائج ۔

۲۔خطبہ کے متن کا دوسرے اور دو نسخوں سے مقابلہ ۔

دسویں حصہ ”غدیر قیامت تک کھلی رہنے والی فائل“کا اضافہ ۔

موجودہ کتاب اس دن کے وعدہ کی وفا کےلئے لکھی گئی ھے جس دن پیغمبر اکرم (ص) نے عھد لیاتھا اور دریائے بیکران غدیر کے سلسلہ میں دقیق تحقیق اور مطالعہ کےلئے پیش کی جا رھی ھے

اس دن کے انتظار میں جس دن ھم صاحب غدیر حضرت بقیة اللہ الاعظم ارواحنا فداہ وعجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے ظهور کے ذریعہ ”مَنْ کُنْتُ مَوْ لَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ “کو عملی طور پر محقق هو نے کا مشاھدہ کریں،ان کے وجود مبارک کے نزدیک ”اَللَّھُمَّ وَالِ مَنْ و َالَاہُ “ کے معنی کا تہہ دل سے احساس کریںاور ان کی مدد سے ”اَللَّھُمَّ انْصُرْمَنْ نَصَرَہُ“کے اوج کا اظھار کریں اور غدیر کو جس طرح غدیر خم میں بیان کیا گیا اسی طرح مانیں اس سے لذت حاصل کریں اور لطف اٹھائیں ۔

میں اس شخص سے جنگ کی حالت میں ھوں جو تم سے جنگ کرے اور اس سے صلح میں ھوں، جو تمھارے ساتھ صلح وصفائی سے رھے۔

نبی سے جنگ کفر کا باعث ھے اب اگر کوئی خود پیغمبر سے حالت جنگ میں ھو کیا  یہ مناسب ھے کہ اس کو خلیفہٴ رسول مان لیا جائے ؟!

۵۔اھل سنت نے اس حدیث کی جو تاویل کی ھے اس کے مطابق بعض زمانوںمیں وہ بغیر رھبر اور رھنما کے رہ جاتے ھیں مثال کے طور پر سیوطی کی توجیہ کی بنا پر، حکومت عبدالله بن زبیر سے، عمر بن عبدالعزیز کی خلافت تک ۳۵ سال کا عرصہ گذرا ھے۔ اس مدت میں امت مسلمہ بغیر کسی رھبر اور امام کے رھی اور عمر بن عبدالعزیز کی خلافت سے لیکر خلافت مہتدی تک چالیس سال کا عرصہ خالی گذرا اور اس مدت میں امت بغیر خلیفہ کے رھی، اسی طرح الظاھر کی خلافت کے بعد خلافت امام مھدی(عج) تک جو دنیا کے اختتام پر قائم ھوگی لوگ بغیر ھادی اور رھنما کے رھیں گے اور یہ تب ھے جبکہ رسول خدا فرماچکے ھیں:

من مات ولیس فی عنقہ بیعة مات میتة جاھلیة[16]

جو شخص اس حالت میں مرجائے کہ اس نے کسی امام کی بیعت نہ کی ھو وہ شخص جاھلیت کی موت مرتاھے۔

اسی طرح فرمایا:

من مات ولم یعرف امام زمانہ مات میتة جاھلیة.[17]

جو شخص مرجائے اور اس نے اپنے زمانے کے امام کو نہ پہچانا ھو وہ جاھلیت کی موت مرتاھے۔

  خاص کر اس بنا پر کہ قیامت تک،خلافت ھروقت اور زمانے میں قریش سے مخصوص ھے، رسول خدا سے منقول ھے کہ آپ نے فرمایا:

لایزال ہذا الامر فی قریش مابقی من الناس اثنان؛[18]

امر خلافت ھمیشہ قریش سے مخصوص ھے اس وقت تک کہ دنیا میں دو شخض بھی باقی رھیں۔

اسی لئے اھل سنت کی ایک بڑی پریشانی یہ ھے کہ مذکورہ حدیث کے پیش نظران کے لئے ھر زمانے میں ایک قریشی خلیفہ موجود رھے اور اگر کوئی مرجائے اور اس قریشی خلیفہ کی بیعت اس کی گردن پر نہ ھو تو اس کی موت جاھلیت کی موت ھوگی اس کے باوجود صدیاں گذرگئیں اور اھل سنت ایسے خلیفہ سے محروم ھیں۔ لیکن شیعوں کاھر زمانے میں ایک قرشی خلیفہ رھا ھے اور آئندہ بھی رھے گا چونکہ شیعوں کے عقیدہ کے مطابق ھمیشہ ایک امام وہ بھی اھل بیت میں سے اس دنیا میں باقی ھے۔

۶۔بارہ خلیفہ، رسول خدا کے جانشین اور پوری امت مسلمہ کے خلیفہ ھیں اس لئے ان کی خلافت کا زمانہ کسی خاص زمانے سے مخصوص نھیں ھے بلکہ جب تک امت مسلمہ ھے تب تک کوئی نہ کوئی ان میں سے باقی ھے تا کہ امت مسلمہ کی رھنمائی کرسکے۔روایت کی بعض نقل میں اس طرح بیان ھوا ھے :

لایزال الدین قائما حتیٰ تقوم الساعة او یکون علیکم اثنیٰ عشر خلیفة۔۔۔[19]

 یکون لہٰذہ الامة اثنا عشر خلیفة۔[20]

یکون لہٰذہ الامة اثنا عشر قیماً۔[21]

مذکورہ مطالب سے یہ بات واضح ھوجاتی ھے کہ بارہ خلفاء کی خلافت کا زمانہ مخصوص نھیں ھے۔ بلکہ یہ پوری امت کے خلیفہ ھیں اسی طرح ان احادیث میں استعمال ھونے والالفظ ” امت “ پوری امت مسلمہ کے لئے ھے چاھے وہ قیامت تک کی امت ھو،اس لئے اس کو پھلی صدی کے مسلمانوں سے مخصوص نھیں کیا جاسکتا، اس لئے بارہ خلفاء کے زمانے کو پھلی صدی میں محدود کردینا بے بنیاد بات ھے۔

مزید  جھوٹ ذاتی و معاشرہ کا وقار ختم کر دیتا ہے!

۷۔اس حدیث کی بعض روایت کے مطابق اسلام کی عزت ان بارہ خلفاء کے وجود پر منحصر ھے:

لایزال الاسلام عزیزاً الی اثنی عشر خلیفة۔۔۔۔[22]

بعض دوسری روایات میں دین کا قیام اور اس کی پائداری بارہ خلفاء کے وجود پر منحصر ھے:

لایزال الاسلام قائماً حتی یکون اثنا عشر خلیفة۔[23]

اب اگر اھل سنت کے علماء یہ کھیں جیسا کہ وہ اس حدیث کی تاویل میں کہتے ھیںکہ نبی کے بارہ خلفاء ۱۳۲ھتک یا اس کے کچھ بعد تک رھے اس کے بعد ان کی خلافت کا زمانہ تمام ھوگیا ،اس کا جواب یہ ھے کہ اس عقیدے سے لازم یہ آتا ھے کہ ان کی خلافت کے بعددین محمد(ص) کا قوام و دوام اور عزت ختم ھوجائے!

 لہٰذا ماننا پڑے گا کہ رسول خدا کے بارہ خلفاء کا زمانہ ابھی پورا نھیں ھوا بلکہ ابھی جاری ھے اور یھی وہ چیز ھے جس کے شیعہ معتقد ھیں۔

۸۔بعض احادیث رسول میں واضح طور پر آیا ھے کہ امام مھدی(عج) بھی خلفاء رسول میں سے ھیں اور ان کی ظاھری حکومت کا زمانہ آخری زمانہ ھے اور بعض روایات میں یہ بھی آیا ھے کہ وہ امت مسلمہ کے آخری خلیفہ اور دین محمد(ص) کی آخری کڑی ھیں یہ اس بات کا واضح ثبوت ھے کہ خلفاء کی خلافت کا زمانہ ابھی پورا نھیں ھوا۔ اس حدیث کے چند نمونے یھاں ذکر کئے جارھے ھیں:

لولم یبق من الدھر الایوم لبعث الله رجلاً من اھل بیتی یملاٴھا عدلا کما ملئت جوراً۔[24]

یکون فی آخر امتی خلیفة یحثی المال حثیا لایعدہ عدداً۔[25]

ومن خلفائکم خلیفة یحثوا المال حثیاً لایعدہ عدداً۔[26]

ویکون فی آخر الزمان خلیفة یقسم المال ولایعدّہ۔[27]

والمھدي منا یختم الدین بہ کما فتح بنا

با المھدي منا بنا یختم الله کمابنا فتح۔۔۔۔۔[28]

جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا حدیث ائمہ اثنا عشر شیعوں کے بارہ اماموں کے علاوہ کسی پر مطابقت نھیں کرتی اب اگربارہ خلفاء کے سلسلے میں کوئی شخص علماء شیعہ کے نظریہ کو نھیںمانتا، تو ان احادیث اور بہت سی دوسری احادیث کا کوئی قابل قبول حل نھیں نکال سکتا۔ اسی وجہ سے ھمارا عقیدہ ھے کہ روز پنجشنبہ رسولخدا جو چیز لکھنا چاہتے تھے وہ وھی حقیقت ھے جو ”حدیث ائمہ اثنا عشر“ میں آئی ھے۔

ان احادیث کے علاوہ دوسری بہت سی احادیث موجود ھیںھم یھاں ان میں سے چند احادیث کے ذکر پر اکتفاء کرتے ھیں:

(الف)ترمذی نے عمران بن حصین سے اور اس نے رسول خدا سے یہ روایت نقل کی ھے:

۔۔۔۔ان علیاً منی وانا منہ، وھو ولی کل مؤمن بعدی۔[29]

(ب)زید ابن ارقم نے رسول خدا سے یہ حدیث نقل کی ھے:

من احبّ ان یحیاحیاتی و یموت موتی ویسکن جنّة الخلد الذی وعدنی ربّی-عزوجلّ- غرَس قضبانھا بیدہ، فلیتولّ  علی بن ابی طالب۔ فانہ لن یخرجکم من ھدی ولن یدخلکم فی ضلالة۔[30]

(ج) ام سلمہ نے رسولخدا سے نقل کیا ھے کہ آپ نے فرمایا:

علی مع الحق والحق مع علی، ولن یفترقا حتیٰ یردا علیَ الحوض یوم القیامة۔[31]

(د)ام سلمہ نے فرمایا کہ میں نے رسول خدا سے سنا:

علی (ع)مع القرآن والقرآن مع علی (ع)لایفترقان حتیٰ یردا علیّ الحوض۔[32]

لہٰذا ھمارا عقیدہ ھے کہ پیغمبر اکرم چاہتے تھے کہ اس نوشتے میں اس بات کو تحریر فرمائیں جو انھوں نے متعدد بار ، مختلف مقامات پر، دوران رسالت کے تقریباً بیس سال کے عرصہ میں، ولایت و خلافت علی ابن ابی طالب کو زبانی طور پر بیان فرمایا تھا اور آپ چاہتے تھے کہ اس کو تحریری شکل میں لے آئیں تاکہ کوئی چون وچرا کی گنجائش نہ رہ جائے اور اس کے ذریعہ اختلاف اور گمراھی کے اسباب کا خاتمہ ھوجائے۔

 ظاھر ھے یہ بات عمر جیسے لوگوں کے دل میں امت مسلمہ پر حکومت کی خواھش لئے ھوئے تھے بے چینی کا باعث تھی اور جس چیز نے انھیں رسول خدا کے سامنے جلدبازی اور ناسمجھی پر اکسایاتھا، وہ خلافت علی ابن ابی طالب کے علاوہ اور کوئی چیز نھیں ھے ۔

[1] صحیح مسلم، کتاب الامارة، باب۱۔

[2] صحیح بخاری، کتاب الاحکام، باب۵۱۔

[3] سنن ترمذی، کتاب الفتن، باب۴۶۔

[4] سنن ابوداؤد، کتاب المھدی، حدیث۱و۲۔

[5] احمد ابن حنبل، مسند،ج۵، ص۹۲۔

[6] محمد بن علی الخزاز قمی، کفایة الاثر، ص۴۹۔

[7] نجم(۵۳) آیات۳و۴۔

[8] عون المعبود، شرح سنن ابی داؤد، ج۱۱، ص۳۶۳۔ 

[9] فتح الباری، شرح صحیح بخاری، ج۱۳، ص۲۱۴۔

[10] تاریخ الخلفاء ،ص۱۰۔۱۲۔

[11] ماوردی، احکام السلطانیہ، ص۲۰؛ تفتازانی، شرح المقاصد، ج۵، ص۲۴۳۔

[12]سیوطی، تاریخ الخلفاء، ص۲۷۷و۲۷۸۔

[13] شوکانی فتح القدیر، ج۳، ص۲۴۰؛ مسند احمد، ج۳، ص۵؛ مجمع الزوائد، ج۱، ص۳۰۸ وج۵، ص۴۳۵؛ سیوطی، الدرّ المنثور، ج۵، ص۳۰۹؛ تفسیر قرطبی، ج۱۰،ص۲۸۶؛ ابن حجر تطھیر الجنان، ص۶۳؛ مستدرک الصحیحین،ج۴، ص۴۸۱؛وغیرہ

[14] الحاوی للفتاویٰ، ج۲، ص۲۴۷۔

[15] مستدرک الصحیحین، ج۳، ص۱۴۹؛ احمد ابن حنبل، مسند، ج۲، ص۴۲۲؛ طبرانی، معجم کبیر، ج۳، ص۳۱؛ تہذیب تاریخ دمشق، ج۴، ص۱۳۹؛ تاریخ بغداد، ج۷، ص۱۳۷؛ الدرّ المنثور، ج۵، ص۱۹۹۔

[16] صحیح مسلم ، کتاب امارہ، حدیث۵۸۔

[17] تفتازانی، شرح المقاصد، ج۵، ص۲۳۰۔

[18] صحیح مسلم، کتاب امارہ، باب۱؛ صحیح بخاری، کتاب احکام، باب۲۔ 

[19] صحیح مسلم، کتاب امارہ، باب۱۔

[20] مسند احمد، ج۵، ص۱۰۶؛ کنز العمال، ج۱۲، ص۳۳۔

[21] گذشتہ حوالہ

[22] صحیح مسلم، کتاب امارہ، باب۱؛ مسند احمد، ج۵، ص۹۰،۱۰۰و۱۰۶؛ طبرانی، معجم کبیر، ج۲، ص۲۱۴۔

[23] صحیح مسلم، کتاب امارہ، باب۱؛ سنن ابی داؤد، کتاب المھدی؛ دلائل النبوہ، ج۱، ص۳۲۴۔

[24] سنن ابی داؤد، ج۴، کتاب المھدی؛ الحاوی للفتاویٰ، ج۲، ص۲۱۵۔

[25] صحیح مسلم، کتاب الفتن، باب۱۸، حدیث۶۷۔۶۹۔

[26] گذشتہ حوالہ 

[27] گذشتہ حوالہ 

[28] عجلونی، کشف الخفاء، ج۲، ص۳۸۰؛ الصواعق المحرقہ، ص۱۶۳؛ سیوطی، الحاوی للفتاویٰ جلد۲ ص۲۱۔

[29] سنن ترمذی، ج۵، ص۲۹۶؛ سنن ابن ماجہ، حدیث۱۱۹؛ مسند احمد، ج۴، ص۱۶۴و۱۶۵؛ طبرانی، معجم کبیر، ج۴، ص۱۹و ۲۰؛

[30] ھیثمی، مجمع الزوائد، ج۹، ص۱۳۷؛ طبرانی، معجم کبیر، ج۵، ص۱۹۴؛ حلیة الاولیاء، ج۴، ص۳۴۹، ابونعیم۔

[31] خطیب بغدادی، تارخ بغداد، ج۱۴، ص۳۲۱؛ مجمع الزوائد، ج۷، ص۲۳۵۔

[32] طبرانی، معجم اوسط، ج۵، ص۴۵۵؛ مجمع الزوائد، ج۷، ص۲۳۵۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.