غدیر کے سائے میں امامت کا اثبات

0 2

 

غدیر کے دن کی عظیم تبدیلیوں اور تحوّلات کی روشنی میں یہ معلوم ہوا کہ: 

۱ ۔ غدیر کے دن ؛حضرت علی ۔ کی امامت و ولایت کے مکرّر اعلان کے بعد سارے مسلمانوں کی امیرُالمؤمنین ۔ کے ہاتھوں پر بیعت نے حقیقت کا روپ دھارا۔

۲۔اس وسیع بیعت کا آغاز حکم خداوندی ، نزول فرشتۂ وحی اور خود رسول خدا [ص] کے بیعت کرنے سے ہوا ؛اوریہ سلسلہ اختتام شب تک جاری رہا ۔

۳۔ اگر لوگوں کی بیعت عمومی نہ ہوتی اور صرف ( اعلان ولایت ) پہ اکتفا کیا جاتا ( جیسا کہ اس سے پہلے آغاز بعثت سے حجّۃ الوداع تک بارہا اس حقیقت کو بیان کیا گیا اور منافقوں نے کسی قسم کے خطرے کا احساس نہیں کیا اور نہ ہی کوئی خطرناک سازش کی)تو موقع کی تلاش میں رہنے والے منافقین خطرے کا احساس نہ کرتے اور خطرنا ک سازشوں کے جال نہ بُنتے کیونکہ امام ۔ کی امامت کے اجراء کی پشت پناہ لوگوں کی آراء اور انکی عمومی بیعت ہوتی ہے ۔

لیکن غدیر کے دن انتہائی تعجب اور بے یقینی کی کیفیت کے ساتھ انہوں نے دیکھا کہ:

(الف)سب سے پہلے رسول خدا [ص] نے حضرت علی ۔ کی ولایت کا اعلان کیا اور ارشاد فرمایا :’’ثُمَّ مِنْ بَعْدیْ عَلِیٌّ وَلِیُّکُمْ وَ إِمٰامُکُمْ بِأَمْرِ اﷲِ رَبِّکُمْ ثُمَّ الْإِمٰامَۃُ فیْ ذُرِّیَتیْ مِنْ وُلْدِہ إِلیٰ یَوْمٍ تَلْقُوْنَ اﷲَ وَ رَسُوْلَہ‘‘اب میرے بعد تمہارے امام علی ۔ ہیں وہ امام جو خدا کے حکم سے معیّن ہوا ہے ا ور اسکے بعد امامت ؛میرے خاندان میں علی ۔ کی اولاد کے ذریعہ تا قیامت جاری رہے گی اس دن تک کہ جس دن تم لوگ خدا اور اسکے پیغمبر [ص]سے ملاقات کرو گے۔ 

(ب)پھر سلسلۂ امامت کی دوسری گیارہ کڑیوں یعنی خاندانِ رسالت اور اولادِ علی ۔ کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا:’’ مَعٰاشِرَ النّٰاسِ؛ إِنَّہ اٰخِرُ مَقٰامٍ أَقُوْمُہُ فیْ ھٰذَا الْمَشْھَدِ؛ فَاسْمَعُوْا وَ أَطٖیْعُوْا وَ أنْقٰادُوْا لِأَمْرِاﷲِ رَبِّکُمْ؛ فَإِنَّ اﷲَ عَزَّ وجَلَّ ھُوَ رَبُّکُمْ وَ وَلِیُّکُمْ وَ إِلٰھُکُمْ؛ ثُمَّ مِنْ دُ وْنِہ رَسُوْلُہ مُحَمَّد وَلِیُّکُمْ ؛القٰا ءِمُ الْمُخٰاطِبُ لَکُمْ ؛ ثُمَّ مِنْ بَعْدیْ عَلِیٌّ وَلِیُّکُمْ وَ إِمٰامُکُمْ بِأَمْرِ اﷲِ رَبِّکُمْ ؛ ثُمَّ الْإِمٰامَۃُ فیْ ذُرِّیَتی مِنْ وُلْدِہِ إِلی یَوْمِ الْقِیٰامَۃِ ؛یَوْمَ تَلْقُوْنَ اﷲَ وَ رَسُوْلَہ.‘‘

اے لوگو ! یہ آخری مقام ہے جہاں میں تمہارے درمیان کھڑے ہو کر بات کر رہا ہوں: تو میری بات سنو ؛ فرمانبرداری کرو اور اپنے پروردگار کے سامنے سر تسلیم خم کرو حق یہ ہے کہ خدا وندِ بزرگ وبرتر تمہارا پروردگار ، تمہاراسرپرست اور تمہارا معبود ہے ا س کے علاوہ ا س کا رسول محمَّد [ص] جو کھڑاتم سے خطاب کر رہا ہے تمہارا سرپرست ہے اور پھرمیرے بعد علی ۔ خدا کے حکم سے تمہارے سرپرست اور امام ہیں اور ا س کے بعد امامت ؛ میری ذرّیت میں علی ۔ کی اولاد سے تا قیامت جاری رہے گی اس دن تک کہ جس دن تم لوگ خدا اور اسکے رسول سے ملاقات کروگے ۔

(ج) اسکے بعد پیغمبر اکرم [ص] نے قیامت تک کے لئے اسلامی حکومت اور اما مت کی نشاندہی کی۔ ( د ) آخری زمانے کے امام ؛امام مہدی (عجّلَ اﷲُ تَعٰالیٰ فَرَجَہُ الشَّرٖیْف) کی حکومت اور امامت کو بیان کیا ۔

(ھ) امامت کے ہر مدّعی اور خاندان رسالت کے علاوہ کسی اور خلافت کے دعوے دار غاصب اور باطل کی پہچان کروائی گئی ( مَلْعُوْنٌ مَلْعُوْنٌ،مَغضُوْبٌ مَغْضُوْبٌ،مَنْ رَدَّ عَلَیَّ قَوْلٖیْ ھٰذٰا وَلَمْ یُوَافِقْہُ أَ لاَ إِنَّ جَبْرَءِیْلَ خَبَّرَنٖیْ عَنِ اﷲِ تَعٰالیٰ! بِذٰلِکَ وَیَقُوْلُ!( مَنْ عٰادیٰ عَلِیّاً وَلَمْ یَتَو لَّہٗ فَعَلَیْہِ لَعْنَتٖیْ )( فَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مٰا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اﷲَ أنْ تُخٰالِفُوْہُ فَتَزِلَّ قَدَ مٌ بَعْدَ ثُبُوْ تِھٰا إِنَّ اﷲَ خَبٖیرٌ بِمٰا یَعملونَ) )

ملعون ہے؛ ملعون ہے ؛مغضوب ہے مغضوب ہے؛ وہ شخص جو میری بات کا اس لئے انکار کرے کہ اس کی خواہش کے مطابق نہیں ہے آگاہ ہو جاؤ! کہ جبرئیل نے مجھے خدا کی طرف سے خبر دی ہے وہ فرماتا ہے : ( جو شخص علی ۔ سے دشمنی کرے اور انکی ولایت کو قبول نہ کرے اس پر میری لعنت و غضب ہو ) ( پس ہر شخص کو سوچنا چاہیے کہ وہ قیامت کے لئے کیا لے کر جا رہا ہے ؟) لوگو ! خدا سے ڈرو مبادا تم اسکی مخالفت کربیٹھو یا تمہارے قدم ایمان کی راہ سے ڈگمگا جائیں جو کبھی ایمان کی راہ پر استوار اور ثابت تھے ؛ حق یہ ہے کہ جو کچھ تم انجام دیتے ہو خدا جانتاہے۔)

( و) پھر امام علی ۔ کی بیعت اور دوسرے اماموں پراعتقاد ،یقین اور اعتراف کرنے کے لئے فرمان جاری کیا:

مَعٰاشِرَالنّٰاسِ!إِنَّکُمْ أَکْثَرُمِنْ أَنْ تُصَافِقُوْنی بِکَفٍ واحِدٍ فی وَقْتٍ وَاحِدٍ قَدْ أَمَرَنِیْ اﷲُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ اٰخُذَ مِنْ أَلْسِنَتِکُم الْإِ قْرٰارَ بِمٰا عَقَّد تُ لِعَلِیٍّا اَمیْرِالْمُؤْمِنیْنَ وَلِمَنْ جٰاءَ بَعْدَہُ؛ مِنَ الْأَءِمّۃِ مِنّٖی وَ مِنْہُ عَلیٰ ماأَعَْلمْتُکُمْ أَنَّ ذُرِّیَّتیْ مِنْ صُلْبِہ فَقُوْلُوْا بِأَجْمَعِکُمْ: إنّا سٰامِعُونَ مُطِیْعُوْنَ رٰاضُوْنَ مُنْقٰادُوْنَ لِمٰا بَلَّغْتَ عَنْ رَبِّنٰا ، وَرَبِّک فیْ أَمْرِ إِمٰامِنٰا عَلِیٍّ أَمیْرِ الْمُؤْمِنیْنَ ۔ وَمَنْ وُلِدَتْ مِنْ صُلْبِہ مِنَ الْأَءِمَّۃ نُبٰایِعُکَ عَلیٰ ذٰلِکَ بِقُلُوْبِنٰا، وَ أَنْفُسِنٰا و أَلْسِنَتِنٰا،وَ أَیْدیْنٰا، عَلیٰ ذٰلِکَ نَحْییٰ،وَعَلَیْہِ نَمُوْتُ،وَعَلَیْہِ نَبْعَثُ،وَلاَ نُغَیِّرُ، وَلاَ نُبَدِّلُ،و لانَشُکُّ وَلاَنَجْحَدُ وَلاَنَرْتٰابُ وَلاَنَرْجِعُ عَنِ الْعَھْدِ،وَ لاَتَنْقُض الْمیْثٰاقَ وَعَظْتَنٰا بِوَعْظِ اﷲِ فٖیْ عَلِیًّ أَمیْرِالْمُؤْمِنیْنَ،وَالْأَءِمَّۃِ الَّذٖیْنَ ذَکَرْتَ مِنْ ذُرِّیَّتِکَ مِنْ وُلْدِہ،بَعْدَہُ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ وَمَنْ نَصَبَہُ اﷲ بَعْدَھُمٰا فَالْعَھْدُوَالْمیْثٰاقُ لَھُمْ مَأْخُوْذٌمِنّٰا،مِنْ قُلُوْبِنٰا وَأَنْفُسِنٰا وَأَلْسِنَتِنٰا وَضَمٰایِرِنٰا وَ أَیْدٖیْنٰا مَنْ أَدْرَکَھٰا بِےَدِہ وَ إِلَّا فَقَدْ أَقَرَّ بِلِسٰانِہ وَلاَ نَبْتَغیْ بِذٰلِکَ بَدَلاً وَلاَ یَرَی اﷲُ مِنْ أَنْفُسِنٰا حِوَلاً نَحْنُ نُؤَدِّیْ ذٰلِکَ عَنْکَ َ الدّٰانیْ وَالْقٰاضی مِنْ أَوْلاَدِنٰا وَ أَحٰالےْنٰا وَ نَشْھَدُ اﷲَ بِذٰلِکَ وَکَفیٰ بِاﷲِ شَھٖیْداً وَأَنْتَ عَلَیْنٰا بِہ شَھےْدٌ.) 

مزید  تدوین قرآن کا پس منظر

( اے مسلمانوں ! تمہاری تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کہ تم لوگ خود اپنے ہاتھوں سے اس تپتے ہوئے صحراء میں میرے ہاتھ پر بیعت کر سکو پس خدا وند عالم کی جانب سے مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تم لوگوں سے ولایت علی ۔ اور انکے بعد آنے والے اماموں کی امامت [جو کہ میری اور علی ۔ کی اولاد میں سے ہیں ]کے بارے میں اقرار لے لوں اورمیں تم لوگوں کو اس بات سے آگاہ کر چکا ہوں میر ے فر زندعلی ۔ کےُ صلب سے ہیں ۔

پھر تم سب لوگ کہو کہ: ( یارسول اﷲ [ص] !ہم آپکا فرمان سن رہے ہیں اور اس کو تسلیم کرتے ہیں ،اس پر راضی ہیں ، اور آپکے اِس حکم کی اطاعت کرتے ہیں جو کہ خدا وند عالم کی طرف سے آپ نے ہم تک پہنچایا جو ہمارا رب ہے ، ہم اس پیمان پرجو کہ حضرت علی ۔ کی ولایت اور ان کے بیٹوں کی ولایت کے سلسلے میں ہے اپنے جان و دل کے ساتھ اپنی زبان اور ہاتھوں کے ذریعہ آپکی بیعت کرتے ہیں اس بیعت پر زندہ رہیں گے ، مر جائیں گے اور اٹھائے جائیں گے اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کریں گے ، اس میں کسی قسم کا شک و تردید نہیں کرتے ، اور اس سے رو گردانی نہیں کریں گے ،اور اس عہد و پیمان کو نہیں توڑیں گے ۔

خدا وند عالم اور آ پ کی اطاعت کرتے ہیں اور علی ؛امیر المؤمنین ۔ اورانکے بیٹوں کی اطاعت کریں گے کہ یہ سب ا مّت کے امام ہیں وہ امام جن کا آ پ نے تذکرہ کیا ہے آپکی اولاد میں سے ہیں حضر ت علی ۔ کے صلب سے اورامام حسن ۔ وامام حسین ۔ کے بعد آنے والے ہیں ، حسن و حسین علیہما السلام کے میرے نزدیک مقام کے بارے میں پہلے تمہیںآگاہ کر چکا ہوں ، خدا وند عالم کے نزدیک انکی قدرو منزلت کا تذکرہ کر چکا ہوں اورامانت تم لوگوں کو دے دی یعنی کہہ دیا کہ یہ دو بزر گ ہستیاں جوانان جنّت کی سردار ہیں میرے اور علی ۔ کے بعد امّت مسلمہ کے امام ہیں۔

تم سب مل کر کہو! کہ ہم اس حکم میں خدا کی اطاعت کرتے ہیں اور اے رسول خدا [ص] آپ کی ،حضرت علی ۔ کی ، حسنین علیہما السلام کی اور انکے بعد آنے والے اماموں کی اطاعت کرتے ہیں کہ جن کی امامت کا آپ نے تذکرہ کیا اور ہم سے عہد و پیمان لیا ہمارے دل و جان ،زبان اور ہاتھ سے بیعت لی جو کہ آپکے قریب تھے یا زبان سے اقرار لیا اس عہد و پیمان میں تبدیلی نہ کریں گے اورخدا وند عالم کواس پر گواہ بناتے ہیں جو گواہی کے لئے کافی ہے اے رسول خد[ص] آپ ہمارے اس پیمان پر گواہ ہیں ہر مؤمن پیروکار ظاہری یا مخفی ، فرشتگان خدا ، خدا کے بندے اور خدا ان سب لوگوں کا گواہ ہے، پھر رسول گرامی اسلام [ص] نے اپنے اس اہم خطبے کے دوران تمام حاضرین کو علی الاعلان اور واضح طور پر ہوشیار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:

(مَعٰاشِرَالنَّاسِ!مٰاتَقُوْلُوْنَ فَإِ نَّ اﷲَ یَعْلَمُ کُلَّ صَوْتٍ وَخٰافِیَۃ کُلِّ نَفْس فَمَن اھْتَدیٰ فَلِنَفْسِہِ، وَمَنْ ضَلَّ فَإنَّمٰا یَضِلُّ عَلَیْھٰا )و مَن بٰایَعَ فَإِنَّمٰا یُبٰایِعُ اﷲَ یَدُاﷲِ فَوْقَ أَیْدیْھِمْ)مَعٰاشِرَالنَّاس فَبٰایِعُوْااﷲَ وَبٰایِعُوْنٖی وَ بَایِعُوْاعَلِیّاً أَمیْرَالْمُؤْمِنیْنَ ،وَالْحَسَن وَالْحُسَیْنَ وَ الْأَ ءِمَّۃَ مِنْھُمْ فیْ الدُّ نْیٰا وَالْآخِرَۃِ کَلِمَۃً طَیِّبَۃ بٰاقِیَۃًیُہْلِکُ اﷲُ مَنْ غَدَرَ وَ یَرْحَمَ اﷲُ مَنْ وَفیٰ،(فَمَنْ نَکَثَ فَإِ نَّمٰا یَنْکُثُ عَلیٰ نَفْسہٖ وَمَنْ أَ وْفیٰ بِمٰا عٰا ھَدَ عَلَیْہِ اﷲَ فَسَیُؤْتےْہِ أَجْراً عَظیْماً)

مَعٰاشِرَ النَّاس! قُوْلُوْا الَّذی قُلْتُ لَکُمْ ، وَ سَلِّمُوْاعَلیٰ عَلِیٍّ ؛بِإِمِرْۃِ الْمُؤْمِنیْنَ، وَقُوْلُوْا! ( سَمِعْنٰا وَأَطَعْنٰا غُفْرٰانَکَ رَبَّنٰا وَإِلَیْکَ الْمَصیْرُ ) (۱)

وَقُوْلُوْا(أَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذیْ ھَدٰینٰا لِھٰذَاوَمٰا کُنَّا لِنَھْتَدِیَ لَوْلَاأَنْ ھَدٰانَا اﷲ)(۲)

(۱)۔بقرہ ۲/۲۸۵

(۲)۔اعراف۴۳/۷

مَعٰا شِرَالنَّاسِ!إِنَّ فَضٰا ءِلَ عَلِیِّ بْنِ أَ بیْ طاٰ لِبٍ عِنْدَاﷲِ عَز وَجَلَّ وَ قَدْ أَ نْزَلَھٰا فیْ الْقُرْآنِ أَ کْثَرُ مِنْ أُ حْصِیَھا فیْ مَقٰامٍ وٰاحِدٍ ، فَمَنْ أنْبَأَکُمْ بِھٰا وَ عَرَفَھٰا فَصَدِّ قُوْہُ مَعٰا شِرَالنَّاسِ ! مَنْ یُطِعِ اﷲَ وَ رَسُوْلَہُ وَعَلِیّاً وَالْأَ ءِمَّۃَالَّذ ین ذَکَرْتُھُمْ فَقَدْ فٰازَ فَوْزاً عَظٖیْماً مَعٰا شِرَالنَّاسِ ! السّٰا بِقُوْنَ إِلیٰ مُبٰا یَعَتِہَ و مُوَالاَتِہ وَالتّسْلیْم علَیْہ بِإِ مْرَۃِ الْمُؤْ مِنیْنَ أُ وْلٰءِکَ ھُمُ الْفٰا ءِزُوْنَ فی جَنّٰات النَّعٖیمِ ۔

مزید  سورہ ياسين کا اثر انسان کي زندگي پر

( و ) ( اے لوگو ! تم کیا کہتے ہو؟ حق یہ ہے کہ جو آواز بھی تم زبان سے جاری کرتے ہو اور تمہارے دلوں میں جو نیّت بھی ہو خدا وند عالم اس سے آگاہ ہے ؛ بس جس نے ہدایت کا راستہ ا ختیار کیا ؛اس نے اپنے ساتھ نیکی کی اور جو گمراہ ہو گیا اس نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا ، اور جو اپنے امام کی بیعت کرے گا اسنے اپنے خدا وند برتر کی بیعت کی ؛ کہ اسکی قدرت ساری قدرتوں سے بالا ہے ۔

اے لوگو !خدا وند عالم کی بیعت کرو میری بیعت کرو اور علی ۔ امیر المؤمنین کی بیعت کرو، حسن و حسین علیہماالسّلام کی بیعت اور انکے بعد آنے والے ائمّہ علیہِمُ السّلام کی بیعت کرو جو کہ زندہ و جاوید کلمۂ طیّبہ ہیں ،خدا دغا بازکو ہلاک کرتا ہے اور جو ایفائ عہد کر ے گا رحمت خدا وندی اسکے شا مل 

حال ہو گی، اور جو بھی پیمان شکنی کرے گا،تو وہ اپنے نقصان میں یہ عمل انجام دیگا،اور جس نے وفا کی اسکے لئے اجر عظیم ہے ۔

اے لوگو! جو کچھ میں نے تمہارے لئے کہا ہے اس کو دہراؤ اور علی ۔ کو امیرالمؤمنین کہہ کر سلام کیا کرواور کہو : ہم نے سن لیا ہے اور اس امر میں آپکی اطاعت کرتے ہیں ، خدا وندا تجھ سے مغفرت کے طلبگارہیں اور ہمیں تیری طرف لوٹنا ہے۔

اور کہو: [حمد ہو خدا کی کہ اسنے ولایت علی ۔ کی طرف ہماری ہدایت کی ، اگر خدا ہمار ی ر ہنمائی نہ فرماتاتو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے۔ ]

اے لوگو! در حقیقت علی ابن ابی طالب ۔ کے فضائل خدا وند منّان کی نظر میں جو اس نے قرآن مجید میں نازل فرمائے ہیں اتنے زیادہ ہیں کہ جنکا ذکرکر ناکسی ایک تقریر میں ممکن نہیں،لہٰذا اگر کوئی علی ۔ کے فضائل اورانکی قدرو منزلت تمہارے لئے بیان کرے تو اس کی تصدیق کرو اور شک نہ کرو۔

اے لوگو! جس نے خدا ، رسول [ص] ،علی ۔ اور انکے بعد آنے والے اماموں کی اطاعت کی کہ جن کا ذکرمیں نے کیا تو در حقیقت وہ ایمان کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہو گیا۔

اے لوگو! وہ لوگ جنہوں نے علی ۔ کی بیعت ، ان سے دوستی ،اور امیر المؤمنین کے عنوان سے انکو سلام کرنے میں سبقت حاصل کی تو وہ لوگ؛ بہشت میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ۔

(ز) اس مقام پر رسولِ خدا [ص] نے حضرت علی ۔ کے ساتھ بیعت کی اور عمومی بیعت کا فرمان اس طرح صادر فرمایا:’ أَ لاَ وَإِنِّیْ عِنْدَانْقِضٰا ءِ خُطْبَتیْ أَ دْعُوْکُمْ إِلیٰ مُصٰافَقَتیْ عَلیٰ بَیْعَتِہٖ وَالْإِ قْرٰارِ بِہ ثُمَّ مُصٰا فَقَتِہ مِنْ بَعْدِیْ اَ لاَ وَ إِ نِّیْ قَدْ بٰا یَعْتُ اﷲَ وَعَلِیٌّ قَدْ بٰا یَعْنی وَأَ نٰا آخِذْ کُم بِالْبَیْعَۃِ لَہُ؛ عَنِ اﷲِ عَزَّ وَ جَلَّ ! ( إِنَّ الَّذ یْنَ ! یُبٰا یِعُوْنَکَ إِنَّمٰا یُبٰا یِعُوْنَ اﷲَ یَدُاﷲِ فَوْقَ أَیْدٖیْھِمْ فَمَن نَکَثَ فَإِنَّمٰایَنْکُثُ عَلیٰ نَفْسِہ وَمَن أَوْفیٰ بِمٰاعٰاھَدَعَلَیْہِ اﷲَ فَسَیُوتیْہ أَجْراً عَظیْماً )

( آگاہ ہو جاؤ خطبہ کے بعد ؛ میں تمہیں علی ۔ کی بیعت کرنے کی دعوت دونگا ؛ تو انکی بیعت کرو ، انکی امامت کا اعتراف کرو اور انکے بعد آنے والی اماموں کی؛بیعت کرو ۔

آگاہ ہوجاؤ حق یہ ہے کہ میں نے خد ا کی بیعت کی ہے اور علی نے میری بیعت کی ہے ۔ اور میں خدا وند عالم کی طرف سے تم لوگوں کو حضرت علی ۔ کی بیعت کرنے کی دعوت دے رہا ہوں لھذا تم میں جو عھدوپیمان کو توڑے گا تو وہ اپنے نقصان میں پیمان شکنی کرے گا مجھے خدا وند عالم کی طرف سے حکم ہے کہ میں آپ سے حضرت علی ۔ کی بیعت لوں اور جو کچھ خدا وند عالم کی طرف سے حضرت علی ۔ کی ولایت کے بارے میں نازل ہوا ہے ا سں کا اعتراف کرو۔ 

(ح) اس کے بعد تمام مسلمانوں (مرد و زن) نے حضرت علی ۔ کی بیعت کی اور سب نے ایک ساتھ خاندان رسالت کے بار ہ اماموں کی تاقیامت رہنے والی امامت کا اعتراف کیا، اس وقت رسولِ خدا [ص] نے ارشاد فرمایا: ( مَعٰاشِرَ النّٰاسِ !إِنِّیْ أَدَعُھٰا إِمٰامَۃً ،وَ وِرٰاثَۃً فِیْ عَقَبیْ إِلی یَوْمِ الْقِیٰامَۃِ؛ وَ قَدْ بَلَّغْتُ مٰاأُمِرْتُ بِتَبْلِیْغِہِ،حُجَّۃًعَلیٰ کُلِّ حٰا ضِرٍوَغٰائب وَ عَلیٰ کُلِّ اَحَد مِمَّنْ شَھِدَ اَو لَمْ یَشْھَدْ ، وُلِدَ اَو لَمْ یُوْلَدْ؛ فَلْیُبَلِّغِ الْحٰاضِرُالْغٰاءِبَ ، وَالْوَالِدُ الْوَلَدَ إِلیٰ یَوْمِ الْقِیٰامَۃِ ،و سَیَجْعَلُوْ نَ ا لْإِ مٰا مَۃَ بَعْدِ یْ مُلْکَأ وَ ا غْتِصٰا باً ،أَلاَ لَعَنَ اﷲ الْغٰا صِبیْنَ وَالْمُغْتَصِبیْنَ ،وَعِنْدَھٰا سَیَفْرُغُ لَکُمْ أَیُّھَا الثَّقَلَان مَنْ یَفْرُ غُ وَ یُرْ سِلُ عَلَیْکُمٰا شُوٰاظٌ مِنْ نٰا رٍ وَ نُحٰا سُ فَلَا تَنْتَصِرٰانِ :

مزید  والدین کی خدمت بہترین جہاد ہے

( اے لوگو ! میں علی ۔ کی اور ان کے بیٹوں کی امامت تمہا رے درمیان قیامت تک کے لئے باقی چھوڑکرجا رہا ہوں ، میں نے وہ چیز کہ جسکی تبلیغ پر مأمور تھا تم تک پہنچا دی ہے ، میری حجّت ہر انسان کے لئے تمام ہو چکی ہے چاہے وہ حاضرہو یا غائب ، شاہد ہو یا غیر شاہد ،جو ،اب تک متولّد ہوگیاہو یا ابھی تک اس دنیا میں نہ آیا ہو۔

لہٰذا حاضرین کو چاہیے کہ غائبین کے لئے ، والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کے لیے تا قیامت علی ۔ اور انکے بیٹوں کی امامت کے مسئلے کو بیان کریں کیونکہ کچھ لوگ بہت جلد خلافتِ إلٰہی کو بادشاہی میں تبدیل کرکے اسے غصب کرلیں گے۔

آگاہ ہو جاؤ !خداخلافت کے غاصبوں اور انکے طرفداروں پر لعنت کرتا ہے ، بہت جلد جن وانس سے حساب کتاب لے گااور ان میں سے گنہگاروں پر آگ کے شعلے برسائے گا،اور اس وقت تم لوگ کوئی یار ومدد گار نہ پاؤ گے ۔ ) پھر آخر میں ہر اس شخص پر کہ جو امامت عترت کو نظر انداز کرے ، یا خلافت کو غصب کرے، یا پیغمبر [ص] کی عترت کو اُمّت کی قیادت سے دور رکھے سب پر لعنت کی۔ ان سارے اقدامات کے بعد حکومت کے پیاسے منافقوں کے لئے قدرت طلبی کی کوئی گنجائش باقی نہ رہ گئی تھی۔

وہ لوگ جو اس بات کے منتظر تھے کہ پیغمبر [ص] کی وفات کے بعد سیاسی طاقت وقدرت اپنے ہاتھ میں لے لیں گے ؛ واقعہ غدیر(مذکورہ خصوصیات کے ساتھ ) کے بعد کیا کر سکتے تھے ؟یہ درست ہے کہ مسلّحانہ بغاوت کے ذریعے ہر کام ممکن تھا ۔

لیکن دوسروں کے دلوں میں انکا کوئی نفوذ نہیں تھا اور اپنے سیاسی حربوں کو اسلام کا رنگ دے کر پیش نہیں کر سکتے تھے ،منافقوں کی خواہش یہ تھی کہ دین ،خلافت رسول [ص] اور اس کے اندر موجود معنوی کشش کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کریں ، اور ہر قسم کی مخالفانہ تحریک کی سرکوبی کرتے ہوئے ہر اعتراض کا گلا گھونٹ دیں ۔

لیکن واقعۂ غدیر کے تحقق پانے کے بعد یہ لوگ اپنے خفیہ اور نا پاک ارادوں میں کامیاب نہ ہو سکے اور ا ن کے پاس ا س کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ دنیا کے دوسرے مغرور اورظالم حکمرانوں کی طرح عمل کریں، تاریخ کے فرعونوں اور ظالم بادشاہوں کی طرح قتل و غارت گری ، قید ودھمکیوں کے ذریعے لوگوں کو خاموش ہونے پر مجبور کریں اور اپنے مخالفوں کو راستے سے ہٹادیں غدیر کے دن ’’امامت عترت ‘‘جیسی حقیقت کے آشکار ہونے کے بعد منافقوں کے بڑے بڑے دعوے ریزہ ریزہ ہوگئے اور ان کے چہروں کے جھوٹے نقاب تار تار ہوگئے اور انہیں مجبوراً صفِ اوّل میں یا لوگوں کے اس جم غفیر کے ساتھ آگے بڑھ کر اوراپنے عقیدوں اورخواہشات کے بر خلاف حضرت علی ۔ کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر آپ ۔ کی بیعت اور مبارکباد پیش کرناپڑی۔(۱) 

(۱)۔بہت سارے مصنّفوں نے لکھا کہ ابو بکر اور عمر آگے بڑھے اور امام علی ۔ کا ہاتھ پکڑ کر بیعت کرتے ہوئے کہا

بَخٍّ بَخٍّ لَکَ یٰا أَبَا الْحَسَن؛ لَقَدْ أَصْبَحْتَ مَوْلٰایََ وَ مَوْلیٰ کُلِّ مُؤْمِنٍ وَ مُؤْمِنَۃٍ

( آپ پر درود اور سلا م ہو اے ابوالحسن ۔، آپنے اس حالت میں صبح کی ہے کہ میرے امام اور ہر مسلمان مرد اور عورت کے امام ہیں۔)

اسناد و مدارک مندرجہ ذیل ہیں :

۱۔ تاریخ دمشق ، ج ۲ ،ص ۵۴۸/۵۵۰ : ابن عساکر شافعی ( متوفّیٰ ۵۷۱  ھ )

۲۔ مناقب خوارزمی ، ص ۹۴ : خوارزمی ( متوفّیٰ ۹۹۳  ھ )

۳۔ مسند احمد ، ج ۴ ،ص ۲۸۱ : احمد بن حنبل ( متوفّیٰ ۲۴۱  ھ )

۴۔ فصول المہمّۃ ، ص ۲۴ : شیخ حرّ عاملی  

۵۔ الحاوی الفتاوی ، ج ۱، ص ۱۲۲ : سیوطی شافعی ( متوفّیٰ ۹۱۱  ھ )

۶۔ ذخائر العقبیٰ ، ص ۶۷ : طبری ( متوفّیٰ ۶۹۴  ھ ) 

۷۔ فضائل الخمسہ ، ج ۱ ،ص ۳۵۰ : فیروز آبادی 

۸۔ فضائل الصّحابہ ( مخطوط ) : نسائی ( متوفّیٰ ۳۰۳  ھ )

۹۔ تاریخ اسلام ، ج ۲ ،ص ۱۹۷ : ذہبی ( متوفّیٰ ۷۴۸  ھ )

۱۰۔ علم الکتاب ، ص ۱۶۱ : خواجہ حنفی

۱۱۔ دررالسمطین ، ص ۱۰۹ : زرندی 

۱۲۔ ینابیع المؤدّۃ ، ص ۳۰/۳۱/۲۴۹ : قندوزی حنفی ( متوفّیٰ ۱۲۷  ھ )

۱۳۔ تفسیر فخر رازی ، ج ۳، ص ۶۳ / ج ۱۲ ، ص ۵۰ : فخر رازی ( متوفّیٰ ۳۱۹  ھ )

۱۴۔ تذکرۃ الخواص ، ص ۲۹ : ابن جوزی ( متوفّیٰ ۶۵۴  ھ )

۱۵۔ مشکاۃ المصابیح ، ج ۳ ،ص ۲۴۶ E

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.